خالق ارض وسماء نے کائنات رنگ وبو میں مختلف خاصتیوں کے حامل انسان پیدا کیے ہیں اور ان میں مختلف درجات وطبقات کا سلسلہ قائم کردیا۔ان میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام  علیہ السلام   کو عطا کیا اور ان میں امام الانبیاء علیہ السلام   اورافضل الانبیاء علیہ السلام   کےمقام پر ہمارے آقا ومولیٰ خاتم النبیین حضرت محمد ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوفائد کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد تقویٰ وتورع کے لحاظ سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کامرتبہ اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ان کے بعد محدثین عظام اور علماء کرام کا مرتبہ ہے۔جنھوں نے اپنے آپ کو دین حق کی ترویج واشاعت کے لئے وقف کردیا اور وہ"إن العلماء ورثة الأنبیاء علیه السلام  " کےمعیار پر  پورے اترے۔

ان محدثین عظام اور علماء کرام کے گروہ میں بھی مختلف اوصاف کی بناء پر درجہ بندی ہے ۔ان میں سے بعض نے ا پنے حافظے کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے کے سبب دین حق کے منبع علم یعنی قرآن وحدیث کو مکمل طور پر دوسروں تک  پہنچانے کی انتہائی کوشش کی اور مسائل کے استنباط اوراجتہاد کی بہترین اہلیت وصلاحیت کے ساتھ امت مسلمہ کو فہم دین سے سرفراز کیا تاہم عدم فرصت کے سبب وہ  تصنیف وتالیف کا کوئی کام نہ کرسکے۔

اور انہیں میں سے بعض ائمہ حدیث نے اپنے اعلیٰ درجہ کے حفظ وضبط کے ساتھ دروس وتدریس کا کام بھی کیا اور اس کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کے میدان میں بھی گراں قدر سرمایہ علم چھوڑ گئے جن کے مطالعہ سے ان کی اعلیٰ درجے کی فقاہت واجتہاد سے امت مسلمہ مستفید ہورہی ہے پھر اس گروہ کے سرخیل کی حیثیت سے امام المحدثین والمجتہدین کے لقب سے ملقب محمد بن اسماعیل البخاری اس میدان میں جلوہ فروز ہوئے۔جنھوں نے اپنی سولہ سال کی محنت شاقہ سے الجامع  الصحیح لکھ کر امت مسلمہ پر ایک احسان عظیم کیا۔جزاہ اللہ عنا وعن المسلمین خیر الجزاء

آپ نے اس کی تکمیل المسجد الحرام اور المسجد النبوی میں بیٹھ کر کی اور تکمیل کے بعد اسے اس دورکے معروف محدثین  امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  اور یحییٰ بن معین اور علی بن المدینی وغیرھم کے سامنے پیش کیا توانہوں نے اس کی تعریف وتوصیف کی۔

فاستحسنوه وشهدوا له بالصحة إلا أربعة أحاديث.

اس کی تحسین کی اور اس کی صحت کی ،سوائے چار احادیث کے ،شہادت دی مگر امام العقیلی کہتے ہیں کہ ان میں بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کا قول صحیح ہے کہ یہ احادیث بھی صحیح ہیں۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  ہمہ جہت شخصیت تھے۔تقویٰ وتورع میں سب سے بڑھ کر اعلیٰ مرتبے پر فائز تھے۔انہوں نےاپنی یہ کتاب لکھ کر جہاں امت  پر ایک عظیم احسان کیا ہے ،وہاں ان کی علمی ودینی ضرورت کو بھی پورا کیا ہے۔یہ کتاب محض احادیث کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ فنی اعتبار سے فقاہت واجتہاد کے میدان میں یہ اعلیٰ درجے کی تصنیف ہے ۔فقاہت یا فقہ کے لغوی معنی سمجھ بوجھ کے ہیں اور اصطلاح میں اس کا مطلب ہے دین حق کی باتوں کی پوری سمجھ بوجھ رکھنا اور وقت کے لحاظ سے در پیش مسائل کا حل قرآن وحدیث کی روشنی میں تلاش کرکے امت کے سامنے پیش کرنا۔

چنانچہ امام ترمذی  رحمۃ اللہ علیہ  کا قول ہے:

"لم أر أحدا بالعراق ولا بخراسان في معنى العلل والتاريخ ومعرفة الأسانيد كبير أحد أعلى من محمد بن إسماعيل انتهى"

"میں نے عراق اور خراسان میں علل الحدیث ،تاریخ حدیث اور معرفت اسانید میں محمد بن اسماعیل سے بڑھ کر عالم نہیں دیکھا۔

مسجد حرام میں بیٹھ کر امام صاحب نےاس کتاب کو جمع کیا اور لکھا جبکہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  میں آپ نے اس کی تبویب کی(ھدی الساری)

ابراہیم الخواص کہتے ہیں:

" رأيت أبا زرعة كالصبي جالسا بين يدي محمد بن إسماعيل ، يسأله عن علل الحديث .

میں نے ابو زرعہ کو دیکھا ہے کہ وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کے سامنے بچوں کی طرح بیٹھے علل الحدیث کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔عمرو بن زرارۃ اور محمد بن رافع امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کے پاس علل حدیث کے متعلق سوالات کررہے تھے جب دونوں وہاں سے اٹھے تو انہوں نے حاضرین سے کہا:

" "لا تُخدَعُوا عن أبي عبد الله؛ فإنه أفقه منا وأعلم وأبصر".

تم ابو عبداللہ کے بارے میں دھوکے میں نہ رہنا کیونکہ وہ ہم سب سے زیادہ فقیہ،عالم اور صاصب بصیرت ہیں۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کے استاد امام اسحاق بن راھویہ فرماتے ہیں۔

"اے اصحاب الحدیث کی جماعت تم اس نوجوان(البخاری) کو دیکھو اور اس سے لکھو،اگر وہ حسن بن ابی حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  کے زمانے میں ہوتے تو وہ ان کی معرفت حدیث اور فقاہت کی وجہ سے ان کے محتاج ہوتے"

"خراسان نے تین آدمی پیدا کیے ہیں ،ابو زرعہ رازی(لفظ مٹا ہو اہے) ہیں محمد بن اسماعیل البخاری،بخارا میں اور عبداللہ بن عبدالرحمان(سمرقند) میں لیکن میرے نزدیک ان میں محمد بن اسماعیل ،سب سے زیادہ عالم ،فقیہ اور صاحب بصیرت ہیں۔

یعقوب بن ابراہیم الدورتی اور نعیم بن حماد خزاعی کہتے ہیں:

محمد بن اسماعیل فقیہ ہذہ الامۃ(اس امت کے فقیہ محمد بن اسماعیل ہیں)

حافظ سلیم بن مجاہد فرماتے ہیں:

"ما رأيت بعينى منذ ستين سنةٍ أفقه، ولا أورع، ولا أزهد فى الدنيا من محمد ابن إسماعيل."

میں نے ساٹھ سال میں اپنی آنکھوں سے محمد بن اسماعیل البخاری سے زیادہ فقیہ،زیادہ متورع اورزیادہ پرہیزگار نہیں دیکھا۔

" ولهذا اشتهر من قول جمع من الفضلاء فقه البخاري في تراجمه"

"فاضل لوگوں کی ایک جماعت کا قول مشہور ہے ۔بخاری کی فقہ اس کے تراجم (ابواب) میں ہے۔

محمد  بن بشار(جو بندار کے لقب سے مشہور ہیں) فرماتے ہیں:

"محمد بن إسماعيل أفقه خلق الله في زماننا"

"محمد بن اسماعیل البخاری ،ہمارے زمانے میں تمام مخلوق سے زیادہ فقیہ ہیں"

حاشد بن اسماعیل کہتے ہیں میں بصرہ میں موجود تھا کہ محمد بن اسماعیل بخاری کی آمد کی خبر پہنچی تو محمد بن بشار نے سن کر فرمایا:

"قدم اليوم سيد الفقهاء"

"یعنی آج فقہاء کے سردار تشریف لائے ہیں"

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے نہایت محنت اور عرق ریزی سے احادیث سے استنباط احکام ومسائل کا کام کیا۔کیونکہ محدثین عظام محض احادیث کواکھٹا کرنے والے یاجامع الروایات ہی نہ تھے بلکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی طرح اجتہاد وفقاہت سے مسائل کا حل تلاش کرکے امت کے لئے آسانی پیدا کرتے تھے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کئی مواقع پر قرآنی وحی کے علاوہ اجتہاد کے واقعات روایات میں ملتے جلتے ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کی ہے کہ جہنیہ قبیلے کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پا س آئی اور  کہنےلگی یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی مگر وہ اسے پورا کیے بغیر فوت ہوگئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا،ہاں۔تو اس کی طرف سے حج کرلے،اور اس کی دلیل دیتے ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا:اگر تمہاری ماں کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم ہی اسے ادا کرتی۔

غور فرمایئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ جواب قیاس پر مبنی ہے کیونکہ آپ نے قرض پر حج کو قیاس فرمایا۔پس یہی قیاس ہی اجتہاد ہے۔

اسی طرح امام صاحب نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک اور روایت بیان کی ہے کہ آپ نے فتح مکہ کے روز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کی حُرمت،عزت واحترام فرض قرار دی ہے اور مجھ سے پہلے یا بعد کسی کے لیے بھی اس کی حرمت کے خلاف کسی کام کی اجازت نہیں دی لیکن میرے لئے ایک دن کے کچھ وقت کے لئے اس کی حرمت کو حلت میں تبدیل کردیا(یعنی فتح جنگ کے روز جنگ کا دورانیہ)لہذا نہ اس کے جنگل میں سے کچھ اکھاڑا جائے نہ اس کا کوئی درخت کاٹا جائے اور نہ اس کے کسی شکار کوڈرایا (پکڑا) جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے سوائے اس شخص کے جو اس چیز کے مالک کو اس کی خبر دینے والا ہو۔

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عرض کرتے ہیں،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اذخر کے سوا(یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجئے، جو ایک خوشبو دار گھاس ہے) کیونکہ یہ ہمارے گھروں اور دوسرے کاموں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہاں اس کو مستثنیٰ قراردیا جاتا ہے۔

دیکھئے،آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے وحی کے نزول کے بغیر اذخر کاٹنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔بس یہی آپ کا اجتہاد ہے۔اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کو بوقت ضرورت اجتہاد کی اجازت وترغیب دی تھی۔

جیسا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے کہ آپ نے جب انہیں یمن کا عامل مقرر کیا تو ان سے دریافت فرمایا کہ اے معاذ تم فیصلے کس طرح کرو گے؟انہوں نے کہا کہ اولاً میں اللہ تعالیٰ کی کتاب(قرآن پاک) کو  پیش نظر رکھوں گا پھر حدیث نبوی سے  رہنمائی لوں گا اور اگر دونوں میں مجھے وضاحت نہ مل سکی تو ان دونوں کی روشنی میں قیاس(اجتہاد) کروں گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد خلفاء راشدین خصوصاً حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اورعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بھی آ پ کے فرمان:

تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ "

"میں تم میں جو چھوڑے جارہا ہوں اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور میری سنت"کے مطابق انھیں اصولوں کو مد نظر رکھ کر اجتہادی فیصلے کرنا۔

محدثین عظام رحمہم اللہ نے بھی اسی  طرح ان اصولوں کے پیش نظر اجتہاد کیا،صحیح بخاری کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  بہت بڑے فقیہ ومجتہد تھے۔ان کے نام کے ساتھ مالکی یا حنبلی یا شافعی کی نسبت محض اس لیے ہے کہ یہ سب حضرات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کے اساتذہ میں سے تھے۔

ابوزید المروزی نے خواب میں دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  انھیں فرما رہے ہیں:

مالك اشتغلت بفقه محمد بن إدريس وتركت كتابي؟

تجھے کیا ہوا کہ تو نے میری کتاب چھوڑ رکھی ہے اور محمد بن ادریس کی فقہ میں مشغول ہوگیا ہے۔

اس نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  آپ کی کون سی کتاب ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا"صحیح بخاری"

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کسی خاص مذہب کے  پیروکار نہ تھے کیونکہ آجکل کے اصطلاحی معنی میں مذہب موجود نہ تھے جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:

"چوتھی صدی ہجری سے قبل لوگ کسی خاص ایک مذہب کی تقلید خالص پر اکھٹے نہیں ہوتے تھے"(1)

اس لیے امام صاحب احادیث سے احکام  ومسائل کا استنباط کرتے ہیں۔خواہ وہ کسی مذہب اور کسی رائے کے خلاف ہو،وہ اس طرح کہ کسی ایک مسئلہ کے حل کے لئے باب کے نام سے ایک عنوان تجویز کرتے ہیں۔پھر اس کی وضاحت میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور  تابعین کےاقوال بیان فرماتے ہیں یافقہاء صحابہ اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ  کی رائے بیان کر تے ہیں۔پھر حدیث سے اس کی تائید کرتے ہیں تاکہ مسئلے کی اصل صورت لوگوں کے سامنے آجائے اور مختلف اہل علم فقہاء کی رائے بھی معلوم ہوجائے جیسے کتاب الوضوء میں باب " لا يجوز الوضوء بالنبيذ ولا المسكرمیں فرماتے ہیں:

" وكرهه الحسن وأبو العالية وقال عطاء التيمم أحب إلي من الوضوء بالنبيذ واللبن"

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  اور ابو العالیہ نے نبیذ اور شراب وغیرہ سے وضوء کو مکروہ سمجھا ہے جبکہ حضرت عطاء فرماتے ہیں۔نبیذ یا دودھ سے وضوء کرنے کی نسبت تیمم کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔

پھر اس کے بعد امام صاحب حدیث رسول (كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ، فَهُوَ حَرَامٌ) بیان کرکے،صاف پانی کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ وضوء کےعدم جواز کا نتیجہ نکالتے ہیں۔(2)

چنانچہ صاحب فیض الباری نے بھی اس عدم جواز پر اجماع ثابت کیا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  اور امام طحاوی کا اس میں رجوع ثابت کیا ہے۔(3) اسی طرح کتاب الذبائع والصید میں باب"صید المعراض"میں حضرت عبداللہ بن عمر،سالم ،القاسم،مجاہد،ابراہیم اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  رحمہم اللہ کے اقوال نقل کیے ہیں پھر عدی بن حاتم سے حدیث رسول بیان کرتے ہیں:

"فَقَالَ إِذَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ فَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلاَ تَأْكُلْ  "(4)

بیان کرکے ان فقہاء کے اقوال کی تائید کی ہے۔بعض اوقات امام صاحب کسی ایک حدیث کو مکرر بیان کرکے اپنی فقاہت کی ایک اور دلیل مہیا کرتے ہیں کیونکہ تکرار حدیث سے ان کا مقصد مزید کسی مسئلے کا استنباط کرنا ہوتا ہے اور یہ امام صاحب کی ایسی خوبی ہے جس میں دوسرا کوئی شریک نہیں۔

جیسا کہ باب"رثاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم  سعد بن خولۃ"میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک لمبی حدیث بیان کی ہے جس میں ہے۔

" جاءني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يعودني عام حجة الوداع من وجع اشتد بي،..... لكن البائس سعد بن خولة يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم أن مات بمكة  "(5)

باب کے عنوان کے مطابق تو اس حدیث سے یہ مفہوم واضح ہوتاہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی وفات پر اظہار افسوس کیا مگر امام صاحب کے ا جتہاد وفقاہت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مختلف ابواب بنا کر حضرت سعد کی اس حدیث سے کئی اور مسائل ثابت کیے ہیں۔جیسے۔

باب ما جاء إن الأعمال بالنية والحسبة ولكل امرئ ما نوى فدخل فيه الإيمان والوضوء والصلاة والزكاة والحج والصوم والأحكام وقال الله تعالى  ((قُلْ كُلّ يَعْمَل عَلَى شَاكِلَته)) على نيته نفقة الرجل على أهله يحتسبها صدقة (6)

اس عنوان کے تحت اسی حدیث سے امام صاحب نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر کسی شوہر نے ا پنی بیوی بچوں کو ا پنے رزق حلال سے  ایک لقمہ بھی ثواب کی نیت سےکھلایا تو یہ صدقہ ہے اور اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا۔

باب أن يترك ورثته أغنياء خير من أن يتكففوا الناس (7)میں حدیث لا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر و الدین اپنے ورثاء کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑیں گے کہ وہ لوگوں کے محتاج نہ ہوں تو یہ بھی صدقہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر ملے گا۔

باب فضل النفقة على الأهل (8) ایک نئے عنوان سے اہل وعیال پر خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی ہے۔

باب وضع اليد على المريض (9) میں مریض پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر دعائے صحت کا ثبوت دیا ہے۔جیسا کہ آپ نے حضرت سعد کی  پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا" اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا " "

باب ما رخص للمريض أن يقول إني وجع أو وارأساه أو اشتد بي الوجع (10) میں یہ ثابت کیا ہے کہ مریض اپنی تکلف کا اظہار کرسکتا ہے۔

باب الدعاء برفع الوباء والوجع (11) میں مریض کے لئے دعا کا ثبوت دیا ہے۔

باب ميراث البنات(12) میں بیٹیوں کے لئے میراث میں حصہ ثابت کیا ہے۔

اسی طرح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے" باب عظة الإمام النساء وتعليمهن " میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی یہ روایت بیان کی ہے:

"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ وَبِلَالٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ" (13)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  (نماز عید) کے لئے نکلے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تھے۔آپ نے سمجھاکہ عورتوں نے آپ کا وعظ نہیں سنا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  عورتوں کے پاس آئے اور انھیں وعظ فرمایا اور صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں صدقہ میں اپنی بالیاں اورانگوٹھیاں دینے لگیں اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ  انہیں اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے۔

چنانچہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی یہ حدیث مختلف ابواب میں بیان کرکے کئی دوسرے مختلف مسائل بھی ثابت کیے ہیں۔جیسے

باب وضوء الصبيان ومتى يجب عليهم الغسل والطهور وحضورهم الجماعة والعيدين والجنائز وصفوفهم (14)

"بچوں کے وضو کا بیان اور یہ کہ ان پر عمل اور  پاکیزگی کب واجب ہوتی ہے۔ان کا جماعت ،عیدین ،جنازہ اور صفوں میں شامل ہونے کا  بیان)اس باب میں امام صاحب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی دو حدیثیں بیان کرکے مذکورہ بالا تمام مسائل کا ثبوت مہیا کیا ہے۔

2۔باب الخطبة بعد العيد(15)اس عنوان سے مذکورہ حدیث کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مصلی کی پہچان کے لئے کسی دیوار کا بنانا یا  پتھر یا کسی اور چیز کا نصب کردینا جائز ہے۔

3۔باب العلم بالمصلي(16) اس عنوان سے مذکورہ حدیث کے  ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مصلی کی پہچان کےلیے کسی دیوار کا بنانا یا پتھر یا کسی اور چیز کا نصب کردیناجائز ہے۔

4۔ باب موعظة الإمام النساء يوم العيد (17) اس عنوان کو بھی مذکورہ حدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔

5۔ باب خروج الصبيان إلى المصلى (18) ایک بار پھر اس حدیث سے اس نئے عنوان کے ساتھ عید گاہ میں بچوں کے جانے کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔

6۔ باب الصلاة قبل العيد وبعدها (19) یہ ثابت کیا گیا ہے  کہ نماز عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز مسنون نہیں ہے۔

7۔ باب التحريض على الصدقة والشفاعة فيها (20) عورتوں کو صدقہ کی رغبت دلانے اور اس بارے میں سفارش کا بیان۔

8۔ باب العرض في الزكاة (21)زکواۃ میں نقدی کے علاوہ زیورات یا کوئی سامان بھی دیا جاسکتاہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں نے آ پ کے صدقہ کی دعوت پر اپنی بالیاں اور ہار پیش کیے۔

9۔ باب والذين لم يبلغوا الحلم:بچوں کے عید گاہ یا مساجد جانے اور بڑوں کے ساتھ نماز میں شامل ہونے کے مسئلے کو اس عنوان سے مذکورہ حدیث کے ساتھ ثابت کیا ہے ۔(22)

10۔ باب الخاتم للنساء (23) اس میں عورتوں کےلیے انگوٹھیاں پہننے کا ثبوت ہے۔

11۔ باب القلائد والسخاب للنساء:میں سونے یا چاندی کے لاکٹ یا ہار عورتوں کےلیے پہننے کا جواز ہے۔(24)

12۔باب الفرط للنساء(25) میں عورتوں کے لئے بالیاں پہننے کے جواز کی دلیل بتائی ہے۔

اسی طرح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت" من حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امرئ مسلم جو کوئی قسم اٹھا کر کسی مسلمان آدمی کا مال ہڑپ کرے،کو مختلف ابواب کے تحت بیان کرکے مختلف احکام  اخذ کیے ہیں۔جیسے:

1۔ باب كلام الخصوم بعضهم في بعض  (26)میں یہ سلسلہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی جھگڑے  میں مدعی سے دلیل لی جائے یامدعی علیہ سے قسم۔

2۔ باب إذا اختلف الراهن والمرتهن ونحوه فالبينة على المدعي واليمين على المدعى عليه

(27)عنوان نیا ہے اور مسئلہ مذکورہ با لا ہے تاہم اس میں راہن و مرتھن کا بھی ذکر ہے اور نحو ہ سے مراد کہ اس قسم کا کو ئی بھی نزاع ہو، دلیل مدعی سے اور قسم مدعی علیہ سے لی جا ئے ۔

3۔ باب سؤال الحاكم المدعي هل لك بينة قبل اليمين

(28)اس میں یہ معلوم ہوا کہ حاکم قسم لینے سے پہلے مدعی سے دلیل مانگے۔

4۔ باب اليمين على المدعى عليه في الأموال والحدود

ایک نئے اندازے سے امام صاحب نے اسی مسئلہ کو بیان کیا ہے کہ اموال و حدود کے معا ملا ت میں بھی مدعا علیہ سے قسم لی جا ئے بشرطیکہ مدعی دلیل نہ دے سکے۔(29)

5۔ باب يحلف المدعى عليه حيثما وجبت عليه اليمين ولا يصرف من موضع إلى غيره

(30)بالکل ایک نیا عنوان ہے اور اس مسئلہ کی وضاحت ہو گئی کہ مدعاعلیہ پر جہاں قسم واجب ہو تی ہو وہیں اس سے لینی چا ہیے اور اسے کسی دوسری جگہ لے جا نے کی ضرورت نہیں ہے۔

6۔ باب قول الله تعالى ((إ ِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا))

(31)حضرت عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اس حدیث کے مفہوم کی آیت قرآنی سے تائید کرتے ہو ئے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ بتا نا چا ہا ہے کہ دنیا کے چند سکوں کی خاطر عہد سے منحرف ہو نے والوں اور جھوٹی قسمیں اٹھانے والوں کو قیامت کے روز نہایت برے انجام اور سخت سزا سے دوچار ہو نا ہو گا ۔

7۔ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ  نے مندرجہ بالا آیت کتب التفسیر میں بھی پیش کی ہے اور اس کے تحت حضرت عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اسی حدیث سے یہ ثابت کرنا چا ہا ہے کہ مدعی سے یوں پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا اس کے پاس کو ئی دلیل ہے یا مدعا علیہ سے قسم لے لی جا ئے ۔(32)

8۔ كتاب الايمان والنذور. - باب: عهد الله عز وجل. کے عنوان سے بھی اسی حدیث کو بیان کر کے مسئلہ ثابت کیا ہے۔(33)

9۔ كتاب الاحكام  میں باب الحكم والبر ونحو کے عنوان سے بھی اسی حدیث کو مختلف الفاظ سے بیان کر کے پھر مذکورہ بالا مسئلہ ثابت کیا ہے۔(34)

10۔ كتاب 'الرد على الجهمية وغيرهم التوحید میں باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ.

(35) کے عنوان سے پھر اسی(36) اسی حدیث کو بیان کیا گیا ۔

چنانچہ یہ کہنا ایک حقیقت ہے کہ محدثین فقہاء اور اہل الرائے فقہاء میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ محدثین قرآن حکیم اور احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو مد نظر رکھ کر مسائل کے حل کے لیے اجتہاد و استنباط کرتے ہیں جبکہ اہل الرائے محض اپنے مشائخ کے اقوال کو سامنے رکھ کر استنباط کرتے ہیں ۔جیسا کہ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ میں اس موضوع پر یہ لکھا ہے۔

"خدا غارت کرے مذہبی تعصب کو جس کے ہاتھوں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کی فقاہت کو ہدف تنقید بنا یا گیا اور اس قسم کے الزام لگا ئے گئے۔جو محض تعصب کا شاخسانہ ہیں ۔

حوالہ جا ت:۔

1۔حجۃ اللہ البالغۃ۔152/1باب حکایۃ حال الناس قبل الماۃ الرابعۃ و بعد ھا ۔

2۔الجامع الصحیح ۔38۔/1۔

3۔فیض الباری 340/1۔

4۔بخاری شریف 823/2۔

5۔ بخاری شریف173/1۔

6۔ بخاری شریف۔13/1۔

7۔ بخاری شریف ،383،382/1

8۔ بخاری شریف،806،805/2۔

9۔ بخاری شریف845/2۔

10۔ بخاری شریف،846/2۔

11۔ایضاً۔943۔3۔

12۔ بخاری شریف997/2۔

13۔ایضاً،20/1۔

14۔ایضاً۔118/1۔

15۔ایضاً 131/1۔

16 ۔ ایضاً133/1۔

17۔ ایضاً133/1

18۔ ایضاً133/1

19۔ ایضاً135/1

20۔ ایضاً192/1

21۔ ایضاً194/1۔

22۔بخاری شریف789/2۔

23 ایضاً873/2۔

24۔ ایضاً بخاری شریف874۔873۔/2۔

25۔ ایضاً874/1

26۔ایضاً 326/1۔

27۔ ایضاً 326/1۔

28۔ ایضاً 366/2

29۔ بخاری شریف366/1۔

30۔ ایضاً 367/1۔

31۔ ایضاً 367/1۔

32۔ ایضاً 652۔2۔

33۔ بخاری شریف985/2۔

34۔ ایضاً 1065۔

35۔ ایضاً 1105/2۔

36۔ بخاری شریف1109/2۔