1268۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1347ھ
1852۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1928ھ

آپ 14/ جمادی الاخری سئہ 1268ھ 4/اپریل سئہ 1852ء کو مولانا قاضی محمد حسن خانپوری ہزاروی کے گھر پیدا ہوئے۔

ابتدائی و متوسط تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی، پھر مولانا سید عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ سے امرتسر میں استفادہ کیا۔

درسِ حدیث کی تکمیل علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی سے کی۔

علمِ طب کی تحصیل حکیم نورالدین بھیروی سے کی جب کہ وہ جموں اور کشمیر میں رہتے تھے۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ خانپور میں تدریس کرتے رہے۔ زاں بعد راولپنڈی محلہ تالاب پختہ میں اپنا مکان بنایا اور وہیں مطب کے ساتھ تدریس کرتے رہے۔ مرزائیوں کے ساتھ کئی کامیاب مناظرے کئے، مرزائیوں کے لٹریچر میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اشد مخالفین میں ایک نام آپ کا بھی آیا ہے۔

19/80/19ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی۔

زندگی درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزری۔

15/ جمادی الاخرہ سئہ 1347ھ / 8/دسمبر سئہ 1928ھ کو راولپنڈی میں انتقال ہوا، اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے چھوٹے بھائی قاضی یوسف حسین صابر نے تاریخ وصال لکھی۔
سنو صابر یہ کیا نغمے ہیں غُل میں
عنادل چہچہاتی شاخ گُل میں
لگی ہے بھیڑ کیا جنت کے پُل میں
ہوا شورو فغاں بانگِ دُہل میں
کہ سالِ وصل بحر الہند بولو
گیا عبدالاحد باغ و نزُل میں
1347ھ

آپ کے علمی مقام کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔

"الشيخ العالم الصالح عبدالأحد بن القاضي محمد حسن الخانبوري، أحمد العلماء البارعين في الفقه والحديث، ولد عشاء ليلة الإثنين الأربع عشرة خلون من جمادى الآخرة سنة ثمان و ستين و مائتين وألف، ونشاء في مهد العلم وقرء على أبيه، ثم أخذ الحديث عن السيد نذير حسين الدهلوي المحدث، وصحب الشيخ الكبير عبدالله الغزنوى واستقادمنه"

آپ علمائے اہل حدیث میں سے تھے۔

تصنیفی خدمات

1۔ البیان والاغاثۃ: صفحات 36، یہ کتابچہ حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے اشتہار کے جواب میں لکھا گیا ہے۔

إقامة البرھان علی بطلان التبیان ! البیان والإغاثة کا جواب حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے "التبیان" میں دیا۔ یہ کتاب اس جواب کا جواب ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ بڑے سائز کے 190 صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ شریف پریس راولپنڈی میں سئہ 1327ھ / سئہ 1909ء کو شائع ہوا۔ دوسرا حصہ صفحہ 191 تا 400 تک ہے۔ اس کا نام "ازالۃ اللبس والاشتباہ عن حقیقۃ مذھب پیر مھر شاہ" ہے۔

3۔ صمصام الموحدین: یہ بھی حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ہے، بڑے سائز کے 238 صفحات پر مشتمل ہے۔ مطبوعہ شانتی شین سئہ 1331ھ / سئہ 1913ء۔

4۔ التحقیقات الحقۃ، صفحات 20، مطبوعہ 8 / جون سئہ 1915ء

5۔ استفاء مسائل عشرہ، صفحات 20، مطبوعہ 8/ جون سئہ 1915ء

6۔ سوط الله العزيز الحكيم البارى على متن الحافظ عبدالكريم الارى. مبطوعہ آفتاب برقی پریس امرت سر سئہ 1344ھ / سئہ 1926ء، بڑے سائز کے 168 صفحات

7۔ صرصر العاتيه على عباد الجبت والطاغيه- صفحات ، اسی پیر سے متعلق ہے۔

8۔ السيف المسلول فى نحو شاتم الرسول- 44 صفحات ، بڑا سائز، غلام احمد قادیانی کے رد میں۔

9۔ اظهار مخادعة مسيلمه قاديانى- یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے اشتہار موسومہ "الصلح خیر" مطبوعہ 5 مارچ سئہ 1901ء کے جواب میں لکھی گئی، بڑے سائز کے 22 صفحات۔

10۔ إغاثة الملهوف المسجون في مصائد القادياني المجنون- درجواب رسالہ عجب خان مرزائی تحسیلدار ساکن زیدہ، مطبوعہ ماہ رجب سئہ 1320ھ / سئہ 1902ء، صفحات 80

11۔ انتصار الصديق من الملحد الزنديق، صفحات 16

12۔ سنان الموحدين لدوغ مطاعن الملحدين، انجمن خدام اسلام جموں و کشمیر کی طرف سے شائع کی گئی، صفحات 34، مطبوعہ سٹیم پریس لاہور۔

13۔ النقض المتين على كلام المبين، مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ "الکلام المبین" کے جواب میں لکھی گئی، صفحات 80، مطبع صدیقی، لاہور۔

14۔ القول الفاصل القارق بين الكاذب في دعوى أهل الحديث والصادق، بڑا سائز، صفحات 480، مطبوعہ ساڑھورا سئہ 1332ھ / سئہ 1914ء

15۔ كتاب التوحيد والسنة في رد أهل الإلحاد والبدعة، صفحات 480، مطبوعہ سرحد برقی پریس نپڈی، 25 مارچ سئہ 1919ء

16۔الفيصلة الحجازيه السلطانية، صفحات 29، سلطان ابن سعود سے مکالمہ۔

17۔ الفؤس المصطفرية على رؤس الجهوهروية ۔۔۔قلمی۔۔۔
حواشی

فضل حسین مظفر پوری بہاری ، الحیاۃ بعد المماۃ، مطبوعہ آگرہ سئہ 1326ھ / سئہ 1908ء ص353

مولانا فیض احمد، مہر منیر، لاہور سئہ 1973ء بار اول ص238، ص256

علامہ حکیم عبدالحی لکھنوی، نزھۃ الخواطر، مطبوعہ حیدرآباد دکن سئہ 1390ھ، سئہ 1970ء، ص211 ج 8