میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پاکستان کا حالیہ سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور ظاہر ہے کہ اسلام کسی بھی صورت مسلم معاشروں میں ایسی صورتحال گوارانہیں کرتا۔ جب تک مسئلہ کو صحیح طور پر اپنی اساسات سے حل نہ کیا جائے، تشدد وانتہاپسندی کا دائمی خاتمہ ہونا ناممکن ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کا یہ سارا منظر نامہ چند مہینوں اور سالوں کی بجائے کم وبیش تین عشروں پرمحیط ہے۔ اس مسئلہ کے کسی ایک پہلو کو پیش کرکے اس مسئلہ کی صحیح اور مکمل نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ ہر مکتبِ فکر اور حلقہ اپنے اپنے رجحان اور فہم کے مطابق اس مسئلہ کومختلف پہلووں سے زیر بحث لاتا ہےجیسے اس المیہ کو مسلم اُمّہ پر امریکی جارحیت وبربریت،برادر اسلامی ملک افغانستان پرہونے والے امریکی ظلم کے جواب میں اُن سے دین ونسل کے رشتے میں بندھے مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری، ڈرون حملوں کی شکل میں خود مختار پاکستانی ریاست پر ہونے والی مسلّمہ زیادتی اور بین الاقوامی جرم، پاکستانی حکومت کی امریکہ نوازی اور اُس سے مالی مفادات کے حصول کی شرعی حیثیت، پاکستانی شہریوں بشمول شمالی علاقہ جات کے باشندوں کے جان ومال کی ریاستی ذمہ داری، فریقین کے مابین معاہدات اور اُن کی پاسداری،رواداری وامن پسندی اور اس کا قیام، بم دھماکوں کا شرعی جواز اور مسئلہ تکفیرو خروج غرض کئی پہلؤوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ساری جنگ اور تشدد پسندی میں دونوں طرف سے بے شمار معصوم پاکستانیوں کا خون بہہ چکا ہے۔ ڈرون حملوں کی شکل میں مرنے والے معصوم بچے،عورتیں اورعام شہری ہوں یا بم دھماکوں میں مارے جانے والے پاکستانی مسلمان،دونوں صورتوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کا اس سارے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں اور وہ سب بزبانِ قرآن بأي ذنب قُتلت کا مصداق ہیں۔

اسلام اور عدل وانصاف کی رو سے جو جرائم، کسی اور جرم یا مسئلہ کے نتیجے میں واقع ہوتے ہیں، اُنہیں مستقل طور پر دیکھنے کی بجائے، سبب بننے والے جرم کی بنا پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے جرم کے بعدجوابی جرم جائز ہوکر قانون کو ہاتھ میں لینا درست ہوجاتا ہے بلکہ جوابی جرم کی حیثیت اور نوعیت کا صحیح تعین پہلے کے تناظر میں کیا جاتا ہے اور اسی کی روشنی میں عدل وانصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ جیسے ایک مسلمان پر کوئی حملہ آور ہو، تو اپنے دفاع میں مظلوم کچھ بھی کرسکتا ہے،دورِ نبویؐ میں ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ چبایا تو دوسرے نے دفاع میں زور سے ہاتھ کھینچا جس کے نتیجے میں ظالم کے دانت اُکھڑگئے اور نبی کریمﷺ نے فرمایا: «فَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَمَا يَقْضِمُ الْفَحْلُ»1

''تووہ کیا اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا تاکہ تو اُس کو بیل کی طرح چباتا رہتا؟''

اگر کوئی چور کسی کے گھر میں گھس آئے تو دفاع کی بعض صورتوں میں چور قتل بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ قاتل کا مقصد چوری سے بچاؤ تھا یا اس نے اضافی اقدام کیا ہے۔ اگر کوئی اپنے مسلمان بھائی کی عزت وغیرت کو داغدار کرے تو جواباً اُس کو اس جرم سے روکنے کے لیے ہراقدام کیا جاسکتا ہے، تاہم وقوعہ کے بعد قانون کو ہاتھ میں لینا درست نہیں اور جو قانون کو ہاتھ میں لے گا تو سابقہ مظلوم کے اس جرم کو پہلے ظالم کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا۔ایسے ہی توہین رسالت کے جرم میں مجرم کو جارحیت کا نشانہ بنانے والا قانون کو ہاتھ میں لینے کا مجرم تو ہے لیکن اس کی سزا، پہلے شخص کے جرم کے تناظر میں ہی ہوگی اور اگر جرم ثابت ہوگیا تو اسے عدالت بری بھی کرسکتی ہے، جیسا کہ اس پر کئی احادیثِ نبویؐ شاہد ہیں۔پاکستان میں حالیہ بم دھماکے،دہشت گردی اور معاہدات ومذاکرات بھی اکیلا مسئلہ نہیں بلکہ بہت سے سابقہ مسائل کے نتیجے میں پیدا ہورہا ہے۔چونکہ طالبان اس وقت بزبانِ حکومت مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہورہے ،اس لیے ہمیں اُن کے موقف کو سمجھنا چاہیے۔موجودہ الم ناک صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ

1. امن وامان کا بلاجواز خاتمہ: پاکستان کے شمالی اور قبائلی علاقہ جات کے لوگ پرامن طور پر پچاس سال سے پاکستان کے ساتھ رہ رہے تھے، بالخصوص قبائلی علاقہ جات تو ایک معاہدہ کے نتیجے میں پاکستان کے ساتھ منسلک تھے اور وہاں پاکستانی حکومت کی رِٹ اور کنٹرول، دیگر پاکستانی صوبوں کی طرح قائم نہیں 2تھا۔ اسی اثنا میں امریکہ نے نیوورلڈ آرڈر، سبز خطرہ اور تہذیبوں کے تصادم کے اپنے سیاسی نظریات واَہداف کے زیر اثر عالم اسلام کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔پاکستان کی ایٹمی قوت اور افغانستان میں ایک پرامن مسلم ریاست کے آغاز کے دنوں میں ہی نائن الیون کے حادثے کے بعد، پاکستان کے آمر حکمران نے ایک فون کال پر امریکہ کی تائید وحمایت کا سلسلہ شروع کیا۔ جس طرح امریکہ نے بلاجوازایک مسلم ریاست پر حملہ شروع کردیا، اسی طرح پاکستان کی سرزمین ، نیٹو سپلائی، اطلاعات اور خبر رسانی کے ذریعے امریکہ کی حمایت میں بطورِ 'فرنٹ لائن سٹیٹ' استعمال ہونا شروع ہوئی۔ افغانستان سے نسل و ایمان کے رشتے میں بندھے قبائلی لوگ بھی اس امریکی ظلم کے خلاف مجتمع ہوگئے۔ یہاں سے مسئلہ کا آغاز ہوا جبکہ اس سے پہلے یہ لوگ پراَمن تھے۔ اُن کے امن وامان اور ان سے منسلک علاقوں کے مسلمانوں کو 'تحکم پر مبنی عالمی جارحیت ' اور پھر اس وقت کی 'پاکستانی حکومت کی بلاجواز تائید'نے خراب کیا۔

2. پاکستانیوں کو امریکی عقوبت خانوں میں بھیجنے میں مدد :قبائلی علاقہ جات میں پھیلنے والی اس صورتحال میں پاکستانی حکومت نے کئی پاکستانیوں کو امریکی عقوبت خانوں میں بھیجا اور اُن کے بدلے امریکی ڈالر وصول کیے، جس کی تفصیلات پرویز مشرف نے اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر' میں بیان کی ہیں۔ نائن الیون کے بعد کے سالوں میں پاکستانی حکومت اپنی ریاستی ذمہ داری سے برابر انحراف کرتے ہوئے، امریکہ کی ہرطرح مدد کرتی رہی۔ پاکستانی مسلمانوں کی جان لے لینا ، اُن کو نشانہ بنانے اور گرفتار کرنے کے لیے اُن کی جاسوسی کرنا، 'کولیشن سپورٹ فنڈ ' کے نام پر اربوں ڈالر سالانہ وصول کرکے سیکڑوں مسلمانوں کو امریکہ کے حوالے کردینا،کفار کو عسکری و غیر عسکری سہولیات مہیاکرنا ، اپنے بحرو برّ امریکی افواج کے استعمال کے لئے دے کر 'فرنٹ لائن اسٹیٹ' کا کردار ادا کرنا وغیرہ وہ حکومتی رویے ہیں، جنہوں نے حکومت کو ایک پورا فریق بنادیا۔

3. معاہدات کی خلاف ورزی اور اس کا راستہ بند کرنا: متاثرہ علاقے کے لوگوں کی مزاحمت اور یہاں سے مزاحمت کے خاتمے کے لئے حکومت پاکستان نے کئی ایک معاہدے کیے، لیکن نیک محمد اور سوات کے صوفی محمد سے لے کرآج تک کئی معاہدوں کو نظرانداز کیا گیا۔یہ مختلف معاہدے پولیٹکل ایجنٹ، ڈپٹی کمشنر،سیکرٹری داخلہ اور گورنر خیبر پختونخواہ کے ذریعے کئے جاتے رہے، لیکن ہمیشہ حکومت کی مرکزی قیادت نے ان معاہدوں کی بنا پر اپنے سیاہی اہداف حاصل کئے ہیں اور اُن کی پاسداری نہیں کی۔ سوات میں نفاذِ امن کے معاہدہ میں صوفی محمد کو ایک سابقہ بیان اور لڑکی کو درّے مارنے کی جعلی وڈیو پیش کرکے، آج تک جیل میں رکھا ہوا ہے۔ جہاں تک آئین کے بارے میں ان کے بیان کا تعلق ہےتو جسقم، جئے سندھ محاذ، سندھی اور بلوچی قوم پرستوں ،اور بعض قبائل کے علاوہ پاکستان کی بہت سی سیاسی شخصیات مثلاً ممتاز بھٹو، رسول بخش پلیجو اورڈاکٹر قادر مگسی وغیرہ بھی اس آئین کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، لیکن میڈیا کے ذریعے ہائپ پیدا کرکے، حکومت من مانے مقاصد حاصل کرتی اور صورتحال کو بگاڑتی رہی ہے۔ صورتحال یہاں تک گھمبیر ہےکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور یہ متاثرہ لوگ بھی معاہدہ کرنے پر متفق ہوگئے تو یکم نومبر2013ء کو عین معاہدہ ومذاکرات کے مرحلے پر امریکی ڈرون حملے سے طالبان لیڈر حکیم اللّٰہ محسود کو بلاجواز ہلاک کردیا گیا۔ امریکی حکومت خود افغان طالبان سے معاہدے کرنے کے لئے تو سرتوڑ کوشش کررہی ہے لیکن پاکستان میں معاہدہ کے ہر امکان کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

4. ڈرون حملوں کی صورت میں درندگی: امریکی افواج خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے، نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستانی سرحدوں، حتیٰ کہ چینی سرحدوں پربھی بم باری کرچکی ہیں۔ 10 برس ہونے کو آئے ہیں کہ آئے روز یہ ڈرون حملے ان متاثرہ علاقوں میں پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مطلوب شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ عورتیں، معصوم بچے اور عام شہری ہلاک ہوجاتے ہیں۔ان ڈرون حملوں میں شہید ہونے والوں کے نہ جان ومال کا کوئی محافظ وداعی ہے ، نہ اُن کا رنج اورغم بانٹنے والا کوئی ہے۔ وہ بھی پاکستانی اور مسلمان ہیں اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی پاکستانی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ ڈرون حملوں کی شکل میں ان پر ہونے والا یہ ظلم ، دنیا کے ہر قانون اور ملک کی نظر میں ایسا سنگین جرم ہے جس کی مذمّت اقوام متحدہ نے بھی کی ہے ، پاکستان کی اسمبلیاں بھی اس کی مذمت میں کئی متفقہ قرار دادیں پاس کرچکی ہیں گویا وہ بھی ا س کے جواز کی کسی طرح تائید نہیں کرتیں۔

5. پاکستان میں اسلامی نظریات اور مراکز پر حکومتی جارحیت:سابقہ پاکستانی آمر کی حکومت نے انہی پراکتفا نہ کیا بلکہ ملک میں اسلامی نظریات مثلاً حدود قوانین اور اسلامی مراکز مثلاً لال مسجد پر ظالمانہ آپریشن کیا۔ ایک طرف مذاکراتی ٹیم معاملات طے کرتی رہی اور دوسری طرف نہتّی طالبات کو نشانہ بنا یا۔ ظلم وبربریت کے اس اقدام نے مملکتِ پاکستان کے اَمن وامان کی صورتحال پر نہایت دوررَس اثرات مرتب کیے۔ مشرف کےدور میں پاکستان کی نظریاتی اساس کو متزلزل کرنے اور آزاد میڈیا کے ذریعے اباحیت کو فروغ دینے کی بھی ہر تدبیر کی گئی اور ان سالوں میں پاکستان میں اسلام کو اجنبی اور اس پر، خلوص سے عمل پیرا ہونے کو برا سمجھا جانے لگا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا، اسے ہر باشعور وباخبر پاکستانی بخوبی جانتا ہے۔ 10 سالوں میں پاکستان میں بدترین دہشت گردی کا جال پھیلا دیا گیا، سیکڑوں بم دھماکوں کے بعد شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی اور امن وامان ایک خواب بن کررہ گیا۔ سیکورٹی فورسز ہوں یا افواج، مساجدکے نمازی ہوں یا عوامی مقامات ، کہیں بھی کسی کا جان ومال محفوظ نہ رہا۔ امریکہ کی فرنٹ لائن سٹیٹ، دہشت گردی اور قتل وغارت میں فرنٹ لائن پرآگئی ، گویا پاکستان عذاب الٰہی کا نقشہ پیش کرنے لگا...!!

دہشت گردی کا سیاسی حل؛ مذاکرات و معاہدات

اس الم ناک صورتحال کو آخرکارختم ہونا ہے۔نائن الیون سے قبل بھی یہی مسلمان پرسکون طور پر پاکستانی معاشرے میں بستے تھے، اگر ان کے مسائل کا سنجیدہ طور پر جائزہ لیا جائے اور ان وجوہات کو خلوص سے ختم کیا جائے تو پھر دوبارہ وہ اسی طرح امن وامان کا راستہ اختیار کرلیں گے۔عالمی قوتوں کی ہمیشہ یہ کوشش اور پالیسی رہی ہے کہ اہل اسلام کو آپس میں لڑا کر، دونوں طرف سے اسلام کو بدنام کیا جائے۔ خود کسی بھی جدوجہد کی بجائے ، ڈالر اور مفادات کا لالچ دے کر،فریقین کو زیادہ سے زیادہ لڑنے پر اُکسایا جائے اور اس صورتحال سے اپنے فوائد اور من مانا نقشہ حاصل کیا جائے۔ ماضی میں اگر انگریز استعمار کے دور میں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کی مسلکی تقسیم کو پیدا کرکے ، اس تفریق کو بڑھایا گیا تو حال میں بھی مسلمانوں میں 'روشن خیال ومعتدل مسلمان' اور 'شدت وانتہا پسند یا بنیاد پرست' مسلمانوں کی تقسیم پیدا کرکے اس خلیج کو گہرا کیا جارہا ہے۔ عالمی میڈیا ان اصطلاحات کو استعمال کرتا اور اسے علاقائی ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام الناس کی زبانوں پر چڑھا دیتا ہے۔ جہاں جہاں امریکہ گیا ہے ، وہاں وہاں مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر 'ڈیوائیڈ اینڈ رول' کے تحت شیعہ سنّی تقسیم اور عوام اور فوج کی تقسیم وغیرہ کو پروان چڑھا کر مسلمان کو مسلمان کے خلاف لڑایا گیا۔ مملکت پاکستان میں اس صورتحال سے کئی قوتوں نے فائدہ اُٹھایا۔ سنّی علما کو قتل کروانے میں مبیّنہ طور پر ایک پڑوسی اسلامی ملک کے ملوّث ہونے کی خبریں بھی سیکورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے میڈیا کی زینت بنی ہیں۔جب کہ اسلام کی روسے مسلمانوں کا باہمی تعلق تعصب وتشدد اور فرقہ واریت کے بجائے اتحاد، جسد اور ملتِ واحدہ اور ایک دوسرے کے امن وامان کے تحفظ کا ہے، مسلمان کو تکلیف پہنچانا ، اس پر لعن طعن کرنا اس کے قتل جیسا سنگین جرم ہے اور کسی مسلمان کو قتل کرنا اس فرمانِ نبویؐ «زوال الدّنیا کلها أهون علىٰ اﷲ من قتل رجل مسلم»3''دنیا بھر کی بربادی ، اللّٰہ کے ہاں ایک مسلمان کے قتل سے زیادہ ہلکی ہے۔''کے مصداق ایک سنگین ترین قضیہ ہے۔

دنیا کا ہر مسئلہ آخر کار کسی حل کی طرف ضرور جاتا ہے اور یہ حل اکثروبیشتر میز پر ہی ہوتا ہے۔ جنگ وجدل سے کسی فریق کو ایک منزل تک پہنچایا جاتا ہے لیکن معاملات کی انجام دہی باہمی اتفاق کے کسی مرحلے پر ہی موقوف ہوتی ہے۔موجودہ حالات میں بھی معاہدات ومذاکرات کے بغیر کوئی چارہ نہیں جس کی وجوہات درج ذیل ہیں:

1. پاکستان میں متاثرہ عناصر اپنا ایک موقف،ظلم کی ایک داستان اور اس کے مقابل اپنا نظریاتی استدلال رکھتے ہیں۔ ان پر ہونے والے ڈرون حملے ہر ایسے شخص کو جو دل میں معمولی سی انسانیت رکھتا ہے، ان کی مدد وتائید کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔ یہ ڈرون حملے عالمی سطح پر ایسی ظلم وبربریت ہے جسے کوئی بھی حکومت ونظام تسلیم نہیں کرسکتی۔اس بناپر ان کے احساسات کو صرف دبا دینا ممکن نہیں، بلکہ یہ اختلافFrustration کی صورت کوئی نہ کوئی نتائج ومظاہر پیدا کرتا رہے گا، جب تک ان ڈرونز کی کلّی روک تھام نہ ہو۔

2. آغازِ کارتشدد اورجارحیتوں کا یہ سلسلہ سرحدی اور قبائلی علاقہ جات سے شروع ہوا، پھر اس نے پاکستان کے وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب پاکستان کے بے شمار شہری اس ظلم کا شکار ہیں۔ پاکستان کے ان لاکھوں شہریوں کو مملکت کی شہریت سے خارج نہیں کیا جاسکتا، اب یہ پاکستانی ریاست کے اپنے گھر کا مسئلہ ہے۔ غیروں سے توسختی سے نمٹا جاسکتا ہے لیکن اپنوں کے ساتھ آخرکار کسی ایک صورتحال پر اتفاق کرنا ہی ہوگا۔پاکستان کے بہت سے سیاسی قائدین اور عوام کا ایک بڑا طبقہ امریکی عزائم اور پاکستانی حکومت کے 'پَرو اَمریکن 'طرزِ عمل کی بنا پر، اس پورے منظرنامے میں طالبان كاہمدرد بھی ہے۔

3. یہ متاثرہ لوگ، ایک وسیع علاقہ بھی رکھتے ہیں۔ اگر ان کی ناراضی اور اختلاف تسلسل سے ایسے ہی جاری رہا، تو پھر یہ لوگ پاکستانی سرزمین سے علیحدگی کی طرف مائل ہوں گے۔ یہ لوگ پاکستانی آئین، حکومت ، سیکورٹی فورسز اور عوام سے پہلے ہی شاکی ہیں۔اُن پر ہونے والا مبیّنہ ظلم اس پر مستزاد ہے، وہ اس کے دفاع کے لئے اپنا عسکری نظام ترتیب دیتے رہے ہیں۔ ان کی ہمسائیگی میں طالبان جہاد بھی ان کے ساتھ ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے، جس طرح ماضی میں اِنہوں نے افغانیوں کی مدد کی تھی۔ افغانستان میں بھی امریکی افواج کے نکلنے کے بعد سیاسی نقشہ عنقریب تبدیل ہونے والا ہےاور عالمی طاقتیں تو ایسے موقع کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں کسی مسلم ریاست کے مزید حصے بخرے کئے جائیں۔ پاکستان میں اگر بلوچ قبائل اپنے حقوق نہ ملنے پر خودمختاری کی بات کرسکتے ہیں،شمالی عراق میں کرد علیحدہ ریاست قائم کرسکتے ہیں تو ایسا پاکستان کے متاثرہ علاقوں میں کیوں نہیں ہوگا؟ اس بنا پر بھی اس تشدد ومزاحمت کو طول دیے جانا کسی طرح پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ یاد رہے کہ آج تک پاکستان کے مزاحمت کاروں یا طالبان نے علیحدہ ریاست کی بات نہیں کی اور نہ اس کے لئے کسی عالمی ساز باز میں حصہ لیا ہے جبکہ بلوچ قبائل قوم پرستی کی آڑ میں اور بعض لوگ صوبہ سندھ میں لسانی اختلافات کے بہانوں سے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں اور اُنہیں شیطانی اتحادِ ثلاثہ کی تائید بھی حاصل ہے، ان کے باہمی رابطے بھی پریس میں آتے رہتے ہیں۔4

4. ماضی میں پاکستانی مقتدرہ مختلف انداز کی جارحانہ اور قوت پر مبنی حکمت عملیاں اپنا کر دیکھ چکی ہیں۔ سوات میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت جو 50 لاکھ آئی ڈی پیز پر مشتمل تھی، عمل میں آچکی ہے۔طالبان پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر طالبان اور اس سے کہیں زیادہ عالمی ایجنسیاں، اس صورتحال کو پاکستان میں دہشت گردی اور بم دھماکوں کے فروغ کے لئے استعمال کرچکی ہیں۔ اس خانہ جنگی اور جنگ وجدل سے پاکستان اور اسلامی امارت کی خواہش رکھنے والوں کو آخرکار کچھ حاصل نہ ہوگا۔ جب حکومت نے کئی سالوں سے ہرطرح کا سخت راستہ اختیار کرکے دیکھ لیا جس کا نتیجہ اس دہشت گردی کو شہروں تک پھیلانے کے سوا کچھ نہیں نکلا تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ خلوص دل سے امن وامان اور مفاہمت کا راستہ بھی اختیار کیا جائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ سوات میں حکومت نے آپریشن کیا اور اس میں کامیابی حاصل کرلی۔ یہ دعویٰ واقعی حالات کی مکمل تصویر نہیں ہے بلکہ سوات کے آپریشن نے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے پورے ملک میں پھیلا دیاہے۔ اندھی طاقت نے وہاں کامیابی حاصل کرنے کی بجائے، اُن کو وہاں سے منتشر کردیا ہے اور یہ لوگ اس سے محتاط ومحفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اُن کو سختی سے دبانے سے مسئلہ ختم ہونے کی بجائے جوابی تشدد وجارحیت کی طرف مُڑ گیا۔تحریکِ طالبان کا موجودہ امیر مولانا فضل اللہ سوات کا ہی باسی ہے۔ پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقوں میں پاکستان کی حکومتی رِٹ مکمل طو رپر قائم نہیں بلکہ بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جہاں ابھی تک نہ کسی ریاست کی حکومت ہے اور نہ کسی کی کرنسی چلتی ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں ایسے بہت سے مقامات کسی بھی حکومت کی عمل داری سے کلیتاً باہر ہیں۔

2014ء کے آغا ز میں پاکستان کی عملی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت درپردہ نئی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہوچکی ہے۔ تو دوسری طرف طالبان کا مطالبہ بھی شرعی وسیاسی بنیادوں پر اپنی اساس کھو چکا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پاکستانی فوج میں جنر ل کیانی کی سبک دوشی کے بعد،متبادل رجحان سامنے آنے کی توقعات کی جارہی ہیں۔لاپتہ افراد کا مقدمہ ایک طرف سنگین حدوں کو چھو رہا ہے اور عدلیہ آئے روز اس پر اپنے انسانی بنیادی حقوق اور آئین کی پاسداری کے مطالبے کو پرزور کر تی جارہی ہے۔ لیکن دوسری طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ایک ذومعنی مفاہمت نظر آرہی ہے۔اور وہ یہ کہ براہِ راست آپریشن کی بجائے، ان افراد کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع کررکھا ہے جو کسی نہ کسی طرح مملکتِ پاکستان کے اسلامی تشخص کی بحالی کے لیے نظریاتی یا عملی سطح پر متحرک ہیں۔ یہ آپریشن متاثرہ علاقوں سمیت پاکستان بھر میں جاری ہے۔ آئے روز ایسے افراد کو غائب کردیا جاتاہے جو کسی بھی طرح امریکی ایجنڈے پر تنقید کو نظریاتی یا عملی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ حکومت ذو معنی خاموشی رکھتی اور عدلیہ چیختی رہ جاتی ہے۔ گویا اس طرح سیکورٹی فورسز، سیکولرشناخت کے خلاف مزاحمت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جاری سرگرمیوں کو اپنی صلاحیت اور منصب کے مطابق آہستہ آہستہ کم کرتی جارہی ہے۔اس میں وہی عناصرغائب ہورہے ہیں جن کے نظریہ وعمل کی زد فورسز کے کردار پر پڑتی ہے۔ ماضی میں امریکی حکمتِ عملی کا تقاضا تو یہ تھا کہ فوج اور پاکستانی عوام کو آمنے سامنے کیا جائے تاکہ ریاست کمزور ہوجبکہ اب پاکستانی حکومت اور فورسز کی طرف سے دوبدو جنگ کی بجائے اپنے ریاستی اختیارات اور انتظامی صلاحیتوں کا دانائی سے استعمال کا رجحان سامنے آرہا ہے۔ اور ان دنوں اسی سمت فکری، عملی اور عسکری اقدامات سے پیش قدمی کرکے آہستہ آہستہ طالبان کی طاقت کو سکیڑا جارہا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مزاحمت کرنے والوں کا شرعی موقف بھی اپنی اساس کھوتا جارہا ہے۔ مجاہدین کا موقف یہ ہے کہ وہ 'شریعت الٰہیہ کے نفاذ' اور کفار سے دوستی وتعاون کی بناپر پاکستانی حکومت، اس کے سیاسی اداروں اور عوام کے خلاف ہیں۔14برس کے بعد پاکستان میں حکومت بھی تبدیل ہوچکی ہے۔ پرویز مشرف کے بعد آنے والی زرداری حکومت تو این آر او، سیاسی منظرنامے اور اپنےفکری رجحانات کے باعث مشرف پالیسیوں کا ہی ایک تسلسل تھی، جس کا اظہار رحمٰن ملک جیسے لوگوں کا برسراقتدار رہنا تھا جو مشرف کا قریبی دوست اور طالبان کا بدترین مخالف تھا، اس دور میں اگر کوئی بلّی بھی مرجاتی تو رحمن ملک اس کا الزام بلا تامل طالبان کے ذمے جڑ دیا کرتا۔ لیکن اب الیکشن 2013ء کے بعد سیاسی صورتحال میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ امریکہ کی ایجنٹ ریاست کے کردار کو آہستہ آہستہ کم کیا جارہا ہے یا کم ازکم دعوے جار ی ہیں۔ نیٹو سپلائی کا مسئلہ دو ماہ سے بند اوراُلجھنوں کا شکار ہے اور امریکہ کے ساتھ 'کولیشن سپورٹ فنڈ' یا 'فرنٹ لائن سٹیٹ' کا کردار بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ حساسیت ، فوج کے علاوہ حکومتی اداروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وزراتِ داخلہ اس بارے میں بہت سے اقدامات کرتی جارہی ہے، تاہم امریکہ نوازی کا یہ سلسلہ ابھی تک میڈیا میں جاری وساری ہےجو 'شہید' کا ایک لفظ بول دینے پر آسمان سرپراُٹھا لیتا ہے۔مشرف دور میں اس میڈیا کو بہت خودسر کردیا گیا ہے جو حکومت وفوج سے زیادہ ریاست کا محافظ بنا بیٹھا ہے جبکہ میڈیا سے منسلک بہت سے افراد کی سیکرٹ فنڈز سے رقوم کی وصولی کو سپریم کورٹ نے ماضی قریب میں برسرعام 5بھی کردیا ہے۔جہاں تک اللّٰہ کی شریعت کے نفاذ کی بات ہے تو اس سمت تو کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی اور نہ بظاہر اس کے امکانات نظر آتے ہیں لیکن ماضی کے بالمقابل شریعت کے بارے میں تمسخر واستہزا کا رویہ موجودہ حکمرانوں کا نہیں ۔ یہ صورتحال بھی کوئی خوش آئند تو نہیں تاہم اس بنا پر حکومت کی تکفیر کے نظریے میں کمزوری آتی ہے کیونکہ بعض طالبان گروہوں کے لئے ایسے حکمرانوں کوکافر قرار دینے اور ان کے خلاف جہاد کی فرضیت جیسے دعوے کرنے مشکل ہوگئے ہیں۔ جہاں تک عوام الناس کی بات ہے جنہیں ماضی میں امریکہ نواز اور خاموش تماشائی قرار دے کر، ان کے خلاف طالبان قیادت غم وغصہ کا اظہار کرتی آئی ہے تو عوام کی نمائندہ ایک بڑی جماعت تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی تو براہ راست نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں کے خلاف میدانِ عمل میں نکلے ہوئے ہیں۔ جبکہ تمام سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اندریں حالات آہستہ روی سے یہ سنگین مسائل، منطقی حل کی طرف جارہے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر بھی نواز حکومت نے سعودی عرب، ترکی، امارات اور افغانستان کی حکومتوں میں باہمی اعتماد پرور اقدامات کرکے، متوازی بلاک کی طرف پیش قدمی شروع کردی ہے جو بڑی اہم اور مغربی ممالک کی ریشہ دوانیوں کا اصل حل ہے۔ انہی حالات میں بعض قوتیں، ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے، کسی طرح اصلاح احوال پر گامزن پاکستان کی منزل کو دور کرنے پر تلی بیٹھی ہیں، جنہیں بصیرت سے حل کرنا ہوگا۔اب حال ہی میں ان فسادات میں طالبان کے نام پر بم دھماکوں کا بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔

اندریں حالات پاکستان میں جو شخص یا ادارہ قوم کو تکفیر وخروج کی بحثوں میں ڈالنا چاہتا ہے،یا طالبان کی طرف سے دہشت گردانہ کاروائیوں کے جواز کی بحث میں اُلجھتاہے تو وہ دراصل وہ مفاہمت کے عمل کو متاثر کرکے، دیرینہ دوطرفہ شرعی اور سیاسی مخاصمت کی بنیادوں کو پختہ کرنے جارہا ہے۔ یہ وقت کسی ایک فریق کے موقف کی تائید اور اس کے جواز فراہم کرنے کا نہیں بلکہ اس وقت صرف ایک ہی کام ہے اور وہ ہے مذاکرات ومفاہمت اور دونوں اقدامی ودفاعی طرز ہائے فکر سے قوم کو باہر نکالنا۔ جس طرح امریکہ اس خطے سے باہر نکلنے جارہا ہے، اس سے پہلے پاکستان کو بھی اس دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے المیہ سے نکلنا ہوگا جو اس کا اپنا مسئلہ نہیں تھا لیکن اس کا سنگین ترین مسئلہ بنا دیا گیا۔ امریکہ اس وقت چاہتا ہے کہ معاہدات کا راستہ کسی صورت کھلنے نہ پائے اور اس خطے میں مسلمان اسی طرح لڑتے رہیں جیسی لڑائی وہ مشرقِ وسطیٰ کے عراق وشام میں شروع کر اچکا ہے۔اور اہل اسلام واہل پاکستان کی حکمتِ عملی یہ ہونی چاہئے کہ کسی بھی قیمت پر قوم کو آپس میں متحد کرلیا جائے۔

طالبان حلقوں کو دیکھا جائے تو وہ شریعت پر عمل پیرا، دین کے خادم اور سنّتِ نبوی سے مزین نظر آتے ہیں۔ اُنہیں ماضی میں اسی لئے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اسلامی تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے، افغانی مسلمانوں کی مدد کے شرعی فریضہ کو پورا کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظریاتی واعتقادی پختگی ملتِ اسلامیہ کا اثاثہ ہے۔ عالمی ظالم ریاست امریکہ، جس سے اُس کے شہری سب سے زیادہ خائف ہیں کہ اس سے عالمی امن کو سب سے زیادہ خطرہ ہے، کہ ڈرون حملوں اوراس کی جنگ میں پڑ کرہم نے پاکستان کے بازوے شمشیر زَن کوبھی ایسے اقدامات کرنے پر مجبور کردیا جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ جن اقدامات کو طالبان کے نام سے میڈیا میں پھیلایا جاتا ہے ، شریعت اسلامیہ میں اس کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم اسلام ، قرآن اور نبی اکرمﷺ کا رشتہ سب سے گہرا رشتہ ہے۔ اسی رشتے سے عرب کے منتشرومتحارب قبائل متحد ہوکر، خلافت ِراشدہ میں عالمی عسکری طاقت اور مثالی اسلامی ریاست بنے تھے۔ مسلمانوں کو اسی رشتے کا پاسبان اور محافظ ہونا چاہئے جو نبی آخر الزمانﷺ کے اُمّتی اور محب ہونے کے ناطے تمام ملتِ اسلامیہ میں روح کی طرف جاوداں اور متحرک جذبہ ہے۔ان مسائل کا حل صرف اور صرف پاکستان کے قومی اورپھر ملت ِاسلامیہ کے عالمی اتحاد میں ہے۔انتہاپسندی اور شدت پسندی کے بجائے اسلام توازن واعتدال کا دین ہے اورآپ ﷺنے میانہ روی کو 'خیر الاُمور' قرار دیا ہے۔

مسلمانوں کےمابین جاری اختلافات کو صلح وصفائی سے حل کرنے کا قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ اگر مؤمنوں کی دونوں جماعتیں لڑائی کا شکار ہوجائیں تو ان میں صلح6کرواؤ۔ملت اسلامیہ بالخصوص پاکستان میں جنگ وجدل اورافتراق وانتشارکفار کی مسلّمہ سازش اور محکم تدبیر ہےجس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ امریکہ نے معاہدات کے موقع پر ہمیشہ صلح جو شخصیات کو ہلاک کرنے میں دیر نہیں کی۔ خود وہ افغانستان میں صلح ومعاہدہ کی پالیسی پر کاربند ہے اور پاکستان میں جنگ و افتراق اس کا ہدف ومقصد ہے۔ ڈرون حملے کےذریعے حکیم اللّٰہ محسود کی ہلاکت نے اس امریکی ہدف کو بالکل اظہر من الشّمس کردیا ہے۔

اس کے بعد سے پاکستان میں قتل وغارت کا سلسلہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے تو دنیا بھر کے نزدیک مسلّمہ مظلوم ہیں اور ان کا قاتل بھی واضح ہے جو امریکہ ہے۔مقتول بھی مسلمان ہیں اور ان میں شہید ہونے والوں کی اکثریت ان بچوں،عورتوں اور ایسے مردوں کی ہے جو اس جنگ کا کسی طرح حصہ نہیں۔دوسری طرف پاکستان بھر میں ہونے والے بم دھماکوں کے شکار بھی معصوم ومظلوم پاکستانی مسلمان ہیں لیکن اُن کے قاتل بے نام ہیں۔میڈیا اور اس پر پیش کئے جانے والے بے نام پیغامات کی رو سے یہ لوگ طالبان ہیں جبکہ بہت سے حقائق اور رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی دہشت گرد عناصر بڑی تعداد میں دندناتے پھررہے ہیں۔ بعض بڑے واقعات مثلاً پشاور میں سینٹ جوزف گرجا اورتبلیغی مرکز میں بم دھماکوں کا طالبان پر الزام نہیں دیا جاسکتا۔ جنرل نیازی والے بم دھماکے اور اپنے صوبائی وزیر کی ہلاکت کے معاملہ میں عمران خاں نے طالبان کو بطورِ مجرم نامزد نہیں کیا۔قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن پر ہونے والے بم دھماکے بھی طالبان کے کھاتے میں نہیں ڈالے جاسکتے۔گویا پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں کا نشانہ بننےوالے تو معصوم ومظلوم اور پرامن مسلمان ہیں لیکن ان کا قاتل بے نام اور اَن گنت ہیں جن کی تفتیش نہ تو کبھی مکمل ہوئی اور نہ اُنہیں سزا کا مرحلہ پیش آسکا ہے۔ حکومتیں بھی اس لئے طالبان کے ذمّے لگانے پر خاموش رہتی ہیں کہ ان پر امن وامان قائم کرنے کی ذمہ داری ختم ہوتی ہے، جبکہ اسطرح وہ ایک دائمی جنگ اورورلڈ گریٹ گیم کا شکارہوجاتی ہیں۔

امریکہ کے حکیم اللّٰہ محسود کو مارنے کے شدید ترین اقدام کے بعد، یہ امربہت قرین قیاس ہے کہ پاکستان میں جنگ وجدل کو جواز دینے کے لئے ان میں سے اکثر دہشت گردں کا تعلق بھی امریکہ یا شیطانی اتحادِ ثلاثہ سے ہی ہو، کیونکہ ان کا منطقی نتیجہ مذاکرات کا خاتمہ اور جارحیت کا آغاز ہے جو امریکہ کا ایجنڈا ہے۔ اور ماضی میں بھی پاکستان میں ہمیشہ اس طرح تشدد وجارحیت پروان چڑھتی رہی۔ڈرون حملے اور امریکی جارحیت اس ظلم نامے کا آغاز بنتے رہے، پھر کبھی جواب دینے والے امریکی ایجنڈے اور لابنگ کا شکار ہوئے اور اکثر وبیشترغیرملکی دہشت گردوں کی بہیمانہ کاروائیوں کو میڈیا کے ذریعے طالبان کے کھاتے میں ڈال کرمسلمانوں میں باہمی قتل ومنافرت کو فروغ دیا گیا اور اسلام کوبدنام کیا گیا۔

پاکستان میں بعض لوگ طالبان کے موقف کو پرزور طریقے سے پیش کررہے ہیں اور بعض لوگ حکومت کے استدلال کو... ان دونوں کو پیش کرنا اور ان کی صحت پر اصرار کرنا لڑائی اور افتراق کو پانی دینے اور اُس کو جواز بخشنے کی تدبیر ہیں۔ اُمّتِ مسلمہ میں جنگ وجدل کو پروان چڑھانے والا ہرراستہ غلط او رناروا ہے۔واضح رہے کہ حکومت کے خلاف کاروائیاں کرنا، ان کو کافر قرار دینا، سرکاری عہدیداران اور عوام کے جان ومال کو اُن کا معاون سمجھتے ہوئے مباح سمجھنے کا موقف طالبان کی اکثریت کا نہیں بلکہ اُن میں چند ایک انتہاپسند گروہوں کا ہے۔ نامور افغان مجاہدشیخ عبد اللّٰہ عزام شہید،طالبان کے مرکزی قائد اور سابقہ امیر امارتِ اسلامیہ افغانستان ملا عمر،سوات میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے قائد صوفی محمد جیسے سرکردہ طالبان نے کبھی اس موقف کو اختیار نہیں کیا اور نہ کبھی اُنہوں نے تکفیر کا سہارا لیا۔ طالبان کی مرکزی درسگاہ جامعہ حقانیہ ، اکوڑہ خٹک کو سمجھاجاتا ہے، اور سب جانتے ہیں کہ اس درسگاہ نے کبھی تکفیری موقف نہ تو اختیار کیا ہے اور نہ ہی اپنےلٹریچر میں اس کو پیش کیا ہے بلکہ اس کے سربراہ مولانا عبد الحق  اور ان کے بیٹے مولانا سمیع الحق پاکستان میں دستوری جدوجہد اور شریعت بل وغیرہ کے حوالے سے معروف ہیں۔ جہاں تک خروج کی بات ہے تو خروج کا عملاً کہیں سے دعویٰ بھی موجود نہیں ہے اور نہ عملاً خروج کہیں ہوا ہے، کیوں کہ خروج تو اسلامی ریاست یعنی خلافت کے مقابلے میں ہوتا ہے اور پاکستان میں تو جمہوریت ہے اور یہاں خروج کی بجائے بغاوت اور اس سے نمٹنے کا پورا نظام مثلاً آرٹیکل نمبر6 وغیرہ میں موجود ہے۔

طالبان میں تکفیر وتفجیر (حکام وعوام کو کافر قرار دیکر، اُن کے قتل کو جائز سمجھنا اور بم دھماکے کرنا)کے داعی گروہ بہت مختصر ہیں اور اکثریت کا یہ موقف نہیں ، لیکن امریکی لابی عرصہ دراز سے اُنہیں تکفیر کے بلاامتیاز مجرم قرار دے کر تکفیر وخروج کی مذمت میں کانفرنسیں کراتی آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ سیکولر این جی اوز کو ایسے شرعی استدلال کو پھیلانے اور پروان چڑھانے کی اس کے سوا کوئی ضرورت نہیں کہ طالبان کے تکفیری فکر کو نمایاں کیا جائے اور بعض حلقوں کو اس سے متہم کرکے ان کے خلاف جارحیت کو جواز دیا جائے۔ اس تناظر میں ، اختلاف کی سمت جانے والا ہر قدم چاہے وہ قول وزبان سے ہو یعنی تکفیر وخروج اور طالبان کے استدلال کی حمایت کرکے یا عمل سے یعنی بم دھماکے اور جارحیت، دونوں شرعی احکام اور اسلامی مصلحت کے سراسر منافی ہیں۔ ملک وملت کا مفاد صرف اور صرف صلح وصفائی میں ہے اور اس بے نام جنگ سے نکلنے میں ہے۔ اسی پر پاکستانی قوم کا 'سیاسی اجماع' بھی ہوچکاہے، جس کےخلاف حالات پیدا کرکے، دوبارہ جنگ کا آغاز کیا جارہا ہے، خدارا قتل وغارت کے اس ظالمانہ سلسلے کو بند کیا جائے اور پاکستان کو اَمن کے راستے پر ڈالا جائے۔نواز حکومت مذاکرات کی پرزور داعی رہی ہے، یہی اس کا مینڈیٹ ہے، لیکن افسوس صد افسوس کہ انہیں بھی عالمی سیاست کا شکار کرکے، پاکستانی قوم کو نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔نواز حکومت اپنے اصولی موقف سے ہٹ رہی ہے۔یہ اسلام اور پاکستان، دونوں کے تقاضوں اورآل پارٹیز کانفرنس کے مینڈیٹ کے منافی ہے۔ حکومت اور طالبان دونوں کو آخرکار اعتدال ومفاہمت کا مظاہرہ کرنا ،تشدد کا خاتمہ کرنا اور صلح ومذاکرات کا راستہ اختیارکرنا ہوگا۔ نہ تو حکیم اللّٰہ محسود کو حکومت نے قتل کروایا ہے اور نہ ہی بم دھماکوں کے مجرم مصدقہ طور پر طالبان قرار پاچکے ہیں۔ البتہ دونوں طرف بہت سی غلطیاں موجود ہیں جن میں باہمی مفاہمت واعتماد ہی تدریجاًکمی لاسکتی ہے۔یہ راستہ مشکل ضرورہے، لیکن اس کا انجام امن واستحکام ہوگا۔ جب پاکستان کی موجودہ حکومت امریکہ کی شروع کردہ جنگ کی حامی نہیں ہے، اللّٰہ کی شریعت اور اس کے شعائر کے بارے میں اس کا رویہ بھی استہزا پر مبنی نہیں ہے، وہ امریکہ کی ایجنٹ اور فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کی بجائےمتبادل طرزِ سیاست کی حامی ہے،اور یہی اس کی قوت اور محل اعتماد ہے، تو اس اہم ترین حیثیت سے دستبردار ہوکر، مشرف کی آمرانہ حکومت جیسے اقدامات سے بھی گریز کرنا ہوگا اور دوسری طرف اس 'ورلڈ گریٹ گیم' کو پہچانتے ہوئے طالبان نمائندوں کو بھی معاہدات کی طرف ہی پیش قدمی کرنا ہوگی۔ جس قدر جلد اُنہیں اس کا شعور ہوجائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ وما علینا إلا البـلاغ
حوالہ و حواشی

1. صحیح بخاری:2973،4417،6893؛ مسلم :1674،مسند احمد: 17949

2. اٹا اور پاٹا کے قبائلی علاقوں کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی نوعیت مختلف ہے اور کسی صوبے سے منسلک ہونے کی بجائے، وہاں قومی اسمبلی کے ممبران علیحدہ منتخب ہوتے ہیں۔'پولیٹیکل ایجنٹ' کے ذریعے حکومت پاکستان وہاں اثرانداز ہوتی ہے۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال سوات کے علاقوں کی ہے، جو سابقہ ریاست سوات سے ایک معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کا مشروط حصہ بنے تھے۔اس لئے دیگر پاکستانی شہروں کی طرح وہاں پاکستانی حکومت کی رٹ کا معاملہ بھی قدرے مختلف ہے۔

3.جامع ترمذی:1395

4.ایسی ہی صورتحال عراق میں بھی ہے کہ عراق میں کردستان کا علاقہ عراق، شام اور ترکی کے مابین منقسم ہے اور کردوں میں دو رجحانات کے حامل گروہ ہیں۔ دین دار اور سیکولر کرد... سیکولر کرد، امریکہ کی تائید کے ساتھ وہاں آزاد علاقہ قائم کرچکے ہیں اور امریکہ تیل کی بڑی مقدار ان کردوں سے براہِ راست خرید رہا ہے۔ جبکہ دین دار کرداسلامی ریاستوں کے حصے بخرے کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔

5. دیکھیے سپریم کورٹ کی درخواست پر وزرات اطلاعات کی سیکرٹ فنڈ لسٹ مجریہ 23؍اپریل 2013ء

6. ﴿وَإِن طائِفَتانِ مِنَ المُؤمِنينَ اقتَتَلوا فَأَصلِحوا بَينَهُما...﴿٩﴾... سورة الحجرات

''اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑائی کا شکار ہوجائیں تو دونوں میں صلح کرادیا کرو۔''