گوجرانوالہ سے مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث کی طالبات لکھتی ہیں کہ:

1۔ قرآن پاک کی تعلیم کا معاوضہ لینے کا کچھ جواز ہے؟ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یہ جائز نہیں ہے۔ مشکوۃ پر غزنویہ حاشیہ میں ہے: پس قبول کر اس کو تعلیم قرآن پر اجرت، نہ جائز ہونے کی دلیل ایک عبادہ بن صامت کی یہ حدیث ہے اور دو تین حدیثیں صاحبِ روضہ نے بیان کی ہیں۔ پھر کہا اس باب میں کئی اور حدیثیں ہیں (روضہ)

2۔ طالب علم اگر عقیدت اور محبت سے اپنے استاد (معلم قرآن) کی خدمت میں کوئی چیز پیش کرے تو کیا جائز ہے؟

3۔ قرآن پاک ختم کرنے پر کوئی شاگرد اگر استاد کو کوئی تحفہ (مثلا کپڑے وغیرہ) دے تو اسے لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب

قرآن حکیم کی تعلیم اور معاوضہ: اس مسئلے کا تعلق دراصل ایک بنیادی تصور سے ہے جو عبادات اور دینی اقدار کی اجرت کے مفروضہ پر مبنی ہے۔ اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے تو خلجان کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

دینی اقدار کا کاروبار: جو شے "دین" ہے اس کا کاروبار جائز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا فریضہ اور طاعت ہے جو سب کا ذمہ ہے کسی دوسرے کے ادا کرنے سے ادا نہیں ہوتا۔

وَالْأَصْل الَّذِي بنى عَلَيْهِ حُرْمَة الِاسْتِئْجَار على هَذِه الْأَشْيَاء: أَن كل طَاعَة يخْتَص بهَا الْمُسلم لَا يجوز الِاسْتِئْجَار عَلَيْهَا، لِأَن هَذِه الْأَشْيَاء طَاعَة وقربة تقع على الْعَامِل. قَالَ تَعَالَى: ﴿وَأَن لَيْسَ للْإنْسَان إلاَّ مَا سعى﴾..النَّجْم: 93) . فَلَا يجوز أَخذ الْأُجْرَة من غَيره كَالصَّوْمِ وَالصَّلَاة،(عمدةالقاری صفحہ95)

اس کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ (1) حُب جاہ اور مال کی خاطر کوئی شخص اس کو قبول کرے

﴿وَيَشتَر‌ونَ بِهِ ثَمَنًا قَليلًا...١٧٤﴾... سورةالبقرة

دوسرا یہ کہ جب کوئی شخص کوئی آیت پوچھے یا کسی کو خود کوئی آیت سنائے تو کہے پیسے دو یا وہ اس کی خواہش کرے کہ کوئی شخص اس سے قرآن سن کر اس کی کچھ خدمت کرے۔ قرآن حکیم کی اس آیت میں یہ لوگ بھی شامل ہیں۔

﴿فَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ رَ‌بَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا وَما لَهُ فِى الـٔاخِرَ‌ةِ مِن خَلـٰقٍ ﴿٢٠٠﴾... سورة البقرة

جن روایات کا آپ نے ذکر کیا ہے جو اس کی منع کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں۔ تقریبا تقریبا ان سب کا تعلق اسی شق سے ہے۔ مثلا یہ روایات ہیں۔

1۔ قرآن پڑھو، اس میں غلو نہ کرو، نہ اس سے دور رہو، نہ اس کے عوج کھاؤ اور نہ اس کو جلبِ زر کے لیے استعمال کرو۔

عن شبل عن النبىﷺ قال اقرؤ القران ولاتغلوافيه ولاتجفوافيهولاتاكلوبه ولاتسكثروبه(رواه احمد)

2۔ قرآن پڑھو! اور اس کے ذریعے اللہ سے مانگو تمہارے بعدایسی قومیں آئیں گی جو قرآن پڑھیں گی اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ بنائیں گی۔

وعن عمران بن حصين [رضي الله عنهما]، أنه مر علي قاص يقرأ، ثم يسأل. فاسترجع ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من قرأ القرآن فليسأل الله به، فإنه سيجىء أقوام يقرأون القرآن يسألون به الناس» رواه أحمد، والترمذي.

3۔ حضور ہمارے پاس آئے، ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں عربی بھی تھے اور عجمی بھی، فرمایا: پڑھو (پڑھو) سب ٹھیک ہے۔ عنقریب کچھ قومیں نمودار ہوں گی جو اسے یوں سیدھا کرنے کی کوشش کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، وہ قرآن کے عوض نقد چاہیں گی، آخرت پر نہیں چھوڑیں گی۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ: «اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ»(سنن ابى داود:حديث830)

4۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھایا تو اس نے مجھے ایک کمان کا تحفہ بھیجا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ نے یہ لے لی تو آپ نے آگ کی کمان لی، چنانچہ میں نے وہ واپس کر دی۔

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ» ، فَرَدَدْتُهَا(رواه ابن ماجه هذاحديث منقطع2158)

حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں:

عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ الْقُرْآنَ وَالْكِتَابَةَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَوْسًا، فَقُلْتُ: لَيْسَتْ بِمَالٍ، وَأَرْمِي عَنْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ،(رواه ابو داود ابن وفيه المغير هةبن زياد الموصلي قال أحمد كل حديث رفعه المنكر(النيل)

5۔ جس شخص نے قرآن کو پیٹ کے دھندے کے لیے ذریعہ بنایا، قیامت میں اس کے منہ پر گوشت نہیں ہو گا۔

عن بريدة قال رسول ﷺمن قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجه عظم ليس عليه لحم رواه البيهقي في شعب الإيمان وقال شارح لايعلم حال إسناده شاهد (التتقيح) ورمز عليها السيوطي(ح) الى حديث حسن (الجامع الصغير)

اس موضوع سے متعلق کچھ آثار بھی مروی ہیں۔

1۔ بچوں کو قرآن حکیم کی تعلیم دینے پر اجرت لینے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پسند نہیں کرتے تھے۔ اور یہی حال اور صحابہ رضی اللہ عنہ کا تھا۔

يُشَدِّدُونَ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَيَكْرَهُونَ الْأَرْشِ عَلَى الْغِلْمَانِ فِي التَّعْلِيمِ» رواه عبدالرزاق وقال إبراهيم يكرهون أن يأخذ الأجر على تعليم الغلمان رواه عبدالرزاق

عن القاسم بن عبدالرحمن أن عمر ابن الخطاب كوهه رواه عبدالرزاق وقال عبدالله بن شقيق العقيل كان أصحاب محمدﷺ

يُشَدِّدُونَ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَيَكْرَهُونَ الْأَرْشِ عَلَى الْغِلْمَانِ فِي التَّعْلِيمِ» رواه عبدالرزاق

3۔ حجرت ابراہیم نخعی نے کہا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ اس کو برا مناتے تھے۔

يُشَدِّدُونَ فِي بَيْعِ الْمَصَاحِفِ وَيَكْرَهُونَ الْأَرْشِ عَلَى الْغِلْمَانِ فِي التَّعْلِيمِ» رواه عبدالرزاق

4۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ اسے بدعت کہتے تھے۔

أحدث الناس ثلثة أشياء.....(تعليم القران (ايضا)

حضرت حمزہ زیات نے ایک گھر سے صرف اس لیے پانی نہ پیا کہ شاید اس کے کسی بچے نے ان سے قرآن پڑھا ہو اور یہ اس کا معاوضہ اور بدلہ بن جائے۔

عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى بَابِ قَوْمٍ بِالْبَصْرَةِ، فَاسْتَسْقَى مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُخْرِجَ إلَيْهِ الْكُوزُ رَدَّهُ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَعْضُ صِبْيَانِ هَذِهِ الدَّارِ قَرَأَ عَلَيَّ فَيَكُونُ ثَوَابِي مِنْهُ(نصب الرايه)

دراصل زیارت کی یہ بات تقوے کی ہے، فتوے کی نہیں ہے۔

پڑھانے کی بات تو دور کی بات ہے۔ وہ قرآن حکیم کے نسخے کو فروخت کرنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔

عن سعيد بن جبير قال سمعت ابن عمر ودت إني قد رأيت في الذين يبتاعون المصاحف أيدي تقطع(أيضا)

قال سعيد بن جبير : لوددت في الذين رأيت يبيعون المصاحف أيديا....تقطع(ايضا)

قال عبدالله بن شقيق العقيلي :كان أصحاب محمد ﷺ يشددون في بيع المصاحف رواه عبدالرزاق

مصاحف کا یہ بیچنا دراصل "قرآن فروشی" کی ایک مکروہ تلمیح بن جاتی ہے۔ اس لیے ان بزرگوں نے اسے اوپرا تصور کیا۔

حضرت حسن بصری اور امام شعبی فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو کاغذ اور محنت خریدی ہے، یعنی قرآن فروشی نہیں ہے۔

«إِنَّمَا يُشْتَرَى وَرَقُهُ وَعَمَلُهُ»، وَقَالَهُ خَالِدٌ، عَنِ الْحَسَنِ(رواه عبدالرزاق)

حضرت جابر بن زید نے اسے پاک کمائی اور عمدہ محنت قرار دیا ہے یعنی ہم خرما وہم ثواب۔

عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا أَكْتَبُ، مُصْحَفًا فَقَالَ: «نِعْمَ الْعَمَلُ عَمَلُكَ، هَذَا الْكَسْبُ الطَّيِّبُ تَنْقِلُ كِتَابَ اللَّهِ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَى وَرَقَةٍ»، قَالَ مَالِكٌ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ الْحَسَنَ، وَالشَّعْبِيَّ «فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا»(رواه عبدالرزاق)

ایک نصرانی نے مصحف، لکھ کر حضرت ابن ابی لیلیٰ کے ہاں فروخت کیا۔

إن عبدالرحمن بن أبي ليلى كتب له نصرانى من أهل الحيرة مصحفا بسبعين درهما(رواه عبدالرزاق)

بہرحال یہ وقت اور محنت کا مول ہے، قرآن فروشی نہیں ہے، پڑھنا پڑھانا ہو یا کتابت کر کے اسے بیچنا ہو یکساں بات ہے۔ قرآن فروشی نہیں ہے کیونکہ اس پڑھنے پڑھانے کا عوض لینے سے غرض متعلقہ "ثواب" کا سودا نہیں ہے نہ اس سے غرض قراۃ اور مصاحف سے فرار ہے بلکہ اس کی مزید نشر و اشاعت کے یہ ایک گونہ سامان ہیں۔

پڑھنے پڑھانے یا کتابتِ مصحف کا شعبہ، پہلے سرکاری ہوتا تھا، جن لوگوں کو اس کے لیے فارغ کر دیا جاتا، اس معلم یا کاتب کے مصارف "بیت المال" کے ذمہ ہوتے تھے، چونکہ بعد میں یہ صورت ہم خرما ہم ثواب کی بات پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

إن أحق ماأخذتم عليه أجرا كتاب الله(رواه البخارى)

یعنی وہ کام جس کی اجرت سب سے زیادہ مناسب ہو سکتی ہے وہ کتاب اللہ ہے۔

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اسے باہم تقسیم کر لو، اپنے ساتھ اس میں میرا حصہ بھی رکھ لو۔

أصبتم اقتسموا واضربو الي معكم سهما(رواه مسلم)

ایک جگہ ایک کافر کو بچھو لڑ گیا، اور دوسرے ایک مقام پر ایک کا دماغ چل گیا۔ صحابہ سے دم کرنے کو انہوں نے کہا تو انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو آرام آ گیا۔ اس کا معاوضہ ملا تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں (؟) ۔۔ وجہ یہ بیان فرمائی۔ اكلت برقية حق(راه احمد ابى داود) آپ نے برحق منتر کے عوض کھایا ہے۔

رقیۃ ودا نہیں، دعا ہے، قرآن آیات پر مشتمل ہو تو وہ دعا بھی ہے اور قرآن بھی۔ اگر ایسے کلماتِ حقہ اور آیاتِ قرآنیہ کے ذریعے کوئی خدمات انجام دی جائے تو وہ معاوضہ خدمت کا ہوتا ہے قرآن کی آیات کا نہیں ہوتا۔ ہاں اگر واقعی کوئی بدنصیب شخص قرآن یا اس کی کچھ آیات ہی بیچنے کی نیت سے ایسا کرتا ہے اور اس کے نزدیک قرآن اور آیات کی بس اتنی قیمت ہے تو پھر یقینا حرام اور ناجائز ہے۔

یہی کیفیت پیش امام، خطیب اور مؤذن کی ہے کہ روایات ان کی اجرت اور معاوضہ کا ساتھ نہیں دیتیں، کیونکہ یہ کاروبار نہیں عبادات ہیں۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى الطَّائِفِ، وَقَالَ لَهُ: "صَلِّ بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ، وَلَا يَأْخُذُ مُؤَذِّنُك عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا"، انْتَهَى. ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ عُثْمَانَ.

حَدِيثٌ آخَرُ: رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ طَهْمَانَ الْقَطِيعِيِّ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قُلْت: يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي إمَامَ قَوْمِي، قَالَ: " قَدْ فَعَلْت"، ثُمَّ قَالَ: " صَلِّ بِصَلَاةِ أَضْعَفِ الْقَوْمِ، وَلَا تَتَّخِذْ مُؤَذِّنًا يَأْخُذُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا"، انْتَهَى. ذَكَرَهُ فِي تَرْجَمَةِ سَعِيدِ بْنِ طَهْمَانَ.

أَثَرٌ آخَرُ: أَخْرَجَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، قَالَ: سَمِعْت رَجُلًا، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: إنِّي أُحِبُّك فِي اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أُبْغِضُك فِي اللَّهِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! أَنَا أُحِبُّك فِي اللَّهِ، وَأَنْتَ تُبْغِضُنِي فِي اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّك تَأْخُذُ عَلَى أَذَانِك أَجْرًا، انْتَهَى. قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: وَيَحْيَى الْبَكَّاءُ لَيْسَ بِذَاكَ الْمَعْرُوفِ(نصب الرايه)

جہاں تک گزر اوقات کی بات ہے اس کی ذمہ دار اسلامی حکومت ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور زندگی کے جھنجھٹ بڑھ گئے تو پرائیوٹ سطح پر ان کی کفالت کے لیے جتن کئے گئے، ورنہ یہ عظیم سلسلہ ختم ہو کر دین کی نشر و اشاعت کا سلسلہ بند ہو جاتا ۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مؤذن، امام، قراء اور علوم عربیہ کے معلمین کی تقرریاں کیں اور ان کے بیش بہا وظیفے مقرر کیے۔

إن عمربن الخطاب وعثمان بن عفان كانايرزقان المؤذنين والائمة والمعلمين(سيرة العمرين لابن الجوزي)وفي رواية: كانا يرزقان المؤذنين والأئمة(ايضا) وقال الزيلعي في نصب الراية:وروى عن عمربن الخطاب أنه كان يرزق المعلمين ثم أسند عن إبراهيم بن سعد عن أبيه أن عمر بن الخطاب كتب إلى بعض عماله أن أعط الناس على تعليم القرآن (نصب الراية)

قراء صحابہ کو قرآن کی تعلیم کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دور دراز مقامات پر تعینات کیا، وہ جا کر ان کو قرآن پڑھاتے اور تفقہ فی الدین کے لیے تیاری کراتے۔ ان میں سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، ابو ایوب رضی اللہ عنہ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، کا نام بالخصوص تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے امام ابن الجوزی نے تصریح کی ہے کہ باقاعدہ ان کی تنخواہیں مقرر کی گئی تھیں۔ (الفاروق 2 ص138)

قضاۃ (ججوں) کے بارے میں بھی یہی سوال پیدا ہوا کہ کیا ان کو اس کا معاوضہ لینا چاہئے؟ یا نہیں؟ چونکہ دنیا کو کتاب و سنت کی رہنمائی مہیا کرنا ایک دینی فریضہ ہے، اس لیے یہ فتویٰ دیا گیا کہ ان کو بھی معاوضہ نہیں لینا چاہئے! چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو پسند نہیں کرتے تھے۔

عن القاسم بن عبدالرحمن أن عمر كره أن يؤخذ عن القضاء رزق الحديث(رواه عبدالرزاق)

حضرت مسروق بھی قضا کا معاوضہ نہیں لیتے تھے۔

إنه كان لايأخذ على القضاء رزقا على الحديث(رواه عبدالرزاق)

حضرت قاسم بن عبدالرحمن کا بھی یہی مسلک تھا۔

قال القاسم:" أَرْبَعٌ لَا يُؤْخَذُ عَلَيْهِنَّ رِزْقٌ: الْقَضَاءُ، وَالْأَذَانُ، وَالْمُقَاسِمُ قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ الْقُرْآنَ " رواه عبدالرزاق

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کے لیے خود تنخواہیں بھی مقرر کی تھیں۔

قالت عائشه :ياكل الوصى بقدر عمالته وأكل أبوبكر وعمر (نصب الرايه)

عن الحكم أن عمر بن الخطاب رزق شريحا وسلمان بن ربيعة الباهلي على القضاء رواه عبدالرزاق وروا ابن سعد في الطبقات:عن نافع قال استعمل عمربن الخطاب زيد ابن ثابت على القضاء وفرض له رزقا (نصب الراية) وقال :ابن أبي ليلي :بلغني أن عليا رزق شريحا خمس مائة وراه بن سعد في الطبقات –(نصب الراية)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن علماء کو عدلیہ کے لیے فارغ کر دیا جائے اس کے لیے تنخواہ مقرر کرنا چاہئے ورنہ یہ کام نہیں چلے گا۔

جج کا معاملہ تو الگ رہا جو صدر مملکت اور وزیر اعظم ہوتا ہے، ان کے لئے بھی وظیفہ کی بات کھٹکتی رہی ہے، شروع میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہونے کے باوجود کاروبار کر کے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ پالتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وظیفہ مقرر کیا لیکن اس کے باوجود بوقت وفات انہوں نے یہ سب کچھ بیت المال میں جمع کرادیا۔ یہ بھی دراصل بات تقوے کی ہے، فتوے کی نہیں۔

قدأحضرته الوفاة قال لهم ردواماعندنا إلى  مال المسلمين (نصب الرايه عن االوقدي)

لیکن اس کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تنخواہیں مقرر کیں اور انہوں نے لیں:

قالت عائشه:ياكل الوصي بقدر عمالته وأكل أبوبكر وعمر (نصب الرايه عن البخاري)

یہ سب امور اس امر کے غماز ہیں کہ دین سمجھ کے اس سلسلے کی خدمات انجام دے اور محض اللہ کی رضا کے لیے مگر ان کا کاروبار نہ کرے ہاں سلسلہ خدمات کو جاری رکھنے کے لیےمناسب وظیفہ کی ضرورت ہو تو لے بھی سکتا ہے۔ یہ رخصت ہے، مقام عزیمت نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس عہدہ اور منصب کو "تکثیر دولت" کا بہرحال ذریعہ نہ بنائے۔ ہاں یہ رخصت کی بات ہے ورنہ مقامِ عزیمت یہ ہے کہ اگر معلم قرآن مستطیع اور صاحب مقدور ہے تو اسکی تعلیم پر کچھ بھی قبول نہ کرے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے یزید بن ابی مالک اور حارث بن ابی محمد کو دیہاتوں میں حدیث و سنت کی تعلیم کے لیے مقرر کیا اور ان کی تنخواہں بھی مقرر کر دیں۔ حضرت یزید نے تو تنخواہ قبول کی مگر حارث نے لینے سے معذرت کر دی کہ اللہ نے جو علم مجھے دیا ہے، اس کا معاوضہ میں نہیں لوں گا۔ جب عمر بن عبدالعزیز کو اس کا پتہ چلا تو فرمایا: یزید نے جو کیا، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں کدا کرے حارث جیسے ہم میں اور زیادہ پیدا ہوں:

وبعث عمر بن عبد العزيز يزيد بن أبي مالك والحارث ابن محمد إلى البادية أن يعلما الناس السنة، وأجرى عليهم الرزق، فقبل يزيد ولم يقبل الحارث، وقال:" ما كنت لآخذ على علم علمنيه الله أجرًا، فذكر ذلك لعمر بن عبد العزيز فقال: ما نعلم بما صنع يزيد بأسًا وأكثر الله فينا مثل الحارث كذافي سيرة عمر بن عبد العزيزلابن عبدالحكم(حاشية تذكرة السامع والمتكلم)

منصور بن المعتمر اس شخص سے تو کوئی خدمت بھی نہیں لیتے تھے جو کسی ضرورت اور لالچ کے ماتحت اس کے پاس آتا تھا۔

كان منصور لايستعين بأحد يختلف اليه في حاجته كذا في التهذيب لابن حجر

حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں، فہم قرآن کے لیے جو ملکہ عطا ہوا تھا وہ ابوجعفر (منصور عباسی) سے ایک تھیلی قبول کرنے پر چھن گیا۔ پھر میں نے اللہ سے بخشش کی دعا کی۔

كنت قد أوتيت فهم القران فلما قبلت الصرةأبي جعفر سلبته فنسائل الله تعالى المسامحة(تذكرة السامع)

یہ سب باتیں، تقویٰ، احتیاط اور خشیت الہی کی ہیں، ورنہ یہ ایک ضرورت ہے، اگر درمیان سے اسے اٹھا دیا جائے تو قراء، مؤذن، ائمہ اور معلمین کسی عظیم ابتلاء اور آزمائش میں پڑ جائیں، بھوکوں مریں یا کتاب و سنت اور دوسرے دینی فرائض کی ترویج اور نشر و اشاعت کا سرے سے سلسلہ ہی رک جائے ۔۔۔ ہمارے نزدیک خدمت کا معاوضہ قبول کرنے سے کہیں زیادہ یہ سنگین صورت ہے، اس لیے اس تلخی کو قبول کرنا ہی اب دین ہے۔ الضرورات تبیح المحظورات۔

طلباء کا اساتذہ کے لیے ہدیہ: ہمارے نزدیک یہ جائز ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تھے مگر باقاعدہ ان کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھی دیے جاتے تھے۔ بخاری و مسلم میں ہے۔

قالت عائشه:إن الناس كانو ا يتحرون بهذا اياهم يوم عائشه يبتغون بذلك مرضاة رسول اللهﷺ

ہاں اگر اساتذہ اس سے بھی پرہیز کریں تو بہتر رہے گا، جیسا کہ حضرت حمزۃ الزیات کے سلسلے میں آپ نے پڑھا ہے۔ لینا مقام رخصت سے، نہ لینا مقامِ عزیمت ۔۔۔ مقام عزیمت کے نتائج نہایت مہتم بالشان برآمد ہوتے ہیں۔ طالب علم کے لیے بھی اور معلم کے لیے بھی، دنیوی لحاظ سے بھی اور اخروی اعتبار سے بھی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

قرآن حکیم کے اختتام پر شاگرد کا تحفہ: بہتر ہے اس سے پرہیز کیا جائے، بالخصوص دورِ حاضر میں، تاہم عقیدت، محبت اور ختمِ قرآن کی خوشی میں اگر کوئی صاحب ایسا کرتے ہیں تو اس کے لیے اس میں گنجائش ہے، کیونکہ اب بات معاوضہ کی نہیں رہتی، امتنان و تشکر، مسرت، محبت، عقیدت اور رابطے کی ہوتی ہے۔ اگر اس کے بجائے ختم قرآن کے موقعہ پر شکرانہ کے طور پر خیرات کرے، قربانی دے یا کھانا وغیرہ کھلائے تو یہ اور بہتر رہے گا۔ امام ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب قرآن حکیم ختم فرماتے تو ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے (سیرۃ عمر رضی اللہ عنہ لابن الجوزی)

بعض فقہاء نے تصریح کی ہے کہ موجودہ حالات میں اساتذہ کے حضور ہدیے پیش کرنا چاہئیں۔

و یفتی الیوم بصحتها لتعلیم القرآن و الفقه و الإمامة و الأذان ویحبر المستاجر علی دفع ماقیل فیجب المسمی بعقد وأجر المثل إذالم یذکرمدة ویحبس به وبه یفتی ويحبر علي دفع الحلاوة الموسومة هى مايهدى للمعلم على رؤس بعض سورالقران (درمختار)

وفي الخلاصة:لوامتنع أب الصبي من أداء الوظيفة يحبر على المراسم حلو وينبع شبنمى وعيدي وفي فتاوى العالمغیریة: وقداستحسنو جبروالدالصبي علی المبره المرسومة

دراصل یہ باتیں، رشوت کے ذمرے میں نہیں آتیں، یہ عقیدت اور استاد سے ایک گونہ محبت اور رابطے کے دائرے کی باتیں ہیں اس سے غرض اساتذہ اور قرآن کا استحصال نہیں ہوتا بلکہ محبت، عقیدت کا اظہار اور خدمت کا جذبہ ہوتا ہے جو بجائے خود مبارک بات ہے۔ واللہ اعلم