میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تالیف: حافظ صلاح الدین یوسف﷾

صفحات: 287... ناشر:اُمّ القریٰ پبلی کیشنز، سیالکوٹ روڈ، فتومند، گوجرانوالہ

حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ہستیِ گرامی دنیاے علم و تحقیق میں عموماً اور جماعت اہل حدیث میں خصوصاً چنداں محتاجِ تعارف نہیں۔ محترم حافظ صاحب مبدءِ فیض سے بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے بہرہ مند ہیں۔ وہ بنیادی طور پر میدانِ قلم و قرطاس کے شہ سوار ہیں اور ان کے موضوعاتِِ تحریر میں انتہائی وسعت اور بو قلمونی پائی جاتی ہے؛ چنانچہ قرآنِ حکیم کی تفسیر و توضیح ہو یا حدیث کی شرح و وضاحت؛ فکر و عقیدہ کے مباحث ہوں یا فقہ واجتہاد کے مسائل؛ آئینی و قانونی معاملات ہوں یا معاشرتی اُمور؛ انھوں نے ہر موضوع پر تحریر و تحقیق کے جوہر دکھلائے ہیں۔ موضوعات کے تنوع سے جہاں ان کی دقتِ نگاہ اور وسعتِ نظر کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں اُن کی نگارشات کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ان کا اُسلوبِ تحریر انتہائی دل آویز، جاذبِ توجہ اور زبان و ادب کی چاشنی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔حافظ صاحب موصوف فی زمانہ اہل حدیث کے اُن معدودے چند اربابِِ قلم میں سر فہرست ہیں، جن کا اندازِ تحریر معیاری اور زبان و بیان کے پہلو سے اس لائق ہے کہ قاری کو نہ صرف اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے، بلکہ اہل ذوق کی تسکین کا پورا سامان بھی اپنے دامن میں رکھتا ہے۔

مسلکِ اہل حدیث اور اس کے اُصول و مبادی کی توضیح و تنقیح بھی محترم حافظ صاحب کی دل چسپی کا موضوع ہے؛ اس ضمن میں ان کی متعدد تحریریں شائع ہو کر اربابِِ علم وفکر سے خراجِ تحسین وصول کرچکی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب در اصل وہ ضخیم اور مفصل مقدمہ ہے جو موصوف نے حضرت الامام حافظ محمد صاحب محدث گوندلوی قدس اللّٰہ روحہ کی مایہ ناز تصنیف 'الاصلاح' پر لکھا تھا۔ بعد ازاں اس کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اسے مستقل کتاب کی صورت میں طبع کیا گیا۔ اس میں بنیادی و کلیدی حیثیت تو اسی مقدمہ کی ہے، تاہم اس مستقل اشاعت میں موضوع سے متعلق دیگر اہل علم کی بعض تحریریں بھی شامل کرلی گئی ہیں۔ کتاب کی ترتیب اس طرح ہے:

سب سے پہلے 'حرفِ اوّل'ہے، جو برادرم حافظ شاہد محمود کا تحریر کردہ ہے۔ اس کے بعد حافظ صلاح الدین صاحب یوسف﷾ کا'عرضِ مرتب' ہے، جس میں کتاب کے مقالات ومندرجات کا اجمالی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ کتابِ ہٰذا کے مقدمہ کے طور پر مولانا محمد حنیف ندوی کا مضمون 'تعارفِ اہل حدیث'شامل کیا گیا ہے، جس میں انتہائی دل نشین اور ادبی پیراے میں اہل حدیث کے مسلک اور نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے۔

9 صفحات کے مقدمہ کے بعد اصل کتاب کا آغاز ہو تا ہے۔سب سے پہلا مقالہ محترم حافظ صاحب کا ہے، جو 'اہل حدیث کا مسلک و منہج اور احناف سے اختلاف کی حقیقت و نوعیت؛ ایک نہایت اہم مبحث کی وضاحت' کے زیر عنوان ایک صد صفحات (ص27تا126) پر پھیلا ہوا ہے۔

دوسرا مقالہ 'عقائد علماے دیوبند' کے نام سے ہے۔ یہ'تکملۂ مضمون ماسبق' ہے اور صفحہ127سے شروع ہو کر صفحہ 153 پر اختتام پذیر ہورہا ہے۔

تیسرے مقالے کا عنوان ہے: 'شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد'، یہ مولانا محمد عیسیٰ صاحب منصوری کے قلم سے ہے اور 19 صفحات (ص154تا172) پر مشتمل ہے۔

چوتھا مقالہ امام العصر مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی ﷫ کی کتاب 'تاریخ اہل حدیث' سے لیا گیا ہے۔ یہ مبحث بہ عنوان 'اہل حدیث کا طرزِ استدلال و تحریکِ اجتہاد اور احناف کا خودساختہ اُصولوں کی بنیاد پر احادیث کا انکار' کافی طویل ہے اور کتاب کے 88 صفحات کو محیط ہے۔

پانچویں نمبر پر مولانا عبدالرحمٰن صاحب ضیا (سابق شیخ الحدیث، جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ) کا مضمون 'اہل حدیث اور اہل تقلید کے منہج کا فرق'شامل کیا گیا ہے، جس کا آغاز ص262سے اور اختتام ص284پر ہوتا ہے۔

آخر میں تین صفحات پر مبنی ایک مختصر تحریر محدثِ زماں علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی ہے جو دراصل ایک مکالمہ ہے۔ اس کا موضوع ہے: ''ہم سلفی (اہل حدیث) کیوں کہلائیں؟''

مشمولاتِ کتاب کے سرسری تعارف کے بعد اب ہم اس کے مرکزی و اساسی مضمون پر اپنی گزارشات پیش کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب کا مرکزی موضوع یعنی اہل حدیث اور احناف کے مابین اختلاف کی حقیقت و نوعیت، انتہائی اہمیت اور حساسیت کا حامل ہے؛ اس حوالے سے اگرچہ بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، تاہم محترم حافظ صلاح الدین یوسف﷾نے اپنے مخصوص انداز میں اس پر جو خامہ فرسائی کی ہے، وہ بعض پہلوؤں سے بالکل نئی چیز ہے۔

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا، حافظ صاحب نے یہ تحریر محدث گوندلوی﷫ کی کتاب 'الاصلاح' کے مقدمہ کے طور پر حوالۂ قلم کی تھی۔ محدث گوندلوی نے لکھا ہے کہ ''اہل حدیث اور حنفیہ میں نہ اُصولی اختلاف ہے، نہ فروعی۔''1 حافظ صاحب نے اپنے تفصیلی مقدمے میں اسی نکتے کی توجیہ و توضیح فرمائی ہے۔ اُنھوں نے حنفیہ کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے:

پہلے گروہ میں امام ابوحنیفہ، قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی﷭ آتے ہیں۔ ان کے طرزِ فکر و عمل کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ صاحب کا کہنا ہے کہ دراصل یہی وہ طائفہ ہے، جس سے اہل حدیث کا اُصولی و فروعی کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے بقول مذکورہ ائمہ کے اُصول میں یکسر اختلاف نہیں اور فروع اُصول کے تابع ہوتے ہیں؛ فلہٰذا فروعی اختلاف بھی کوئی معتد بہ حیثیت نہیں رکھتا۔ فاضل مصنف نے اپنے استدلال کے حق میں جو دلائل دیے ہیں اُن سے یہ نتیجہ بالکل واضح طور پر سامنے آتا ہے؛ مثلاً امام ابوحنیفہ کا یہ فرمان کہ ''کتاب و سنت اور اقوال صحابہ کے بالمقابل میری راے کو نظر انداز کردو۔'' 2اسی طرح امام صاحب کا یہ ارشاد کہ "إذا صحّ الحدیث فهو مذهبی"3 یعنی ''جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے، تو وہی میرا مذہب ہے۔'' حضرت الامام کی انھی تصریحات کے پیش نظر ان کے باکمال شاگردوں (صاحبین) نے ہمیشہ نصوصِ قرآن و حدیث ہی کو مقدم رکھا، یہاں تک کہ اپنے ہی اُستاد کے دو تہائی مسائل سے بر بناے دلیل اختلاف کیا۔ وہ حنفی علما بھی اسی گروہ میں شامل ہیں، جنھوں نے اس منہاجِ فکر و عمل کی پیروی کرتے ہوئے اتباعِ کتاب و سنت کو خلافِ نصوص فقہی جزئیات پر ترجیح دی اور فقہی جمود، گروہی تعصب اور اندھی تقلید کے خلاف آواز بلند کی۔ ان میں حجۃ الہند شاہ ولی اللّٰہ صاحب محدث دہلوی﷫ اور مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی مرحوم خاص طور سے لائق تذکرہ ہیں۔

دوسرا گروہ جمہور احناف پر مشتمل ہے؛ یہ زبانی طور پر اپنے ائمہ متقدمین کی روش پر چلنے کا دعویٰ کرتا اور حدیث و آثار کے اخذ و قبول سے متعلق محدثین کے اُصولوں کو درست قرار دیتا ہے؛ لیکن عملاً اس سے انحراف کی راہ پر گامزن ہے۔ اس ضمن میں محترم حافظ صاحب نے عرب و عجم کے بعض حنفی علما کی مثالیں دی ہیں کہ کس طرح ایک مقام پر ایک اُصول کا اعتراف و اقرار کرتے اور دوسری جگہ کھلم کھلا بڑی بے دردی سے اسے پا مال کرتے ہیں۔ یہ گروہ تقلید جامد پر کاربند ہے اور اپنے فقہی مذہب کے برخلاف احادیث کو مختلف طریقوں اور حیلوں سے ردّ کردیتا ہے، جس کی تفصیل مع مثالوں کے حافظ صاحب نے بیان کی ہیں۔

تیسرا گروہ، دوسرے سے بھی دو قدم آگے ہے، اور علانیہ طور پرمحدثین کے اُصولِ حدیث کا منکر ہے۔ اس کا اُصول یہ ہے کہ فقہی مسائل کی صورت میں جن احادیث کی صحت ان کے فقہا سے ثابت ہے، وہ روایات بہر آئینہ صحیح ہیں، خواہ محدثین اور ماہرین فن اسے ضعیف ہی کیوں نہ کہتے رہیں!! ۔ یہ طائفہ مقلدین تقلید ِمذموم پر بھی فخر کا اظہار کرتا ہے؛ اس طبقہ فکر کے سرخیل مولانا محمد امین اوکاڑوی تھے اور آج کل اس کی نمائندگی 'گھمن پارٹی'کررہی ہے۔ محترم حافظ صاحب کے مطابق مؤخر الذکردونوں گروہوں سے اہل حدیث کو شدید اختلاف ہے اور یہ اختلاف بنیادی و اُصولی نوعیت کا ہے۔

ہماری راے میں حافظ صاحب موصوف کا یہ مفصل تجزیہ اور نتیجۂ تحقیق جہاں ان کی وسعت ِمطالعہ، دقتِ نظر، سلامتی فکر اور تجزیہ و تحلیل کی بے مثال صلاحیت پر دلالت کناں ہے؛ وہیں حقائق و واقعات سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے اور ہمیں اس سے کامل اتفاق ہے۔ اس تفصیلی تجزیے کے دورانِ مطالعہ یک گونہ تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ محترم حافظ صاحب نے اس میں اتباع و تقلید اور طرزِ استدلال و استنباط پر گفتگو کو مرکوز رکھا ہے؛ عقیدہ و ایمانیات کے مباحث زیر بحث نہیں آسکے؛ لیکن محترم موصوف کی نگاہ تعمق سے یہ نقطہ اوجھل نہیں ہو نے پایا اور زیر نظر کتاب میں اس کے بعد 'عقائد علماے دیوبند' کا مضمون شامل کرکے اس تشنہ کامی کا سامانِ سیرابی بھی مہیا فرما دیا ہے۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و عقائد میں بھی موجودہ احناف اور اہل حدیث کے زاویہ ہاے نظر میں اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ احناف کے نام سے اس وقت جو مکتب ِفکر معروف ہے، وہ عقائد میں سرے سے امام ابوحنیفہ اور صاحبین﷭ کی تقلید کا قائل ہی نہیں؛ بلکہ امام ابوالحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی کے کلامی نظریات کا حامل ہے۔ اسی بنا پر ہم محدث گوندلوی کے اس مقولہ کو انتہائی مجمل سمجھتے ہیں کہ ''اہل حدیث اور حنفیہ میں اختلاف نہ اُصولی ہے نہ فروعی۔'' اس کی تفصیل وہی ہے، جو حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے زیبِ قرطاس فرمادی ہے۔

اس موقع پر ہم فاضل مصنف اور ناظرین کی عنانِ توجہ اس دل چسپ بات کی جانب بھی مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ حضرت الامام محدث گوندلوی نے 'فاتحہ خلف الامام' کے موضوع پر اپنی بے نظیر کتاب 'خیر الکلام' میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ ''شیعہ سنّی میں اُصولی اختلاف ہے، جب کہ اہل سنت کے مختلف فرقوں میں اختلاف فروعی نوعیت کا ہے۔'' ہمیں معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سی تحریر مقدم ہے اور کون سی مؤخر؟ بنابریں محترم حافظ صاحب سے التماس ہے کہ وہ اس تباین و تخالف کی بھی توجیہ فرمائیں؛ آیا اسے نسخ پر محمول کیا جائے؛ یا جمع کی کوئی صور ت ممکن ہے؛ یا پھر کسی ایک کو ترجیح دینا ہوگی۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر آئندہ اشاعت میں تعلیماتِ دین کی اُصول و فروع میں تقسیم پر محققانہ بحث کی جائے، تو یہ موضوع مزید نکھر جائے گا۔ اُصولی و فروعی مسائل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں، جن میں سے اکثر کو علماے اہل سنت نے نا درست قرار دیا ہے۔ امام ابن تیمیہ﷫ کے نزدیک یہ تقسیم مبنی برخطا ہے کہ اُصولی مسائل میں اختلاف کو تکفیر و تفسیق کی بنیاد ٹھیرایا جائے جب کہ فروعی مسائل میں اختلاف کو علی الاطلاق روا رکھا جائے اور اس پر کوئی نکیر نہ کی جائے۔ ہماری معلومات کے مطابق محدث گوندلوی کے تلمیذ رشید مولانا حافظ عبدالسلام بن محمد﷾ بھی اُصول و فروع کی تفریق کے قائل نہیں ہیں۔4

زیر تبصرہ کتاب کے دیگر مندرجات بھی اگرچہ اس لائق ہیں کہ ان پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا جائے، لیکن طوالت سے بچنے کی خاطر انھی معروضات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ کتاب اپنے موضوع پر انتہائی منفرد اور جامع کتاب ہے جسے ہر تحقیقی ادارے اور لائبریری کی زینت ہونا چاہیے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اہل حدیث کے مسلک و منہج سے آگاہی حاصل ہوگی، بلکہ احناف کے مختلف گروہوں کے زاویہ ہاے نگاہ اور طرز ہاے عمل کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔ نیز اربابِِ تقلید سے بامعنی اور مفید مباحثہ و مکالمہ میں بھی سہولت رہے گی۔

معنوی خوبیوں کے ساتھ ساتھ زیر نظر کتاب ظاہری محاسن سے بھی مالامال ہے۔ سرورق خوب صورت، کاغذ عمدہ اور جلدبندی مضبوط ہے۔ قیمت درج نہیں تاہم جس قیمت پر بھی مہیا ہو، لازماً خریدنا چاہیے۔

نوٹ: دو سال سے 'محدث' کی اشاعت کا دورانیہ بعض مجبوریوں کی بنا پر باقاعدہ نہیں ہے لہٰذا گزارش ہے کہ اپنے ریکارڈ کی تکمیل کے لیے مسلسل نمبر یعنی 364 ،363کو مدنظر رکھیں۔
حوالہ جات

1. الاصلاح،ص135، طبع جدید

2. القول المفیدفی ادلۃ الاجتہاد والتقلید للشوکانی،ص:21

3. ردّالمحتارعلی الدر المختار المعروف بحاشیۃ ابن عابدین:1؍154،دار احیاء التراث العربی،بیروت

4. مکالماتِ نورپوری