بتوں سے پھر گیا دل اب ادھر دیکھا نہیں جاتا
دو مولیٰ پہ ہوں اور سوئے در دیکھا نہیں جاتا
رُخِ خیرُ البشر پھر رُخِ خیر البشر ٹھہرا
ان آنکھوں سے درِ خیر البشر دیکھا نہیں جاتا
اسی کوچے میں بیٹھا ہوں وہیں سے مر کے اٹھوں گا
گدا بے شک ہوں لیکن اور در دیکھا نہیں جانا
جو سمٹیں آنسوؤں کی جھالریں سب کچھ نظر آئے
خطا کس کی ہے جو اے چشمِ تر دیکھا نہیں جاتا
کبھی مہتاب کی صورت اُتر آؤ آنگن میں
ستاروں کو مسلسل رات بھر دیکھا نہیں جاتا
جو تو غفلت سے چونکے راہِ حق بھی خود بخود ابھرے
مُندی آنکھوں تماشائے سحر دیکھا نہیں جاتا
ہزاروں اہل زر اُس آستاں پر سربزانو ہیں
جہاں انسان کی قیمت ہے زر دیکھا نہیں جاتا
دکھا بھی دے عطا کی ہے نظر جس کے لیے مجھ کو
اٹھا بھی دے حجابات نظر دیکھا نہیں جاتا
مسلسل ہو رہی ہے امتِ خیر البشر رُسوا
دعاؤں میں یہ افلاس، اثر دیکھا نہیں جاتا
نظر کی خیرگی ہے پر وہ دارِ عصمت جلوہ
کسی سے اپنا مقصود نظر دیکھا نہیں جاتا
مرے مولیٰ رہوں کب تک میں ان بے دین لوگوں میں
کہ یہ جبر مسلسل عمر بھی دیکھا نہیں جاتا
کھڑا ہوں کب سے محراب حرم کے سامنے دانش
نظر رہ رہ کے اُٹھتی ہے مگر دیکھا نہیں جاتا