میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گذشتہ چار پانچ صدیوں کے اندر یورپ میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ہمہ گیر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیر بھی ہیں۔ ان کی لپیٹ میں حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ اور ہر فرد آیا ہے۔ مشرقی اور مسلم ممالک نےدانستہ اور نادانستہ اُن کے اثرات کو قبول کیا ہے۔ اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو اُن تبدیلیوں کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ دور ِجدید میں ہر فکری تعبیر کےپس منظر میں اُنہیں دیکھا جا سکتا ہے اور یہ تبدیلیاں دنیا میں پہلے سے موجود مکاتبِ فکر کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرگئی ہیں۔ان حالات میں قدیم مکتبہ ہائے فکر کی طرف سے تین رویے سامنے آئے ہیں:

خود سپردگی٭ انکار٭ جمع و تطبیق

ہرفکر اپنے پس منظر میں ایک گہری ثقافت رکھتی ہے۔وہ اپنے حاملین کے مخصوص تاریخی رویے کا اظہار کرتی ہے۔چنانچہ اس کے قائلین کا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی تعبیر کو پسند کرتے ہیں جو ان کی ثقافت کو مزید تاریخی جواز فراہم کرے اور ان کی قدیم تاریخی روش کی حوصلہ افزائی کرے۔ لیکن حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ 'حق' کو ہرحال میں تسلیم کیا جائے اورباطل کی ہر حال میں تردید کی جائے اور حقائق کو اپنی خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ جو چیز جہاں بھی ہے، اگر وہ حق ہے تو اسے تسلیم کیا جائے اور اسی طرح باطل جہاں بھی ہے، اس کی تردید کی جائے۔ لیکن اس چیز کا خیال رکھا جائے کہ اس میں کسی بھی پہلو سے افراط و تفریط نہ آئے۔ جو جتنا حق ہے، اسے بس اتنا ہی حق کہا جائے اور باطل کو بھی اس کی حد تک ہی تسلیم کیا جائے۔

یورپ کی ان گوناگوں تبدیلیوں میں سے سردست سیاسی تبدیلی کے حوالے سے چند پہلوؤں پر بات کرنا ہمارے پیش نظر ہے۔ لائق احترام وہی رویہ ہے جو حقیقت پسندانہ ہو!!

فرانسیسی انقلاب، سیاسی تغیر و تبدل کے حوالےسے قدیم و جدید کے دوران حد ِفاصل ہے۔ اگرچہ انقلابِِ فرانس سے پہلے بھی زندگی گزارنے کے لیے بالعموم سیکولر طرزِ فکر تشکیل پاچکا تھا لیکن اسے باقاعدہ طور پر مرتب انقلاب کے بعد ہی کیا گیا،چنانچہ اس طرزِ فکر کو سیاسی و قانونی سطح پر تحفظ دینے اور معاشرتی سطح پر اس کی ترویج و تنفیذ کے لیے جو سیاسی نظامِ متعارف کرایا گیا وہ 'جمہوریت' تھا۔ جمہوریت ایک خاص قسم کا سیاسی نظام ہے جس کی ساخت وپرداخت ہی اس طرح سے کی گئی ہے کہ وہ سیکولر فلسفہ و فکر کو سیاسی لحاظ سے تحفظ کی ضمانت دے۔ جمہوریت کی اساسی اقدار: آزادی اور مساوات ہیں۔آج جب ان بنیادی جمہوری اقدار کا مطالعہ ہم کرتے ہیں تو اکثر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔مثلاً اکثر یوں ہوتا ہے کہ ہم آزادی اور مساوات کے الفاظ کےمتعینہ اور مسلّمہ مفاہیم کو سامنےرکھ کر اسلام کے سیاسی نظام کا مطالعہ شروع کرتے ہیں تو ہمیں اسلامی مساوات اور آزادی، جمہوری مساوات اور آزادی سے بھی زیادہ مثالی شکل میں نظر آتی ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ اسلامی تعلیمات اور تاریخی واقعات جس طریقے سے ان اقدار پر روشنی ڈالتے ہیں، اس کی مثال مغرب کے ہاں ناپید ہےاور ہمیں مغربی دنیا پر افسوس ہوناشروع ہوجاتا ہے کہ وہ من و سلویٰ چھوڑ کر ترکاریاں کیوں مانگ رہے ہیں۔ وہ کیوں ایسے کررہے ہیں کہ ایک منزل تک پہنچنے کے لیے کشادہ وروشن راستہ چھوڑ کرتنگ وتاریک پگڈنڈیوں کو اختیار کررہے یا پھر بھول بھلیوں میں اُلجھ رہے ہیں۔ لیکن اس طرح کا تجزیہ کرتے وقت تصویر کا دوسرا رخ ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہوتا۔ وہ یہ کہ آزادی اور مساوات کا ایک فلسفیانہ رخ بھی ہے جوسیکولر ازم کی نہ صرف نمائندگی کرتا بلکہ اسے پورا تحفظ دیتاہے۔

مخصوص تصورات کی ادائیگی کے لیے جب اہل فن الفاظ کا انتخاب کر کے ان پر اتفاق کر لیتے ہیں تو وہ الفاظ اصطلاحات بن جاتی ہیں۔ یعنی ہر اصطلاح اپنے پس منظر میں ایک تصور، سوچ اور فلسفہ رکھتی ہے۔ اور فلسفہ وفکر کسی قوم کے صدیوں کے تاریخی وثقافتی تعامل سے تشکیل پاتا ہے۔ چنانچہ ہر قوم کا اپنا ایک فلسفہ وفکر ہوتا ہے ،اس لیے اہل علم وفن اپنے افکار ونظریات کے اظہار کے لیے اصطلاحات وضع کرتے ہیں ، ان اصطلاحات میں دوسری قوم کے ساتھ لفظی اشتراک بھی پایا جاتا ہے تاہم الفاظ کا اشتراک تصورات کے اشتراک کو مستلزم نہیں۔ کیونکہ کسی قوم کے نظریات صدیوں کے تاریخی وثقافتی تعامل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مثلاً اہل مغرب جب آزادی، مُساوات اور حقوقِ انسانی وغیرہ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں تو اس کے پیچھے وہ تصورات یا فلسفہ وفکر مراد نہیں ہوتے جو اہل اسلام کے پیش نظر ہیں۔ کیونکہ ان کا اپنا ایک علیحدہ فلسفہ حیات اور طرزِ فکر ہے جو کہ اہل اسلام سے جداگانہ بلکہ بعض صورتوں میں متضاد ہے۔ذیل میں اِنہی دونوں پہلوؤں کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ تصویر کے دونوں روپ سامنے آ جائیں۔

1۔مُساوات

مساوات کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔یہ اسلام کے بنیادی او رمرکزی اُصولوں میں سے ہے۔ شریعت نےاپنے تمام احکامات کے انطباق میں مساوات کی بڑی سختی سے تلقین کی ہے کہ احکام شرعیہ کے نفاذ میں ہر قسم کے رنگ و نسل کے امتیازات کو یکسر ختم کیا جائے۔معاشرتی وحدت کے لیے جاہلی بنیادوں کو پرکاہ کے برابربھی اہمیت نہ دی جائے اور صرف اسلام کی دی ہوئی عالم گیر بنیاد کو اپنایا جائے جوعدل و انصاف او رمساواتِ محضہ پر مبنی ہے۔ جس میں علاقائی وقبائلی تعصّبات اور رنگ ونسب کے امتیازات کی بیخ کنی کی گئی ہے اور جس میں نسلیت کے خطوط صرف ذاتی و شخصی تعارف کے لیے کھینچے گئے ہیں ۔

بلکہ اس بات میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ اسلامی مساوات جمہوری مساوات سے کئی لحاظ سے مختلف ہے۔ مثلاً جمہوری مساوات کا حصول بڑی طویل جدوجہد، مسلسل کشمکش اور بے دریغ قربانیوں کے بعد ممکن ہوا ۔ یعنی آغاز میں جمہوری نظام اپنی ساخت میں مساوات جیسی کوئی خاص تعلیم نہیں رکھتا تھا بلکہ بتدریج تصوری ارتقا اور تجربہ کی بنیاد پر اس میں مساوات کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اسلام اپنے آغاز بلکہ اپنی اُٹھان سے ہی مساوات لے کر آیا۔

اسلامی مساوات ربانی اور عالم گیر تعلیمات پر مشتمل ہے جبکہ جمہوری مساوات انسانی عقل اور تجربہ پر مبنی ہے۔اسی وجہ سے جمہوری مساوات عالمگیر بنیاد ، بےلاگ عدل و انصاف اور اعتدال و توازن سے محروم ہے جبکہ اسلامی مساوات ان تمام پہلوؤں کو اپنے اندر بڑی حسن وخوبی اور موزونیت کے ساتھ سموئے ہوئے ہے۔

جیسے کہ اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ مساوات شریعت کا اصل الاصول ہے ،یہ ساری شریعت کی بنیاد ہے۔موضوع کی مناسبت سے اس کے دونوں پہلو ؤں کوواضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

قانونی مساوات

شریعت کی نظر میں قانونی طور پر سب برابر ہیں۔کسی کو بھی 'استثنا'حاصل نہیں۔ اجراے قوانین میں کسی بھی قسم کی قرابت داری اور محبت کا احساس امر مانع نہیں ہیں ،تمام قوانین بلا رعایت و امتیاز جاری و ساری ہوتے ہیں ،بلکہ اس بات میں اسلامی مساوات کی انتہا اور طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہ نظریاتی وحدت کوبھی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ یہ اسلام کا بے لاگ عدل او رمساواتِ محضہ کا مظہر اَتمّ ہے۔یہی وہ روح اوراساس ہے جو اس حدیث میں ہمیں نظر آتی ہے:

«قَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا»1

''آپ نے فرمایا:اے لوگو! تم میں سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیاگیا، ان میں سے جب کوئی معزز چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کر دیتے اور اللّٰہ کی قسم! اگر فاطمہؓ بنت محمد ﷺبھی چوری کرتی تو میں اُس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔''

او ریہ کلمات زبانِ نبوت سے اس وقت صادر ہوئے تھے، جب رسولِ اکرمﷺ شرعِ اسلامی کا اجرا کرنے لگے تھے تو آپﷺ کی بہت قریبی شخصیت حضرت اُسامہ ؓبن زید نے صحابہ کے کہنے کی وجہ سے سفارش کی تھی۔ یہ ہے وہ مساوات جو اسلام کا غازہ ہے، جو عدل کی معراج اور انصاف کی انتہا ہے۔ عقل بھی اسی چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام لوگ قانون کی نظر میں یکساں ہوں۔ کیونکہ اگر ایسے نہیں ہوگا تو قانون کا عزت و احترام لوگوں کےدلوں سےاُٹھ جائے گا اور قانون وہ زنجیر ہے جو معاشرتی انتشار کو وحدت و یگانگت میں پروتی ہے اور قانون ہی وہ ترازو ہے جو معاشرتی اعتدال کا ضامن ہوتا ہے۔لہٰذا جب اس کا احترام دلوں سے رخصت ہوجائے تو پھر معاشرے میں طاقت کا راج اور لاقانونیت کا بول بالا ہوجاتا ہے۔ جو معاشرہ لاقانونیت کی دلدل میں پھنس جائے اور انارکی کا شکار ہوجائے تواسے تباہی و بربادی سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ چنانچہ قانون کا احترام لازمی ہونا چاہیے اور وہ اسی وقت ممکن ہے جب قانون مساوات کا حامل ہو۔

نظریاتی و فلسفیانہ مُساوات

مُساوات کا ایک مفہوم تو وہ تھا جو ہم گزشتہ صفحات میں واضح کرچکے ہیں یعنی قانونی و سیاسی مساوات یا پھر جمہوری مساوات ،لیکن مساوات کا ایک نظریاتی و فلسفیانہ رخ بھی ہے۔ جو اس وقت سامنے آتا ہے جب انسانی معاملات لا دین اور سیکولر طرز فکر کے زیر سایہ تشکیل پانے لگیں۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ جمہوری نظام وضع ہی اس لیےکیا گیاتھا کہ وہ اس 'نظریاتی مساوات' کو تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دے۔

یہ مساوات... خیر و شر، اچھائی او ربُرائی ، نیکی او ربدی کے تصور کے حوالے سے ہے۔ جس میں اس نظریے کو اہمیت حاصل ہے کہ ایک انسان اپنی نجی زندگی میں جو چاہے، وہ طرزِ زندگی اپنائے۔ جس کام کو چاہے اچھا کہے اور جسے چاہے بُرا کہہ لے ،اس میں اختیار حاصل ہے۔وہ چاہے تو مندر جائے، چاہے تو مسجد، چاہے تو زنا کاری کرے، چاہے عبادت گزاری، الغرض اپنی نجی و انفرادی زندگی میں وہ جو چاہے کرے،یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ لیکن نظریاتی مساوات یہ کہتی ہے کہ کسی کو بھی موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے او رہر کسی کا یکساں احترام کیا جائے او رہر کسی کی آئیڈیالوجی کو خیر تصور کریں اور برداشت کا رویہ اپنایا جائے۔ اس میں ایک مخصوص نظریہ و فلسفہ زندگی کو آپ بہتر نہیں کہہ سکتے بلکہ سب برابر ہیں۔یہی وہ نظریاتی و فلسفیانہ تصورِ مُساوات ہے جس کے تحفظ کے لیے جمہوری سیاسی نظام، جمہوری قانون، جمہوری معاشی نظام وضع کیے گئے بلکہ ایک جمہوری معاشرے کے خطوط اسی تصور پر کھینچے گئے ہیں۔

اسلام کی نظر میں یہ مساوات کچھ بھی اہمیت و وقعت نہیں رکھتی۔اسلام ایک نظریۂ حیات ہے اور وہ دنیا و آخرت کی کامیابی صرف اپنے ساتھ ہی مربوط کرتا ہے۔ اپنے غلبے کے لیے جدوجہد کرنے پر زور دیتا اور تلقین کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو'الحق'سے تعبیر کرتا ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ صرف وہی طرزِز ندگی درست ہے جسے وہ اپنانے کی دعوت دیتا ہے، البتہ باقی طرز ہائے حیات کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتا ہے، چناں چہ اللّٰہ کا ارشاد ہے:

﴿ هُوَ الَّذى أَر‌سَلَ رَ‌سولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَ‌هُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ... ﴿٢٨﴾... سورةالفتح

''وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کرے۔''

اور دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿لا إِكر‌اهَ فِى الدّينِ ۖ قَد تَبَيَّنَ الرُّ‌شدُ مِنَ الغَىِّ ۚ فَمَن يَكفُر‌ بِالطّـٰغوتِ وَيُؤمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُر‌وَةِ الوُثقىٰ لَا انفِصامَ لَها ۗ وَاللَّـهُ سَميعٌ عَليمٌ ﴿٢٥٦﴾... سورةالبقرة

''کچھ زبردستی نہیں دین میں۔ بے شک خوب جدا ہو گئی ہے نیکی راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللّٰہ پر ایمان لائے اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللّٰہ سنتا جانتا ہے۔''

الغرض مساوات کا ایک تصور اسلامی ہے، جہاں قانون وشرع کی نظر میں سب برابر ہیں، یہ مساوات کا صحیح تصور ہے۔ لیکن اہل مغرب کے ہاں مساوات کا تصور خیر وشر، نیکی اور برائی میں انسانی حق ہونے کی بنا پر مساوات ہے، ظاہر ہے کہ ہردو کے ہاں ایک ہی لفظ کے دو پہلو باہم متضاد ہیں۔ اور یہ مساوات اسلام میں بالکل ناقابل قبول ہے۔ اس لئے مغرب کا تصورِ مساوات بالکل اور مفہوم اور مختلف تناظر رکھتاہے ۔ جمہوریت جس تصورِ مساوات کی بات کرتی اور جس کو پروان چڑھاتی ہے وہ مغرب کا دیا ہوا تصورِ مساوات ہے، اس لئے اس سے بچنا از بس ضروری ہے اور مسلمانوں کو جمہوریت کے لفظ مساوات سے دھوکا ہرگز نہیں کھانا چاہئے۔جمہوریت کی قدر مساوات، اسلام کے تصورِ مساوات سے یکسر مختلف ہے!!

2۔آزادی

'آزادی' ایک ایسا حق ہے جس کا دورِ جدید میں مغرب نےبہت زیادہ چرچا کیا ہے۔ آج اگر سارے مغربی فلسفے کا تجزیہ کریں تو وہ سارےکاسارا اسی بنیاد ی حق کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ آزادی مغرب کی'قدرِ مطلق'ہے۔اسی کی بنیادپر وہ اچھائی اور بُرائی کا فیصلہ کرتے ہیں۔جس تصورِ حیات میں جس قدر آزادی کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہو، ان کے ہاں وہ اسی قدر اہمیت کا حامل ہے۔اس کے برعکس جس نظریۂ زندگی میں انسانی آزادی جس قدر سلب ہوگی وہ اسی کی نسبت سے کم وقعت ہوگا۔ اگرچہ آزادی کی یہ بحث یافلسفہ آغاز میں تو محدود سادائرہ رکھتی تھی، لیکن رفتہ رفتہ حالات کے تقاضوں اور عوامی شعور کےمطابق وسعت اختیارکرتا چلا گیا۔مثلاً سترہویں، اٹھارویں صدی تک جب کلیسا،بادشاہوں اور جاگیرداروں کا ظلم و ستم اپنی انتہاؤں کو چھونے لگا تو یورپی عوام کی طرف سے بغاوت کرتے ہوئے یہ مطالبات سامنے آئے :

1. مذہبی تعبیرات کی بجائے، سائنسی تحقیقات میں آزادی ہو۔

2. کلیسا اور بادشاہوں کے سیاسی جبر کی بجائے، آزادانہ سیاسی نظام ہو۔

3. جاگیر دارانہ معاشی سرکل اور مذہبی و سیاسی ظالمانہ ٹیکسوں کی بجائے آزادانہ سرمایہ کاری ہو۔

اگر'آزادی' کاتاریخی پس منظر سمجھیں تو ابتدائی طور پر آزادی کی یہی تین سطحیں سامنے آتی ہیں۔ یعنی سائنسی، سیاسی اور معاشی سطح پر آزادی حاصل ہو۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تصورِ آزادی نے سارے کے سارے مغربی فلسفے کو اپنے احاطے میں لے لیا اور زندگی کے ہر شعبے میں اسی پیمانے کے مطابق اقدار کا تعین کیا جانے لگا چنانچہ آزادی ہی خیر و شر کا معیار ٹھہری۔اس کی بنیاد پر ملکی قوانین تشکیل دیےجانے لگے، حتیٰ کہ اس کی بنیاد پر مذاہب کو بھی پرکھا جانےلگا۔ وہ مذہب مطعون ٹھہرایا جانے لگا جو مذکورہ انسانی آزادی کو سلب کرتا ہے۔

روایت پرستی اور اسلاف سے انقطاع اسی کی وجہ سے کیا گیا۔ سائنسی تحقیقات و ایجادات کےفکری پہلوؤں کی تعبیر بھی اسی کے مطابق کی گئی۔ الغرض انسانی معاشرے کی بنا ایسے نئے فلسفوں کے مطابق رکھی گئی جو اپنے طرزِفکر، اپنی تعبیر اور اپنی اصل میں'آزادی' کو ہی قدر ِ مطلق تصور کرتے تھے۔

آج جب اسلامی مفکرین یا اسلامی سکالرز اسلامی ربانی تعلیمات کا مغرب کے خود ساختہ نظریات سے موازنہ کرنےلگتے ہیں تو وہ مغربی آزادی کو عین اسلامی آزادی قرار دینے کی غلطی کررہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کےپیش نظر مغربی آزادی کے فلسفیانہ پہلوؤں کی بجائے قانونی، سیاسی یا زیادہ سے زیادہ مذہبی آزادی کا تصور ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدا میں اہل مغرب کے ہاں بھی آزادی کے یہی پہلو تھے۔ لیکن آج ان کے ہاں اسے ایک فلسفہ حیات کے طور پر لیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں ہم دیکھیں تو پھر آزادی کے دو مغربی مفاہیم ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں سے ایک کے ساتھ تو اسلام بس اپنی ظاہری سی شکل میں لگا کھاتا ہے،اگرچہ روح اور حقیقت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس میں بھی اسلامی نظریہ حیات مختلف ہے۔ جبکہ دوسرے تصورِ آزادی سےتو کسی اعتبار سے لگا بھی نہیں کھاتا۔ چنانچہ ہم ذیل میں آزادی کے دونوں مفاہیم کا اسلام کے ساتھ تفصیلی موازنہ پیش کرتے ہیں:

1. آزادی کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنی نقل و حرکت میں آزاد ہو، ہر طرح کے ظلم و جبر سے محفوظ ہو۔ نقل مکانی کرنے میں آزاد ہو، حکومت اسے قانونی جوازکے بغیر گرفتار ، قید اور نظر بند نہ کرسکتی ہو۔

یہ آزادی کا قانونی و سیاسی پہلو ہے ۔اسلام بھی اپنے فلسفہ حیات کےمطابق اسے تسلیم کرتا ہے، چنانچہ اسلام ہر طرح کے ظلم و زیادتی سے انسان کو محفوظ کرتا ہے۔ اسلامی شریعت کے مقاصد ہی یہی ہیں کہ انسانی جان، مال، عزت و آبرو اور عقل کی حفاظت کی جائے۔ اسے ہر طرح سے دستِ ظلم کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔ اسلام نے انسان کے ان بنیادی حقوق پر دست درازی کرنے والوں کے خلاف ایسی سخت اور حکمت پر مبنی سزائیں مقرر کی ہیں کہ انسانی عقل اس طرح کی سزائیں متعین کرنے سے قاصر ہے تاکہ ایک فرد کو مکمل طور پر ہر طرح کی حفاظت میسر آجائے۔ شریعت کی اسی روح کو واضح کرنےکے لئے فقہا نے یہ بنیادی قاعدہ کلیہ بنایا کہ "الاصل براءة الذمة" جس کے معنی یہی ہیں کہ جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو وہ برئ الذمہ ہے۔ قانونی و شرعی طو رپر اس کی کوئی باز پرس نہیں ہوسکتی اور اسی طرح کسی دوسرے شخص کےجرائم کا بوجھ بھی اس پر نہیں ہوگا...﴿وَلا تَزِرُ‌ وازِرَ‌ةٌ وِزرَ‌ أُخر‌ىٰ... ﴿١٥﴾... سورة الإسراء

اس ضمن میں واضح رہے کہ فقہا کے مذکورہ مسلّمہ قاعدے کے تحت ذمّی بھی شامل ہیں۔جب وہ جزیہ ادا کردیں تو اسلامی ریاست پر لازم ہےکہ ان کی حفاظت بھی اسی طرح کرے جیسے مسلمانوں کی جاتی ہے۔ سیدنا علیؓ کا فرمان ہے:

"إنما بذلوا الجزیة فتکون أموالهم کأموالنا ودماؤهم کدمائنا"2

''اُنھوں نے جزیہ اس لیے خرچ کیا ہے کہ ان کے مال ہمارے مال کی طرح اور ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہو جائیں۔''

نیز کئی ایک نصوصِ شرعیہ سےبھی اس چیز کی تلقین ملتی ہے۔اسی طرح نقل و حرکت اورنقل مکانی کی آزادی کا بھی اسلام فطری دائرہ حیات میں رہتے ہوئے قائل ہے۔

اس باب میں اسلام کسی پر کوئی خاص پیشہ اپنانےکی پابندی عائد نہیں کرتا بلکہ وہ حلال اشیااو رجائز طریقوں سے کمانے کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔پھر فرد کو معاشرے کی بھینٹ نہیں چڑھاتا۔ایک فرد جب اس کی عائد کردہ شرائط کے مطابق کماتا ہے تو وہ اسے یہ نہیں کہتا کہ اجتماعی و ریاستی فلاح و بہبود کی خاطر اپنی اس ساری جائز دولت سے دست کش ہوجاؤ، بلکہ وہ انفرادی ملکیت کا قائل ہے ۔پھر وہ فرد کو ہی ملکیتی حقوق دینےپراکتفا نہیں کرتا بلکہ اس جائز مال میں سے ایک محدود حصہ اجتماعی فلاح و بہبود کے لیےبھی مختص کرتاہے۔ تاکہ معاشرہ ارتکازِ دولت اور معاشی اِفراط و تفریط سے بچ کر اعتدال اور توازن کی بہترین اور روشن شاہراہ پر گامزن ہوسکے۔

اسی طرح نقل مکانی کرنے کے حوالے سے بھی اسلام سیاحتِ ارضی اور دینی تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے ہجرت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ اس کرّۂ ارض کی وسعتوں اور گہرائیوں میں جابجا عبرت کے صفحات بکھرے پڑے ہیں، اُنہیں پڑھو اور ساری زمین پر حقیقی ملکیت خدا کی ہے اور سارے انسان خدا کی ملکیت ہیں ،اس وجہ سے اس زمین پر تمام انسانوں کا یکساں حق ہے۔ البتہ انسانی معاملات کو چلانے کےلیےبعض انسانوں کو مجازی طور پر مالکانہ حقوق دے رکھے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بنی نوع انسان نے ان بعض مجازی ملکیتوں پر عصبیت کی ایسی گہری لکیریں کھینچ لیں ہیں جس کی وجہ سے اُنہوں نے اپنے اوپر زمین کو وسعتوں کےباوجود تنگ کرلیا ہے۔ اس مادی او ربے بنیاد سی چیز کو اعلیٰ روحانی رشتوں کاسا تقدس دےرکھا ہے۔

یا خدایا ! انسانیت کو اسلامی معاشرتی وحدت کا شعور و فہم عطا فرما!!

نظریاتی فلسفہ آزادی

دوسری طرف آزادی کا اگر فلسفیانہ ونظریاتی سطح پر جائزہ لیا جائے تو اس کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی واسطہ وتعلق نہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری رقم طراز ہیں:

''جمہوریت کا جواز فرد کی آزادی (یعنی عبدیت سے انکار) کے تصور پر مبنی ہے اور آزادی کا تصور فرد کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے:

1۔ نجی زندگی Private life 2۔ اجتماعی زندگی Public life

پرائیویٹ لائف سے مراد کسی شخص کی زندگی کا وہ گوشہ ہے جس میں وہ خیر وشر اور خواہشات کی ترجیحات کا جو پیمانہ طے کرنا چاہے کر سکے۔ جمناسٹک کلب جانا چاہے تو جا سکے، بندو ں کی زندگی کے حالات جمع کرنے پر پوری زندگی صرف کرنا چاہے تو کرے، شراب خانہ جانا چاہتا ہے تو چلا جائے اور اگر مسجد یا گرجا وغیرہ کی سیر کرنا چاہے تو کر لے۔''3

گویا اپنی نجی وانفرادی زندگی میں انسان آزاد ہے ،وہ جس طرزِ فکر کو چاہے، اپنا لے اور جو کام اپنی زندگی میں چاہے کر لے۔ آخرت کیا ہے؟ خدا اور رسول کے فرمودات کی کیا حیثیت ہے؟ وہ کیا تلقین کر رہے ہیں اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ میں اس دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اورجس کا میں مشاہدہ کر رہا ہوں اور جو مسائل مجھے درپیش ہیں وہ ایک حقیقت ہیں ،کیونکہ حقیقت کا تعلق صرف محسوسات سے ہے۔ اپنے ان دنیاوی مسائل کو میں نے کیسے حل کرنا ہے؟ ان تلخ حقائق کا مجھے سامنا کیسے کرنا ہے؟وہ اس طرح ہونا چاہے کہ اس کا ثمر مجھے اس دنیا میں نظر آنا چاہیے۔ یہ ہے وہ مغربی طرز ِفکر جسےایک مسلّمہ قدر کی حیثیت حاصل ہے۔

اسی بنا پر طے پایا کہ 'مثالی زندگی کا حصول امن سے ممکن ہے اور پر امن بقائے باہمی یہ ہےکہ تمام انسانوں کو ان کی نجی زندگی میں آزاد چھوڑ دیا جائے اور مذہب کو بھی نجی زندگی کا ہی ایک حصّہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ مذہبی و اُلوہی ہدایات وتعبیرات زندگی کے پیش آمدہ مسائل کا مناسب، معتدل اور قابل عمل حل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اسے ایک انفرادی ونجی مسئلے کا درجہ دیا جائے۔ سیاست، معیشت اور معاشرت سے اسےکوئی سروکار نہ ہو۔ یہ وہ فکری قضیہ ہے جو یو رپ میں صدہا برس کے تاریخی عمل کے بعد تشکیل پایا ہے اور جسے آج پوری دنیا میں ردّوقدح کے بعد لاشعوری طور پر تسلیم کیا جانے لگاہے اور حیاتِ انسانی کی عملاً ترتیب وتشکیل بھی کی جانے لگی ہے۔ اسی بنا پر کہا جانے لگا کہ انسان اپنی نجی زندگی میں آزاد ہے، وہ جو چاہے کر ے۔ لیکن کسی دوسرے کو کوئی حق نہیں کہ وہ اسے قابلِ ملامت ٹھہرائے۔

اسی طرح اجتماعی زندگی کے حوالے سے ڈاکٹر جاوید اکبر رقم طراز ہیں:

''پبلک زندگی سے مراد فرد کی زندگی کا وہ حصّہ ہے جو وہ دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات قائم کر کے گذارتا ہے اور ان تعلقات کے نتیجے میں ایک معاشرہ اور ریاست وجود میں آتی ہے۔جمہوری ریاست میں ان تعلقات کی بنیاد افراد کی اغراض اور خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے، نیز اجتماعی فیصلے اس بنیاد پر طے ہوتے ہیں کہ عوام زیادہ سے زیادہ آزادی یعنی سرمائے کا حصول چاہتے ہیں۔''4

یعنی جب مادی زندگی اصل حقیقت قرار پائی اور مذہب انسان کی زندگی کا نجی مسئلہ طے پایاتو اجتماعی زندگی یا اجتماعی مسائل کے حل اور اجتماعی تعلقات کی استواری کی بنیاد عقلِ محض طے پائی تو نتیجۃً اس حرص وہوا اور مغلوب الشہوات پیکر ِخاکی نے یہی طے کیا کہ انسانی تعلقات کو ایثار ومَحبت جیسی لازوال روحانی دائمی بنیادیں فراہم کرنے کی بجائے اغراض ونفسانیت جیسی وقتی بنیادیں فراہم کی جائیں۔ پھر اسی وجہ سے اس غرضی ونفسی تعلق کی ان صورتوں کو قانونی انداز میں منظّم شکل دی جن میں آزادی کو انتہائی ممکنہ حد تک ملحوظ رکھا گیا۔چنانچہ آزادی کے اس تصور کی اسلام میں پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں۔وہ اس دنیا کی تکمیل آخرت کے تصور کے ساتھ کرتا ہے۔ ایک اگر عمل ہے تو دوسرا اس کی جزا ہے۔ ایک اگر کھیتی ہے تو دوسرا حاصل ہے۔ ایک ابتدا ہے تو دوسرا انتہاہے!!

اسلام حیاتِ انسانی کو اُلوہی و ربانی بنیادوں پر تشکیل دیتا ہے۔اسلام اعمالِ انسان کا ایک مخصوص سانچہ تیار کرتا ہے، جس میں انسانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد لازوال روحانیت کو قرار دیتا ہے۔ وہ زندگی کو انفرادی و اجتماعی جیسے غیر منفک اجزامیں تقسیم کرنے کا تھوڑا سا بھی روادار نہیں ہے۔ دونوں کو ایک ہی زاویۂ نظر سے دیکھتا ہے ،اسی بنیاد پر اپنے قانون اور نظم وانضباط کی بنیادیں اُٹھاتا ہے اور اسی کو وہ فطری دائرۂحیات کہتا ہے۔ اس سے انحراف کومسخِ فطرت جیسی کوششوں کے مترادف قرار دیتا ہے۔

الغرض آزادی کا یہ تصور اسلامی نقطہ نظر کے مطابق کسی صورت میں بھی لگا نہیں کھاتا۔لہٰذا اسلامی تصوراتِ مُساوات و آزادی بمقابلہ مغربی تصورات آزادی ومساوات اپنے روح ومقصد میں بالکل مختلف ہے اور جو ظاہری وقانونی شکلیں کچھ تھوڑا سا لگا کھاتی بھی ہیں تو وہ متضاد سَمتوں میں گامزن شاہراؤں کا اتفاقی حادثہ ہے۔ اپنی منزل وہدف کے اعتبار سے دونوں یکسر متضاد ہیں!!
حوالہ جات

1. صحیح بخاری:۳۴۷۵

2. المغنی: 8 ؍45

3. 'اسلامی بنکا ری اورجمہو ریت' از زاہد صدیق مغل: ص 308

4. ایضاً