﴿فَما أوتيتُم مِن شَىءٍ فَمَتـٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ‌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِر‌ونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِر‌ونَ ﴿٣٩﴾...سورة الشورى

"غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے (وہ تو) دنیا کی زندگی کا (صرف چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر (بھی) ہے اور لازوال (بھی مگر) صرف ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں اور (یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے) جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آ جاتا ہے (تو) وہ ان سے درگزر کرتے ہیں اور (یہ) وہ (بندگان خدا ہیں) جو اپنے رب کے لیے سراپا تسلیم و رضا بن کر رہتے ہیں اور نمازیں قائم کرتے ہیں اور ان کے سب کام باہمی صلاح و مشورہ سے ہوتے ہیں اور ہمارے عطا کردہ رزق کو (ہماری راہ میں) خرچ بھی کرتے ہیں اور (یہ وہ لوگ ہیں) کہ جب ان پر بے جا زیادتی ہوتی ہے تو وہ (ان سے اپنا) بدلہ لے لیتے ہیں۔"

دنیا بذات خود بری نہیں مگر یہ صرف "وقت کٹی" کا نام ہے، ہاں اسے لازوال بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یعنی جو خدا کے پاس ہے، اسے اس کی رضا کے مطابق حاصل کیا جائے تو وہ صرف دنیا بردوش نہیں ہو گا بلکہ آخرت دربغل بھی ہو گا، گویا کہ اب دنیا عبادت بھی بن جاتی ہے۔

دونوں جہان، مگر یہ دولت "ایرے غیرے نتھو خیرے" کے لیے نہیں ہے، صرف ان خوش نصیب اور سعادت مند انسانوں کے لیے ریز رو ہے جو

(ا) رب کے سلسلے میں بے یقینی کے مریض نہیں ہیں، انہیں اس امر پر کامل بھروسہ ہوتا ہے کہ خدا کے تشخیص کردہ "نظام حیات" میں دارین کی فلاح اور صلاح دونوں مضمر ہیں ﴿يَتَوَكّلُونَ﴾

(ب) گودہ بشری کمزوریوں سے بالکلیہ محفوظ نہیں ہوتے تاہم ان کے شب و روز بدنام بھی نہیں ہوتے ان کی زندگی میں "عریانی اور فحاشی" نمایاں نہیں ہوتی۔ ﴿يجتنبون﴾

(ج) وہ عالی ظرف ہوتے ہیں﴿هم يغفرون﴾

(د) ان کا سراپا اپنے رب کے حضور تسلیم و رضا کا پیکر ہوتا ہے ﴿استجابو لربهم﴾

(ر) اقامتِ نماز میں وہ جس طرح اپنے کو پیش کرتے ہیں، وہی سراپا خارج نماز میں بھی ان کا برقرار رہتا ہے ﴿اقامو الصلوة﴾

(ص) ان کے معاملاتِ زندگی باہمی مشورہ پر مبنی ہوتے ہیں ﴿شورى بينهم﴾

(ف) پر یہ شورائیہ جلبِ زر کا حیلہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے ارکان راہِ حق اور خدمتِ خلق میں اپنا گھر پھونک کر اپنے اجتماعی مستقبل کا تحفظ کرتے ہیں اور عوام کا بھلا چاہنے میں وہ پورے اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ لُٹ جانے کو پا جانا تصور کرتے ہیں ﴿ينفقون﴾

(ی) لغزش ممکن ہے لیکن زیادتی اور بغاوت کے سلسلے میں مداہنت نہیں کرتے بلکہ پورا پورا چکا دیتے ہیں ﴿هم ينتصرون﴾

اسلام کا پارلیمانی نظام: مملکت کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں بلکہ دوسرے تمام ذیلی اداروں کے اراکین کی وہی صفات ہونی چاہئیں جن کا اوپر کی آیات میں ذکر آیا ہے۔ کیونکہ انہی کے تذکار میں شورائیہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ملتِ اسلامیہ کی شورائیہ کے ارکان وہ نہیں ہوتے جو عموما قوم کو دیکھنے میں آتے ہیں، یہ تو بدنصیب قوم کو دیکھنا پڑ گئے ہیں۔ ملت اسلامیہ کی یہ بہت بڑی بدنصیبی ہے کہ ان لوگوں نے شورائیہ اور پارلیمانی نظام کا تصور تو قرآن سے لے لیا ہے مگر قرآن سے شورائیہ کے اراکین کی صفات کے بارے میں پوچھنے سے کوئی سروکار نہیں رکھا۔ حالیہ پارلیمانی نظام کے تین بڑے ستون ہیں (1) انتخاب (2) خواہش نفس اور (3) اکثریت۔

انتخاب کا ڈھونگ رچاتے ہیں مگر یوں کہ ملک کے صدر اور قوم کے دوسرے زعما کا ووٹ اور ایک ادنی اور بے سمجھ انسان کا ووٹ ایک برابر رہتا ہے۔ اہل علم اور جاہل کی رائے کی حیثیت بالکل ایک جیسی، اسی طرح امیدوار ایک پڑھا لکھا اور دوسرا اَن پڑھ، ایک صالح اور دوسرا بدنام ، دونوں میں مقابلہ جائز۔۔۔ حالانکہ قرآن کا کہنا ہے کہ یہ سب برابر نہیں ہیں۔

﴿أَفَمَن كانَ مُؤمِنًا كَمَن كانَ فاسِقًا ۚ لا يَستَوۥنَ ﴿١٨﴾... سورة السجدة.﴿ قُل لا يَستَوِى الخَبيثُ وَالطَّيِّبُ... ١٠٠﴾... سورة المائدة.﴿وَما يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ‌ ﴿١٩﴾... سورة فاطر.﴿ قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ... ٩﴾... سورة الزمر

خواہش: ان سطحی انتخابیوں کی دوسری بنیادی بات ان کا یہ فیصلہ ہے کہ اپنی خواہش کے مطابق اپنا نظام آپ چلائیں، قرآن کہتا ہے ، ان کی خواہش کو قانونی درجہ حاصل ہونا تو کجا وہ تو نوع انسان کی مت مارے گی اور آخرت کے لیے غارت گر ثابت ہو گی۔ کیونکہ "خواہش نفس" کے غلام، نوع انسان کی امامت کے قابل نہیں رہتے، وہ حیوان یہ انسان، حیوان انسان کا امام کیسے بن سکتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ایسے لوگوں کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کے نمائندے نہیں ہیں، بلکہ وہ جنگلی جانوروں کے پیشوا ہیں، خود بھی گمراہ ہیں، دوسروں کی نیابیں بھی لے ڈوبیں گے، ان جانوروں کا کام ہی بھٹکنا اور بھٹکانا ہے۔ رہنمائی دنیا نہیں ہے۔

﴿وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورة المائدة

اور نہ اپنے ان (بڑوں کی نفسانی) خواہشوں پر چلو جو پہلے سے ہی گمراہ ہیں اور بہتیروں کو گمراہ کر چکے ہیں اور سیدھا رستہ کھو چکے ہیں۔

حق تعالیٰ کی رہنمائی سے بے نیاز ہو کر جو اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں، خدا کے نزدیک وہ۔۔۔ گمراہ اور سب سے بڑھ کر بے راہ ہوتے ہیں۔

﴿وَمَن أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوىٰهُ بِغَيرِ‌ هُدًى مِنَ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ...﴿٥٠﴾... سورة القصص

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہو گا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی نفسانی خواہش کا اتباع کرتا ہے۔

عہد حاضر کے پارلیمانی نظام میں قوم اور اس کے نمائندوں کی خواہشات کو ملحوظ رکھنا فرض عین ہوتا ہے لیکن قرآن کا فیصؒہ ہے کہ مومن صرف حق کا اتباع کرتے ہیں۔

﴿وَأَنَّ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّبَعُوا الحَقَّ مِن رَ‌بِّهِم... ٣﴾... سورة محمد

اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے رب سے آئے ہوئے حق کا اتباع کیا۔

قانونِ حق اور آئین اسلام کے ہوتے ہوئے جو لوگ قانون سازی کی کوشش کرتے ہیں وہ دراصل خدا سے نہیں، اپنے نفس اور نفسانی خواہشات سے استصواب کراتے ہیں، گویا کہ وہ فائنل فیصلے کا حق صرف اپنی ان نفسانی امنگوں کو دیتے ہیں، قرآن کو نہیں دیتے۔۔۔ جو سرتاپا گمراہ کن اور غارت گر ہیں۔

اسلام میں آزادی رائے کا مفہوم مروجہ اور متداول مفہوم سے مختلف ہے۔ حیوانی خواہشات کی بات نہیں بلکہ جسے وہ حق، صحیح اور اقرب الی الحق تصور کرتا ہے، اسے وہ ہر جگہ اور ہر وقت پیش کرنے کا مجاز ہے، جو لوگ صرف دو بالشت آنت، چارگز مکان اور جنسی بھوک کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہڑبونگ مچاتے اور داؤ پیچ لڑاتے ہیں، ان کے لیے آزادی رائے کی ارزانی "فساد فی الارض" پر منتج ہوتی ہے۔

﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الحَقُّ أَهواءَهُم لَفَسَدَتِ السَّمـٰوٰتُ وَالأَر‌ضُ وَمَن فيهِنَّ...﴿٧١﴾... سورةالمؤمنون

اگر حق کہیں ان کی (نفسانی) خواہشوں کے تابع ہو جاتا تو آسمان و زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں (بالکل) تباہ ہو جاتے۔

اکثریت: صرف اکثریت معیارِ حق نہیں ہے مگر موجودہ پارلیمانی نظام اسے ہی رب، اسے ہی قرآن، اور اسے ہی رسول کا درجہ دیتا ہے۔ روئے زمین کے انسان ایک طرف ہوں اور حاملِ قرآن جو فردِ واحد ہو، دوسری طرف ہو، تو خدا کے نزدیک اسی فردِ واحد کا پلہ سب سے بھاری ہے۔ اس لیے حق تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ:

﴿وَإِن تُطِع أَكثَرَ‌ مَن فِى الأَر‌ضِ يُضِلّوكَ عَن سَبيلِ اللَّـهِ... ﴿١١٦﴾... سورةالانعام

(اے پیغمبر!) اکثر لوگ تو دنیا میں ایسے ہیں کہ اگر ان کے کہے پر چلو تو وہ تم کو راہِ خدا سے بھٹکا کے چھوڑیں۔"

کیونکہ اکثریت عموما ان جان ہوتی ہے۔

﴿بَل أَكثَرُ‌هُم لا يَعلَمونَ ﴿١٠١﴾... سورة النحل

بلکہ وہ کم عقل ہوتی ہے﴿بَل أَكثَرُ‌هُم لا يَعقِلونَ ﴿٦٣﴾... سورةالعنكبوت

بلکہ اکثریت بے ایمان بھی ہوتی ہے۔

﴿بَل أَكثَرُ‌هُم لا يُؤمِنونَ ﴿١٠٠﴾... سورةالبقرة

بلکہ اکثریت حق سے نفرت کرتی ہے۔

﴿وَأَكثَرُ‌هُم لِلحَقِّ كـٰرِ‌هونَ ﴿٧٠﴾... سورة المؤمنون

اگر کہیں کوئی اکثریت "کلمہ گو" ہے بھی تب بھی "شرک" کی آمیزش سے وہ پاک نہیں ہوتی۔

﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّـهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ﴿١٠٦﴾... سورة يوسف

کیونکہ ان میں ان کی اوہام پرستی، نجی لالچ، مفادِ عاجلہ کی خواہش، مداہنت، لومۃ لائم کا خوف وغیرہ جیسی قباحتوں کی آمیزش ہو ہی جاتی ہے۔ اس لیے اسلام میں اکثریت کو بالکلیہ میزانِ حق نہیں قرار دیا جا سکتا۔

اسلامی پارلیمانی نظام میں غیر منصوصی امور میں صلاح و مشورہ کی پابندی ضرور ہے لیکن محض وضوحِ حق اور صواب کے لیے، اس کے بعد میر مجلس آزاد ہوتا ہے ، جیسے وہ ملک و ملت اور اسلامی مستقبل کے لیے مناسب تصور کرے، فیصلہ دے سکتا ہے۔ مشورہ "امیر المومنین" کو باندھنے کے لیے نہیں تجویز کیا گیا بلکہ ان کے سامنے صرف "وضوح" کے لیے کیا گیا ہے۔ جیسے عدالتوں میں وکلاء کی بحث و تمحیص کے بعد جج اور قاضی آزاد ہوتا ہے کہ پیش آمدہ امر کے لیے جو بحث و تمحیص ہوئی ہے اس کی روشنی میں وی جس نتیجے پر پہنچے فیصلہ صادر کر سکتا ہے، اسے وکلاء کی اکثریت کے تابع نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ صلاح و مشورہ کی اور کسی بھی صنف میں مشورہ لینے والے کو مشورہ دینے والوں کی اکثریت یا اقلیت کے تابع مہمل نہیں بنایا جاتا، پھر یہاں کیوں؟ اصل میں یہ پابندی اس وقت تشخیص ہوئی ہے جب بے دین، خدا سے بے خوف اور جاہ پرستوں کا دور دورہ شروع ہوا ہے۔ نیک اور بے لوث امیر المومنین کے لیے یہ پابندی ایک بے جا بدگمانی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ بہرحال کثرت کو قاطع نزاع کی حد تک بھی تسلیم کرنا ہمارے نزدیک محلِ نظر ہے، کیونکہ یہ اکثریت بھی بعض اوقات اغراضِ سئیہ کی بنا پر "مکھی پر مکھی" مارنے سے دریغ نہیں کیا کرتی، خاص کر موجودہ نام نہاد دورِ جمہوری میں تو اکثریت عموما حق و انصاف کی قاتل بھی ہے اور پارلیمانی ہاؤس میں عصبیت کا مکروہ دیو بھی۔ اس لیے اگر یہ ایک مقابلے میں ہزار بھی ہوں تو وجہ طمانیت اور حق و صداقت کا اب حتمی اور واقعی معیار نہیں رہا۔ الا ماشاءاللہ۔ چنانچہ قرآن کا ارشاد ہے کہ:

﴿قُل لا يَستَوِى الخَبيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَو أَعجَبَكَ كَثرَ‌ةُ الخَبيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّـهَ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ...﴿١٠٠﴾... سورة المائدة

ترجمہ: آپ (ان سے) فرما دیں کہ : ناپاک (گندے) اور پاک (ستھرے) (دونوں) برابر نہیں ہو سکتے، اگرچہ گندوں کی کثرت آپ کو حیرت میں ڈالتی ہو۔

شورائیہ، میرِ کارواں کو باندھنے کے لیے تشخیص نہیں کی گئی بلکہ "وضوحِ حق" کے لیے اس کی مدد کرنے کی یہ ایک سبیل ہے، جیسے عدالتوں میں وکلاء کی حیثیت ہوتی ہے۔

ان کے علاوہ جو بہکے اور بھٹکے ہوئے اراکین ہوتے ہیں، گو ساری قوم ان کو منتخب کر لے، تاہم ایک "بندہ حنیف" سے مطالبہ ہے کہ ان کی پرواہ نہ کیجئے۔

﴿وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورةالمائدة

اور نہ ان لوگوں کی (نفسانی) خواہشات کے پیچھے چلو جو (1) پہلے ہی گم کردہ راہ ہیں (2) اور دوسروں کو گمراہ بھی کر چکے ہیں (3) اور خود بھی راہِ راست سے بھٹک گئے ہیں۔

شورائیہ، اسلام کی رُو سے اشد ضروری ہے لیکن اس کے اراکین "دو صد خر" یا دو صد ہزار ابلیس نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ضروری ہے کہ وہ (1) پختہ کار (2) دیانتدار (3) حاملِ کتاب (4) اور سنتِ رسول کے وفادار ہوں، گو وہ چند ہوں تاہم کام کے ہوں، رہنمائی دے سکتے ہوں، کسی کی زلفِ گرہ گیر کے ایسے اسیر نہ ہوں کہ ایمان اور ضمیر کو بھی اس پر قربان کر ڈالیں، ان نمائندگانِ قوم کے نقوش پا کا اتباع مطلوب بھی ہے اور فلاحِ دارین کا موجب بھی۔

﴿وَاتَّبِع سَبيلَ مَن أَنابَ إِلَىَّ... ١٥﴾... سورة لقمان

یعنی ان لوگوں کی راہ پر چل جن کا رخ ہماری طرف رہتا ہے۔

فیصلہ کی بنیاد، حیوانی خواہش، نہ کثرت، بلکہ حق اور صرف حق ہے۔

﴿قُل لا أَتَّبِعُ أَهواءَكُم ۙ قَد ضَلَلتُ إِذًا وَما أَنا۠ مِنَ المُهتَدينَ ﴿٥٦﴾... سورة الانعام

کہہ کہ میں تمہاری خواہشوں پر تو چلتا نہیں، ایسا کروں تو میں اس صورت میں گمراہ ہو چکا اور ان لوگوں میں نہ رہا جو راہ راست پر ہیں۔

فراعنہ کی پوری کابینہ اور شورائیہ کا ایک ہی "مرد مومن" حق بات کے لیے اڑ گیا اور پوری کابینہ اور شورائیہ کے طرزِ عمل اور فیصلے کے خلاف آواز بلند کی اور خدا کے ہاں معراج پا گئی۔ (پ24۔مومن ع4)

اس لیے بات کثرت کی نہ کیجئے! حق کی کہئے! اگر باخدا سرراہِ مملکت کی نگاہ میں ایک فرد کی بات بھی اقرب الی الحق ہے تو وہ پوری کثرت کو نظر انداز کر کے اس کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔ قاطع نزاع دراصل اراکین اسمبلی کی کثرت نہیں بلکہ سربراہِ مملکت یا میرِ مجلس کی صوابدید ہے۔ باقی رہا یہ اندیشہ کہ سربراہِ مملکت اگر بدنیت ہو تو پھر کیا بنے؟ اصل میں یہ بھی ایک فریبِ نفس ہے ورنہ یہی اندیشہ اکثریت کی بابت بھی ہو سکتا ہے؟ اور یہ ہم سب کا روز و شب کا مشاہدہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ ہم بات ایمانداروں کی کر رہے ہیں، بے ایمانوں کی نہیں۔

قومی خواہشات نہ کثرت

«عن أبي أمامة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ما تحت ظل السماء من إله يعبد أعظم عند الله من هوى متبع (الترغيب والترهيب للمنذري طبع هند بحواله طبراني وابن أبي عاصم)

حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

اللہ کے نزدیک آسمان کے نیچے ، خواہشِ نفس جیسے پیر سے بڑھ کر ایسا اور کوئی "معبود نہیں ہے جس کی پوجا کی جاتی ہو۔

اس حدیث کے سمجھنے کے لیے دورِ حاضر سے بڑھ کر شاید ہی کبھی اور کوئی سازگار فضا پیدا ہوئی ہو۔۔۔ علم و دانش کے عہد سے پہلے جو دور رہا ہے، اسے "دورِ بے دانش" یا زیادہ سے زیادہ دورِ حیوانی کہا جا سکے گا، کیونکہ وہ "بے خبری کا" کا دور تھا، ایسے عالم میں انسان عموما ویسے ہی زندگی گزارتا ہے، جیسے ایک جانور گزارتا ہے، لیکن ایسا دور جو علم و ہوش کا دور کہلاتا ہو جو تمام اعمال اور احساسات کا ایک پس منظر ، اور ایک فلسفہ رکھتا ہو، جس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ایک آئین اور دستور کے تابع ہو، اس دور میں، جب قومی خواہشات کو ایک آئینی اور قانونی حیثیت حاصل ہو قومی امنگوں اور حیوانی دلچسپیوں کی اساس پر پوری مملکت کی عمارت کھڑی کی جاتی ہو تو دراصل وہی دور اس حدیث کے مفہوم تک زیادہ رسائل حاصل کر سکتا ہے۔

مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک، جمہوری نظام کے گن گائے جا رہے ہیں اور جمہوریت کی یہ تعریف کی جا رہی ہے کہ جو قومی امنگوں اور خواہشات کے احترام پر مبنی ہو اسے جمہوریت کہتے ہیں۔۔۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فطری سادگی "عبادت" کا درجہ حاصل کر لیتی ہے اس لیے اب اگر یہ کہا جائے کہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا معبود نفس اور اس کی خواہشات ہیں تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔

ہمارے نزدیک دورِ حاضرکا موجودہ جمہوری نظام قومی اور قومی نمائندوں اور اس کی خواہش نفس کے محور پر گھوم رہا ہے، اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ اس نیلگوں آسمان کے نیچے اس دور کا "معبودِ اعظم" اس کا بہیمی نفس، بہیمی میلانات اور نفسانی خواہشات ہیں تو یہ ایک واقعہ اور حقیقت ہو گی۔

نفسانی خواہش اسے کہتے ہیں جو "بے خدا" ہو، اس دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جہاں شعوری طور پر لوگ احساسِ خدا سے ہمکنار ہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آئین، قانون اور سیاسیات میں، خدا کی مرضی اور اس کے رسول کے اسوہ حسنہ کو ملحوظ رکھا ہے، وہاں بھی ان کے دعوے کاغذی فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، کیونکہ اب بھی عموما وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو ان کے "نفس امارہ" کا حکم ہوتا ہے۔۔۔ ان کے دعوے اور عمل کے اس تضاد نے "نفسانی خواہش" کے "معبودِ اعظم" ہونے کو اور واضح کر کے یہ بات بھی ثابت کر دی ہے کہ نفس کا یہ دیوتا ( اس آسمان کے نیچے واقعی سب سے زیادہ طاقت ور بھی ہے۔۔۔ کیونکہ نوع انسان کی انفرادی اور اجتماعی پوری زندگی اس کے سامنے سجدہ ریز ہے۔

انفرادی زندگی میں " بے خدا خواہشِ نفس" معصیت، اجتماعی زندگی میں " بےخدا سیاست" اور مذہبی حلقوں میں یہ "بدعت" کہلاتی ہے۔ اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إني أخاف على أمتي من ثلاث من زلة عالم ومن هوى متبع ومن حكم جابر»(رواه البزار والطبرانى)

اپنی امت کے بارے میں مجھے تین چیزوں کا اندیشہ ہے (1) عالم کی لغزش کا (2) خواہشِ نفس کی قہر مانی کا (3) اور تیسرا ظالم فیصلہ کرنے والے کا۔

بدعت: (بے خدا مگر جاذب خواہش نفس) دراصل نفس کی مرغوب غذا ہے، لیکن ضمیر کی خلش سے نجات پانے کے لیے ایسے مذہبی حلقوں کو روحانی فریب کی آمیزش کے سہارے بھی مہیا کر دیے جاتے ہیں، اسی لیے یہ بدعت (بے خدا خواہشِ نفس) یہاں پر فریب خوردہ مذہبی دنیا کو "سنت" سے بھی زیادہ عزیز بلکہ عزیز از جان ہو جاتی ہے۔ چنانچہ جہاں یہ ڈیرے ڈال لیتی ہے وہاں سے "سنت مطہرہ" اٹھ جاتی ہے۔

«قال النبي صلى الله عليه وسلم ما أحدث قوم بدعة إلارفع مثلها من السنة (رواه احمد والبزار)

ہمارے نزدیک اصلی اور مہلک بدعات میں سے ایک بدعت سیاسی بھی ہے جسے "سیاست باز" اختیار کر کے ملک اور قوم کے نام پر گوارا بنا لیتے ہیں ۔۔۔ بالکل اسی طرح جس طرح مذہبی لوگوں کا حال ہے۔

شورائیہ: یہی حال "شوری" اور "کثرت رائے" کا ہے کہ سربراہِ مملکت "مشورہ" لینے کا پابند تو ضرور ہے لیکن اہل شوری کے مشورے کے ساتھ بندھ نہیں جاتا، وہ اکثر ہوں یا اقل یا مساوی، کیونکہ اس سے غرض "وضوح" ہے باندھنا نہیں ہے۔

غزوہ بدر میں بدری قیدیوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی شورائیہ بلائی، کہ وہ اب آپ کے قابو میں آ گئے ہیں، ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہئے؟ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ ان کو تہِ تیغ کر دیا جائے، آپ نے سُن کر اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر آپ نے مکرر پوچھا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہی مطالبہ کیا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ ان سے فدیہ لے کر معاف کر دیا جائے۔ اس پر آیت نازل ہوئی کہ اگر پہلے ہی سے اللہ کا یہ قانون نہ ہوتا تو زرِ فدیہ لینے پر تم پر عذاب آ جاتا:

«قال الإمام أحمد: حدثنا على بن هاشم عن حميد عن أنس رضي الله عنه قال استشار النبي صلى الله عليه وسلم الناس في الأسارى يوم بدر فقال إن الله قد أمكنكم منهم فقام عمر بن الخطاب فقال يارسول الله أضرب أعناقهم فأعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم ثم أعاد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ياأيهاالناس! إن الله قدأمكنهكم منهم إنهم إخوانكم بالأمس فقام عمر فقال يارسول الله أضرب أعناقهم فأعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم فقال للناس مثل ذلك فقام أبوبكر الصديق رضي الله عنه فقال يارسول الله نرى أن تعفوا عنهم وأن تقبل منهم الفداء قال فذهب عن وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ماكان فيه من الفم فعفاعنهم وقبل منهم الفداء قال فأنزل الله عزوجل: لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما أخذتم عذاب عظيم(الانفال) تفسير ابن كثير ج2ص325)

اس روایت سے یہ باتیں ثابت ہوئیں کہ:

1۔ غیر منصوص امور میں مشورہ کرنا ضروری ہے۔ (استشار النبي صلی اللہ علیه وسلم الناس)

2۔ دوسرا یہ کہ مشورہ لینے والے، مشورہ کو رد بھی کر سکتے ہیں۔ (فأعرض عنه)

3۔ تیسرا یہ کہ مزید وضاحت کے لیے مکرر سہ کرر بات کو دہرا سکتے ہیں (ثم أعاد)

4۔ چوتھا یہ کہ اگر مناسب سمجھا جائے تو مشورہ کو بعینہ قبول بھی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اصل غرض مشورہ لینے والے کا اطمینان ہے، نہ ہو تو رد کر سکتا ہے، جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کیا، اگر اطمینان ہو جائے تو قبول بھی کر سکتا ہے جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کیا۔ (فعفا عنھم)

اس سے اکثر بھی ہوں تو بھی یہی کیفیت ہے، امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضور کے اس مشورہ کے موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی بولے تھے، انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آگ جلا کر ان کو جلا ڈالا جائے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف بھی توجہ نہ دی، اس پر آراء مختلف ہو گئیں، کچھ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمنوا ہو گئے، کچھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اور کچھ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے ۔۔ موخر الذکر دو تو ان کو ختم کرنے کے درپے تھے صرف ختم کرنے کی کیفیت میں اختلاف رہا۔۔۔ تاہم ان کو معاف کرنے کے حق میں نہیں تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل فرمایا۔

«وقال الأعمش عن عمر بن مزة عن أبي عبيدة عن عبدالله قال لما كان يوم بدر قال رسول اللهﷺ: ما تقولون في هولاء الأ سارى؟ فقال أبوبكر يارسول الله قومك وأهلك استبقهم واستبتهم لعل الله يتوب عليهم وقال عمر يارسول الله كذبوك وأخرجوك فقدمهم فأضرب أعناقهم وقال عبدالله بن رواحة يارسول الله: أنت في واد كثيرا لحطب فاضرم الوادي عليهم نارا ثم انفهم فىه قال فسكت رسول اللهﷺ فلم يرد عليهم شيئا ثم قام فدخل فقال ناس يأخذ بقول أبي بكر وقال ناس يأخذ بقول عمر و قال نا س يأخذبقول عبدالله بن رواحة الحديث(قال ابن كثير ج2 ص325 رواه الإمام أحمد والترمذي من حديث أبي معاوية عن الأعمش به والحاكم في مستدركه وقال صحيح الإسناد ولم يخرجاه)

اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ دونوں گروپوں کی کثیر تعداد کے مشورہ کی پرواہ نہ کی بلکہ اپنے اطمینان کے بموجب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورہ کو اختیار فرمایا۔ اس کے معنی ہیں کہ سربراہِ مملکت ایسا کر سکتا ہے، قرآن حکیم سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ فرمایا کہ ان سے مشورہ کیجیے جب کسی نتیجہ پر آپ پہنچ جائیں تو پھر کر گزرئیے۔

﴿وَشاوِر‌هُم فِى الأَمرِ‌ ۖ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ...﴿١٥٩﴾... سورة آل عمران

"یعنی ان سے مشورہ لیتے رہئے (لیکن) جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو (پھر) اللہ پر بھروسہ رکھیے۔"

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ گرفتار ہو کر آتے ہیں، انصار ان کو قتل کرنے کے حق میں ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمنوا ہیں مگر آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کیا۔

«أسره رجل من الأنصار قال واوعدته الأنصار أن يقتلوه فبلغ ذلك النبي ﷺ فقال رسول الله ﷺ إني لم أنم الليلة من أجل عمي العباس وقد زعمت الأنصار أنهم قاتلوه فقال له عمر فآتهم فقال نعم قال عمرا لأنصار فقال لهم أرسلوالعباس فقالوا لا والله لا نرسله فقال لهم عمر فان كان لرسول اللهﷺرضىً قالوا فإن كان لرسول اللهﷺ أبابكر فيهم فقال أبوبكر عشيرتك فأرسلهم فاستشار عمر فقال اقتلهم ففاداهم رسول الله ﷺ( تفسير ابن كثير ج2ص326 وقال، قال الحاكم صحيح الإسناد لم يجرجاه)

مقصد یہ ہے کہ شورائیہ، سربراہ مملکت کو باندھنے کے لیے تجویز نہیں کی گئی بلکہ اس سے تعاون کرنے کے لیے تشخیص کی گئی ہے تاکہ وہ مل کر صورتِ حال کا جائزہ لیں، پیش آمدہ مسئلہ پر روشنی ڈالیں یہاں تک کہ صدر کسی نتیجہ پر پہنچنے کے قابل ہو جائے، اس کے بعد وہ آزاد ہے، چاہے تو اکثریت کی بات پر عمل کر لے چاہے تو اقلیت کی بات پر کرے۔۔۔ باقی رہی اس کو "اکثریت" کے پلے میں باندھنے کی پالیسی؟ سو ہمارے نزدیک یہ اسلامی روح کے خلاف ہے، اسلام دلائل، حقانیت، اور صداقت کی اہمیت پر زور دیتا ہے، بندوں کی آراء کو تولنے کی بات سمجھاتا ہے، اس کو گننے کی بات نہیں کرتا۔ جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ورنہ حق، حق نہ رہے بلکہ اکثریت ہی حق بن جائے۔ ایسی صورت میں "نزول وحی" کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ یہ کام تو ویسے بھی چلتا رہتا ہے۔

بعض آئمہ نے کہا ہے کہ آیت ﴿تريد ون عرض الدنيا﴾سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثریت کا نظریہ ہی "فدیہ" لینے کا تھا اور اکثریت کے مطابق ہی فیصلہ ہوا مگر یہ بات محل نظر ہے، کیونکہ یہ الزام اور تہدید صرف اس بنا پر وارد ہوئی ہے کہ:

فیصلہ کی بنا "فدیہ" کا نظریہ تھی، وہ تھوڑے تھے یا بہت؟ اس سے یہاں بحث نہیں ہے۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو یہ بات اور واضح ہو جائے گی کہ اکثریت کا حق پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس لیے ان پر عتاب نازل ہوا۔ فہوالمراد! ہاں اس صورت میں اور جو بات سامنے آئی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ اس سلسلے میں خطا اجتہادی پر سزا اور گناہ معاف ہے۔

ارکان شورائیہ: آئمہ دین نے ان ارکان اور حضرات کی صفات بھی متعین کر دی ہیں جن سے مشورہ لینا مفید اور مناسب ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں، ان میں یہ پانچ خوبیاں اور محاسن ضرور پائے جائیں۔

صاحبِ تجربہ: سب سے پہلے یہ کہ وہ پختہ عمر اور تجربہ کار ہوں۔

«احدا من عقل كامل مع تجربه سانعة» (ادب الدنيا والدين ص273)

کمسن اور خام لوگ مشورہ کے اہل نہیں ہوتے الا ماشاءاللہ، مگر موجودہ دورِ حکومت میں اس شرط کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اس لیے اسمبلی اور اداروں میں ایسے لوگ بھرتی ہو جاتے ہیں جو تماشائی تو ثابت ہو سکتے ہیں مفید مشورہ کے قابل عموما کم ہوتے ہیں۔

دیندار اور متقی ہوں: دوسری صفت ان میں یہ ہو کہ وہ بازاری اور بے دین نہ ہوں، اہلِ دین اور متقی ہوں، کیونکہ ان کو جو سوچنا اور سمجھانا ہے، وہ انہی پاکیزہ اقدار کی روشنی میں سوچنا اور سمجھانا ہے، صلاح اور نجاح و فلاح کا انحصار انہی پر ہے۔

«والخصلة الثانية: أن يكون ذادين وتقى فإن ذلك عماد كل صلاح وباب كل نجاح ومن غلب عليه الدين فهو مامون السريرة موفق العزيته »( ادب الدنيا والدين للماوردى ص273)

یہ ایک ایسی صفت ہے جو دنیا کی کسی بھی پارلیمنٹ اور شورائیہ کے لیے ضروری نہیں تصور کی جاتی، وہ دورِ حاضر کے مسلمان ملک ہوں یا غیر مسلم، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایک حیوان کی حیثیت سے تو شاید کہیں ترقی کی ہو لیکن بحیثیت ایک مسلم اور ملت اسلامیہ، شاید و باید ۔۔۔ دنیا کا نقشہ آپ کے سامنے ہے۔

ملی جذبات سے سرشار ہوں: تیسری یہ بات ان کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مسلم اور ملت اسلامیہ سے مخلصانہ محبت ہو اور وہ سوز کے حامل ہوں، خیرخواہی کے جذبات سے سرشار ہوں۔

«والخصلة الثالثة: أن يكون ناصحا ودودا فإن النصح والمودة يصدقان الفكر ويمحضان الرأي» ( ادب الدنيا والدين ص274)

افسوس! یہ در نایاب، بالکل نایاب ہے، قوم کو اس کا احساس ہے نہ اربابِ حل وعقد کو، یہاں خدمت کے جذبہ سے شاید ہی کوئی آتا ہو، جو آتا ہے صرف اس لیے آتا ہے کہ وہ مخدوم بنے اور شاہزادگی کرے یعنی قوم کا کاروبار کرنے کو آتا ہے۔

نجی غم سے مغلوب نہ ہو: گھریلو اور نجی ہموم اور غم و اندوہ سے اس درجہ مغلوب نہ ہو کہ وہاں بھی اسے اپنی ہی بپتا یاد رہے کیونکہ ایسے آدمی سے بے داغ رہنمائی کا حصول مشکل ہوتا ہے۔

«والخصلة الرابعة: ان يكون سليم الفكر من هم قاطع وغنم شاغل فإن غارضت فكرة شوائب الهموم لايسلم له رأي ولا يستقيم له خاطر » (ادب الدنيا والدين ص274)

اس سے مراد ایسا شخص ہے جو دائمی طور پر اس ابتلاء کی نذر ہو گیا ہو۔ باقی رہا وقتی معاملہ؟ سو یہ ممنوع نہیں، کیونکہ اس سے بالکلیہ محفوظ بہرحال ابنِ آدم نہیں ہے ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ان حالات میں ان کو مشورہ دینے سے مستثنیٰ ہی رکھا جائے۔ اور ان کا ووٹ بھی شمار نہ کیا جائے۔

متعلقہ امر سے ان کی غرض وابستہ نہ ہو: پانچویں یہ بات ہے کہ ایسے آدمی کے استصواب الرائے سے پرہیز کیا جائے، جس سے اس کی اپنی نجی غرض اور سیاسی حاجت وابستہ ہو، کیونکہ اب ایسے انسان کی رائے اور مشورہ مخدوش ہو جاتا ہے۔

«والخصلة الخامسة: أن لايكون له في الأمر المستشار غرض يتابعه ولا هوى يساعده فان الأغراض جاذبة والهوى صادالرأي إذاعارضه الهوى وجاذبته الأغراض فسد» (أدب الدنيا والدين للماوردي ص274)

اس کے معنی ہیں پارلیمنٹ میں ایسے ٹولے یا افراد کا ووٹ شرعا کوئی اہمیت نہیں رکھتا، جس سے ان کی اپنی کوئی سیاسی اور نجی غرض وابستہ ہو، اس لیے اسمبلیوں میں عموما جوتوں میں جہاں دال بٹتی ہے وہاں سپیکر کے لیے یہ معلوم کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ اس ہاؤس میں کس کا ووٹ شمار ہونا چاہئے اور کس کا نہیں۔۔۔ مگر افسوس! سپیکر بھی اس سیٹ کی بھیک ہی مانگ کر آتا ہے۔ اس کی کیا مجال کہ وہ اس کی نشاندہی کرے۔ جان سے امان پائے اور کوف، خدا کی بھی اس میں کچھ رمق موجود ہو تو پھر ممکن ہے کہ وہ کچھ ٹوں ٹاں کر پائے ورنہ
ایں خیال است و محال است و جنون

اسلامی شورائیہ کے ارکان کے یہ وہ خصائص ہیں، جن کو ملحوظ رکھنا گو ضروری ہوتا ہے مگر اب ان سے زیادہ غیر ضروری بات بھی اور کوئی نہیں رہی۔ فإلی اللہ المشتکی

یہ صفات جیسے انفرادی معاملات کے لیے ضروری ہیں ویسے اجتماعی نظام میں بھی اہم اور ضروری ہیں۔