عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَهَا تَقُولُ نَبِيٌّ كَانَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ(سنن الترمذی:حدیث3144)

اسے نبی کے نام سے نہ پکارو۔"حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک یہودی نے اپنے رفیق سے کہا کہ : اس نبی کے پاس میرے ہمراہ چلیے، اس نے کہا: (او ہو) "نبی" نہ کہو، یقین کیجئے! اگر (یہ کہتا ہوا) اس نے تجھے سن لیا تو اس کی آنکھیں چار ہو جائیں گی (بہت ہی خوش ہو جائے گا)"

کسی کے جائز مقام و مرتبہ اور خوبی کے اعتراف سے محض اس لیے گریز کرنا کہ اس کا حوصلہ بڑھے گا اور اس کے جائز مقاصد کو شہ ملے گی، جہاں بہت بڑی کم ظرفی ہے وہاں انسان کشی بھی ہے اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کی صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کوئی معترض ، دفتر عمل میں ویسے کسی عظیم کردار کا نمونہ پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ عہد جاہلیت کے عظیم شاعر ولید بن ربیعہ عامری کو ایک نادر بات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ:أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلٌ(صحیح مسلم :حدیث2256)

سب سے سچی بات جو ایک شاعر نے کہی، ولید کی بات ہے کہ : اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔

غور فرمائیے! کہ حضرت ولید نے عہد جاہلیت میں ایک حکیمانہ بات کہی جس کی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی داد دی۔

سب سے بڑا چکر باز مداری: دنیا میں سب سے بڑا چکر باز مداری دجال ہو گا جو "موت و حیات" کے کرشمے دکھا کر لوگوں سے اپنی خدائی منوائے گا۔

فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا، ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، (صحیح مسلم حدیث ابوسعید خدری2938)

"چنانچہ دجال پوچھے گا کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ اگر میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر دوں (تو) کیا میرے معاملہ میں پھر بھی شک کرو گے؟ جواب دیں گے: نہیں! چنانچہ وہ اسے قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا۔"

معلوم ہوتا ہے کہ اصل بات تنہا "بول" یا تنہا کردار کی نہیں ہے، بلکہ دونوں کے مابین ہم آہنگی کی ہے، بات حق کی ہے اور اس کے مطابق اس کی زندگی کے شب و روز بھی ہوں تو اس کی بات حرزِ جان اور جان ایمان ہوتی ہے،کیونکہ جو چکر باز مداری ہوتے ہیں وہ باتوں باتوں میں "دل بھی موہ سکتے ہیں: ان من البيان السحر (مشکوۃ) اور بعض محیر العقول کرتب ایسے بھی دکھا سکتے ہیں کہ ان پر خدا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے ۔۔۔ لیکن فکر اور عمل میں ایسی معصومانہ ہم آہنگی کہ وہ "حق و صداقت" کی ابرو بھی بن جائے، چکر باز مداریوں کی توفیق میں نہیں ہوتی۔ اس لیے ان مداریوں کے شاطرانہ ہتھکنڈوں پر جان چھڑکنے کے بجائے عقابی نگاہوں سے ان کا رجزیہ کیا جائے۔ مگر افسوس! زود اعتقاد لوگ اور مرعوب ذہنیت کے سطحی افراد ان کے سامنے مات کھا جاتے ہیں، چنانچہ پھر وہی ہوتا ہے جو ابلیس اور ذریت ابلیس کے مقاصد کا تقاضا ہوتا ہے۔

چکر بازوں کے گمراہ کن صغرے کبرے:

عن عبد الله بن عبد الرحمن، سمعت أنس بن مالك، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لن يبرح الناس يتساءلون حتى يقولوا: هذا الله خالق كل شيء، فمن خلق الله(صحيح البخاري :حديث7296)

"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ سدا آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ کہنے لگیں گے کہ ہر چیز کو (تو) اللہ نے پیدا کیا (بھلا یہ بھی بتاؤ کہ) اللہ کو کس نے پیدا کیا۔

یہ باتیں دراصل ان آوارہ ذہنوں کی مکروہ اٹھیلیاں ہیں، جن کی دوڑیں شیاطین کے ہاتھ میں رہتی ہیں، وہ ان کو اس راہ پر ڈال کر "حویم کبریا" کے آداب اور تقاضوں سے بے نیاز کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں سے دلوں سے حق تعالیٰ کی تقدیس کا رنگ پھیکا پڑ جائے اور عبد اور معبود کے درمیان احترام اور تکریم کا جو رشتہ قائم ہے وہ ٹوٹ جائے ۔۔۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ حالانکہ یہ تجزیہ تو بڑی بات ہے، اس طرف ذہنی خلش کا التفات بھی سنگین قسم کی معصیت ہے۔ صغروں کبروں کے یہ تانے بانے بہت دور لے جاتے ہیں۔ دراصل یہ شیطانی چکر ہیں، جن میں پڑ کر انسان خدا کو "جنس بازار" بنا ڈالتا ہے۔ اس لیے پھر اس کے لیے اس کی عبدیت میں کوئی لطف اور داعیہ باقی نہیں رہتا اور یہی شیطان کا بہت بڑا مدعا ہے کہ انسان اپنے خدا کے سلسلے میں کچھ زیادہ کوش فہم نہ رہے۔ ورنہ وہ خدا کی غلامی میں یوں پختہ ہو رہے گا کہ اس کو دیکھ کر شیطان خون کے آنسو رو دے گا۔

یہ بالکل بجا مگر، چونکہ چنانچہ:

فَقَبَّلُوا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ. فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ. قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي»؟ قَالُوا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا رَبَّهُ أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا اليَهُودُ (سنن الترمذي صفوان حديث:2733)

اس کے بعد ان دونوں (یہودیوں) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک او پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا کہ: ہم گواہی دیتے ہیں کہ واقعی آپ نبی ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس پر) فرمایا، تو پھر تمہیں میری پیروی سے کیا شے مانع ہے؟ وہ بولے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ: (الہی) نبوت سدا ان کی اولاد میں ہی رہے، (اس لیے) ہمیں ڈر لگتا ہے کہ آپ کے پیچھے چل پڑے تو یہودی ہمیں قتل کر ڈالیں گے۔"

اعترافِ حق کے باوجود اس سے گریز اور فرار کرنے کے لیے دنیا کو جس شے نے جھوٹے اور فرجی سہارے مہیا کیے ہیں وہ یہی "اگرچہ مگرچہ" اور چونکہ چنانچہ ہیں۔ اگر بے عملوں کے دفتر عمل سے ان لغات کو نکال دیا جائے تو ان کے لیے جائے فرار ممکن نہ رہے۔ شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے یہ ایک بہت بڑا ہتھکنڈہ ہے جس سے اس نے اپنی ساری معنوی ذریت کو مسلح کر رکھا ہے ۔۔۔ دنیا نے ہمیشہ انہی الفاظ کے سہارے حق سے پیچھا چھیڑایا ہے ۔۔۔ اسی چکر سے پہلے دنیا نے رہائی پائی ہے نہ آئندہ اس کی کوئی سبیل نظر آتی ہے۔ الا ان یشاءاللہ

ابھی بڑا وقت پڑا ہے:

التسويف شعار الشيطان يلقيه في قلوب المؤمنين(جامع صغير ضعيف الديلمي)

"ٹالنا اور آج کل کرنا شیطان کا دستور ہے جسے وہ مسلمانوں کے دلوں مین اتارتا رہتا ہے۔"

یہ شیطان کا ایک چکر ہے، جس کی وجہ سے ایک نیک نیت انسان بھی وقت پر فریضہ انجام دینے سے محروم ہو جاتا ہے اور جو بدنیت لوگ ہوتے ہیں، وہ تو اس کو دفع الوقتی کے طور پر اور محض ٹالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب بات ایک دفعہ ٹل جاتی ہے پھر اسے مزید معرضِ التوا میں ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔ علامہ بلخی "عین العلم" میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ: دوزخیوں کی چیخ و پکار کا باعث انسان کی یہی "تسویف" (آج کل) کی خُو بنے گی۔

اكثرصياح أهل النار من التسويف(عين العلم قال أعراقي لم أجد)

اللہ کی تقدیر: تقدیر دو قسم کی ہے، ایک کا تعلق خلق اور امراء ارادہ، انتظام اور طریق کار سے ہے مثلا فلاں کو وہاں پیدا ہونا چاہئے اور فلاں کو اس پار مرنا چاہئے، فلاں وقت سیلاب آنا چاہئے اور فلاں دنوں میں بارش ہونی چاہئے، اس کی عمر اتنی ہونی چاہئے اور فلاں تاریخ کو پیدا اور مرنا چاہئے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تقدیر اٹل ہوتی ہے اور حکما نافذ ہوتی ہے۔ اس میں رد و بدل ممکن نہیں رہتا الا یہ کہ خود خدا نے اس کے لیے کوئی گنجائش رکھ چھوڑی ہو لیکن اس کا پتہ چلانا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

دوسری تقدیر کا تعلق انسان کے نیک و بد ہونے اور ان کے اعمال کے نتائج سے ہے۔ یہ تقدیر "حکمِ خدا" نہیں ہوتا، علمِ خدا کا ایک پہلو کہلاتا ہے ۔۔۔ انسان کا ویسا ہونا ضروری اور لازمی ہوتا ہے مگر یہ امور خدا کی طرف سے خلقِ خدا پر مسلط نہیں کیے جاتے بلکہ علمِ الہی کے بے خطا کیمرہ کی تصویر کہلاتے ہیں، جیسا کہ انسان کے سراپا اور کیمرہ کے درمیان نسبت ہوتی ہے۔ اس میں کیمرہ نے اس کے "سراپا" کی تصویر پیش کی ہے، تصویر گھڑ کر اس کے گلے نہیں مڑھی۔ پہلی صورت میں انسان خدا کے ہاں جوابدہ نہیں ہے کیونکہ وہ بحکمِ خدا ہوتا ہے لیکن دوسری صورت میں جوابدہ ہوتا ہے کیونکہ انسان کا یہ معنوی سراپا حکمِ خدا کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے فکر و عمل کا قدرتی عکس ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت وہی ہے جو ٹی وی پر ایک انسان کی ہوتی ہے۔ لیکن بعض بدنیت لوگ "تقدیر" کے نام پر اپنے اعمال کے قدرتی نتائج کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس لیے اپنی بد عملی پر پردہ ڈالنے کے لیے "تقدیر" کی آڑ لے بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی نیک نیت بھی ہو تو بھی اسے کیا معلوم کہ وہاں کیا ٹیپ ہے؟ اس لیے اس میں وقت ضائع کرنا بہت بڑے حرماں کی بات ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی ان چکروں میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ کیونکہ یہ شیطانی چکر ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنی بے عملی یا بدعملی کے سنگین نتائج سے غافل ہو جاتا ہے۔

عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ(رواه الترمذي 2133)