پیدا ہوئے محمد، جہان چمکا
دنیا ہوئی منوّر، آسماں چمکا
چھٹنے لگی سیاہی ازماہ تابماہی
ہر شے نے دی گواہی حق کا نشان چمکا
غارِ حرا سے اُٹھ کر فاران پر چمک کر
وہ نورِ حق عرب سے تا اصفہان چمکا
ہر خطۂ زمیں پر تاریکیاں تھیں چھائی
نورِ نبی ﷺ گھٹاؤں کے درمیان چمکا
جنّ و ملک کے اندر ارض و فلک کے اوپر
فخرِ بشر سے آدمؑ کا دو دمان چمکا
سردار انبیاءؑ کا، سالار اصفیاءؓ کا
لیکر نشان حق کا باعز و شان چمکا
پُجتے تھے چاند، سورج، پتھر، درخت، حیواں
سب ماند پڑ گئے جب حق کا نشان چمکا
کون و مکاں پہ طاری تھی شرک کی سیاہی
تنویرِ مصطفےٰؑ سے کون و مکان چمکا
توحید کی ضیاء سے روشن ہوا زمانہ
نورِ ازل کا جلوہ آخر زمان چمکا
ہے ذکرِ پاک انکا سرمایہ برکتوں کا
جس سے عزیزؔ، تیرا ہے خاندان چمکا
(بہ تغیّر)