حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ، فَأَجْرَى فَرَسَهُ حَتَّى قَامَ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ، فَقَالَ: «أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ»

(رواه أبو داود كتاب الخراج والأمارة والفيء أقطاع الأرضين وفيه عبدالله بن عمر بن حفص وفيه مقال)

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو جاگیر عطا کی: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو جاگیر عطا کی، جہاں تک اس کا گھوڑا دوڑ سکے، چنانچہ انہوں نے گھوڑا دوڑایا، یہاں تک کہ وہ جا کر کھڑا ہو گیا، اور رک کر انہوں نے اپنا ہنٹر چلا کر پھینکا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے، وہاں تک اسے دو۔

گو اس کا ایک راوی متکلم فیہ ہے لیکن دوسرے شواہد سے اس کی تائید ہو جاتی ہے، جیسا کہ عنقریب آپ ملاحظہ فرمائیں گے، بہرحال اس وسیع اور عریض جاگیر کے عطیہ سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ زمین کے اتنے بڑے رقبے کی آبادی کسی فردِ واحد کے بس کا روگ نہیں ہو سکتی، لا محالہ یہی کہنا پڑے گا کہ دوسرے کو حصے پر دے کر ہی اس کو قابل کاشت رکھ سکیں گے۔ فہو المدعی

فقتل الزبير رضي الله عنه، ولم يدع دينارا ولا درهما إلا أرضين، منها الغابة، وإحدى عشرة دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر،...... وكان الزبير اشترى الغابة بسبعين ومائة ألف، فباعها عبد الله بألف ألف وست مائة ألف، (رواه البخاري باب بركة الغازى في ماله حيا وميتا مع النبيﷺ وولاة الأمر کتاب فرض الخمس)

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، اور کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا، سوائے زمینوں کے، ان میں سے غابہ کی زمین تھی، مدینہ (منورہ) میں گیارہ، بصرہ میں دو، کوفہ میں ایک اور مصر میں ایک مکان تھا ۔۔۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ ایک لاکھ ستر ہزار کے عوض خریدا تھا" (بخاری)

اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی جو زمینی تھیں، غابہ کی زمین ان میں سے ایک تھی، پھر مکانوں کی اتنی بھرمار، ظاہر ہے سب میں ایک ساتھ ان کے لیے رہنا ناممکن تھا۔ آخر یہ سب چیزیں کاشت اور کرایہ پر دی ہوں گی۔ زمینوں اور مال و جائیداد کا یہ عام تمام صحابہ رضی اللہ عنھم اور خلفاء کے سامنے تھا۔ لیکن للچائی ہوئی نگاہ کسی کی بھی اس کی طرف نہیں اٹھتی تھی۔ غابہ کی زمین کا جو رقبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، اس کے کئی حصے تھے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اکا چار لاکھ کا قرضہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے عوض زمین کا اک قطعہ الگ کر دو، ان سے کہا گیا کہ یہاں سے لے کر وہاں تک آپ کا، اس کے بعد باقی ½-4 حصے ایک ایک لاکھ کے فروخت ہوئے۔

فاقطعوا لي قطعة، فقال عبد الله: لك من هاهنا إلى هاهنا....... وبقي منها أربعة أسهم ونصف، فقدم على معاوية، وعنده عمرو بن عثمان، والمنذر بن الزبير، وابن زمعة، فقال له معاوية: كم قومت الغابة؟ قال: كل سهم مائة ألف، قال: كم بقي؟ قال: أربعة أسهم ونصف، (رواه البخاري باب بركة الغازى في ماله حيا وميتا مع النبيﷺ وولاة الأمر کتاب فرض الخمس)

غور فرمائیے! یہ وہ زمین تھی جس کے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تنہا مالک تھے، وہ ٹریکٹر کا مشینی دور بھی نہ تھا۔ کیا اتنی بڑی زمین وہ خود کاشت کرتے ہوں گے یا حصے پر دے کر کام چلاتے ہوں گے؟ خود اندازہ فرما لیں۔ یہ باتیں عظیم صحابہ کی موجودگی کی ہیں۔

عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ» قَالَ مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، عَنْ شُعْبَةَ، وَزَادَ فِيهِ، وَبَعَثَ مَعَهُ مُعَاوِيَةَ لِيُقْطِعَهَا إِيَّاهُ،: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ(رواہ الترمذی:حدیث1381)

حضرت وائل رضی اللہ عنہ کو بھی عطا فرمائی: حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر موت میں ان کو ایک جاگیر عطا فرمائی تھی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کا قبضہ دلانے کے لیے ان کے ہمراہ کر دیا تھا۔"

اتنی بڑی زمین بہرحال خود کاشت کرنے سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے دوسرے کو کاشت پر دیے بغیر گزارہ مشکل ہوتا ہے۔ اگر یہ بات نہ جائز ہوتی تو پھر اتنی بڑی جاگیریں حوالے کرنے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ امام ترمذی حدیث مذکور کے بعد لکھتے ہیں کہ:

تمام اہلِ حضرات، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے بعد کے بزرگوں کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ سربراہِ مملکت کے لیے یہ بات جائز تصور کرتے ہیں کہ وہ جس کو مناسب تصور کرے جاگیر عطا کرے۔

وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي القَطَائِعِ يَرَوْنَ جَائِزًا أَنْ يُقْطِعَ الإِمَامُ لِمَنْ رَأَى ذَلِكَ(سنن الترمذی:حدیث1380)

حضرت ابن عوف رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی:

عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، قَالَ: " أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا "(رواہ احمد:1670)

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مجھے اور حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں جاگیر عطا فرمائی تھی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر سے لے کر قدس کی پہاڑیوں تک (جو مدینہ منورہ کے قریب) کی ساری کانیں اور قابل زراعت زمین تھی، حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو عطا کر دی تھی، اور وہ اس قدر وسیع رقبہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد تک وہ اسے کماحقہ آباد نہ کر سکے تھے۔

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا - وَقَالَ غَيْرُهُ: جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا - وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ، وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ(رواہ ابوداؤد باب اقطاع الارضین حدیث:3062)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے باقاعدہ دستاویز لکھ کر اس کے حوالے فرمائی جس کے الفاظ یہ ہیں:

«بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ، أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا» وَقَالَ غَيْرُهُ: «جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا، وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ»..... زَادَ ابْنُ النَّضْرِ: وَكَتَبَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ(رواہ ابوداؤدباب اقطاع الارضین)

پہاڑی اور نشیبی اراضی کے وہ سارے رقبے جو سمندر سے مدینہ منورہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جرسی اور نصب کے علاقوں کی ساری زمین ان کے حوالے فرمائی۔ یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اتنا بڑا رقبہ خود کاشت سے کہیں زائد ہے۔ آخر اس کو آباد کرنے کے لیے ٹھیکے یا حصے پر دینے کے بغیر اور کیا چارہ کار ہو سکتا ہے؟ شکیب ارسلان کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو طائف میں انگوروں کا ایسا باغ عنایت فرمایا تھا جس میں سہارے کے لیے جو لکڑی لگائی گئ تھی اس کی تعداد دس لاکھ تھی (الارتسامات للارسلان) کیا اتنی بڑی زمین کی آبادی کسی فردِ واحد کے لیے ممکن ہے؟

بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عیینہ اور حضرت اقرع کو لکھ کر جاگیر عطا کی مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر اسے ہٹا دیا کہ پہلے چونکہ آپ کمزورو تھے، آپ کی تالیف قلب کی جاتی تھی، اب آپ طاقتور ہو گئے ہیں، جاؤ میرے خلاف جو کر سکتے ہو کر گزرو، اگر میں تم پر ترس کروں، اللہ نہ تم پر ترس کرے۔

فلما سمع عمر ما في الكتاب تناوله من أيديهما ثم تفل فيه فمحاه فتذمرا وقالا له مقالة سيئة فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتألفكما والإسلام يومئذ قليل وإن الله قد أعز الإسلام فاذهبا فاجهدا جهدكما لا أرعي الله عليكما إن رعيتما (المالب العالیہ باب الوزراء)

اس کا تعلق مزارعت سے نہیں ہے۔ اس میں صرف اتنی بات بتائی گئی ہے کہ ضرورت نہ رہے تو دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بات تو یہ ہے کہ جن کو جاگیریں دی گئیں، انہوں نے ساری خود کاشت نہیں کی تھیں اور نہ یہ ممکن تھا بلکہ دوسروں کو حصے پر دے کر کاشت کراتے اور یہ جائز تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو وجہ بیان فرمائی ہے، وہ ان کی ایک رائے ہے جو خود ان کے اپنے تعامل سے مختلف ہے۔ وہ خود دیتے رہے تھے۔

إن عمر بن الخطاب أقطع العقيق أجمع للناس(كتاب الخراج لابى يوسف فصل فى ذكر القطائع)

کنز العمال کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن حسن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی درخواست پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ینبع کا علاقہ عطا کیا تھا

عن عبدالله بن الحسن أن عليا سئال عمر الخطاب فأقطعه ينبع (كنزالعمال)

حاجی جانتے ہیں کہ ینبع کا علاقہ بہت بڑا علاقہ ہے۔ اس کی زمین حضرت علی رضی اللہ عنہ تنہا آباد کریں، مشکل ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جن کو زمین عطا کرتے، وہ فارس کی مفتوحہ زمینوں سے دیا کرتے تھے۔

فكان عمر يقطع هذه لمن أقطع (كتاب الخراج)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہ دور تھا جس میں احتیاج اور ضرورت اور تالیف کی وہ بات نہیں تھی، جس کا انہوں نے ذکر کیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک جزوی واقعہ تھا، جس میں کچھ اور موانع ان کے سامنے آ گئے تھے۔

خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ازواجِ مطہرات کو اس کا حق دیا تھا کہ وہ چاہیں تو جاگیر لے سکتی ہیں یا رقم، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے زمین پسند کی تھی۔

فقسم عمر خيبر «فخير أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، أن يقطع لهن من الماء والأرض، أو يمضي لهن»، فمنهن من اختار الأرض، ومنهن من اختار الوسق، وكانت عائشة اختارت الأرض(رواه صحيح البخاري:حديث2328)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں پانچ صحابہ کو جاگیریں عطا کی تھیں۔

عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: «أَقْطَعَ عُثْمَانُ لِخَمْسَةٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ، وَلِسَعْدٍ، وَلِلزُّبَيْرِ، وَلِخَبَّابٍ، وَلِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَكَانَ جَارَايَ، عَبْدُ اللَّهِ وَسَعْدٌ يُعْطَيْانِ أَرْضَهُمَا بِالثُّلُثِ»(رواه عبدالرزاق:حديث14470)

عن ابن عمر رضى الله تعالى عنه عن النبي ﷺ عامل خيبر بشطرما يخرج منها من ثمر أوزرع(بخارى باب المزارعه بالشطر)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفحے پر زمین دی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر سے اس کے پھل اور نااج کی پیداوار کے آدھے حصے پر معاملہ کیا۔

خراج مقاسمہ: جو بزرگ بٹائی اور حصے پر زمین دینے کے حق میں نہیں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ خیبر کا یہ معاملہ دراصل بٹائی والا معاملہ نہیں ہے۔ خراج مقاسمہ کی بات ہے، یعنی سرکار نے پیداوار کا کچھ حصہ مقرر کر کے ان سے سرکاری لگان طے فرمائی ہے اور یہ سب کچھ محض ازراہ کرم کیا تھا ورنہ چاہتے تو ساری پیداوار ہی ان سے وصول کر لیتے۔

ومعاملة النبيﷺ أهل خيبر كان خراج مقاسمه بطريق المن والصلاح(هداية كتاب المرزرعه جلد4)

خراج مقاسمہ: یہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک سالانہ ٹیکس دوسرا پیداوار میں سے کچھ حصی (زیلعی) احناف کے نزدیک خیبر کا معاملہ موخر الذکر کی ایک صورت ہے۔ مگر یہ صورت "قفیز الطحان" کی نہ سہی، تاہم اس کی روح اس میں موجود ہے یا مجہول اور معدوم ہونا ۔۔۔ اور اس سے خلاص مشکل ہے۔ الا بحیلۃ

ولأنه استيجار ببعض مايخرج من عمله فيكون في معنى قفيز الطحان والآن الأمر مجهول أو معدوم وكل ذلك مفسد (هداية ايضا)

وقال التهانوي في إعلاءالسنن :وتأويله بخراج المقاسم ونحوه لايخلو من تحمل مستغنى عنه(اعلاء السنن)قال معشيه :وقول بعض الأجانب إنه محمول على التبرع من جانبين ليس عن التاويل في شيء بل هو كتحريف الكلام لايتحله نص الحديث ولايساعد النظر انتهى

زمین اہل خیبر کی ملکیت ہو یا سرکار کی، بہرحال جو معاملہ طے ہوا ہے وہ پیداوار کی بٹائی کی بنیاد پر ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ بٹائی پر دینا جائز ہے۔ جن روایات میں "مزارعت" کی منع آئی ہے، وہ مجمل ہیں یا مفصل ہیں، جو مجمل ہیں وہ مفصل کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مفصل روایات میں "حصے" کے ساتھ کہیں زمین کے ایک مخصوص حصے کی پیداوار کی شرط بھی مذکور ہے کہ حصے کے ساتھ یہ بھی لیں گے، کہیں اپنے لیے زمین کے مخصوص زرخیز حصے کی شرط مذکور ہے۔ بہرحال یہ استثناء مزارع کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ ایسی صورت مٰں ہم بھی اسے ناجائز کہتے ہیں۔

امام ابن الجوزی منع کی حدیثوں کے جواب میں تین باتیں ذکر کرتے ہیں (1) بعض وجوہ کی بنا پر ان کے درمیان جھگڑے ہوتے تھے (2) مالک زمین کا زرخیز حصہ اپنے لیے خاص کر لیتا تھا (3) یہ نہی نہی تنزیہی ہے، یعنی مروت اسی میں ہے کہ حصے پر دینے کے بجائے بخششیں کر دے۔

وَالْجَوَابُ عَنْ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ:

الْأَوَّلُ: أَنَّهُ إنَّمَا نَهَى عَنْهُ لِأَجْلِ خُصُومَاتٍ وَقَعَتْ بَيْنَهُمْ..... الثَّانِي: أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ بِمَا يَخْرُجُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ، وَهُوَ جَوَانِبُ الْأَنْهَارِ، وَمَا عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَذَلِكَ يُفْسِدُ الْعَقْدَ.

الثَّالِثُ: أَنَّهُ مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْزِيه

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اسے "بیع الطعام بالطعام" سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ بیع الطعام بالطعام نہیں ہے بلکہ ایک طرف محنت ہے، دوسری طرف زمین ہے۔

شوافع کے نزدیک اہل خیبر سرکار کے غلام تھے۔ زمین سے جو پیدا ہوا اور اس میں سے جو ان کو دیا گیا، سب سرکار کا تھا۔ گویا کہ ان کے نزدیک جو بات طے ہوئی وہ "معاملے" کی صورت نہیں تھی۔ مگر روایات کے الفاظ اس کے متحمل نہیں ہیں۔ غلاموں سے معاملہ نہیں کیا جاتا، ان سے مناسب خدمات لی جاتی ہیں اور ان کے مناسب مصارف کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات نہیں ہے، بلکہ معاہدہ ہے

عامل خيبر بشطرمايخرج منها وفي رواية :أن يكفو عملها ولهم نصف الثمر (بخاری)

اگر وہ غلام ہوتے تو ان کو جلا وطن نہ کیا جاتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔

عن أبي جعفر عن النبي ﷺ أنه أعطى خيبر بالنصف قال فكان أبوبكر وعمر وعثمان ليطون أرضهم بالثلث(كتاب الخراج)

نجی زمینیں بھی بٹائی پر دی گئیں: خیبر کا معاملہ، خراج مقاسمہ سہی، لیکن نجی اور غیر سرکاری زمینوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بٹائی پر دیا جانا خود اس امر کا ثبوت ہے کہ بٹائی پر زمین دینا بہرحال جائز ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قالت الأنصار للنبي صلى الله عليه وسلم: أقسم بيننا وبين إخواننا النخيل، قال: «لا» فقالوا: تكفونا المئونة، ونشرككم في الثمرة، قالوا: سمعنا وأطعنا(وراه البخارى كتاب الحرث والمزرعة)

انصار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں کے درمیان کھجور کے درخے تقسیم کر دیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا (اس پر مہاجرین) نے کہا کہ : محنت تم کرو، پھلوں میں ہم تمہیں شریک کر لیں گے، انصار نے کہا کہ : آمنا وصدقنا

مہاجرین کو انصار نے جگی بھی دی، اور مال میں سے حصہ بھی دیا۔ اب وہ چاہتے تھے کہ مستقل تقسیم ہو جائے۔ اس موقعہ پر مندرجہ بالا گفتگو ہوئی۔ بہرحال نجی زمینوں کی مزارعت پر دینے کی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بے ہوئی۔ ظاہر ہے کہ یہ خراج مقاسمہ کی تہمت اور تاویل سے بھی پاک ہے اور یہ سارا معاملہ نجی اراضی کا ہے۔

بلکہ بٹائی کا یہ سلسلہ گھر گھر میں رائج تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنھم کی موجودگی میں ہوا:

عن أبي جعفر قال مابالمدينة أهل بيت هجرة إلايزرعون على الثلث والربع(بخاري كتاب والمزارعة)

یہ معاملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز ، قاسم، عروہ بھی فرماتے رہے تھے۔

زارع علي وسعدبن مالك وعبدالله بن مسعود عمربن عبدالعزيز والقاسم والعروة(بخاري)

بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پورا خاندان، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سارا کنبہ مزارعت پر زمینیں دیا کرتے تھے۔

وآل أبي بكروآل عمروآل علي(بخارى) قال عمروبن عثمان :سمعت أبا جعفر محمدبن علي يقول :آل أبي بكروآل عمروآل على يدفعون أرضيهم بالثلث والرابع رواه عبدالرزاق باب المزراعة)

حضرت عبدالرحمن بن یزید، حضرت ابن سیرین اور حضرت عمر خود کیا کرتے تھے:

وابن سيرين وقال عبد الرحمن بن الأسود: «كنت أشارك عبد الرحمن بن يزيد في الزرع» وعامل عمر، «الناس على إن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر، وإن جاءوا بالبذر فلهم كذا»(بخارى)

حضرت حسن بصری، حضرت ابراہیم ، عطار، حکم، زہری، قتادہ اور معمر کا بھی یہی نظریہ تھا (بخاری)

حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابن مسعود ٹبائی پردیا کرتے تھے۔

قال موسى بن طلحة:رأيت سعدبن أبي وقاص وعبدالله بن مسعود يعطيان أرضهما بالثلث والربع (كتاب الخراج لابي يوسف)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ نجران کو تحریر فرمایا کہ میں نے یعلی کو نصیحت کی ہے کہ وہ مسلمانوں سے اچھا سلوک کرے اور زمین کی پیداوار میں سے نصف عطا کیا کرے۔

كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَهْلِ نَجْرَانَ: «أَنِّي قَدِ اسْتَوْصَيْتُ يَعْلَى بِمَنْ أَسْلَمَ مِنْكُمْ خَيْرًا، وَأَمَرْتُهُ أَنْ يُعْطِيَ نِصْفَ مَا عَمِلَ مِنَ الْأَرْضِ، (رواہ عبدالرازاق)

ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ سے یہ شکایت کی کہ فلاں شخص نے زمین لے کر اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے۔ یعنی بٹائی پر کام کرتا ہے، متعلقہ شخص نے جواب دیا کہ نصف پر زمین لی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ فَوَشَى بِرَجُلٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَخَذَ أَرْضًا يَصْنَعُ بِهَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَخَذْتُهَا بِالنِّصْفِ أُكْرِي أَنْهَارَهَا، وَأُصْلِحُهَا، وَأُعَمِّرُهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: «لَا بَأْسَ» وَكَرِيُ الْأَنْهَارِ: حَفَرُهَا(راہ عبدالرزاق حدیث14471)

صحیح بخاری میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور حکومت تک زمینیں ٹھیکے پر دی جاتی تھیں۔

ان ابن عمر كان يكرى مزارعه على عهد النبى ﷺ وابى بكر وعمر وعثمان وصدارا من امارة معاوية (بخاري ومسلم)

قدعلمت إناكنا نكري مزارعنا على عهد رسول ﷺ الحديث (بخارى)

أخاه خيرله من أن ياخذ شيئامعلوما(بخاري)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا بلکہ فیاضی اور مروت کی طرف توجہ دلائی تھی۔

قال ابن عباس :إن النبيﷺ لم ينه عنه ولكن قال إن يمنع أحدكم أخاه خيرله من أن ياخذ شيئا معلوما (بخاري)

حضرت زید بن ثابت قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اصل میں حضرت رافع بات نہیں سمجھے، دو شخص لڑ پڑے تو آپ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر ٹھیکے پر دیا ہی نہ کرو۔ انہوں نے بس "ٹھیکے پر دیا نہ کرو" سنا۔

يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: مِنَ الْأَنْصَارِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، قَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ [ص:258] هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ»، زَادَ مُسَدَّدٌ، فَسَمِعَ قَوْلَهُ: «لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ»(رواه ابو داؤدو الطحاوي)

بہرحال خود کاشت سے زیادہ زمین اپنے پاس رکھنا برا نہیں بشرطیکہ اس کو آباد رکھنے کے سامان کر سکے، وہ ٹھیکے پر دے کر یا حصے پر۔ ہاں اگر اسے ویران رکھ چھوڑے تو پھر حکومت کو اس میں مداخلت کرنے کا حق ہوتا ہے۔ جن روایات سے منع معلوم ہوتی ہے، وہ مجمل ہیں اور جو مفصل ہیں ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ منع کی وجہ زمین کا ضرورت سے زیادہ ہونا نہیں ہے بلکہ مالک زمین اور کاشتکار کا باہمی نزاع ہے یا فریقین میں سے کسی ایک کی زیادتی اور دھاندلی اس کا سبب ہے۔ اگر بالکلیہ ممنوع ہوتی تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تعامل اس کے خلاف نہ ہوتا حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اور دوسرے صحابہ و تابعین اپنی اپنی زمینیں ٹھیکے اور حصے پر دیتے رہتے تھے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری طرزِ عمل ہے۔

وهوآخر ماثبت عنه ﷺواستمر عليه إلى أن قبضه الله تعالى وعمل به الخلفاء الرشدون وجمهور الصحابه والتابعين ولايجوز حمل حديث رافع على مايخالف ....الإجماع (اعلاء السنن)

قال أبو يوسف :ولاأعلم أحدا من الفقها ء اختلف في ذلك خلا هؤلاء  الرهط من أهل الكوفة الذين وصف لك(كتاب الخراج)