﴿قَد أَفلَحَ مَن زَكّىٰها ﴿٩﴾ وَقَد خابَ مَن دَسّىٰها ﴿١٠﴾... سورة الشمس

الیکشن اور انتخابات کی ریت کب پڑی اور کہاں پر اس کی بسم اللہ ہوئی؟ یہاں اس سے بحث نہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ حکمران طبقہ کے سلسلہ کی بدگمانی اس کا سبب بنی اور سیاسی شاطروں نے اس سے کھل کر فائدہ اٹھایا، ستائے ہوئے عوام کا استحصال کیا اور باہمی منافرت اور رقیبانہ مناقشت میں الجھا کر پوری قوم کو نقصان پہنچایا، جو ہاتھ سماج دشمن عناصر اور آمر حکمرانوں کے گریبانوں کی طرف بڑھ سکتے تھے، وہ اب ایک دوسرے کے جیب و دامن اور گریبانوں پر اٹھنے لگے۔ وقت اور دولت کا جو ضیاع ہوا، اس کا احساسِ زیاں بھی جاتا رہا۔ وارے نیارے چند شاطروں کے ہوئے، قربانی پوری قوم کو دینا پڑی اور جن موہوم امیدوں کے لالچ میں ضمیر اور ایمان کا ناس کیا، وہ بھی "حسرت" ہی بن کر گلے ہار بنیں۔

﴿خَسِرَ‌ الدُّنيا وَالـٔاخِرَ‌ةَ﴾

بدگمانی یہ تھی کہ یہ صاحب لوگ قیادت کے اہل نہیں ہیں، اس لیے انہیں یہ سند چھوڈ دینا چاہئے، اب چاہئے تو یہ تھا کہ وہ قوم کا اعتماد بحال کرتے اور عملا اپنی اہلیت کا ثبوت دیتے مگر ہوا یہ کہ وہ لوگوں کے گھروں کو اٹھ دوڑے اور منتوں سے کہنے لگے کہ خدارا کہو کہ میں اہل ہوں، اگر اس پر بھی کوئی چپ رہتا ہے تو سفارشیں پیدا کر کے درخواستیں دہراتے ہیں، اب بھی کوئی ہاتھ نہ آئے تو اس کے پاؤں پڑ کر اس کی زبان کو پکڑ کر ہلاتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر شکار ہاتھ سے جاتا نظر آتا ہے تو پھر گولی تان کر پوچھتے کہ : ارے اپلو کے پٹھے "ووٹ" دو گے یا نہیں، اگر اب بھی وہ نہیں "یرک سکا" تو پھر تھانے جا کر رشوت دیتے ہیں، تھانیدار اٹھتے ہیں، ووٹر کے بال بچے اور عزیز و اقارب کو پکڑ کر تھانے میں یرغمال بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ الغرض دہشت گردی کے چکر چلا چلا کر دنیا کو مجبور کرتے ہیں کہ کہو میں سب سے اچھا ہوں، قیادت اور اعتماد کا اہل یوں، بلکہ یہ کہو کہ میرے سوا پوری قوم کے پاس اور کوئی متبادل قیادت نہیں ہے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بہرحال یہ واہیات لے اتنی بڑھی کہ تقریبا ہر ملک میں متحارب گروپ پیدا ہو گئے اور اس "جوت پتان" کی بازی میں جو جیتا، دنیا نے سمجھا کہ اس نے خدا کو بھی جیت لیا اور جو ہار گیا دنیا کی نگاہ میں وہ سب سے راندہ درگاہ قرار پایا ۔۔۔ مگر ہمارے نزدیک "حقیقی جیت" تو شاید کسی کی ہوئی ہو، ہار سب کی یقینی ہوئی، بلا استثناء سب نے افراط و تفریط سے کام لیا، دھاندلیاں کیں، جھوٹ بولے، دل کی کدورتوں کی تخلیق اور ان کی آبیاری کے سامان کیے۔ جلب زر اور اقتدار کی خواہش مچھلی، دین و ایمان، عقل و ہوش اور عوام کا استحصال ہوا۔ سنجیدہ سوچ اور مساعی جمیلہ کا خون ہوا، سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کسی کی بنی، آخرت دوسرے نے بیچ کر اسے خراجِ تحسین پیش کیا، اللہ اور اس کے رسول برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار اور جیت کا جو تصور اور پیمانے مقرر کیے، اب وہ بھی یکسر بدل گئے۔

یہاں ہمیں اس سے سردہ نہیں کہ یہ نام نہاد "ہار جیت" کس کی ہوئی، جو ہارے وہ اپنے کیے کا پھل پا گئے اور جو جہتے گویا وہ بھی اپنے دام میں آپ ہی آ گئے ۔۔۔ جو ہارے وہ سکرات کی تلخی سے نجات پا گئے اور جن کی جیت ہوئی انہوں نے اپنے اوپر "نزاع" طاری کر لی۔ کل تک پتہ چلے گا کہ اس کی جان آسانی سے نکلی یا عذابوں سے، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : صاحب اقتدار، اقتدار حاصل کر کے چھری کے بغیر ذبح ہوا۔ فقدذبح بغيرسكين(ابوداود) بایں حزم و احتیاط حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ:

میں خدا سے اپنی خدمات حقہ کا صلہ نہیں چاہتا بس اتنی آرزو ہے کہ معاملہ برابر برابر ہی رہے۔

آپ غور فرمائیں کہ جو لوگ اپنی پوری مدہوشی کے عالم میں اقتدار کے دام کھرے کرتے رہے ہیں، ان کی جان کیسے نکلے گی اور کل ان کا حشر کیا ہو گا؟

جس بات کو یہ لوگ اپنی "جیت" بتا رہے ہیں، خدا کے نزدیک یہ تو چند روزہ ایسی ،تاع قلیل" ہے، جس نے اسے چکھا وہ بھی کل پچھتائے گا اور جو اس سے محروم رہا وہ بھی حسرتوں کی آگ مین جلتا رہے گا۔ اس جیت سے پہلے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے اور کیسا ہے؟ لیکن اب ملک کا پتہ پتہ ترازو بن جاتا ہے جس میں وہ تلنے لگ جاتا ہے اور قوم کا ہر ہاتھ اسے تولنے پر کمر کس لیتا ہے۔ اس لیے عموما ایسے تلنے والوں کا انجام حوصلہ شکن ہی رہا ہے۔

جن کو حقیقی جیت نصیب ہوئی خدا کے نزدیک ان کی کچھ خصوصیات اور علامات ہیں، وہاں پارٹی یا برادری سسٹم کی کوئی بات نہیں، جو ان خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ خدا کے ہاں جیت اسی کی ہوتی ہے۔ قرآن حکیم میں ان کی پوری تفصیل آ گئی ہے۔ اہلِ جیت کے ذکر میں فرمایا۔

جو ایمان لائے اس کی عافیت کے لیے ہجرت کی، راہِ خدا میں جہاد کیا، اپنے مال اور جانیں لڑا دیں، خدا کے ہاں ان کے بڑے درجے ہیں اور وہی کامیاب لوگ ہیں۔

﴿الَّذينَ ءامَنوا وَهاجَر‌وا وَجـٰهَدوا فى سَبيلِ اللَّـهِ بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم أَعظَمُ دَرَ‌جَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ ﴿٢٠﴾... سورة التوبة

جس نے خدا اور رسول کا حکم مانا، اللہ سے ڈرا اور اس (کے غصے) سے بچتا رہا وہ اپنی مراد پا گیا۔

﴿وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سولَهُ وَيَخشَ اللَّـهَ وَيَتَّقهِ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ ﴿٥٢﴾... سورة النور

معمولی نہیں عظیم کامیابی حاصل کی۔

﴿وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَ‌سولَهُ فَقَد فازَ فَوزًا عَظيمًا ﴿٧١﴾... سورة الاحزاب

جو لوگ رسولِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، اس کی حمایت کی اور ان کی مدد دی اور اس روشنی کے پیچھے ہو لیے جو اس کے ہمراہ نازل کی گئی وہ فلاح پا گئے۔

﴿فَالَّذينَ ءامَنوا بِهِ وَعَزَّر‌وهُ وَنَصَر‌وهُ وَاتَّبَعُوا النّورَ‌ الَّذى أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿١٥٧﴾... سور الاعراف

فرمایا: تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو (دنیا کو) نیک کاموں کی طرف دعوت دے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے، یہ لوگ اپنی مراد کو پہنچیں گے۔

﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ‌ وَيَأمُر‌ونَ بِالمَعر‌وفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ‌ ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿١٠٤﴾... سورة آل عمران

دنیا و آخرت کی سب بھلائیاں اور فلاح و بہبود اللہ کے رسول اور ان کے ان ساتھیوں کے حصے میں آئیں گی جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں۔

﴿لـٰكِنِ الرَّ‌سولُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ جـٰهَدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم ۚ وَأُولـٰئِكَ لَهُمُ الخَيرٰ‌تُ ۖ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٨٨﴾... سورةالتوبة

جو لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ رشتے داروں کو ان کا حق دیں اور مسکینوں اور مسافروں کو (ان کا حق) یہی ان کی کامیابی ہے۔

﴿فَـٔاتِ ذَا القُر‌بىٰ حَقَّهُ وَالمِسكينَ وَابنَ السَّبيلِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ‌ لِلَّذينَ يُر‌يدونَ وَجهَ اللَّـهِ ۖ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٣٨﴾... سورةالروم

جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ راہ راست پر بھی ہیں اور کامیاب بھی۔

﴿الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَهُم بِالـٔاخِرَ‌ةِ هُم يوقِنونَ ﴿٤﴾ أُولـٰئِكَ عَلىٰ هُدًى مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٥﴾... سورة  لقمان

جو لوگ خدا کے حضور پیش ہونے سے ڈرتے ہیں وراثت ارضی ان کے حصہ میں آئے گی۔

﴿وَلَنُسكِنَنَّكُمُ الأَر‌ضَ مِن بَعدِهِم ۚ ذٰلِكَ لِمَن خافَ مَقامى وَخافَ وَعيدِ ﴿١٤﴾... سورة ابراهيم

مومن ہو کر اللہ اور رسول کے مخالفوں سے دوستی رکھیں، ممکن نہیں ہے، خواہ وہ ان کے بزرگ یا عزیز اور اپنے کنبہ کے لوگ ہوں۔ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی، یہ خدائی جماعت ہے اور یہ خدائی جماعت ہی کامیاب ہونے والی ہے۔

﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ‌ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّـهَ وَرَ‌سولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخوٰنَهُم أَو عَشيرَ‌تَهُم ۚ أُولـٰئِكَ كَتَبَ فى قُلوبِهِمُ الإيمـٰنَ وَأَيَّدَهُم بِر‌وحٍ مِنهُ ۖ وَيُدخِلُهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ خـٰلِدينَ فيها ۚ رَ‌ضِىَ اللَّـهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ ۚ أُولـٰئِكَ حِزبُ اللَّـهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّـهِ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

جو بدنصیب لوگ ایسے عظیم انسانوں کا مذاق اڑاتے ہیں، خدا خود ان کو سمجھ لیتا ہے۔ ہاں خدا اپنے ان بندوں کو خود نوازتا ہے اور جیت بھی انہی کی ہوتی ہے۔

﴿فَاتَّخَذتُموهُم سِخرِ‌يًّا حَتّىٰ أَنسَوكُم ذِكر‌ى وَكُنتُم مِنهُم تَضحَكونَ ﴿١١٠﴾ إِنّى جَزَيتُهُمُ اليَومَ بِما صَبَر‌وا أَنَّهُم هُمُ الفائِزونَ ﴿١١١﴾... سورة المؤمنون

فرمایا: جیت اسی کی ہوئی جس نے اپنی روح کو پاک کر لیا۔

﴿قَد أَفلَحَ مَن زَكّىٰها ﴿٩﴾... سورة الشمس

اور خود پاک صاف رہا۔

﴿قَد أَفلَحَ مَن تَزَكّىٰ ﴿١٤﴾...سورة الاعليٰ

روح اور نفس کے تزکیہ و طہارت کی عظمت کا اندازہ اس سے فرما لیجئے کہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ سے اس کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

اللهم آت نفسي تقوها وزكها أنت خير من زكها

سچائی انسان کی نجات اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

والله يا هؤلاء، لا ينجيكم إلا الصدق(صحيح البخاري :حديث3465)

ان کی زندگیاں اندھیروں میں اُجالا، چومکھی فتنوں اور سیلابِ بلا میں روشنی کی باعث ہوتی ہیں جن کے سینے اخلاص کا خزینہ ہوتے ہیں۔

طوبى للمخلصين أولئك مصابيح الهدى تخيلي عنهم كل فتنه ظلما

وہ قوم بہت بڑی خوش نصیب ہوتی ہے جس کو نیک نیت قیادت اور مخلص رہنما مل جاتے ہیں، انہی کا بیڑا پار ہوتا ہے اور انہی کی جیت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ خود فلاح پاتے ہیں اور قوم کے لیے رحمت ثابت ہوتے ہیں۔

قدأفلح من أخلص قلبه للايمان وجعل قلبه سليماولسانه وصادقا ونفسه ومطمئنه وخليقته مستقيمه وجعل أذنه مستمعة عينه وناظرة(راه احمد)

قرآن حکیم کا دامن تھام لینے والا تباہی سے مھفوظ رہتا ہے کیونکہ اس کا ایک پلہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں۔

«فَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَهْلِكُوا وَلَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا»(رواه البزار:حديث 3421)

اقوام و ملل کی عزت و نکبت ، پستی اور بلندی، روحانی تسکین اور زندگی کی پاکیزگی اور طہارت، جیت اور ہار، قرآن حکیم پر موقوف ہے:

«إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين»(مشكوة حديث2115)

خیر و برکت ، ہار اور جیت اس خوش نصیب کے لیے جس کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے "خیر و برکت" کی کنجی اور "شر اور بدی" کے لیے تالا بنایا:

«إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لَلشَّرِّ، مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ»(سنن ابن ماجه:حديث238)

قیامت میں ان لوگوں پر خدا کا سایہ رحمت ہو گا (1) امام عادل (2) نوجوان عبادت گزار (3) مسجد سے مانوس لوگ (4) اور محض اللہ کی رضا کے لیے باہم پیار رکھنے والے۔ الخ

سبعة يظلهم الله في ظله، يوم لا ظل إلا ظله: الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه(صحيح البخاري:حديث660)

برسرِ اقتدار افراد کی مشکیں کسی ہوں گی، عدل و انصاف کیا اور انسانیت سے پیش آیا تو وہ کھل جائیں گی، ورنہ ہار ہی ہار ہو گی۔

مامن أمير عشرةإلايؤتى به يوم القيمه مغلولالايفكه إلاالعدل(رواه احمد)

"مَا مِنْ وَالِي ثَلاثَةٍ إلاَّ لَقِيَ الله مَغْلُولَةً يَمِينُهُ، فَكَّهُ عَدْلُهُ، أَوْ غلَّهُ جَوْرُهُ(رواه ابن حبان)

فرمایا کہ جس نے ایک ایسے شخص کے ہاتھ اقتدار کا کوئی محکمہ دیا جس سے بہتر ملک میں لوگ موجود تھے، اس نے اللہ، رسول اور سب مسلمانوں سے غداری کی۔

من استعمل رجل من عصابة وفيهم من ارضى منه فقدخان الله ورسوله والمومنين(راه الحاكم)

جو لوگ یا پارٹیاں اور قومیں ناکام رہیں، گھاٹے اور نقصان سے دوچار ہوئیں اور انتہائی عروج پر فائذ ہونے کے باوجود نامراد ہی رہیں، قرآن حکیم نے ان کی بھی تفصیل بیان کی ہے جس کا مطالعہ غالبا قارئین محدث کے لیے بصیرت افروز رہے گا۔

فرمایا افترا پرداز نامراد رہا۔

﴿وَقَد خابَ مَن دَسّىٰها ﴿١٠﴾... سورةالشمس

نا نہاد انتخابات کے دوران "افتراء پردازی" جس قدر عروج پر پہنچ جاتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یا پارٹی اپنی جعلی جیت پر خوش ہوتا ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ خدا ان کو غیرت سے ہمکنار کرے۔

فرمایا: جو لوگ بے انصاف اور دھاندلی پسند ہیں، وہ بھی برباد ہوئے۔

﴿وَقَد خابَ مَن حَمَلَ ظُلمًا ﴿١١١﴾... سورة طه

سرکش، دل کے کوڑھی اور جعلی خدا بھی خاسر و خائب رہے۔

﴿وَخابَ كُلُّ جَبّارٍ‌ عَنيدٍ ﴿١٥﴾... سورة ابراهيم

منکرینِ حق داد و دہش حق کی راہ مارنے کے لیے کرتے ہیں مگر انجام کار یہی اخراجات ان کے لیے سامانِ عبرت بن جائیں گے، آخرت میں ان کو جہنم رسید کر کے پاک لوگوں سے ان کو الگ کر دیا جائے گا۔

﴿إِنَّ الَّذينَ كَفَر‌وا يُنفِقونَ أَموٰلَهُم لِيَصُدّوا عَن سَبيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقونَها ثُمَّ تَكونُ عَلَيهِم حَسرَ‌ةً ثُمَّ يُغلَبونَ ۗ وَالَّذينَ كَفَر‌وا إِلىٰ جَهَنَّمَ يُحشَر‌ونَ ﴿٣٦﴾ لِيَميزَ اللَّـهُ الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجعَلَ الخَبيثَ بَعضَهُ عَلىٰ بَعضٍ فَيَر‌كُمَهُ جَميعًا فَيَجعَلَهُ فى جَهَنَّمَ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ﴿٣٧﴾... سور ةالانفال

"اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منکرینِ حق اپنے مال (اس لیے خرچ کرتے رہتے ہیں تاکہ (لوگوں کو) راہِ خدا سے روکیں، سو یہ لوگ (تو) مال کو (اسی طرح پر) خرچ کرتے ہی رہیں گے (مگر) پھر (آخر کار وہی مال) ان کے حق میں (موجب) حسرت ہو گا کہ (خرچ بھی کریں اور) پھر جوتے (بھی) کھائیں اور جو منکرینِ حق ہیں جہنم کی طرف جھونک دئیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک لوگوں کو پاک لوگوں سے الگ کرے اور ناپاک لوگوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ان سب کا (ایک) ڈھیر بنائے پھر اس ڈھیر (کے ڈھیر) کو جہنم میں جھونک دے۔ یہی لوگ ہیں جو گھاٹے میں ہیں۔"

یہاں پر کافروں کے ضمن میں بعض شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایسے کام صرف کافر ہی کر سکتے ہیں، لیکن جب ایک مسلمان ہو کر راہِ حق پر بوجھ بننے اور سازشوں کے ذریعے اسے ٹالنے اور بریکیں لگاتے ہوئے نہ شرمائیں تو غور فرما لیجئے! ان کے لیے خدا کی جناب سے کیا سزا تشخیص کی جائے گی؟ اور کن لفظوں سے ان کا ذکر کیا جانا چاہئے؟

فرمایا کہ: کچھ ایسے لوگ بھی آپ کو ملیں گے کہ وہ بھاگ بھاگ کر دینِ حق کے مخالفوں میں شمولیت کریں گے اور بہانے یہ بنائیں گے کہ بھئی! آج کل ان کے پاس طاقت ہے، ان کی وجہ سے ہم کسی گردش میں نہ آ جائیں۔ چونکہ ان بزدلوں کا راز بالآخر کھل جائے گا شرمسار ہو جائیں گے لیکن جب مسلمان ان سے گلہ کریں گے تو قسمیں کھائیں گے کہ دل تو ہمارے تمہارے ساتھ ہیں: فرمایا ایسے لوگوں کے اعمال ضائع ہو گئے اور سراسر نقصان میں بھی یہی رہے۔

﴿فَتَرَ‌ى الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَ‌ضٌ يُسـٰرِ‌عونَ فيهِم يَقولونَ نَخشىٰ أَن تُصيبَنا دائِرَ‌ةٌ ۚ فَعَسَى اللَّـهُ أَن يَأتِىَ بِالفَتحِ أَو أَمرٍ‌ مِن عِندِهِ فَيُصبِحوا عَلىٰ ما أَسَرّ‌وا فى أَنفُسِهِم نـٰدِمينَ ﴿٥٢﴾ وَيَقولُ الَّذينَ ءامَنوا أَهـٰؤُلاءِ الَّذينَ أَقسَموا بِاللَّـهِ جَهدَ أَيمـٰنِهِم ۙ إِنَّهُم لَمَعَكُم ۚ حَبِطَت أَعمـٰلُهُم فَأَصبَحوا خـٰسِر‌ينَ ﴿٥٣﴾... سورةالمائدة

"تو جن لوگوں کے دلوں میں کوڑھ ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان (مخالفوں) میں (شمولیت کے لیے بڑی) جلدی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں (بیٹھے بٹھائے) ہم کسی پھیر میں نہ آ جائیں۔ سو کوئی دن جاتا ہے کہ اللہ (دینِ حق کے پرستاروں کی) فتح یا کوئی (اور) امر اپنی طرف سے پیش لائے گا تو اسی وقت یہ (بزدل) اس (خدشہ) پر جو اپنے دلوں میں وہ چھپاتے تھے پشیمان ہوں گے اور (جب) مسلمان (افسوس کرتے ہوئے آپس میں) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑے زور سے قسمیں کھا (کھا) کر کہتے تھے کہ ہم (دل سے تو) تمہارے ساتھ ہیں، ان کا کیا دھرا سب اکارت ہوا اور وہ حد درجہ گھاٹے میں رہے:

فرمایا: وہ بھی ہارے جنہوں نے اسلام کے سوا کسی اور طرزِ حیات کی خواہش کی اور اُسے ڈھونڈا۔

﴿وَمَن يَبتَغِ غَيرَ‌ الإِسلـٰمِ دينًا فَلَن يُقبَلَ مِنهُ وَهُوَ فِى الـٔاخِرَ‌ةِ مِنَ الخـٰسِر‌ينَ ﴿٨٥﴾... سورة آل عمران

مطلب کا دین، کچھ ملتا نظر آیا تو سب سے بڑا مسلمان ورنہ تم کون ہم کون؟ ایسے لوگ بڑے گھاٹے میں پڑے اور سب سے بڑی ہار ہارے۔

﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَعبُدُ اللَّـهَ عَلىٰ حَر‌فٍ ۖ فَإِن أَصابَهُ خَيرٌ‌ اطمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِن أَصابَتهُ فِتنَةٌ انقَلَبَ عَلىٰ وَجهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنيا وَالـٔاخِرَ‌ةَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الخُسر‌انُ المُبينُ ﴿١١﴾... سورة الحج

"اور لوگوں میں کوئی کوئی ایسا بھی ہے جو خدا کی عبادت تو کرتا ہے (مگر) اکھڑا اکھڑا کہ اگر اس کو کوئی فائدہ پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے مطمئن ہو گیا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آ پڑی تو جدھر سے آیا تھا الٹا ادھر کو ہی لوٹ گیا، اس نے دنیا (بھی) کھوئی اور آخرت (بھی) صریح گھاٹا یہی کہلاتا ہے۔"

ہم سب اگر اس آیت کے آئینہ میں اپنی اپنی شکل دیکھنے کی کوشش کریں تو کسی کو بھی اپنی شکل اوپری محسوس نہ ہو گی۔ انا للہ

فرمایا: اصل میں ہارے وہی جو قیامت میں خود اور ان کے بال بچے گھاٹے میں رہے۔

﴿فَاعبُدوا ما شِئتُم مِن دونِهِ ۗ قُل إِنَّ الخـٰسِر‌ينَ الَّذينَ خَسِر‌وا أَنفُسَهُم وَأَهليهِم يَومَ القِيـٰمَةِ ۗ أَلا ذٰلِكَ هُوَ الخُسر‌انُ المُبينُ ﴿١٥﴾... سورة الزمر

"کہہ دو فی الحقیقت گھاٹے میں وہ لوگ رہے جو قیامت کے دن اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نقصال کر لیں گے۔

دشمنانِ خدا (اعداء اللہ) کے بارے میں فرمایا کہ : ہم بھی ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کر دیتے ہیں جو ان کی حماقتوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے الٹا ان کو حسین بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ انہیں اپنی حماقتوں کی چاشنی کا بھی اندازہ ہو جائے۔ دراصل شروح سے ہی یہ ہارے ہوئے حرماں نصیب لوگ ہوں گے۔

﴿وَقَيَّضنا لَهُم قُرَ‌ناءَ فَزَيَّنوا لَهُم ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَحَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِهِم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ إِنَّهُم كانوا خـٰسِر‌ينَ ﴿٢٥﴾... سورة فصلت

"اور ہم نے ان کے ساتھ (برے) ہم نشیں (تعینات) کر دیے تھے تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے تمام حالات ان کی نظر میں اچھے کر دکھائے اور ان سے پہلے جنات کی اور آدمیوں کی (اور) بہت سی (نافرمان) امتیں ہو گزری تھیں ان کے شمول میں (عذاب کا) وعدہ ان کے حق میں بھی پورا ہو کر رہا، بے شک یہ لوگ (شروع سے) اپنے نقصان کے درپے تھے۔"

یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کا آپ شب و روز مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ خاص کر "جو سیاسین سوء اور با اثر افراد" ہوتے ہیں ، وہ تو عموما اس خدائی تدبیر کے نرغے میں رہتے ہیں، جیسا کہ قارئین جانتے ہیں۔

منکرینِ حق کی دوستی اور نقالی خسارے کی خشتِ اولین ہے۔ اس کے صدقے میں وہ ہار حصے میں آتی ہے کہ دنیا کے ساتھ آخرت بھی فنا ہو جاتی ہے۔

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تُطيعُوا الَّذينَ كَفَر‌وا يَرُ‌دّوكُم عَلىٰ أَعقـٰبِكُم فَتَنقَلِبوا خـٰسِر‌ينَ ﴿١٤٩﴾... سورة آل عمران

"مسلمانو! اگر تم منکرینِ حق کے کہے میں آ جاؤ گے تو وہ تمہیں الٹے پیروں لوٹا کر لے جائیں گے۔ پھر تم ہی اُلٹے گھاٹے میں آ جاؤ گے۔"

الغرض! صحیح معنوں میں جیت اس کی ہوتی ہے جس کی دنیا کے ساتھ آخرت بھی سلامت رہتی ہے، اگر آخرت کی قربانی دے کر کسی نے اپنی دنیا بنا لی تو سمجھ لیجئے! جیت کر اس نے اپنی زندگی کی ساری پونجی ہار دی۔ یہ الیکشن جو لوگ جیتے انہیں اس امر کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ اس جوئے میں ایمان، ضمیر، انسانی اخلاق اور اسلامی نوامیس تو نہیں ہارے؟ اگر یہ نہیں ہارے تو پھر آپ کی جیت ہوئی، یہ اقتدار، بخت نصر یا فراعنہ اور نماردہ کی میراث نہیں ہے، سلیمانی اور یوسفی تخت و تاج ہے۔ اگر ان مبارک اقدارِ حیات اور لازوال مکرمات کو تج کر جیت پائی تو پھر یقین کیجئے ! آپ ہار گئے، پٹ گئے اور مٹ گئے۔