میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ‌ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورةالمائدة

''کہو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلو جو (خود)پہلے گمراہ ہوئے اور بہت سے دوسرےلوگوں کو بھی گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے ۔''

جس طرح اہل کتاب میں سے یہود نے فرعونِ مصراور بابل کے فرما ں روا بخت نصر کی غلامی میں ذہنی طور پر مغلوب اور متاثر ہو کر مصر و بابل میںایمان بالجِبتیعنی جادو سیکھا اوراسیریٔ بابل (Babylonish Captivity)کے زمانہ میں فارس کے اہرمن پرستوں سے 'ایمان بالطاغوت' یعنی شیطان پرستی کا درس لیا ۔بالکل اسی طرح عیسائیوں نے یونانیوں (Greeks)،رومیوں(Romans)،طیوتانیوں(Tutains)اوردیگرمشرک(Pagan) اقوام سے بہت سی بدعات مستعار لیں ۔مثلا عید میلادالمسیح (Christmas) ،عید قیامۃ المسیح (Easter)، بپتسمہ (Baptism)اور صلیب(Cross) وغیرہ ۔

تورات و انجیل جیسی نور و ہدایت سے لبریز اور وحیٔ الہی پر مشتمل کتب سے پہلو تہی کرنے اور انبیاے کرام﷩کی سیدھی سادی اور سچ پر مبنی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کی پاداش میں اللّٰہ ربّ العزت نے نسل پرستی اور قومی تفاخر میں مبتلا اس قوم کو ذہنی طور پر دیگر اقوام کا غلام بنا دیا ۔اسی ذہنی و فکری غلامی کا سبب تھا کہ اُنہوں نے دیگر اقوام کی رسومات کو اپنایا اور انبیا کی روشن ہدایات کو ترک کر کے ان بدعات کو اپنے مذہب کا شعار بنایا اور صراطِ مستقیم کوچھوڑ کر شیطان کے رستوں کے راہی بنے اور گمراہ ٹھہرے۔عیسائیوں کی دیگر اقوام سے اخذ کردہ بدعات میں سے ایک اہم بدعت 'کرسمس' ہے جس کے متعلق کچھ معروضات ذیل میں حوالہ قرطاس کی جارہی ہیں:

کرسمس کا مفہوم

کرسمس کے مفہوم کے متعلق کچھ عیسائی محققین کی تحقیقات کے اقتباسا ت و شذرات ملاحظہ فرمایے:

 انڈریوس یونیورسٹی کے شعبہ 'دینیات و تاریخ کلیسا' کے پروفیسر ڈاکٹر سموئیل بیکیاسکی کرسمس کے مفہوم کے متعلق لکھتے ہیں:

'' کرسمس کا لفظ بائبل میں موجود نہیں ہے۔ یہ اصطلاح دو الفاظ Christ یعنی مسیح اور Mass یعنی کیتھولک رسم کو ملا کر بنائی گئی ہے جس کا مفہوم ہے کہ ایسی کیتھولک رسم جو 25دسمبر کی رات کو مسیح کی ولادت کے دن کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 'عہد نامہ جدید' میں مسیح کی ولادت کو ہر سال بحیثیت ِتہوار منانے کا اشارہ تک نہیں ہے ۔ اناجیل میں مسیح کی ولادت کا تذکرہ انتہائی مختصر ہے اور گنتی کی چند آیات پر مشتمل ہے ۔''1

 پروفیسر ہربرٹ ڈبلیو آرم سٹرانگ کرسمس کے مفہوم کے متعلق رقم طراز ہیں کہ

''لفظ کرسمس کا مطلب مسیح کی رسم ہے ۔یہ تہوار غیر عیسائی مشرکوں اور پروٹسٹینٹز کے ذریعے رومن کیتھولک چرچ میں رائج ہوا ہے اور سوال ہے کہ اُنہوں نے اسے کہاں سے لیا ہے ؟عہد نامہ جدید سے نہیں،بائیبل سے نہیں...اور نہ ہی ان مستند حواریوں سے جو مسیحؑ کے تربیت یافتہ تھے بلکہ یہ تہوار چوتھی صدی عیسوی میں بت پرست اقوام کی طرف رومن سے کیتھولک کلیسا میں آیا ۔ ''2

کرسمس کا تعین

25 دسمبرکا دن دنیا بھر کی عیسائی اقوام میں حضرت عیسیٰ کا یومِ پیدائش 'عید میلاد المسیح' یعنی کرسمس کے نام سے انتہائی تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے عیسائیوں میں کچھ حقیقت پسند مکاتبِ فکر تاحال موجود ہیں جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ25 دسمبر حضرت مسیحؑ کی و لادت کا دن نہیں بلکہ دیگر بت پرست اقوام سے لی گئی بدعت ہے۔ فقط یہی نہیں بلکہ تاریخِ کلیسا میں کرسمس کی تاریخ کبھی ایک سی نہیں رہی ،کیونکہ جنابِ عیسیٰ ؑ کا یومِ پیدائش کسی بھی ذریعے سے قطعیت سے معلوم نہیں۔

حضرت عیسیٰ کا دور ِ حیات اور آپ کے بعد آپ کے حواری برسوں تک کسمپرسی کی حالت میں رہے۔ رومیوں اور یہودیوں کے مظالم سے چھپتے پھرتے تھے اور عیسائیت کو عام ہونے میں ایک صدی لگی ۔

رومن سلطنت کے عیسائیت کو قبول کرنے سے قبل اس خطے میں رومی کیلنڈر رائج تھا۔ سلطنت ِروما کے قیام سے ہی اس کیلنڈر کا آغاز ہوتا ہے۔ چھٹی صدی عیسوی کے راہب ڈائیونیزیوس(Dionysius Exiguus 470-544 AD)کا کہنا ہے کہ ولادتِ مسیح رومن کیلنڈر کی ابتدا کے 753 سال بعد ہوئی۔سن عیسوی کا قیام صدیوں بعد رومن کلیسا نے کیا ۔البتہ میلاد المسیح کو بحیثیتِ عید منانے کا رواج حضرت عیسیٰ اور آپ کے حواریوں کے دور سے کافی عرصہ بعد شروع ہوا ۔دوسری صدی میں پاپاے اعظم ٹیلیس فورس نے اس بدعت کو باقاعدہ طور پر منانے کا اعلان کیا ،لیکن اس وقت کرسمس کی کوئی متعین تاریخ نہ تھی۔اسکندریہ مصرمیں اسے20مئی کو منایا جاتا تھا۔اس کے بعد 19،20اور21 اپریل کو منایا جانے لگا ۔کچھ خطے اسے مارچ میں بھی مناتے تھے۔

 انسائیکلوپیڈیا Britannica میں کرسمس ڈے آرٹیکل کے مطابق 525ء میں سیتھیا کے راہب ڈائیونیزیوس(Dionysius Exiguus 470-544 AD)جو کہ ایک پادری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر کیلنڈر نگار بھی تھا،اس نے اپنے اندازے کے مطابق حضرت مسیح کی تاریخِ ولادت 25 دسمبر مقرر کی ہے ۔''

یہ بات درست ہے کہ ڈائیونیزیوس ایک مشہور تقویم نگار تھا،اس نےAnno Domini یعنی عیسوی کیلنڈر بھی 525ء میں متعارف کروایا تھامگر انسائیکلوپیڈیا ویکی پیڈیا کے مقالہ نگار کے مطابق جدید تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس مشہور تقویم نگارنے کبھی یہ دعو یٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح کی تاریخِ ولادت 25 دسمبر ہے۔3

بازنطینی بادشاہ کانسٹنٹائن(Constantine the Great 272-373AD)نے اس تاریخ کو عالمی طور پر حضرت عیسیٰ کی ولادت کا دن مقرر کیا ۔

چوتھی صدی عیسوی سے اب تک کرسمس کا تہوار دنیا بھر میں 25 دسمبر کو ہی منایا جا رہا ہے۔لیکن عیسائی فرقہ آ رتھوڈکس جو گریگوری کیلنڈر کو ہی معتبر مانتا ہے،وہ کرسمس 7 جنوری کو مناتے ہیں اور آج بھی ایسے خطے جہاں آرتھوڈکس کی اکثریت ہے، وہاں کرسمس7 جنوری کو ہی منایا جاتا ہے جن میں روس ،آرمینیا ،مشرقی تیمور ،فلپائن ،شا م اور بھارت کی ریاست کیرالہ بھی شامل ہیں۔جبکہ بعض خطے ایسے بھی ہیں جہاں کے عیسائی 6 جنوری اور 18 جنوری کو کرسمس مناتے ہیں ۔

انجیل اور ولادتِ مسیح کا تعین

آیے! اب اناجیل متداولہ میں سے سیدنا مسیح کی ولادت کے متعلق آیات کا جائزہ لیتے ہوئے ولادت مسیح کا تعین کرتے ہیں ۔انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کےمقالہ نگار اَناجیل کے بیانات میں سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ

''یسوع کی پیدائش غیر یقینی ہے ۔مرقس اور یوحنا اپنی انجیل میں ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھتے۔ہماری معلومات کے ذرائع صرف یسوع مسیح کی پیدائش اور بچپن کے وہ از حد متضاد بیانات ہیں جن میں ایک طرف تو انجیل متی کے پہلے دو اَبواب کی وہ افسانوی کہانی ہے جس میں یسوع کی پیدائش اور بچپن کو ہیروڈ اول(Herod the Great 74-4 BC) کے عہد اور اس کی حکومت بدلنے یعنی چار قبل مسیح سے منسوب کیا گیا ہے ۔اور دوسری طرف انجیل لوقا کے دوسرے باب کے مطابق یسوع کی پیدائش شہنشاہ آگسٹس (Augustus)کے عہد میں یہودیہ میں ہونے والی مردم شماری یعنی6 عیسوی سے منسوب کی گئی ہے ۔

اس بیان میں یہ بات ازحد اہم ہے کہ ہیروڈ بادشاہ جس کے عہد انجیل میں یسوع کی پیدائش بیان کی گئی ہے، در حقیقت یسوع کے پیدا ہونے سے چار یا دس برس قبل مر چکا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے اس حقیقت پر مبنی بیا ن کی جانچ قارئین، اناجیل متی و لوقا کی تحریروں سے خود کر سکتے ہیں ۔انجیل لوقا کے دوسرے باب میں سیدنا عیسی کی یوم ولادت کے ماحول کے متعلق کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے :

''تو اس کے وضع حمل کا وقت آپہنچا ۔اور اس کا پہلو ٹھا پیدا ہوا اور اس نے اسے کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا ،کیونکہ ان کے لیے سرائے میں جگہ نہ تھی ۔اسی علاقے میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہتے اور اپنے گلے کی نگہبانی کرتے تھے ۔''

 بائبل کے مشہور مفسر آدم کلارک اس آیت کے متعلق اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں یوں وضاحت کرتے ہیں کہ

''مسیح کی پیدائش ستمبر یا اکتوبر کے ایام میں ہونے کی بالواسطہ تائید اس حقیقت سے بھی ملتی ہے کہ نومبر سے فروری تک چرواہے رات کے وقت کھیتوں میں اپنے ریوڑ کی نگہبانی نہیں کرتے بلکہ ان مہینوں میں رات کے وقت وہ اُنہیں حفاظتی باڑوں میں لے جاتے ہیں جنہیں Sheepfold یعنی بھیڑوں کا حفاظتی باڑہ کہتے ہیں۔اس لیے 25؍دسمبر حضرت مسیح کی پیدائش کے لیے انتہائی نا مناسب تاریخ ہے ۔''4

 انجیل لوقا کی مذکورہ بالا آیت کے بارے میں پروفیسر ایچ ڈبلیو آرم سٹر انگ اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں:

''یسوع سردی کے موسم میں پیدا نہیں ہوئے تھے، کیونکہ جب یسوع پیدا ہوئے تو اس علاقے میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہتے اور اپنے گلہ بانی کی حفاظت کرتے تھے ۔دسمبر کے مہینے میں یہودیہ کے علاقے میں ایسا نہیں ہو سکتا۔چرواہے ہمیشہ اپنے ریوڑ کو پہاڑی علاقوں اور کھیتوں میں لے جاتے اور15 اکتوبر سے پہلے پہلے اُنہیں ان کے حفاظتی باڑوں میں بند کر دیتے تھے تاکہ اُنہیں سردی اور برسات کے موسم سے بچایا جا سکے جو کہ25؍اکتوبر کے بعد شروع ہو جاتا تھا ۔یاد رکھیے کہ بائبل خود اس کا ثبوت دیتی ہے کہ سردی برسات کا موسم تھا جو چرواہوں کو کھلے کھیتوں میں رات بسر کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔''5

 آدم کلارک (Adam Clarke1760–1832) لکھتے ہیں کہ

''یہ یہودیوں کا قدیم رواج تھا کہ عید فصیح کے مہینے (نیساں یعنی اپریل)میں اپنی بھیڑ بکریوں کو باہر کھیتوں اور میدانوںمیں بھیج دیتے اور برسات کے شروع میں ہی اُنہیں گھر واپس لے آتے ۔''6

 پروفیسر اے ٹی رابرٹسن ولادت ِمسیح کے تعین کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں:

'' اگر مسیح کی تبلیغ تب شروع ہوئی جب آپ تیس سال کی عمر کے تھے اور ساڑھے تین سال میں عید فصیح کے موقع پر آپ کی وفات پر اختتام پذیر ہوئی تو محتاط طریقے سے ماضی میں واپس لوٹتے ہوئے 25؍دسمبر کی بجائے ہم ستمبر یا اکتوبر کے مہینوں میں پہنچتے ہیں ۔''7

 انجیل لوقامیں سیدنامسیح ؑکی ولادت کو قیصر آگسٹس کے عہدِ حکومت میں ہونیوالی مردم شماری سے بھی منسوب کیا گیا ہے ۔انجیل لوقا کے دوسرے باب کا آغاز یوں ہوتا ہے:

''ان دنوں میں ایسا ہوا کہ قیصر آگسٹس کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ ساری مملکت کے لوگوں کے نام لکھے جائیں یہ پہلی اسم نویسی سوریہ کے حاکم کورنیس کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے اپنے اپنے شہر کو گئے۔''8

 عیسائیت کے مشہور مؤرخ 'بارنی کاسدان'اور 'انڈریوس یونیورسٹی'کے پروفیسر ڈاکٹر سموئیل دونوں رومیوں کی مردم شماری کے متعلق اپنی اپنی تحقیقی کتب میں یہ ریمارکس دیتے ہیں:

''یروشلم سے بیتِ لحم صرف چار میل کے فاصلے پر ہے۔ رومی لوگ اپنے مقبوضہ علاقوں میں رائج رسم و رواج کے دوران یعنی کسی تہوار کے موقع پر لوگوں کی مردم شماری کرنے میں مشہور تھے ۔چنانچہ بنی اسرائیل کے معاملے میں اُنہوں نے اپنے صوبوں کے لوگوں کی رپورٹ لینے کے لیے ایسا وقت اختیار کیا جو اُن کے لیے آسان اور مناسب ہو۔ سردیوں کے عین وسط میں لوگوں کو مردم شماری (جو کہ ٹیکس عائد کرنے اور وصول کرنے کے لئے کی گئی تھی) بلانا غیر مناسب اورغیر منطقی سی بات ہے بلکہ زوال پذیر حالات میں ٹیکس عائد کرنے کا موزوں اور منطقی وقت فصلوں کی کٹائی کے بعد کا وقت ہی ہو گا کہ جب لوگ کٹائی کے بعد اپنے ٹیکس اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے ہوں۔''9

 انجیل لوقا کے دوسرے باب کی چھٹی اور ساتویں آیات کا بیان ہے :

''اور اس کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا اور اُس نے اسے کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا۔ کیونکہ ان کے لیے سرائے میں جگہ نہ تھی۔''

گزشتہ بیان کے مطابق سیدنا عیسیٰ کے یومِ ولادت کے سلسلے میں دو اہم نکات سامنے آتے ہیں:

اوّل:مریم علیہا السلام نے بچے کو جنم دے کر چرنی میں ڈال دیا...اس کے متعلق میں آپ کی عقلِ سلیم کو فیصلِ عدل قرار ٹھہراتا ہوں کہ اگر یہ دسمبر کا مہینہ ہوتا (گز شتہ بیانات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ دسمبرفلسطین کے صوبہ یہودیہ میں مسلسل بارشوں اور سخت سردی کا مہینہ تھا) تو کس طرح سیدہ مریم علیہا السلام باہر جا سکتی تھیں؟ اور ننھے عیسیٰ کو اپنے پہلو میں رکھ کر مامتا کی حدّت دینے کی بجائے وہ کس طرح اسے چرنی میں رکھ سکتی تھیں؟

دوم:ان کے لئے سرائے میں جگہ نہ تھی... ڈاکٹر سموئیل کی تحقیق کے مطابق

''اس آیت کا تعلق نہ صرف رومن عہد میں ہونے والی مردم شماری کے ساتھ ہے بلکہ یہودیوں کے تہوار سکّوﺗﻬ (Feast of Tabernacle)کے ساتھ بھی ہے جو کہ یہودیوں کے لئے سال کا آخری اور انتہائی اہم زیارتی تہوار ہے ۔اسے Feast of Booths یعنی عارضی سائبانوں کا میلہ اور 'عیدِ خیام' بھی کہا جاتا ہے۔ اس تہوار کے موقع پر لوگ مقدّس مقامات کی زیارت کے لیے آتے جاتے تھے۔ اسی وجہ سے ''سرائے میں ان کے لیے جگہ نہ تھی10۔'' اور یہ تہوار یہودی عیدِ کپور کے پانچ دن بعد15 تشرین یعنی ستمبر کے ماہ میں منایا جاتا ہے۔''11

 ثانوی حیثیت کی مقدس متروک اناجیل میں سے ایک انجیلِ متّی بھی ہے جو در اصل عبرانی میں لکھی گئی تھی۔بعد میں سینٹ جیروم نے اسے لاطینی زبان میں منتقل کر دیا۔ یہ انجیل سیدہ مریم کی پیدائش سے حضرت عیسیٰ کے لڑکپن تک کے واقعات کو قدرے تفصیل سے بیان کرتی ہے ۔اس میں بھی حضرت عیسیٰ کی ولادت کے موسم کے متعلق بڑی واضح دلیل ملتی ہے کہ یہ سردی کا موسم نہیں بلکہ گرمی کا موسم تھا ۔اس انجیل کے مطابق ''سیدنا مسیح کی ولادت سے چند دن بعد سیدہ مریم اپنے خاوند یوسف نجّار کے ہمراہ بیتِ لحم سے مصر کو اس لیے روانہ ہوئیں کہ کہیں ہیرودیس بادشاہ ننھے عیسیٰ کو قتل نہ کر دے ۔اس سفر کے تیسرے دن جب وہ ایک صحرا سے گذر رہے تھے تو صحرا کی تپش اور سورج کی چلچلاتی دھوپ نے اُنہیں نڈھال کر دیا۔وہ اور اُن کے جانور پیاسے بھی تھے۔ وہ ایک کھجور کے درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے رکے ۔اور وہ درخت پھل سے لدا ہواتھا۔''12

مندرجہ بالا تمام دلائل و قرائن سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ سیدنا مسیح کی ولادت انجیل کے مطابق سردیوں کے موسم کی بجائے گرمیوں میں ہوئی تھی۔

قرآن کریم اور ولادت ِ عیسیٰ کا تعین

 قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ کی ولات کے متعلق سورہ مریم کے دوسرے رکوع میں بالتفصیل تذکرہ ہوا ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

﴿فَحَمَلَتهُ فَانتَبَذَت بِهِ مَكانًا قَصِيًّا ﴿٢٢﴾ فَأَجاءَهَا المَخاضُ إِلىٰ جِذعِ النَّخلَةِ قالَت يـٰلَيتَنى مِتُّ قَبلَ هـٰذا وَكُنتُ نَسيًا مَنسِيًّا ﴿٢٣﴾... سورةمريم

''تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہو گئیں اور اُسے لیکر ایک دُور کی جگہ چلی گئیں پھر دردِ زہ اُن کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکی ہوتی اور بھولی بسری ہو گئی ہوتی ۔''

 اس کے بعد سیدہ مریم علیہا السلام کو بارگاہ ایزدی سے یہ فرمان صادر ہوتا ہے :

﴿فَنادىٰها مِن تَحتِها أَلّا تَحزَنى قَد جَعَلَ رَ‌بُّكِ تَحتَكِ سَرِ‌يًّا ﴿٢٤﴾ وَهُزّى إِلَيكِ بِجِذعِ النَّخلَةِ تُسـٰقِط عَلَيكِ رُ‌طَبًا جَنِيًّا ﴿٢٥﴾فَكُلى وَاشرَ‌بى وَقَرّ‌ى عَينًا...﴿٢٦﴾... سورة مريم

''اس وقت اُن کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے اُن کو آواز دی کہ غم ناک نہ ہو تمہارے ربّ نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے ۔ اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی۔ تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔''

حضرت عیسیٰ کے جائے پیدائش کے متعلق رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

«صلیت ببیت لحم حیث ولد عیسی»13

''میں نے بیت اللحم میں نمازپڑھی ، جہاں عیسیٰ پیدا ہوئے تھے۔ ''

مذکورہ بالا آیات میں محل شاہد آیت نمبر25 ہے جس میں کھجور کے تنے کو ہلانے اور تروتازہ کھجوریں گرنے کا ذکر ہے ۔مندرجہ بالا آیات کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کو دردِزِہ کی تکلیف ہوئی تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی کہ کھجور کے تنے کو ہلاتاکہ اُن پر تا زہ پکی کھجوریں گریں اور وہ اُن کو کھائیں اور چشمے کا پانی پی کر طاقت حاصل کر سکیں ۔

اب توجہ طلب بات یہ ہے کہ فلسطین میں موسم گرما کے وسط یعنی جولا ئی اور اگست میں ہی کھجوریں پکتی ہیں۔ اس سے بھی یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت جولائی یا اگست کے کسی دن ہوئی تھی ۔بہر حال 25؍دسمبر کی تاریخ سراسر غلط ہے۔

 قطع نظراس بحث سے کہ یہ کھجوروں والا معاملہ سیدہ مریم علیہا السلام کی کرامت تھی یا نہیں،ان آیات کا ظاہری سیاق و سباق یہ بتاتا ہے کہ وہ درخت پھل دار تھا ۔ علامہ محمد امین شنقیطی نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں لکھا ہے کہ

وقال بعض العلماء: کانت النخلة مثمرة، وقد أمر الله بهزمها لیتساقط لها الرطب الذي کان موجودًا14

''بعض علما نے یہ کہا : وہ کھجور کا دخت پھل دار تھا، اسی لیے اللّٰہ تعالیٰ نے سیدہ مریم علیہا السلام کو اسے ہلانے کا حکم دیا تاکہ یہ درخت اپنی تروتازہ کھجوریں سیدہ مریم کے لیے گرا دے جو کہ موجود تھیں ۔ ''

 اس سلسلے میں کسی اہل دل نے کیا خوب کہا کہ

ألم تر أن الله أوحی لمریم وهزي إلیك الجذع لیساقط الرطب ولو شاء أحنی الجذع من غیر هزه إليها ولکن کل شيء له سبب

''کیا تم نے اس نکتے کی طرف توجہ نہیں کی کہ اللّٰہ نے مریم علیہا السلام کو یہ وحی کی کہ تنے کو اپنی طرف ہلا ؤتو وہ کھجوریں گرائے گا ۔اگر اللّٰہ چاہتے تو بغیر ہلانے کہ تنا اُن کی طرف جھک جاتا ،لیکن ہر ایک چیز کا کوئی ظاہری سبب تو ہوتا ہی ہے ۔''

کرسمس25؍دسمبر کو کیوں ؟

اسلام اور عیسائیت کے گزشتہ دلائل سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ سیدنا عیسیٰ کا یوم پیدائش دسمبر تو کجا سردیوں کے موسم میں بھی نہیں ہے تو یہاں ایک انتہائی اہم سوال ہر قاری کے حاشیہ خیال میں اُبھرا ہو گا کہ اگر قرآنِ کریم اور انجیل مقدس کے یہ دلائل مبنی بر حقیقت ہیں تو پھر 25دسمبر کو بحیثیتِ عید میلاد المسیح کیوں متعین کیا گیا ؟

 انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مایہ ناز مقالہ نگار،شمالی کیلفورنیا کے شہر درہم کی ڈیوک یونیورسٹی کے شعبہ'تاریخ و دینیات' کے پروفیسر ڈاکٹر ہانس جے ہلر برانڈ 'کرسمس ڈے' کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں :

''ابتدائی عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کی یوم پیدائش اور اس موقع کو بحیثیتِ تہوار منانے کے درمیان فرق کیا کرتے تھے ۔در اصل ولادتِ مسیح کو منانے کی رسم بہت بعد میں آئی۔بالخصوص عیسائیت کی ابتدائی دو صدیوں کے دوران شہدا یا حضرت عیسیٰ کے یومِ پیدائش کو بحیثیتِ تہوار منانے کے لیے شناخت کرنے کے متعلق ابتدائی عیسائیوں کی طرف سے انتہائی مضبوط مخالفت موجود تھی ۔بہت سے چرچ فادرز نے یوم ولادت کو منانے کی پاگان (مشرکانہ) رسم کے متعلق طنز آمیز تبصرے پیش کیے۔''

25؍دسمبر کو ولادتِ مسیح کے طور پر مقرر کرنے کا باقاعدہ آغاز بالکل غیر واضح ہے۔ عہد نامہ جدید میں اس بارے میں کوئی سراغ نہیں ملتا ۔اس دن کی بنیاد کے متعلق ایک ہمہ گیر وضاحت یہ ہے کہ25؍دسمبر در حقیقت پاگان (مشرک)روم کے تہوار "Dies Solis Invicti Nati" (یعنی نا مغلوب ہونے والے سورج دیوتا کا یوم پیدائش )کی عیسائی شکل تھی۔جو کہ رومن سلطنت میں ایک مشہور مقدس دن تھا جسے سورج دیوتا کی حیاتِ نوکی علامت کے طور پر انقلابِ شمسی کے دوران منایا جاتا تھا ۔''15

 اسی طرح ریاست کیلیفورنیا کے دوسرے شہر بیرکلے کے معروف ادارے چرچ ڈیوینیٹی سکول آف پیسیفک کے امریطس پروفیسر ربی میسی ایچ شیفرڈ بھی انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں "Church Year" کے عنوان سے تحریر کردہ اپنے مقالے میں سابقہ بیان کی تائید کچھ یوں کرتے ہیں :

''بہت سے لوگ اس نظریے کو قبول کر چکے ہیں کہ میلاد المسیح کا تہوار در حقیقت 'راستی کے سورج دیوتا' کا یومِ پیدائش ہے ۔جو کہ روم اور شمالی افریقہ میں عیسائیت کے حریف کے طور پر اور 'نہ مغلوب ہونے والے سورج دیوتا'کے مشرکانہ (Pagan)تہوار کی حیثیت سے سردیوں کے انقلاب ِ شمسی (جب سورج اپنے سفر کے انتہائی مقام یا خط ِ استوا سے انتہائی دور ہوتا ہے یعنی 21 دسمبر اور اس کے بعد کے کچھ ایام)کے موقع پر منایا جاتا ہے۔''16

 کیتھولک انسائیکلوپیڈیا میں بھی "Christmas" کے عنوان کے تحت یہ اعتراف ِ حقیقت کچھ اس طرح موجود ہے :

''عید میلاد المسیح قدیم عیسائی کلیسا کے ابتدائی مقدّس تہواروں میں سے نہ تھی بلکہ اس تہوار کا اوّلین ثبوت مصر کے فرعو نوں سے ملتا ہے۔ عیسائیت کے اثر و رسوخ سے قبل یورپ خصوصاً روم اور اس کے ما تحت علاقوںمیں مشرکانہ تہوار (Pagan Customs) تقریباً یکم جنوری کے ارد گرد ہی منائے جاتے جو بعد ازاں عید میلاد المسیح یعنی کرسمس کی شکل اختیار کر گئے ۔''17

 کیتھولک انسائیکلوپیڈیا میں ہی "Natal Day" کے عنوان سے لکھے گئے آرٹیکل میں ہمیں اس بات کی شہادت بھی ملتی ہے کہ کلیسا کی انتہائی عظیم شخصیّت،ابتدائی کیتھولک پوپ آریجن (Origen 185-253 AD)نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے :

''مقدس صحائف میں یومِ پیدائش (Birth Day) کے موقع پر کسی عظیم دعوت کا انعقاد کرنے یا اسے بحیثیتِ تہوار منانے کا کوئی ایک بھی حوالہ موجود نہیں ۔ یہ تو نمرود ، فرعون اور ان کی طرح کے گنہگار کفّار ہیں جو اس دنیا میں اپنی پیدائش کے دن کسی تہوار یا بڑی دعوت کا انعقاد کرتے ہیں۔''18

 انسائیکلوپیڈیا امیریکانا میں''Christmas''کے موضوع پر تحریر کردہ مضمون میں اس عقدہ کو یوں کشا کیا گیا:

''بہت سے مذہبی ماہرین کے مطابق عیسائی کلیسا کی ابتدائی صدیوں میں کرسمس نہیں منائی جاتی تھی... لوگ عیسیٰ کی پیدائش کی یاد میں چوتھی صدی عیسوی میں تہوار منانا شروع ہوئے ۔ پانچویں صدی عیسوی میں تو مغربی کلیسا نے اس تہوار کو اس دن منانے کا حکم دیا جس دن قدیم اہلِ روم اپنے سورج دیوتا کا جنم دن (25دسمبر) منایا کرتے تھے۔ جبکہ مسیح کے اصل یومِ پیدائش کا کسی کو کوئی خاص علم ہی نہ تھا۔''19

کرسمس کی حقیقت

پروفیسر الیگزینڈر ہزلپ کرسمس اور نمرود کے تعلق کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

''بابل ، مصر ، کنعان، یونان ،روم اورمختلف ایشیائی ممالک کی قدیم تہذیبوں میں ہمیں ایک مشترک داستان ملتی ہے جس کی ابتدا بابلی تہذیب سے ہو ئی اور پھرمختلف تہذیبوں نے اس داستاں کو اپنا کر اپنے عقائد میں شامل کیا ۔اس داستان کے مطابق شہر بابل کابانی نمرود بادشاہ جنگل میں شکار کرنے گیا اور واپس نہ آیا۔ غالبا ً وہ کسی شکار کا شکار ہو گیا ۔اس کی ماں جو اس کی بیوی بھی تھی، اس نے اسے بہت تلاش کیا لیکن اس کا کوئی پتا نہ چلا ۔بالآخر اُس نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے کہ میرا بیٹا پاتال میں آرام کرنے کے لیے گیا ہےاور جس طرح ایک خشک تنے سے سردیوں کے انقلابِِ شمسی (یعنی 21؍دسمبر اور اسکے بعد کے کچھ ایّام) پر ایک نئی زندگی سر سبز پتوں کی صورت پھوٹتی ہے، ایسے ہی میرے بیٹے کے مردہ بدن سے اس کی پیدائش کے دن ہر سال ایک نئی زندگی جنم لے گی۔اور ہر سال اس دن کو ہم عید کے طور پر منائیں گے۔''20

مارٹن کولنز اس سلسلے میں اپنے ریمارکس یوں دیتے ہیں:

'' نمرود کی نا گہانی موت (2167 BC)کے بعداس کی ماں سمیرامس نے اہلِ بابل میں اس عقیدے کا پرچار کیا کہ نمرود ایک دیوتا تھا۔اس نے یہ بھی کہا کہ اس کا بیٹا درخت کے تنے کی مانند ہے کہ جیسے سردیوں کے اختتام پر اس سے ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے، ایسے ہی اس کے مردہ جسم سے اس کی سالگرہ کے دن ایک نئی زندگی جنم لے گی ۔اس کی سالگرہ کے دن اس کی ماں نے یہ اعلان کیا کہ نمرود ہر سر سبز درخت پر آئے گا اور وہاں تحائف چھوڑ کر جائے گا۔غالبا ً یہی کرسمس ٹری کی ابتدا بھی ہے۔اس طرح اس کی سالگرہ سردیوں کے انقلابِِ شمسی یعنی دسمبر کے آخری ایام میں ایک عید کی حیثیت سے منائی جانے لگی۔ ''21

بائبل میں ایسے تہوار نہ منانے کا حکم

بائبل میں بھی مشرکین کے میلوں ،عیدوں اور تہواروں میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔فرمانِ باری تعالی ہے: ''اے اسرائیل کے گھرانے ! وہ کلام جو خداوند تم سے کرتا ہے سنو۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم دیگر اقوام کی روش اختیار نہ کرو۔''22

نیز یہ تہوار حضرت عیسیٰ کے سچے دین میں نہ تھا بلکہ بعد میں رومی پادریوں نے اسے دین کا شعار بنایا، اس لیے یہ عیسائیت میں بدعت(Heresy)ہے ۔ اور بدعت سے بائبل میں بھی بیسیوں مقامات پر منع کیا گیا ہے۔فرمانِ خداوند ہے:

''بدعات کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے ۔''23

نیز فرمایا: ''تم میں بھی جھوٹے اُستاد ہوں گے جو پوشیدہ طور پر ہلاک کرنے والی بدعتیں نکالیں گے.... اور اپنے آپ کو جلد ہلاکت میں ڈالیں گے۔''24

لمحہ فکریہ!

 اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿وَلَئِنِ اتَّبَعتَ أَهواءَهُم بَعدَ ما جاءَكَ مِنَ العِلمِ... ﴿٣٧﴾... سورةالرعد

''اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلو گے تو اللّٰہ کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہو گا اور نہ کوئی بچانے والا ۔''

اﷲ ربّ العزت نے قرآن کریم میں 15؍ مختلف مقامات پر جاہل اور گمراہ اقوام کے عقائد ،نظریات ،تہوار اوررسم و رواج کو قبول سے منع فرمایا۔

 ذخیرۂ احادیث میں رسول اللّٰہ ﷺ نے بیسیوں مرتبہ مختلف معاملات ِزندگی کے متعلق فرمایا : «خالفوا المشركين»25

''مشرکین کی مخالفت کرو ۔''

«خالفوا المجوس» 26'' مجوسیوں کی مخالفت کرو۔''

«خالفوا اليهود والنصارى»27 ''یہود اور نصاریٰ کی مخالفت کرو۔''

 رسول اللّٰہﷺ نے یہ بھی فرمایا:

«من تشبّه بقوم فهو منهم»28

''جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ ان ہی میں سے ہے۔''

 حضرت عمر فاروق نے فرمایا:

"لاتدخلوا في کنائسهم یوم عیدهم، فإنّ السخطة تنزّل علیهم"29

''ان کی عید کے دن ان کے کلیساؤں میں نہ جایا کرو کیونکہ ان پر اللّٰہ کی ناراضگی اُترتی ہے۔''

اسی تناظر میں آپ نے فرمایا:

"اجتنبوا أعداء الله في عیدهم"30

''اللّٰہ کے دشمنوں کی عید میں شرکت کرنے سے بچو!''

 حضرت عبداللّٰہ بن عمرو نے فرمایا:

'' غیر مسلموں کی سر زمین میں رہنے والا مسلمان ان کے نوروز(New Year) اور ان کی عید کو ان کی طرح منائے اور اسی رویّے پر اس کی موت ہو تو قیامت کے دن وہ ان غیر مسلموں کے ساتھ ہی اُٹھایا جائے گا۔''31

فقہائے اسلام ﷭ اور عیدِ میلاد ِ مسیح کا حکم

1. امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ جس شخص کی بیوی عیسائی ہو تو کیا اپنی بیوی کو عیسائیوں کی عید یا چرچ میں جانے کی اجازت دے سکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وہ اسے اجازت نہ دے کیونکہ اللّٰہ نے گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔32

2. مختلف شافعی فقہا کا کہنا ہے کہ جو کفار کی عید میں شامل ہو، اسے سزا دی جائے۔33

3. معروف شافعی فقیہ ابوالقاسم ہبۃاللّٰہ بن حسن بن منصورطبری کہتے ہیں:

''مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ یہود و نصاریٰ کی عیدوں میں شرکت کریں کیونکہ وہ برائی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اور جب اہلِ ایمان اہلِ کفر کے ایسے تہوار میں شرکت کرتے ہیں تو کفر کے اس تہوار کو پسند کرنے والے اور اس سے متاثر ہونے والے کی طرح ہی ہیں۔اور ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ان اہل ایمان پر اللّٰہ کا عذاب نہ نازل ہو جائے کیونکہ جب اللّٰہ کا عذاب آتا ہے تو نیک و بد سب اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔''34

4. امام مالک کے شاگردِ رشید مشہور مالکی فقیہ عبدالرحمٰن بن القاسم سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کشتیوں میں سوار ہونا جائز ہے جن میں عیسائی اپنی عیدوں کے دن سوار ہوتے ہیں۔تو آپ نے اس وجہ سے اسے مکروہ جانا کہ کہیں ان پر اللّٰہ کا عذاب نہ اُتر آئے کیونکہ ایسے مواقع پر وہ مل کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔35

5. احناف کے مشہور فقیہ ابو حفص کبیر نے فرمایا:اگر کوئی شخص پچاس سال اللّٰہ کی عبادت کرے پھر مشرکین کی عید آئے تو وہ اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے کسی مشرک کو ایک انڈہ ہی تحفہ دے دے تو اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال ضائع ہو گئے۔36

6. نامور فقیہ امام ابو الحسن آمدی کا بھی فتویٰ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی عیدوں میں شامل ہونا جائز نہیں۔37

7. امام ابن قیمنے فرمایا:''کافروں کے خاص دینی شعار کے موقع پراُنہیں مبارک باد پیش کرنا بالاتفاق حرام ہے۔''38

8. امام ابنِ تیمیہ نے اس مسئلہ میں فرمایا: ''موسم سرما میں دسمبر کی24تاریخ کو لوگ بہت سے کام کرتے ہیں۔عیسائیوں کے خیال میں یہ دن حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا دن ہے۔اس میں جتنے بھی کام کئے جاتے ہیں مثلاًآگ روشن کرنا، خاص قسم کے کھانے تیار کرنا اور موم بتیاں وغیرہ جلاناسب کے سب مکروہ کام ہیں۔اس دن کو عید سمجھنا عیسائیوں کا دین و عقیدہ ہے ۔اسلام میں اس کی کوئی اصلیت نہیں اورعیسائیوں کی اس عید میں شامل ہونا جائز نہیں ۔''39

المیہ!

مگر بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اکثر عوام الناس اور ان کی رہنمائی کرنے والے کچھ عاقبت نااندیش علما نہ صرف غیر مسلموں کے ایسے تہواروں میں شرکت کرتے بلکہ ان کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ اُنہیں اللّٰہ سے ڈرنا چاہیئے اور اللّٰہ کے ان دشمنوں کو خوش نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ''وہ لوگ چاہتے ہیں کہ تم نرمی ختیار کرو تو وہ بھی نرم ہو جائیں۔40'' اور اللّٰہ کا فرمان بھی ہے:'' تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ اُن کے مذہب کی پیروی اختیار کر لو ۔41'' اور رسول اللّٰہ ﷺ نے سچ فرمایا: '' تم لوگ پہلی اُمتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے بِل میں داخل ہوں تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔''42ہمارے معاشرے میں رائج قبر پرستی، پیر پرستی، امام پرستی اور رنگارنگ بدعات مثلاً عرس ، میلے اور عید میلادالنبیﷺ وغیرہ ان تمام باتوں کی دلیل قرآن و سنت سے نہیں ملتی اور نہ ہی صحابہ کرام و اہل بیت عظام سے ان کی کوئی دلیل ملتی ہے بلکہ یہ بدعات تو سراسریہود و نصاریٰ کی اندھا دھندنقالی کا ہی کرشمہ ہیں۔اللّٰہ سے دعا ہے کہ ہمیں بدعات سے بچائے اور قرآن و سنت کی صراطِ مستقیم پر چلائے۔ آمین!

خلاصۂ تحقیق

گزشتہ تمام تفصیل کا خلاصہ نکات وار یہ ہے کہ

1. حضرت عیسیٰ کا یومِ پیدائش بالکل نامعلوم ہے۔

2. یومِ پیدائش کے متعلق فقط اندازے و تخمینے لگائے جاتے ہیں،کوئی مستنددلیل نہیں۔

3. حضرت عیسیٰ 25؍ دسمبر کو پیدا نہیں ہوئے تھے۔

4. قرآن اور اناجیل میں عیسیٰ کی پیدائش کے معلوم واقعات کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ کی ولادت موسم گرما میں ہوئی۔

5. اس کے با وجود حضرت عیسیٰ کا یومِ پیدائش 25؍دسمبر کو مقررکیا گیا ۔کیونکہ ابتدائی عیسائیت کو تحفظ دینے والے مشرک اہلِ روم اپنے سورج دیوتا کا جنم دن 25؍دسمبر کو ہی منایا کرتے تھے۔

6. مصر کے فرعون اپنی مشہور دیوی آئیسز(Isis) کے بیٹے ہورس (Horus) دیوتا کا جنم دن بھی 25؍دسمبر کو منایا کرتے تھے۔

7. عید کے طور پر 25؍دسمبر کو منانے کا رواج تاریخ میں سب سے پہلے ہمیں بابل کی تہذیب سے ملتا ہے۔کیونکہ اہلِ بابل 25؍دسمبر کو شہر کے بانی نمرود بادشاہ کی سالگرہ منایاکرتے تھے۔

8. کسی شخصیّت کے جنم دن کو تہوار کے طور پر منانا یا خود اپنی سالگرہ منانا نمرود،فرعون اور مشرک اقوام کا طریقہ ہے۔

9. بائبل کی تعلیم کے مطابق ایسے تہوار منانا جائز نہیں۔

10. نبی اکرم ﷺ نے یہود و نصاریٰ کی مشابہت سے منع فرمایا۔

11. ایسے تہوار پر مبارک باد دینا حرام ہے۔

12. خاص مذہبی تہوار پر کسی غیر مسلم کو کوئی تحفہ دینا جائز نہیں۔

13. عیسائیوں کی نقالی میں رسول اللّٰہ ﷺ کا میلادمنانا بدعت بھی ہے اور غیر مسلموں کی مشابہت بھی۔
حوالہ جات

1. The Date & Meaning of Christmas by Dr. Samuele Bacchiocchi, p.08

2. The Plain Truth about Christmas by Pr. Hwrbert W Armstrong, p.02

3. Wikipedia, the free encyclopedia: Dionysius Exiguus

4. Commentary on Gospel of Luke by Adam Clark, 5/370, New York Ed.

5. The Plain Truth about Christmas by Pr. H W Armstrong, p. 03, USA 1952 Ed.

6. Commentary on Gospel of Luke by Adam Clark, 5/370, New York Ed.

7. A Harmony of the Gospels by Pr. A. T Robertson p.267, New Yark ed. 1992

8. انجیل لوقا: 2؍1،3

9. God's Appointed Times by Barney Kasdan ,Baltimore MD, 1992 p.97; The Date & Meaning of Christmas by Dr. Samuele Bacchiocchi, p.08

10.  لوقا2:7

11. The Date & Meaning of Christmas by Dr. Samuele Bacchiocchi, p.08

12. The Gospel of Pseudo-Matthew ch. # 20, Ante-Nicene Fathers, Vol. 8, 1886 ed.

13. سنن النسائی: 451، سندہ حسن

14. اضوا ء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن از شنقیطی: 4؍ 190

15. Encyclopedia Britannica, Chicago 2009 Deluxe Edition, Christmas

16. Encyclopedia Britannica, Chicago 2009 Deluxe Edition, Church Year

17. Catholic Encyclopedia, Roman Catholic Church, 1911 Ed.: Christmas

18. Catholic Encyclopedia, Roman Caotholic Church, 1911 Ed. Natal Day

19. Encyclopedia Ameracana, New York, 1944 Ed. (Christmas)

20. The Tow Babylons by Alexander Hislop , p.93

21. Forerunner Commentary by Martin G. Collins

22. یرمیاہ 10؍1،2

23. گلیتیوں5:21

24. پطرس کا دوسرا خط 2:1

25. صحيح بخاری: 5892؛ صحیح مسلم:259

26. صحیح مسلم: 260

27. سنن ابی داؤد: 652؛ صحیح ابن حبان: 2183

28. سنن ابی داؤد: 4031

29. مصنف عبد الرزاق: 1609؛سنن کبری للبیہقی: 18861؛ امام ابن کثیر  نے فرمایا: اسنادہ صحیح

30. السنن الکبریٰ للبیہقی: 18862

31. سنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث 18863 اسنادہ صحیح ؛ ا اقتضاء الصراط المستقیم از علامہ ابن تیمیہ :1؍200

32. المغنی لابن قدامہ:9؍364 ؛الشرح الکبیر علیٰ متن المقنع:10؍625

33. الاقناع:2؍526؛مغنی المحتاج:5؍526

34. احکام اہل الذمۃ:3؍1249

35. المدخل لابن الحاج:2؍47

36. البحرالرقائق شرح کنز الدقائق: 8؍555؛الدر المختار: 6؍754

37. احکام اہل الذمہ ازامام ابن قیم:3؍1249

38. احکام اہل الذمۃ:1؍205

39. اقتضاء الصراط المستقیم : 1؍478

40. سورۃ القلم:9

41. سورۃ البقرۃ: 120

42. صحیح بخاری: 3456