﴿أَحَسِبَ النّاسُ أَن يُترَ‌كوا أَن يَقولوا ءامَنّا وَهُم لا يُفتَنونَ ﴿٢﴾... سورةالعنكبوت

زبانی کلامی کلمہ:

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ زبان سے اتنا کہنے پر چھوٹ جائیں گے کہ: ہم ایمان لے آئیں اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔ ؎
چوں میگوئم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلات لا الٰہ را

دراصل یہ بات یہودیوں کے باقیات سیئات میں سے ہے کہ زبانی کلامی کلمہ پڑھ لینے کے بعد وہ ایسے 'معصیت پروف' مومن بن جاتے ہیں کہ اب جو چاہیں کریں اور جتنا چاہیں کافرانہ طرزِ حیات اختیار کریں، ان کے ایمان میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں پڑتا۔

کلمہ پڑھنے اور اس کا اقرار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ہم رب کی نافرمانی نہیں کریں گے، لیکن یہودی ذہنیت نے اس کے معنی بالکل الٹے کر ڈالے ہیں، ان کے طرزِ عمل کے اعتبار سے کلمہ پڑھنے کے معنی یہ بن گئے ہیں کہ اب ہم الٹا سیدھا جو کچھ کریںِ سب ہضم ہوتا رہے گا۔ گویا کہ اب کلمہ گناہوں سے بچنے کے لئے ڈھال بننے کے بجائے گناہوں کو جذب اور ہضم کرنے کے لئے ایک چورن بنا لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ہزار ہا حماقتوں اور سیاہ کاریوں کے باوجود ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں۔

﴿وَقالَتِ اليَهودُ وَالنَّصـٰر‌ىٰ نَحنُ أَبنـٰؤُااللَّـهِ وَأَحِبّـٰؤُهُ...١٨﴾... سورة المائدة

''یہود اور نصاریٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔''

﴿فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ وَرِ‌ثُوا الكِتـٰبَ يَأخُذونَ عَرَ‌ضَ هـٰذَا الأَدنىٰ وَيَقولونَ سَيُغفَرُ‌ لَنا وَإِن يَأتِهِم عَرَ‌ضٌ مِثلُهُ يَأخُذوهُ...١٦٩﴾... سورةالاعراف

''پھر ان کے بعد ایسے ناخلف (ان کے) جانشین ہوئے کہ (وہ بڑوں کی جگہ) کتاب (تورات) کے وارث (تو) بنے (مگر مطلب کی تحریف کے صلے میں ان کے) اس دنیائے دوں کی (کوئی چیز مل جائے تو) لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (اللہ کرم کرے گا) یہ گناہ تو ہمارا معاف ہو ہی جائے گا اور اگر اسی طرح کی کوئی دنیوی چیز (پھر) مل جائے تو اسے (بھی) لے کر رہیں۔

صحیح یہ ہے کہ: کلمہ کو اپنے نامزد کلمہ خوانوں سے پالا پڑ گیا ہے ؎
قبائے لا الٰہ خونی قبا است
کہ بربالائے نامرداں دراز است

جیسے ماں باپ کبھی کبھار تادیباً بچے کو سرزنش کرتے اور سزا دیتے ہیں، زیادہ سے زیادہ سزا ہوئی تو بھی لحظہ بھر کے لئے بس اتنی سی سزا ہو جائے گی، جس میں غصہ کے بجائے پیار کا جذبہ ہی پس پردہ کار فرما ہو گا:

﴿وَقالوا لَن تَمَسَّنَا النّارُ‌ إِلّا أَيّامًا مَعدودَةً...٨٠﴾... سورةالبقرة

''اور وہ کہتے ہیں کہ گنتی کے چند روز کے سوا آگ ہم کو چھوئے گی (بھی تو) نہیں۔''

یہی ذہن یہاں بن گیا ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد ''سب خیر'' ہے۔ کچھ کریں، وہ سمجھتے ہیں کہ ایمان میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا نہ مزید کسی امتحان اور آزمائش کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ نبی سفارش کریں گے، ایک چھوٹی سی پرچی نمودار ہو گی، جس سے ڈوبتا ہوا بیڑا قیامت میں پار ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ خام خیال ہے کہ ایمان لے آنے کے بعد ان کے لئے مزید کسی ابتلاء کی ضرورت باقی نہیں رہی، بلکہ ہم تپا تپا کر دیکھیں گے کہ کون کس حد تک ثابت قدم رہتا ہے اور کون اُلٹے پاؤں مڑ جاتا ہے۔

﴿وَما جَعَلنَا القِبلَةَ الَّتى كُنتَ عَلَيها إِلّا لِنَعلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّ‌سولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلىٰ عَقِبَيهِ...١٤٣﴾... سورالبقرة

''(اے رسولِ خدا) جس قبلے پر آپ (پہلے) تھے (یعنی بیت المقدس) ہم نے اس کو اس غرض سے قرار دیا تھا کہ (جب قبلہ بدل جائے تو) جو لوگ رسول کی پیروی کریں ان کو ہم ان لوگوں سے (الگ) معلوم کر لیں جو (سرتابی کر کے) اپنے اُلٹے پاؤں پھر جائیں۔''

کچھ کچھ اور وہ بھی مرضی کا:

﴿أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِتـٰبِ وَتَكفُر‌ونَ بِبَعضٍ...٨٥﴾... سورةالبقرة

''تو کیا کتاب (الٰہی) کی بعض باتوں کو مانتے ہو اور بعض کو نہیں مانتے۔''

اور وہ بھی مرضی کی بات ہوتی تو مان لیتے ورنہ سختی سے ٹھکرا دیتے۔

﴿أَفَكُلَّما جاءَكُم رَ‌سولٌ بِما لا تَهوىٰ أَنفُسُكُمُ استَكبَر‌تُم ...﴿٨٧﴾... سورة البقرة

''(تم اس قدر شوخ ہو گئے ہو کہ) جب جب تمہارے پاس کوئی رسول تمہاری اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی حکم لے کر آیا (تو) تم اکڑ بیٹھے۔''

اگر بس چلا تو صرف انکار نہیں، داعیانِ حق کا گلا کاٹنے سے بھی دریغ نہ کیا۔

﴿فَفَر‌يقًا كَذَّبتُم وَفَر‌يقًا تَقتُلونَ ﴿٨٧﴾... سورة البقرة

''پھر بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو لگے قتل کرنے۔''

سچے اور پکے ایمان کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ: وہاں عبدیت منقسم نہیں ہوتی یعنی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی بات نہیں ہوتی اور نہ خدا کی اطاعت کی حد تک وہاں کوئی استثناء ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں تسلیم و رضا کا راج ہوتا ہے اور 'ادخُلوا فِى السِّلمِ كافَّةً' کا سماں طاری ہوتا ہے۔ لیکن قلب و نگاہ کے روحانی مریض اور ایمان میں خام لوگ خدا کو فریب دیتے ہیں۔ ایمان کو بہلاتے ہیں اور غیر شعوری طور پر باطل سے مفاہمت کی پینگیں بڑھاتے ہیں، اس لئے جب آنکھ کھلے گی تو ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

﴿وَجاءَت كُلُّ نَفسٍ مَعَها سائِقٌ وَشَهيدٌ ﴿٢١﴾ لَقَد كُنتَ فى غَفلَةٍ مِن هـٰذا فَكَشَفنا عَنكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُ‌كَ اليَومَ حَديدٌ ﴿٢٢﴾ وَقالَ قَر‌ينُهُ هـٰذا ما لَدَىَّ عَتيدٌ ﴿٢٣﴾ أَلقِيا فى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفّارٍ‌ عَنيدٍ ﴿٢٤﴾... سورة ق

''اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ ایک (فرشتہ) تو اس کے ساتھ ہانکنے والا ہو گا اور ایک (فرشتہ) گواہ ہو گا (ہم اس کو جتا دیں گے) کہ تو اس (دن) سے بے خبر رہا، سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا، سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے اور اس کے ساتھ والا (فرشتہ) کہے گا کہ یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔''

ارزاں نجات کا خبط:

﴿أَم حَسِبتُم أَن تُترَ‌كوا وَلَمّا يَعلَمِ اللَّـهُ الَّذينَ جـٰهَدوا مِنكُم وَلَم يَتَّخِذوا مِن دونِ اللَّـهِ وَلا رَ‌سولِهِ وَلَا المُؤمِنينَ وَليجَةً ۚ ...﴿١٦﴾... سورةالتوبة

''(مسلمانو!) کیا تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے کہ (سستے) چھوٹ جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو (اچھی طرح ٹھوک بجا کر) دیکھا تک نہیں جو تم سے جہاد کرتے اور اللہ اور اس کے رسول اور (سچے) مسلمانوں کو چھوڑ کر کسی کو اپنا دوست نہیں بناتے۔''

عہد جاہلیت میں سستی نجات کا یہی خبط ہی ان کو لے ڈوبا تھا۔ وہ ہمیشہ ایسی شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے تھے کہ بس یونہی سا کوئی بہانہ مل جائے اور بیڑا پار ہو جائے، افسوس! یہ باتیں صرف تاریک دور کی باتیں نہیں رہیں، اس روشن دور کا المیہ بھی یہی ہے۔

حجاج اور مسجد حرام کی خدمت:

﴿أَجَعَلتُم سِقايَةَ الحاجِّ وَعِمارَ‌ةَ المَسجِدِ الحَر‌امِ كَمَن ءامَنَ بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ‌ وَجـٰهَدَ فى سَبيلِ اللَّـهِ ۚ لا يَستَوۥنَ عِندَ اللَّـهِ... ﴿١٩﴾... سورةالتوبة

''یا تم لوگوں نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص جیسا سمجھ لیا جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے؟ (سن لیجیے!) خدا کے ہاں (ان کا مقام) یکساں نہیں ہے۔''

یعنی چند سماجی قسم کی خدمات انجام دینے کے بعد یہ تصوّر کر لینا کہ میدان مار لیا اور خدا کو جیت لیا، سب سے بڑی نادانی ہے۔

فرمایا: خانۂ خدا کی خدمت کا حق صرف اس شخص کو پہنچتا ہے جو خدائے خانہ کا خوف رکھتا ہے، نمازیں پڑھتا، زکوٰۃ دیتا اور اُخروی حساب کی فکر کرتا ہے۔

﴿إِنَّما يَعمُرُ‌ مَسـٰجِدَ اللَّـهِ مَن ءامَنَ بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ‌ وَأَقامَ الصَّلوٰةَ وَءاتَى الزَّكوٰةَ وَلَم يَخشَ إِلَّا اللَّـهَ... ﴿١٨﴾... سورة التوبة

شراب اور جُوا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَيسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠﴾... سورة المائدة

''مسلمانو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (ان میں کا ہر کام) تو بس ناپاک شیطانی کام ہے تو اس سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پالو!''

مقصد یہ ہے کہ: ایسے فلاح جو دنیا اور آخرت میں بے داغ کامیابی کی ضامن ہو، شراب اور جوئے کے ہوتے ہوئے مشکل ہے۔ ہاں ؎

بعد از خرابیٔ بسیار والی بات الگ ہے۔

شراب کی بندش کا یہ اعلان اور حکم، کسی سیاسی مصلحت کا رہینِ منت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا ایک حکیمانہ پس منظر ہے۔ اگر یہ پس منظر پہلے ملحوظ ہو نہ بعد میں تو اسے ایک مومنانہ امتثالِ امر کہنا مشکل ہو گا۔ ہاں اگر اسے کوئی شخص استحصالی نعرہ، سیاسی چال اور ڈھونگ خیال کرے تو اس کو بالکلیہ جھٹلانا بھی آسان نہ ہو گا۔

شراب اور جوئے کی حرمت کا حکیمانہ پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:

﴿إِنَّما يُر‌يدُ الشَّيطـٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَدٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ‌ وَالمَيسِرِ‌ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ‌ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلوٰةِ ۖ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ ﴿٩١﴾... سورة المائدة

شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کی وجہ سے تمہارے آپس میں دشمنی اور بغض ڈلوا دے اور تم کو یادِ الٰہی اور نماز سے باز رکھے، کیا تم (اس سے) باز آؤ گے (یا نہیں؟)''

شراب اور جوئے کے اور بھی مفاسد ہو سکتے ہیں لیکن جن مفاسد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے وہ یہی ہے کہ ایک جواری اور شرابی ملک و ملت میں انتشار و افتراق، بدمزگی، رسہ کشی اور ایک دوسرے کے خلاف کھلم کھلا دشمنی کا باعث ہوتا ہے، جہاں اس کے ذاتی نفس و طاغوت کے مفاد کا سوال پیدا ہو جاتا ہے وہاں وہ اس قدر بے قابو اور بے خود ہو جاتا ہے کہ اسے نہ خدا یاد رہتا ہے نہ نماز۔ اگر جوئے اور شراب کے امتناعی احکام کا پس منظر بھی انہی پاک نوامیس اور مقاصد کا تحفظ ہے تو واقعی مبارک ہیں۔ اگر اس کے بجائے ان سے غرض سستی شہرت، سیاسی مصلحت اور عوام کا استحصال ہے تو پھر خدا حافظ۔