عَنْ عَائِشَة رضي الله تعالٰی عنها قالت: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَخْبِرْنِیْ عَنِ ابْنِ عمر ابن جدعان قال النبي ﷺ وَمَا کَانَ؟ قَالَتْ کَانَ یَنْحَرُ الْکَوْمَآءُ وَیُکْرِمُ الْجَارَ وَیُقْرِي الضَّیْفَ وَیَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَیُوَفِّي بِالذِّمَةِ وَیُصِلُّ الرِّحْمَ وَیَفْسَکُ الْعَانِي وَیُطْعِمُ الَّعَامَ وَیُؤَدِّي الْأمَانَة۔

قَالَ ھَلْ قَالَ یَوْمًا واحدا اللهم إني أعوذبك من نارِ جهنم؟

قُلتُ لا وما کان یدری وما جهنم؟

قال فلا إذاً (رواہ ابو یعلی)

رضا الٰہی کے تصور کے بغیر سماجی خدمات:

(ترجمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں کہ:

میں نے عرض کیَ حجور! ابنِ عمر بن جدعان کے (انجام کے) بارے میں بتائیے۔

فرمایا: اس کا کیا حال تھا؟

جواب دیا: (حضور!) بڑی بڑی اونٹنیوں کی قربانی دیا کرتا تھا، ہمسایوں کا احترام کیا کرتا تھا، مہمان نوازی اس کا دستور تھا، سچ بولتا تھا، عہد پورا کیا کرتا تھا، صلہ رحمی، گردنیں آزاد کرانا، (بھوکوں کو) کھانا کھلانا اور امانت ادا کرنا اس کی عادت تھی۔

آپ نے فرمایا: کیا اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ: الٰہی! دوزخ کی آگ سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں؟

میں نے کہا نہیں! اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ دوزخ کیا ہے؟

آپ نے فرمایا(خدا کے ہاں) اس کے لئے کچھ نہیں۔

یہ وہ حدیث پاک ہے، جس سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانا چاہئیں جو بعض لوگوں کی سماجی قسم کی خدمات دیکھ کر جھوم اُٹھتے ہیں اور خدا اور رسول سے ان کی بے خبری اور بے تعلقی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

اصل میں دین برحق کو اپنا رقیب تصور کرنے والوں اور دشمنِ اسلام اقوام کی یہ سوچی سمجھی ایک سازش کا نتیجہ ہے، انہوں نے شاطرانہ چالوں سے ''بندۂ مسلم'' کے ذہن میں یہ بات راسخ کرنے کی کوشش کی ہے کہ: دین و ایمان سے اصل غرض ''خدمت خلق'' ہے۔ خدا ہمارے سجدوں اور ہمارے تعلق خاطر کا بھوکا نہیں ہے، کوئی اسے مانے یا نہ مانے، سماجی خدمات کے سلسلے میں رضا الٰہی کا احساس رکھے یا نہ رکھے، جب وہ ملک یا قوم کے کام و دہن اور تن و توش کی خدمت کرتا ہے تو اسے ''دین و ایمان'' کا خلا کوئی ضرر نہیں پہنچاتا۔ قوم کو اسے سر آنکھوں پر رکھ لینا چاہئے۔

چاہے وہ ننگِ دین ہو یا ننگِ حیا، تنگِ حق ہو یا ننگِ رسول۔

ایسی باتوں سے ان کی غرض یہ ہے کہ: مسلم ان باتوں کے بھرے میں آکر، دینِ اسلام کے سلسلے میں سست ہو جائے، رسول سے بے تعلق ہو رہے اور قرآن پر جان نہ چھڑکتا پھرے۔ اقبال نے اسے یوں بیان کیا ہے۔
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو
فکرِ عرب کو دے کر فرنگی تخیّلات
اسلام کو حجاز ویمن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دین کا ہے یہ علاج
ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
اہلِ حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو (ضرب کلیم)

ملکی اور قومی خدمات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، ہمارے نزدیک وہ دین و ایمان بھی محلِ نظر ہے جو ''جادہ ودلق اور تسبیح'' تک محدود رہے، صحیح طریق کار یہ ہے کہ نوعِ انسان کی جو خدمات انجام دی جائیں، رضائے الٰہی کے تصور اور اس کی ہدایات کے مطابق دی جائیں۔ اسی طرح خدا کی رضا جوئی کے لئے عبادت کے ساتھ خدمت کو بھی دین و ایمان تصور کیا جائے۔ الخلق عال اللہ۔

عبادت اور خدمت، ایمان اور نفع رسانی، دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو لوگ تنہا خدمت پر قناعت کرتے ہیں، وہ بھی کچھ نہیں اور حضرات تنہا عبادت کے لئے گوشہ نشین ہو رہتے ہیں، وہ بھی رہبانیت کی راہ لیتے ہیں۔ دامن دونوں کا تنگ ہے اور انجام دونوں کا اس سے بھی تنگ تر ہے۔ قابلِ اصلاح بھی دونوں ہیں۔

خدمت نفس کی اور صلہ خدا سے:

عن شداد بن اوس قال قال رسول اللهﷺ:

اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانْ نَفْسَه وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْت وَالْعَاجِزُ مَنْ اَتْبَع نَفْسَه هَوَاهَا وَتَمَنّٰی عَلَی الله (ترمذی)

دانا وہ ہے جس نے اپنے نفس کو رام کیا اور آخرت کے لئے کام کیے۔ درماندہ وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو اپنی (بہیمی) خواہشات کا غلام بنا لیا اور (نیک صلے کی) توقع خدا سے رکھی۔

دنیا میں سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ: انسان اپنے کردار، اعمال اور شب و روز کے برعکس خوش فہمیوں کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے ''سئیات'' پر نظر ثای کی توفیق سے وہ عموماً محروم رہتا ہے۔ خدمت نفس اور طاغوت کی کرتا ہے مگر نیک صلے کی توقعات خدا سے باندھتا ہے۔ یہ وہ ''خدع'' (فریب نفس) ہے جو عموماً انسان خدا تعالیٰ کے سلسلے میں روا رکھتا ہے اور مار کھاتا ہے۔

﴿وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم ... ﴿٩﴾... سورةالبقرة

فریب زہد:

عن جابر رضي الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله ﷺ أوحی اللہ إلی جبرائیل علیه السلام أن أقلب مدینة کذا وکذا بأهلها

فقال یا رب إن فیهم عبدك فلانا لم یعصیك طرفة عین۔

قال: فقال أقلبها علیه وعلیهم فإن وجهه لم یتغير في قط (شعب الایمان، بیھقی، مشکوٰۃ)

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ (ایک دفعہ) اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی کی کہ فلاں شہر کو اپنے تمام باشندوں کے ساتھ (اوندھا کر کے) پٹخ دے۔

اس نے عرض کی: الٰہی! ان میں تیرا فلاں ایک (نیک) بندہ بھی ہے جس نے کبھی بھی تیری نافرمانی نہیں کی۔

فرمایا: اس کو اس پر بھی اور ان کے سارے مکینوں پر الٹ دے کیونکہ ایک پل کے لئے بھی میری خاطر اس کے چہرے کا رنگ نہیں بدلا۔

خدا کی نافرمانیاں دیکھ کر اگر کسی دل سے ناگواری کی تحریک نہیں اُٹھتی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ رب کے ساتھ اس کا تعلق خام ہے، ورنہ اس کی نافرمانی ہوتی دیکھ کر وہ چپ نہ رہتا۔ اس کے علاوہ اگر معصیت کے خلاف آواز بلند نہ کی جائے تو بتدریج اس کا حلقہ بڑھے گا اور برائی کی حکمرانی ہو جائے گی، گویا کہ اب بالواسطہ معصیت کوشی میں اس نے بھی اپنا حصہ ادا کر دیا۔ اس لئے یہ زاہد بھی رحم اور استثناء کے قابل نہ رہا۔ باقی رہی آخرت؟ سو وہ سب کی اپنے اپنے رنگ میں ہو گی۔

یبعث کل عبد علی مامات علیه (رواہ مسلم عن جابر)

إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من کان فیهم ثم بعثوا علی أعمالهم (بخاری و مسلم عن ابن عمرؓ)

بہرحال جو لوگ ''پرائی تجھے کیا پڑی اپنی نبیڑ تو'' کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور اپنی ہی ذات کی صلاح و فلاح کے لئے یکسو ہو رہے ہیں۔ ان کا مستقبل بے داغ نہیں رہ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں اس کو اس کا خمیازہ بھگتا پڑے یا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ ایسا زہد جو خلقِ خدا کی آخرت اور دنیوی عافیت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے وہ بہرحال خام زہد ہے، بالکل اسی طرح خام ہے جس طرح خلقِ خدا کی اصلاح کرنے والا اپنی ذات کی اصلاح سے بے فکر رہ کر خام رہتا ہے اور خام رہ کر خلقِ خدا کے لئے ایک نمونہ بنتا ہے۔ جتنے لوگ جیسی کچھ اور جتنی اس کی نقالی کریں گے اور پھر اس سے جیسی کچھ فضا تیار ہو گی ان سب کے وبال میں یہ خود بھی شریک رہے گا۔ الغرض کام غلط اور توقعات نیک، دنیا کو اب یہی مرض لے ڈوبا ہے۔ اور اسی مکروہ طرزِ حیات کی وجہ سے ''بدی'' کا سر اونچا ہے اور نیکی بے یار و مددگار نظر آتی ہے۔ کیونکہ بدی کو کسی مؤثر مزاحمت کا کوئی کھٹکا نہیں رہا۔

لچھے دار باتوں کا فریب:

عَنِ المُهاجربن حبیب قال قال رسول اللہ ﷺ: قال الله تعالٰی إني لست کلّ کلام الحکیم أتقبل ولکني أتقبل هم وهواه فإن کان همه وهواه في طاعتي جعلت صمته حمد الي وقار او إن لم یتکلم (رواہ الدارمی)

فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں ایسا نہیں کہ ہر دانا کی بات قبول کروں، میں تو اس کا قصد اور محبت قبول کرتا ہوں، پس اگر اس کی نیت اور محبت میری اطاعت کے لئے ہے (تو) اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد اور بزرگی بنا لیتا ہوں، اگرچہ وہ کچھ نہ بولا ہو۔''

ہر طرف غوغا ہے کہ: فلاں نے اتنے گھنٹے تقریر کی، اور پھر حد کر دی لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس نے یہ سارا زور ر کی رضا اور اس کی اطاعت کے جذبہ کو عام کرنے کے لئے لگایا یا اپنے نجی مصالح اور سیاسی استحصال کے لئے؟ اگر رب کی خاطر یہ سب کچھ کیا تو پھر اس کی گنتی کی چند سادہ سی باتیں بھی خدا کے ہاں بڑا مرتبہ پا جائیں گی، اگر شاطروں نے شاطرانہ ڈھونک رچایا اور گو اس نے حکیمانہ پھول برسائے تو یقین کیجئے! خدا کے ہاں مچھر کے پَر کے برابر بھی قیمت نہیں پڑے گی۔ مگر وہ مسلم جس کے لئے اس معیار کو سامنے رکھنا ضروری تھا اب وہ رضا کارانہ طور پر خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے آوارہ پھرتا ہے۔ إنا لله وإنا إلیه راجعون