ملک میں سرد جنگ کی ایک غیر مختتم صورت۔ مغربی جمہوریت کا حاصل

اقتدار کی گدی، کانٹوں کی سیج ہے۔ اس سے بھی آزار دہ مرحلہ انتقال اقتدار کے لئے جنگ اقتدار کا مرلہ ہے۔ اس دوران جو اشتعال، بدمزگی، کدورت، حسد، بعض و عناد، رقابت گردہی تلخی اور مسابقت کی آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے ہیں، وہ اب دائمی شکل اختیار کر لیتے ہیں ''جو کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے'' پر منتج ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کی اب ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ:

حکمران ٹولے کو اقتدار کا جو پیریڈ ملا ہے وہ اس میں بری طرح ناکام رہیں اور ان کو کسی طرح ایسی پٹخنی دی جائے کہ مستقبل کے ساتھ ان کا ماضی بھی ان کے لئے گالی بن کر رہ جائے، ان کی حسنات سیئات میں تبدیل ہو جائیں، مکرمات فضیحت دکھائی دینے لگیں۔ خوبیاں اور محاسن عیوب ہو کر رہ جائیں، جہاں ہنس سکتے ہوں وہاں بیٹھ کر روتے رہیں۔ قوم کو منہ دکھانے کے بجائے اپنا منہ چھپاتے پھریں۔

حکمران جماعت، جیت کر ملک اور قوم کی خدمت کے بجائے اس سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ حزب اختلاف کسی طرح بے اثر ہو کر رہ جائے، ان کے سامنے چوں نہ کر سکے، اگر وہ کام کا مشورہ بھی دے تو اسے ملک دشمنی کے مترادف بنا کر اس کے خلاف ذلیل قسم کی مہم چلائی جا سکے۔ ان کے رہنماؤں کی کردار کشی، ان کی سیاسی حکمت عملی کی جان بن جائے۔ اپوزیشن لیڈروں کے لئے قوم کے سامنے جانے کے سارے راستے بند کر سکے۔ اگر قوم تک پہنچنے میں وہ کامیاب ہو سکتے ہوں تو ان کو جیل خانوں کی کال کوٹھڑیوں میں بند کرنا ممکن ہو جائے گو ابھی اقتدار کا پورا پیریڈ پڑا ہے تاہم حکمران لوگ اگلے انتخابات کے لئے ابھی سے اپنا راستہ صاف کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں، اس کے لئے ان کو ملکی آئین کی روح کو پامال کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے۔ قانون کی مٹی پلید کرنے کی نوبت آجائے تو وہ اس میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ انتظامیہ کو بے راہ کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو اسے یوں استعمال کر ڈالتے ہیں، جیسے وہ ان کے نجی ملازم ہوں۔ قومی خزانے اور ملکی دولت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے یوں تج دیتے ہیں جیسے وہ ان کو اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہو اپنے جھوٹے وقار کے لئے قوم کو بے وقوف بنانے اور جھوٹے پروپیگنڈہ کی مہم چلانے میں بھی ان کو قطعاً کوئی شرم نہیں آتی۔ ''پھوٹ ڈالو حکومت کرو'' کے اصول کے مطابق پوری ملت اور قوم کو منافرت و انتشار اور افتراق کی سان پر چڑھانے کی ضرورت پڑ جائے تو اس میں بھی حیا نہیں کرتے۔

ملک اور قوم کا جتنا بھلا ہو جاتا ہے وہ درد مندی اور اخلاص کا نتیجہ کم ہوتا ہے بلکہ قوم کو اس کا واسطہ دینے اور دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے تاکہ کل قوم کے سامنے وہ کہہ سکیں کہ انہوں نے آپ کی خدمت کی ہے۔ حالانکہ قوم کی خدمت کا جذبہ وہاں مفقود تھا، یہ صرف کاروبار تھا یا سیاسی رشوت، تاکہ ان سے کل ووٹ کی ڈالی وصول کی جا سکے۔

ان کی خدمات اگر قابل ذکر ہوتیں اور قوم کو ان سے مناسب فائدہ پہنچا ہوتا تو تصنع کے مارے ان خادموں کو ان کا ڈھنڈھورا پیٹنے کی قطعاً ضرورت نہ پڑتی کیونکہ وہ عطر ہی کیا جو دکاندار کے ڈھنڈورے کا محتاج ہو اور اس کی اپنی مہک اس کی غماز نہ ہو!

بہرحال ان کے سیاسی کردار کا یہ پورا پیریڈ ان کے اسی جوڑ توڑ، فتنہ سامانی، ملک اور قوم کے مقدر سے کھیلنے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ کام برائے نام والی بات رہ جاتی ہے، ورنہ کرسی کے ان بھوکوں سے ملک کی کوئی خدمت ہوتی ہے اور نہ قوم کی، ان کی زندگی کے شب و روز اس حیاء سے بالکل عاری ہوتے ہیں جو ملک اور قوم کے ایک بہی خواہ کا طرۂ امتیاز ہو سکتی ہے۔ اس لئے پوری قوم اپنے ان نمائندوں کی مکروہ ذہنیت، ناکام جتن اور سعی نامشکور پر سراپا سوال بن کر رہ جاتی ہے کہ ؎
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

اس پر طرہ یہ کہ: متداول جمہوریت جہاں سے ہمارے ہاں منتقل ہوئی ہے وہاں تو اس کی ایک صورت بھی ہے، یہاں تو اس کے وارث وہ لوگ بنے ہیں جن کی اکثریت منافق، بد طینت کم سواد، کوتاہ بین، بد ذوق اور بے اصول ہے، انہوں نے اس جمہوریت کی بھی مٹی پلید کر ڈالی ہے، جس کی کسی حد تک کافروں نے بھی لاج رکھی ہے۔ ان تمام تر حماقتوں کے باوجود ان کی خواہش ہوتی ہے بلکہ بہ جبر چاہتے ہیں کہ ان کو ان سیئات، مکروہ اور ناکام کردار کی بھی داد ملے۔

قرآن حکیم نے ان برخود غلط لوگوں کی اس کور ذوقی پر کس قدر بصیرت افروز تبصرہ فرمایا ہے۔

﴿لا تَحسَبَنَّ الَّذينَ يَفرَحونَ بِما أَتَوا وَيُحِبّونَ أَن يُحمَدوا بِما لَم يَفعَلوا فَلا تَحسَبَنَّهُم بِمَفازَةٍ مِنَ العَذابِ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٨٨﴾... سورةآل عمران

''جو لوگ اپنے کیے سے خوش ہوتے اور کیا کرایا تو کچھ ہے نہیں اور اس پر چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف ہو تو (اے پیغمبرؐ!) ایسے لوگوں کی بہ نسبت ہرگز خیال نہ کرنا کہ یہ لوگ عذاب سے بچ رہیں گے بلکہ ان کے لئے عذاب درد ناک (تیار) موجود ہے۔''

یہ عذاب درد ناک آخرت میں بھی ہو سکتا ہے اور دنیا میں بھی۔ بلکہ ممکن ہے کہ دونوں جگہ ان کا یہی حشر ہو، کیونکہ ''نیک اعمال'' سے ان کی زندگی کی جیبیں خالی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود ''داد'' بھی چاہتے ہیں اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ یہاں بھی اور وہاں بھی ''عمل صالح'' کی دولت ہی سے بگڑی بن سکتی ہے۔ جب اس پونجی سے ہاتھ خالی ہوں گے تو ہاتھ ہی ملتے رہ جائیں گے۔

صحیح علاج یہ ہے کہ ملک میں آج کل کی جمہوریت کے مروجہ صدارتی اور پارلیمانی نظام کے بجائے ''نظام خلافت اور نظام امارت'' برپا کیا جائے اور اس کے سیاسی رہنما بھی صدر یا وزیر اعظم کی جگہ خلیفہ یا امیر المؤمنین کہلائیں۔ ان اسماء گرامی اور القاب کا ایک نفسیاتی اثر بھی ہوتا ہے ان خطابات کے حامل رہنما بالکلیہ ''ننگِ القاب'' نہیں ہو سکتے۔ اور قوم کے لئے بھی ان کے انتخاب میں ان مبارک خصائص اور صفات حسنہ کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا ہے جو ان خطابات کے لئے ضروری ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ہر نتھو پھتو اس منصب کا امیدوار ہو سکے گا نہ اس پر کوئی براجمان ہونے کے لئے حوصلہ کر سکے گا۔

نظام خلافت پر مبنی نظامِ مملکت کا یہ قدرتی نتیجہ بھی ظاہر ہو گا کہ قوم کو اس ''سرد جنگ'' کی لعنت سے نجات مل جائے گی جس کے ہاتھوں پوری ملتِ اسلامیہ ''فی سبیل اللہ فساد'' میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اور جس کی وجہ سے پوری قوم اور ملت شدید منافرت اور گروہی عداوت میں مبتلا ہو کر رسوا ہو رہی ہے۔

نظامِ خلافت اور نظامِ امارت کو اس بے اطمینانی، غیر یقینی کیفیت، مخمصہ اور آئے دن کی باہمی دھکم پیل سے بھی چھٹکارا عطا کرتا ہے جو وقتی اقتدار، مستعار عنانِ حکومت اور بچہ سقہ والی سیادت کے تصور سے قدرتی طور پر دلوں سے ابھرتی اور ذہنوں پر چھا جاتی ہے۔ کیونکہ جو آج اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے، اسے کل کی فکر آج ہی دامن گیر ہو جاتی ہے اس لئے ان ممکن رکاوٹوں اور مزاحمتوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے اب سے ایسے پاپڑ بیلنا شروع کر دیتا ہے جو اس کی بدحواسی کی غمازی کرتے ہیں۔ ملک اور قوم کے مسائل حسبِ دستور انتظامیہ کی وجہ سے چلتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ صرف شاہزادگی کرتے ہیں۔ ان کا کام انتظامیہ کے کاموں کی صرف تشہیر رہ جاتا ہے یا ان میں بے جامداخلت، اور کچھ نہیں! اگر آپ غور فرمائیں تو آپ محسوس کریں گے کہ ان کا وجود ملک اور قوم کے دوش ناتواں پر بوجھ ہے، اور وہ آزار دہ حد تک شکنجہ میں کس کر باشندگان ملک کا کچومر نکالتے ہیں تاکہ اگلے سیزن کے لئے فضا سازگار ہو جائے۔ لیکن نظام خلافت و امارت میں خلیفہ کو اس کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ کام بھلے کرے یا برے،بہرحال اگلے پانچ سالوں کے بعد اسے جانا ہے۔ بلکہ اب وہ دلجمعی سے کام کرتا ہے اور اپنے اقتدار کی کرسی کے استحکام کی فکر سے بے نیاز ہو کر ملکی اور قومی مسائل کے لئے یکسو ہو رہتا ہے۔ الّا یہ کہ مجموعی لحاظ سے پوری قوم اس کے کاموں سے غیر مطمئن ہو جائے، عوام اس سے ناخوش ہوں اور ملک اور قوم کی ساکھ گرنے لگ جائے تو اس وقت اس کو بدلنا ضروری ہو جاتا ہے۔

اصل میں نظامِ امارت اور خلافت کی اساس ''امانت و اہلیت'' کی بنیادوں پر قائم ہوتی ہے، امانت سے مراد وہ اخلاص ہے جو ملک و ملت اور دین کے لئے ان اقدار کی تلاش کرنے اور ان کو ملک میں برپا کرنے پر صاحب اقتدار کو آمادہ رکھتا ہے جو قوم کے حال اور مستقبل کی فلاح کے لئے مفید اور ضروری ہوتی ہیں۔

اہلیت سے غرض وہ سوجھ بوجھ اور ہمت ہے، جو ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مناسب اور ضروری ہوتی ہے۔

جو امیر المومنین یا خلیفہ وقت ان اوصاف سے متصف ہو گا، ظاہر ہے اس کا وجود ملک اور قوم کے لئے گلے کا حسین اور مبارک ہار ہی ثابت ہو ا۔ اس لئے آئے دن قوم کو نئے انتخابی درد سر اور گروہی تلخیوں میں ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

جب ہم ایسے امیر المؤمنین اور خلیفہ کا تصور پیش کرتے ہیں تو لوگ قنوطی ہو جاتے ہیں کہ کیا اب ایسا حکمران امیر المؤمنین ڈھونڈے سے مل بھی سکتا ہے؟ گویا ان لوگوں کے نزدیک ملتِ اسلامیہ بالکل بانجھ ہے ، اس کی کوکھ سے کوئی اہل اور بھلا آدمی پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور نہ اب اس میں کوئی ایسی صلاحیت ہی رہ گئی ہے۔ یقین کیجئے! ہم اس کشتِ ویراں سے مایوس نہیں ہیں۔ اصل ضرورت بے لاگ چیکنگ کی ہے۔ اپنے سفلی اغراض میں تولنے کی نہیں ہے۔ ورنہ راستے اور تاریک ہوتے چلے جائیں گے، اور منزل کا سراغ لگانا اور دشوار ہو جائے گا۔ اگر آپ نے اس طرف توجہ دی ہے تو لبِ بام کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔

گو چیکنگ شروع ہو گئی ہے تاہم اس کا دائرہ زیادہ تر خواص تک محدود ہے، عوام نے خود جب امیدواروں کو کھنگالنا اور ٹھونک بجا کر دیکھنا شروع کیا، اس وقت مطلوبہ تطہیر ہو سکے گی۔ عوام ابھی ''باتوں کے پھیر'' میں ہیںِ جب عوام ان کے ساتھ باتونی لوگوں کو ان کے عمل کے ترازؤں میں تولنے کی کوشش کریں گے تو پھر ان کو سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وہ خود ہی بہت بڑے نقاد ثابت ہوں گے۔

غریبوں کے نام نہاد ہمدردوں نے عوام کو کچھ دیا نہیں لیکن ان کی طبقاتی حِس کی تسکین کے لئے ان کو ایک نعرہ ضرور دیا، بس ان کو یہ ''کھلونا'' دے کر یوں بہلایا ہے کہ وہ کافی حد تک بہل گئے ہیں۔

دراصل طبقاتی عصبیت کی آگ اس قدر ظالم ہوتی ہے کہ الفاظ کی حد تک بھی اگر کوئی شخص اس کا مداوا کر دیتا ہے تو طبقاتی ذہن کی عید ہو جاتی ہے، گو اپنا بھی ناس ہو جاتا ہے تاہم ان کو اتنی سی بات سے تسکین حاصل ہو جاتی ہے کہ: ہمارے مخالف کا بھی کچھ نہیں رہا۔

مثل مشہور ہے کہ:

گو اپنا بیٹا نیچے آجائے، ویری کی دیوار ضرور گر جائے۔

یہی کچھ یہاں ہو رہا ہے کہ غربا کا جو طبقہ نام نہاد عوامی نعرہ پر سر دھننے لگا ہے وہ اس لئے نہیں سر دھن رہا ہے کہ ان کو کچھ مل گیا ہے، بلکہ صرف اس لئے کہ جس کو وہ سرمایہ دار تصور کرتے ہیں بقول ان کے ان کو کچھ دھچکا لگا ہے۔ طبقاتی عصبیت کا یہ اعجاز ہے کہ کچھ وصول ہو یا نہ ہو، وہ دوسرے کے صرف ''کچھ کھو جانے'' سے خوش ہو جاتا ہے۔ ورنہ یہ بات کون نہیں جانتا کہ جتنے جدی پشتی نواب، جاگیر دار، صنعت کار اور سرمایہ دار ہیں، ٹکٹ بھی ان ہی کو ملے ہیں اور وہی وزیر، وہی مقرب، وہی مشیر، وہی سرکار اور وہی درباری ٹھہرے ہیں۔ مگر طبقاتی ذہنیت کا ناس ہو کر یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ان کے صرف اتنے سے زبانی کلامی نعروں پر سر دھن رہے ہیں کہ ہم سرمایہ داری کا کچھ نہیں رہنے دیں گے۔ حالانکہ یہ اس قدر بڑا سفید جھوٹ ہے جو اس آسمان کے نیچے اس سے بڑھ کر کبھی نہیں بولا گیا۔ بہرحال سرکاری اور خواص کے احتساب کے باوجود اگر عوام کو اس کے مطالعہ کے لئے تیار نہ کیا جا سکا تو شاید اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

ان حالات میں ہم چاہتے ہیں کہ

عصبیت کی آگ ابھی بھڑک رہی ہے، اور یہ آگ اندھی بھی ہوتی ہے۔ اس لئے احتساب کے اس مختصر پیریڈ اور ٹائم میں ان کے فیصلے کا انتظار نہ کیا جائے۔ جس طرح بچے کا حال ہوتا ہے کہ ان کی خواہش کے علی الرغم اس کو سیدھی راہ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملک و ملت اور دین کے بہی خواہ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ حالیہ سکریننگ، احتساب اور چیکنگ کے بعد جس نتیجہ پر پہنچتے ہیں، اس کے مطابق اپنا فیصلہ صادر کر ڈالیں اور اُلّو بنا کر عوام کا استحصال کرنے والے گروہ کو عوام کے سامنے آنے سے بالکلیہ روک دیں۔ اور وہ قانونی طور پر جس سزا کے مستحق نکلیں، اس سلسلے میں مداہنت سے بالاتر ہو کر، ان کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں، قاتل ہیں تو ان سے قصاص لیا جائے، اگر جاہ و منصب کو انہوں نے غلط استعمال کیا ہے تو ان کو ہمیشہ کے لئے انتخاب لڑنے سے محروم کر دیا جائے الاّ یہ کہ وہ تائب ہو جائیں اور ان کی زندگی کے شب و روز اس پر گواہ ہوں۔

فوج جو اس وقت ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ بحالات موجودہ اگر اس نے ''عوام کالانعام'' کی رائے کا انتظار کیا اور جو کچھ سیکھا ہے، اس سلسلے کی اپنی دینی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا نہ کیا تو قیامت میں حکمرانوں سے اس کی سخت باز پرس ہو گی۔ عوام کو رہنمائی مہیا کی جاتی ہے، ان سے رہنمائی حاصل کرنا ''گاڑی کو بیل کے آگے'' لگانے والی بات ہے۔ اگر واقعی سابق حکمران ٹولہ مجرم ہے تو اس سے رعایت برتنا ویسا ہے جیسا سانپ کو دودھ پلانا۔ اور اس سلسلے میں جو مداہنت کی جائے گی اس کے نتائج انتہائی دور رس نکلیں گے۔ اس لئے حکمران طبقہ اگر اپنی خیر چاہتا ہے تو اس کو ''عدل فاروقی'' کی یاد تازہ کر دینا چاہئے۔ جہاں نہ لالچ اور نہ لومۃ لائم کا گزر ہو سکتا تھا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو، آپ ایسی مبارک فضا کا احیاء کر جائیں جس میں حدود اللہ کا نفاذ ممکن ہو سکے اور طاغوت کے دم خم ٹوٹ جائیں۔ یہ وہ صدقہ جاریہ ہے جس سے آپ کی اخروی زندگی آب و تاب پکڑے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔