3؍ستمبر 2011ءبروز ہفتہ سہ پہر 4بج کر 40منٹ پر میرےموبائل فون کی گھنٹی بجی فون اٹھایاتوآواز آئی:''السلام علیکم ڈاکٹر صاحب!میں عطاءاللہ صدیقی بول رہاہوں۔کیسےمزاج ہیں آپ کے؟میری جانب سےآپ کوبہت بہت عید مبارک ہو۔اگر آپ گھر پرہوں تومیں آپ سےملنا چاہتا ہوں۔دراصل میری بیٹی کی طبیعت ابھی تک خراب ہےاور میں علاج کےسلسلہ میں آپ سےمشورہ کرناچاہتاہوں''میں نےصدیقی صاحب سےاپنی پیشہ وارانہ مصروفیات کےباعث اس روز معذرت چاہی اور اگلےروزیعنی اتوار کی ملاقات طےپائی۔مجھےکیاخبر تھی کہ میں آخری مرتبہ صدیقی صاحب کی آواز سن رہاتھااور اب ان سےکبھی ملاقات نہ ہوسکےگی۔
عطاء اللہ صدیقی صاحب پنجاب گور نمنٹ کےشعبہ منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن(punjmin)کےسیکرٹری تھےاور میرےساتھ ان کےبڑےگہرےاوردوستانہ مراسم تھےاورساتھ ہی ساتھ ادب اوراحترام کا بھی مضبوط رشتہ تھا۔ان کےاہل خانہ اور وہ خود بھی میرےمریض تھے۔9ستمبر بروز جمعۃ المبارک علی الصبح چار بج کر چالیس منٹ پر میرے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہواجس کی عبارت یہ تھی:
Attaullah Siddiqui is very critical in ICU platelets urgently needed please contact
یہ پیغام صدیقی صاحب کےموبائل فون سےان کی بیٹی نےارسال کیاتھا۔اس کےجواب میں جب میں نےفون کیاتومجھےبتایاگیاکہ عطاءاللہ صدیقی کوڈینگی فیورکےباعث ڈاکٹرز ہسپتال میں داخل کروایاگیاتھا جہاں علاج کےباوجود ان کی حالت تشویشناک ہےاور ان کےجسم سےخون بہہ گیاہے۔مزید یہ کہ دماغ کےاندرخون بہہ جانےکےباعث وہ بےہوش ہوگئےتھےاور اب مصنوعی سانس کےآلےVentilator پر ہیں۔خون کوروکنےکےلیے'پلیٹ لیٹس'کی اشدضرورت ہے۔میں نےاپنےطورپرجب متعلقہ عملےاور ڈاکٹر صاحبان سےرابطہ کیاتوعلم ہوا کہ برین ہیمبرج کےباعث ان کی زندگی کوشدید خطرہ لاحق ہےاور خون کابہنابدستورجاری ہے۔میں نےفون رکھ دیااور صدیقی صاحب کی زندگی اورصحت کےلیےبہت دعائیں کیں۔
ڈاکٹرز ہسپتال سےمیرارابطہ 10ستمبر کوہواتوحالت بدستور خراب تھی اور ڈاکٹروں نےبتایاکہ صدیقی صاحب زندگی موت وحیات کی کشمکش میں مبتلاہیں۔12ستمبر کوعلی الصبح عطاءاللہ صدیقی صاحب ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کےلیےداغِ مفارقت دے گئے۔اناللہ واناالیہ راجعون!
اگرچہ میراعطاءاللہ صدیقی صاحب سےکوئی خون کارشتہ نہ تھالیکن اس کےباوجود ان کی موت نےمیرےذہن پر شدید اثرات مرتب کئےہیں اور میں شدید صدمےسےدوچار ہوا۔اس کی وجہ صدیقی صاحب کی شفیق ہستی'ان کا ہمہ وقت مسکراتاہواچہرہ اور ان کی بےشمار دیگرخوبیاں تھیں جوآج کےمادہ پرست معاشرےمیں تقریباًناپیدتھی۔میں صدیقی صاحب کوآج سےپانچ سال قبل بالکل نہیں جانتاتھا۔عطاءاللہ صدیقی صاحب نےمیری ملاقات ماہنامہ'محدث'کےمدیرجناب ڈاکٹر حسن مدنی صاحب نےکروائی۔ان دنوں صدیقی صاحب بیمارتھےاورشوگر میں علاج ومعالجہ کےلیےمیراان کےگھرجاناہوا۔یہ پہلی ملاقات ہی میرےلیےبڑی یادگار اور باعث مسرت تھی کیونکہ صدیقی صاحب کاخلوص اور محبت بےمثال تھی۔صدیقی صاحب سےاس کےبعد میری براہِ راست ملاقاتوں کاسلسلہ شروع ہواجو ان کی زندگی کےٖآخری ایام تک جاری رہا۔وہ کئی مرتبہ میرےگھر بھی تشریف لاتےاور میرےوالد محترم ڈاکٹر عبدالوحیدصاحب سے بھی ملتےاور بےحد خوش ہوتے۔ان کامزاج ایساتھاکہ ان کی ذات ہرطرح کےتکلفات اور لوازمات سےبےنیاز اور سادہ تھی اور وہ یوں ملتےتھےجیسےاپنےکسی قریبی عزیز کےگھرآئےہوں۔
آج صدیقی صاحب ہم میں موجودنہیں ہیں اور ان کومرحوم لکھتےہوئےکلیجہ منہ کوآتاہے۔وہ نہایت ہی پرخلوص انسان تھے۔عالم باعمل اور شریف النفس آدمی تھے۔ان کو اللہ تعالی نےبیک وقت دینی اور عصری وجدید علوم پرمکمل دسترس نصیب فرمائی تھی اور اپنی زبردست ذہانت اور عمدہ حافظےکےباعث ان تمام علوم وفنون پر مکمل عبور حاصل تھا۔فلسفہ دین ومذہب'فقہ'حدیث'قرآن فہمی کی بات ہویاتقابل ادیان کامعاملہ ہو'سائنسی علوم ہوں یاشعروادب یافلسفہ کامیدان یاپھر تاریخ'سیاست'معاشیات یاتصور کےدقیق مسائل عطاءاللہ صدیقی صاحب ہر علم کےماہر اورعالم تھے۔ان کی غیرمعمولی قوت استدلال اورموقع پر صحیح اوردرست دلائل سےاپنےمخالف کواس طرح لاجواب کردینےکی صلاحیت انہی کا خاصہ تھی کہ ان کے ساتھ بحث کرنےوالا لاکھ مخالفت کرنےوالا باوجود ان کی بات سےقائل ہوکر ہی اٹھتاتھااس بات کا اعتراف ان کےمخالف نےبھی کیاہے۔
اللہ تعالی نےان کوبلاکی دہانت سےنوازاتھا۔عطاءاللہ صدیقی کی شخصیت کاایک اورپہلوان کی نظریہ پاکستان سےشدید محبت اورارض پاک پربسنےوالےہر مسلمان کےدل میں قائداعظم اور علامہ اقبال کےافکارونظریات اورحقیقت ومقصد قیام پاکستان کواجاگرکرناہے۔وہ اس بات کوتحریری اورتقریری طورپرکئی مواقع پرثابت کرچکےتھےکہ چاہےکوئی کتناہی زورلگالےاورکتنےہی دلائل دیتارہے یہ بات اظہرمن الشمس ہےکہ سیکولرازم کاواحدمطلب لادینیت ہےاورسیکولرفورسزکی تمام ترکوششوں کےباوجودپاکستان میں صرف اورصرف دین اسلام ہی کی ترویج اورتنفیذ لازم ہے۔عطاءاللہ صدیقی صاحب زندگی بھرنظریہ پاکستان کی اساس پرہونےوالےہرحملےکابھرپورجواب دیتےرہے۔انہوں نےقائداعظم کی شخصیت کےبارےمیں کئےجانےوالےبےشماراعتراضات کانہایت مدلل جواب دیااوریہ ثابت کیاکہ قائداعظم کےنزدیک قیام پاکستان کامقصددین اسلام کاعملی نفاذتھااورقائداعظم قطعاًسیکولرنظریات کےحامل نہ تھے۔
اگریہ کیاجائےکہ مرحوم عطاءاللہ صدیقی نظریہ پاکستان کےکمانڈر'نڈرسپاہی اورپاکستان کی نظریاتی سرحدوں کےایک عظیم محافظ تھےتوغلط نہ ہوگا۔آج جبکہ ارضِِ پاک کےطول وعرض میں لادینی اورسیکولر قوتوں کاپروپیگنڈہ اور اس کی نحوست پھیل چکی ہےاور مختلف الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکےذریعےیہ نظریات عام کئےجارہےہیں کہ دراصل پاکستان کا قیام کسی نفاذِاسلام کےلیےعمل میں نہ آیاتھااور جوتاریخ وحقائق نظریہ پاکستان کےبارےمیں ہم اپنی نئی نسل کومنتقل کررہےہیں وہ تبدیل شدہ ہیں اورتقسیم ہند کی چنداں ضروری نہ تھی۔
عطاءاللہ صدیقی صاحب کاسانحہ ارتحال ایک نہایت ہی قیمتی انسان کی موت اور ملک وملت کےلیےناقابل تلافی نقصان ہے۔ان جیساسیکولر اور لادینی قوتوں کامقابلہ کرنےوالاشاید اورکوئی موجود نہیں ہے۔وہ لادینیت'سیکولرنظریات'فحاشی وعریانی اور وطن عزیز میں ہونےوالی ہر برائی کےخلاف ایک ننگی تلوار تھے۔لاہور شہر کےتھیٹر ڈراموں میں ہونےوالی بےحیائی اوربیہودگی کانوٹس سب سےپہلےانہوں نےلیااور متعلقہ حکام کےذریعےسےایکشن لےکر سٹیج اورتھیٹر ڈراموں میں رقاصاؤں کےبیہودہ رقص اور بےحیائی کوروکا۔بدقسمتی سےصوبائی'مذہبی اورنسلی بنیادوں پرتقسیم اورپاکستان کےوجود کوختم کرنےکی جوسازشیں کی جارہی ہیں ان کی پیشین گوئیاں صدیقی صاحب نےبہت پہلےکردی تھی اوروہ تن تنہااس محاذپرلڑنےکےلیےتیاررہےتھے۔
مغرب سےمتاثرہ بےشمارصحافیوں اور برائےنام دانشوروں جنہیں وہ دانش باز کہاکرتےاورادیبوں کی شدیدمخالفت کےباوجود عطاءاللہ صدیقی مرحوم نےپاکستان کی نظریاتی سرحدوں کےدفاع کا فریضہ انجام دیااور کامیاب وکامران رہے۔صدیقی صاحب مرحوم تفریح کےنام پرہندوانہ رسوم ورواج اورامن کی آشاکےفلسفوں کےبھی مخالف تھے۔ان کےنزدیک دیوالی اوربسنت سب کےسب ہندومذہب کےتہوار ہیں۔اس سلسلےمیں ان کی بسنت کےمتعلق کتاب بہترین تصنیف ہےجسےادارہ محدث نےشائع کیاہے۔وہ ہندوستان کےساتھ دوستانہ مراسم کےصرف اس صورت میں قائل تھے جب تک نظریہ پاکستان کےاصولی تصویرپر معمولی سی آنچ نہ آئےاور پاکستان کی عظمت و وقار برقرار رہے۔محض ڈراورخوف کےباعث ہندوستان کےسامنےہاتھ جوڑنےاورامن کی آشارچانےکےوہ صرف اس لیےخلاف تھےکہ جوملک ہمارےآبی ذرائع ڈیم بنابناکرختم کررہاہواورپاکستان کوبنجربناناچاہتاہواس کےساتھ کیسی محبت اوردوستی؟
یہاں یہ کہناناانصافی ہوگی کہ ایک اعلی سرکاری ملازم ہونےکےباوجود صدیقی صاحب بےحدنڈراور حق بات کہنےمیں بےخوف تھے ۔انہوں نےجب حق بات کہی تونہ کسی وزیر ومشیر کی پرواہ کی اورنہ ہی پرویز مشرف جییےڈکٹیٹر کی ۔جب پرویزمشرف کی ٖ آمریت کاجادوسرچڑھ کربول رہاتھاتوانہوں نے'محدث'میں ایک مضمون قلم بندکیاجس کاعنوان انہوں نےپرویزمشرف کےدوچہرے:اسلام یاسیکولرازم رکھا۔عاصمہ جہانگیرجب اپنی پیشہ وارانہ بلندیوں کےعروج پرتھی یعنی سپریم کورٹ بارکی صدرتب انہوں نےاس کےخلاف ماہنامہ محدث'غیرت ایمانی پرمشتمل مضمون عاصمہ جہانگیر کاتوہین رسالت میں کردار'لکھا۔یہ مضمون ان کی جراءت رندانہ اورجذبہ حب رسولﷺپرشانداردلالت کرتاہے۔حق گوئی وبے باکی ان کاوتیرہ تھااور سوائےاللہ کےوہ کسی سےنہ ڈرتےتھے۔ایسےمضامین کےنتیجےمیں انہیں براہ راست حکومتی اورمقتدرطبقوں کےعتاب کابھی نشانہ بنناپڑاجس سےوہ بعض اوقات ہمیں باخبربھی کرتےلیکن انہوں نےکبھی غلط کہنےاور حق کی بےباکانہ ترجمانی میں معمولی سی پس قدمی بھی اختیار نہ کی۔
مجھےچنددوستوں اورعطاءاللہ صدیقی صاحب کےجانشین نظریہ پاکستان کےمحافظوں نےیہ بنایاکہ پنجاب بھرمیں خصوصاًاورپاکستان میں عمومی طورپرعطاءاللہ صدیقی کی موت پرچندمعروف سیکولرسکالرزاوردانشوروں نےاطمینان کااظہارکیاہےاورنجی محفلوں میں اس امرپرسکھ کاسانس لیاہےکہ ایک بنیادپرست سےجان چھوٹی۔یہاں میں ان تمام اصحاب کوعمومی طورپراورپاکستان بھرمیں موجودسیکولرنظریات کےحامل افراد کویہ اچھی طرح باورکروادیناچاہتاہوں کہ وہ کسی قسم کی غلط فہمی یاخوش فہمی کاشکارنہ ہوں کیونکہ عطاءاللہ صدیقی ایک فردنہیں بلکہ ایک ادارےاورایک فکر کانام تھاجس کےتربیت یافتہ افراد ان کی شروع کردہ جنگ لڑرہےہیں اورایک صدیقی کی موت سےان کےمشن میں کوئی کمی نہ آئےگی۔ان کےقارئین ان کےنظریات اورغیرت ایمانی سےمسلح ہوکران کےمشن کوپوراکرتےرہیں گے۔لادینیت اورسیکولرنظریات کی حامل ارواحِ خبیثہ کاتعاقب اس طرح جاری رکھاجائےگاکہ جب تک پاکستان میں سیکولرازم کی آوازہمیشہ ہمیشہ کےلیےخاموش نہیں ہوجانی اوریہاں اللہ کادین اورنظریہ پاکستان کےمطابق نظام نہیں آجاتایہ مشن جاری وساری رہےگا۔صدیقی صاحب اس راہِ حق کےشہیدہیں اوریہ مبارک قافلہ ہمیشہ اپناسفرجاری رکھےگا۔
ڈینگی بخارنےیوں توبےشمارانسانوں کوپریشان رکھالیکن صدیقی صاحب توہمیں ہمیشہ ہمیشہ کےلیےچھوڑگئے۔میں جی او آر کےساتھ ملحقہ اس پارک میں کھڑاہوں جہاں چند ماہ قبل وہ میرےساتھ دیرتک بیٹھےگفتگوکرتےرہےتھے۔مگرآج وہ خاموش تھےاورپرسکون نیندسورہےتھےجیسےکوئی اپناکام مکمل کرچکاہو۔میرےقریب ہی معروف دانشور جناب اوریامقبول جان بھی موجودتھے۔دیگرمعروف دانشور صحافی اور اسلام اورنظریہ پاکستان سےمحبت رکھنےوالےلوگ بھی وہاں موجودتھے'ہرآنکھ اشک بارتھی۔مولاناحافظ عبدالرحمن مدنی نےان کاجنازہ ہچکیوں اورآنسوؤں میں ڈوب کرپڑھایااور پیچھےاہل ایمان کی ایک بڑی تعدادایسےہی جذبات سےدوچارتھی۔
صدیقی صاحب بےحدشفیق اورہر دلعزیز ہستی تھے۔میری نظروں کےسامنےصدیقی صاحب کا مسکراتاہواچہرہ تھااورآج وہ اس جہان فانی سےسفر آخرت پرروانہ ہورہےتھے۔جسم سےخون بہہ جانےکےباعث رنگت زردی مائل تھی۔میں ان کےچہرےکودیکھ رہاتھاکہ ہجوم میں سےکسی نےمجھےآگےدھکیل دیااور صدیقی صاحب کاچہرہ میری نظروں سےہمیشہ ہمیشہ کےلیےاوجھل ہوگیا۔
ہم اللہ تعالی سےدعاگوہیں کہ اللہ تعالی عطاءاللہ صدیقی صاحب پراپنی رحمتوں کانزول فرمائے۔ان کےدرجات بلند فرمائے۔ان کی قبر کوجنت کےباغوں میں سےایک باغ بنادے اورقبرونار کےعذاب سےان کومحفوظ فرمائےاور ان کےاہل خانہ کوصبرجمیل سےنوازے۔آمین ثم آمین!
فکرِاسلامی کابےباک ترجمان اور غیور پاسبان
حافظ شفیق الرحمٰن
صدیقی مرحوم کی یاد میں ادارۂ محدث کے خصوصی تعاون سے ایک تعزیتی اجلاس ماڈل ٹاؤن لائبریری، لاہور میں ’ مجلس ترقی فکر‘ نے 10اکتوبر کی شام کو منعقد کیاجس میں صدیقی صاحب کے رفقا ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ، جناب عبدالرزاق چیمہ ڈی ایس پی، معروف دانشور محترم اوریا مقبول جان اور محترمہ غزالہ اسمٰعیل صاحبہ، سابقہ پرنسپل ماڈل ٹاؤن ڈگری کالج برائے خواتین نے ان کی خدمات کا خوبصورت انداز میں تذکرہ کیا۔ زیرِ نظر تحریر حافظ شفیق الرحمٰن صاحب کی اس موقع پر ہونے والی تقریر کی تسوید ہے۔ صدیقی مرحوم پر راقم کا تفصیلی مضمون زیر تکمیل ہے اور قارئین سے بھی اپنے تاثرات لکھنے کی درخواست ہے ۔ح م
محمدعطاءاللہ صدیقی سےمیری پہلےپہل ملاقات 1997ءمیں ہوئی۔یادشِ بخیران دنوں میراکالم'آئینہ خانہ'ان کی نظر سےگزرا۔یہ کالم انہیں پسندآیاتوانہوں نےبلاتاخیرفون پرمجھ سےرابطہ کیا۔وطن عزیزکےوقیع اور مؤقردینی جریدےماہنامہ محدث کےدفتر میں ڈاکٹرحافظ حسن مدنی کےہاں بھی میری ان سےملاقات ہوتی رہیں۔گاہےماہےمیں ان کےدفتر بھی جاتارہا۔میرےاور ان کےمابین قدرِ مشترک یہ تھی کہ ہماری خواہش تھی کہ اس معاشرےاور مملکت میں بےراہروی اورکج روی کاجوبدلگام طوفان آرہاہے فکری'نظری'علمی'ادبی اورصحافتی سطح پراس کےراستےمیں کوئی بندباندھاجائے۔وہ اس سلسلہ میں اکثر اپنی تشویش اوراضطراب کااظہار بھی واشگاف الفاظ میں کرتے۔وہ اسلامیت اورپاکستانیت کےسانچے میں ڈھلی ہوئی ایک نفیس اورنستعلیق شخصیت تھے۔
دوتین ماہ پہلےمیری ان سےملاقات ایک تقریب میں ہوئی۔لندن سےہمارےایک کالم نگار دوست سمیع اللہ ملک لاہور تشریف لائےتودوستوں نےان کےاعزاز میں ایک تقریب کاانعقادکیا۔میں نےصدیقی صاحب کوبھی اس تقریب میں خصوصی طور پرمدعوکیا۔بحیثیت ایک سینئر بیوروکریٹ بےپناہ مصروفیات کےباوجود انہوں نےوقت نکالااور تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر میں نےانہیں اظہارِخیال کی بھی دعوت دی۔انہوں نےاپنی تقریر میں بھی اس امرپرزوردیاکہ اسلامی سوچ اوردینی فکررکھنےوالےدانشوروں کوایک دوسرےکی قدر افزائی کےلیےاس قسم کی خوشگوارتقریبات کاانعقاد باقاعدگی سےکرناچاہیے۔تقریب ختم ہوئی توچہارستارہ ہوٹل کی لابی میں وہ آدھ پون گھنٹہ تک میرےساتھ یکساں سوچ رکھنےوالےقلم کاروں'کالم نگاروں اوردانشوروں کےباہمی رابطوں میں کمی کاشکوہ کرتےرہے۔وہ انتہائی دکھےدل کےساتھ اس کرب کا بھی اظہار کرتےرہےکہ وہ لوگ جواس معاشرےاورمملکت کی سیکولرائزیشن'ویسٹرنائزیشن'ماڈرنائزیشن اورامریکانائزیشن کےخلاف ہیں انہیں متحدہوجاناچاہیے۔ان کی شدیدترین خواہش تھی کہ وہ تمام دانشورجومملکتِ خدادادِپاکستان کی ڈی اسلامائزیشن'ڈی سٹیبلائزیشن'ڈی نیوکلئیرائزیشن اورنصاب کی ڈی قرآنائزیشن کےلیےسرگرمِ عمل قوتوں کےخلاف ہیں۔علمی'فکری'ادبی اورصحافتی سطح پروہ اپناایک متحد محاذاورمشترکہ پلیٹ فارم بنائیں۔کاش ان کی اس تشنہ تکمیل خواہش کوان کےنقطہ نظر سے متفق اسلام دوست دانشوربامِ تکمیل تک پہنچاسکیں۔
یہ کیسی ستم ظریفی ہےکہ یہاں اخوان الشیاطین کا منظم اورمضبوط دھڑامختلف تنظیموں'انجمنوں اورحلقوں کی شکل میں اپنی ریشہ دوانیوں میں مصروف ہےلیکن ان ریشہ دوانیوں کےانسداد کےلیےابناءالاسلام کی کوئی مؤثر تنظیم سرےسےموجودنہیں۔یہاں جن اخوان الشیاطین کاذکر ہواہےعرفِ عام میں محب وطن پاکستانی انہیں سیکولر'لیبرل اورماڈریٹ کی حیثیت سےجانتےہیں۔وہ توجھاڑباندھ کر اسلامی اورمشرقی اقدار کےخلاف اعلانیہ جنگ کررہےہیں۔ستم بالائےستم یہ کہ اکثر وبیشتر الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاپراسی بلیک لیبل'بلیولیبل اور ریڈلیبل گروپ کاقبضہ اوراجارہ ہے۔میں خودپرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاسےتعلق رکھتاہوں اس بھیانک صورتحال کاسامناکررہاہوں۔ایسےمیں محترم عطاءاللہ صدیقی صاحب کی تحریر پڑھنےکےمجھےمواقع ارزاں ہوتےرہے۔یہ مواقع ارزاں کرنےپرمیں خصوصاًماہنامہ محدث کامشکوروممنون ہوں۔یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ محدث مجھےان ہی کی کاوشوں سےباقاعدہ ملتارہا۔یہ امر خوش آئندہےکہ محدث پاکستان کا ایک خالص تحقیقی'علمی'فکری'ادبی اورنظری معاملات ومسائل کامحاکمہ کرنےوالاجیداور مستندجریدہ ہے۔اس جریدہ کےمرتبین اورپیش کاروں کےساتھ صدیقی صاحب کاگہرارابطہ اس امر کی نشاندہی کرتاہےکہ ان کےاندر اسلامیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
مجھےیادپڑتاہےکہ میں نے1997ءمیں غالباًپہلی مرتبہ جب ایک این جی او نےکسی دینی گھرانےکےخلاف باقاعدہ تحریک چلائی تواپنےطورپرکالموں کی ایک سیریل میں عاصمہ جہانگیر اوراس کی بٹالین کی کارستانیوں کاکڑوامحاسبہ کیا۔ان کالموں میں'میں نےقارئین کویہ بتانےکی کوشش کی کہ پاکستان میں موجودفارن فنڈڈ'فارن ڈکٹیٹڈ'فارن پیٹرونائزڈ'فارن میڈ'فارن پیڈاور فارن سپانسرڈ این جی اوز کی ایک چین(Chain)ہے۔دراصل یہ سب اینٹی پاکستان قوتیں ہیں اور ان کےآفیسز'سیکرٹریٹ اور ان کےمراکز اصل میں دہشت گردی'شرپسندی اورمعاشرےمیں تشدد پسندی کی اصل تربیت گاہیں'ٖٖآماجگاہیں اور پناہ گاہیں ہیں۔کتنےدکھ کی بات ہےکہ جانتےبوجھتےسرکاری سطح پرمملکت کےصدور'وزرائےعظام اورآرمی کےچیفس سمیت بےشمارمقتدر لوگ ان کوروشن خیال کاسمبل اورترقی پسندی کی علامت تصورکرکےان کی حوصلہ افزائی کرتےرہےہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔اس پرطرہ یہ کہ ان وطن دشمن عناصرکوباقاعدہ حفاظت'سیکیورٹی اورپروٹوکول فراہم کیاجاتاہےاعلی ترین حکومتی شخصیات کی طرح ان کی باقاعدہ حفاظت کی جاتی ہے۔
محترم جناب عطاءاللہ صدیقی صاحب نےجوکچھ لکھا اس کوآپ پڑھ لیجئے۔بحیثیت دانشور وہ ایک کثیرالجہات اورجامع الصفات شخصیت تھے۔وہ خوبیوں کا مرقع اورمحاسن کی قاموس تھے۔کالم نگار'تجزیہ نگار'مضمون نگار'مقالہ نگار'گفتگوکار'شاعر'ادیب مصنف اورمحقق تھے۔یہاں ان کی بہت سی تصنیفات'مضامین اور بحیثیت قلم کار مختلف شعبوں میں ان کی خدمت کاذکرِخیرہوالیکن یہ بھی یادرہےکہ وہ متعدد کتابوں کےدیباچہ نگاربھی تھے۔مثلاً'رواداری اورمغرب'محمدصدیق بخاری کی کتاب ہےجس کادیباچہ محمدعطاءاللہ صدیقی صاحب نےلکھااوراس میں اس بات کااظہارکیاکہ ہم فنڈامینٹلسٹ ہیں ہم مسلمان ہیں بنیادپرستی ہمارےخمیروضمیر میں شامل ہے۔ہم اپنےبنیادی عقیدےپرکسی قسم کاکمپرومائزنہیں کرناچاہتےاورمغرب ہمیں اسلام کےنام پراورمحض توحید کےساتھ وابستہ ہونےاورعشق رسالت مآبﷺسےسرشارہونےکی وجہ سےجتنی مغلظ گالیاں دےسکتاہے'وہ دےرہاہےاسلامک ایکسٹریمسٹ'اسلامک ٹیررسٹ'اسلامک فنڈامینٹلسٹ'اسلامک فاشٹ...ان کی گالیوں کےترکش میں جوبھی عناد کےزہر میں بجھاتیرہےاس کاہدف مسلمان اوراسلام ہے۔کبھی یہ نہیں کہاگیا کہ عیسائی ٹیررسٹ'ہندوٹیررسٹ'یہودی ٹیررسٹ۔ان کی اسلام دشمنی کااندازہ اس سےلگالیجئےپاکستان نیوکلیئربم بناتاہےتواسےاسلامک بم کانام دیاجاتاہے۔اپنےدین'امت اورقوم وملک کادفاع کرناہمارافرض اولین ہے۔اس ضمن میں ارباب دانش وبینش کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں انہیں روایتی تغافل وتساہل کوبالائےطاق رکھ کراپنی جملہ اہلیتوں'صلاحیتوں'استعدادِکاراورقابلیتوں کومرحوم دین کی طرح وقف دین کرناہوگا۔یہ فرمانِ امروزہے!
جب بھی عطاءاللہ صدیقی کےمختلف الوان کارہائےنمایاں کی یاد آتی ہےمیراوجدان واحساس گواہی دیتاہےکہ جوآدمی اتنی بڑی فکر کااثاثہ چھوڑکرگیاہےوہ کبھی فنانہیں ہوسکتا'لقمہ اجل نہیں بن سکتا'رزقِ غیارنہیں ہوسکتا'وہ شخص کبھی فنانہیں ہوسکتاجوکوئی ایک زندہ اوربامعنی تحریرکاغذپرچھوڑ جاتاہے۔جس نےکاغذکی جھولی میں دیانتِ فکرکےساتھ پاکستان اوراسلام کی نظریاتی سرحدوں کےدفاع کےلیےاپنی خوشگوار تحریریں چھوڑی ہوں اس شخص کےلیےمیں یہ ماننےکوتیارنہیں ہوں کہ وہ شخص مرچکاہے۔اس کی تحریرجب تک پڑھی جائیں گی'اس کی تحریروں کی جب تک یاد آئےگی'اس کےجہان معانی ومطالب کواپنی آغوش میں لئےالفاظ نگاہوں کےسامنےآئیں گےاورجب بھی اس کےافکار وخیالات ہمارےذہن کی منڈیرپردیپ بن کر جگمگائیں گےتوان کی حیاتِ جاودانی پرہمارایقین مزیدپختہ ہوتاچلاجائےگا۔ناصرکاظمی نےکہاتھا:
یادکےبےنشان زنجیروں سے تیری آواز آرہی ہےابھی
شہرکی بےچراغ گلیوں میں زندگی تجھےڈھونڈتی ہےابھی
عطاءاللہ صدیقی زندہ ہیں اورناصرپھر مجھےیادآیاکہ اسی نےکہاتھا:
پرانی محفلیں یادآرہی ہیں چراغوں کادھواں دیکھانہ جائے
کسی اورشخص کےبارےمیں کسی نےکہاتھااوراسےمیں عطاءاللہ صدیقی صاحب کےنام کرتاہوں:
گلزارکےسایوں میں وہی حشربپاہے پھولوں سےابھی تک تیری خوشبونہیں جاتی
محمد عطاءاللہ صدیقی ہمارےحافظے'ہماری یادوں'ہمارےخوابوں'ہمارےخون'ہماری شریانوں'ہمارےجسم کےہرٹشواوروجود کےہر بافت کےاندر زندہ ہیں۔ہم توان کی تحریک کےہر اول دستےکےایک سپاہی ہیں چونکہ وہ ہمارےجرنیل تھےاورہم ان کےایک ادنی سےسپاہی تھےاوران کی قیادت میں لڑرہےتھےاور ان سےمشاورت کرتےتھےکہ یہ معاملہ ہےاور اس وقت اس سےکیسےنپٹناہےاوراس کاکیسےمحاکمہ کرناہے؟
ایسےلوگ یقیناًجس طرح مجھ سےپہلےپرنسپل صاحبہ نےذکر کیاHand to mouth ہی رہاکرتےہیں۔وہ بھی اپنارزقِ حلال علم کی نذرکر کےانتہائی سادہ زندگی گزاررہےتھے۔بات یہ ہےکہ اس معاشرےمیں بےتحاشادولت کن لوگوں کےپاس ہے۔ان لوگوں کےپاس جنہوں نےاپنی حدود سےتجاوزکیا۔ان کامال جوہےوہ کرپشن اور لوٹ کامال ہے ۔وہ توایک بیوروکریٹ تھے۔بڑےبیوروکریٹ اور یہاں توعام سرکاری ملازم کی سوچ وہی ہے جس کی عکاسی اکبر الہ آبادی نےایک شعر میں یوں کی تھی:
چاردن کی زندگی ہےکوفت سےکیافائدہ کھاڈبل روٹی کلرکی کررہاخوشی سےپھول جا
اورصدیقی صاحب توکلر کی نہیں'افسری کررہےتھےاورفاقہ کشی کی زندگی بسرکررہےتھے۔افسری کررہےتھےاور '' Hand to mouth ''تھےیہ دیانت کانتیجہ تھااور یہ دیانت کیش ہوگی۔کہتےہیں کہ جب ایک اموی حاکم کاانتقال ہواتواس نےترکےمیں اپنی اولاد کےلیےہزاروں جاگیریں'سینکڑوں محلات'بیسیوں باغات اوربےتحاشادولت کےانبار چھوڑےلیکن جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کاانتقال ہواتوان کےاہل خانہ کےپاس اس شب دیاجلانےکےلیےتیل بھی نہیں تھالیکن تاریخ کی آنکھوں اورآسمان کی پوری پلکوں نےوہ مناظردیکھےکہ عمربن عبدالعزیزؓکےبچےکروڑوں اوراربوں درہم ودینار کا کاروبار کر رہےتھےاورلمباچوڑاترکہ چھوڑکر جانےوالےحاکم کےبچےجامع امویہ دمشق کی سیڑھیوں میں کٹورےہاتھ میں لیےکھڑےبھیک مانگ رہےتھے۔کرپشن کامال کبھی کسی کےپاس نہیں رہا۔کسی کےپاس رہاتومجھےاس کااتاپتابتادیجئے۔اخبارنویس یہاں موجودہیں اس کےبارےمیں تھوڑی بہت سٹوری تیارکرلیں۔لوٹ کامال کبھی کسی کےپاس نہیں رہااوراگرصدیقی مرحوم نےدیانت سےزندگی گزاری توہم ان کی روح سلیوٹ کرتےہیں'ہم سلام کرتےہیں'ہم ٹرائی بیوٹ پیش کرتےہیں۔ایسےہی لوگ توپہاڑی کاچراغ'مینارہ نور اورزمین کانمک ہواکرتےہیں۔ایسےہی لوگ زندگی کےتاریک صحرامیں قندیلِ رہبانی کاکام کرتےہیں۔عطاءاللہ صدیقی صاحب نےیقیناًیہ کام کیا۔
یہ احساس ہمہ وقت ان کےپیش نظر رہاکہ ایک روز ہمیں خداکےسامنےپیش ہوناہے۔ہمیں اپنےہر لکھےہوئےلفظ کاجواب دیناہے۔اپنےہونٹوں سےاداکیےہوئےہر حرف کی ہم سےبازپرس ہوگی۔جوابدہی کااحساس ہی ہےجومردِمومن کواپنےمنصب پربددیانتی سےروکتاہے۔آپ اخبارنویس ہوں'بیوروکریٹ ہوں'آپ اینکرپرسن ہوں'جب آپ کسی پارٹی'کسی ایجنسی اورکسی حکومت کےپےرول پرنہیں ہوتےتوآپ حقائق اور صداقت کااحیاکرتےہیں۔گویاآپ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کےدفاع کےلیےایک سپاہی کی طرح شمشیر بکف دکھائی دیتےہیں۔پھرآپ کاقلم درۂفاروقی بن جاتاہے۔
آخری بات عرض کرکےمیں آپ سےاجازت چاہوں گاکہ عطاءاللہ صدیقی صاحب نےبےشمارتحریریں چھوڑیں۔یہ ایک چھوٹی سی تقریب ہےان کےلیےبہت بڑی تقریب ہونی چاہئےاور اہلیان لاہورکوپتاچلناچاہیےکہ جناب شہر میں اک چراغ تھانہ رہا'ایک روشن دماغ تھا نہ رہا۔لوگوں کواس بات کااحساس دلوانااوریادکرواناچاہئےکہ لوگو!تم میں سےایک ایسا آدمی تھااٹھ گیا'جوایک چلتاپھرتاتھنک ٹینک'بولتاچلتاانسائیکلوپیڈیااورجیتی جاگتی لائبریری تھاوہ ہم سےاٹھ گیا!
کہتےہیں جب حضرت علیؓ کا انتقال ہوا'ان کی شہادت ہوئی اوراس کی خبر ام المومنین حضرت عائشہ ؓکودینےکےلیےقاصد کومدینہ بھیجاگیا۔قاصد جب مدینہ طیبہ کی حدود میں داخل ہوااورام المومنین کےحجرےکےسامنےکھڑےہوکر بتایاکہ امیرالمومنین حضرت علیؓ کاانتقال ہوچکاہے۔17رمضان کوان پر وارہوااور 21رمضان کوشہادت ہوگئی۔یہ سنتےہی حضرت عائشہؓ نےاس موقع پرایک تاریخی جملہ کہا:ام المومنین نےکہاکہ اےاہل عرب!جاؤ آج سےتم آزادہوکہ تمہیں روکنےٹوکنےوالامرگیا۔
ہم عطاءاللہ صدیقی کی یاد میں''کالمسٹ کلب آف پاکستان''کی جانب سے بھی تعزیتی ریفرنس کاان شاءاللہ انعقادکریں گے۔یہاں پرمتین خالد صاحب کےبھائی موجودہیں اورہمارےدوسرےساتھی بھی۔یوںمحسوس ہوتاہےجولوگ اچھےکام کرتےہیں جب وہ مرجاتےہیں توان کی یاد میں کوئی جلسہ'کوئی سمینارنہیں ہوتا'ریڈیو کوئی پروگرام نشر نہیں کرتا'ٹی وی کوئی پیکج تیارنہیں کرتا'کوئی اخبارایڈیشن شائع نہیں کرتا۔کتنےکالم نگارہیں جنہوں نےعطاءاللہ صدیقی مرحوم کوخراج تحسین پیش کرنےکےلیےکوئی کالم لکھاہوکسی ادارتی صفحہ پرکوئی تعزیتی شذرہ تحریرکیاگیاہوہر طرف ایک بےحسی سی چھائی ہوئی ہے۔لیکن عطاءاللہ صدیقی مرحوم کےکارنامےان تکلفات کےمحتاج نہیں۔حقیقت خود کومنوالیتی ہے'مان نہیں جاتی ۔اس کےباوجود بےحسی پرافسوس ضرورہوتاہے۔اس شعر کےساتھ اجازت چاہوں گا:
بیدلی ہائےتماشاکہ نہ عبرت ہےنہ ذوق بےکسی ہائےتمناکہ نہ دنیاہےنہ دین