فقہائے ہند جلد دوم

مولف محمد اسحاق بھٹی

ناشر ادارہ ثقافت اسلامیہ، کلب روڈ، لاہور

صفحات 264

قیمت ساڑھ گیارہ روپے

جناب محمد اسحاق بھٹی صاحب کی زیرِ نظر تالیف کے حصہ اول پر محدث، میں تبصرہ شائع ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر جلد دوم نویں صدی ہجری کے ایک سو پانچ فقہاء، کے حالات پر مشتمل ہے۔ آغاز میں جناب مولف نے اسی (80) صفحات کا طویل اور معلومات انگیز مقدمہ لکھا ہے۔

نویں صدی ہجری میں برصغیر میں طوائف الملوکی کا دور رہا جس میں یکت بعد دیگرے کئی حکمران آئے اور اپنی مدتِ حکمرانی گزار کر یادگارِ ماضی بن گئے۔ خود مختار ریاستوں نے جنم لیا اور انہوں نے علم و ادب کی سرپرستی بھی کی۔ شرقی سلاطین، سلاطین گجرات، سلاطین بہمنیہ اور دہلی کی مرکزی سلطنت کا جامع جائزہ لیا گیا۔ حکومتوں کے ساتھ علماء کے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور دکھایا گیا ہے کہ علماء کس انداز سے حکومتوں پر اثرانداز ہوئے یا خود ان کے سانچوں میں ڈھل گئے۔

جناب بھٹی صاحب نے تقریبا تمام معروف تذکروں سے معلومات کو سلیقہ سے یکجا کر دیا ہے۔ ان کے حسنِ و ترتیب کی داد دینی پڑتی ہے۔ یہ تذکرہ اہلِ ہمت کے لیے ایک لحاظ سے تلاش و جستجو کی دعوت ہے کہ ایک سو پانچ فقہاء میں سے سرزمین پاکستان سے تعلق رکھنے والے صرف سات ہیں۔ ان میں سے پانچ کا تعلق (ملتان وادچ) پنجاب سے ہے اور دو سندھ سے تعلق رکھتے ہیں صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان کے کسی فقیہ کا ذکر نہیں۔

تاریخی اسباب کی بنیاد پر یہ درست ہے کہ ان علاقوں میں علم و ادب کی دیسی بہار نہیں رہی جیسی دہلی اور اس کے گرد و نواح میں تھی۔ تاہم ایک پوری صدی میں پنجاب جیسے مردم خیز خطہ میں صرف پانچ افراد ہی نے جنم لیا، یقینا ایسا نہیں ہے۔ در حقیقت پنجاب کے علماء کا کوئی تذکرہ مرتب نہیں کیا گیا اور علمائے پنجاب میں سے مفتی غلام سرور لاہوری اور فقیر محمد جہلمی کے سوا کوئی ایسا عالم نظر نہیں آتا جس نے اس کام کو چنداں اہمیت دی ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھر کے نجی کتب خانوں کا جائزہ لیا جائے۔ ان میں موجود مکطوطات کھنگالے جائیں اور ایسے گمنام علماء کو منظرِ عام پر لایا جائے جن کے کارنامے کپڑوں کی غذا بن رہے ہیں۔ محدود سی معلومات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں علماء و فضلاء کا کچھ سرمایہ آج بھی مھفوظ ہے جس سے علمائے پنجاب کا مرتبہ متعین کیا جا سکتا ہے۔

یہی حال سندھ، سرحد اور بلوچستان کا ہے۔ امید ہے پاکستان کے علمی ادارے س طرف توجہ دیں گے (ابو شاہد)

(2)

جنازہ غائبانہ مولانا کرم الدین السلفی

صفحات 96

قیمت ؟

پتہ کرم الدین مدرس دارالحدیث رحمانیہ، سولجر بازار، کراچی 3

کتاب کا موضوع نام سے ظاہر ہے۔ اس موضوع پر اردو زبان میں جتنی کتابیں تالیف کی گئی ہیں زیرِ تبصرہ کتاب ان سب سے جامع اور محققانہ ہے۔

مولف نے سب سے پہلے آخرت کا منظر پیش کیا، کہ وہاں کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا، اپنے ہوں یا پرائے، سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔ الا المتقین

اس کے بعد جنازہ کی حقیقت سمجھائی گئی ہے، پھر کیفیت نمازِ جنازہ، اور بعد از دفن اہلِ قبور کو کس طرح دعا کا انتظار رہتا ہے؟

غائبانہ نمازِ جنازہ کا ثبوت، احادیث مرفوعہ، قول اور فعل، پھر آثار موقوفہ، تعامل ائمہ (کہ اپنے اپنے عہد میں انہوں نے کس طرح ایک دوسرے کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی) اور بعض احادیث کی تشریح اور توضیح، اقوال ائمہ اور بعض روایات کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ جو خاصہ دلچسپ اور محققانہ ہے۔ بالخصوص اس سلسلے مین مولف نے تاریخی شہادتوں کا انبار لگا دیا ہے۔ جن کی تعداد (143) بنتی ہے، جن میں علمائے شافعیہ، حنبلیہ، مالکیہ اور حنفیہ سب کا تعامل آ جاتا ہے۔ پاکستان میں جن زعماء اور قائدین کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی اور خود حنفی علمائے کرام نے بھی پڑھائی، ان کی بھی ایک لِسٹ پیش کی گئی ہے۔

اخیر میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد پیش کر کے کتاب کو ختم کیا ہے کہ :

نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہم تک پہنچ جائے، اس کے بعد ہم "چونکہ چنانچہ" کر کے اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کریں تو قیامت میں ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔

اس میدان میں علمائے دیوبند کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہیں کیونکہ وہ اہلِ علم طبقہ ہے۔ مگر افسوس! انہوں نے اپنی علمی قوت کے ذریعے باب حدیث تک پہنچنے کے بجائے محض دائرہ حنفیت کو محیط اور غالب رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں اور بے شمار تاویلوں کے ذریعے ہند میں بالخصوص مسلمانوں کو اندھیرے اور مغالطے مہیا فرمائے ہیں جن کی وجہ سے عموما لوگوں کے دل سے احساسِ زیاں بھی جاتا رہا ہے۔ حنیفیت سے زیادہ "حنفیت" کو متاعِ عزیز بنا کر اور پیش فرما کر دین کی کچھ قابلِ ذکر خدمت انجام نہیں دی، ان کی کتب شروح کے مطالعہ کے بعد حدیث کا قرب کم نصیب ہوتا ہے۔ وہاں بھی حنفیت ہی ان کو زیادہ ملحوظ رہی ہے۔ گوہم اسے بدنیتی پر محمول نہیں کرتے تاہم ان کی یہ بھول بہت بڑی بھول ہے۔

انا لله وانا الیه راجعون

(3)

تاریخ اہل حدیث الشیخ احمد الدہلوی رحمۃ اللہ علیہ

مترجم ڈاکٹر محمد منیر زبیر الراعی السلفی

صفحات 120

قیمت 3/75 روپے

ملنے کا پتہ اسلامی اکادمی ناشران کتب، اردو بازار، لاہور

اہل حدیث: جو جماعت، سنت کو کتاب کی رقیب نہیں، اسے اس کی ترجمان تصور کرتی ہے۔ جس کی فکری اور نظری کاوشوں کا محور "قال اللہ و قال الرسول" ہے۔ جو دوسرے علم و دانش کے تمام اقسام کو "کتاب و سنت" کے خدام کی حیثیت سے اختیار کرتی اور حاصل کرتی ہے، جو طائفہ منصورہ ملتِ اسلامیہ کے تمام قابلِ ذکر زعماء اور عظیم شخصیتوں کو "رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم" کی متوازی گدیاں تصور کرنے کے بجائے ان کو اس کے خدام اور اس کی شمع سنت کے پروانے خیال کرتی ہے اور جس کے نزدیک مسائل و احکام اور شریعت کا ماخذ تنہا کتاب نہیں، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ بھی ہے ۔۔۔ اسے عصری زبان میں اہل حدیث، طائفہ منصورہ، سلفی اور اہل السنہ والجماعۃ" کے لقب اور نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ کوئی "فرقہ" نہیں ہے بلکہ فرقہ بندی اور تحزب کے خلاف ایک "صدائے احتجاج اور ضربِ کلیمی" ہے، جو ملتِ اسلامیہ کی مِلی وحدت کے لیے ان تمام یونٹوں اور اکائیوں کے خلاف سینہ سپر ہے جو کسی بھی درجہ میں، احاد امت کے نام پر امتِ محمدیہ کو مختلف وحدتوں میں تقسیم کرنے کا موجب ہو سکتی ہیں۔

مندرجہ بالا کتاب میں بس اسی جماعت کا تعارف اور اسی سلسلہ کی دوسری تفصیلات پیش کی گئی ہیں جو دراصل "تاریخ اہل حدیث و تعیین الفرقۃ الناجیہ وانہا طائفۃ اہل حدیث" مولفہ حضرت الشیخ احمد الدہلوی ثم المدنی کا اردو ترجمہ ہے۔

افتتاحیہ میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "تذکرہ" کا ایک اقتباس دیا گیا ہے۔ مولانا فرید کوٹی نے اپنے ایک نوٹ کے ذریعے مقلدین سے کچھ سوالات کیے ہیں جس سے کتاب کی معنویت اور ہمہ گیری کچھ زیادہ اجاگر نہیں ہوئی بلکہ کتاب کی وسعتوں کو بھی مناسب نکھار حاصل نہیں ہوا۔

مترجمین نے کتاب کو اپنے استاذ مولانا بدھوانی کے نام نامی سے منسوب کیا ہے۔

تاریخ اہل حدیث (عربی) سئہ 1352ھ میں مطبع کریمی لاہور میں شائع ہوئی تھی، جس میں اغلاط بھی رہ گئی تھیں، اس کے علاوہ اس پر بعض مفید حواشی بھی دیے گئے تھے مگر مترجمین نے ان حواشی کی طرف توجہ نہیں دی۔

جب ایک کتاب پر کام کیا جاتا ہے تو مناسب ہوتا ہے کہ کچھ مناسب تعلیقات کا اضافہ بھی کیا جائے، خاص کر ان شخصیتوں کا تعارف ہی کرا دیا جاتا جن کا کتاب میں ذکر آیا ہے۔

ذیلی عنوان مقرر کرتے وقت "احتیاط" برتی جاتی تو زیادہ مفید رہتا۔۔۔ اسی طرح بعض جگہ ترجمہ مین ثقاہت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔۔۔ تاہم مترجمین نے کتاب پر جو محنت کی ہے، مجموعی لحاظ سے قابلِ قدر ہے۔ اردو خواں طبقہ کے مطالعہ کے لیے بہتر سرمایہ ہے۔ امید ہے کہ مکرر طباعت کے موقعہ پر اس پر مزید توجہ دے کر اس کو زیادہ سے زیادہ جاذبِ توجہ بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

(4)

مسلمان خواتین کے لیے 20 سبق مولانا عاشق الہی بلند شہری

صفحات 128

قیمت 3 روپے

پتہ کتب خانہ شانِ اسلام، اردو بازار، لاہور

کلمہ طیبہ، نماز، زکوۃ، حج، روزہ، دین سیکھنا، بچوں کی تعلیم، اللہ کا ذکر، حقوق العباد، خدمتِ خلق، حقوق والدین، شوہر اور پڑوسی کے حقوق، اخلاص، زبان کی حفاظت، اکلِ حلال، لباس اور زیور، پردہ، اصلاح معاشرہ، نیکیاں پھیلانا، یہ وہ موضوع ہیں جن کو خواتین کے لیے سلیس اور سادہ زبان میں الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ گو اس سے مرد اور بچے بھی یکساں فائدہ حاصل کر سکتے ہیں تاہم لکھتے وقت خواتین کی ضرورت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

مشکوۃ اور ترغیب و ترہیب کی احادیث سے زیادہ استفادہ کیا گیا ہے مگر جہاں جہاں جو روایت بیان کی گئی ہے وہاں پر اس کا حوالہ نہیں دیا گیا ۔۔۔ اسی طرح جہاں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہاں بھی اس کے ماخذ کی نشاندہی نہیں کی گئی، اگر کر لی جاتی تو زیادہ تسکین کا باعث ہوتی۔ اس طرح تحقیق اور تجسس کے لیے تحریک بھی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر قاری مقلد ہو، مقلد بھی ہو تو اس کے دل میں اصل کتاب معلوم کرنے کی خواہش بھی نہ ہو، ضروری نہیں ہے۔