میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ماضی میں علمائے اہل حدیث نے برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی نشر واشاعت ،کتاب وسنت کی نصرت وحمایت اور شرک وبدعت کی تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کے خلاف جو علمی کارنامے سرانجام دئیے،وہ ہماری تاریخ اہل حدیث کاایک روشن باب ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں عیسائی قادیانی آریہ اور منکرین حدیث ایسے گروہ تھے جنہوں نے اسلام کے خلا ف ایک محاذ قائم کیا ہوا تھا ۔علمائے اہلحدیث نے ان کے خلا ف ہر محاذ پر مقابلہ کیا ان سے منا ظرے بھی کئے اور ان کے خلا ف کتابیں بھی لکھیں ۔دوسری طرف علمائے اہلحدیث نے علمی و دینی اور تحقیقی خدمات بھی سر انجا م دیں ۔قرآن مجید کے تراجم بھی کئے اور تفاسیر بھی لکھیں ۔حدیث کی عربی اور اردومیں شرحیں لکھیں فقہ عقائد ،تاریخ اور سیرت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم   پر متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔اس کے علاوہ علمائے اہلحدیث نے اپنے مدارس قائم کر کے کتاب و سنت کی نشرواشاعت میں ایک مثالی کا ر نامہ سر انجام دیا اور پورے برصغیر میں پھیل کرکتاب و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید کی۔

اس مقالہ میں علمائے اہلحدیث کی تدریسی خدمات اور ان کی تحریری علمی خدمات کا جائزہ لیا جا ئے گا تحریری خدمات کے  سلسلہ میں تفاسیر قرآن و احادیث کی شرح و تراجم تقلید کی تردید اور ادیان باطلہ کے خلا ف ان کی علمی خدمات کا تذکرہ ہو گا۔۔۔عبد الرشید عراقی۔

تدریسی خدمات:۔

12ویں صدی ہجری میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (م1176ھ)نے برصغیر پاک وہند میں ان اسلام کی نشرو اشاعت کتاب وسنت کی نصرت وحمایت اور شرک و بدعت کی تردید توضح کے سلسلہ میں حج بیت اللہ سے واپسی کے بعد 1145ھ میں اپنی پوری زندگی صرف کردی۔ان کے والد مولانا عبد الرحیم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1131ھ)نے دہلی میں 1070ھ میں مدرسہ رحیمیہ قائم کیا تھا اور ان کے انتقال کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ (1176ھ) نے اس میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  کے بعد ان کے چاروں صاحبزادگان (مولانا شاہ عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ )(م1239ھ)مولا نا شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ  (م1235ھ)مولانا شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ  (م1239ھ) اور مولا نا شاہ عبد الغنی  رحمۃ اللہ علیہ  نے جاری و ساری رکھا۔

مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1239ھ)کے بعد آپ کے بھتیجے مولاناشاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (ش1246ھ) کے تجدیدی کارناموں نے برصغیر میں ایک انقلاب عظیم برپا کردیا۔ مولاناشاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا عبد الحئی بڈہانوی (م1243ھ)تدریسی خدمات میں مصروف عمل تھے کہ حضرت سید احمد شہید (ش1246ھ)کے زیر قیادت تحریک جہاد شروع ہوئی۔ مولاناشاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا شاہ عبد الحئی بڈہانوی مسند تدریس چھوڑ کر صف جہاد میں جاکھڑے ہوئے۔اور آزادی اسلام کے لیے جان جان آفریں کے سپرد کردی ۔

حاصل عمر نثار سر یارے کردم

شادم از زندگی خویش کہ کارے کر دم

ان کے بعد شاہ عبد العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  محدث دہلوی کے دونوں نواسوں مولانااسحاق (م1263ھ) اور مولانا شاہ محمد  یعقوب ( م1283ھ) نے مسند تدریس سنبھالی ،ان دونوں بھائیوں کے مکہ مکرمہ ہجرت کرنے کے بعد شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ (م1220ھ) دہلی کی مسند حدیث پر متمکن ہو ئے اور 62سال تک کتاب و سنت کی تدریس و تعلیم میں مشغول رہے۔علامہ سید سلیمان ندوی (م1373ھ) لکھتے ہیں ۔

"دہلی میں ومولانا سید نذیر حسین صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کی مسند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالسین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گا ہ کا رخ کر رہے تھے۔"(تراجم علمائے حدیث ہند ج1ص36)

مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشہری (م1386ھ) لکھتے ہیں کہ: مولاناشاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کے اس مسابقت الی الجہاد و فوزبہ شہادت کے بعد ہی دہلی میں الصدر الحمید مولانا اسحاق صاحب کا فیضان جاری ہو گیا ۔جن سے شیخ الکل میاں صاحب السید نذیر حسین محدث دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  مستفیض ہو کر دہلی کی مسند تحدیث پر متمکن ہو ئے (ہندوستان میں اہلحدیث کی علمی خدمات ص19)

حضرت مولانا نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (م1320ھ)سے بلا مبالغہ ہزاروں طلباء مستفید ہو ئے اور برصغیر پاک و ہند کے کونے کو نے میں پھیل گئے۔پورے عالم اسلام میں اس صدی کے اندر کثرت تلامذہ میں میاں صاحب کی نظیر نہیں ہے۔ میاں صاحب کے تلا مذہ نے پورے برصغیر میں پھیل کر خدمت اسلام کا ایک میدان سنبھال لیا اور پوری زندگی کتاب وسنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کا قلع قمع کرنے میں صرف کر دی۔

مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  :۔

شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1320ھ) کے تلا مذہ نے پورے برصغیر میں کتاب و سنت کی اشاعت اور حدیث کی درس و تدریس کے سلسلہ میں دینی مدارس کا جال بچھا دیا۔ مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کے جن تلا مذہ نے درس وتدریس کے ذریعہ اہل اسلام کی خدمت کتاب وسنت کی نصرت و حمایت اور شرک و بدعت کی تر دیدو توبیخ کی ان میں مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری (م1337ھ)مولانا محمد بشیر سہوانی  رحمۃ اللہ علیہ (م1326ھ) مولانا عبد الوہاب ملتانی رحمۃ اللہ علیہ  (م1351ھ)مولا نا عبد الجبار عمر پوری رحمۃ اللہ علیہ  (م1344ھ) مولانااحمد اللہ رحمۃ اللہ علیہ  تاب گڑھی(م 1362ھ)مولانا ابو سعید شرف الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1381ھ) مولاناسید امیر حسین سہوانی رحمۃ اللہ علیہ (م1291ھ) مولاناسید امیر حسین سہوانی رحمۃ اللہ علیہ  (م1306ھ) مولاناسلامت اللہ جے راج پوری  رحمۃ اللہ علیہ (م1322ھ) مولاناعبد الرحمان مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  (م1352ھ) مولاناعبدالسلام مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  (م1342ھ)مولانا محمد ابراہیم آروی (م1320ھ) مولانا محمد سعید بنارسی (م1322ھ) مولاناسید غزنوی  رحمۃ اللہ علیہ  (م1298ھ) اور ان کے صاحبزادگان یعنی مولانا محمد بن عبد اللہ غزنوی (م1292ھ) مولانا الجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1331ھ) مولانا عبد الرحیم غزنوی  رحمۃ اللہ علیہ (م1342) اور مولانا محمد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  کے بیٹے یعنی مولانا عبد الاول غزنوی (م1313ھ) مولانا عبد الغفور غزنوی (م1353ھ) مولانا حافظ محمد لکھوی (م1311ھ) مولانا محمد حسین بٹالوی (م1338ھ)مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ  (م1334ھ)مولانا غلام حسن سیالکوٹی (م1331ھ) مولاناغلام نبی الربانی سوہدروی (م1348ھ) مولانا عبد الحمید سوہدروی  رحمۃ اللہ علیہ  ( م1330ھ) وغیرہم تھے۔جنہوں نے ساری زندگی حدیث پڑھنا اور پڑھانا مشغلہ رکھا ۔

دورثانی:۔

حضرت میاں صاحب مرحوم  رحمۃ اللہ علیہ  و مغفور کے ان تلا مذہ کے بعد جن علمائے اہلحدیث نے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ،ان میں مولانا عبد السلام بستوی (م1394ھ) مولانا عطاء اللہ لکھوی (م1390ھ) مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی (م1383ھ) مولانا محدم اسماعیل السلفی (م1387ھ) مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1305ھ)مولانا ابو البرکات احمد صاحب مدراس رحمۃ اللہ علیہ  (م1411ھ) مولانا محمد عطاء اللہ حنیف (م1408ھ) اور مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ  (م 1414ھ) وغیرہم تھے ۔ان حضرات کی بھی ساری زندگی حدیث کی درس وتدریس میں صرف ہوئی۔

تبلیغ کے ذریعہ :۔

علمائے اہلحدیث میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جس نے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ تحریک اصلاح و تجدید کی آبیاری کی اور پورے برصغیر کو اپنی تگ وتاز کامرکز بنا یا اور کتاب سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کا قلع قمع کرنے میں اپنی پوری کو شش صرف کر دی ان میں سر فہرست مولانا محمد ابراہیم آوری رحمۃ اللہ علیہ  (م1320ھ) مولانا عبد العزیز رحیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ  (م 1336ھ) مولانا سلام اللہ جے راج پوری رحمۃ اللہ علیہ ( م1322ھ) مولانا عبد الجبار مہدانوی(م 1315ھ) مولانا عبد الرحیم بنگالی  رحمۃ اللہ علیہ  (م 1380ھ) مولانا عین الحق پھلواری رحمۃ اللہ علیہ  (م1333ھ) مولانا غلام رسول قلعوی (م1291ھ) مولانا عبد الحمید خادم سوہدروی  رحمۃ اللہ علیہ (م1379ھ) مولانا نذر حسین گھر جاگھی (م1371ھ) مولانا میر محمد بھانبڑی (م1377ھ) مولانا حبیب الرحمان یزدانی رحمۃ اللہ علیہ  (م1408ھ) اور حافظ احسان الٰہی ظہیر (م1408ھ) شامل ہیں ۔

دور حاضر میں مولانا حافظ عبد القادر روپڑی رحمۃ اللہ علیہ  مولانا عبدالعلیم یزدانی رحمۃ اللہ علیہ  مولانا محمد حسین شیخوپوری  رحمۃ اللہ علیہ  مولانا عبدالرحمان عتیق وزیر آبادی  رحمۃ اللہ علیہ  مولانا خالد گھرجاگھی  رحمۃ اللہ علیہ  اور مولانا محمد مدنی (جہلم ) ہیں جن کا دن رات کا مشغلہ کتا ب و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید و استیصال ہے۔

چند مشہور دینی مدارس کا تعارف :۔  

علمائے اہلحدیث نے دینی تعلیم کے فروغ کے لیے دینی مدارس قائم کئے ،حضرت میاں صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کے تلا مذہ میں مو لا نا محمدلکھوی (م1312ھ) نے لکھنؤ کے ضلع فیروز پور میں مدرسہ محمد یہ قائم کیا، یہ مدرسہ پنجاب میں اولین ادراہ علم و عمل تھا اس خاندان کے تمام افراد ہر عہد میں آفتاب علم ومہ تاب عمل تھےمولانا سید عبد اللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  ( م1398ھ) نے امرتسر میں مدرسہ غزنویہ کی بنیاد رکھی۔اس مدرسہ سے اہل پنجاب کو بہت دینی فائدہ پہنچا ،ان کے عہد میں مشہور اور پہلا مدرسہ لکھنؤ کے ضلع فیروز پور میں تھا مگر مدرسہ غزنویہ امرتسر علمی و،روحانی دونوں برکتوں کا حامل تھا۔

مولانا عبد الجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  ( م1331ھ) نے مدرسہ غزنویہ کا نام "تقویۃ الاسلام "رکھا اس مدرسہ میں کو د مولانا عبد الجبار غزنوی  رحمۃ اللہ علیہ (1383ھ)وغیرہم نے تدریسی خدمت سر انجام دیں ۔

مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی (م1331ھ) نے وزیر آبادمیں "دارالحدیث " کے نام سے ایک دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی آپ نے اپنی زندگی میں 80مرتبہ ستہ کا درس دیا ،آپ کے شاگردوں کی تعدادبہت زیادہ ہے آپ کے مشہور تلا مذہ یہ ہیں ۔

مولانا ابوالو فاءثناء اللہ امرتسری صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  تفسیر القرآن بکلام الرحمان (م1368ھ) مولانا ابرا ہیم میر سیالکوٹی صاحب رحمۃ اللہ علیہ  تفسیر واضح البیان (م1375ھ) مولانا عبد الحمید سوہدروی  رحمۃ اللہ علیہ  (م1330ھ) مولانا عبد القادر لکھوی (م 1343ھ) مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (م 1405ھ) اور مولانا محمد اسماعیل سلفی (م1387ھ) مولانا غلام نبی الربانی سوہدروی  رحمۃ اللہ علیہ (م1348ھ)جبکہ مولانا عبد الحمید سوہدروی (1330ھ) نے سوہدرہ میں "مدرسہ حمیدیہ "کے نام سے ایک دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی ،اس دینی مدرسہ سے مولوی مراد علی کٹھوروی سوہدروی صاحب ارشاد السنتہ (م1388ھ) مولوی ہدایت اللہ سوہدروی مؤلف تاریخ  گکے زئی (م1387ھ)اور مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی مؤلف تراجم علمائے حدیث ہند (م1386ھ)فارغ التحصیل ہو ئے۔

دہلی میں مو لا نا محمد بشیر سہوانی (1326ھ) کے مشورہ سے ایک دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ،یہ مدرسہ"مدرسہ علی جان"کے نام سے مشہور ہوا۔حاجی عبد الغفار بن حاجی علی جان نے اس مدرسہ کی تاسیس اور ترقی میں بہت محنت کی۔

اس مدرسہ میں مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری (م1237ھ) مولانا بشیر سہوانی (1326ھ) مولانا احمد اللہ دہلوی (م1364ھ)مولانا عبد السلام بستوی(م 1394ھ) وغیرہم نے تدریسی خدمات سر انجا م دیں ۔

1329ھ میں حاجی عبد الرحمان و شیخ عطاء الرحمان (دونوں بھا ئیوں ) نے دہلی میں دارالحدیث رحمانیہ کی بنیاد رکھی، یہ مدرسہ اہلحدیث جماعت کا ایک بڑا مدرسہ تھا۔مولانا احمد اللہ دہلوی (م1364ھ) مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (1414ھ) مولانا نذیر احمد دہلوی (م 1385ھ) وغیرہم اسی دارالحدیث رحمانیہ کے فارغ التحصیل ہیں ۔

1297ھ میں مولانا محمد ابراہیم آروی(م1320ھ)نے آرہ صوبہ بہار میں مدرسہ احمد یہ کی بنیاد رکھی ، یہ مدرسہ اپنے عہد میں اہلحدیث بہار کی یونیورسٹی تھی جس میں تمام حصص ملک کے طلباء حاضر رہے، مولانا آروی نے اس مدرسہ میں قدیم و جدید دونوں حلقوں کے علماء اہل علم کو جمع کیا۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1373ھ) میں لکھتے ہیں کہ:

"مولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی کی درس گاہ سے مستفیض ہو نے والے ایک مولانا ابراہیم آروی تھے جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال قائم کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی ۔(تراجم علمائے حدیث ہند ج1 ص36)

اس مدرسہ میں وقتاً فوقتاً مولانا محمد ابرا ہیم آروی (م1320ھ) مولانا محمد سعید بنارسی (م1322ھ) مولانا عبد العزیز روانوی  رحمۃ اللہ علیہ  اعظم گڑھی (م1331ھ) مولانا عبد القادر مئوی (م 13131ھ) مولانا سید نذیر الدین احمد بنارسی (م1352ھ) اور مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری (م1337ھ) نے تدریسی خدمات سر انجام دیں اس مدرسہ سے بے شمار علمائے اہلحدیث نے تعلیم حاصل کی ۔مشہور علمائے کرام یہ ہیں ۔

مولانا شاہ عین الحق پھلواری (م 1333ھ) مولانا عبد السلام مبارکپوری صاحب سیرۃ البخاری (م 1342ھ) اور مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری صاحب تحفۃ الاحوذی فی شرح جامع الترمذی( م1352ھ)

عمر آباد مدارس میں حاجی محمد عمر (م1365ھ) نے جا معہ عربیہ دارالسلام کے نام سے ایک دینی کی بنیا د رکھی ۔یہ مدرسہ اہل حدیث مدارس کی یو نیورسٹی تھی مدت تعلیم 9سال تھی درس نظامی کے ساتھ میٹرک تک انگریزی تعلیم بھی دی جا تی تھی اس مدرسہ کے تمام مصارف حاجی محمد عمر (م1365ھ) کے صاحبزادہ حاجی کاکا محمد اسماعیل بن حاجی محمد عمر ادا کرتے تھے۔

مدارس میں دوسرا دینی مدرسہ "احیاءاسلام" کے نام سے مولانا فقیر اللہ مدارسی(م1342ھ) نے قائم کیا مولانا فقیر اللہ (م1341ھ) استاد پنجاب مولاناحافظ عبد المنان (م1334ھ) اور شیخ الکل مولانا محمد نذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) سے مستفیض تھے تبلیغ دین اسلام اور کتاب و سنت کی نشرو اشاعت کے لیے مدارس تشریف لے گئے اور اپنی ساری زندگی اسلام کی نشرو اشاعت میں کھپا دی ۔

تقسیم ملک کے بعد :۔

تقسیم ملک کے بعد اس وقت ہندوستان میں اہلحدیث کا سب سے بڑا دینی مدرسہ جامعہ سلفیہ بنا رس ہے یہ مدرسہ ہندوستان میں اسلام کی نشرو اشاعت  اور کتاب و سنت کی نصرت و حمایت اور شرک و بدعت کی تردید وتوبیخ میں مصروف عمل ہے اس مدرسہ نے خاص طور پر حدیث کی نشرو اشاعت کے لیے ایک شعبہ تصنیف و تالیف کا قائم کیا ہوا ہے جس نے آج تک تقریباً 15کے قریب دینی علمی و تحقیقی کتابیں شائع کی ہیں مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (1414ھ) کی شرح "مرعاۃالمفاتیج فی شرح المشکوۃ المصابیح "کی 9جلدیں شائع کی ہیں جامعہ سلفیہ بنارس ایک ماہوار سالہ "محدث " کے نام سے شائع کرتا ہے جس کا شمار بھارت کے چوٹی کے رسائل میں ہو تا ہے۔

پاکستان میں اس وقت اہل حدیث کے دینی مدارس کتاب وسنت کی نشرو اشاعت میں مصروف عمل ہیں ان میں زیادہ مشہور یہ ہیں تقویۃ الاسلام لاہور جامعہ محمد یۃ اوکاڑہ ،جامعہ ستاریۃ کراچی جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کا نجن جامعۃ محمدیہ گوجرانوالہ جامعۃ سلفیۃ فیصل آباد جامعۃ اہلحدیث چوک دالگراں لاہور ،جامعۃ اسلامیۃ گوجرانوالہ جامعۃ ابرا ہیمہ سیالکوٹ جامعۃ لاہور الاسلامیۃ لاہور از حافظ الرحمان مدنی لاہوراور الجامعۃ الاثریۃ جہلم خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

ان مدارس کے علاوہ سینکڑوں ایسے جامعات اور مدارس ہیں جہاں اعلیٰ دینی تعلیم کا انتظام ہے اور یہاں ان کی فہرست پیش کرنا طوالت کا موجب ہو گا ،تمام اہل حدیث مدارس کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہاں قرآن و حدیث کی تعلیم ہردرجہ اور جماعت کے لیے لا زمی ہے۔قرآن مجید ترجمہ و تفسیر ساتھ پڑھایا جاتا ہے جبکہ پورے صحاح ستہ کی تدریس لا زمی ہے نیز فقہ حدیث کے ساتھ  حنفی و مالکی اور تقابلی رقہ بھی پڑھائی جا تی ہے۔دیگر علوم جدیدہ وقدیمہ اور انگریزی اور قومی زبانوں پر بھی کما حقہ  توجہ دی جا تی ہے تاکہ طلباءفراغت کے بعد کتاب وسنت کی نشرو اشاعت  کا کا م پورے احساس ذمہ داری اور علمی لیاقت  کے ساتھ کریں ۔

علمی وتصنیفی خدمات :۔

علمائے اہلحدیث نے علمی وتصنیفی کام کے سلسلہ میں جو کار ہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں ۔وہ تاریخ اہلحدیث کا ایک زریں باب ہے، علمائے اہلحدیث نے علوم اسلامیہ کے ہر موضوع پر قلم اٹھا یا (اگر ہر موضوع کا جا ئزہ لیا جا ئے تو مقالہ طوالت کا موجب ہو گا ) مگر میں یہاں علم تفسیر حدیث و اصول حدیث کتب جدل و مناظرہ وکتب سیرو تاریخ کاتذکرہ کروں گا۔

شیخ الکل مولانا محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1320ھ)کے تلامذہ کی علمی خدمات کا جا ئزہ لینے سے پیشتر محی السنۃ سید نواب صدیق حسن خاں قنوجی رحمۃ اللہ علیہ  رئیس بھوپال (م1302ھ) کا جا ئزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ان ہر دوحضرات کا زمانہ ایک ہی ہے ،حضرت نواب صاحب مرحوم حضرت میاں صاحب سے 13سال قبل راہی ملک عدم ہو ئے۔

 مولا نا سید نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ  :۔

مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی (ش1246ھ) کے بعد محی السنۃ  سید نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ  (م1307ھ)نے برصغیر پاک و ہند میں دین اسلام کی نشرو اشاعت ،کتاب و سنت کی نصرت و حمایت اور شرک و بدعت کی تردید توبیخ میں جو کار ہائے نمایاں سر انجام دئیے وہ تاریخ اہلحدیث کا ایک درخشندہ باب ہے بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا ہے قنوج سحسوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم بھوپال میں مقیم تھے اور تصنیف و تالیف میں مشغول تھے۔علامہ حسین بن محسن الیمانی (م1327ھ) ان سب کے سرخیل تھے، حضرت سید نواب صدیق حسن خاں مرحوم و مغفورنے مختلف موضوعات پر عربی فارسی اور اردو میں 222کتابیں (بحوالہ تراجم علمائے حدیث ہند مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی رحمۃ اللہ علیہ  اور 395کتب (بحوالہ جماعت اہلحدیث کی تصنیفی خدمات مولوی محمد مستقیم سلفی ) لکھیں ۔

حضرت سید نواب صدیق حسن خاں  رحمۃ اللہ علیہ  نے تفسیرقرآن میں عربی میں "فتح البیان فی مقاصد القرآن "7جلدوں میں لکھی۔ اردو میں ایک تفسیر بنام" ترجمان القرآن" 16جلدوں میں مرتب کی، جس کو جدید اردو قالب میں ڈھال کر مجلہ "محدث " لاہورقسط وار شائع کر رہا ہے۔ اصول تفسیر میں الا کسیر فی اصول التفسیر (فارسی میں ) لکھی ،حدیث میں بلوغ المرام کی تین شرحیں الروض البہام وفتح العلوم عربی اور مسلک الختام فارسی میں لکھیں ،الجامع الصحیح للبخاری کی شرح بنام عون الباری اور صحیح مسلم کی شرح"السراج الوہاج "کے نام سے لکھیں عقائد میں حجج الکرامۃ فی آثار القیامۃ (فارسی)اور حصول المامول من علم الاصول (عربی) لکھیں ۔فقہ میں (ظفر الاضي بما يجب في القضاء علي القاضي) اور فارسی میں اور (بدروالاهلة من ربط المسائل بالادلة) لکھیں ،تقلید کی تردید میں عربی میں (الاقليد لادلة الاجتهاد والتقليد) اور فارسی میں (هداية السائل الي ادلة المسائل) لکھی اور اردو میں (دعوة  الداج الي ايثار الاتباع علي الابتداع) لکھی۔ سیاست کے موضوع پر بزبان عربی اكليل الكرامة في تسبيان مقاصد الامامة لکھی اسی طرح فارسی زبان میں رجال حدیث میں نہایت جامع کتاب (اتحاف النبلاء المتقين باحياء ماثرالفقهاء والمحدثين) مرتب فرما ئی تاریخ و سیر میں(تقارجيوالاحرار من تذكار جنود الابرار)(فارسی) (التاج ا لمكلل من جواهر ماثر طراز الاخرة والاول) (عربی) لکھی اور صحاح ستہ کے فوائد پر (الحطة في ذكر الصحاح  السنة) کتاب لکھی تصوف کے موضوع پر "ریاض المرتاض "و"عیاض العریاض "(فارسی ) لکھی،توحید کے موضوع پر" الدین الخالص "2جلدوں میں مرتب فر ما ئی حضرت سید نواب صدیق حسن خاں  رحمۃ اللہ علیہ  کی ایک ابجد العلوم(عربی) ہے یہ کتاب جملہ علوم اسلامیہ کا دائرہ المعارف ہے۔

تفاسیر قرآن مجید :۔مولانا محمد بن عبد اللہ غزنوی  رحمۃ اللہ علیہ  (م1293ھ) نے تفسیر جامع البیان عربی کا حاشیہ لکھا مولانا احمد حسن دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  (م1338ھ) قرآن مجید کا حاشیہ بنا م "احسن الفوائد " مرتب فرما یا ،اور اس کے ساتھ 7جلدوں میں تفسیر "احسن التفاسیر "بھی لکھی حاشیہ "احسن الفوئد  "حدیث و آثار سے مستفاد ہے ۔

مولانا محمد ابرا ہیم آروی (م1229ھ) نے "تفسیر خلیلی"کے نام سے تفسیر لکھنی شروع کی مگر 4جلدیں ہی لکھ سکے تھے کہ ان کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ یہ تفسیر سورۃ فاتحہ پارہ اول ،پارہ دوم اور پارہ 29۔23۔پر مشتمل ہے نیز تفسیر ابن کثیر کا بھی ترجمہ شروع کیا تھا مگر مکمل نہ کر سکے ،مولانا حافظ محمد لکھوی (م1312ھ) نے بزبان پنجابی "تفسیر محمد ی " لکھی اور یہ تفسیر 15جلدوں میں ہے۔

مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری (م1349ھ) نے "الجمال والکمال "تفسیر سورۃ یوسف مرتب فر ما ئی  ۔

مولانا محمد ابراہیم میمن جونا گڑھی (م1260ھ)نے بنام "تفسیر محمدی "ترجمہ تفسیر ابن کثیر اور "تفسیر سورۃ فاتحہ "لکھی ۔

مولانا وحید الزمان حیدر آبادی (م1338ھ) نے "تبویب القرآن ضبط مضامین الفرقان" کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ۔اس کتاب دوکالم ہیں ،ایک میں آیات دوسرے میں ان کا ترجمہ درج ہے اور نیچے حواشی درج ہیں ۔مولانا ابو الوفاءثناء اللہ امرتسری (م1367ھ) نے بزبان عربی "تفسیر القرآن بکلام الرحمان " بیان الفرقان علی علم البیان "(عربی) اور اردومیں "تفسیر ثنائی "8جلدوں میں لکھیں اور ان تفاسیر کا مقدمہ اردو میں بنام " مقدمہ تفسیر آیات متشابہات "لکھا ۔

مولانا محمد ابرا ہیم سیالکوٹی (م1375ھ) نے سورۃ فاتحہ کی الھدیٰ تفسیر بنام " واضح البیان "تفسیر سورۃ کہف "عرائس البیان تفسیر سورۃ الرحمان"،"نجم اللہ فی تفسیر سورۃ نجم" الانوار الساطعۃ فی تفسیر سورۃ الواقعہ "الدرالنطیم فی التفسیر فی تفسیر سورۃ القرآن العظیم "(اس میں 13سورتیں شامل ہیں ) اور تفسیر" تبصیر الرحمان پارہ اول ،دوم اور سوم "لکھی ۔

مولانا ابو الکلام آزاد (م1378ھ)"ترجمان القرآن" کے نام سے 2جلدوں میں تفسیرلکھی جو صرف "سورۃ المؤمنون " تک ہے اور سورۃ فاتحہ کی تفسیر کا نام "ام الکتاب "ہے "ام الکتاب میں مولانا آزاد نے ہر ہر لفظ کی لغوی تشریح کی ہے اور اس کے حقیقی مفہوم کو واضح کیا ہے۔

مولانا رحیم بخش دہلوی (م1314ھ) نے قرآن مجید میں تفسیر "اعظم التفاسیر " لکھی نیز اس کے حاشیہ پر علامہ فیضی رحمۃ اللہ علیہ  کی " سواطع الابہام بھی شائع  ہو ئی یہ تفسیر مختصر ہونے کے باوجود بڑی محققانہ ہے۔

مولانا خواجہ عبدالحئی فاروقی (م1380ھ) نے "الخلافۃالکبری تفسیر سورۃ البقرۃ "بیان کی تفسیر سورۃ آل عمران "صراط مستقیم تفسیر سورۃ انفال" ،"سبیل الرشاد تفسیر سورۃ حجرات "،عبرت تفسیر سورۃ یوسف" ،"برہان تفسیر سورۃ نور ،اورتفسیر "پارہ عم (30)"لکھیں ۔

مولانا محمد داؤد راغب رحمانی (م1397) نے "تفسیر ابن کثیر " کااردو میں ترجمہ کیا مگر یہ ترجمہ شائع نہیں ہو سکا ۔مولانا محمد حنیف ندوی(م1408ھ)نے" سراج البیان "کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر لکھی ،یہ تفسیر مختصر مگر جامع اور محققانہ ہے۔

مولانا حافظ عبد اللہ امرتسری روپڑی (م1384ھ) نے"روایت تفسیری" کے نام سے ایک کتاب لکھی جو اپنے موضوع کے اعتبار سے بڑی جامع اور محققانہ کتاب ہے۔

مولانا محمد علی قصوری ایم اے (م1375ھ) نے "قرآنی دعوت انقلاب"کے نام سےسورۃ العصر ،الحمزۃ  القریش ،الماعون اور الکوثر کی تفسیر لکھی۔

حدیث و متعلقات حدیث :۔

علمائے اہلحدیث نے حدیث اور متعلقات حدیث پر جو گراں قدر علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دی ہیں اس کا اعتراف عالم اسلام کے ممتاز علمائے کرام نے کیا ہے اور برصغیر کے ممتاز علمائے اہلحدیث کے علمی تبحر کا بھی اعتراف کیا ہے چنانچہ علامہ رشید رضا مصری (م1354ھ) لکھتے ہیں ۔

""لولا عناية إخواننا علماء الهند بعلوم الحديث في هذا العصر لقُضِيَ عليها بالزوال من أمصار الشرق؛ فقد ضعفت في مصر والشام والعراق والحجاز منذ القرن العاشر للهجرة حتى بلغت منتهى الضعف في أوائل هذا القرن الرابع عشر"".

(مقدمہ مفتاح کنوزالسنۃ )  

علمائے اہلحدیث نے حدیث و متعلقات حدیث پر عربی ،فارسی، اور اردو میں جو گراں قدر علمی و تحقیقی کتابیں لکھیں ان کی اہمیت آج بھی مسلم ہے ذیل میں چند مشہور اہلحدیث کے علمی کارناموں کی مختصر اًجھلک پیش کی جا تی ہے۔

۔۔۔مولانا سخاوت علی جون پوری 1274ھ صفحات میں "القویم فی احادیث النبی الکریم " (اردو) لکھی اس کتاب میں احادیث کا انتخاب "صحاح ستہ"سے کیا گیا ہے اور بین السطور ترجمہ بھی کیا گیا ہے اور حاشیہ پر مختصر فوائد ذکر کئے گئے ہیں ۔

۔۔۔مولانا احمد حسن عرشی (1277ھ) نے بلوغ المرام کی شرح (عربی) لکھی ۔۔۔مولانا عبدالتواب محدث ملتانی (م1366ھ) نے حدیث و متعلقات حدیث پر جو کتابیں مرتب کیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے۔

"ترجمہ صحیح بخاری اردو (8پارے ) ترجمہ و تشریح بلوغ المرام (اردو) تعلیق حاشیہ صحیح مسلم "ابو الحسن سندھی (عربی)"تحفۃ الودودحاشیہ سنن ابی داؤد "تعلیق مشکوۃ المصابیح "(عربی)تعلیق مصنف ابن ابی شیبہ "(عربی)تعلیق عون المعبود شرح ابی داؤد (عربی)

۔۔۔مولانا ابو سعید شرف الدین محدث دہلوی (م1381ھ) نے خدمت حدیث میں جو کتابیں لکھیں ان کی تفصیل یہ ہے ۔

"تخریج آیات الجامع الصحیح" للبخاری (عربی) "شرح سنن ابن ماجہ (عربی) "تکملۃ تنقیح الرواۃ فی تخریج احادیث المشکوۃ" (عربی)اور "نصب الرایۃ فی تخریج الہدایۃ (عربی)

مولانا رفیع الدین شکرانوی (1377ھ) نے سنن ابی داؤد کا حاشیہ عربی بنام "رحمت الودودعلی رجال سنن ابی داؤد "مرتب فرما یا ۔

۔۔۔مولانا سید احمد حسن دہلوی (م1338ھ) نے تنقیح الرواۃ فی تخریج احادیث المشکوۃ "(عربی) نصف اول کی شرح لکھی ۔نصف ثانی اپنی نگرانی میں مو لا نا ابو سعید شرف الدین محدث دہلوی (م1381ھ) سے مکمل کرائی ،اس کے علاوہ مولانا احمد حسن نے "بلوغ المرام " کاعربی میں حاشیہ بھی لکھا ۔

۔۔۔مولانا شمس الحق عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ  (1329ھ) نے اشاعت میں جو گراں قدر علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"غایۃ المقصود فی حل سنن ابی داؤد "(عربی) (22جلد) "سنن داؤد " کی شرح "عون المعبود علی سنن ابی داود "( عربی) (4جلد ) "غایۃ المقصود "کی تلخیص ،"التعلیق المغنی علی سنن الدارقطنی " (عربی) (2جلد ) "تعلیقات علی اسعاف المبطاء برجال المؤ طا " (عربی) "تعلیقات علی سنن نسائی "(عربی) ہدیۃ اللوزعی بنکات الترمذی (عربی) "فضل الباری شرح ثلاثیات البخاری "(عربی) "النجم الوہاج شرح مقدمۃ الصحیح مسلم بن الحجاج "(عربی)

۔۔۔مولانا خرم علی بلموری (م1250ھ) نے علامہ رضی الدین صغانی (م650ھ) کی "مشارق الانوار " کا اردو میں ترجمہ کیا۔۔۔مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری (م1352ھ) نے " جامع الترمذی " کی شرح عربی" تحفۃ الاحوذی فی شرح جامع ا لترمذی "لکھی اور اس کے ساتھ عربی زبان میں مقدمہ تحفۃا لاحوذی لکھا یہ مقدمہ دوباب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے پہلے باب میں 41فصلیں ہیں جن میں عام فنون حدیث اور آئمہ حدیث کے متعلق نہایت کار آمد فوائد جمع گئے ہیں "دوسرے باب میں 17فصلیں ہیں جن میں جامع ترمذی اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ  کے متعلق  مفید معلومات نقل کی گئی ہیں ۔

مولانا حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری (م1337ھ)نے صحیح مسلم " کا مقدمہ  بنا م " الجر المواج فی شرح مقدمۃ صحیح مسلم بن الحجاج"بزبان عربی مرتب فرما یا ،جس میں "صحیح مسلم"کے مشکل الفاظ کی تشریح و توضیح کی گئی ہے ۔اور امام مسلم کے حالات بھی لکھتے ہیں ۔

۔۔۔مولانا وحید الزمان حیدر آبادی (م1338ھ) نے حدیث کی خدمت میں جو کتابیں مرتب فرما ئیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"تیسیرالباری ترجمہ صحیح بخاری "(اردو ) مکمل "تسہیل القاری "ترجمہ اردو صحیح بخاری معہ شرحین "فتح الباری" و"ارشاد الباری "(قسطلانی ) مع "نیل الادطار شرح متقی الاخبار "(5جلد ) "المعلم" ترجمہ و تشریح صحیح مسلم (اردو ) "الحادی المحمود "ترجمہ سنن ابی داؤد (اردو ) "روض الربی من ترجمۃ المجتی اعنی سنن نسائی "(اردو ) کشف المؤطانی ترجمہ مؤطا مالک "(اردو )" رفع العماجہ شرح سنن ابن ماجہ "(اردو )

ان کے علاوہ مولانا وحید الزمان نے "اصلاح الھدایہ وتصحیح الروایۃ " (اردو ) 6جلدوں میں لکھی ۔اس میں "ہدایۃ " کی تمام حدیثوں کی تخریج کی ہے اور ان کی دوسری کتاب "اشتراق الابصارفی تخریج احیاءنور الانوار "ہےاس کتاب "نورالانوار "کی حدیثوں کی تخریج کی گئی ہے ۔

۔۔۔"جامع الترمذی" کا اردوترجمہ مو لا نا وحید الزمان کے بھا ئی مو لا نا بدیع الزمان (م1304ھ) نے بھی کیا اور خود مولانا وحید الزمان نے بھی "جائزۃ الشعوذی ترجمۃ جامع الترمذی " کے نام سے بھی کیا۔

۔۔۔مو لا نا عبد العزیز رحیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ  (1336ھ) نے"سواء الطریق " کے نام سے4جلدوں میں ایک کتاب لکھی ،اس کتاب میں "مشکوۃ المصابیح "سے بخاری و مسلم کی روایتوں کو الگ کر کے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے اور جس حدیث کی وضاحت ضروری سمجھی ہے حاشیہ میں اس کی تشریح کر دی گئی ہے۔

۔۔۔مولانامحمد ابراہیم آروی (1320)"طریق النجاۃ فی ترجمۃ الصحاح من المشکوۃ "(ردو) 4جلدوں میں لکھی اس کتاب میں ان حدیثوں کودرج کیا گیا ہے جسےبخاری و مسلم نے تخریج کیا ۔اس کے علاوہ مولانا آروی نے امام بخاری کی "الادب المفرد " کا بھی اردوترجمہ کیا ہے۔

مولانا حافظ عبد اللہ امرتسری روپڑی (م1384ھ) نے مشکوۃ المصابیح کا اردوترجمہ کیا جو طبع نہیں ہو سکا ،اب اس کا مسودہ مولانا حافظ عبد القادر روپڑی صاحب کے پاس محفوظ ہے۔

۔۔۔مولانا عبد السلام بستوی (م1394ھ) نے خدمت حدیث میں "صحیح مسلم " کے مقدمہ کا اردو میں ترجمہ کیا اس کے علاوہ "رفع الحاجۃ " کے نام سے سنن ابن ماجہ "کا بھی  ترجمہ کیا ۔اور " مشکوۃ المصابیح فی ترجمہ مشکوۃ المصابیح"کی شرح اردو میں (13جلدوں) "انوارالمصابیح"کے نام سے لکھی اسی شرح میں لغوی تشریح بھی کی گئی ہے اور آئمہ کرام کے اختلا ف کو بھی واضح کیا گیا ہے علاوہ ازیں اس شرح میں حدیث کا بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔مولانا محمد داؤد ازدہلوی (م1402ھ) نے صحیح البخاری اور صحیح مسلم کا اردو ترجمہ کیا۔

۔۔۔مولانا اسماعیل السلفی (م1387ھ) نے " مشکوۃ المصابیح"کا اردوترجمہ شروع کیا صرف ربع اول کا ترجمہ کر پا ئے کہ مولا نا سلفی انتقال کر گئے باقی 3جلدوں کا ترجمہ مولانا محمد سلیمان کیلا نی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کیا ہے۔

۔۔۔مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م1408)نے خدمت حدیث میں جو علمی وتحقیقی کار نامے سر انجا م دئیے ان کی تفصیل یوں ہے ۔

"التعلیقات السلفیہ "کے نام سے سنن نسائی کی شرح لکھی ہے اس شرح کی خوبی یہ ہے کہ اس میں مشکل الفاظ کی تشریح کی گئی ہے اور تعارض کی صورت میں تطبیق بھی دی گئی ہے ۔نیز اس کے مدلس یا ضعیف راوی کی نشاندی بھی کر دی گئی ہے۔یہ شرح عربی زبان میں ہے ۔

مولانا عطاء اللہ  رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابی داؤد " کا حاشیہ بھی لکھناشروع کیا تھا مگر مکمل نہ کر سکے اس کتاب کا نام "فیض الودود تطبیق سنن ابی داؤد "(عربی) ہے۔ مولانا عطاء اللہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا تیسرا بڑاعلمی کار نامہ ہے "تنقیح الرواۃ فی تخریج احادیث المشکوۃ "(عربی) تنقیح و تخریج و تعلیق ہے اس کتاب کی تفصیل یہ ہے کہ مولانا سید احمد حسن دہلوی مؤلف "تفسیر احسن التفاسیر " (اردو ) (م1328ھ)نے "مشکوۃ المصابیح "کی شرح بنا م " تنقیح لرواۃ فی تخریج احادیث المشکوۃ "لکھی شروع کی اور نصف ثانی تک خود لکھی جبکہ بقیہ نصف اپنی نگرانی میں مولانا ابو سعید شرالدین محدث دہلوی (م1381ھ) سے لکھوائی نصف اول دو جلدوں میں دہلی سے شائع ہوئی اور بقیہ نصف "مجتبائی پریس دہلی " میں طباعت کے لیے دیدیا گیا کہ پاکستان معرض وجود میں آگیا جس وجہ سے یہ کتاب شائع نہ ہو سکی ،اس کے بعد یہ مسودہ کسی طرح کراچی پہنچ گیا مولانا عطاء اللہ حنیف نے کسی طرح یہ مسودہ حاصل کر لیا مسودہ کرم خوردہ ہو چکا تھا آپ نے سالہا سال محنت کر کے اس کو دوبارہ ایڈٹ کیا اور اس کی تیسری جلد اپنے " مکتبہ دارالدعوۃ السلفیۃ "سے شائع کی، چوتھی جلد ایڈٹ کرنے سے پہلے مولانا نے  انتقال کیا اور اور یہ جلد آپ کے شاگردان مولانا صلاح الدین یوسف اور حافظ نعیم الحق نے ایڈٹ کر کے شائع کی ہے بلاشک مولانا عطاء اللہ حنیف کا یہ ایک بہت بڑا علمی و تحقیقی کار نامہ ہے۔

۔۔۔مولانا ابو الحسن محمد سیالکوٹی (م1325ھ) نے خدمت حدیث میں " فیض الباری" کے نام سے 30جلدوں میں اردو میں صحیح بخاری  کی شرح لکھی ،اس کے علاوہ "مشکوۃ المصابیح "کی شرح بھی اردو میں لکھی علاوہ ازیں "تلخیص الصحاح "کے نام سے حدیث کی مشہور کتاب "تیسرا الوصول "کی جلد پنجم و ششم کا اردو میں ترجمہ کیا ۔

۔۔۔مولانا عبد الاول غزنوی (م1313ھ) نے حدیث کی خدمت میں جو گراں قدر علمی خدمات انجام دیں اس کی تفصیل یہ ہے۔

"الجامع الصحیح للبخاری" کا اردومیں ترجمہ "نصرۃ الباری" کے نام سے کیا۔اور "صحیح  مسلم" کا ترجمہ اردو میں "انعام المنعم ترجمۃ الصحیح المسلم "کے نام سے کیا اور "مشکوۃ المصابیح "کا ترجمہ اردو میں 4جلدوں میں "بنام الرحمۃ المھداۃ الی بن یرید بترجمۃ المشکوۃ " کیا اس کتاب کی مترجم مرحوم نے مختصر شرح بھی کی ہے۔اس کے علاوہ مولانا عبدالاول غزنوی نے امام نووی  رحمۃ اللہ علیہ ( م676ھ) کی"ریاض الصالحین "کااردو میں ترجمہ و تشریح بھی کیا ہے ۔

۔۔۔مولانا فضل حق دلاوری(م1364ھ)نے "فضل الباری"شرح ترجمۃ صحیح البخاری"(اردو ) جامع الترمذی کا اردوترجمہ امام شوکانی (م1250ھ) کی کتاب "الاحادیث الموضوعۃ "کا اردوترجمہ اور ملا علی قاری ( م1014ھ) کی کتاب "الموضوعات"کا اردوترجمہ کیا۔

۔۔۔مو لا نا عبد الوہاب دہلوی (م1351ھ) نے "مشکوۃ المصابیح "کا عربی میں حاشیہ لکھا اور ان کے صاحبزادہ مولانا عبد الستار دہلوی (م1386ھ) نے بخاری کا ترجمہ و شرح اردو میں بنا م "نصرۃ البار ی "لکھی ۔

۔۔۔علامہ حسین بن محسن انصاری الیمانی (م1327ھ) نے "البیان المکمل فی تحقیق الشاذوالمعلل "(عربی )لکھی ،اس کتاب میں شاذاور معلل کی تعریف میں علمائے کرام کے مابین جو اختلا ف ہے اس کو نقل کر کے اس پر محاکمہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ علامہ حسین بن محسن نے "سنن ابی داؤد "اور "سنن نسائی " پر عربی میں تعلیقات لکھی ہیں علامہ حسین بن محسن کی ایک کتاب "التحفۃ المرضیۃ فی حل بعض المشکلات الحدیثۃ "(عربی) بھی ہے۔

۔۔۔مولانا عبد لغفور غزنوی (م1354ھ) نے حدمت حدیث میں "مشکوۃالانوار تسہیل مشارق الانوار " لکھی اس کتاب میں فقہی ترتیب سے احادیث کو مرتب کیا گیا ہے نیز امام نووی رحمۃ اللہ علیہ (م676ھ)کی ""ریاض الصالحین "کا ترجمہ بھی کیا اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  (م852ھ) کی "بلوغ المرام "کا بھی اردو میں ترجمہ وتشریح کی یہ کتاب عربی متن کے ساتھ شائع ہو ئی ۔

۔۔۔مولانا عبد الحمید سوہدروی (م1330ھ) نے خدمت حدیث میں "زہدۃ المرام شرح عمدۃ الاحکام "(اردو ) میں لکھی ۔

۔۔۔مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م1450ھ) نے "مشکوۃ المصابیح "کی شرح عربی زبان میں "کتاب العلم" تک لکھی اس کے علاوہ "امالی علی صحیح البخاری" کے نام سے صحیح بخاری پر آپ کی تقاریر کا مجموعہ بھی ہے جو آپ کے شاگرد رشید مولانا حافظ عبد المنان استاد حدیث جامعہ محمد یہ گوجرانوالہ نے مرتب کیا ہے ۔اس کتاب نے مولانا سید انور شاہ کشمیری (م1351ھ) کی "فیض الباری" شرح صحیح البخاری پر جرح تنقید کی ہے۔

۔۔۔مولانا محمد داؤد راغب رحمانی (م1397ھ) نے خدمت حدیث میں امام عبد السلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  (م652ھ) کی کتاب"منتقی الاخبار"کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف (م1408ھ) نے اپنے دارۃ"دارالدعوۃالسسلفیۃ "لاہور کے زیر اہتمام (1403ھ) میں 2جلدوں میں شائع کیا۔ اس کے علاوہ مولانا راغب مرحوم نے امام شوکانی  رحمۃ اللہ علیہ  (م1250ھ) کی "نیل الادطار" کا بھی اردو میں ترجمہ کیا ہے جو طبع نہیں ہو سکا۔

۔۔۔مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری (م1414ھ) نے "مشکوۃ المصابیح " کی شرح مرعاۃ المفاتیح شرح "مشکوۃ المصابیح " (عربی )10جلدوں میں لکھی ہے اور یہ شرح "مشکوۃ المصابیح " کی جلد اول کی شرح ہے9جلدیں جامعہ سلفیہ بنارس نے شائع کی ہیں اور دسویں جلد زیر طبع ہے 9جلدوں کی مجموعی صفحات کی تعداد 4878ہے اس شرح میں جن علمی امور پر بحث کی گئی ہے وہ یہ ہیں ۔1۔مشکوۃ کے ہر راوی کا ترجمہ (2)تمام احادیث کی تخریج (3)اسنادی و متنی اشکالات کا حل (4) احادیث کی توضیح (5)اختلا ف مذاہب اور ان کے دلائل پر راجح مسلک کی وضاحت ۔

۔۔۔دور حاضر کے مولانا صفی الرحمان مبارکپوری مؤلف"الرحیق المختوم "(عربی واردو )نے خدمت حدیث میں "بلوغ المرام مع تعلیقہ اتحاف الکرام" (عربی) 463صفحات میں لکھی ہے یہ حقیقت میں حافظ ابن حجر (م852ھ) کی "بلوغ المرام" کا علمی و تحقیقی حاشیہ ہے۔ اس کتاب میں کتاب کے راویوں کے حالات بھی درج کئے گئے ہیں تاریخی مقالات کی وضاحت بھی کی گئی ہے اور فقہی مسائل کی تشریح کرتے ہوئے راجح مسلک کو بد لائل ثابت کیا گیا ہے ۔یہ کتاب جامعہ سلفیہ بنارس نے 1374ھ) میں شائع کی۔

۔۔۔مولانا عزیز زبیدی صاحب نے" جامع صحیح البخاری" کا عربی میں حاشیہ لکھا ہے اور یہ حاشیہ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م1408ھ) کے زیر نگرانی لکھا گیا ،مولانا عزیز زبیدی "جامع الترمذی" کا بھی عربی میں حاشیہ لکھ رہے ہیں ۔

۔۔۔مولانا جانباز شیخ الحدیث جامعہ ابرا ہیمہ سیالکوٹ "سنن ابی ماجہ " کی عربی میں شرح لکھ رہے ہیں ۔یہ شرح نصف سے زیادہ لکھی جاچکی ہے۔

۔۔۔مولا نا ارشاد الحق اثری استاد حدیث جامعہ اثریہ فیصل آباد نے مسند ابی یعلیٰ کی تخریج و تنقیح اور تعلیق کی ہے یہ تعلیق 6جلدوں میں جدہ (سعودی عرب ) سے شائع ہو چکی ہے۔

۔۔۔مولانا محمد عزیز شمس الحق جن کا تعلق عظیم آبادپٹنہ بہار سے ہے اور مکہ مکرمہ میں علمی و تحقیقی کاموں میں مصروف ہیں خدمت حدیث میں ان کی علمی و تحقیقی کتابیں جماعت اہلحدیث کے لیے سر ما یہ افتخارہیں ان کتابوں کی تفصیل یہ ہے ۔

1۔رفع الالتباس عن بعض الناس للشیخ شمس الحق العظیم آبادی (عربی)

2۔غنیۃ المعی للشیخ شمس الحق العظیم آبادی (عربی)

3۔غایۃ المقصود شرح سنن ابی داؤد جلد اول للشیخ شمس الحق العظیم آبادی (عربی)

4۔الغوامص والمبھمات لعبد الغنی الاذوی(م409ھ) (عربی)

5۔الاوائل لا بن ابی عاصم (م287ھ) (عربی)

6۔"اللالی المشورۃ فی الاحادیث المشہورۃ "للزرکشی (م794ھ) (عربی)

7۔الرباعی فی الحدیث لعبد الغنی الازوی (م409ھ) (عربی)

8۔کتاب حدیث قیس بن ساعد ۃ الایادی لا بن درستوریہ (م347ھ) (عربی)

9۔التذکرۃ فی علوم الحدیث لا بن المقن (م806) (عربی)

مولانا محمد عزیز شمس الحق نے ان تمام کتابوں کی تخریج ،تنقیح ،تحقیق اور تعلیق  کی ہے ۔

۔۔۔مولانا صادق خلیل فیصل آبادی نے امام نووی  رحمۃ اللہ علیہ  ( م676ھ) کی"ریاض الصالحین "کا ترجمہ کیا ہے جو عربی متن کے ساتھ نعمانی کتب خانہ لا ہو ر نے شائع کیا ہے۔

۔۔۔مولانا عبد الحمید اثاری مقیم حیدر آباد دکن نے منتقی الاخبار ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  (م652ھ) کا ترجمہ اردو میں بنام "امصطفیٰ "کیا ہے۔

فقہ :۔

فقہ کے تحت مسائل جمعہ 8رکعت نماز تراویح فاتحہ خلف الامام اور رفع الیدین پر علمائے اہلحدیث نے جو گرانقدر علمی کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی مختصراً تفصیل درج ذیل ہے۔

مسائل جمعہ :۔

علمائے تقلید کے نزدیک دیہات میں جمعہ جائز نہیں ،اس مسئلہ پر انھوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں مگر اس پر عمل نہیں ہے( کیونکہ اکثر دیہات میں علمائے تقلید جمعہ پڑھتے ہیں) علمائے اہلحدیث نے ان کی کتابوں  کے رد عمل میں بے شمار کتابیں لکھی ہیں اور ان کے دلا ئل کا رد کیا ہے اور سنت سے ثابت کیا ہے کہ دیہات میں جمعہ پرھنا جا ئز ہے علمائے اہل حدیث نے اس سلسلہ میں جو کتابیں تصنیف کی ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

مولانا شمس الحق عظیم آبادی (م1329ھ)

1۔التحقیقات العلی باثبات فرضیۃ الجمعۃ فی القریٰ س(اردو )

2۔القدراللا مع اخبار صلوۃ الجمعۃ عن النبی الشافع (اردو )

مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری (م1353ھ)

1۔نورالابصار (اردو ) (2)تنویر الابصار (اردو)

مولانا عبد الجبار عمر پو ری( م1334ھ)

ارشاد الانام لفريضة الجمعة في كل مقام مشتملا علي ردما في تنبيه الانام

یہ کتاب اردو میں ہے۔

مولانا عبد الرحمان بقا غازی پوری (م1337ھ)

سرمن يري في بحث الجمعة  في القري

(اردو 2جلد جو مولانا محمد حسن اسیر مالٹا (م1339ھ) کی کتاب "احسن القری فی توضیح اوثق العری " کے جواب میں ہے۔

مولانا ابو المکارم محمد علی مئوی (م1352ھ)

1۔المذهب المختار في الرد علي جامع الأثار

(مولوی ظہیر احسن شوق نیموی (حنفی) کی کتاب جامع الاثار فی اختصاص الجمعۃ فی الامصار " کے جواب میں ہے جس میں انھوں نے دیہات میں جمعہ قائم کرنے کو ناجائز کہا ہے مولانا مئوی کا دوسرا رسالہ" ہدایۃ الوری الی اقامۃ الجمعۃ فی القریٰ (اردو ) ہے یہ مولانا رشید احمد گنگوہی (حنفی) کے رسالہ "اوثق العری فی تحقیق الجمعۃ فی القریٰ " کے جواب میں ہے۔

مولانا محمد سعید محدث بنارسی (م1322ھ) نے بھی مولانا گنگوہی مرحوم کے رسالہ "اوثق العریٰ "کا جواب "کسر العریٰ باقا مۃ الجمعۃ فی القریٰ "کے نام سے لکھا۔

مولانا حافظ عبد اللہ امرتسری روپڑی (م1384ھ)

اطفاء الشمعة في ظهير الجمعة بحواب نور الشمعة في ظهير الجمعة

2جلدیں اردو میں جو مولوی احمد علی بٹالوی پروفیسر عربی کالج لا ہو ر کی کتاب نور الشمعة في ظهير الجمعة "کے جواب میں ہے مولانا روپڑی کا دوسرا "ارشاد الوری فی جمعۃ القریٰ "ہے

مولانا مولابخش پڑاکری (م1344ھ) نے اردو میں 2کتابیں لکھیں ان میں پہلی کتاب "(عربی)"مولانا رشید احمد گنگوہی کے رسالہ "اوثق القری " کے جواب میں ہے اور ان کی دوسری کتاب "الاجوبۃ المبعہ فی تحقیق تفریق الجمعۃ فی المحاکمۃ (اردو ) ہے مولانا محمد ابو بکر شیث جون پوری (م1359ھ) نے بھی "دیہات میں جمعہ کا جواز "کتاب لکھی اس کتاب میں احادیث نبویہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی روشنی میں دیہات میں نماز جمعہ قائم کرنے کا ثبوت دیا گیا ہے۔

نماز تراویح :۔

علمائے اہل حدیث کا موقف یہ ہے کہ 8رکعت نماز تراویح پڑھنا سنت ہے۔اور احادیث صحیحہ مرفوعہ سے یہی ثابت ہے جبکہ علمائے احناف 20رکعت تراویح  پڑھنے پر زور دیتے ہیں علمائے اہلحدیث کا موقف یہ ہے کہ 20رکعت تراویح والی حدیث ضعیف ہے اس لیے صحیح حدیث کے مقابلہ میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا"چہ معنی دارد؟"

علمائے اہلحدیث نے 8رکعت  تراویح پر کتابیں لکھی ہیں ان میں چند مشہور کتابوں کا تذکرہ ذیل میں کیا جا تا ہے۔

مولانا عبد الغفور دانا پوری(م1300ھ) "تنویر المصابیح اثبات رکعات التراویح "لکھی مولانا ابو المطی علی مئوی (م1353ھ) نے مو لا نا محمد یحییٰ عظیم آبادی کے فارسی رسالہ کا ترجمہ "مصابیح ترجمہ رسالۃ  التراویح "کے نام سے کیا ۔اس رسالہ میں 8رکعت تراویح کو ہی سنت ثابت کیا گیا ہے ۔

مولانا حافظ عبداللہ غازی پوری(م1337ھ) نے ایک سوال کے جواب میں کیا تراویح 8رکعت پڑھنی چا ہیے؟۔۔۔"رکعات التراویح "کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں آپ نے احادیث صحیحہ سے ثابت کیا ہے کہ 8رکعات تراویح پڑھنا ہی سنت ہے۔

مولانا عبد الرحیم رحیم بخش (م1314ھ) نے"التوضح التلویح فی ثبوت وارکعۃ عشر بن التراویح "البدعیۃ " (اردو) میں لکھی ،جس میں مصنف مرحوم نے دلائل سے ثابت کیا کہ 20رکعت تراویح پڑھنا بدعت ہے۔

مولانا حافظ عبد اللہ امرتسری روپڑی (م1384ھ) نے "تحقیق التراویح فی جواب تنویر المصابیح "(اردو) مرتب فرما ئی یہ کتاب مولوی ابو الناصرعبیدی کی کتاب " تنویر المصابیح فی تحقیق التراویح "کے جواب میں ہے جس میں انھوں نے 20رکعت تراویح پڑھنا ثابت کیا تھا مولانا روپڑی نے عبیدی صاحب کے تمام دلائل کی تردید کی اور 8رکعت تراویح پڑھنا سنت سے ثابت کیا ۔

مولانا محمد ابرا ہیم میر سیالکوٹی (م1375ھ) نے "انارۃ المصابیح لاداء صلوۃ التراویح "کے نام سے کتاب لکھی ،اس کتاب میں خطبہ رمضان 8رکعت تراویح کا پڑھنا سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  اقوال آئمہ کرام اور علمائے احناف سے ثابت کیا گیا ہے۔

مولانا نزیر احمد دہلوی (م1385ھ) نے انوارالمصابیح  بجواب رکعات التراویح "کتاب لکھی ،یہ کتاب مولوی حبیب الرحمان اعظمی کے رسالہ "رکعات التراویح "کے جواب میں ہے اس میں دلائل سے 8رکعات تراویح کا پڑھنا ثابت کیا گیا ہے اور مولوی حبیب الرحمان اعظمی کے تمام اعتراضات کا شافی جواب دیا گیا ہے ۔یہ کتاب 1387ھ میں 328صفحات پر مشتمل حمید یہ پریس دربھنگہ میں طبع ہو ئی اور انجمن اہلحدیث لہریا سرائے دربھنگہ نے اسے شائع کیا۔

مولانا سید محمد داؤد غزنوی (م1383ھ)نے ایک رسالہ" کیا 8رکعت تراویح پڑھنا بدعت ہے؟"مرتب فرما یا ۔اس میں آپ نے احادیث صحیحہ سے 8رکعت تراویح پڑھنا سنت ثابت کیا ہے اور مخالفین کے تمام دلائل کی تردیدکی ہے۔

مولانا محمد سلیمان مئوی (م1398ھ) نے بھی مولوی حبیب الرحمان اعظمی کے رسالہ "رکعات التراویح"کا جواب صلوۃ التراویح بجواب رکعات التراویح لکھا ۔یہ رسالہ 104صفحات میں" سرفراز قومی پریس لکھنؤ"میں چھپا ۔

مولانا محمد حسین بٹالوی (م1338ھ)نے المفاتیح فی بحث التراویح "کے نام سے ایک کتاب لکھی۔

مولانا کرم الدین سلفی( کراچی) نے"رکعات تراویح کی صحیح تعداد اور علمائے احناف "کے نام سے ایک کتاب لکھی ،اس میں پہلے 8رکعت تراویح کا پڑھنا احادیث صحیحہ سے ثابت کیا گیا ہے،اور علمائے احناف کے اقوال سے بھی اس کی تائید کی ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا سنت ہے، اس کے بعد 20رکعت تراویح کے متعلق جو حدیث ہے اس پر علمی بحث بھی کی گئی ہے اور اس حدیث کی حقیقت دلائل سے واضح کی گئی ہے ۔یہ کتاب جامعہ سلفیہ بنارس نے شائع کی ہے۔

مولانا صفی الرحمان مبارکپوری نے بھی " المصابیح فی مسئلہ التراویح " کے نام سے ایک رسالہ لکھا یہ کتاب علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (م911ھ) کے رسالہ کا ترجمہ ہے اس کتاب میں 20رکعت تراویح کو بدعت قرار دیا گیا ہے اور 8رکعت تر اویح کو سنت ثابت کیا گیا ہے۔

فاتحہ خلف الامام :۔

علمائے اہلحدیث کا موقف یہ ہے کہ فاتحہ خلف الامام کے بغیر کو ئی نماز بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ جوشخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہو تی علماء احناف اس کے قائل نہیں ہیں وہ کسی نماز میں بھی جماعت میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتے علمائے اہل حدیث نے اس سلسلہ میں جو علمی کتابیں مرتب فرما ئیں ۔یہاں ان کا مختصراً ذکر کیا جا تا ہے۔

فاتحہ خلف الامام میں مولانا محمد بشیر سہوانی (م1326ھ) نے "البرہان العجاب فی فرضیہ ام الکتاب لکھی ،اس کتاب میں دومسئلوں کو بیان کیا گیا ہے۔

1۔جیسے امام ومتفرد پر قراء ۃ فرض ہے ویسے ہی مقتدی پر فرض ہے۔

2۔امام متفرد اور مقتدی سب پر سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہے ۔

مولا نا سعید شرف الدین محدث دہلوی (م1381ھ)نے"کشف العجاب عمانی البرہان العجاب "کے نام سے مولانا سہوانی کی کتاب پر تطیق لکھی ہے۔

مولانا خرم علی باہوری (م1260ء) نے رسالہ "قراءۃ خلف الامام"مرتب فرمایا ۔

مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری (م1353ء)نے"تحقیق الکلام فی وجوبالقراء  خلف الامام "(2جلد) اردو میں لکھی اس کتاب میں مو لا نا مبارکپوری نے دلائل سے وجوب قراء ۃ خلف الامام کو ثابت کیا ہے اور علمائے احناف کے دلائل عدم وجوب قراءۃ کا ردکیا ہے ،اس کی پہلی جلد 1320ھ میں اور دوسری جلد 1324ھ میں " محبوب المطالع دہلی " میں طبع ہو ئی،اور مبارکپورسے شائع ہوئی ۔

مولانا عبد العزیز رحیم آبادی(م1336ھ) نے "ہدایۃ المعتدی فی قراء ۃ المقتدی "لکھی اس کتاب کی تالیف کا پس منظر یہ ہے کہ حنفیوں کی جانب سے ایک رسالہ" تحقیق قراءۃ المقتدی "شائع ہوا جس میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (م256ھ) اور علمائے اہلحدیث کے خلا ف توہین آمیز کلمات استعمال کئے گئے اور آخر میں قراءۃ خلف الامام کی نفی میں پو را زور صرف کیا گیا تھا ۔یہ کتاب اس کے جواب میں ہے ۔

مولانا محمد سعید محدث بنارسی (م1322ھ)نے قراءۃ خلف الامام کے بارے میں دوکتابیں مرتب فرما ئیں اس میں پہلی کتاب "البرہان الحلی فی ردالدلیل القوی" ہے اور یہ کتاب مولانا احمد علی سہارن پوری (م1297ھ) کے رسالہ" الدلیل القوی علی ترک قراءۃ المقتدی " کے جواب میں ہےمولانا بنارسی کی دوسری کتاب تعلیم المبتدی فی تحقیق القراءۃ للمقتدی (2جلد)اردو میں ہے یہ کتاب دراصل ایک اشتہار کے جواب میں ہے ۔جو علمائے احناف کی طرف سے تحقیق قراءۃ المقتدی کے نام سے شائع ہوا۔

مولانا حافظ عبد اللہ امرتسری روپڑی (م1384ء) نے فاتحہ خلف الامام کے سلسلہ میں مو لا نا سید انور شاہ کشمیری (م1353ھ) کی عربی کتاب "فصل الخطاب " کا جواب"الکتاب المستطاب فی وجوب فصل الخطاب "(عربی) لکھی مولانا انور شاہ صاحب نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کو شش کی ہے کہ فاتحہ خلف الامام واجب نہیں ہے اور حدیث "لا صلوۃ لمن لم قراءۃ بفاتحہ الکتاب "کی تاویل کی ہے اور اس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو غیر فقیہ ثابت کیا ہے مولانا روپڑی نے مولانا انور شاہ کے تمام دلائل کا جواب دیا ہے ۔اور اس کے علاوہ آخر میں مو لانا روپڑی نے مو لانا انور شاہ کی عربی دانی پر بھی تنقید کی ہے اور دلائل سے بتا یا ہے کہ ان کی عربی تحریر میں غلطیاں ہیں ۔اور ساتھ ہی ان غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے یہ کتاب 1348ھ میں آفتاب پریس امرتسر میں طبع ہو ئی اور تنظیم اہلحدیث روپڑ نے شائع ،مولانا روپڑی کی دوسری کتاب "احسن الکلام "(اردو) ہے یہ کتاب مولوی سرفراز حنفی دیوبندی کی کتاب "سورۃ فاتحہ خلف الامام"کے جواب میں ہے۔

مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری (م1367ء)نے "فاتحہ خلف الامام" کے نام سے ایک رسالہ لکھا، جس میں بدلائلثابت کیا ہے کہ نماز سری ہویا جہری دونوں میں خلف الام امسورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔

مولانا محمد ابرا ہیم میر سیالکوٹی (م1375ء) نے  "فاتحہ خلف الامام" کے سلسلہ میں "گلدستہ سنت" کے نام سے رسالہ مرتب فرمایا۔

مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (1405ء) نے "خیر الکلام فی وجوب الفاتحہ خلف الامام"کے نام سے اردو میں ایک کتاب لکھی ،یہ کتاب ایک حنفی عالم مولوی سرفراز کی"احسن الکلام " کے جواب میں ہے،اس کتاب میں بدلائل ثابت کیا گیا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ۔ہوسکتی ،یہ کتاب 1375صفحات پر مشتمل سکول بک ڈپو گوجرانوالہ نے شائع کی تھی اور اشرف پریس لا ہور میں طبع ہو ئی تھی۔

"فاتحہ خلف الامام"کے متعلق علمائے اہل حدیث نے بڑی محنت اور تحقیق سے کتابیں لکھی ہیں مثلاً۔۔۔جواز قراءۃ خلف الامام(فارسی) مولانا حسین احمد ملیح آبادی(1275ھ)

۔۔۔خلاصۃ المرام فی تحقیق الفاتحہ خلف الامام(اردو ) مولانا اشرف الحق ڈیانوی ۔

"القول الصحيح في وجوب الفاتحة علي الماموم في ا لمذهب الصحيح"

(اردو از مولانا غلام حسن سیالکوٹی (م1331ء)

۔۔۔فاتحۃ الصواب فی قراءۃ  فاتحہ خلف الامام(فارسی) مولانا جلال الدین احمد بنارسی (م1279ھ) یہ کتاب آپ نے محرم 1256ھ) میں تصنیف کی، پھر اس کا خلا صہ اردو میں بنام "زبدۃ الالباب "لکھا جو مطبع سعید المطالع بنارس میں طبع ہو کر شائع ہوا۔

۔۔۔"تکمیل البرہان فی قراءۃ ام القرآن "(اردو) مولانا عبد الستار دہلوی (م1386ھ) مولانا ارشاد الحق اثری استاد حدیث جامعۃ اثر یہ فیصل آباد نے "توضیح الکلام فی وجوب القراءۃ خلف الامام"(اردو 2جلدوں میں) لکھی ہے۔اس کتاب کی تالیف کا پس منظر یہ ہے کہ مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م1405ھ)نے "خیر الکلام" کے نام سے مولوی سرفراز صاحب کی کتاب "احسن الکلام "کا جواب لکھا ،اور 1375ھ/1956ءمیں سکول بک ڈپو گوجرانوالہ نے شائع کی 1385ھ/1965ءمیں مولوی سرفراز صاحب نے دوبارہ"احسن الکلام "شائع کی، تو اس میں مولوی سرفراز صاحب نے"خیر الکلام "پر نامناسب انداز میں اعتراضات کئے مولانا ارشاد الحق اثری نے یہ کتاب "احسن الکلام " مطبوعہ 1385ءکے جواب میں لکھی ہے اور مصنف "احسن الکلام " کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ہے۔

"توضیح الکلام " جلد اول صفحات 562جلد دوم صفحات780(مجموعی صفحات 1342)1407ھ/1908ءمیں طفیل آرٹ پریس لاہور میں طبع ہوئی اور ادارہ "علوم اثر یہ فیصل آباد " نے شائع کی۔

مولانا داکٹر وصی اللہ محمد عباس نے مولا نا اعبد الرحمان محدث مبارکپوری (م1353ھ)کی کتاب "تحقیق الکلام" کا عربی میں ترجمہ بنام "ترجمہ"تحقیق الکلام" فی وجوب القراءۃ خلف الامام" کیا ہے جو جامعہ سلفیہ بنارس نے شائع کیا ہے۔

مولانا محمد بن ابرا ہیم میمن جونا گڑھی (م1362ھ)نے "دلائل محمدی"(2جلد ) فاتحہ خلف الامام کے بارے میں کتاب لکھی یہ کتاب ایک حنفی عالم کی کتاب "الصراط المستقیم "کا جواب ہے۔

رفع الیدین :۔

نماز دیگر ارکان اور سنن کی طرح نماز کو شروع کرتے وقت رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت تیسری رکعت کے تشہد سے اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھ مونڈہوں تک اٹھانا ایک عبادت ہے،آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  آخری وقت تک اس کو بجا لاتے رہے پھر کو ئی وجہ نہیں کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  جس چیز کا (لائن کٹی ہو ئی ہے )تمام صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ساری عمر اسی پر عامل رہے اور محدثین کرام  رحمۃ اللہ علیہ  بھی ساری عمر اس سنت پر عمل پیرا رہے ۔

مگر ایک گروہ (احناف ) ایسا ہے جو اس سنت کا قائل نہیں ۔اس کے نزدیک صرف نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کرنا ضروری ہے وہ کہتے ہیں یہ سنت متروک ہو گئی ہے اول اسلام میں تھی بعد میں منسوخ ہوگئی،اور اب تک اسی طرح منسوخ ہے۔حالانکہ یہ ان کا خیال باطل ہے۔

علما ئے اہلحدیث  نے اس سنت متواتر ہ کے احیاء کی طرف توجہ کی اور رفع الیدین پر مستقل کتابیں لکھیں اور ساتھ ہی ان کے اس دعویٰ باطل کہ رفع الیدین منسوخ ہو چکی ہے ،کی دلائل و براہین سے تردید علما ئے اہلحدیث نے رفع الیدین کے موضوع پر جوکتابیں لکھیں ان میں سے چند ایک کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔

مولانا شاہ اسمٰعیل شہید دہلوی (سن1446ھ) "تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین "(عربی) تصنیف فر ما ئی اس کتاب میں ان اتمام احادیث کو جمع کر دیا گیا ہے جو اثبات رفع الیدین میں وارد ہیں ۔

مولانا محمد علی مئوی (م1352ھ) نے مولوی ظہیر احسن شوق نیموی کی کتاب "جلاءالعینین فی رفع الیدین "کے جواب میں "القول الحلی بکل زین فی تائید مسالۃ رفع الیدین "(اردو ) لکھی ۔

جب یہ کتاب شائع ہو ئی شوق صاحب نے اس کا جواب کتاب "المجلی"کے نام سے دیا تو مولانا محمد علی مئوی نے اس کا جواب "مطلع القمرین فی تائید مسالۃ رفع الیدین "کے نام سے دیا مولانا محمد سعید محدث بنارسی(م1322ھ)نے دوکتابیں اثبات رفع الیدین میں لکھیں ۔

ان کے نام یہ ہیں "ازالۃ الشین عن جلاء العین " ،"ردالتردید الی اہل تقلید مع قرۃ العین برد مادہ قع فی ضیاء العین " 

مولوی ظہیر احسن شوق نیموی کی کتاب "جلاءالعین"کی تردید میں ہے اور "روالتردید الی اہل تقلید " شوق صاحب کے رسالۃ تردید السیف الی راس الحیف وضیاء الدین فی رد ازالۃ الشین" کی تر دید میں ہے۔

مولانا بن ابرا ہیم میمن جو نا گڑھی (م1362ھ) نے تین رسائل اثبات رفع الیدین میں مرتب فرما ئے"رکوع محمدی "۔"غنیہ "اور " رفع الیدین اور آمین باجہر"

مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م1408ھ) نے رفع الیدین کے موضوع پر "احادیث رفع الیدین کا کو ئی ناسخ نہیں ہے "نامی کتاب لکھی ۔

مولانا محی الدین لاہور ی (1312ھ) نے نور العین فی اثبات رفع الیدین مولانا نور حسین گھرجاگھی (م1371ھ) نے "اثبات رفع الیدین"مولانا شاہ اسحاق بھیروی (م1334ھ) نے "نور العین فی اثبات رفع الیدین "اور مولانا ابو اسحاق لہراوی (م1324ء) نے رسالۃ "مسئلہ رفع الیدین "(عربی) مرتب فر ما ئے۔مولانا قاضی محمد مچھلی شہری (م1320ھ) نے بزہبان اردو "التحقیق الراسخ ان احادیث رفع الیدین لیس لھا ناسخ " لکھی یہ کتاب رسالۃ "نورالعین فی حکم رفع الیدین ے جواب میں ہے۔

مولانا الحمید اٹاروی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بنام "قرۃ العین فی اثبات رفع الیدین"لکھی ۔

مسئلہ اثبات رفع الیدین پر ایک بے مثل اور محققانہ کتاب مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م1405ھ) نے "التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لھا ناسخ "لکھی یہ کتاب مولوی اشفاق الرحمان دہلوی کے رسالہ نور العین کا جواب ہے اس کتاب میں مو لانا حافظ صاحب مرحوم نے مؤلف "نورالعین" کے جملہ شبہات واشکالات کا نہایت اچھے طریقہ سے حل فرمادیا ہے ۔

یہ کتاب 200صفحات پر مشتمل1349ھ) انجمن "ندوۃ الطلباء" نے گوندلانوالہ ضلع گوجرانوالہ سے شائع کی، جبکہ دوسری باریہ کتاب (1406ھ) میں دارالدعوۃ السلفیہ شیش محل روڈ لا ہو ر نے پہلے ایڈیشن کا فوٹو اسٹیٹ شائع کیا۔

مولوی عبد اللہ ٹینوی نے عربی زبان میں ایک رسالہ لکھا جس میں انھوں نے رفع الیدین اور آمین بالجہر کو واجب قرار دیا تھا۔

مولانا علی مئوی (م1352ھ) نے بزبان عربی "الروالمحر علی المولوی عبد البر"اس رسالہ کا جواب دیا۔ اور دلائل سے ثابت کیا کہ رفع الیدین اور آمین بالجہرکہنا سنت ہے۔

جدل و مناظر ہ:۔

تقسیم ملک سے پہلے برصغیر میں عیسائی قادیانی منکرین حدیث شیعہ ،حنفی ،دیوبندی اور بریلوی"دین اسلام"اور مسلک حق کے خلاف لٹریچر شائع کرنے میں مصروف عمل تھے ،عیسائی دین اسلام کی کھلم کھلا مخالفت کرتے تھے اور ان کے پادری اور مبلغ یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور ساتھ ہی اسلام کے خلاف زہر اگلتے تھے قادیانی گروپ کا سر برا مرزہ غلام احمد قادیانی تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور اسلام کو زبردست نقصان پہنچا یا ۔منکرین حدیث نے یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ ہمیں قرآن کا فی ہے۔ حدیث کی ہمیں ضرورت نہیں ۔شیعہ حضرات نے بھی ایسا ہی پروپیگنڈا شروع کیا اور اسلام کو سخت نقصان پہنچایا مزید آں مقلدین احناف نے بھی مسلک حق کو ناقابل تلا فی نقصان پہنچایا ۔ علمائے اہلحدیث نے ان سب کے خلا ف سینہ سپرہو کر ان کا مقابلہ کیا،ان کے خلا ف تقریر یں کیں ،ان کی کتابوں کے جوابات لکھے اور ان سے مناظرے بھی کئے علمائے اہلحدیث کی ان خدمات کا ذیل میں مختصر تعارف پیش کیا جا تا ہے۔

قرآن مجید :۔

قرآن مجید پر جو اعتراضات کئے گئے اور اس سلسلہ میں مخالفین کی طرف سے جو کتابیں لکھی گئیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے۔

شیخ الاسلام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری (م1367ھ) نے "تفسیر بالرائے "لکھی یہ تفسیرآنجمانی مرزا غلام احمدقادیانی کی تفسیر "خزینۃ "العرفان" کے جواب میں ہے اس کے علاوہ اس کتاب میں مولوی غلام احمد شیعی کے "ترجمہ قرآن " پر بھی تنقید کی گئی ہے مولانا امر تسری کی دوسری کتاب "بطش تدبیر برقادیانی تفسیر کبیر" ہے یہ کتاب خلیفہ قادیان مرزا بشیر الدین محمود کی "تفسیر کبیر" از  سورۃ یونس تا سورۃ کہف کا جواب ہے مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ کی تیسری کتاب" برہان التفاسیر برا ئے اصلاح سلطان التفاسیر "ہے یہ کتاب پادری سلطان محمد پال کی "کی "تفسیر سلطان التفاسیر" کے جواب میں ہے مولاناثناء اللہ امرتسری نے پادری ٹھاکرات کے رسالہ "عدم ضرورت قرآن "کے جواب میں "تقابل ثلاثہ" لکھی جس میں آپ نے تورات ،انجیل اور قرآن مجید کے مابین تقابلی جائزہ پیش کیاہے نیز آپ نے اس کتاب میں بدلائل ثابت کیا ہے کہ آسمانی کتابوں میں صرف قرآن مجید ہی اپنی اصلی حالت میں ہے۔

مولانا عبد الغفور رانا پوری (م1300ھ) نے ایک عیسائی پادری کے رسالہ "فرقان کا بیان " کی تردید "اللمعان صاحب الفرقان "کتاب لکھی پادری نے قرآن مجید کو کلام محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  ثابت کیا تھا اور انجیل کو کلام اللہ ثابت کرنے کی جسارت کی۔ مولانا عبدالغفور رانا پوری نے دلا ئل سے ثابت کیا کہ قرآن مجید ہی کلام اللہ ہے۔

مولانا محمد ابرا ہیم سیالکوٹی (م1375ھ) نے " تائید القرآن بجواب تاویل القرآن "(اردو) اور "اعجاز القرآن "لکھیں "تائید القرآن "پادری اکبر مسیح کی کتاب "تاویل القرآن " کے جواب میں ہے۔ "اعجاز القرآن "پادری اکبر مسیح کی کتاب دوسری "تنویر الاذہان فی فصاحۃ القرآن "کے جواب میں ہے۔

آریہ سماج کی طرف سے بھی اسلام کے خلاف کئی کتابیں شائع ہو ئیں اور قرآن مجید کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا یا گیا علما ئےاہلحدیث نے اس کا بروقت نوٹس لیا چنانچہ مولاناثناء اللہ امرتسری نے محاشہ دھرم پال کی کتاب "تہذیب الاسلام "جو 4جلدوں میں شائع ہو ئی اس کے جواب میں " تنظیب الاسلام 4جلدوں میں لکھی ۔

ماسٹر آتمارام ایڈیٹر"آریہ مسافر" سے مولاناثناء اللہ امرتسری کا ایک مناظرہ ہوا مناظرہ کا موضوع تھا "وید اور قرآن "اس مناظرہ میں اللہ تعا لیٰ نے مولاناثناء اللہ امرتسری کو فتح یاب کیا بعد میں اس مناظرہ کی روئداد"الہامی کتاب" کے نام سے شائع ہوئی۔

سوامی دیا نند نے اپنی کتاب "ستیارتھ پرکاش "کے14ویں باب میں قرآن مجید پر 159اعتراضات کئے اس کے جواب میں مولاناثناء اللہ امرتسری نے" حق پر کاش "لکھی آپ کی دوسری کتاب "کتاب الرحمان "ہے مولاناثناء اللہ امرتسری نے یہ کتاب پنڈت دھربھگشو آریہ کی ایک کتاب کے جواب میں لکھی ۔

حدیث:۔

حدیث کے خلا ف ایک تو مستقل گروہ تھا جو اپنے آپ کو "اہل قرآن "کہتا تھا اس گروہ میں مولوی عبد اللہ چکڑالوی ،مولوی احمد الدین امرتسری اور مستری محمد رمضان (گوجرانوالہ) پیش تھے ان کے علاوہ مولوی محمد اسلم جیرا جیوری استاد جامعہ ملیہ دہلی بھی منکرین حدیث کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے علاوہ از یں حدیث پر تنقید علمائے احناف کی طرف سے بھی ہو ئی ،علمائے اہل حدیث نے ان ہر دوگروہ کی طرف سے شائع کردہ کتابوں کے جوابات لکھے اور ان سے مناظرے بھی کئے ۔

پٹنہ کے ایک غالی حنفی مولوی ڈاکٹر عمر کریم تھے جنہوں نے امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسمٰعیل بخاری(م256ھ) اور ان کی بے مثل کتاب الجامع الصحیح للبخاری کے خلا ف کتابیں لکھیں ،جن میں امام المحدثین اور جامع صحیح بخاری کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا یا مولانا محمد القاسم سیف بنارسی (م1369ھ) نے ان سب کتابوں کا دلائل سے جواب دیا جن کی تفصیل یہ ہے۔

"حل مشکلات بخاری بجواب الجرح علی البخاری"(4جلد)"الامرالمبرم لابطال الکلام المحکم "،"ماءحمیم للمولوی عمر کریم"، "صراط مستقیم لہدایہ عمرکریم "،"الریح العقیم لحسم بناء عمر کریم "،"الجزی العظیم للمولوی عمرکریم"،"العرجون القدیم فی افشاء صفوات عمرکریم "،"الجرح علی ابی حنیفہ "،"کتاب الردعلی ابی حنیفہ"مولانا ابو القاسم سیف بنارسی (م1369ھ)نے ایک مقالہ جامع صحیح للبخاری کے نام سے لکھا اس کا جواب ایک دیوبندی عالم عبد الرشید نعمانی کی طرف سے "تبصرہ "کے نام سے شائع ہوا مولانا نزیر احمد دہلوی (م1385ھ)نے اس کا جواب "جواب تنقید"سے دیا اور مولوی عبد الرشید نعمانی کی طرف سے اٹھا ئے گئےاعتراضات کا دلائل سے جواب دیا ۔

مولانا عبد الرحمان مبارکپوری(م1353ھ) نے مولوی احسن شوق نیموی کی کتاب "آثار السنن "(عربی) کے جواب میں "ابکار المنن فی تنقید آثار السنن "(عربی) لکھی اور دوسری کتاب اردو میں ۔۔۔"اعلام الزمن من تبصرہ آثار السنن مرتب فرمائی ان دونوں کتابوں میں ان احادیث کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں شوق نیموی صاحب نے قصداً کیا تھا ۔

  شوق نیموی صاحب (حنفی ) نے اپنی زندگی کا مقصد حدیث پر تنقید ہی بنا رکھا تھا چنانچہ انھوں نے اس سلسلہ میں ایک کتاب "بیان التحقیق فیما یتعلق بالتعلق "(اردو لکھی ،مولانا ابو الکلام محمد علی مئوی (م1352ھ) نے اس کا جواب "التعقب الحسن علی المولوی ظہیر الحسن "(اردو ) لکھ کردیا،جب یہ کتاب شائع ہو ئی شوق نیموی صاحب نے اس کا جواب ۔۔۔"الکلام المستحسن "کے نام سے دیا تو مولانا مئوی مرحوم نے اس کاجواب "الجواب الاحسن" سے دیا، حدیث کی تنقید میں مولوی محمد یعقوب الہ آبادی (حنفی) نے ایک سالہ "حقائق الاخبار "لکھا ۔تو مولانا ابو الکارم نے اس کا جواب "دقائق الاسرارفی ردحقائق الاخبار "سے دیا۔

مولانا حافظ عبد اللہ روپڑی (م1384ھ)نے "مودودیت اور احادیث نبویہ "لکھی ،اس میں آپ نے مولانا مودودی مرحوم کے نظر یہ حدیث پر بحث کی ہے۔

مولوی احمد رضا بجنوری (حنفی دیوبندی) نے مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری (م1351ھ) کے "درس بخاری" کو مرتب کر کے "انوار الہدی" کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب کے مقدمہ میں محدثین کرام  رحمۃ اللہ علیہ  کی حدیثی خدمات پر بے جاقسم کے اعتراضات کئے گئےتھے ۔مولانا محمد رئیس ندوی استاد حدیث جامعہ سلفیہ بنارس نے اس کا جواب "اللحات الی مافی انوار الباری من الظلمات "(اردو) کے نام سے دیا ہے اس کی چار جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور پانچویں جلد زیر طبع ہے۔

مولانا عبد الصمد حسین آبادی اعظمی (م1367ھ) نے حدیث کی تائید میں تین کتابیں لکھیں ۔

تائید حدیث بجواب تنقید شرف حدیث شان حدیث یہ تینوں کتابیں مولوی محمد اسلم جے راج پوری (کے فکرحدیث) کے ان مقالات کے جواب میں ہیں ۔جوانھوں نے حدیث کے خلا ف ماہنامہ "جامعہ دہلی" میں لکھے تھے مولانا ثناء اللہ امرتسری  (م1367ھ) نے بھی مولوی محمد اسلم جیرا جپوری کے ایک مقالہ "انکار حدیث" کے جواب میں" دفاع عن الحدیث "کتاب لکھی اس کے علاوہ مولانا ثناء اللہ امرتسری (1367ھ) مرحوم نے ایک کتاب مولوی عبد اللہ چکڑالوی (اہل قرآن ) کے رسالہ "برہان القرآن علی صلوۃ القرآن "کے جواب میں "دلیل القرآن بجواب اہل قرآن "مرتب فر ما ئی مولانا ثناء اللہ امرتسری کی دوسری کتاب" حدیث نبوی اور تقلید شخصی"ہے آپ کی تیسری کتاب "خاکسار تحریک اور اس کا پانی "ہے یہ کتاب علامہ مشرقی کے ایک مضمون کے جواب میں لکھی ،جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ حدیث رسول حجت نہیں ہے ۔پنڈت محب الحق نے ایک کتاب "بلاغ الحق" لکھی اور انھوں نے اس کتاب میں لکھا تھا کہ حدیث رسول ناقابل عمل ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم نے اس کا جواب "بیان الحق بجواب بلاغ الحق "کے ذریعہ دیا۔

مولانا محمد داؤد راز دہلوی (م1402ھ) نے غلام احمد جیلانی برق کی کتاب" دواسلام "کی تردید میں "خالص اسلام "لکھی ۔

شیخ الحدیث مولانا محمد اسمٰعیل سلفی (م1387ھ) نے حدیث کی تائید و نصرت میں جو کتابیں لکھی ہیں ۔وہ تاریخ اہلحدیث کا ایک درخشندہ باب ہے مولانا سلفی مرحوم حدیث کے سلسلہ میں معمولی سی مداہنت کے بھی قائل نہیں تھے ۔مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م1408ھ) نے راقم سے ایک دفعہ فرمایاتھا کہ جماعت اہلحدیث میں دوشخصیتیں ایسی گزری ہیں جو حدیث کے سلسلہ میں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہیں کرتے تھے ایک شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری  (م 1367ھ) اور دوسرے مولانا اسمٰعیل السلفی (م1387ھ)

   مولانا اسمٰعیل السلفی مرحوم نے نصرتحدیث میں جو کتابیں لکھی ہیں ان کی تفصیل یہ ہے۔1۔سنت قرآن کے آئینہ میں (2)مسئلہ افک (3)مقام حدیث (4) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کا مسلک (5) حدیث کی تشریعی اہمیت (6)حجیت حدیث آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت کی روشنی میں(7)جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث (یہ کتاب مولانا مودودی (م1399ھ) کی کتاب  "تفہیمات و مسلک اعتدال"اور مولانا امین احسن اصلاحی کے ایک مضمون جو حجیت حدیث کے سلسلہ میں ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور میں شائع ہوا تھا) لکھی ۔مولانا مودودی مرحوم اور مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنے مضامین میں منکرین حدیث سے اتفاق فرما یا تھا۔

مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م1405ھ) نے حدیث کی نصرت و حمایت میں "تنقید المسائل "،"جواب دواسلام "اور دوام حدیث "تین کتابیں لکھیں ۔

"تنقید المسائل " مولانا مودودی (م1399ء)کی بعض تحریروں کے جواب میں ہے۔"جواب دواسلام " غلام جیلا نی برق کی کتاب " دواسلام "کا"جواب ہے۔

" دوام حدیث " ۔مسٹرغلام احمد پرویز کتاب" مقام حدیث "کاجواب ہے ۔

مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری نے حدیث کی تائید و حمایت میں "نصرۃ الباری فی بیان صحیحہ البخاری" اور صیانہ الحدیث "(2جلد ) لکھیں "صانۃ الحدیث "مسٹرغلام جیلانی برق کی کتاب دواسلام "کی تردید میں لکھی مولانا ابو سعید شرف الدین دہلوی (م1381ھ) اور مولوی عبد العزیز رحمانی نے بھی مسٹرغلام جیلا نی برق کی کتاب دواسلام کے جواب میں "برق اسلام " اور صحیح اسلام "کے نام سے کتابیں لکھیں ۔

مولانا قاضی الرحمان مبارکپوری نے بھی حدیث کی تائید میں دوکتابیں "انکار حدیث حق باطل" اور انکار حدیث ۔۔۔کیوں ؟"لکھیں یہ دونوں کتابیں جامعہ سلفیہ بنارس نے شائع کی ہیں ۔

تردید تقلید :۔ 

 تقلیدکی تردید میں علمائے اہلحدیث نے جو علمی خدمات سر انجام دیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے۔مولانا عبد اللہ جھاڑ الہ آبادی(م1315ھ) نے تردید تقلید میں" اعتصام السنۃ فی قامع البدعۃ "(اردو )"قرۃ التابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین وحرۃ المحدثین  رحمۃ اللہ علیہ  (عربی اردو) "السیف المسلول فی ذم التقلید المخذول "(اردو) اور "العروۃ المتین فی اتباع سنۃ سید المرسلین "لکھیں ۔

شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) نے تقلید کی تردیدمیں تین کتابیں یعنی "مناظرہ مسعود السعید فی باب الاتباع والتقلید "معیار الحق "اور ثبوت الحق الحقیق مولانا قاضی محمد علی شہری( م1320ھ) نے "البیان المفید الاحکام التقلید المعروف بہ رد التقلید "(اردو ) ایک کتاب لکھی جس میں دلائل سے آپ نے تقلید شخصی کی تر دید کی ہے۔

مولانا عبید اللہ نومسلم (م1310ھ) نے "تحفۃ الاحوذن "کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں تقلید شخصی کی تر دید کی گئی ہے مولانا عبید اللہ مرحوم نے شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی  (م1320ھ) کے ایماء پر تصنیف کی۔

مولانا الٰہی بخش بڑاکری بہاری (م1334ھ) نے تقلید رد میں فوس الکلمۃ علی روس الجہلۃ "کے نام سے ایک کتاب اردو میں لکھی اس کتاب کی تالیف کا پس منظر یہ ہے کہ شیخ محی الدین لاہوری (م1312ھ) نے ایک کتاب "الظفر المسین فی رد مغالطات المقلدین "(اردو) لکھی جس میں انھوں نے ایک سو ایسے مسائل کی نشاندہی کی تھی کہ فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں ایسے مسائل درج ہیں جو حدیث کے خلا ف ہیں "الظفر المسین "کے جواب میں مولانا عبد الحئی لکھنؤی (م1307ھ) نے "نصرۃ المجتہدین برد ہفوات غیر المقلدین "لکھی مولانا الٰہی بخش کی یہ کتاب  "نصرۃ المجتہدین” کی تردید میں ہیں ۔

مولانا الغفور دانا پوری (م1300ھ) نے"تقلید شخصی "کی تردید میں "الدر الفرید فی رد التقلید "مرتب فرمائی مولانا عبد الجبار عمرپوری(م1334ھ) نے رد تقلید میں دو کتابیں لکھیں ۔ان میں ایک نام "صمصام التوحیدفی رد التقلید "(اردو )ہے اور دوسری کانام "حنفیوں کے ملحدانہ سوالات کے محققانہ جوابات "ہیں مولانا عبد الرحمان بقا غازی پوری(م1334ھ) نے بزبان عربی،"تاسیس التوحید فی البطال وجوب التقلید "کتاب لکھی یہ کتاب مولوی لطف الرحمان حنفی کی کتاب "التسدید" کے جواب میں ہے مولانا عبد العزیز رحیم آبادی(م1336ھ)کا مولانا عبد الحق حقانی (م1335ھ) سے "وجوب تقلید شخصی" کے عنوان سے مرشد آباد (بنگال )میں جمادی الاولی (1305ھ) میں مناظرہ ہوا تھا یہ مناظرہ سات دن جاری رہا اس مناظرہ میں مو لا نا عبد العزیز رحیم آبادی کامیاب قرار پائے چنانچہ اس مناظرہ کے اثر سے مرشد آباد اور اس کے گردو نواح کے ہزاروں آدمیوں نے مسلک اہلحدیث قبول کیا ۔

اس مناظرہ کی روئداد"مناظرہ مرشد آباد "کے نام سے شائع ہوئی۔ مولانا ابو المکارم محمد علی مئوی (م1352ھ) نے مو لوی ظہیر احسن شوق نیموی کے رسالہ "اوثحۃ الجید "جس میں "تقلید آئمہ "کو واجب و فرض ثانت کیا گیا تھا کی تردید میں"الجواب السدید "نامی کتاب لکھی مولانا محمد بن  ابرا ہیم  میمن جونا گڑھی (م1361ھ) نے" تردید تقلید" میں جو کتابیں لکھیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"ارشاد محمد ی"(مولانا اشرف علی تھانوی م1362ھ)کی کتاب "الاقتصادفی التقلید والاجہتاد "کی تردید میں ہے) "ضرب محمدی"،"طریق محمدی"،مشکوۃ محمدی"،ملت محمدی"،"فتح محمدی"،"حقیقت محمد ی"لکھیں ۔

مولانا ثنااللہ امرتسری (م1367ھ) نے ردتقلید میں جو کتابیں لکھیں ،ان کے نام یہ ہیں "تقلید شخصی اور سلفی "،"اصلی حنفیت اور تقلید شخصی "،"تنقید "،تقلید شخصی"مولانا ابو القاسم سیف بنارسی (م1369ھ)نے" التقلید فی رد التقلید "کے نام سے ایک کتاب لکھی یہ ایک حنفی مولوی حبیب اللہ کی کتاب "التقلید "کی تردید میں ہے۔

مولانا عبد الحی لکھنؤی (م1307ھ) نے ایک رسالہ "فتح المین "لکھا جس میں انھوں نے "تقلید شخصی" کو واجب قرار دیا تھا ۔مولانا ابو الحسن محمد سیالکوٹی (م1325ھ) نے اس کی تردید میں "الکلام المسین فی رد تلیسات ا لمقلدین "لکھی ۔

مولانا حافظ روپڑی (م1384ھ) نے تقلید کی تردید میں 2کتابیں لکھیں ۔یعنی تقلید علمائے دیوبند" اور " اہلحدیث کے امتیازی مسائل " (یہ کتاب دراصل مولانا اشرف علی تھانوی  (م1362ھ) کی کتاب"الاقتصادفی التقلید والاجہتاد"کا جواب ہے)

مولانا ابو یحییٰ محمد شاہجہان پوری(م1338ھ) نے  " تقلید کی تردید" میں ایک بے نظیر کتاب "الاشادالی سبیل الرشاد فی بحث التقلید والاجتہاد "لکھی یہ کتاب مولانا رشید احمد گنگوہی کے رسالہ "سبیل الرشاد" کے جواب میں ہے۔

 تقلید کی تردیدمیں علمائے اہلحدیث کی اور بھی کتابیں ہیں جن میں بعض کے نام یہ ہیں ۔

براعۃ التحقیق فی مسئلہ "التقلید والاجتہاد "۔۔۔مولانا اعجاز احمد سہوانی (م1232ھ)

"حقیقت تقلید"۔۔۔مولانا محمد سلیمان مئوی (م1398ھ)

"الرق المشور فہ رد فتح الشکور"۔۔۔(مولانا محمود عالم مظفر پوری (1314ھ)

"براھین اثنا عشر"۔۔۔مولانا امیر احسن سہوانی (م1343ھ)

"ہدایۃ البلیدفی ردالتقلید "،"تحقیق البستان فی ابطال تقلید الاعیان "از مولانا حسین ہزاروی (م1314ھ) "القول المیز فی احکام التقلید"مولانا ابرا ہیم آروی (م1319ھ) البیان فی روالبرھان "۔مولانا حسین بٹالوی (1338ھ) "نتائج التقلید "،"تاریخ التقلید "مولانا محمد اشرف سندھو (م1384ھ) مولانا سندھو کی کتاب "مقیاس حقیقت "(4جلد ) ہے جو "مقیاس حنفیت " کے جواب میں ہے ۔

شیعیت کی تر دید :۔

 شیعیت کی تر دید میں بھی علمائے اہلحدیث کی خدمات قابل قدر ہیں ، یہاں مختصر اً ان کا تذکرہ کیا جا تا ہے۔

مولانا احد اللہ محدث پر تاب گڑھی (م1363ھ) شیعیت کی تر دید میں تحفۃ تبت من اہل سنت "کتاب لکھی ،اس کتاب میں محدث پر تاب گڑھی نے شیعوں کے 79مسائل لکھ کر ہر ایک کی تردید کی ہے۔

مولانا عبد العزیز رحیم آبادی (م1336ھ) نے شیعہ کے ایک رسالہ" رسالۃ الوضو" کے جواب میں ایک کتاب "جواب شیعیت "کے نام سے لکھی ۔

شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (م1367ھ) نے شیعیت کی تر دید میں "خلا فت محمد یہ" اور "خلافت رسالت "2کتابیں لکھیں ،"خلا فت محمدیہ" میں خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی خلا فت ثابت کر کے قرآن مجید سے ان کے مومن ہو نے کی دلیل دی گئی ہے اور مسئلہ "باغ فدک " پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے جبکہ "خلافت و رسالت " میں آپ نے یہ واضح کیا ہے کہ جس طرح خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی خلا فت آئی ہے۔ وہ بالکل درست تھی۔

مولانا محمد ابرا ہیم میر سیالکوٹی (م1375ھ) نے 2کتابیں شیعیت کے رد میں لکھیں ۔ان میں ایک "خلافت راشدہ" ہے اس کتاب میں "خلافت راشدہ " کی تشریح اور اس کی علمی تحقیق و تدقیق کی گئی ہے اور "خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  "خصوصاً اصحاب ثلاثہ پر بحث اور شیعہ حضرات کے اعتراضات کا مدلل جواب ہے مولانا  سیالکوٹی مرحوم کی دوسری کتاب الكوكب المضيئة لازالة شبهات الشيعة ہے اس میں "خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین  " کے فضائل و مناقب بیان کر کے بعد شیعوں کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب بھی شامل ہے۔

مولانا محمد صدیق فیصل آبادی(1404ھ) نے بھی کتابیں شیعہ کی تردید میں لکھیں ۔ان میں ایک کتاب "کشف الاسرار "ہے یہ کتاب شیعہ عالم مولوی غلا م حسین کی کتاب "نعیم الابرار "کا جواب ہے۔ دوسری کتاب "نکا ح ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا    "ہے اس کتاب میں مولانا محمد صدیق مرحوم نے شیعہ علماء کی کتابوں سے  حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا    کا نکاح حضرت عمر فاروق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ثابت کیا ہے۔

سیرت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم :۔

آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت مقدسہ پر علمائے اہلحدیث نے بے شمار کتابیں لکھی ہیں اور علمائے اہلحدیث نے جتنی بھی کتابیں سیرت مقدسہ پر لکھی ہیں ان سب کی خصوصیت یہ ہے کہ تمام واقعات صحیح سند کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج ہیں اس لیے اہل علم نے علمائے اہلحدیث  کی کتابوں کی تعریف و توصیف کی ہے ذیل میں چند مشہور کتابوں کا ذکر کیا جا تا ہے۔

مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری(1349ھ) نے سید البشر ،اسوحسنہ ،مہر نبوت اور رحمۃ للعالمین (3جلد ) مولانا محمد ابرا ہیم میرسیالکوٹی (م1375ھ) نے "دارالمتقین "اور" سیرت المصطفیٰ "(2جلد) مولانا ابو الکلام آزاد (م1378ھ) نے "خصائص محمد یہ "،"رسول رحمت "،"سیرت از ماخذ قرآن مجید "،"ولادت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم "،"مولانا محمد داؤد راز دہلوی(م1402ھ)نے"

"سیرت مقدس "،"مولانا محمد یوسف شمس فیض آبادی(م1357ھ)نے "سراج منیر" ،مولانا محمد ابو بکر شیث جون پوری( 1350ھ) نے "سیر ت الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم "اور مولانا صفی الرحمان مبارکپوری نے "الرحیق المختوم "(عربی اردو) لکھیں

مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی (م1386ھ) نے محمد حسین ہیکل مصری کی"حیات محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  "کا اردو میں ترجمہ کیا۔ مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی(1378ھ)  نے" معجزہ سیرت"اور صداقت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم "کتابیں لکھی ہیں یہ دونوں کتابیں امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  (م728ھ) کی کتابوں کے ترجمے ہیں "اسوہ حسنہ "بھی مولانا ملیح آبادی مرحوم کی ایک کتاب ہے۔ جو حافظ ابن القیم کی کتاب "زاد المعاد" کے "مختصر ھدی الرسول "کا ترجمہ ہے ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے" زاد المعاد " کے حصہ سیرت کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جو1978ءمیں"دارالسلفیہ "بمبئی نے شائع کیا۔ ڈاکٹر مقتدی حسن نے "رحمۃ للعالمین "(3جلد ) کا عربی میں  بھی ترجمہ کیا ہے جو مطبوع ہے۔

سوانح :۔

مسلمانوں نے اپنی ہر صدی کے ممتاز اکابر رجال کے سیرواحبار کا ایسا دفتر اس صفحہ ہستی پر چھوڑا کہ قومیں اس کی مثال سے عاجز ہیں ،برصغیر میں مستقبل قریب میں مولانا عبدالحئی فرنگی محلی (م1304ھ) نے "طرب الاماثل " محی السنۃ مولانا نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) "ابجد العلوم "(عربی) "تقصار جید الاحرار"(فارسی) "التاج المکل "(عربی)اور "اتحاف النبلاء(فارسی) لکھیں اور ان کے بعد مولانا عبد الحی الحسنی (م1341ھ) سنے نزھۃ الخواطر (8جلد) (عربی) لکھی۔

برصغیر کے علمائے اہلحدیث نے تراجم میں بھی بے شمار کتابیں لکھیں ہیں اگر ان تمام کا تذکرہ کیا جائے تو یہ طوالت کا موجب ہو گا تا ہم معروف علمائے کرام نے جو اس سلسلہ میں علمی خدمات سر انجام دی ہیں ان کا ذکر کرنا مناسب ہو گا ۔

مولا نا عبد الغفور دانا پوری(م1300ھ) نے"الروض المعطورفی تراجم مولوی محمد نور الہدی المغفور" مولانا عبد الرحیم بخش دہلوی (م1314ھ) نے "حیات دلی" اور حیات عزیزی " مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری(م1348ھ) نے"تاریخ المشاہیر "اور اصحاب بدر" مولانا حافظ عبد اللہ روپڑی (م1384ھ) نے" حکومت اور علمائے ربانی " مولانا ابرا ہیم میر سیالکوٹی (م1375ھ) نے "احکام المرام باحیاء ماثر علماء الاسلام "مولانا ابو القاسم سیف بنارسی(م1369ھ) نے "اجتلاب المنفعۃ لمن یطالع احوال الائمۃ الاربعۃ "لکھیں ۔

مولانا الکلام آزاد (م1378ھ) نے" صفحات الانس "،"آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی" ،"انسانیت موت کے دروازے پر" ،"تذکرہ "،"شہید اعظیم "،"حکیم خاقانی شروانی "،"حافظ شیرازی "،"عمر خیام "،"تذکرہ "،"آب حیات "،"شیرت شاہ ولی اللہ "،"سیرت مجددالف ثانی "،"حیات امام احمد بن حنبل "،"سیرت ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ "،"البیرونی "،"حضرت یوسف"،"حیات سرمد" "اور"تاریخی شخصیتیں "مرتب فر ما ئیں ۔

مولانا داؤد راز دہلوی(م1402ھ) نے مولانا ثناءاللہ امرتسری (م1367ھ) کے حالات میں "حیات ثنائی "لکھی ۔مولوی ابو یحییٰ امام خاں نوشہروی( م1376ھ) نے "تراجم علمائے اہلحدیث ہند "اور "نقوش ابو الوفاء"مرتب کیں ۔مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م1408ھ) نے" امام شوکانی" ،"حیات احمد بن حنبل "،"حیات ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  "اور"حیات امام ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  "لکھیں ۔مولانامحمد جعفر تھانمیری نے" تواریخ عجیبہ موسوم بہ سوانح احمدی "مولانا عبد القادر مئوی (م1331ھ) نے" سیرت عمر بن عبد العزیز "مولانا عبد السلام مبارکپوری(م 1342ھ) نے سیرت البخاری رحمۃ اللہ علیہ  " مولانا عبد الرحیم صادق پوری نے" تذکرہ صادقہ " مولانا افضل حسین مظفر پوری رحمۃ اللہ علیہ  نے"الحیاۃ بعد المماۃ" (سوانح حیات شیخ الکل مولانا نذیر حسین محدث دہلوی (م1320ھ) اور مولانا عبدالجبار غزنوی (م1331ھ) نے" سوانح عمری مولانا عبد اللہ غزنوی "لکھیں ۔

مولانا عبد الحمید کادم سوہدری (م1379ھ) نے" دولت مند صحابہ " سیرت ثانی " سیرت الائمہ " ،"سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا    "،"سیرت فاطمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   "،"سیرت امام ابو حنیفہ "،"سیرت مولانا ابو الکلام آزاد "اور "استاد پنجاب"(مولاناحافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی (م1334ھ)کے حالات )مرتب کیں مولانا محمد یوسف سجاد سیالکوٹی نے" تذکرۃ علمائے اہلحدیث "(3جلدوں ) میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں پاکستان کےعلمائے اہلحدیث کے سوانح حیات اور ان کے علمی کارناموں پر روشنی ڈالی ہے اس کتاب کی جلددوم ،سوم شائع ہو چکی ہے۔ اور جلد اول زیر طبع ہے۔

راقم مقالہ نگار(عبدالرشید عراقی )نے "تذکرۃ  ابو الوفاء "(ثناء اللہ امرتسری کے حالات اور ان کے علمی کارناموں کا تذکرہ)"سیرت آئمہ اربعہ "،"تذکرہ) بزرگان علوی "(مولانا عبد المجید خادم سوہدروی کے خاندان کے حالات ) "مؤلفین صحاح ستہ اور ان کے علمی کارنامے "،"تذکرہ سید سلیمان ندوی"،
"امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  "اور ان کے تلامذہ خاص ابن القیم ابن اکثیر اور حافظ ابن عبد الھادی کے حالات اور"کاروان حدیث "(امام ابن جریج رحمۃ اللہ علیہ  سے مولاناعبید اللہ رحمانی مبارکپوری کے زمانہ تک کے معروف محدثین کرام  رحمۃ اللہ علیہ  کے حالات اور ان کے علمی کارناموں کی تفصیل )مرتب کی ہیں ان میں تذکرہ ابو الوفاء"تذکرہ) بزرگان علوی "،"سیرت آئمہ اربعہ "اور ""مؤلفین صحاح ستہ"شائع ہو چکی ہیں جبکہ "،"کاروان حدیث "زیر طبع اور ""،"تذکرہ سید سلیمان ندوی" اور"امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ   "غیر مطبوع ۔

مولوی حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے "مولانا ظفر علی خان اور ان کا عہد "اور علی گڑھ کے تین نامور فرزند "(مولانا محمد علی جوہر ،مولانا ظفر خان اور مولانا حسرت موہانی ) لکھی ہیں ۔یہ دونوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں ان کی دوسری کتابیں " حرام دیدہ شنیند ہ" اور قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کا عہد"زیر طبع ہیں ۔

"حرام دیدہ و شنیدہ " میں برصغیر کے ممتاز سیاستدان ،شعرائے کرام ،علمائے کرام کے حالات ثبت کئے ہیں ۔مولانا محمد اسحاق بھٹی نے خاندان سعادت (قصوری خاندان ) یعنی مولانا عبد القادر قصوری مولانا محی الدین قصوری ،مولانا محمد علی قصوری اور میاں محمود علی قصوری پر ایک کتاب لکھی ہے جو "جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن "نے شائع کی ہے ۔مولانا قاضی محمد اسلم سیف نے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید پر ایک کتاب لکھی ہے جو مطبوع ہے۔

مولانا محمد عبدہ الفلاح حفظہ اللہ نے جہاں علم و تحقیق کے میدان میں گرانقدر تصنیفی و تدریسی خدمات انجام دی ہیں وہاں تذکرہ مشاہیر کے ضمن میں بھی آپ کی نگارشات لائق تحسین ہیں ۔

ادیان باطلہ:۔

 ادیان باطلہ (نصرانیت ،ہند ومذہب اور قادیانیت ) کے خلاف علمائے اہلحدیث نے جو کار نامے سر انجام دیئے ہیں وہ"تاریخ اہلحدیث "کا ایک زریں باب ہے ۔برصغیر کے تمام مسالک کے اہل علم نے اس کا بہت اعتراف کیا ہے ،کہ" ادیان باطلہ"کے خلاف جو کار ہائے نمایا ں " علمائے اہلحدیث "نے سر انجام دیئے ان کا مقابلہ دوسرے مسالک کے اہل علم نہیں کر سکے۔ علمائے اہلحدیث نے ان سے مناظرے بھی کئے ،اور ان کے رد میں کتابیں بھی لکھیں ذیل میں ان "ہر سہ ادیان باطلہ" کے خلاف علمائے اہلحدیث نے جو گراں قدر علمی خدمات سر انجام دیں ہیں ان کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے

نصرانیت (عیسائیت ) کی تردید :۔

  نصرانیت (عیسائیت ) کی تردید میں علمائے اہلحدیث نے بے شمار کتابیں لکھی ہیں ۔مگر یہاں صرف 25مشہور کتابوں کا تعارف پیش خدمت ہے۔

مولانا عبد الغفور داناپوری(م1300ھ) نے عیسائیت  کی تردید میں 3کتابیں لکھیں ۔

"تبيان حسن المسيح في وجه المحمد من المسيح "

(اردو"مرآۃ الجواب صاحب تصدیق الکتاب "(اردو )" رحمۃ المحئیط فی طاعۃ الفار قلیط "(اردو ) "مرآۃ الجواب "پادری اسکاٹ کے رسالہ "تصدیق الکتاب "کے جواب میں ہے ،اس نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ آسمانی کتابوں میں انجیل صحیح کتاب ہے اور قرآن و دیگر آسمانی کتابیں صحیح نہیں ہیں ۔

مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری( م1349ھ) نے  عیسائیت  کی تردید میں جو کتابیں مرتب فر مائیں ہیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"ایک پادری کے 8سوالوں کا جواب"برہان "،"انجیلوں میں خداکا بیٹا "،"استقامت "علمی  وتبلیغی خطوط "،"قرآن تورات اور انجیل میں باہمی نسبت "

آپ کی کتاب "برہان "ایک پادری کے ایک خط کے جواب میں ہے جو اس نے قرآن مجید پر مختلف قسم کے اعتراض کئے تھے اور "استقامت "بھی ایک شخص کے خط کے ہی جواب میں ہے جواس نے اسلام پر اعتراض کئے تھے۔اور یہ شخص عیسائیوں سے متاثر تھا۔

مولانا حافظ عبد اللہ روپڑی(م1384ھ)"نبی معصوم "کے نام سے ایک رسالہ لکھا ،جو ایک عیسائی مصنف کی کتاب کا جواب ہے۔

شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری (م1327ھ) نے عیسائیت کی تردید میں جو کتابیں مرتب فرما ئیں وہ یہ ہیں ۔"کلمہ طیبہ " جوابات انصاری " ،"توحید  تثلیث "اور"،"راہ نجات "،"اسلام اور مسیحیت" اسلام اور مالی ٹیکس "اسلام اور برٹش بد"،"مناظرہ آلہ آباد "وغیرہ ۔

مولانا امرتسری کی کتاب " اسلام اور مسیحیت" پادری برکت اللہ کی تین کتابوں "توضیح البیان فی اصول  القرآن "مسیحیت کی عالمگیری " ،"دین فطرت ۔۔۔اسلام یا مسیحیت "کے جوابات پر مشتمل ہے۔"مناظرہ آلہ آباد "یہ رسالہ مولانا امرتسری اور پادری عبد الحق کے مابین "مسئلہ توحید و تثلیث"پر جو مناظر ہ ہوا تھا اس کی تفصیل روئداد ہے۔مولانا محمد ابرا ہیم میر سیالکوٹی (م1375ھ) نے عیسائیت کی تردید میں "کسرالصلیب "،"عصمت النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  "،"عصمت انبیاء "اور عصمت نبوت "لکھیں ۔"عصمت النبی" ایک عسائی مصنف کے رسالہ کے جواب میں ہے اور"عصمت انبیاء " بھی ایک عیسائی مصنف کے رسالہ "بے گناہ نبی" کے جواب میں لکھی گئی ۔"عصمت ونبوت"بھی ایک پادری "جمیس "کی کتاب "عدم معصومیت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جواب میں لکھی گئی۔

مولانا ابو الکلام آزاد (م1378ھ)نے عیسائیت کی تردید میں"اسلامی توحید "اور اور "مذاہب عالم"اور" عیسائیت کا مسئلہ " مرتب فرما ئیں ۔

مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی (م1405ھ) نے"رواثبات التثلیث "کتاب لکھی اس کتاب میں عیسائیوں کے "عقیدہ تثلیث "کا رد کیا گیا ہے۔

مولانا عبد الحلیم شررلکھنوی (م1345ھ)نے "مسیح اور مسیحیت "نامی (2جلد) کتاب لکھی ۔

ہند و مذہب :۔

 ہند و مذہب  کے خلا ف بھی علمائے اہلحدیث نے بے شمار کتابیں لکھی ہیں اور ہند و تہذیب کے مذہبی رہنماؤں سے مناظر ے بھی کئے ۔ علمائے اہلحدیث نے کتابیں ہندو مذاہب کے خلا ف لکھیں ،ان میں سے صرف 37کتابوں کا تعارف ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔

مولانا قاضی محمد مچھلی شہری(م1320ھ) نے "ثمرات تناسخ"کتاب لکھی ،اس کتاب میں تناسخ کی تعریف کی گئی ہے اور ہند وتہذیب کی ہی کتابوں سے اسے باطل قرار دیا گیا ہے مولانا عبید اللہ نو مسلم (م1310ھ) نے "تحفۃ المند" حجۃ المند "اور "لذۃ الہند "لکھیں ۔تحفۃ الہند "میں ہندوپیشواؤں کے حالات پر روشنی ڈالتے ہو ئے ہندو مذہب کا تقابل اسلام سے کیا گیا ہے نیز ہندو مذہب کو غیر قابل قبول ثابت کیا گیا ہے۔شیخ الاسلام مولانا ثناءاللہ امرتسری (م1367ھ) نے ہندو مذہب کی تردید میں کم و بیش 29کتابیں مرتب فرما ئیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"حدوث وید" رکوب السفینۃ فی مناظرہ نگینہ "،"حدوث دنیا"،"الہام "شادی بیوگان اور نیوگ" ،"ترک اسلام بجواب تراسلام "،"تنظیب اسلام (4جلد ) "الہامی کتاب "،"بحث تناسخ ،"سوای دیا بندی جی کا علم عقل "،"تیرا اسلام "،"مناظرہ جیل پورہ "،محمد  رشی "،"مقدس رسول "،"نکاح آریہ"،" تحریف آریہ "،"اصول آریہ"،"ہندوستان کے دوریفارمر "جہاددید "،"نماز اربعہ "مناظرہ دیوریا"فتح اسلام یعنی مناظرہ خواجہ "،"آریوں کے علمائے اسلام سے 25سوالات کے فوری جوابات "،"مباحثہ نانین اظہار حق بجواب سیتارتھ پرکا ش "مرقع دیابندی "،"رجم الشیاطین بجواب اساطیرالاولین "مجموعہ رسائل متعلقہ دیدو قرآن "اور ایشو ربھگتی "

مولانا موصوف کی مقدس رسول "سآریہ کی ایک زہریلی کتاب "رنگیلا رسول کا  جواب ہےترک اسلام" عبدالغفور دھرپال کی کتاب"ترک اسلام" کاجواب ہے۔تغلیب اسلام" بھی دھرپال ہی کی ایک کتاب"تہذیب الاسلام" کا جواب ہے۔"الہامی کتاب" ایک مناظرہ کی روئداد ہے جو ماسٹر آتما  رام سے دید اور قرآن کے الہامی کتاب ہونے پر ہوا تھا،تیرا اسلام" بھی دھرپال کی کتاب "نخل اسلام" کی تردید میں لکھی گئی،"محمد رشی" کتاب میں پیغمبر اسلام کاثبوت وید،توراۃ اور انجیل سے دیا گیاہے۔"مناظرہ ویودیا"ایک مناظرہ کی روئداد ہے۔جو مولانا امرتسری مرحوم اور پنڈت کریا رام کے درمیان وید اورقرآن میں کون الہامی ہے؟ کے موضوع پر ہوا تھا،"مناظرہ خواجہ" بھی ایک مناظرہ کی روئداد ہے۔ جو مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  اور مہاشہ سروپ جی وبابورام چند دہلوی کےدرمیان ہواتھا،مناظرہ کا عنوان تھا۔"مذہب حق کی تعریف اوراس کے میعار پر بحث"، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی(م1375ھ) نے"المحقق"کے نام سے ایک کتاب لکھی۔جس میں وید  پر محققانہ بحث کی ہے ،کہ یہ الہامی کتاب نہیں ہے۔

مولانا صوفی نزیر احمدکاشمیری(م1405ھ) نے"عیسائیت کی تردید" میں تین کتابوں مرتب فرمائیں ان کے نام یہ ہیں۔

1۔عالمگیر امن انسانی کا قیام اور میں برہمن سماج کاحصہ۔

2۔اسلام ،ہندوستان اور ممالک اسلامیہ۔

3۔اسلام،برہمن ازم اور فرقہ واریت۔

قادیانیت کی تردید:۔

قادیانیت کی تردید میں علمائے اہل حدیث کی خدمات بھی قابل قدر ہیں اور اس کااعتراف برصغیر کے ممتازاہل وعلم قلم نے کیا ہے۔علمائے اہل حدیث نے قادیانی مبلغین سے مناظرے بھی کیے اور ان کے خلاف سینکڑوں کتابیں بھی تصنیف کیں،ذیل میں صرف ایک سو(100) کتابوں کا تعارف کرایا جاتاہے ،جوعلمائے اہل حدیث نے قادیانیت کی تردید میں لکھیں۔

مولانا محمد بشیر سہسوانی(م1323ھ) نے"الحق الصریح فی اثبات حیات المسیح"،لکھی یہ کتاب اس مناظرہ کی روئیداد ہے،جومولانا محمد بشیر اور مرزا قادیانی کے درمیان"حیات مسیح" کے عنوان سے دہلی میں ہواتھا۔

مولانا عبدالرحیم رحیم بخش دہلوی(م1314ھ) نے قادیانیت کی تردیدمیں"دجال قادیانی"،گولہ آسمانی برمشن کرشن قادیانی"اور غیر مشن"القادياني  في اثبات الموت الطيبي لعيسي ابن مريم الرسول الرباني"(اردو لکھیں۔

"دجال قادیانی"میں مر زا غلام احمد قادیانی کے اس قول کی تردید کی گئی ہے کہ قرآن وحدیث کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھوں دکھ اٹھائے گا،مولانا قاضی محمد سلمان منصور پوری(م1349ھ) نے قادیانیت کی تردید میں"غایۃ المرام" اور تائید السلام" لکھیں،"غایۃ المرام مرزا قادیانی کے رسالہ جات "فتح العلام وتوضیح المرام" کے جواب میں ہے۔"تائید السلام" میں مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد پر بحث کی گئی ہے اور اس کے علاوہ مرزا کی کتاب"ازالہ اوہام" کے بعض مباحث کا جواب بھی دیا گیا ہے۔مولانا حاجی محمد اسحاق حنیف امرتسری(م1402ھ) نے قادیانیت کی تردید"اباطیل مرزا" یعنی مرزا قادیانی کے جھوٹ اور"بطلان مرزا" کے نام سے دور رسائل لکھے۔

"اباطیل مرزا" میں قادیانی کے 33 جھوٹ ان کی کتابوں سے جمع کئے گئے ہیں،اور"بطلا مر زا" میں تحریرات مرزا اور اقوال امت مرزائیہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کا بطلان ثابت کیاگیا ہے۔مولانا عبداللہ معمار(م1369ھ) نے قادیانیت کی تردید میں"عالم کتابت مرزا"،"مغالطات مرزا"اور"محمدیہ پاکٹ باک"تین کتابیں مرتب فرمائیں۔

"محمد یہ پاکٹ بک" میں مرزا کی تصنیفات اور قادیانی لٹریچر سے بکثرت پیشن گوئیاں جمع کی گئیں ہیں اور انہیں واقعات دلائل اور شواہد سے غلط اور خلاف واقعہ دکھایا گیا ہے نیز اس میں"ختم  رسالت" حیات مسیح ونزول عیسیٰ علیہ السلام" پر دلچسپ بحثیں ہیں۔

مولوی حبیب ا للہ کلرک امرتسری(م1375ھ) نے قادیانیت کی تردید میں 15کتابیں لکھیں،ان کی تفصیل یہ ہے۔

"عمر مرزا"،مرزائیت کی تردید بطرز جدید"،نزول مسیح حصہ اول"،مرزا قادیانی نبی نہ تھے،درغذائے مرزا"،بشارت احمدی"، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی"،معہ رسالہ واقعات نادرہ"،سنت کے معنی مع رسالہ واقعات نادرہ،" معجزہ ومسمریزم میں فرق""حلیہ مسیح معہ رسالہ ایک غلطی کا ازالہ،"عیسیٰ علیہ السلام کاحج کرنا اورمرزا قادیانی کا حج کیے بغیر مرنا"،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی ابن تیمیہ حرانی کی زبانی"،"مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں"،حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں ہے"،"مرزا قادیانی کی کہانی اور مرزائیوں کی کہانی،"عون المعبود در تردید اوہام مرزا   محمود۔"

"عمرمرزا" میں مولوی حبیب اللہ مرحوم نے مرزا قادیانی کی عمر پر بحث کی ہے۔"مرزائیت کی تردید بطرز جدید میں"مرزا قادیانی کی قرآن فہمی پر بحث ہے۔"مرزا قادیانی نبی نہ تھے"۔اس میں مرزا قادیانی کتاب کے دعویٰ نبوت کی تردید ہے"بشارت احمدی" میں پہلے"اسمہ احمد" پر بحث ہے اور "اسمہ احمد" کے مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں،اور اسکے ساتھ مرزا محمود کی کتاب"انوار خلافت" کا جواب ہے۔"مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں۔" اس کتاب میں ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں ۔"عون المبعود" مرزا محمود قادیانی کی کتاب"القول الفیصل  علیہ السلام  کا جواب ہے۔مولانا حافظ عبداللہ رو پڑی(م1384ھ) نے"مرزائیت اور اسلام" کے نام سے ایک کتاب لکھی جس سے پہلے"مسئلہ ختم نبوت" پر بحث ہے اور اس کے بعد مرزا قادیانی کے نبی اور مسیح ہونے کی تردید ہے۔

شیخ الاسلام مولاناابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری(م1367ھ) نے قادیانیت کی تردید میں جو کتابیں تصنیف کیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"الہامات مرزا"،صحیفہ محبوبیہ"،شہادت مر زا"،فاتح قادیان"،عقائد مرزا"،چیتان مرزا"،مرقع قادیانی، مزار قادیان"، تاریخ مرزا"، نکات مرزا"، محمد قادیانی "، فیصلہ مرزا"،ناقابل مصنف مرزا"،بہاءاللہ اور مرزا"، علم کلام مرزا"، عجائبات مرزا"، اباطیل مرزا"،تحفہ احمدیہ"،مکالمہ احمدیہ"،ہیکرام اور مرزا"،مراق مرزا"،نکاح مرزا"،فتح ربانی "در " مباحثہ قادیانی"،فتح نکاح مرزائیاں"،شاہ انگلستان اور مرزا قادیانی"،تعلیمات مرزا"،ھفوات مرزا"،ثنائی پاکٹ بک"،آفتہ اللہ قادیانی مباحثہ دکن"،عشرہ کاملۃ"،تفسیر تونسی کا چیلنج اور فرار"،قادیانی نبی کی تحریر فیصلہ کن ہے یا میرا حلف؟"

"الہامات مر زا" میں مرزا قادیانی کے الہامات اور پیشن گوئیوں کاتذکرہ ہے۔"صحیفہ محبوبیہ" حکیم نور الدین قادیانی کی کتاب "صحیفہ آصفیہ" کا جواب ہے۔"شہادت مرزا" میں مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہونے کی تردید ہے،"فاتح قادیان" ایک مناظرہ کی روئیداد ہے جومولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  اور منشی قائم علی قادیانی کے مابین بمقام لدھیانہ ہوا تھا،"تاریخ مرزا" میں مرزا قادیانی کی"سوانح حیات" مرتب کی گئی ہے"فیصلہ مرزا"(مرزا قادیانی نے ایک اشتہار " مولانا ثناءاللہ کے ساتھ آخری فیصلہ "شائع کیا تھا،اس ر سالے میں اسکی تفصیل ہے)"نکاح مرزا" میں مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  نے ان کی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم سے منقول تمام پیشن گوئیوں کو غلط قرار دیاہے۔"ھفوات مرزا" میں مرزا صاحب  کے عقائد اور تناقضات بیان کیے گئے ہیں،"ثنائی پاکٹ بک" میں"قادیانی ،دھریہ،عیسائی،ہندو،بہائی،شیعہ،اہل قرآن کی جامع اور مختصر تردید ہے۔قادیانی مباحثہ دکن"یہ بھی ایک مناظرہ کی روئیدادہے۔جو مولانا امرتسری اور قادیانی علماء کے مابین سکندر آباد دکن میں 31 جنوری 1923ء کو ہواتھا۔"قادیانی نبی کی تحریر فیصلہ کن ہے یا میرا حلف؟" اس رسالہ میں  رسالہ سیٹھ عبداللہ دین سکندر آباد کے اشتہار کاجواب ہے۔

مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی(م1375ھ) نے قادیانیت کی تردید میں جو کتابیں لکھیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

"شہادۃ القرآن(2جلد)""الخبر الصحیح عن قبر المسیح"،"ختم نبوت اور مرزائے قادیان،"رسائل ثلاثہ"،نزول الملائکۃ والروح علی الارض"،مرزا غلام احمد کی بدکلامیاں،"نص خاتم النبوۃ الدعوۃ وجامعۃ الشریعۃ"،مسلم العلوم الی اسرار الرسول،"صدائے حق،" کھلی چھٹی"(2جلد) قادیانی حلف کی حقیقت،" مرزا غلام احمد قادیانی کا آخری فیصلہ،"کشف الحقائق یعنی رواداد  مناظرات قادیانیہ،"فیصلہ  ربانی برمرزائے قادیانی۔"

مولانا سیالکوٹی مرحوم کی"شہادت القرآن"(2جلد) صرف( إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ) کی تفسیر ہے۔ یہ کتاب مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام  پر ایسی گواہی ہے کہ حضرت مسیح  علیہ السلام  کو مردہ بتانے والے بھی(كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّـهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ)  پکار اٹھے۔

"الخبر الصحيح عن القبر المسيح" میں مرزا قادیانی کے اس قول کی تردید ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کی قبر کشمیر میں ہے۔"ختم نبوت اور مرزائے قادیانی"میں مولانا سیالکوٹی نے مرز اقادیانی کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔جو انہوں نے آیت قرآنی(صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ) سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد نبوت جاری ہے۔

مولانا ابو القاسم سیف بنارسی(م1369ھ) نے قادیانیت کی تردید میں"اظہار حقیقت"،رد مرزائیت" اور"قضاء ربانی بردعاقادیانی،" مولوی غلام احمد قادیانی کے بعض جوابات پر ایک نظر،" جواب دعوت،" میعار نبوت"،نوراسلام بجواب ظہور  اسلام"،"دفع اوہام از ظہور امام"،لکھیں۔"

"اظہارحقیقت"مرزا قادیانی کے مسیح موعود،مہدی، اورنبی ورسول ہونے کی تردید میں ہے۔"جواب دعوت" ایک قادیانی کتاب" دعوت الی الحق" کا جواب ہے۔"معیار نبوت" میں پہلے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا بشر ہوناقرآن مجید سے ثابت کیا گیاہے پھر"میعار نبوت" کی تعریف ذکر کی گئی ہے ،اس کے بعد آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دس پیشن گوئیاں اسلامی کتب سےنقل کی گئی ہیں اور مزید دس پیشن گوئیاں مرزا قادیانی کی اپنی کتابوں سے نقل کی گئی ہیں،اس کے بعد حق وباطل کو واضح کیاگیا ہے۔،"نور اسلام" ایک قادیانی کتاب"ظہور اسلام" کی تردید میں ہے۔اسی طرح"دفع اوہام" بھی ایک قادیانی رسالہ"ظہور امام" کے جواب میں ہے۔

مولانا حافظ محمد محدث گوندلوی(م1405ھ) نے دو کتابیں"ختم نبوت"اور"میعارنبوت" لکھیں۔"ختم نبوت"  میں پہلے یہ بحث کی گئی ہے۔کہ کفر وتکفیر کا حکم کب لگتاہے اور کس پر،اس کے بعد مرزا قادیانیوں کی دونوں پارٹیوں یعنی قادیانی و لاہوری کافرق واضح کر تے ہوئے ختم نبوت پر عقلی ونقلی دلائل سے اچھی طرح روشنی ڈالی ہے۔

مولانا ابو الحسن محمد سیالکوٹی(م 1325ھ) "بجلی آسمانی برسرد جال قادیانی"(2جلد) لکھی۔مولانامحمد اسماعیل علی گڑھی(م1311ھ) نے"اعلان الحق الصريح بتكذيب مثيل المسيع" مرتب فرمائی۔

مولانا عبدالمجید سوہدروی(م1379ھ)"داستان مرزا" لکھی۔مولانانور حسین گھرجاکھی(م1371ھ) نے"چودھویں صدی کا دجال"اور"ختم نبوت" لکھیں۔مولانا عبدالستار دہلوی(م1386ھ)"القول الصحيح في اثبات المسيح" تصنیف کی۔مولانا محمد حنیف ندوی(م1408ھ) نے"مرزائیت نئے زاویوں  میں" لکھی۔مولانا عبدالکریم فیروز پوری(م1308ھ) نے"حقیقت مرزایت" اور "مباہلہ پاکٹ بک" لکھیں۔ان دونوں کتابوں کے بارے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں کہ:

کتاب "حقیقت مرزائیت"اور "مباہلہ پاکٹ بک" دونوں کے مصنف مولانا عبدالکریم ایڈیٹر"مباہلہ" کے زور قلم کا نتیجہ ہے،موصوف 17سال مرزائی رہ کر مشرف باسلام ہوئے ہیں۔"(اہل حدیث امرتسر:30دسمبر 1935)

مولانا صفی الرحمان مبارکپوری"استاد حدیث جامعہ بنارس" نے قادیانیت کے رد میں "قادیانیت اپنے آئینہ میں" اور "فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری" مرتب  فرمائیں۔

جماعت اہلحدیث:۔

علمائے اہل حدیث نے جہاں بے شمار دوسرے موضوعات پر قلم اٹھایا وہاں"مسلک اہل حدیث" کی تائید ونصرت اور حمایت میں بھی کتابیں لکھیں۔"مسلک اہلحدیث"پرمخالفین کی کتابوں کے مسکت جوابات بھی دئیے اور اس کے ساتھ ساتھ "تاریخ اہل حدیث" رقم کرنے پر گران قدر علمی خدمات سرانجام دیں۔ذیل میں چند معروف ومشہور کتابوں کا  تذکرہ کیا جاتا ہے جو "مسلک اہل حدیث" کی حقانیت اور اس کے دفاع میں لکھی گئیں۔

مولانا قاضی محمد مچھلی شہری(م1320ھ) نے"عقائد اہل حدیث معہ فتاویٰ"کتاب لکھی اس کتاب میں اہل حدیث کے عقائد اور اس مذہب کی قدامت وفضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

 اور آخر میں نتیجہ،دسواں،چالیسواں،اورمیلاد کی تردید بھی کی گئی ہے۔

شیخ الاسلام مولاناثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ (م1367ھ) نے"تحریک وہابیت پر ایک نظر" مسئلہ حجاز پر نظر" اور سلطان ابن سعود،"علی برادران اور موتمر"کتابیں لکھیں۔

"تحریک وہابیت پر ایک نظر" میں مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  مرحوم نے"سلسلہ وہابیت" اور اس کے داعی امام محمد بن عبدالوہاب نجدی(م1206ھ) کے حالات اور مسئلہ قبہ جات کے متعلق علمائے احناف کے فتاویٰ جمع کیے ہیں۔

"مسئلہ حجاز پر نظر"یہ کتاب انجمن حزب الاحناف کی جانب سے شائع کردہ رسالہ"اثبات بناء قبہ جات" کا جواب ہے۔اس کتاب میں مذہبی وسیاسی دونوں حیثیتوں سے مسئلہ حجاز  پر بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کیاگیاہے کہ حجاز کی خدمت کے لیے بہترین خادم سلطان عبدالعزیز ابن سعود ہی ہیں۔

"سلطان ابن سعود"،"علی برادران اور موتمر" سلطان ابن سعود رحمۃ اللہ علیہ  نے"جنت المعلی"اور جنت البقیع"میں جو قبے بنے تھے ان کو  گرادیا،اس پر ہندوستان میں مولانا محمد علی،مولانا شوکت علی اور دوسرے علمائے احناف نے شور مچایا،سلطان ابن سعود نے حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں  برصغیر کے علمائے کرام کو بھی دعوت دی گئی ،اس کانفرنس میں مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ  بھی شامل تھے،مولانا امرتسری نے اس کتاب میں کانفرنس کی پوری کاروائی من وعن پیش کردی ہے۔

مولانا حافظ عبداللہ امرتسری روپڑی(م1386ھ) نے"اہل حدیث کی تعریف"اور"اہل سنت کی تعریف"،دو کتابیں لکھیں۔"اہل حدیث کی تعریف"میں اہل حدیث کی تعریف اوراس کے ساتھ مولانا اشرف علی  تھانوی کے رسالہ"الاقتصاد فی بحث التقلید والاجتہاد" اور مولوی ارشاد حسین رام  پوری کے رسالہ"انتصار الحق" کا جواب ہے۔اسی طرح"اہلسنت کی تعریف" میں اہل سنت کی تعریف کی گئی ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع کےاعتبار سے بہت عمدہ ہے۔

مولانامحمد ابراہیم میر سیالکوٹی(م1375ھ) نے"تاریخ اہل حدیث" تالیف کی،اس کتاب میں مذہب اہل حدیث کی مکمل تاریخ سمودی ہے۔اور اس میں مذہب اہل حدیث کی مکمل تاریخ کے علاوہ مذہب اہلحدیث کے اصول ذکر کرتے ہوئے تقلیدی مذاہب سے بھی مقابلہ کیاگیا ہے۔

مولانا ابو القاسم سیف بنارسی(م1369ھ) نے"ايضاح الطريق لصاحب التحقيق" کتاب لکھی،یہ کتاب مولوی حبیب الرحمان اعظمی حنفی کی کتاب"تحقیق اہلحدیث" کے جواب میں ہے۔

مولانا نزیر احمد دہلوی(م1385ھ) نے"اہل حدیث اور سیاست" کے نام سے ایک کتاب مرتب فرمائی،یہ کتاب برصغیر میں حضرت شاہ اسماعیل شہید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کے تجدید دین کے لئے چلائی گئی تحریک میں حصہ لینے والے اورحضرت شاہ شہید کےبعد اس تحریک کو جاری رکھنے والے اور"میدان سیاست" میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے والے مشہور علمائے اہل حدیث کے حالات  پر مشتمل ہے ۔اس کے علاوہ اس کتاب میں مخالفین کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ بھی لیاگیا ہے۔

مولانا خالد گھرجاکھی نے ایک کتاب بنام"کوائف یاغستان"مرتب کی، اس کتاب میں سید احمد شہید دہلوی اور مولانا شاہ اسماعیل شہید  کے حالات اور ان کے کارناموں کی تفصیل درج ہے۔مولانا خالد گھرجاکھی کی دوسری کتاب"مولانا  فضل الٰہی مرحوم وزیر آبادی" ہے۔اس کتاب  میں مولانا فضل الٰہی کے حالات اور1900 سے 1951ءتک کےمجاہدین کی سرگزشت ہے۔

شیخ الحدیث مولانامحمد اسماعیل السلفی(1387ھ) نے ایک بے نظیر اور عمدہ کتاب"تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی تجدیدی مساعی"مرتب فرمائی،اس کتاب میں مولاناسلفی مرحوم نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ وجوب تقلید کا دعویٰ بے بنیاد ہے ۔ائمہ اربعہ بھی اسکو پسند نہیں کرتے تھے۔

پھر شاہ ولی اللہ دہلوی نے فقہی اجتہادی مسائل میں جو حل پیش کیا ہے۔اس کو بھی بیان کیا ہے اور اس کےبعدیہ بھی واضح کیا ہے کہ"عمل بالکتاب والسنۃ" کی دعوت ہر دور میں زندہ تھی۔

"تحریک آزادی فکر" کا عربی میں ترجمہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری"استاد حدیث جامعہ سلفیہ بنارس" نے بنام"حركة الانطلاق الفكري وجهود الشاه ولي الله في التجديد." کیا ہے۔

مولانا عبدالمبین منظر(م1410ھ)نے"اہل حدیث اور اس کا پس منظر"کتاب لکھی،جس میں مسلک اہل حدیث کی فصاحت،تعارف،اوراصحاب الحدیث کے علمی اور عملی کارناموں کی تفصیل بیان کی ہے۔

مولانا عزیزالرحمان سلفی نے"جماعت اہل حدیث" کی تدریسی خدمات"مرتب فرمائی،اس کتاب میں برصغیر میں جماعت اہل حدیث کےمدارس کاتعارف بھی کرایا گیا ہے۔

مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی(م1336ھ) نے"حسن البیان فی سیرۃ النعمان" مرتب فرمائی،یہ کتاب مولانا شبلی نعمانی(م1332ھ) کی"سیرۃ النعمان" کاجواب ہے جس میں علم حدیث اور ائمہ حدیث پر تنقید کی گئی تھی۔مولانا محمد  اسحاق بھٹی نے"ارمغان حنیف" اور"برصغیر میں علم حدیث" کتابیں لکھیں ہیں،"ارمغان حنیف"مولانا محمد حنیف ندوی(م1408ھ)  کی سوانح حیات اور ان کے علمی کارناموں پر مشتمل ہے۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمۃ اللہ علیہ (م1408ھ) نےمختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں،آپ کی تصانیف عربی،فارسی،انگریزی،اردو اور دیگر متعدد زبانوں میں ہیں،علامہ شہید کی تصانیف کی فہرست حسب ذیل ہے۔

"القادیانیۃ"(عربی) "الشیعۃ والسنۃ"(عربی)"الشیعہ واھل بیت"(عربی)

 الشیعہ والقرآن(عربی)"الشیعہ والتشیع"(عربی)

"بین الشیعۃ واھل البیت"(عربی)"البانیہ"(عرض ونقد) (عربی)"

البہایہ"(عربی)"التصوف والمنشاء والمصادر"(عربی)

"الاسماعیلیۃ"(عربی)"البریلویۃ"(عربی)"قادیانیت(انگریزی)،"شیعہ وسنت"(فارسی) "شیعت"(انگریزی)"مرزائیت اور اسلام"(اردو)"دراسات التصوف"(عربی)"بریلویت"(انگریزی)"سفرحجاز"(اردو)

"کتاب الوسیلۃ" (ابن تیمیہ) بتبویب وترجمہ اردو،"کتاب التوحید"(امام محمد بن عبدالوہاب) ترجمہ انگریزی ،کتاب "الوسیلۃ"(انگریزی) ،حج وعمرہ(اردو)

"البریلویۃ" اور"الشیعۃ والسنۃ" کے اردو تراجم مولانا عطاءالرحمان ثاقب کے تحریر کردہ ہیں۔