ان کے نام اسلام کا پیام

﴿لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾... سورة يونس

صحیح انتخابات وہ ہوتے ہیں جب لوگ آپ اپنی مرضی سے کسی کو انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن مغربی جمہوریت کے اس دورِ انتخاب میں تلوار کی نوک اور ڈنڈے کی چوٹ کے ذریعے لوگوں سے جبرا کہلوایا جاتا ہے کہ: کہو! میں اچھا، میری پارٹی اچھی، میرے امیدوار اچھے، میرا منشور اچھا۔

اگر کبھی بڑا کرم کیا تو پھر دھونس اور دھاندلی کے بجائے سکوں کی کھنک، سونے کی چمک، اور مال و دھن کی دمک دکھا کر، للچا کر اور برما کر عوام کے حلقوم سے اگلواتے ہیں کہ نعرہ لگاؤ: کہ میرے جیسا جہاں میں کوئی اور نہیں، کہیں نہیں، کبھی نہیں۔

اس سے بھی کام نہ چلا تو پھر قوم کو، پرائی نہیں، اپنی قوم کو الو بناتے ہیں، اندھیرے میں رکھتے ہیں، سبز باغ دکھاتے ہیں، عوام اور خاص کی آنکھوں میں دھول جھونک کر یوں ان کو بے قابو کر دیتے ہیں کہ وہ سیدھے سادے لوگ بول اٹھتے ہیں کہ آیا! یہ کیسا عمدہ نجات دہندہ اللہ نے بھیجا ہے۔ لوگو! بس اس کا دامن تھام لو، اس کے پاؤں پکڑ لو، ان کی بلائیں لو!

بہرحال جوں توں کر کے جمہوریت کے یہ نام نہاد انتخابات آخر کوئی جیت ہی لیتا ہے، لیکن عموما یہ انتخابات جیتنے والوں کے لیے بہت کم ہی مبارک ثابت ہوتے ہیں۔

انتخابات جیت لینا اصل میں ملکی اور ملی ذمہ داریوں قبول کرنے کے لیے ایک اجازت نامہ ہے، حقیقی جیت کا دارومدار دراصل انہی مفوضہ ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے پر ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سی جماعتیں واضح اور بھاری اکثریت سے جیت جانے کے باوجود میدان عمل میں آ کر جیتی ہوئی بازہ ہار دیتی ہیں اور اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔

ایک تو یہ لوگ حقیقتا اپنے دعووں میں مخلص نہیں ہوتے، باتیں کرتے ہیں کہ لوگوں کا اعتماد حاصل ہو، لیکن عوام ان کے سامنے نہیں ہوتے بلکہ اب بھی اپنا ذاتی مستقبل ان کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے اقتدار کا یہ سارا پیریڈ وہ ملکی استحکام کے بجائے اپنی کرسی کے استحکام کے لیے تج دیتے ہیں اور اس سووائے خام میں اس قدر وارفتہ ہو رہتے ہیں کہ اپنے سر پیر کا ہوش رہتا ہے نہ ملک و ملت کا۔

دوسرا یہ کہ : انہوں نے لوگوں سے جیسے کہلوایا ہے، واقعتا وہ ویسے ملک و ملت کی قیادت اور امامت کے اہل نہیں ہوتے، اس لیے اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہیں تو بھی یہ "جہانبانی" ان کے بس کا روگ نہیں ہوتی۔ بہرحال جو لوگ جس حال میں اور جس طرح مقامِ رفیع پر قابض ہو جاتے ہیں، پہلے ہی روز اسلام ان کے نام اپنے ازلی پیامات، ابدی پیغامات اور سرمدی الہامات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے کہ اب آپ کی ذمہ داریوں کی نوعیت کیا ہے اور آپ اس وقت کس مقام پر کھڑے ہیں؟

سب سے پہلے اسلام ان سے جو بات کہتا ہے وہ یہ ہے کہ سیاست دین سے الگ کسی شے کا نام نہیں ہے۔ جو سیاست دین سے جدا ہو جاتی ہے وہ چنگیزیت ہو کر رہ جاتی ہے، سیاست نہیں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سیاست پہلے انبیاء کے ہاتھ میں رہی اب (میرے) خلفاء کے ہاتھ میں رہے گی۔

عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون

اس سے معلوم ہوا کہ سیاست بے خدا لوگوں کی میراث نہیں ہے بلکہ پاک ہستیوں کی دنیا ہے، بلکہ شاطروں کی یہ واویلا کہ علماء کو کیا لگے کہ وہ سیاست میں حصہ لیں، اصل میں ناسمجھی کی باتیں ہیں یا سیاست کو صلحاء سے خالی رکھنے کی ایک شاطرانہ سازش ہے۔

دوسرا یہ عقدہ بھی حل ہو گیا کہ خلافت کا یہ مفہوم بھی غلط ہے کہ انتخاب کے ذریعے جو حکومت تشکیل پاتی ہے، اسے خلافت کہتے ہیں، اصل میں خلافت پیغمبر کی جانشینی کا نام ہے، جو حکومت علی منہاج نبوت نظام سیاست کو برپا کرے گی، اسے خلافت کہا جائے گا، خواہ وہ آمرانہ طرز پر نمودار ہو یا انتخاب کے ذریعے۔ انتخاب مروجہ طریقوں پر ہو یا چند دیندار افراد کی کمیٹی کے ذریعے یہ جوئے شیر لائی جائے، اگر کسی مملکت کا بے خدا نظامِ مملکت عوام کی خواہشات پر مبنی ہو یا منتخب نمائندوں کی صوابدید کی اساس پر قائم ہو، وہ کیسا ہی اچھا کیوں نہ ہو، اسے اصطلاحی خلافت کہنا صحیح نہیں ہے۔ نہ اسے اصلی معنوں میں "خلیفہ" کہنا مناسب ہوتا ہے۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو نیک دل مزدوروں کی طرح کام کر رہے تھے، ان کو دیکھ کر رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

هؤلاءولاة الأمربعدي(البداية والنهاية لابن كثير)

"یہ وہ لوگ ہیں جو میرے بعد حکومت کے وارث ہوں گے"

غرض یہ تھی کہ میرے خلیفے صرف یہ لوگ اور ان جیسے پاک باز لوگ ہوں گے اور اسے ہی خلافت کہا جائے گا، جس کے وارث ایسے باخدا اور مخلص حضرات ہوں گے جو مسجد نبوی کی طرح ملک و ملت کی تعمیر میں مصروف رہیں گے۔ چنانچہ قرآن حکیم نے بھی ان قدسی صفات صحابہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌ ﴿٤١﴾... سورةالحج

"یہ لوگ (ایسے ہیں کہ) کہ ہم انہیں زمین میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ (بھلے ہی کام کریں گے) نمازیں پڑھیں گے اور زکوۃ دیں گے اور امر بالمعروف کریں گے اور نہی عن المنکر کا (فریضہ) انجام دیں گے اور انجام (سب) کا اللہ ہی (کے ہاتھ) میں ہے۔"

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں:

یہ ہے اصلی اور سچی تصویر اسلامی طرز حکومت کی، گورنمنٹ اگر مسلمانوں، سچے مسلمانوں کی قائم ہو جائے تو مسجدیں آباد اور پر رونق ہو جائیں۔ ہر طرف سے صدائیں تکبیر و تہلیل کی گونجا کریں، بیت المال کے ہوئے کوئی ننگا بھوکا نہ رہنے پائے۔ عدالتوں میں انصاف بکنے کی بجائے ملنے لگے، رشوت، جعلسازی، دروغ حلفی کا بازار سرد پڑ جائے۔ امیر کو کوئی حق، کوئی موقع، غیر کی تحقیر کا، ایذا کا باقی نہ رہ جائے، غیبتیں ، بدکاریاں، چوریاں، ڈاکے خواب و خیال ہو جائیں، مہاجنی کوٹھیوں، سودخوار ساہو کاروں، بنکوں کے ٹاٹ الٹ جائیں، گوئیے اور نچنئے اگر تائب نہ ہوں شہر بدر کر دیے جائیں۔ سینما، تھیٹر، تمام شہوانی تماشاگاہوں کے پردوں کو آگ لگا دی جائے۔ گندہ، فحش، افسانہ و شاعری کی جگہ صالح و پاکیزہ ادیبات لے لیں۔ غرض یہ کہ دنیا دنیا رہ بھی نمونہ جنت بن جائے۔

﴿إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ﴾ (اگر زمین میں ہم ان کو حکومت دے دیں) کہہ کر یہ بات بھی واضح فرما دی کہ خدا کی عطا کردہ جو حکومت ہوتی ہے، وہ صرف خدا کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے، ﴿أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿١٠٥﴾... سورةالانبياء

اور جو حکمران اس کے برعکس چلتے ہیں وہ گویا کہ ملک اور قوم کے چور ہوتے ہیں جو دھونس، دھاندلی یا فریب سے در آتے ہیں اور استحصالی ہتھکنڈوں کے ذریعے ملک پر قابض ہو جاتے ہیں، خواہ وہ بذریعہ انتخاب کیوں نہ آئے ہوں اسے اسلامی زبان میں ملک عضوض (جابر حکمران) کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ کی زبان میں یہ سٹیج خلافت کے بعد کی سٹیج ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

عالمِ اسلام میں حکومت کا آغاز "نبوت اور رحمت" کی شکل میں ہوا، اس کے بعد "خلافت اور رحمت" کے طور پر جاری رہے گی۔ پھر "ملک حضوض" (لیچڑ حکمران) کا دور آئے گا۔ پھر جبر و استبداد اور فساد فی الارض کا نظام برپا ہو گا۔ جس میں عیاشی کی جائے گی۔

عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن هذا الأمر بدأ نبوة ورحمة ثم يكون خلافة ورحمة ثم ملكا عضوضا ثم كان جبرية وعتوا وفسادا في الأرض يستحلون الحرير والفروج والخمور يرزقون على ذلك وينصرون حتى يلقوا الله رواه البيهقي في شعب الإيمان

شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ نبوی دور تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ختم ہو گیا۔ خلافت کا وہ دور جس میں تلوار کا دخل نہیں رہا وہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سانحہ کے ساتھ چل دیا۔ صرف خلافت (جس میں تلوار بھی میان سے نکل آئی) وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دستبرداری کے ساتھ جاتا رہا اور ملک عضوض بنو امیہ کے ساتھ صحابہ کے جھگڑوں سے شروع ہو کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اختتام پذیر ہوا، جبر و استبداد عباسیہ مملکت کی سلطنت بنی، کیونکہ قیصر و کسریٰ کے رنگ میں انہوں نے بساط حکومت بچھائی۔

اقُول فالنبوة انْقَضتْ بوفاة النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، والخلافة الَّتِي لَا سيف فِيهَا بمقتل عُثْمَان، والخلافة بِشَهَادَة عَليّ كرم الله وَجهه وخلع الْحسن رَضِي الله عَنهُ، وَالْملك العضوض ومشاجرات الصَّحَابَة بني أُميَّة ومظالمهم إِلَى أَن اسْتَقر أَمر مُعَاوِيَة، والجبرية، والعتو خلَافَة بني الْعَبَّاس فَإِنَّهُم مهدوها على رسوم كسْرَى وَقَيْصَر. (حجة البالغه:ص329)

ملک عضوض کی تشریح میں شراح حدیث لکھتے ہیں کہ : ایسے بادشاہ جو کتے کی طرح ایک دوسرے کو کاٹنے کو دوڑیں۔

أي يعض بعض أهله بعضا كعصفن الكلاب(مشكوة بين السطور)

قیادت دراصل ملک و ملت کی خدمت کا ایک مقتدر انداز ہے، ظاہر ہے کہ اسلام اور ملک و ملت کی خدمت کی ذمہ داری کا تاج پھولوں کا تاج نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ کانٹوں کی ایک سیج ہے، جس کی وجہ سے چین و قرار روٹھ جاتے ہیں، ایسی صورت میں کوئی کاہے کو اس کےلیے بدحواس ہو گا اور کیوں وہ کسی کے گلے پڑے گا ۔۔۔؟ چنانچہ پہلے روز ثقیفہ بنی ساعدہ میں جب خلافت کی ذمہ داری کی بات آئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام نامی پیش کیا۔ ادھر حضرت ابوعبدیہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اظہار خیال کا موقعہ ملا تو انہوں نے اپنے بجائے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام پیش کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ (بخاری)

یہی کیفیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تھی، تاریخ طبری سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس منصب کے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ (تاریخ طبری)

کیونکہ وہ امامت اور قیادت کی گرانبار ذمہ داریوں کی سنگینی سے بخوبی واقف تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ گو اس کا مزہ لذیذ ہے تاہم انجام مذامت ہے۔

ستكون ندامة يوم القيمة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة(بخارى)

اس کے برعکس جو مال و جاہ پر جان چھڑکتے ہیں، جن کے سامنے صرف اپنے نفس و طاغوت کی پوجا اور غلامی ہے اور جو ملک و ملت کی خدمت کے بجائے اسے دسترخوان سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں وہ اقتدار کی ہڈی پر کتوں کی طرح جھپٹیں گے نہیں تو اور کیا کریں گے؟ بس اسی ذہنیت کی نشاندہی کے لیے اقتدار کے ان لالچیوں کو "ملک عضوض" کہا گیا ہے۔ صدق اللہ ورسولہ

مَلِک کا لفظ پسندیدہ نہیں سمجھا گیا، کیونکہ مَلِک خدا کا غلام بننے میں فخر محسوس نہیں کرتا بلکہ خدا بن کر رہے بغیر اس کی "انا" کی تسکین کے سامان نہیں ہوتے۔ اس لیے جب ایک شخص دور سے دیکھ کر کانپ گیا تو آپ نے فرمایا: گھبراؤ نہیں! میں مَلِک (بادشاہ) نہیں ہوں۔

هون عليك فإني لست بملك(صحيح بخاري)

قرآن نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی کہا ہے:

﴿وَمَا أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ‌...٤٥﴾...سورة ق

صحابہ رضی اللہ عنہم بھی اس کے تصور سے وحشت محسوس کرتے تھے چنانچہ سفیر روم مدینہ منورہ میں پہنچ کر جب لوگوں سے پوچھتا ہے کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہے؟ تو وہ بول اٹھے کہ ہمارا بادشاہ تو کوئی نہیں، ہاں ہمارا ایک امیر ضرور ہے۔

مالنا ملك بل لنا أمير

شہنشاہ کا لقب اسلام میں بدترین جراءت ہے۔

أخنى الأسماء ملك الأملاك شهنشاه(بخاري)

کیونکہ یہ خدا کی شان ہے۔

﴿مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾... سورةالناس

قیامت میں ان جبابرہ اور جعلی شہنشاہوں کو خدا آواز دے گا کہ اب کہاں ہو؟

أنا الملك أين ملوك الأرض(صحيحين)

أنا الملك أين الجبارون أين المتكبرون(مسلم)

اسی طرح اسلام نے سیاست کو جس طرح اسلامی معاشرہ کا ایک اہم باب قرار دیا ہے اسی طرح طرزِ جمہوریت کے لیے بھی ایک اچھوتا تصورِ جمہوریت پیش کیا ہے۔

عوام کی خواہشات پر مبنی حکومت، اسلام کی نگاہ میں جمہوریت نہیں ہے، حیوانیت ہے، بلکہ اسلام میں اس کے بنیادی عناصر یہ ہیں۔

قانون سے بالاتر کوئی نہیں، عوام اور خواص، رعایا اور بادشاہ، سب یکساں ہیں۔ انسانی حقوق میں بھی سب یکساں ہیں۔ گورے اور کالے، عربی اور عجمی میں کوئی امتیاز نہیں۔ حکمران رعایا کا راہنما ہوتا ہے، مالک نہیں ہوتا، اس لیے اسے حکمران کے فیصلے اور تعامل کو چیلنج کرنے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے۔

غیر منصوص امور میں یا منصوص امور کی تکمیل کے لیے طریقِ کار کے سلسلے میں شورائیہ (پارلیمنٹ) سے مشورہ لینا ان کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

اسلامی پارلیمنٹ کے افراد کے لیے "صالح اور اہل الرائے" ہونا ضروری ہے۔

یہاں "اکثریت" کی بنیاد پر فیصلے کی بات نہیں ہوتی، دلائل کی بنا پر ہوتی ہے۔

یہاں پر اپوزیشن کا الگ کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ پوری پارلیمنٹ مین ہر رکن اسمبلی حزب مخالف کا پارٹ ادا کرتا اور کر سکتا ہے۔ کیونکہ شورائیہ میں بات "سمجھانے" کی غرض سے کی جاتی ہے اور دلائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے، اس لیے سربراہ مملکت بھی کسی ایک شخص کی وزنی دلیل کی بنا پر اکثریت کے فیصلے کو رد کر سکتا ہے۔

یہاں انتخابات پارٹی بیس پر نہیں لڑے جاتے اور نہ انتخاب کے اس محاربانہ انداز کے لیے اسلام میں کوئی گنجائش ہوتی ہے۔ بلکہ سربراہِ مملکت ، حسبِ ضرورت مشیروں کی ایک صالح اور اہلِ بصیرت ٹیم کا خود انتخاب کرتا ہے۔

سربراہِ مملکت سمیت تمام ارکانِ شورائیہ کتاب و سنت کے پابند ہوتے ہیں، ذہنا اور عملا بھی، ایسے صالح اور صاحبِ فراست حضرات کے لیے متعین میعاد کا تصور غلط اور بالکل غلط ہے۔ اس لیے انہیں اپنی کرسی کے بچانے اور استحکام کی فکر نہیں رہتی وہ یکسو ہو کر ملک و ملت کی خدمت اور دینِ حق کی نشر و اشاعت کے لیے ہمیشہ محنت کرتے ہیں، ہاں اگر وہ کفر کا ارتکاب کریں۔ غداری کے مرتکب ہوں یا اس کی وجہ سے اسلامی اخلاق اور مستقبل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہو جائے تو ان کو علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ اسلامی جمہوریہ ہے جس کا اسلام احترام کرتا ہے۔

وقت کے حکمرانون کے نام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت نامے بھیجے تھے اور اسلامی سیاسیات کے سلسلے میں کچھ رہنما اصول اور مناسب امور کا بھی ان میں ذکر فرمایا ہے، یہاں پر ان کا ایک ملخص ان حضرات کی خدمت میں ہم پیش کرنا چاہتے ہیں، جو حالیہ انتکابات جیت کر بساط اقتدار پر تشریف فرما ہوئے ہیں۔

قیصر روم (ہرقل) کے نام جو دعوت نامہ بھیجا گیا تھا، اس میں ان سے ایک یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ نے اسلام قبول نہ کیا تو آپ کی دیکھا دیکھی جو عوام آپ کے پیچھے چلیں گے۔ ان کا وبال بھی آپ پر پڑے گا۔

فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ(بخاري)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خسرو پرویز بن ہرمز شاہ فارس کے نام بھی یہی تحریر فرمایا:

فإن أبيت فإن عليك إثم المجوس(نصب الرايه للزيلعى)

اس لیے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ آج جو کچھ کریں گے اور کہیں گے اس کے جواب دہ بھی وہ خود ہوں گے اور جو عوام ان کے بھرے میں آ جائیں گے، ان کے بدنتائج میں سے ان کو بھی وافر حصہ ملے گا۔

آخر میں قرآنی الفاظ میں یہ لکھا کہ اللہ کے سوا عبادت اور غلامی اور کسی کی نہ کریں، نہ کسی شے کو اس کی جناب میں شریک بنائیں اور نہ ہی کوئی کسی کو اپنا رب بنائے۔

أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله (صحيح البخاري)

رب بنانے کے معنی ہیں کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی سند دیکھے بغیر محض کسی فرد کی ذاتی صوابدید کو "دین" بنا لیا جائے اور اپنے کو اس کی غلامی میں دے کر یوں کھو جائے کہ ایمانی تحریک اور ضمیر دم بخود رہ جائیں۔ جیسا کہ آج کل حکمرانوں کے چمچوں اور کڑچھوں کا حال ہے۔۔۔۔۔

حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تلقین نے نوعِ انسانی کو انتہائی سربلند کر دیا ہے بشرطیکہ وہ اس کا احساس کریں۔ افسوس! آج کل پارٹی لیڈر اور سیاسی سربراہانِ مملکت کے ذیلی لوگ کچھ اسی قسم کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس سے سرکارِ مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں نجات دلانے کی کوشش فرمائی ہے۔

مقوقس کے نام بھی دعوت نامہ بھیجا اور یہ والا نامہ حضرت حاطب بن ابی بلتعۃ رضی اللہ عنہ لے کر گئے تھے، جب وہ اس کے دربار میں پہنچے تو شاہِ مصر کے سامنے یہ تقریر بھی کی۔

دیکھئے جناب! آپ سے پہلے بھی ایک شخص (فرعون) تھا جس نے یہ ڈینگ ماری تھی کہ وہ "رب اعلیٰ" ہے تو اس کو خدا نے دونوں جہان کے عذاب میں دھر پکڑا، اس سے بدلہ لیا او اس کو سزا دی۔ سو آپ کے لیے یہی بہتر ہے کہ آپ دوسرے سے سبق لیں۔ اس کے بجائے کہ آپ کسی کے لیے سامان عبرت بنیں۔

اعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ كَانَ قَبْلَك رَجُلٌ زَعَمَ أَنَّهُ الرَّبُّ الْأَعْلَى، فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى، فَانْتَقَمَ بِهِ، ثُمَّ انْتَقَمَ مِنْهُ، فَاعْتَبِرْ بِغَيْرِك، وَلَا يَعْتَبِرْ غَيْرُك بِك (زادالمعاد ونصب الرية وسيرت حلبية)

بہرحال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی یہ تقریر انتہائی بصیرت افروز ہے۔ اس کے بعد بھی جن کی آنکھیں نہیں کھلتیں، یقینا حالات اور نتائج کی ترشی سے ان کی آنکھیں ضرور کھل جائیں۔ جیسا کہ ابھی ابھی ہم نے اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔ بہرحال اس نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو ٹرخا کر واپس کر دیا، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی معذرتوں کی تفصیل ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس خبیث نے بادشاہت کی وجہ سے ایسا کیا ہے لیکن یہ بادشاہت بھی باقی نہیں رہے گی۔

فقال"ضَنَّ الْخَبِيثُ بِمُلْكِهِ، وَلَا بَقَاءَ لِمُلْكِهِ"(نصب الراية)

جو لوگ اپنے اقتدار کی خاطر اسلام کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتے ہیں عموما ان کا اپنا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

کسریٰ کے نام لکھا:

أسلم تسلم(نصب الرايه)

"خدا کے حضور جھک جا، بچ رہے گا۔"

سلامتی کی راہ یہی ہے کہ انسان خدا کے سامنے بندہ بے دام بن جائے، ورنہ انجام بخیر مشکل ہے اور حکمرانوں کی یہ کج روی پوری قوم کے لیے نحوست بن جاتی ہے۔

ایک دعوت نامہ کسریٰ کے نام بھی ارسال کیا تھا مگر اس بدنصیب نے اس کو پھاڑ ڈالا تھا اور اس کے نتیجہ میں خود بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مرا، روایات میں آتا ہے کہ کسریٰ نے یمن کے گورنر باذان کو حکم دیا کہ العیاذباللہ وہ حضور کو گرفتار کر کے ان کے پاس بھیج دے۔ چنانچہ وہ آدمی اس غرض کے لیے مدینہ منورہ پہنچے۔ فارسیوں جیسی ان کی وضع قطع اور تراش سے تھی، ڈاڑھی منڈی ہوئی، مونچھیں بڑھی ہوئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا، تمہارا ناس ہو، اس وضع قطع کا تمہیں کس نے حکم دیا ہے؟ کہا: ہمارے رب (آقا) نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تو میرے آقا (رب) نے داڑھی بڑھانے اور مونچھین کترانے کا حکم دیا ہے۔

وكانا على زي الفرس من حلق لحاهم وإعفاء شواربهم، فكره النظر إليهما، ثم قال لهما: ويلكما، من أمركما بهذا؟ قالا: أمرنا ربنا، يعنيان كسرى، فقال رسول الله : ولكن أمرني ربي بإعفاء لحيتي وقص شاربي، (سيرة طيبه ص378ج3)

غور فرمائیے! یہ غیر مسلم سفیروں کے سلسلے کی بات ہے، کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے داڑھی منڈے حکمرانوں، سفیروں، حکام اور رہنماؤں کو دیکھنا پسند کرتے یا اگلے جہان ان کو دیکھنا پسند کریں گے؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوت نامہ یمامہ کے رئیس ہوذہ کے نام بھی ارسال فرمایا تھا کہ خدا کے حضور جھک کر محفوظ ہو جا، جو کچھ تیرے پاس ہے تیرے ہی پاس رہے گا۔

أسلم تسلم واجعل لك ماتحت يديك(زيلعى وابن القيم)

مگر اس کمبخت کو ایمان کے بجائے سودے کی سوجھی کہ میرے ساتھ اقتدار کا کچھ حصہ طے کر لیجئے! آپ کے پیچھے چل پڑوں گا۔

فاجعل إلى بعض الأمر اتبعك(زيلعى وابن القيم)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تباہ ہوا آپ بھی اور اس کی سیادت بھی۔

بادوبادمافي يديه(ايضا)

افسوس! اسمبلی ہال میں قدم رکھتے ہی عموما کچھ اس قسم کے سودے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ جن کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں رہتا۔ مگر لوگ عبرت بہت کم پکڑتے ہیں۔ انا للہ

اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی حکمران، خدا کی عبدیت اختیار کر لے تو اس کا اقتدار اس کے پاس رہنے دینا چاہئے! چنانچہ عمان کے ارباب اقتدار جیفر اور عبد دونوں کے ساتھ ایسا ہی وعدہ کیا گیا، جو پورا بھی کیا گیا۔

إن أقررتماوليتكما.....فأسلم تسلم ويستعجلك على تومكما(اجلى)

غسانی سے بھی یہی فرمایا میں آپ کو ایمان کی طرف دعوت دیتا ہوں، آپ کی بادشاہت آپ کے پاس رہے گی۔

إني أدعوك أن تومن بالله وحدة لاشريك له يبقى لك ملكان(نصب الرايه وازادا المعاد)

مگر اس پر وہ خفا ہوا اور بولا کہ کون میرا ملک مجھ سے چھین سکتا ہے۔ میں اس کا مقابلہ کروں گا یمن میں جا کر بھی پناہ لی تو وہاں سے بھی اسے گرفتار کر کے لاؤں گا۔

فقوأة ثم رمى به وقال ينزع منى ملكى وأناسائر إليه ولوكان باليمن جئته على بالناس (نصب الرايه وزاد المعاد وسيرت طيبه)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس کی سلطنت تباہ و برباد ہوئی۔

باد ملكه (نصب الرايه)

چنانچہ سئہ 636ھ میں غسانی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بہرحال جو لوگ اپنے اقتدار اور کرسی کے تحفظ کے لیے اسلام اور اس کی اطاعت سے اعراض کرتے ہیں، ان کا بہرحال انجام رسوائی اور ناکامی کے سوا کبھی کچھ نہیں نکلا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اعراض کی یہ نحوست حکمرانوں، نوابوں، بااثر جاگیرداروں اور رؤسا کو بالخصوص جلدی گھیر لیتی ہے اور وہ سامانِ عبرت بن کر جہانِ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور یہی کچھ آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اس لیے اربابِ اقتدار اور ان کے حواریوں کو چاہئے کہ غفلت میں نہ رہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب اس کی افتاد ان پر آ پڑے۔

سرداران ایلہ کے نام خط مین تھریر فرمایا کہ اگر خشکی اور تری (بحر و بر) میں امن چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

فإن أردتم أن يأمن البر والبحر قاطع الله ورسوله(بلاغ المبين)

چنانچہ وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور جزیہ دے کر اطاعت کا عہد کیا اور بچ گیا۔

دنیا میں امن اور طمانیت، داروگیر، پکڑ دھکڑ، عرب و داب ، کروفر اور جنگ و جدال کرے، ورنہ بحر و بر مین فساد اور تخریب کی پینگیں اور بڑھیں گی اور بڑھ کر دنیا کے امن و سکون کو غارت کر کے رکھ دیں گی۔ جیسا کہ آپ حالات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

حجرِ کا رئیس اسیخت تھا۔ دعوت نامہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا تھا، آپ نے اس کو لکھا تھا، میں آپ کو اللہ سے وابستہ رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ ہدایت کے بعد گمراہ نہ ہونا اور راہ راست پا لینے کے بعد بھٹک نہ جانا۔

أمابعد فإني أوصيكم بالله وبأنفسكم أن لاتضلوا بعد إن هديتم ولاتغودابعدان رشدتم(ابن سعد)

مقصد یہ ہے کہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد کام ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے تقاضوں کو ملھوظ رکھنا اور اپنی زندگی پر اس کو جاری و ساری رکھنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ مسلمان کہلانے کے بعد بے عملی یا بد عملی مسلمانی کو داغدار کر دیتی ہے اور اسلام کی برکات کے راستہ میں حائل ہو جاتی ہے بلکہ مسلمانی بدنام ہو کر رہ جاتی ہے، اس لیے اسلام کے سلسلے میں بدگمانیاں زور پکڑ جاتی ہیں اور یہ وہ معصیت ہے۔ جو انسان کی دنیا اور آخرت کو لے ڈوبتی ہے۔

اطراف عالم کے شاہانِ وقت کو یہ والا نامے اور دعوت نامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھیجے جب صلح حدیبیہ (سئہ 628ء) کے بعد ایک حد تک عرب کو رام کر لیا گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم سربراہان مملکت، جب اقتدار کی گدی پر فائز ہو جاتے ہیں، ان پر یہ فرض بھی عائد ہو جاتا ہے کہ سرکاری سطح پر غیر مسلم حکمرانوں اور ان کی وساطت سے ان کے عوام کو "اسلام" کی طرف دعوت دینا بھی ان کا سرکاری فریضہ ہو جاتا ہے اور یہ وہ کام ہے، جس کے اختیار کرنے میں بین الاقوامی قوانین حائل نہیں ہوتے۔ ہاں اس مین صرف اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ:

جس اسلام کی طرف دعوت دی ہے، داعی کا خود اپنا مسلک اور اس کے سربراہ کی زندگی بھی اس کا نمونہ پیش کرتی ہو۔ اگر وہ ننگِ دیں ہوں گے تو تبلیغ دین کی مزید بدنامی کا باعث بنے گی۔

مگر افسوس! عرصہ دراز سے مسلمان حکومتیں اس سلسلے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوتی آ رہی ہیں۔ جس کے دو نقصان برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود اسلام اور اسلامی کردار کی کی توفیق سے محروم ہو گئے ہیں، دوسرا یہ کہ مسلم دنیا کی توسیع کا پروگرام نہ صرف رک گیا ہے بلکہ سمٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ کیا خداداد مملکتِ پاکستان کے سربراہان مملکت اس سنت کے احیاء کے لیے بھی اپنے اندر کوئی داعیہ اور تحریک محسوس کرتے ہیں۔ کیا مستقبل میں اس کی ان سے کچھ توقع کی جا سکتی ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اب تمہاری باری ہے، دیکھئے: کیا چاند چڑھتا ہے۔

﴿لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾... سورة يونس