(((مورخہ 11ستمبر 1994ء کے لیے"محدث" کے مدیر اعلیٰ کو جہاد کے پس منظر میں فرقہ وارانہ تشدد  پرغور وخوض کے مقصد سے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،جو عملاً مشاورت کے بجائے جلسہ عام کی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔تاہم موصوف نے جذباتی فضا میں جذبہ جہاد کوفرقہ وارانہ منافرت سے بچانے کے لئے جہاد کی تنظیم اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت متحد کرنے پر زور دیا۔اگرچہ ادارہ "محدث" سمیت متعلقہ تمام ادارے نہ صرف جہادی فکر کی تخم ریزی اور سیرابی کے لئے کوشاں ہیں بلکہ غزو فکری کے ساتھ ساتھ جہاں جانی اور مالی طورپر عملاً جہاد افغانستان،بوسنیا،اور کشمیر میں شریک رہتے ہیں،وہاں اس تجویز کے شدت سے موئید ہیں کہ جہاد کانعرہ لگانے والی ٹولیاں متحد ہوکر کام کریں ،نیز نوجوانوں کو بزرگوں کی سرپرستی میں کام کرناچاہیے تاکہ جوش ہوش پر غالب نہ آنے پائے،بعض جوشیلے لوگوں کی دینی قوتوں کی شیرازہ بندی یا اعتدال کے ایسے مشورے بھلے معلوم نہیں ہوتے۔وہ وضاحت کا موقع دیے بغیر تردیدی خطابات کا"جہاد" شروع کردیتے ہیں،بلکہ زبان بندی سے بھی نہیں چوکتے۔سطور ذیل میں ہم مذکورہ خطاب کا ایک خلاصہ اور سوال وجواب کی شکل میں مخالفانہ تقاریر پر وضاحتیں شائع کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں افراط وتفریط سے بچائے اور شریعت کے میزان عدل پر عمل کی توفیق دے۔آمین!۔۔۔(ادارہ)،)))

جہاد کی اہمیت،فضیلت اور فوائد پر کتاب وسنت کی تعلیمات ا س قدر واضح ہیں کہ اس پر قرآن وحدیث پر نظر رکھنے والا کوئی شخص شک وشبہ کا شکار نہیں ہوسکتا تاہم جہاد کی وسعتوں اور آداب وضوابط سے آگاہی بڑی ضروری ہے ،جہاد،بدی کی قوتوں کے خلاف غلبہ اسلام کی انتہائی بھر پور مساعی کانام ہے جس کو فقہی اصطلاح میں فرض کفایہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ حکم مسلمانوں کی اجتماعی قوت سے جبروظلم کاخاتمہ کرکے اللہ کے دین کی راہیں ہموار کر تی ہے۔اسی کے نتیجہ میں اسلام کا مشن"امن وفلاح"  پروان چڑھتا ہے۔لہذا جہاد کامقصد اورآداب کا علم ان لوگوں کے لئے بڑا ضروری ہے جو اس مشن کو اپنے گلے لگائے ہوں تاکہ مجاہدین کے خلاف دہشت گردی اور فساد انگیزی کے شبہات کا ازالہ ہوسکے۔جہاد کے آداب کے سلسلہ میں مسئلہ قصاص پر غور کریں جوبظاہر قتل وغارت کے بدلے زیادتی کرنے والے کا جان ومال کا ایک نقصان ہی ہے لیکن قرآن مجید اسے "زندگی"(1) قرار دیتا ہے کیونکہ برابر بدلہ لینے میں ہی انسانی جان ومال کے تحفظ کی ضمانت ہے ۔مگر یہ امر واضح ہے کہ اگرچہ قصاص میں جماعت(حکومت) پر فرد(2) مجروح یا مقتول کے ورثاء) کو یک گونہ برتری حاصل ہے کہ ان کی رضا مندی کی وجہ سے قصاص معاف ہوجاتاہے۔لیکن چونکہ قصاص(3) کا حکم  مسلمانوں کی جماعت کو ہے اس لئے کوئی شخص خواہ مقتول کے ورثاء ہی کیوں نہ ہوں خود بدلہ نہیں لے سکتا کیونکہ اگر یہ صورت چل پڑے تو پھر امن وامان کے بجائے فساد وخون کا دور دورہ ہوگا کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے جان ومال کا زیادہ سے زیادہ نقصان کرنا چاہے گا جس سے قصاص کا مقصد ہی الٹ جائے گا۔بالکل یہی صورت اسلام میں"قتال" کی ہے جسے عام لڑائی جھگڑے سے الگ سمجھنا چاہیے۔اگرچہ قتال کی دو شکلیں ہیں(1) دفاع(2) طلب۔۔۔دونوں کے بعض احکامات مختلف بھی ہیں جیسے دفاعی صورت میں جہاد فرض عین بن جاتا ہے۔اسی طرح جب کسی گھر پر چور ڈاکو حملہ آور ہوجائے تو اس وقت تنظیم وجماعت کی لازمی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ ایسا مظلوم اپنے جان ومال اور عزت کی حفاظت میں جان بھی دے  دے تو شہید(4) ہوگا۔

اس وقت د نیا میں مسلمانوں کے خلاف کفار کی یلغار کے رد عمل میں عموماً مسلمانوں کا "جہاددفاع" ہے،جس کامعاملہ بعض دفعہ جہاد کی دوسری شکل سے خلط ملط ہوجاتا ہے۔جہاد طلب میں مسلمان نظام کفر کا ظلم وستم ختم کرنے کے لئے خود پیش قدمی کرتے ہیں۔ اور بقول ربعی بن عامر(نمائندہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فاتح قادسیہ) انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلا کر رب العالمین کی بندگی میں لاتے ہیں تاکہ دنیا میں امن وسکون بحال ہوکر اخروی فلاح کے رستے رواں ہوں۔جس کاذکر قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:(5) چونکہ ایسے مواقع  پر خون گرم کرنے کے لئے جذباتی نعرے لگائے جاتے ہیں کہ جس طرح افغانستان کے جہاد کے نتیجے میں روس کے ٹکڑے ے ہوئے ہیں،امریکہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا یا کشمیر کو  فتح کرکے دھلی کے لال قلعہ پر ہلالی جھنڈا لہرائے گا۔اس لئے جوشیلے نوجوان جہاد دفاع اور جہاد طلب کا فرق نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے روس کے نکلنے کے بعدجو وہاں خانہ جنگی کی شکل بنی ہے اس سے پریشانی ہورہی ہے۔روس کے حملے کی وجہ سے افغانستان کا جہاد دفاعی تھا اور اس کے نکل جانے کے بعد اس کی نوعیت غیروں کی سازشوں سے کچھ سے کچھ بن گئی ہے۔

اسی پریشان کن صورت حال کی وجہ سے میں ایک اہم امر کی طرف توجہ دلاناچاہتا ہوں کہ چونکہ جہاد وقتال کا حکم جماعت کو ہے لہذا اس میں تنظیم واتحاد کی بڑی ضرورت ہے۔جان ومال کی قربانی کا اصل تصور قرآن کی سورۃ توبہ کی آیت:

﴿إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ...﴿١١١﴾...التوبة

سے ماخوذ ہے،چنانچہ قتال کے لئے امیر بیعت بھی لیتا ہے جو جان ومال تک قربان کرنے کےلیے ہوتی ہے۔سورہ توبہ کی اسی آیت کے آخر میں اس بیعت کا ذکر بھی ہے۔

﴿فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ... ﴿١١١﴾...التوبة

(اس سودے پر خوش ہوجاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے) یہاں جس بیع (سودے) کا ذکر ہے،اسے ہی امیر کے ہاتھ پر بیعت(ایک طرح کا سودا) کرکے شہادت حق کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔چونکہ مومنوں کا یہ معاملہ اللہ ہی سے ہے لہذا یہ بیعت بھی حقیقت میں اللہ سے ہوتی ہے جو اگرچہ نبی یا اس کا خلیفہ(نائب) جو مسلمانوں کا امیر ہوتا ہے ،لیتا ہے لیکن اصل معاہدہ اللہ ہی سے ہے جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّـهَ يَدُ اللَّـهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ...﴿١٠﴾...الفتح

جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔(گویا) اللہ کاہاتھ ان کے ہاتھوں  پر ہے۔

گویا جان ومال کی قربانی جو بندگی کی کامل شکل ہے وہ درحقیقت نبی کےلیے بھی نہیں ہوتی(6) بلکہ صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے نبی یا اس کا خلیفہ تو صرف بطور نمائندہ بیعت لیتے ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ قتال کفار کے لئے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد واتفاق کی شدید ضرورت ہے تاکہ بعد میں انتشار واختلاف سے بچا جاسکے۔

اس وقت افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ صرف اہل حدیث میں شریک جہاد  پانچ ٹولیاں ہیں۔

1۔مرکز الدعوۃ والارشاد۔(حافظ محمد سعید)

2۔جماعت مجاہدین(مولانا عبدالکریم ،چوہدری ظفر اللہ وغیرہ۔

3۔مرکزی جمیعت اہل حدیث کا شعبہ جہاد۔

4۔تحریک مجاہدین اسلام(مولوی خالد سیف شہید رحمۃ اللہ علیہ )۔

5۔تحریک جہاد کشمیر(مولانا عبداللہ ناصر رحمانی)

کم از کم ان سب کو تو اکٹھا ہونا چاہیے جو سب اہل حدیث ہیں لہذا بنیادی مسلک ایک ہونے کی بناء پر فروعی اختلافات کے باوجود جو اجتہاد پر مبنی ہوتے ہیں ان میں انتشار نہیں ہونا چاہیے۔

مجھے بڑی حیرت ہے کہ مرکز الدعوۃ والارشاد،متحدہ جمیعت اہل حدیث سے الگ ہوگیا ہے حالانکہ دونوں کا جمہوریت کے مسئلہ پر بھی اتفاق ہے۔اور دونوں جماعت کے نظام کو شرعی طریقہ پر قائم کرنے کے داعی ہیں۔بہرصورت یہ  تجویز پیش کرتاہوں کہ اہل حدیث کو انتشار سے محفوظ رکھنے اور اتحاد کے لئے راہیں ہموار کرنے پر غور فرمائیں جو وقت کا شدید  تقاضا ہے۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

سوال۔جہاد فرض عین ہے لہذا جس  طرح خلیفہ(امیر) کے بغیر نماز ہورہی ہے جہاد بھی ہر شخص کوکرنا چاہیے؟

جواب۔جہاد نماز کی مانند فرض عین نہیں ہے۔نماز کا حکم فرد کو بھی ہے اور جماعت کو بھی،یہ وجہ ہے کہ نماز باجماعت نہ ہوسکے تو تنہا پڑھنی ضروری ہے اگرچہ اس کے فوائد بڑی سے بڑی جماعت کی صورت میں بہت زیادہ ہیں۔جہاد کے فرض کفایہ ہونے کی دلائل بہت ہیں فی الحال بخاری کی مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ ہو:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (( مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا نُبَشِّرُ النَّاسَ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .....الحدیث

"ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:جو شخص اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لاکر نماز،روزے کا اہتمام کرے اللہ پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کردے خواہ وہ اللہ کے  رستہ میں جہاد کرتا ہو یا اسی زمین پر بیٹھا رہے جہاں  پیدا ہوا۔صحابہ نے(یہ سن کر)عرض کی،اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ،کیا اس کی بشارت ہم عام لوگوں کو دے دیں تو  آپ نے فرمایا:جنت میں سو د رجے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے صرف مجاہدین کےلیے تیار کیے ہیں۔الخ

جہاد کی ترغیب وفضیلت مسلمہ امر ہے۔لیکن:

"جاهد في سبيل الله أو جلس في أرضه التي ولد فيها"

کے الفاظ واضح دلیل ہیں کہ جہاد ہر شخص  پر بعینہ فرض نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ ہے۔یعنی مسلمانوں کی جماعت  میں سے وافر تعداد کا نکلنا کافی ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی یہ صراحت موجود ہے:

﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ﴿١٢٢﴾...التوبة

"اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہئے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وه دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وه ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وه ڈر جائیں"

واضح رہے کہ نفیر عام اورفرض کفایہ میں فرق بھی ہے۔ نفیر عام میں ہر قابل شخص کا لڑائی کے لئے نکلنا ضروری ہوتا ہے۔جبکہ فرض کفایہ میں ایک وافر تعداد جنگ کے لئے کافی ہوتی ہے۔اگرچہ یہ مغالطہ بھی دور ہوجانا چاہیے کہ جو کام(مثلاً  تعلیم وتعلم،دعوت وارشاد اور جہاد وقتال) فرض کفایہ ہیں،انہیں جماعت پر فرض قرار دینے کامفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی میں تمام چیزوں کی اپنے اپنے محل میں اہمیت ہے لہذا اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق تمام امور انجام پانے چاہیں اور جماعتی تنظیم ورابطہ کی وجہ سے یہ سب کام ایک دوسرے کی تقویت کاباعث بھی بنیں گے ۔جو لوگ جہاد وقتال کے نعروں سے علم وتحقیق کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں وہ  فکری لغزش کا شکار ہیں۔فقہی زبان میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ نماز نہ صرف مناسک شریعت سے ہے بلکہ ارکان اسلام خمسہ کی دوسری بڑی کڑی ہے  جبکہ جہاد مناسک شریعت میں سے نہیں ہے بلکہ مناہج شریعت سے ہے،مناہج شریعت کو مناسک شریعت پر قیاس کرنا ہی غلطی ہے۔

سوال۔جہاد وقتال کے لئے تنظیم وجماعت ضروری نہیں ہے  صلح حدیبیہ کے بعد ابو بصیر مکہ مکرمۃ  سے مدینہ منورہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پہنچ گیا تو قریش نے صلح کے معاہدے کے مطابق ددآدمی اسے حاصل کرنے کے لئے مدینہ منورہ بھیجے تھے کہ جس پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابو بصیر کو واپد کردیا تھا۔چنانچہ ابو بصیر نے رستہ میں دھوکہ دے کر دونوں میں سے ایک کو قتل کردیا۔اور دوسرا بھاگ گیا پھر ابو بصیر حرمین کے بجائے ساحل سمندر پر چلاگیا اور وہاں اسے ابو جندل وغیرہ بھی جاملے جنھوں نے کافروں کےتجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا؟

جواب۔جہاد وقتال غلبہ اسلام کی منظم مساعی کا نام ہے۔جہاد کا اسلامی مفہوم نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی یہ مغالطہ  پیدا ہوا ہے علماء"جہاد" سے امتیاز ظاہر کرنے کے لئے ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وغیرہ کی کاروائی کو "مشاغبہ" کا نام دیتے ہیں جس کا معنی لڑائی جھگڑا ہے۔ابو بصیر کا مدینہ منورہ آنے والے دو آدمیوں میں سے ایک کو قتل کرنا"مشاغبہ" کی قسم ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے دوبارہ مدینہ منورہ آن کر یہ واضح کیاتھاکہ اس کا تو کوئی معاہدہ ان اشخاص سے نہیں تھا چونکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا معاہدہ حدیبیہ موجود تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اسے پناہ نہ دے سکے۔اس وقت ابو بصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مسلمانوں کی جماعت کا ایک فرد بھی نہ تھا ورنہ وہ بھی صلح حدیبیہ کا پابند ہوتا۔لہذا اس کاروائی کو مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جہاد کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ایسے اشخاص کے لئے اسلامی احکام دوسرے ہیں۔البتہ اگر اسے جان ومال کے دفاع کی صورت مان لیا جائے  کہ یہ کاروائی اس نے کافروں کے ظلم سے خود کو بچانے کے لئے کی تھی جس میں دفاع دہ قاتل بن کر بعد میں خود کو بچانے کےلیے دوسروں کے ساتھ جتھہ بندی پر مجبور ہوجائے چنانچہ ایسی خاص صورت میں بھی جماعت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن اس مخصوص صورت کو جہادطلب اور جہاد دفاع کی عام صورتوں کی دلیل نہیں بنایاجاسکتا۔در  اصل یہ مغالطہ اسی لئے پیدا ہوا کہ اول تو جہاد کو صرف قتال میں محدود کردیا  گیا  پھر مسلمانوں کے ہر لڑائی جھگڑے کو جہاد وقتال سمجھ لیا گیا۔

سوال۔جہاد افغانستان میں شریک ہونے والے اب جہاد کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟

جواب۔جہاد کو منظم کرنے اور متحد ہوکر مساعی بروئے کار لانے کی تجویز کو"جہاد" کی مخالفت قرار دینا زیادتی ہے۔بعض جوشیلے نوجوانوں کو یہی مغالطہ سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز مفتی اعظم سعودی عرب اور محدث عصر شیخ ناصر الدین البانی  کے فتوؤں سے بھی ہواہے۔حالانکہ افغانستان وغیرہ کے جہاد کو وہ" اسلامی جہاد"قرار دے چکے ہیں اور اس کے بعد افغان ٹولیوں کے انتشار ہی کی وجہ سے وہ امیر وتنظیم پر زور دیتے ہیں ۔واضح رہے کہ افغانستان کاجہاد دفاعی تھا اور یہی صورت حال بوسنیا اور کشمیر وغیرہ میں بھی ہے۔لہذا ان میں سب مسلمانوں کو دامے ورمے سخنے شریک ہونا چاہیے۔لیکن جس طرح جہاد میں شرکت کے لئے یہ حدیث(7) دلیل ہے کہ"مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصہ کے دکھ میں باقی  اعضاء بخار اور بیداری کی صورت شریک ہوتے ہیں۔"اسی طرح جہاد کو  منظم کرنے اورمتحد ہونے کی بھی یہی دلیل ہے کہ جسم کسی منتشر شے کا  نام نہیں بلکہ مرض اگر اضمحلال کی صورت کا نام ہے تو انتشار نظم ہی موت کا پیغام ہوتاہے۔

سوال:جہاد کے لئے ماں باپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔نہ امیرکی،خلفائے راشدین کے دور میں مثنی بن حارثہ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اجازت کے بغیر ہی فارس میں جہاد شروع کردیا تھا۔

جواب:اسلام کے بارےمیں انتہا پسندانہ نقطہ نظر ہی مخالفین کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے طعن دیں حالانکہ اسلام نظم ونسق کی اتنی اہمیت پر زور دیتا ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عام حالات کے علاوہ ہنگامی حالات میں بھی اسلام آداب وضوابط کی شدت سے پابندی کا اہتمام کرتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر نظاموں میں نظریہ ضرورت اور ہنگامی حالات تمام  قوانین اور دعوؤں کا تیا پانچہ کردیتے ہیں۔مغرب نے انسان کے بنیادی حقوق کا اتنا  پروپیگنڈا کیا ہے کہ الہامی مذاہب کی تعلیمات کو انسانی  پاؤں کی بیڑیاں بنا کر پیش کرنے میں غلطاں ہے۔لیکن خود طاقت کے نشے میں مخمور سیاست دانوں کے لئے نظریہ ضرورت کے نام  پر انسان کے بنیادی حقوق کو جوتی کی نوک پر رکھ کر ٹھکرا دیتاہے۔اسی طرح من مانی کے لئے ہنگامی حالات کا ہواکھڑا کرکے تمام قوانین کی دھجیاں بکھیرنے سے بھی نہیں چوکتا۔اس کے بالمقابل اسلام اس قدر نظم وضبط کاقائل ہے کہ ہنگامی حالات کےلیے بھی بھر پور ضابطہ بندی کی تلقین کرتا ہے۔قواعد فقیہ میں الضرورات تبيح المحظورات مجبوریاں،ممنوعات کے لئے گنجائش  پیدا کرتی ہیں۔کے ساتھالضرورة تقدر بقدرها وغیرہ ضوابط(Legal Maxims)اسی غرض سے رکھے گئے ہیں کہ انسان ہنگامی حالات میں بھی بے قاعدہ نہ ہو۔یہ ضوابط قرآن کریم کی آیت:

"فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ"

سے مستنبط ہیں کہ مجبوری کی حالت میں انسان حرام کی طلب اور حاجت کی حد سے تجاوز نہ کرے۔

بہرحال جہاد کے بارے میں ماں باپ کی اجازت کی ضرورت کے لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کی تبویب اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی دلیل ملاحظہ کریں: باب الجهاد بإذن الأبوين(جہاد والدین کی اجازت سے ہونا چاہیے) کے تحت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جو یوں ہے:

"جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنه في الجهاد فقال أحي والداك قال نعم قال ففيهما فجاهد"

"ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضرہوکر جہادکے بارے میں خواہش کا اظہار کرتا ہے تو  آپ نے پوچھا:کہ تیرے ماں باپ زندہ ہیں جس کا جواب اس نے ہاں میں دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:پھر تو ان کی خدمت میں رہ کر ہی جہاد کر!"

اس سے اگلے باب میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک دوسرے شخص کے بارے میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ذکر کیا ہے جسے مجاہدین میں نامزد کردیا گیاتھا لیکن جب معلوم ہواکہ اس کی بیوی حج کے لئے تیار ہے تو آپ نے اسے جہاد کی بجائے بیوی کے ہمراہ حج کی ہدایت فرمائی حالانکہ نامزدگی کے بعد جہاد فرض عین ہو جاتاہے مگر اس کے باوجود حکم میں تبدیلی فرمادی۔

باقی رہا جہاد وقتال کامسئلہ اس میں تو نظم ونسق مثالی ہونا چاہیے۔دنیا میں فوج کا اعلیٰ نظم ونسق بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔اس میں یہ مغالطہ  پیش کرنا کہ ماتحت حکام خلیفہ کی اجازت کے بغیر ہی جہاد جیسے اہم امور میں کود جاتے تھے،بڑی زیادتی ہے قرآن کریم کی سورہ نور کی مندرجہ ذیل آیت ملاحظہ کریں:

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ... ﴿٦٢﴾...النور

"ایمان والے لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔۔۔"

آیت بالا جس طرح اجتماعی امور میں  رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جو سیاسی حکمران بھی تھے) کی اجازت۔۔۔پر زور دیتی ہے۔جن میں جہاد جیسا اہم امر بھی شامل ہے چنانچہ اس میں شرکت اسی طرح اجازت کی محتاج ہے جس طرح مسلمانوں کی صفوں میں شریک ہوکر رخصت کے لئے اجازت ضروری ہے۔آیت مذکورہ سے ماتحتوں کےلیے خلیفہ کی اجازت بطور"دلالۃ النص" ثابت ہے۔تاریخ وحدیث میں ایسے ہنگامی واقعات جن میں خلیفہ وقت کی فوری اجازت کے بغیر سپہ سالار بن جانا یا کسی کو معزول کردینا ظاہر ہوتا ہے ان کو نظم ونسق سے فرار کی بجائے نظم ونسق کا ایک تقاضا ہی سمجھنا چاہیے۔اسی طرح جو لوگ جہاد ہی کی غرض سے بھیجے جاتے ہیں انھیں ہر حملہ کےلیے نئے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔مثنیٰ بن حارثہ شیبانی کے بارے میں اول یہ واضح رہے یہ واقع تاریخی ہے جس سے مسائل شرعی کا استنباط درست نہیں تاہم صورت حال وہ نہیں جو سوال میں ظاہر کی گئی ہے بلکہ مورخین کا اس میں اختلاف ہے کہ عراق کی بڑی لڑائیوں کے لئے انھوں نے خود مدینہ منورہ پہنچ کر اجازت لی تھی یاحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف سے مثنیٰ کی شہرت سن کر کمک روانہ کی گئی تھی تاہم اس بات پر مورخین متفق ہیں کہ وہ قبل ازیں بحرین میں مرتدین کی سرکوبی میں علاء حضرمی کے معاون رہے تھے۔ یہ سرگرمیاں ان کی شہرت کا باعث ہوئیں۔چونکہ بحرین میں مرتدین کو اکسانے کا معاملہ فارس کی طرف سے شروع ہوا تھا اس لئے مثنیٰ کو مرتدین کی سرکوبی میں ہی فارس کے ماتحت علاقوں سے نبرد آزما ہونا پڑا تھا۔لہذا ایسی  پیش آمدہ صورت کو امیر کی اجازت کے بغیر جہاد قرار دینا غلط ہے۔یہ واقعات حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی طرف سے علاءحضرمی کو جن کے معاون مثنیٰ بن حارثہ بنے،جہاد کی غرض سے روانہ کرنے والی مہم کا حصہ تھے یہی وجہ ہے کہ انکاخمس برابر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو بھیجا جاتا رہا۔

حواشی:۔

1۔وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ(البقرہ:179)

"اے اہل بصیرت،تمہارے لئے برابر بدلہ لینے میں ہی زندگی ہے۔"

2۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى(البقرہ:178)

"اے ایمان والو!تمہارے اوپر مقتولوں کے بارے میں قصاص فرض کیا گیا ہے۔"

3۔انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ(التوبہ:41)

"(دشمن کے مقابلے میں) نکل پڑو ہلکے یا بوجھل اور اللہ کے راستے میں جان ومال کے ساتھ جہادکرو۔"

4۔وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا(بنی اسرائیل:33)

"جو کوئی ناحق قتل کردیا جائے،تو ہم نے اس کے ولی ہو کہ غلبہ دیا  ہے۔"

5۔ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (بخاری)

"جو کوئی اپنے مال کی حفاظت میں ماراجائے وہ شہید ہے۔"

6۔ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّـهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ(آل عمران:79)

" کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب وحکمت اور نبوت دے، یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وه لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وه تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب "

"مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى شيئا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى " (بخاری)

""مسلمانوں کی آپس میں دوستی ،محبت اور ہمدردی کی مثال ایسے جسم کی سی ہے جس کاایک عضو متاثر ہوجائے تو سارا جسم بیداری اور بخار کی صورت میں اس عضو کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔"