ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

کچھ صوفی منش بندے صرف "اللہ اللہ" کا ذکر کرتے ہیں کیا اس کا بھی کچھ فائدہ ہوتا ہے یا قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟

الجواب

فائدے کی بات اور ہے، بہرحال رب کا نام زبان پر رہے مبارک شغلی تو ہے ، لیکن اسے ذکر مسنون نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔۔۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو نہیں مانتے۔

بعض صوفیاء کی باتوں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف "اللہ اللہ" کہنے پر صرف اس لیے اصرار کیا تھا کہ اگر اس کے بجائے وہ "لا إله إلا اللہ" کا ورد کریں تو ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں:

لا الہ (کوئی خدا نہیں) کہتے ہیں دم نکل جائے، اور میں منکر خدا بن جاؤں۔

بعض نے کہا کہ مجھے تو ایسا کوئی شخص نظر نہیں آتا جو "اللہ غیراللہ" کہتا ہو، جب اور ہے نہیں تو میں نفی کس کی کروں؟

«واختار بعض المشائخ من المتأخرين رحمهم الله تعالى " الله الله" نقل من الفتوحات المكية دخلت على بعض شيوخنا وكان مستبزاً بالذكر وكان ذكره" الله" ولا يزيد عليه شيئا فقلت يا سيدي لم لا تقول لا إله إلا الله فقال يا ولدي الإنفاس بيد الله فأخاف أن يقبض روحي عندما أقول" لا ولا إله" فاقبض في وثة النفي وسئلت شيخا آخر عن ذلك فقال ما رأت عيني ولا سمعت أذني من يقول" الله غير الله" فلم أجد من النفي فأقول كما سمعت يقول" الله الله" فأقول (مكتوبات شاه فقيرالله علوى شكارپوری)

یہ باتیں دراصل اس دور کی ہیں جب تصوف فلسفہ بن گیا تھا حالانکہ یہ تزکیہ و طہارت کا ایک خاص مگر سادہ اسلوب کا نام تھا جس کی بنیادیں مسنون اذکار کی اساس پر قائم تھیں۔

بہرحال ہمارے نزدیک متصوفین کی یہ فلسفیانہ تک بندیاں ہیں جو بے روح بھی ہیں اور علم سے عاری بھی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے "لا إله إلا اللہ" افضل الذکر سے تعبیر فرمایا ہے (رواہ ابن ماجہ والنسائی عن جابر) اس کے علاوہ بھی "لا إله إلا اللہ" کے ذکر کے بڑے فضائل مروی ہیں ان کو ان بزرگوں کے اوہام پر قربان کرنا مناسب نہیں ہے۔

بات "لا" یا "لا اله" کے لفظوں کی نہیں بلکہ اس تہیا اور ایقان کی ہے جو ایک ذاکر کے ورد کا محرک ہوتا ہے۔ مدار کار "نیت" ہے، الفاظ نہیں ہیں "لا" یا "لا اله" پر بھی جان نکل جائے تو خدا کے ہاں وہ وہی کچھ لکھا جائے گا جو اس کے سامنے تھا، یعنی یہ کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا، اگر وہ کہنے نہیں پایا تھا اور دم نکل گیا ہے تو حق تعالیٰ اس کی نیت کو تو دیکھتا ہے۔

باقی رہی یہ بات کہ «فلم أجد من النفي» تو یہ بھی ایک تکلف ہے۔ بات یہ نہیں کہ واقعتا کوئی ہو تو اس کی نفی کی جائے بلکہ یہ ہے کہ بنا بھی لیے گئے ہوں تو بھی ان کی نفی کر دینی چاہئے۔

بعض علماء نے بعض روایات سے بھی صرف "اللہ اللہ" کے ذکر کی نشاندہی فرمائی ہے جن میں آتا ہے کہ جب تک "اللہ اللہ" کہنے والے زمین پر موجود ہیں، قیامت نہیں آئے گی۔

«لا تقوم الساعة حتى لا يقال في الأرض" الله الله"»(مسلم)

مگر علماء نے لکھا ہے کہ:

«هومن باب تسمية الشيء بالجمل على سبيل الحكاية» کی قسم کی بات ہے۔ مقصود اس سے "ذکر اللہ" نہیں بلکہ اس کا ماننا ہے، اگر ذکراللہ بھی مراد لی جائے تو اس سے مراد بھی "ذکر مسنون اور ذکر شرعی" ہے۔ یہی بات ﴿ألا بذكر الله تطمئن القلوب﴾ سے اخذ کی گئی ہے مگر اس سے بھی مراد ذکر شرعی ہے معنوی نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں اس قسم کے جو الفاظ ملتے ہیں ان سے مراد "شرعی مفہوم" ہوتا ہے۔

بہرحال بعد میں بعض ایسے ٹانکے جو محض ذہن کے خیالی تصورات اور موشگافیوں کی بنا پر لگائے گئے ہیں کتاب و سنت کی شرعی اصطلاحات اور مفاہیم کو ان کے پلے میں باندھنے سے پرہیز کیا جانا چاہئے، اور جن بزرگوں نے اس سلسلے میں بعض جدتیں اور مذرتیں پیش فرمائی ہیں، پورے احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں معذرت کر دینی چاہئے! واللہ اعلم۔

مشرکوں کے بُنے ہوئے کپڑوں کا استعمال

ایک صاحب لکھتے ہیں کہ بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں جو غیر مسلم لوگ تیار کرتے ہیں۔ اسی طرح ڈرائی کلین کے بارے میں بھی افواہیں گرم ہیں کہ وہاں دھوتے وقت ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہو جاتی ہے تو کیا وہ پہن کر نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

الجواب

اگر یقینی طور پر کسی کپڑے پر آپ کو پلیدی اور نجاست لگی نظر آتی ہے تو اسے دھو ڈالیے۔ اگر بظاہر صاف ستھرا نظر آتا ہے تو آپ کو ٹوہ اور کھوج لگانے کے پیچھے نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ آپ اس کے مکلف نہیں ہیں۔

«إنه صلى فخلع نعليه فخلع الناس نعالهم فلما انصرف قال لم خلعتم؟ قالوا يارسول الله رأيناك خلعت فخلعنا فقال إن جبرائيل أتاني فأخبرني أن بهما خبثا فإذا جاءأحدكم المسجد فليقلب نعليه ثم لينظرفإن رأى خبثا فإذا جاءأحدكم المسجد فليقلب نعليه ثم لينظر فإن رأى خبثا فليهم بالأرض ثم ليصل فيهما» (رواه احمد)

لیکن مزید تکلف میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام مشرکوں کے بُنے ہوئے کپڑے استعمال فرمایا کرتے تھے، ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ کپڑے کو پیشاب میں رنگا گیا ہے تو آپ نے اس کے استعمال سے منع فرمایا جب حضرت اُبی کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنے اور آپ کے عہد میں لوگ پہنا کرتے تھے تو آپ کیوں منع کرتے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ:

«ومن ذلك: إن النبيﷺ كان يلبس الثياب التي نسبحها المشركون ويصلي فيها.

وتقدم قول عمر بن الخطاب رضي الله عنه وهمه أن ينهى عن ثياب بلغه أنها تصبغ بالبول وقول أبي له :مالك أن تنهى عنها؟ فإن رسول اللهﷺ لبسها لبست في زمانه ولوعلم الله إنها حرام لبينه لرسوله ، قال: صدقت (اغاثة اللهغاان ج1ص153)

تعاقب بر فتویٰ

لائل پور سے ہمارے ایک فاضل نوجوان تحریر فرماتے ہیں:

عید الاضحیٰ کی رخصتوں سے واپس آیا تو ذوالقعدہ اور ذوالحجہ دونوں شمارے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تبصرہ پر شکر گزار ہوں۔

ذوالحجہ کے شمارہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے تحت "جابر جعفی" کے متعلق جو آپ نے تحریر فرمایا فدوی کو اس سے تسلی نہیں ہوئی۔ امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو قدماء تلامذہ میں شمار کرنا محل نظر ہے۔ مولانا امیر علی مرحوم سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ علیہ کا قول بہرحال مقدم ہے، فرماتے ہیں۔«فإن احتج محتج بأن شعبة والثوري رويا عنه قلنا ليس من مذهبه ترك الرواية عن الضعفاء»" تهذيب ص50"

امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے اگرچہ جعفی کی توثیق منقول ہے مگر ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:

«حدثنا صالح بن احمد ابن حنبل ثنا على يعنى ابن المدينى قال سمعت يحي بن سعيد يقول سالت سفيان عن حديث حماد عن إبراهيم في الرجل يتزوج المرسية فجعل لايحدثني به مطلني به اياما ثم قال إنهما حدثني ابن جابر يعني الجعفي عن حماد ما ترجوبه منه قال أبومحمد(ابن ابى حاتم) كانه لم يرض جابر الجعفي مقدمه الجرح والتعديل»

کئی دنوں تک ٹالتے رہنے میں گھپلا ضرور ہے۔ اسی طرح مولانا امیر علی کا "أنا أعرف صدقه من كذبه" نقل کرتے ہوئے کہنا "وصليت إلينا في السنن متواترا" یہ سراسر مرحوم کا وہم ہے۔ ترمذی کے مطبوعہ نسخوں میں کہیں یہ عبارت موجود نہیں۔ اس وہم کا اعادہ ان سے التہذیب صفحہ 19 کالم نمبر 1 میں بھی ہوا ہے یہ قول دراصل "الکلبی" کے متعلق ہے۔ جیسا کہ کتاب العدل مع شرح شفاء الخلل مع التحفۃ ص389 جلد 4 کی طرف مراجعت سے معلوم ہوتا ہے۔ میں حتما عرض کرتا ہوں کہ ترمذی میں محولہ عبارت کہیں نہیں نہ تراجم کی کسی کتاب میں اس کا ذکر ہے، اگر آپ اس کی نشاندہی فرما دیں تو شکر گزار ہوں گا۔

اسی طرح محمد بن قرظہ کے متعلق ابن حبان کی توثیق معتبر نہیں، مجہول کو ثقہ کہنے میں ان کا تساہل معروف ہے اور آپ اس سے واقف ہیں۔ حافظ ابن حجر نے تہذیب میں یہ توثیق نقل کرتے ہوئے بھی تقریب ص467 میں اسے مجہول کہا ہے حالانکہ عموما وہ ابنِ حبان کی توثیق پر مقبول کا لفظ بولتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا امیر علی نے التہذیب ص23 کالم 1 میں صراحت کی ہے۔

الغرض ابن قرظہ مجہول ہے۔ یہ مختصر گزارشات پیش خدمت ہیں، عجلت میں عریضہ ارسال کر رہا ہوں امید ہے اس سلسلہ میں تشفی فرمائیں گے اور دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔

الجواب

امام ثوری اور جابر جعفی: ہو سکتا ہے کہ جابر جعفی کی نہ ہو محمد بن السائب کلبی کی بات ہو، لیکن مولانا امیر علی نے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ اگر روایت بالمعنی نہیں ہیں، تو وہ ان سے مختلف ہیں، کلبی کے بارے میں یہ الفاظ ہیں:

«قال لنا الثوري: اتقوا الكلبي فقيل له إنك تروي عنه قال أنا أعرف صدقه من كذبه» (كتاب العلل للترمذى ص2)

صاحب التقعیب نے جعفی کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:

«إن سفيان منع الناس عن الجعفي فقال إنك تجيء إليه وتروى فقال أنا أعرف صدقة من كذبه» (العفيف ص76)

چونکہ صاحب التقعیب نقل کے درجہ میں مستند ہیں، اس لیے جیسے یہ ممکن ہے کہ وہم ہو ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض نسخوں میں یہ بھی ہو، امام ثوری کو جابر جعفی سے جو خصوصی دلچسپی ہے، اس کے پس منظر میں دیکھا جائے تو جو بات مولانا امیر علی نے نقل کی ہے، ان ہونی بات نہیں رہتی، اس کے علاوہ اصولِ حدیث کا یہ ایک روشن باب ہے کہ:

بعض کمزور راویوں کی روایت بعض اوقاف اس لیے محفوظ تصور کر لی جاتی ہے کہ ان سے فلاں مستند راوی نے روایت کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ خود امام ثوری کے مندرجہ بالا قول سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خاص کر امام ثوری اور امام شعبہ کے بارے میں تو یہ بات اور ہی مشہور ہے۔

حافظ ابن حجر کا قول واقعی مولانا امیر علی سے مقدم ہونا چاہئے لیکن یہاں وہ اس کے منافی نہیں ہے، کیونکہ بات ضعفاء سے ترک روایت کی نہیں ہے، تثبت فی الروایۃ کی ہے؟ «بينهما بون كثير»

امام ثوری سے جیسے جعفی کی توثیق مروی ہے، تضعیف بھی مروی ہے، اور ہم بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ اس سے امام ثوری کی خصوصی دلچسپی اس لیے نہیں ہو سکتی کہ خاموشی سے بلکہ للکار کر اس کے کذبات کی اشاعت کرتے رہیں۔

ان احتمالات کے باوجود آپ نے مولانا امیر علی کے جس وہم کی طرف توجہ دلائی ہے، اسے بالکیہ نظرانداز کرنا بھی مشکل ہے، کیونکہ کوئی واقعہ قیاس اور اجتہاد سے ثابت نہیں ہوتا، تاریخی طور پر اس کا ثبوت ہی اصل ہے۔

ابن قرظہ اور ابن حبان کا تساہل: ابن حبان کا جو تساہل معروف ہے وہ محل نظر ہے۔ ان کے تساہل کی اصلیت صرف اتنی ہے کہ وہ حسن کو صحیح کہہ دیتے ہیں، نہ یہ کہ مجہول کو معروف اور کمزور کو ثقہ بنا دیتے ہیں:

قال السيوطى:

«ويقاربه أي صحيح الحاكم صحيح أ بي حاتم بن حبان قيل ما ذكر من تساهل ابن حبان ليس بصحيح فإن غايته إنه يسمي الحسن صحيحا» (الرفع والتكميل لعبدالحى ص21)

قال السخاوي في فتح المغيث:

مع أن شيخنا أي الحافظ ابن حجر قد نازع في نسبته أي التساهل إلامن هذه الحيثية أي إدراج الحسن في الصحيح(ايضا)

باقی رہا مجہول کو ثقہ کہنا؟ سو یہ مطلقا نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ان کی کچھ شروط ہیں۔

"وإن كانت باعتبار طفة شروطه فإنه يخرج في الصحيح ما كان راويه ثقة غير مدلس سمع ممن فوقه وسمع منه الآخذ منه ولا يكون هناك وإرسال ولا انقطاع وإذا لم يكن في الرأي المجهول الحال جرح ولاتعديل وكان كل من شيخه والراوي عنه ثقة ولرواية بحديث منكر فهو ثقة ولم يات بحديث منكر فهو ثقة عنده وفي كتاب الثقات له كثير ممن هذا حاله ربما اعترض عليه في جعلهم ثقات من لم يعرف اصطلاحه ولا اعتراض عليه" (الرفع والتكميل ص21)

اس سے کم از کم یہ تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ ابن حبان کے نزدیک ابن قرظہ کی کوئی روایت محض اس کی وجہ سے "منکر" ثابت نہیں ہوئی۔

ناچیز نے جس مقصد کے لیے اسے پیش کیا ہے، اس کا انحصار صرف اس روایت پر نہیں ہے بلکہ دوسرے شواہد بھی سامنے ہیں، جیسا کہ مرقوم ہے ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی آپ کو اختلاف ہو جیسا کہ ہمارے اکثر افاضل اور بزرگوں کو ہے۔