میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مجوزین کے دلائل کا ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

تفویضِ طلاق کے مسئلے میں جس طرح فقہاے احناف کا مسلک قرآن وسنت کے مطابق نہیں ہے جس کی ضروری تفصیل محدث کے شمارہ نمبر 361 اور 362 میں بیان ہوچکی ہے، اسی طرح اُنہوں نے مروّجہ حلالے کوبھی نہ صرف جائز بلکہ اسے باعثِ اجروثواب قرار دے کر شریعت کے ایک اور نہایت اہم حکم سےانحراف کیا ہے، یا بہ الفاظِ دیگر تفویض طلاق کی طرح شریعت کا خود ساختہ نظام تشکیل دیا ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں جس عورت کو طلاقِ بتّہ (الگ الگ تین مواقع پر تین طلاقیں یا احناف کے نزدیک بیک وقت ہی تین طلاقیں)مل گئی ہو، اس کے لیے حکم ہے کہ اس کے بعد وہ پہلے خاوند سے دوبارہ اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتی جب تک وہ کسی دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح نہ کرلے اور اس کے پاس ہی نہ رہے، پھر اگر اتفاق سے ان کے درمیان نباہ نہ ہوسکے اور وہ بھی طلاق دے دے یا فوت ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے۔

لیکن طلاق بَتہ مل جانے کے بعد پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے یہ حیلہ اختیا رکرنا کہ کسی مرد سے مشروط نکاح کرکے ایک دو راتیں اُس کے پاس گزار کر طلاق حاصل کرلینا او رپھر پہلے خاوند سےنکاح کرلینا، اس حیلے کی اسلام میں بالکل اجازت نہیں ہے۔

1. اسے رسول اللّٰہﷺنےغیر شرعی فعل قرار دیا ہے اور حلالہ کرنے والے اور جس کےلئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے : «لعنَ اللهُ المحلِّ والمحلَّلَ له»1

2. بلکہ ایک دوسری حدیث میں حلالہ کرنے والے شخص کے لیے «التيسُ المستعارُ» (کرائے کا سانڈ) جیسےکریہہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔2

اور قرآن یا حدیث میں اس قسم کے الفاظ کہ یہ کام باعثِ لعنت ہے، یا رِجس (ناپاک)ہے، شیطانی عمل ہے وغیرہ، جیسے الفاظ سے مقصود ان کاموں کی حرمت و ممانعت ہوتی ہے ،جیسے شراب کو 'رِجس' اور 'شیطانی عمل' کہا گیا ہے، فضول خرچی کرنے والوں کو 'شیاطین کا بھائی' کہا، جھوٹوں پر اللّٰہ کی لعنت ہے، ظالموں پر اللّٰہ کی لعنت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان کامطلب یہی ہے کہ یہ افعال ممنوع اورحرام ہیں اور ان کے مرتکبین ملعون ہیں، اپنے لیے کیے جائیں یاکسی دوسرے کی خاطر۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ جو حرام کام اپنے لیے ممنوع ہو، وہ کسی دوسرے شخص کی خاطر کرنےکی وجہ سے جائز ہوجائے۔ علاوہ ازیں حرام کام حسنِ نیت سے حلال نہیں ہوجائے گا، وہ حرام ہی رہے گا، الا یہ کہ کسی نصّ شرعی سے کوئی استثنا ثابت ہو۔

مروّجہ حلالے کو بھی شریعت میں لعنت کا باعث قرار دیا گیا ہے اور اس کی بابت کسی قسم کا استثنا بھی ثابت نہیں ہے۔رسول اللّٰہ ﷺ کے اس فرمان کا اقتضا یہ ہے کہ ایسا مشروط نکاح یعنی حلالہ یا حلالے کی نیت سے کیا گیا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ،بلکہ یہ زِنا کاری شمار ہوگا او راس زنا کاری سے وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوگی۔

آثارِ صحابہ

3. صحابۂ کرام نے بجاطور پر ان فرامین رسول کا یہی مطلب سمجھا۔ چنانچہ سیدنا عمر نے فرمایا: «لا أُوتى بِمُحَلِّلٍ وَلا بِمُحَلَّلَةٍ إِلا رَجَمْتُهُمَا»3

''میرے پاس جو بھی حلالہ کرنے والا مرد اور وہ عورت جس کے ساتھ حلالہ کیا گیا، لائے جائیں گے تو میں دونوں کو سنگسار کردوں گا۔'' یعنی زنا کاری کی سزا دوں گا۔

4. حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو مطلقہ عورت سے اس کے خاوند کے لیے اسے حلال کرنے کی نیت سے شادی کرتا ہے؟ تو ابن عمرؓ نے فرمایا:

«كِلَاهُمَا زَانٍ وَإِنْ مَكَثَا عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ نَحْوَهَا، إِذَا كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُحِلَّهَا»5

''دونوں (مرد و عورت) زانی ہیں، چاہے وہ اس نکاح میں 20 سال یا اس کے قریب بھی رہیں، جب کہ اس کے علم میں ہو کہ اس شخص کی نیت اس عورت کو اس کے خاوند کے لئے حلال کرنےکی ہے۔''

5. حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ سے ایک شخص نے پوچھا: میرے چچا نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں؟ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:

''تیرے چچا نے اللّٰہ کی نافرمانی کی ہے، پس اللّٰہ نے اس کو پشیمانی میں ڈال دیا ہے اور اس نے شیطان کی پیروی کی ہے، اب اُس کے لیے اس سےنکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہے۔''

اس نے مزید پوچھا: ا س شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو میری چچی سے اس کو میرے چچا کے لئے حلال کرنے کی نیت سے نکاح کرلے؟ آپ نے فرمایا:

«مَنْ يُخَادِعِ الله يَخْدَعْهُ»6

جو اللّٰہ سے دھوکا کرتاہے، اللّٰہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرماتا ہے۔''

6. حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کا گواہ بننے والے، اس کے لکھنے والے اور دیگر بعض ممنوع کام کرنے والوں اورحلالہ کرنے والے اور کروانے والے، ان سب کی بابت فرماتے ہیں:

«مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ ﷺ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»7

''یہ سب قیامت کے روز نبیﷺ کی زبانِ مبارک کی رُو سے ملعون ہوں گے۔''

فرمان رسولﷺ اور صحابہ کے موقِف کے برعکس فقہاءاحناف کا مسلک

رسول اللّٰہ ﷺ کے واضح فرمان اور آثارِ صحابہ کی رُو سے تو یہ غیر شرعی فعل ممنوع ہے ليكن فقہائے احناف اور موجودہ علمائے احناف کے نزدیک نہ صرف جائز ہے ،بلکہ ان کے نزدیک (نعوذبالله) یہ باعثِ اجر کام ہے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

ہمارے نزدیک یہ موقف بھی شریعتِ اسلامیہ کے مقابلے میں تفویض طلاق ہی کی طرح ایک نئی شریعت سازی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

اب تک تو ہم سنتے ہی آئے تھے کہ علماے احناف حلالے کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں ،لیکن یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ موجودہ علماے احناف میں ایک نہایت برسرآوردہ عالم مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔ جن کو ان کے عقیدت مند'شیخ الاسلام'کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔جن کا اس دور میں اہم تعارف یہ بھی ہےکہ'میزان بنک' کے نام سے جو بنک قائم ہوا ہے، اس کو غیر سودی بنک قرار دے کر اُنہوں سودی طریقوں کو سندِ جواز مہیا کی ہے، جبکہ جید و مستند علما کی اکثریت بنکوں کے اس سارے عمل کو ناجائز اور سودی ہی قرار دیتی ہے۔ مگر اُنہوں نے سود کو حلال کرنے کے لئے درجنوں فقہی حیلے اختیار کئے ہیں ، گویا اس کام میں مولانا عثمانی صاحب کو خصوصی مہارت حاصل ہے۔

اس فقہی مہارت کے ذریعے سے اُنہوں نے حلالہ جیسےممنوع فعل کے جواز میں بھی سات دلائل مہیا کیے ہیں جو ان کی'درسِ ترمذی' نامی کتاب کی زینت ہیں۔ہم مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر ان دلائلِ سبعہ کا مختصراً جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم ترتیب وار ان پر گفتگو کریں گے، پہلے مولانا موصوف کی عبارت اور پھر تبصرہ کے عنوان سے اس پر نقد ہوگا۔ وَبِید الله التوفیق!

1. مولانا عثمانی صاحب حدیث «لعن الله المحل والمحلل له» کی شرح میں فرماتے ہیں:

''ا س حدیث کی بنا پر نکاح بشرط التحلیل بالاتفاق ناجائز ہے ،البتہ اگر عقد میں تحلیل کی شرط نہ لگائی گئی ہو، لیکن دل میں یہ نیت ہو کہ کچھ دن اپنے پاس رکھ کر چھوڑ دوں گا تو حنفیہ کے نزدیک یہ صورت جائز ہے، بلکہ امام ابوثور کا قول ہے کہ ایسا کرنے والا ماجور ہوگا۔''8

تبصرہ: حالانکہ مشہور حدیث ہے: «إنما الأعمال بالنيات» 9(عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے)۔علاوہ ازیں نیت کا تعلق بھی صرف حلال کاموں سے ہے۔ حرام کام کرتے وقت نیت کتنی بھی اچھی ہو، وہ حلال نہیں ہوگا، اس پر کوئی اجر نہیں ملے گا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایک حرام کام کرتے وقت زبان سے اس کو حلال کرنے کا اظہار نہ ہو۔ لیکن اگر دل میں اس کو حلال سمجھتے ہوئے وہ کام کرے گا تو نہ وہ حلال ہوگا او رنہ اس پر اجرملے گا بلکہ ہوسکتا ہے وہ ڈبل جرم کا مرتکب سمجھا جائے، ایک، حرام کو اختیار کرنے کا؛ دوسرا، حرام کو حلال سمجھنے کا بلکہ ایک تیسرا جرم، کسی دوسرے کے لئے حرام کو حلال کرنے کا۔ پھر یہ کون سا اُصول ہے کہ زبان سے تو تحلیل کا نہ کہے لیکن دل میں تحلیل کی نیت کرلے تو وہ جائز بلکہ قابل اجر ہوجائے گا؟ اس فقہی حیلے کی رُو سے تو ہر حرام کام حلال اورجائز قرار پاجائے گا۔مثلاً ایک چور اس نیت سےچوری کرے، ایک ڈاکو اس نیت سے ڈاکہ ڈالے کہ میں اس رقم کو غریبوں پر خرچ کروں گا۔ اسی طرح کوئی شخص سود بھی غریبوں پر اور رشوت بھی غریبوں پر خرچ کرنے کی نیت سے لے تو کیا ایسی نیت کرلینے سے مذکورہ حرام کام نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر ہوجائیں گے؟

اگر ایسا نہیں ہے اوریقیناً ایسا نہیں ہے کہ حُسن نیت سے کوئی حرام کام بھی جائز ہوسکتا ہے تو پھر حلالہ جیسا حرام اور لعنتی فعل محض ا س نیت سے کہ میرے اس حرام کام سے دوسرے شخص کا اس عورت سے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوجائے گا اور ایک دوسرےبھائی کا بھلا ہوجائے گا۔ کیسے حلال اور جائز بلکہ ماجور کام قرار پاجائے گا؟

2. مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

''امام احمد کے نزدیک یہ صورت بھی (بہ نیتِ تحلیل عارضی نکاح) ناجائز اور باطل ہے، وہ حدیث ِباب کے اطلاق سے استدلال کرتے ہیں کہ اس میں محلل پر مطلقاً لعنت کی گئی ہے اور تخصیص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ہم (احناف) یہ کہتے ہیں کہ تخصیص تو آپ نے بھی کی ہے، وہ اس طرح کہ حدیث ِ باب کے اطلاق کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر نکاح نہ بشرط التحلیل ہو او رنہ بنیۃ التحلیل ہو، پھر بھی اگر زوجِ ثانی طلاق دے کر اس کو زوجِ اوّل کے لئے حلال کردے تو بھی ناجائز ہو کیونکہ محلل کا لفظ اس پر بھی صادق آتا ہے حالانکہ ایسا شخص کسی کے نزدیک بھی ملعون نہیں۔''

تبصرہ: یہ ساری گفتگو محض اپنی بات کو جائز قرار دینے کے لیے ہے،نیز خلافِ حقیقت ہے۔ یہ دعویٰ کہ ''ایسا شخص کسی کے نزدیک بھی ملعون نہیں'' یکسر غلط ہے۔ جب ایسا شخص زبان رسالت مآبﷺ کی رُو سے ملعون ہے تو اس کے ملعون ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟ علاوہ ازیں کوئی اور اسے ملعون کہے یا نہ کہے، جب رسول اللّٰہ ﷺ اسے ملعون قرار دے رہے ہیں تو اس کے بعد بھی اس کے ملعون ہونےکے لئے کسی ہما شما کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ کیا آپﷺ کا ملعون قرار دینا اس کے ملعون ہونے کے لئے کافی نہیں ہے؟

ثانیاً: جو نکاح بشرط التحلیل ہو اور نہ بہ نیتِ تحلیل، وہ تو بالاتفاق صحیح نکاح ہے، اس طرح نکاح کرنے والا خوامخواہ طلاق کیوں دے گا؟ ہاں اس کا نباہ نہ ہو سکے اور وہ طلاق دینے پر مجبور ہو جائے تو بات اور ہے اور اس صورت میں اس عورت کا نکاح دوبارہ زوجِ اوّل کے ساتھ بھی جائز ہو گا، لیکن اس صورت کو ''زوجِ ثانی طلاق دے کر زوجِ اول کے لیے حلال کر دے۔'' سے کس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے؟جبکہ واقعات کی دنیا میں اس طرح ممکن ہی نہیں ہے۔ ایسا تو تب ہی ممکن ہے جب نکاح بہ شرطِ تحلیل ہو یا بہ نیتِ تحلیل۔ اگر یہ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں ہو گی تو عدم آہنگی کی صورت میں طلاق ہو سکتی ہے، ورنہ نہیں اور اس صورت کو 'طلاق دےکر زوجِ اوّل کے لیے حلال کر دے'سے تعبیر کرنا مغالطہ انگیزی کے سوا کچھ نہیں۔

رسول اللّٰہ ﷺ نے جس طرح حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائی ہے، یعنی یہ دونوں ملعون ہیں۔اسی طرح رسول اللّٰہ ﷺ نے اور بھی بہت سےکام کرنے والوں پرلعنت فرمائی ہے، یعنی وہ سب ملعون ہیں۔جیسے :

1. «لَعَنَ رَسُولُ الله ﷺ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ»10

''رسول اللّٰہ ﷺ نے لعنت فرمائی ، سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا گواہ بننے والے او راس کے لکھنے والے پر''

2. «لَعَنَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ والمرتشِيَ»11

''رسول اللّٰہ ﷺ نے رشوت لینے والے اور دینے والے پرلعنت فرمائی۔''

3. رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ لعنت فرمائے شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے (ساقی) پر، اس کے بیچنے والے، خریدنے والےپر، اس کےنچوڑنے والے اور نچڑوانے والے پر، اس کواُ ٹھا کر لے جانے والے اور جس کی طرف اُٹھا کر لے جائی جائے، اس پر۔12

4. «لَعَنَ رَسُولُ الله ﷺ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَالرَّجُلِ» 13''رسول اللّٰہ ﷺ نے اس مرد پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کا سا لباس پہنتا اور اس عورت پر جو مردوں کا سا لباس پہنتی ہے۔''

5. ناجائز فیشن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے: «لَعَنَ رَسُولُ الله الْوَاشِمَةَ وَالْمسْتَوْشِمَةَ... الحديث »14

کیا یہ اور دیگر بہت سے لعنتی کام اس وقت ہی لعنتی اور ان کے کرنے والے اس وقت ہی ملعون ہوں گے جب ان کو لوگوں کا بنایا ہوا کوئی امام ہی ملعون قرار دے گا؟ کیا نبیﷺ کا ان کو ملعون قرار دینا کافی نہیں ہوگا؟ ...کیا نبیﷺ کے مذکورہ کاموں اوران کے مرتکبین کو ملعون قرار دینے کے بعد کسی فقہی حیلے سے ان کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

اگران میں سے کوئی ملعون کام حلال نہیں ہوسکتا تو حلالہ کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟

حلالۂ ملعونہ کو کون سے سُرخاب کے پَر لگے ہوئے ہیں کہ اس کو ملعون کے بجائے ماجور (قابل اجر) مان لیا جائے؟ آخر دوسرے ملعون کام او رحلالۂ ملعونہ میں کیا فرق ہے جس کی بنیاد پر ایک تو حلال ہوجائے اور دوسرے حرام کے حرام ہی رہیں؟

﴿هاتوا بُر‌هـٰنَكُم إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ﴿١١١﴾... سورة البقرة

3. مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

''پھر نکاح بشرط التحلیل امام شافعی اورامام احمد کے نزدیک متحقق ہی نہیں ہوتا اور نہ اس سے عورت زوجِ اوّل کے لئے حلال ہوتی ہے جب کہ ہمارے (احناف) کے نزدیک ایسا کرنا اگرچہ حرام ہےلیکن اگر کوئی شخص اس کا ارتکاب کرلے گا تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور عورت زوجِ اوّل کے لئے حلال ہوجائے گی۔''15

تبصرہ: یہ منطق بھی ناقابل فہم ہے کہ حلالہ اگرچہ حرام ہے ،لیکن اس کے ارتکاب سے نکاح منعقد ہوجائے گا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ حرام کام بوقتِ ضرورت کرنے جائز ہیں اور اس کے ارتکاب سے وہ سارے مقاصد بھی حاصل ہوجائیں گے جو حلال کام کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں،پھر حلال و حرام کے درمیان کوئی فرق تو نہ رہا۔ایک شخص کسی کا مال حرام طریقے (چوری، ڈاکے، غصب وغیرہ) سے حاصل کرلے، تو یہ فعل توحرام ہےلیکن یہ حاصل شدہ مال اسی طرح جائز ہے جس طرح حلال طریقے سے حاصل کردہ مال ہوتا ہے اور اس غاصب ، چور اور ڈاکو کے لئے اس مال کا استعمال بالکل حلال طریقے سے حاصل کردہ مال ہی کی طرح جائز ہوگا؟

اسی طرح اگر ایک کام حرام ہونے کے باوجود جائز ہوسکتا ہے تو پھر شیعوں کا نکاحِ متعہ بھی حلال ہونا چاہیے۔ اس کو حرام او رناجائز کیوں کہا جاتا ہے؟ یا پھر ان دونوں حراموں کے درمیان فرق بتلایا جائے کہ نکاحِ حلالہ حرام ہونے کے باوجود اس لئے حلال ہے بلکہ باعثِ اجر ہے اور نکاحِ متعہ اس لئے حلال نہیں ہے۔ اس فرق کی وضاحت کے بغیر ایک حرام کو حلال اور دوسرے حرام کو حرام ہی کیوں کر سمجھا جاسکتا ہے؟

4. مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

''ان حضرات کا استدلال حدیث باب «لعن رسول الله ﷺ المحل والمحلل له» سے ہے، لیکن اس کاجواب یہ ہے کہ اس روایت میں نہی عن التحلیل ہے ، نفئ نکاح نہیں ہے اور نهي عن الأفعال الشرعية اصل فعل کی مشروعیت کا تقاضا کرتی ہے، كما تقرر في أصول الفقه.16

تبصرہ : مولانا موصوف کے اس پیرے کا مطلب غالباً یہ ہے کہ نکاحِ حلالہ کو ملعون قرار دے کر نکاح حلالہ سے روکنا مقصود ہے لیکن اس نهي(روکنے) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نکاح حلالہ منعقد ہی نہیں ہوگا کیونکہ نهي(ممانعت) اصل فعل کی مشروعیت کا تقاضا کرتی ہے۔

ہمیں اُصولِ فقہ میں مہارتِ کاملہ کا دعویٰ تو نہیں ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ موصوف کی یہ بات علیٰ الاطلاق درست نہیں، کیونکہ جمہور اُصولیین کے نزدیک افعالِ شرعیہ سے نہی، بالعموم منھی عنہ کے فساد پردلالت کرتی ہے۔ بنابریں فساد، قرائن کی بنیاد پر بطلان کا باعث بھی ہو سکتا ہے اور ہمارے نزدیک مسئلۂ زیر بحث میں نہی بُطلان ہی کی متقاضی ہے۔ اس کی تائید اس بات سے ہورہی ہے کہ جس سیاق میں اس خود ساختہ اُصول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ نکاحِ حلالہ کا جواز مہیا کرنا ہے جب کہ خود موصوف کو بھی یہ تسلیم ہےکہ شریعت میں اس کی بابت نہی (ممانعت) بصورتِ لعنت وارد ہے، اس کے باوجود وہ ایک خانہ ساز فقہی اُصول کے حوالے سے اسے اصل کے اعتبار سے مشروع (جائز) قرار دے رہے ہیں۔ بنا بریں ہم نے جو سمجھا ہے،وہ یقیناً صحیح ہے۔

اس اعتبار سے یہ فقہی اصول بھی ان خود ساختہ اُصولوں میں سے ایک ہے جو نہ امام ابوحنیفہ سے ثابت ہے اور نہ صاحبَین (قاضی ابویوسف اور امام محمد) سے بلکہ جب تقلیدی جمود میں شدت آئی تو خود ساختہ فقہی مسائل سے متصادم صحیح احادیث کوترک کرنے کے لئے یہ اُصول وضع کئے گئے ہیں۔ ان اُصولوں کے ذریعے سے ہر صحیح حدیث کو، جسے احادیث کے نقد و تحقیق کے مسلمہ اُصولوں کی روشنی میں ردّ نہیں کیا جاسکتا، اسے ان وضعی اُصولوں میں سے کسی ایک اُصول کا سہارا لے کرٹھکرا دیا جاتا ہے، جیسے گوندھے ہوئے آٹے سےبال نکال کرپھینک دیا جاتاہے۔

ان خانہ ساز اُصولوں کی درانتی سے کام لینے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس سے ہمارے ایک فقہی جزیئے کا جواز تو مہیا ہوجائے گا لیکن اس کی زد شریعت کے کتنے ہی حرام کاموں پر پڑے گی اور اس ایک فقہی مسئلے کے اثبات سے کتنے ہی حرام کاموں کا جواز ثابت ہوجائے گا۔
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سےکام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیان رہے!

5. مولانا تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

''شافعیہ کےمسلک (کہ حلالہ حرام ہے) پر حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ کی ایک روایت سے بھی استدلال کیا گیا ہے:

«جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَهَا أَخٌ لَهُ عَنْ غَيْرِ مُؤَامَرَةٍ مِنْهُ لِيُحِلَّهَا لأَخِيهِ هَلْ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ؟ قَالَ : لاَ إِلاَّ نِكَاحَ رَغْبَةٍ كُنَّا نَعُدُّ هَذَا سَفَاحًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله ﷺ»17

اس روایت کو امام حاکم نے اپنی مستدرک میں ذکر کیا ہے او رصحیح علیٰ شرط الشیخین قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی نےبھی اس پر سکوت کیا ہے۔اس استدلال کا کوئی جواب احقر کی نظر سے نہیں گزرا، البتہ اس کا یہ جواب سمجھ میں آتا ہےکہ قرآنِ کریم کی آیت: ﴿حَتّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَ‌هُ﴾ میں مطلق نکاح کاذکر ہے خواہ شرط تحلیل کے ساتھ ہو یا بغیر شرطِ تحلیل کے، اس پر خبر واحد سے زیادتی نہیں کی جاسکتی۔''18

تبصرہ: مولاناموصوف کےاس مفصّل پیرے پرتبصرے سے پہلے اُس حدیث کا ترجمہ ملاحظہ فرما لیں جس کا ترجمہ اُنہوں نے نہیں کیا، نیز روایت کی صحت مان لینے اوراس کا کوئی جواب نہ ہونے کے اعتراف کے باوجود، ایک خود ساختہ اُصول کی آڑ لے کر اس صحیح حدیث کو ردّ کردیا۔ترجمہ یوں ہے:

''ایک شخص حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ کےپاس آیا اور اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اُس کے بھائی نے اپنے بھائی سے مشورہ کیےبغیر اس کی بیوی(اپنی بھابھی)سے اس نیت سے شادی کرلی تاکہ وہ اپنے بھائی کےلئے اپنی (مطلقہ ثلاثہ) بیوی سے(دوبارہ)نکاح کرنے کو جائز کردے۔ (یعنی بنیۃ التحلیل عارضی نکاح کی بابت پوچھا، جس کو احناف جائز کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور کیااس طرح وہ زوج اوّل کے لئے حلال ہوجائے گی؟) حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ نے فرمایا: یہ نکاح نہیں ہے، نکاح تو وہ ہے جو (بغیر شرطِ تحلیل اور بغیر نیتِ تحلیل کے) اپنی رغبت سے کیا جائے (گویا یہ زنا ہے) ہم رسول اللّٰہ ﷺ کے زمانے میں ایسے نکاح کو زنا سمجھتے تھے۔''

کتنی واضح حدیث ہے اور اس کے ساتھ مولانا موصوف کا یہ اعتراف بھی ہے کہ یہ حدیث بالکل صحیح بھی ہے اور اس کا کوئی جواب بھی آج تک کسی حنفی عالم نے نہیں دیا ہے۔ سبحان اللّٰہ، جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے! ... اس صحیح اور لاجواب حدیث سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہورہا ہےکہ نکاح حلالہ ،چاہے شرط کے ساتھ نہ بھی ہو لیکن نیت حلالے کی ہو تو وہ حرام اور زنا کاری ہے اور زنا کاری کے ذریعے سے ایسی عورت پہلے خاوند کے لئے کس طرح حلال ہوجائے گی؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پہلے میاں بیوی حلالۂ ملعونہ کے بعد دوبارہ آپس میں بظاہر ازدواجی تعلق قائم کریں گے تو یہ جائز ملاپ نہیں ہوگا بلکہ وہ زانیوں کاملاپ ہوگا اور ساری عمر زنا کاری کے مرتکب رہیں گے۔

قرآنی آیت سے استدلال کی حقیقت

اب ہم آتے ہیں قرآنِ کریم کی آیت﴿حَتّىٰ تَنكِحَ زَوجًا غَيرَ‌هُ﴾ کی طرف جس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے اُنہوں نے اس صحیح حدیث کو ، جس سے اس آیت کی تخصیص بھی ہوتی ہے اور صحیح مفہوم کی وضاحت بھی، اپنے ایک خود ساختہ اُصول کے حوالے سےٹھکرا دیا ہے اور وہ حدیث ہے: «لعن الله المحل والمحلل له»

قرآنِ کریم کی آیت کا مطلب یہ ہےکہ تیسری طلاق کے بعد اب خاوند اپنی مطلقہ بیوی سے نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح کے ذریعے ہی سے اُن کے درمیان تعلق بحال ہوسکتا ہے جب کہ پہلی اور دوسری طلاق میں دونوں راستےکھلے ہوتے ہیں، عدّت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے اور عدّت گزر جانے کے بعد دوبارہ اُن کےدرمیان نکاح جائز ہے۔لیکن تیسری طلاق کےبعد یہ دونوں ہی راستے بند ہوجاتے ہیں۔ اب ان کےدرمیان دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ مطلقہ کسی اور شخص سے نکاح کرے، پھر اتفاق سے ان کے درمیان نباہ نہ ہوسکے اور وہ طلاق دے دے یا وہ فوت ہوجائے تو طلاق یا وفات کی عدت گزارنے کے بعد وہ زوجِ اوّل سے نکاح کرسکتی ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں تمام مفسرین زوج اوّل کے لئے حلال ہونے کا یہی واحد مشروع طریقہ بیان کرتے ہیں ، کسی بھی مفسر نے یہ جرأت نہیں کی کہ اس آیت کے عموم سے حلالۂ ملعونہ کا بھی جواز ثابت کرے جس سے نکاحِ متعہ بھی از خود جائز قرار پاجائے۔ ماضی قریب کےچند حنفی مفسرین کےحوالے ملاحظہ فرمائیں ، جن سب کا خصوصی تعلق دارالعلوم دیوبند ہی سے ہے جو پاک و ہند کے علماے احناف کی مسلّمہ مادرِ علمی ہے۔

1. مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم لکھتے ہیں:

''پھر اگر (دو طلاقوں کے بعد) کوئی (تیسری)طلاق بھی دے دے عورت کو تو پھر وہ (عورت) اس (تیسری طلاق دینےوالے) کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس (خاوند) کےسوا اور خاوند کےساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے (اور اس سےہم بستری بھی ہو) پھر اگر یہ (دوسرا خاوند) اس (عورت) کو طلاق دے دے (اور عدت بھی گزر جائے) تو ان دونوں پرکچھ گناہ نہیں کہ (دوبارہ نکاح کرکے) بدستور پھر مل جاویں...''

آیت کے اس تفسیری ترجمے کے بعد مولانا تھانوی فرماتے ہیں:

''ف: اس کو حلالہ کہتے ہیں، جب کوئی شخص اپنی بی بی کو تین طلاق دے گا پھر دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرنےکے لئے یہی حلالے کاطریق شرط ہے...''19

مولانا تھانوی نے 'بہشتی زیور' میں بھی اس مسئلے کو بیان کیا ہے ،لیکن اس میں اپنے تقلیدی جمود کو نہیں چھوڑا اورحلالے والے نکاح کو حرام اور باعثِ لعنت قراردینے کے باوجود نکاح کاجواز تسلیم کیا ہے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون...چنانچہ لکھتے ہیں:

''اگر دوسرےمرد سے اس شرط پر نکاح ہوا کہ صحبت کرکے عورت کو چھوڑ دے گا تو اس سےاقرار لینے کا کچھ اعتبار نہیں، اس کو اختیار ہے چھوڑے یانہ چھوڑے او رجب جی چاہے چھوڑے او ریہ اقرار کرکےنکاح کرنا بہت گناہ اور حرام ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوتی ہے لیکن نکاح ہوجاتاہے۔''20

 مولانا تقی عثمانی صاحب کے والد محترم مفتی محمد شفیع مرحوم اپنی تفسیر میں اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں :

''یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی (جو شرعاً پسندیدہ نہ تھی) تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا، اس کو رجعت کرنے کاکوئی اختیار نہ رہا۔ اور چونکہ اس نے شرعی حدود سے تجاوز کیا کہ بلاوجہ تیسری طلاق دے دی تو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہوکر پھر آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو وہ بھی نہیں کرسکتے، اب ان کے آپس میں دوبارہ نکاح کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ عورت (عدتِ طلاق پوری کرکے) کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت اداکرکے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے، پھر اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے (یا مرجائے) تو اس کی عدت پوری کرنے کےبعد پہلے شوہر سےنکاح ہوسکتاہے۔ آیت کے آخری جملے ﴿فَإِن طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيهِما أَن يَتَر‌اجَعا إِ﴾ کا یہی مطلب ہے۔''21

یعنی والد مرحوم نے اللّٰہ کی منشا یہ سمجھی کہ تیسری طلاق دینے والے کی سزا یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے بتلائےہوئے طریق حلالہ کےبغیر اب یہ دونوں میاں بیوی باہمی رضا مندی کے باوجود بھی دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے۔لیکن صاحبزادۂ گرامی قدر فرماتے ہیں کہ تیسری طلاق بھی دے دی ہےتو کوئی فکر والی بات نہیں ہے، ایک دو راتوں کے لئےکسی سے عارضی نکاح کردیاجائے، پھر اس سےطلاق لے کر (عدت گزارنے کے بعد) دونوں میاں بیوی دوبارہ نکاح کرلیں۔

یعنی اللّٰہ تعالیٰ تو تیسری طلاق دینے والے کو ایک مخصوص سزا دےکرطلاق دینے کی حوصلہ شکنی کرناچاہتا ہے تاکہ گھر برباد نہ ہوں او ربچے والدین کی شفقت او رنگرانی سے محروم نہ ہوں لیکن حلالۂ ملعونہ کو حلال ثابت کرنے والے یا بقول علامہ اقبال، قرآن کوبدلنے (اللّٰہ کی منشا کو ختم کرنے والے) فقیہانِ حرم طلاق کی حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں اور وہ بھی کس وجہ سے؟ کیا ان کےپاس اپنے اس موقف کی کوئی نقلی دلیل ہے؟ نہیں ، یقیناً نہیں۔ کوئی عقلی دلیل ہے؟ نہیں وہ بھی یقیناً نہیں ہے۔ سوائے اس تقلیدی جمود کے، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جو اہل تقلید کا ہر دور میں شعار رہا ہے اور علم و تحقیق کے اس دور میں بھی وہ اپنی اسی روش پر مصر ہیں۔

اور دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی واضح نصوص کے مقابلے میں اس تقلیدی جمود کو یہ علماے مقلدین خود بھی یکسر ناجائز ، حرام اور کفر کے قریب طرزِ عمل قرار دیتے ہیں، جس کو ہماری اس بات میں شبہ ہو، وہ ' تذکرۃ الرشید' میں مولانا اشرف علی تھانوی کاوہ مکتوب پڑھ لیں جو مقلدین کے اسی طرزِ عمل کی بابت اُنہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی کو تحریرکیا تھا، اور ان کے 'فتاویٰ امدادیہ' میں بھی اس کی صداے بازگشت سنی جاسکتی ہے۔ اسی قسم کی رائے کا اظہار مولانامحمود الحسن مرحوم نے'ایضاح الادلۃ' میں کیا ہے اور خود مولانا تقی عثمانی صاحب نے اپنی تالیف 'تقلید کی شرعی حیثیت' میں بھی کیا ہے۔ شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی نے بھی اپنی متعدد کتابوں حجة الله البالغة، عقد الجید، الإنصاف اور التفهیمات وغیرہا میں اس طرزِ عمل کاشکوہ او راپنے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔طوالت سے بچنے کے لئے ہم نے صرف حوالوں پر اکتفا کیا ہے۔ تاہم یہاں شاہ ولی اللّٰہ  کا صرف ایک اقتباس پیش کرکے ہم آگے چلتے ہیں کیونکہ یہ بات تو درمیان میں ضمناً نوکِ قلم پر آگئی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں:

''اگر تم اس اُمت میں یہود کا نمونہ دیکھنا چاہو تو ان علماےسوء کو دیکھ لو جو دنیا کے طالب اوراپنے اسلاف کی تقلید کے خوگر اور کتاب و سنت سے روگردانی کرنےوالے ہیں اور جو عالموں کے تعمق اور تشدد یا اُن کے بے اصل استنباط کو سند ٹھہرا کر معصوم شارع کے کلام سے بے پروا ہوگئے ہیں اور موضوع حدیثوں اور فاسد تاویلوں کو اپنا مقتدا بنا رکھا ہے۔''22

2. مولانا عبدالماجد دریا آبادی مرحوم بھی حنفیت کے تقلیدی جمود سے باہر نہ نکل سکے اور اس لعنتی فعل کے ذریعے سے جواز ِ نکاح کے قائل رہے۔ تاہم اس آیت کی وضاحت میں ان کا تفسیری نوٹ نہایت گراں قدر ہے۔ فرماتے ہیں:

''اس شرط کے ساتھ نئے شوہرکا کسی مطلقہ کےساتھ نکاح کرنا کہ بعد صحبت طلاق دے دی جائے گی، تاکہ وہ اپنے شوہر اوّل کے لئے جائز ہوجائے'حلالہ' کہلاتا ہے۔ حدیث میں مُحلِل یعنی وہ دوسرا شوہر جونکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہدے کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتا ہے اور محلَّل له یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدۂ نکاح کی اہمیت ، سنجیدگی و تقدیس خاک میں ملائی جارہی ہے، ان دونوں پر لعنت آئی ہے۔''23

لیکن ہم ان حنفی علما سے پوچھتے ہیں کہ محلِل اور محلَّل لهکو توآپ مستحق لعنت سمجھ رہے ہیں لیکن جن فقہا نے اس کو سند جواز دے کر نکاح جیسے سنجیدہ اور مقدس معاہدے کو ایک کھیل اور تفریح کی چیز اور معاہدہ نکاح کی اہمیت ، سنجیدگی و تقدیس کو خاک میں ملایا ہے اور آج بھی ان کی تقلید میں آپ لوگ دین کو کھلواڑ بنائے ہوئے ہیں، کیا آپ اسلام کی صحیح وکالت، قرآن کی صحیح وضاحت اور شریعت کی صحیح تعبیر کررہے ہیں؟ اور اگر محلل اور محلل لهملعون ہیں تو اس لعنتی فعل کو جواز کی سند مہیا کرنے والے کیا ہیں؟

 بہرحال بات ہورہی تھی مذکورہ آیت کی بابت اُردو مفسرین کے توضیحی نوٹس کی۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خود مولانا تقی عثمانی صاحب نے بھی 'آسان ترجمۂ قرآن'کے نام سے ایک مختصر تفسیر لکھی ہے۔ موصوف اس میں ﴿الطَّلـٰقُ مَرَّ‌تانِ...الآیة﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''اس آیت نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ اگر طلاق دینی ہی پڑ جائے تو زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلقات بحال ہونے کا امکان رہتا ہے۔ چنانچہ عدت کے اندر شوہر کو طلاق سے رجوع کرنے کا حق رہتا ہے اور عدت کے بعد دونوں کی باہمی رضا مندی سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہو سکتا ہے۔لیکن جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا گیا ہے، تین طلاقوں کے بعد دونوں راستے بند ہو جاتے ہیں اور تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا۔''24

اب اس آیت کے عموم سے اگر بہ نیتِ تحلیل نکاح کا جواز نکلتا ہے ،جیسا کہ اُنہوں نے اپنے تدریسی افادات 'درسِ ترمذی' میں یہ استدلال پیش کرکے اس سے یہ جواز ثابت کیا ہے تو پھر 'آسان ترجمۂ قرآن' میں یہ کہنا کہ ''تینوں طلاقوں کے بعد تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا'' کس طرح درست ہے؟ اگر قرآنِ کریم کی آیت کی وہ تفسیر صحیح ہے جو اُنہوں نے اپنی تفسیر میں کی ہے تو 'درسِ ترمذی' میں بیان کردہ استدلال اور اس سے ایک تیسرا راستہ نکالنا غلط ہے اور اگر 'درس ترمذی' والی بات صحیح ہے تو پھر تفسیر والی بات غلط ہے۔

مولانا تقی عثمانی صاحب سے سوال

اس کی وضاحت وہ خود ہی فرمائیں گے کہ ان میں سے کون سی بات درست اور کون سا استدلال صحیح ہے؟ قرآن کریم کی بیان کردہ وضاحت، جس کی صحیح تفسیر کرنے کی توفیق اللّٰہ نے آپ کو دی یا 'درسِ ترمذی' کا وہ استدلال جو آپ نے خانہ ساز اُصول کی آڑ لے کر تقلیدی جمود میں پیش کیا؟ اور جس سے تین طلاقوں کے بعد بھی ایک نہایت آسان راستہ تعلقات کی بحالی کا کھل جاتا ہے جو قرآنِ کریم کی رُو سے نہیں کھلتا۔ اس نہایت آسان راستے میں البتہ یہ ضرور ہے کہ انسان کو بے غیرت اور لعنتِ الٰہی کا مورد بننا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ تقلید کا طوق قائم اورمحفوظ رہتا ہے۔

علماے احناف سے بھی چند سوال

 علماے احناف بھی اس کی وضاحت فرمائیں کہ کیا بے غیرتی اور لعنت الٰہی والا راستہ پسندیدہ ہےجو تقلیدی جمود کا راستہ بھی ہے اور جس میں قرآن و حدیث کی نصوصِ صریحہ سے گریز کیے بغیر آدمی نہیں چل سکتا؟

 یہ بھی وضاحت فرمائی جائے کہ اسلام بے غیرتی والا دین ہے یا غیرت والا؟ اسلام نے کسی بھی مرحلے میں بے غیرتی کی تعلیم دی ہے؟

 نیز کیا اسلام میں ایک شخص کے جرم کی سزا کسی دوسرے شخص کو دی جاسکتی ہے؟ تیسری طلاق دینے کا جرم تو مرد (خاوند) کرتا ہے لیکن آپ حضرات اس کی سزا عورت (بیوی) کو دیتے ہیں کہ ایک دو راتوں کے لیے اسے کرائے کے سانڈ کےحوالے کردیتے ہیں۔ کیا اسلام میں اس بے انصافی کی اجازت ہے؟ اور کیا یہ قرآن کی آیت ﴿وَلا تَزِرُ‌ وازِرَ‌ةٌ وِزرَ‌ أُخر‌ىٰ﴾ کے خلاف نہیں ہے؟

 او رکیا یہ فتواے حلالہ خلافِ عقل بھی نہیں ہے؟ تقاضاے عقل تو یہ ہے کہ جرم کی سزا مجرم کو دی جائے، اور آپ حضرات اس کی سزا اس کو دیتے ہیں جو سراسر بے قصور ہے۔ البتہ شوہر کو ایک سزا یہ ضرور ملتی ہے بشرطیکہ وہ غیرت مند ہو کہ اس کی چند راتیں اس کرب میں گزرتی ہیں کہ اس کی بیوی کو کب کرائے کے سانڈ سے آزادی ملتی ہے اور وہ 'باعزت' اس کے پاس واپس آتی ہے؟ (باقی)
حوالہ جات

1. سنن ترمذی:۱11۹

2. نن ابن ماجہ:1936

3. مصنف عبدالرزاق، باب التحلیل:6؍265

4. مصنف عبدالرزاق،باب التحلیل:6؍۲۶5

5. ایضاً:6؍۲۶۶

6. ایضاً:6؍269

7. درسِ ترمذی از مولانا محمد تقی عثمانی:3؍398

8. صحیح بخاری:حدیث نمبر۱

9. سنن ابو داود :3333

10. ایضاً: 3580

11. ایضاً :3674

12. ایضاً : 4098

13. ایضاً :4169

14.درسِ ترمذی:3؍399

15. درسِ ترمذی:3؍399

16. سنن الكبری از امام بیہقی:۷؍٢۰۸،مستدرک حاکم:۲؍١٩٩، قال الالبانی: صحیح الاسناد،الاِروا:۶؍٣٣١

17. در سِ ترمذی:3؍400

18. تفسیر بیان القرآن ، ص75، مطبوعہ تاج کمپنی

19. بہشتی زیور:حصہ چہارم، ص239، طبع مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی

20. تفسیر معارف القرآن:1؍558،559...1983ء

21. الفوز الکبیر، اُردو ترجمہ، ص17، ندوۃ المصنفین دہلی

22. تفسیر ماجدی: 1؍92، مطبوعہ تاج کمپنی

23. آسان ترجمہ قرآن:ص113، طبع جدید، اکتوبر 2013ء