﴿ما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ وَلا لِءابائِهِم ۚ كَبُرَ‌ت كَلِمَةً تَخرُ‌جُ مِن أَفو‌ٰهِهِم ۚ إِن يَقولونَ إِلّا كَذِبًا ﴿٥﴾... سورة الكهف

''نہ اس کا کوئی علم اُنھیں ہے اور نہ اُن کے باپ دادا کو تھا، (یہ)بہت بڑا بول ہے جو اُن کے منہ سے نکل رہا ہے، وہ (سراسر) جھوٹ کے سوا کچھ کہتے ہی نہیں۔''

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں انسان کسی بھی مذہب، گروہ ، فرقہ ، قوم یا ملک سے ہو، ا سے خوشی چاہیے۔ وہ خوش ہونا، ہنسنا اور مسکرانا چاہتا ہے ، وہ تہوار منانا چاہتا ہے۔ مذہب انسان کی اس فطرت سے واقف ہے، لہٰذا وہ اسے تقریبات،عیدوں اور تہواروں کی اجازت دیتا ہے ۔

انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر حدود اللّٰہ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی مذاہب نے ان تقریبات، عیدوں اور تہواروں کو پاکیزہ رکھنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔لیکن انسان کی خواہشِ نفس کی تکمیل کے آگے جہاں مقدس الہامی کتب اور صحائف نہ بچ سکے ،وہاں یہ عیدیں اور تہوار کیا چیز ہیں؟

کرسمس(Christmas) دو الفاظ کرائسٹ(Christ)اور ماس (Mass)کا مرکب ہے۔ کرائسٹ(Christ)مسیح ( ) کو کہتے ہیں اورماس (Mass) اجتماع ، اکٹھا ہوناہے یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، اس کا مفہوم یہ ہوا: مسیحی اجتماع یایومِ میلاد مسیح ۔

یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا۔ اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں 'کرسمس' کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے۔ اسے یول ڈے نیٹوئی (پیدائش کا سال)اور نوائل (پیدائشی یا یوم پیدائش)جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے1۔ 'بڑا دن' بھی کرسمس کا مروّجہ نام ہے ۔ یہ یومِ ولادت مسیح کے سلسلے میں منایا جاتا ہے کیونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے، اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے۔

نہ صرف مسیح کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علما میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ عام خیال ہے کہ سن عیسوی مسیح کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے مگر 'قاموس الکتاب 'اور دیگر مسیحی کتب کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی ولادت باسعادت4یا 6ق م میں ہوئی ۔ قاموس الکتاب میں یہ تاریخ 4ق م دی گئی ہے جبکہ مائیکل ہارٹ ''The Hundred'' میں 6ق م تسلیم کرتا ہے۔ پیدائش کے دن کے حوالے سے بھی شدید اختلاف ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25دسمبر، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6جنوری اور ارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے۔کرسمس کے تہوار کا 25 دسمبر کو ہونے کا ذکر پہلی مرتبہ شاہِ قسطنطین (جو چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کر کے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا )کے عہد میں 325عیسوی میں ہوا۔ یہ بات صحیح طور پر معلوم نہیں کہ اوّلین کلیسا 'بڑا دن' مناتے بھی تھے یا نہیں۔

یادرہے کہ مسیح کی صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے ۔ لیکن 25دسمبر کو پہلے پہل روم(اٹلی) میں بطورِ مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشنِ زُحل Saturnaliaکو ( یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا،اس روز رنگ رلیاں خوب منائی جاتی تھیں) جو سورج کے راس الجدی پرپہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیح علیہ السلام کی سالگرہ منائی جائے۔2

کینن فیرر نے بھی اپنی کتاب 'لائف آف کرائسٹ' میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے یومِ ولادت کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔ انجیل (لوقا8:2) سے صرف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس رات گڈریے بھیڑوں کو لیے ہوئے بیت اللحم کے کھیتوں میں موجود تھے،لیکن انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں کرسمس ڈے کے مقالہ نگار نے اس پر ایک نہایت عمدہ تنقید کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ دسمبر کا مہینہ تو ریاستِ یہودیہ (فلسطین)میں سخت بارش کا مہینہ ہے، ان دنوں بھیڑیں یا گڈریے کس طرح کھلے آسمان تلے رہ سکتے ہیں؟

چار صدیوں تک 25دسمبر کو مسیح کی تاریخ ولادت نہیں سمجھا جاتا تھا ۔530ء میں سیتھیا کا ڈایونیس اکسیگز نامی ایک راہب جو ایک مُنجّم(Astrologer)بھی تھا، تاریخ ولادت مسیح کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے مسیح علیہ السلام کی ولادت 25دسمبر مقرر کی،کیونکہ مسیح سے پانچ صدیاں قبل 25دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی ۔ بہت سے دیوتاؤں کا اس تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا، چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ کی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔

قرآن مجید کی سورۂ مریم پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے :

﴿فَأَجاءَهَا المَخاضُ إِلىٰ جِذعِ النَّخلَةِ قالَت يـٰلَيتَنى مِتُّ قَبلَ هـٰذا وَكُنتُ نَسيًا مَنسِيًّا ﴿٢٣﴾ فَنادىٰها مِن تَحتِها أَلّا تَحزَنى قَد جَعَلَ رَ‌بُّكِ تَحتَكِ سَرِ‌يًّا ﴿٢٤﴾ وَهُزّى إِلَيكِ بِجِذعِ النَّخلَةِ تُسـٰقِط عَلَيكِ رُ‌طَبًا جَنِيًّا ﴿٢٥﴾... سورةمريم

''پھر دردِ زہ اسے (مریم کو )کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ وہ کہنے لگی: اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔ پھر اس (فرشتے)نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، یقیناً تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔''

اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مسیح کی جاے پیدائش ریاستِ یہودیہ کے شہر بیت اللحم میں ہوئی۔ اس علاقے میں موسمِ گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید کے ذریعے اللّٰہ نے یہ امر واضح کیا کہ حضرت مسیح کی ولادت کھجوریں پکنے کے مہینے جولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی نہ کہ 25دسمبر کو، جو کہ یہودیہ (موجودہ فلسطین) میں سخت سردی اور بارشوں کا مہینا ہوتا تھا ۔

جرمن قبائل قدیم زمانہ سے اس موسم کو تعظیم اور تکریم کا موسم سمجھتے تھے ۔ سیکنڈ ے نیویا (ناروے، سویڈن، ڈنمارک)کے قدیم باشندوں کا عقیدہ تھا کہ تمام دیوتا 25دسمبر کو زمین پر اُترتے ہیں اور 6جنوری تک انسانوں کی تقدیر بدلنے کی تدبیر کرتے رہتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ واقعہ بھی ملتا ہے کہ چوتھی صدی عیسوی کے اوائل میں روم شہر میں مشعلیں بنانے والے ایک صاحب نے ایک ایسی مشعل بنائی جس میں تیل ڈالنا نہیں پڑتا تھا جس کو بعد میں کینڈل یا موم بتی کا نام دیا گیا ۔ یہ تیل والی مشعلوں کے مقابلے میں گھنٹوں زیادہ جلتی تھی ۔ یہ ایک زبردست ایجاد تھی جس کے ذریعے وہ دنوں میں امیر ہو گیا، لہٰذا اب یہ شخص موم بتی کی وسیع فروخت کا خواہاں ہو ا۔ اس نوجوان کے حلقہ احباب میں روم شہر کا ایک پادری بھی تھا ۔ایک دن نوجوان نے اپنے پادری دوست کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو پادری صاحب نے اس کو سمجھایا کہ دنیا میں جو چیز مذہب کے ساتھ منسوب ہو جائے، اُسے دوام مل جاتا ہے۔ ایک روز پادری اس نوجوان کی دکان پر آیا اور نوجوان نے پادری صاحب کے کان میں ایک سرگوشی کی تو پادری کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اتفاق سے وہ اتوار کا دن اور 25دسمبر تھا۔ اس روز پادری صاحب نے 'سروس' یعنی عبادت کے بعد ایک عجیب اعلان کیا کہ آپ تمام حضرات سورج ڈوبنے کے بعد دوبارہ چرچ میں حاضر ہو جائیں، آج میں ایک ایسے خصوصی طریقے سے دعا مانگوں گا کہ مانگنے سے پہلے ہی دعا قبول ہو جائے گی، چنانچہ لوگ شام کے وقت چرچ میں جمع ہو گئے، جب خوب اندھیرا پھیل گیا تو پادری نے تمام حاضرین کے سامنے ایک ایک موم بتی جلا دی اور لوگوں سے آنکھیں بند کر کے دعا کرنے کی درخواست کی ۔ یہ دعا گھنٹوں جاری رہی اور ساتھ موم بتی بھی۔ دعا کے بعد جب لوگوں کی واپسی شروع ہوئی تو اُن کے ہونٹوں پر اس نئے طریقے کی دعا کی مقبولیت کا چرچا تھا۔ یہ 336 عیسوی کا 25دسمبرتھا۔ 3چنانچہ آج بھی کرسمس سے چاراتوار پہلے کرسمس کی تیاری کے حوالے سے 'کینڈل لائٹ سروس' کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ25دسمبر مسیح کا یومِ ولادت نہیں، بلکہ یہ دن دیگر اغراض ومقاصد کی بنا پر'یوم پیدائشِ مسیح' بنا دیا گیا۔ قاموس الکتاب کے حوالے سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جشن زُحل رومیوں کا تہوار جو عیاشیوں کی نظر ہو چکا تھا، اس کو ایک مقدس تہوار سے بدل دیا گیا تاکہ لوگوں کا رجحان مذہب کی طرف ہو جائے مگر کس کو معلوم تھا کہ یہ مقدس تہوار جشنِ زحل سے بھی خطرناک صورت اختیارکر جائے گا۔

حضرت عیسٰی کی تاریخ پیدائش نہ تو انجیل سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی اور مستند ذریعہ سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ ویسے بھی ابتدائی تین صدیوں تک میلاد مسیح کو منانا، مشرکانہ اور بت پرستانہ فعل سمجھا جاتا تھا ۔ یہ ایک خود ساختہ رسم تھی اور بعدازاں مختلف کلیساؤں کی طرف سے اس کی روک تھام کے لیے متعدد احکامات بھی جاری کیے گئے ۔4

کرسمس ٹری

'کرسمس ٹری' کا تصور بھی جرمنوں ہی کا پیدا کردہ ہے ۔ مسیحی لوگ اپنی پرانی ثقافتی روایات کے مطابق کرسمس کے دن حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ اور جبرائیل کا کردار مختلف اداکاروں کے ذریعے ایک ڈرامے کی شکل میں پیش کرتے تھے۔ راقم بھی اپنے زمانۂ عیسائیت میں خود کئی بار ایسے 'ٹیبلوز' میں مختلف کردار ادا کر چکا ہے ،اس میں تمام واقعہ دہرایا جاتا تھا جو مریم کے ساتھ مسیح کی ولادت کے ضمن میں پیش آیا ۔ اس واقعے کے دوران درخت کو مریم علیہا السلام کا ساتھی بنا کر پیش کیا جاتا اور دکھایا جاتا کہ وہ اپنی اُداسی اور تنہائی کی یہ ساری مدت اس ایک درخت کے پاس بیٹھ کر گزار دیتی ہیں۔ چونکہ یہ درخت بھی اسٹیج پر سجایا جاتا تھا اور ڈرامے کے اختتام پر لوگ اس درخت کی ٹہنیاں تبرک کے طور پر ساتھ لے جاتے اور اپنے گھروں میں ایسی جگہ لگا دیتے جہاں اُن کی نظریں اُن پر پڑتی رہیں۔ یہ رسم آہستہ آہستہ 'کرسمس ٹری' کی شکل اختیار کر گئی اور لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہی کرسمس ٹری بنانے اور سجانے شروع کر دیے،اس ارتقائی عمل کے دوران کسی ستم ظریف نے اس پر بچوں کے لیے تحائف بھی لٹکا دیے جس پر یہ تحائف بھی کرسمس ٹری کا حصہ بن گئے ۔

کرسمس ٹری کی بدعت ایک عرصہ تک جرمنی میں ہی محدود تھی۔1847ء میں برطانوی ملکہ وکٹوریہ کا خاوند جرمنی گیا اور اسے کرسمس کا تہوار جرمنی میں منانا پڑا تو اس نے پہلی مرتبہ لوگوں کو کرسمس ٹری بناتے اور سجاتے دیکھا۔ اسے یہ حرکت بہت بھلی لگی، لہٰذا وہ واپسی پر ایک ٹری ساتھ لے آئے۔ 1848ء میں پہلی مرتبہ لندن میں کرسمس ٹری بنوایا گیا۔ یہ ایک دیوہیکل کرسمس ٹری تھا جو شاہی محل کے باہر آویزاں کیا گیا ۔ 25دسمبر 1848ء کو لاکھوں لوگ یہ درخت دیکھنے لندن آئے اور اُسے دیکھ کر گھنٹوں تالیاں بجاتے رہے۔ اس دن سے لے کر آج تک تقریباً تمام ممالک میں کرسمس ٹری ہر مسیحی گھر میں بنایا جاتا ہے۔5

ایک رپورٹ کے مطابق آج کل صرف برطانیہ میں 70لاکھ کرسمس ٹری بنائے جاتے ہیں جن پر 150بلین پاؤنڈ لاگت آتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ 200بلین پاؤنڈ کے بلب اور چھوٹی ٹیوب لائٹس بھی نصب کی جاتی ہیں۔ کرسمس ٹری پر جلائی جانے والی لائٹس تقریباً پورا مہینا جلائی جاتی ہیں۔ یوں صرف ایک ٹری پر ہزار پاؤنڈ یعنی ایک لاکھ ستر ہزار روپے تک کی بجلی جلتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف برطانیہ کے ہیں،باقی کا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔کرسمس کا آغاز ہوا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتدا میں یہ ایک ایسی بدعت تھی جس کی واحد فضول خرچی موم بتیاں تھیں، لیکن پھر کرسمس ٹری آیا،پھر موسیقی، پھر ڈانس اور آخر میں شراب بھی اس میں شامل ہو گئی ۔ شراب کے داخل ہونے کی دیر تھی کہ یہ تہوار عیاشی کی شکل اختیار کر گیا۔ صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس پر 7ارب30کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے۔ 25دسمبر 2005ء کو برطانیہ میں جھگڑوں ،لڑائی ، مار کٹائی کے دس لاکھ واقعات سامنے آئے۔ شراب نوشی کی بنا پر 25دسمبر 2002ء کو آبرو ریزی اور زیادتی کے 19ہزار کیس درج ہوئے۔ ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے ہر 7 میں سے ایک نوجوان نے کرسمس پر شراب نوشی کے بعد بدکاری کا ارتکاب کیا۔

امریکہ کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے ۔ امریکہ میں کرسمس کے موقع پر ٹریفک کے قوانین کی اتنی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں کہ پورا سال نہیں ہوتیں۔ 25دسمبر کو ہر شہری کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہے ۔ شراب کے اخراجات چودہ ارب ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں ۔ صرف اٹلانٹک سٹی کے جوا خانوں میں اس روز 10؍ارب روپے کا جوا ہوتا ہے۔ لڑائی مار کٹائی کے واقعات کی چھ لاکھ رپورٹیں درج ہوتی ہیں۔ 25دسمبر 2005ء کو کرسمس کے روزکثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے حادثوں کے دوران اڑھائی ہزار امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پانچ لاکھ خواتین اپنے بوائے فرینڈز اور خاوندوں سے پٹیں ۔

اب تو یورپ میں بھی ایسے قوانین بن رہے ہیں جن کے ذریعے شہریوں کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ کرسمس کی عبادت کے لیے اپنے قریب ترین چرچ میں جائیں، شراب نوشی کے بعد اپنی گلی سے باہر نہ نکلیں ۔ خواتین بھی اس خراب حالت میں اپنے بواے فرینڈز اور خاوندوں سے دور رہیں۔ مذکورہ بالا اعداد و شمار 2004ء اور 2005ء کے ہیں۔ہم مسلمان بھی اپنی عیدوں پر قانونِ قدرت کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں اور طرح طرح کی بدعتوں کے شکار ہو چکے ہیں،لیکن عیسائی دنیا اس معاملے میں مسلمانوں کے مقابلے میں بہت آگے ہے۔

اب تو عیسائیوں کے اندر بھی ایسے گروہ پیدا ہو چکے ہیں جو کرسمس کو پسند نہیں کرتے۔ یہ لوگ اس تہوار پر مختلف اعتراضات کرتے ہے۔مثلاً مسیح نے اپنی زندگی میں کرسمس نہیں منائی۔ اس کے بعد بھی تین صدیوں تک اس تہوار کا نام و نشان نہیں تھا، اس سے کرسمس کی حقیقت مشکوک ہو جاتی ہے ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کرسمس کو سپانسر کر کے اسے مذہبی تہوار کی بجائے دکانداری بنا دیا ہے۔ عیسائی مذہب اور اس کے تہواروں میں درخت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ انجیل میں واضح الفاظ میں یہ حکم موجود ہے: ''کسی درخت کو کاٹ کر اسے مصنوعی طریقے پر صحن میں نہ گاڑا جائے ۔ '' بائبل میں تقریباً 38مقامات سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عیسائیت میں شراب نوشی حرام ہے، جبکہ اس روز شراب نوشی اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔

خلاصہ کلام

ہر نبی اور رسول نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ تم لوگ اپنی خوشیوں میں بے اعتدالی اور خرمستیوں سے بچو ، اسے عیاشی اور ہلے گلے کی نظر نہ کر و ،مگر انسان نے خوشیاں منانے کے سلسلے میں ہمیشہ قدرت کے اس قانون کی خلاف ورزی کی۔مذکورہ بالا تفصیلات سے کرسمس کی حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو گئی ہے کہ اس کا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،اسے خواہ مخواہ عیسائیت کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے ۔ جناب مسیح کی تاریخ پیدائش کا حتمی علم نہ ہونا اور ابتداے مسیحیت میں اس دن کے منانے کا عدم ثبوت اس موقِف کو مزید تقویت پہنچاتا ہے۔

مسلمان اور کرسمس

اسلام کی روشنی میں ایسے موقع پر مسلمان کو مسیحیوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

دنیا میں بے شمار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو محض نمود و نمائش کے لیے اپنی تاریخ پیدائش کچھ ایسے دنوں سے منسوب کر لیتے ہیں جو قومی یا عالمی سطح پر معروف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے یوم ولادت پر مبارک باد دینا بھی خلاف واقعہ ہے ،جبکہ کسی ایسی شخصیت اور دن کو منانا اور اس کے بارے میں مبارک باد پیش کرنا کہ جن کے متعلق اوّل تو یہ بات واضح ہے کہ ماضی میں ان تاریخوں میں سورج دیوتا ، سیّارے(Jupiter, Satum)یا دیگر بتوں کی پیدائش کا جشن منایا جاتا تھا۔ دُوم مسیح کی پیدائش کا دن تو درکنار سن پیدائش بھی معلوم نہیں۔ سِوُم یہ کہ عیسائیوں کا جس دن کے بارے میں عقیدہ یہ ہو کہ آج کے دن یعنی 25دسمبر کو اللّٰہ کا بیٹا پیدا ہوا تھا (معاذ اللّٰہ )، ایک مسلمان کسی کو اس پر کیسے مبارک دے سکتا ہے ؟ یاد رکھیں! یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّ‌حمـٰنُ وَلَدًا ﴿٨٨﴾ لَقَد جِئتُم شَيـًٔا إِدًّا ﴿٨٩﴾ تَكادُ السَّمـٰو‌ٰتُ يَتَفَطَّر‌نَ مِنهُ وَتَنشَقُّ الأَر‌ضُ وَتَخِرُّ‌ الجِبالُ هَدًّا ﴿٩٠﴾ أَن دَعَوا لِلرَّ‌حمـٰنِ وَلَدًا ﴿٩١﴾... سورةمريم

''اور اُنہوں نے کہا کہ رحمٰن نے کوئی اولاد بنالی ہے، بلاشبہ تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔ قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر پڑیں کہ انہوں نے رحمٰن کے لیے کسی بیٹے کا دعویٰ کیا۔''

لہٰذا مسیحی حضرات کو مبارک باد دینا یا اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا اسلامی نظریے کے مطابق درست نہیں، لیکن ہمارے کچھ نام نہاد علماے کرام اور آج کا ماڈریٹ مسلمان خواہ مخواہ اغیار کی تہذیب و تمدن سے مرعوب نظر آتا ہے اور بے علمی و جہالت اور نام نہاد روشن خیالی کے سبب نہ صرف مبارک باد اور خوشی کا اظہار کرتاہے ،بلکہ اس موقع پر برپا کی جانے والی شراب و شباب کی محافل میں شریک ہو کر اظہارِ یکجہتی کا عملی نمونہ بھی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اسلام قبول کرنے سے قبل میری زندگی میں ایک کرسمس ایسا بھی آیا جس کو میں نے نیکی کا کام سمجھ کر خوب دھوم دھام سے منایا جس میں 80فیصدمیرے ایسے دوستوں نے شرکت کی جو مسلمان تھے اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ ثواب سمجھ کر کرسمس پارٹی کے اَخراجات میں میری معاونت بھی کی، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور گھر میں یا دیگر مقامات پر درسِ قرآن کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تو وہی مسلمان لوگ جو رات 3بجے تک میرے ساتھ کرسمس مناتے تھے ، عذر تراشتے ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں جس مادر پدر آزاد تہذیب کو ٹھوکر مار کر آیا تھا، آج کے کچھ مادہ پرست، حواس باختہ سیکولر مسلمان اُسی تہذیب پر رال ٹپکا رہے ہیں۔ جس بے مثال فلسفۂ توحید ، لاجواب نظریۂ حیات اور آخرت کی لازوال کامیابی مجھے اور میرے جیسے کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لائی، وہیں اس دین کی تعلیمات سے بے بہرہ، اپنے اسلاف سے کٹے ہوئے، بے یقینی اور نااُمیدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کچھ مسلمان اُس دینِ الٰہی سے نظریں چرا رہے ہیں جس کا بدل پوری کائنات میں نہیں۔ اقبال  نے اسی کیفیت کا نقشہ کھینچا تھا:
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِدارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیّارہ
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں انکو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ6

غیرمسلموں کے تہوار منانے کی شرعی حیثیت

نبی کریمﷺ کی حدیثِ مبارکہ ہے:

''دورِ رسالت مآبﷺمیں ایک آدمی نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مَقام پر اونٹ قربان کرے گا۔ تب نبی ﷺنے فرمایا: کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہیں پوجا جاتا تھا؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا وہاں ان کے تہواروں میں سے کوئی تہوار تو منعقد نہیں ہوتا تھا؟ صحابہ ؓ نے عرض کی: نہیں۔ تب آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کر لو ،کیونکہ ایسی نذر کا پورا کرنا درست نہیں جو معصیت ہو یا جو آدمی کے بس سے باہر ہو ۔ ''7

اس سے واضح ہوا کہ مسلمان کا ان مشرکانہ مراسم اور مقامات سے دور رہنا شریعت کا کتنا واضح تقاضا ہے۔فقہاے کرام نے اس مسئلہ (غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت نہ کرنے اور مبارک باد نہ دینے) پر اجماع نقل کیا ہے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دارالاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے؛ اور اسی پر سب صحابہؓ اور فقہا کا عمل رہا ہے، چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی روکا گیا ہو ، مسلمان کا وہیں پہنچ جانا اور شریک ہونا کیوں کر روا ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے حضرت عمر ؓ کا یہ حکم نامہ منقول ہے:

''عجمیوں کے اُسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ اور مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جاؤ، کیونکہ ان پر اللّٰہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔''8

علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارک باد کی ممانعت پر حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں9۔ فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کافروں کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے، وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔10

کافر کو اُس کے مشرکانہ تہوار پر مبارکباد دینا کیسا ہے؟ اس پر امام ابن قیم الجوزیہ کہتے ہیں:

''یہ ایسا ہی ہے کہ مسلمان اُسے صلیب کو سجدہ کر آنے پر مبارکباد پیش کرے! یہ چیز اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے کہ آدمی کسی شخص کو شراب پینے یا نا حق یا حرام شرمگاہ کے ساتھ بدکاری کرنے پر مبارک باد پیش کرے۔''11

مندرجہ بالا گفتگو سے یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام تنگ نظر دین ہے۔ دینِ اسلام ہرگز تنگ نظری کی تعلیم نہیں دیتا بشرطیکہ حقیقی مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ تعلیماتِ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ انبیا و رُسُل اس کائنات میں سب سے زیادہ برگزیدہ تھے، لہٰذا وہ لوگ ہمیں اُن سے محبت و عقیدت کی کیا تعلیم دیں گے جن کی اپنی کتابیں ان پر ایسے گندے اور گھناؤنے الزام لگاتی ہیں کہ پڑھنے والے کی شرم سے آنکھیں جھک جاتی ہیں ۔ یہ مقدس لوگ تو قیامت تک پوری انسانیت اور زندگی کے لیے رول ماڈل ہیں۔ 'ایک شام مسیح کے نام والا' فلسفہ بالکل غلط اور ناقص ہے۔ ہر صبح و شام اللّٰہ اور اس کے دین کے نام ہونی چاہیے ۔ یہ لوگ محسنوں کی قدر اور رشتوں کا مقام ہمیں کیا بتائیں گے جو اپنے کتوں کو تو اپنے ساتھ سلاتے ہیں مگر اپنے والدین کو اولڈ ہوم چھوڑ آتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو تہذیب و تمدن کا مطلب ہی مذہب سے آزادی ، ناچ گانا ، مصوری ، بت تراشی و بت پرستی، مردوزَن کا اختلاط، کثرتِ شراب نوشی، جنسی آوارگی ، بے راہ روی، ہم جنس پرستی ، سود اور لوٹ کھسوٹ ہے ،یعنی ہر طرح کی مادرپدر آزادی جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے12

جبکہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا ، آراستہ کرنا، حسِین بناناہے ۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزوِتہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسین بنائے اور ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے،یہ ہماری تہذیب ہے ۔ علم ، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ ہے وہ تہذیب اور اسلام کی بے مثال تعلیم جو نہ صرف انبیاء ﷩ کی عصمت، عزت اور مقام و مرتبہ کی حفاظت کاحکم دیتی ہے بلکہ ان کی اطاعت و اتباع اور ان سے ہر وقت محبت اور ہر لمحہ ان کی اطاعت کرنے کا درس دیتی ہے۔

اسلامی تہذیب وقتی طور پر جمود کا شکار ضرور ہے مگر یہ جمود اسلام کا مستقل مقدر نہیں ۔ اسلامی تہذیب کا مستقبل بھی اپنے ماضی کی طرح روشن ہے ۔ ان شاء اللّٰہ! بقول ا قبال:
دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی
پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گرد راہ ہوں، وہ کارواں تُو ہے
مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، اَبَد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تُو، جاوداں تُو ہے
حِنا بندِ عروسِ لالہ ہے خونِ جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے ،معمارِ جہاں تُو ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گرِ تقدیرِ ملت ہے
تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازِ داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی!
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صَنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے13

حوالہ جات

1. نوائے وقت: 27؍دسمبر 2005ء

2. قاموس الکتاب :ص147

3. کتاب : 'سازشیں بے نقاب'

4. تفصیل کے لیے دیکھیے: Collier'sانسائیکلو پیڈیا

5. ایوری مینز انسائیکلو پیڈیا، نیو ایڈیشن 1958ء

6. بانگِ درا از علامہ محمد اقبال : 207

7. سنن ابوداؤد :3313

8. اقتضاء الصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہ : 1؍478

9. البحر الرائق لابن نجیم: ۸؍ ۵۵۵؛ المدخل لابن حاج المالکی : ۲؍۴۶۔۴۸؛ مغنی المحتاج للشر بینی :۴؍۱۹۱؛ الفتاوی الفقہیہ الکبریٰ لابن حجر ہیثمی : ۴ ؍۲۳۸۔۲۳۹؛ کشف القناع للبہوتی : ۳ ؍ ۱۳۱

10. اقتضاء الصراط المستقیم: ص ۳۵۴

11. احکام اہل الذمہ از ابن قیم:3؍ 211

12. بانگِ درا از علامہ محمد اقبال : 323، اقبال اکادمی، 2009ء

13. نظم 'طلوع اسلام' کے منتخب اشعار ... بانگِ درا : 297 تا 305