بیسویں صدی کا آخری عشرہ مسلمانوں پر مصائب و آلا م اور ابتلا ء کا عشرہ ہے اس صدی کے نصف اول میں بہت سے مسلم ممالک نے آزادی حا صل کی۔ اور مغرب کے لیے یہ ایک عظیم لمحہ فکر یہ بن گیا ۔کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کا اتحاد ایک تیسری عظیم قوت کو جنم دے سکتا ہے افغانستان پر روسی یلغار پر جس طرح مسلمانوں نے متحدہ ہو کر اس عظیم تر فتنہ کا مقابلہ کیا اور روس جیسی نام نہاد سپرپاورکو جس بے بسی و بے چارگی کے عالم میں افغانستا ن سے بھا گنا پڑا ،پھر اس کے نتیجے میں دنیا کے جغرافیہ میں بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں پسے ہو ئے اور ظلم وستم کے مارے ہوئے مسلمانوں نے کروٹ لی اور علم جہاد بلند کردیا۔ تو پورا مغرب ایک دم چوکنا ہوگیا۔کہ سوسالہ کیمونسٹ دباؤ کے باوجود ان ممالک کے مسلمانوں نے نہ صرف اپنے تشخص کو قائم رکھا بلکہ آزادی ملتے ہی فوراًاپنی ملی و اسلامی اقدار کے احیاء میں سر گرم ہو گئے ،چا ہے وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں ہوں یا یورپ میں بوسنیااور البانیہ کے مسلم اکثریتی علاقے روس کی پسپائی کے فوراً بعد امریکہ نے اپنا نیو ورلڈآرڈر پیش کر دیا جو دراصل ( أنا ولا أحد غيري )کا مصداق تھا اس کے اس آرڈرکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو اسلامی قوتیں اُبھر رہی ہیں ان کا سختی سے قلع قمع کر دیا جا ئے۔ وسط ایشیا میں روس جنوب ایشیا میں بھا رت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو امریکہ نے بھر پو ر امداد دی تا کہ یہ سب اپنے اپنے علاقوں میں چوہدری بن کر رہیں اور اُبھرنے والی قوت مسلمہ کو خس و خاشاک کی طرح بہادیں ،یورپ میں یہ ذمہ داری سر بیا کے ذمے ڈالی گئی کہ وہ یورپ میں ابھرنے والی ہرمسلمان قوت کو کچل کر رکھ دے افریقہ میں صومالیہ کا مسئلہ خود کھڑا کر دیا گیا ہے آج اس صورت حال کا جو نتیجہ سامنے آرہا ہے وہ انتہا ئی سنگین ہے دنیا بھر میں مسلمانوں کا لہو پا نی سے بھی ارزاں ہو چکا ہے ہر طرف خون مسلم کی ارزانی ہے علامہ اقبال کا یہ شعر بے اختیا ر لبوں پر آجا تا ہے۔
ہوگیا مانند آب ارزاں مسلمان کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز
اس وقت وادی کشمیر ،بوسنیا ،فلسطین تین ایسے سلگتے خطے ہیں جہاں ہر وقت مظلوم مسلمانوں کو بے دست وپاکر کے خاک و خون کے دریا میں ڈبویا گیا ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی چھوٹی سی خوبصورت وادی میں اس وقت آٹھ لا کھ سے زائد ہندو فوج مو جو د ہے جس نے دنیا کے ہر فرد کا داخلہ اس وادی کے لیے بند کررکھا ہے ۔اس بند جیل میں ہندو کیا کیا ظلم ڈھا رہا ہے یہ ایک ایسی المنا ک داستان ہے جسے سن کر بسا اوقات خود ہندو صحافی بھی بے ہو ش ہو کر گر پڑتے ہیں [1]اب اسی وادی میں اسرائیل کا وزیر خارجہ آتا ہے اور ہندو حکومت سے کہتا ہے کہ تمھا را کام ان مسلم دہشت گردوں کو کچلنا ہے ہم ہر قسم کی ٹیکنا لو جی اور مہارت تمھیں فرا ہم کرتے ہیں ،پھر تم آگے بڑھ کر مسلم وسط ایشیاکے دہشت گردوں کو بھی کچلنے کا پروگرام بنا ؤ۔
پھر یہی اسرائیل کا وزیر خارجہ چین پہنچتا ہے اور وہ چین جسے ہم اپنا دوست کہتے ہیں ،اس نے بھی اعلان کر دیا کہ ہم مشرق وسطیٰ کے عرب ملکوں کو کو ئی ایسا ہتھیار نہیں دیں گے،جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث بنے۔
22۔مئی کو اخبارات میں یہ خبر پڑھی گئی کہ امریکہ اور روس نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ  سر بیا جس نے طاقت کے ذریعہ بوسنیا کے جس ستر فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے، اس کا ان علاقوں پر قبضہ بحال رکھا جا ئے اور اس نے بوسنیا کے نہتے مسلمانوں پر جو جارحیت کی، ان کا قتل عام کیا اور2،ملین لوگوں کو ملک بدر کیا ملک میں ان گنت ٹارچر سیل قائم کر کے عورتوں اور بچوں کو ڈائریکٹ ایکشن کا نشانہ بنا یا مسلم خواتین کی عصمت دری کو بطور جنگی اسلحہ اپنا یا ،وہ سب اسے معاف کردیا جا ئے،پھر فرانس اور برطانیہ بھی ان کے اس منصوبہ میں شامل ہو جا ئیں گے،مزید کہ کلٹن انتظامیہ نے بوسنیا کو اسلحہ کی فرا ہمی کا ارادہ (جو پہلےوقتاًفوقتاًاپنے عوام کی طفل تسلی کے لیے جاتا رہا ہے )اب حتمی طور پر ترک کردیا۔ سرائیلی حکومت نے گزشتہ دسمبر میں مقبوضہ فسطینی علاقے کے جن چار سوسر کردہ افراد کو فلسطین سےنکال کر سرحد پر ڈال دیا تھا وہ اسی طرح بے خانماں برباد وہاں پڑے ہو ئے ہیں ۔دوسری طرف فلسطینی عوام کو اسرائیلی فوج بڑی بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالتی ہے اسرائیل دنیا کی وہ عیار قوم ہے جن کی پارلیمنٹ کے صدر دروازےپرواشگاف لکھا گیا ہے "اے اسرائیل!تیری سرحدیں دریا ئے نیل سے لے کر دریا ئے فرات تک ہیں ۔
وہی اسرا ئیلی اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پوری امریکی قوت کو عربوں کے خلا ف کا میابی سے استعمال کرر ہے  ہیں ،عربوں سے مذاکرات کا ڈرامہ محض اس لیے رچایا گیا ہے کہ عربوں کو مذاکرات کا لا لی پاپ دے کر ان کی مکمل بیخ کنی کی جا سکے رہ گئی یو۔این ۔او۔۔۔وہ تو امریکہ کی باندی ہے، امریکہ کے زیر سایہ اب یہود وہنود کا یہ نیا گٹھ جوڑ مسلمانوں کے لیے مزید ابتلا ء و آزمائش کا دور ہو گا ۔پھر فلپائن کی عیسائی حکومت نے وہاں کے مسلمانوں کے خلا ف سخت ایکشن لیتے ہو ئے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے، برما کی بدھ حکومت ہر وقت مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتی رہتی ہے،تاجکستان میں مسلمانوں پر قیامت صغریٰ ٹوٹی ہو ئی ہے ،مگر بہت پتلا حال تو دنیا کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت کا ہے جو ہندوستان میں رہتے ہیں بیس کروڑ کے قریب ان کی تعداد ہے، ہر روز انڈیا میں مسلم کش فسادات ہو تے رہتے ہیں مسلمانوں کو گولیوں سے بھوننا ان کی مکا نیں اور دکا نیں نذر آتش کرنا بلکہ گا ؤں کے گا ؤ نذر آتش کردینا ہندو جنونیوں کا مقبول مشغلہ ہے، حالیہ واقعات بابری مسجد کی شہادت اس کے بعد کئی مسجدوں کی شہادت پھر بے شمار ہندو علاقوں میں مسلم کش فسادات مسلم خواتین کی عصمت دری بعد میں ان کی وڈیو کیسٹیں بنا کر بازاروں میں فروخت کرنا، غرض کس کس دکھتی رگ کا ذکر کیا جا ئے یہاں تو پوری امت مسلم کا جسم لہو لہوہے ،ہر عضو سے لہو ٹپک رہا ہے ہر حساس مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر مسلمانوں پر ظلم و ستم کا یہ تسلسل کیوں ہے؟یہ سلسلہ کب جا کر رکے گا ؟کیوں سب واقعات رونما ہو ئے ہیں اس دلخراش اور المنا ک باب کو کیسے ختم کیا جا ئے تدارک کیا ہو؟ اس کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جا ئیں ؟غو رکرنے پر چند اسباب سامنے آتے ہیں اس ذلت بے بسی اور بے کسی کے جن کا جا ئزہ لینا اصلاح احوال کے لیے ازحد ضروری ہے۔
1۔یہود و ھنود اور صلیبی دنیا کا گٹھ جوڑ :۔
اس وقت یو۔این ۔او۔کو ئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکتی امریکہ ہی ہر طرف چھا یا ہوا ہے بزعم خود دنیا کی واحد سپرپاور ہے [2] وہ اسلام کے احیاء اور مسلم امت کی نشاًۃ ثانیہ کو اپنے مفادات کے خلا ف سمجھتا ہے، ایک طرف خود مغرب میں نے شمار لو گ اسلام کی سچی ابدی اور انقلا بی تعلیمات سے متاثر ہو کر بکثرت مسلمان ہو رہے  ہیں ،دوسری طرف افغانستان میں مسلمان مجا ہدین اپنے دین و ایمان کے سہارے دنیا کی بڑی طاقت روس سے ٹکرا گئے۔اور نہتے ہو نے کے باوجود اس نام نماد طاقت کے بری طرح دانت کھٹے کر دئیے ،اس پر تمام غیر مسلم قوتیں متحدہ ہو کر مسلمانوں کے خلا ف صف آراءہو گئی ہیں ۔تا کہ ہر قیمت پر مسلمانوں کو ابھرنے سے روک سکیں ۔
کینیڈا کے ایک کثیر الاشاعت اخبار"اوٹا وہ سن"نے اعترا ف کیا کہ عیسائی دنیا نے عالم اسلام کے خلا ف صلیبی  جنگ شروع کر رکھی ہے اس خبر کی سرخی ملا حظہ ہو" عیسا ئی دنیا نے عا لم اسلام کے خلا ف صلیبی جنگ شروع کر رکھی ہے"
"یورپ کی 1200سالہ نفرت کھل کر سامنے آگئی ، مسلمانوں کو خطے سے نکالنے کے لیے برطانیہ فرانس اور روس متحدہو چکے ہیں "
"بوسنیا میں مسلم کشی کے بعد یورپی عیسائیوں کا اگلا نشانہ البانیہ ،یونان ،مقدونیہ اور بلغاریہ کے مسلمان ہو ں گے،روزنامہ نوائے وقت مورخہ 6،اپریل 1993ء بحوالہ "اوٹاوہ سن"
مسلمانوں کی اندرونی زبوں حالی :۔
مسلمانوں کے خلا ف کو ئی بیرونی چال اور سازش اس وقت تک کا میا ب نہیں ہو سکتی جب تک خود مسلمانوں کی اندرونی کمزوریاں ان کے ساتھ تعاون نہ کریں ،بد قسمتی سے اس وقت مسلمان دین سے دور ہو چکے ہیں اللہ رسول اور قرآن کے احکا مات پس منظر میں چلے گئے ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہمارا ذاتی خواہشات  کے تا بع بن کر رہ گیا ہے احکام دین کو بدلنا اپنے آپ کو مغربی تہذیب کے مطا بق ڈھا لنا خود کو سیکولر ظا ہر کرنا امریکی مفادات کے تا بع بن کر رہنا  ہماری نما یاں کمزوریاں ہیں ہمارے ہاں رسوم و رواج کو فروغ حاصل ہے قبر پرستی کو دین سمجھ لیا گیا ہے منافقت بددیا نتی جھوٹ ،کرپشن ،رشوت ،سود ،اقتصادی زبوں حالی ہمارے نمایا ں مسائل ہیں تعلیمی میدان میں ہم بہت پسماندہ ٹیکنا لو جی کے میدان میں بہت پیچھے ہیں جوہری توانائی حاصل کرنے سے ہمیں بالجبر مسلسل محروم کیا جا رہا ہے۔
اس طرح مسلمان جو تعداد میں سواارب سے زائد ہیں دنیا کے بہترین مالی وسائل ان کے پاس ہیں ان کی جغرافیا ئی پوزیشن بہت مضبوط ہے آبی وسائل ،بندر گا ہیں ،زرخیز قطعات اراضی معدنیا ت پھر تیل جیسی سیال دولت سے مالامال ہیں ان وسائل سے تو وہ پو ری دنیا کی سیادت اور امامت کے اہل بن سکتے ہیں مگر وائے افسوس کہ کچھ نفس پرستی اور اقتدار پرستی نے تمام مسلمانوں کو تفرقہ وانتشار میں مبتلا کر رکھا ہے، ہر مسلمان حکومت کے مفادات دیگر مسلمان حکومت سے متصادم ہیں ذاتی مفادات کے مارے ہوئے مسلم حکمران امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ کرنے میں مصروف ہیں مگر آپس میں مل بیٹھ نہیں سکتے ،مسلم عوام پریشان ہیں علماء سوء نے انہیں وہابی، بریلوی ،شیعہ، سنی ،حنفی، دیوبندی  کے مسائل میں جکڑ دیا ہے۔اس تفر قہ اور انتشار کی بدولت بھی امت مسلمہ کئی حصوں اور کئی خطوں میں بٹ گئی اوپر سے یورپ و مغرب کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ان فروعی اختلا فات کو اتنا ابھا ر کر سامنے لا تا ہے کہ سینکڑوں مسلمان روزانہ ذبح ہو تے جا رہے ہیں مگر اس سانحہ سے مسلمان کو ئی سبق نہیں لیتے ،کبھی راسخ العقید ہ مسلمانوں کے لیے "وہابی" کی گالی ایجاد کر کے ان کو مسلمانوں کے اندر اچھوت بنا کر دکھ دیا گیا اور آج مغرب نے ان راسخ العقیدہ  مسلمانوں کے لیے "بنیاد پرست "کی اصطلا ح استعمال کر کے تمام مسلمان حکومتوں کو ان کا استیصال کرنے کی تلقین کی ہے ہر مسلم حکمران اپنے آپ کو لبرل اور سیکولر ثابت کر نے کے لیے کشمیر بوسنیا فلسطین جیسے مسائل سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے مصر اور دیگر عربی ممالک راسخ العقیدہ مسلمانوں (یعنی مجا ہدین ) کو اپنے خلا ف بہت بڑا خطرہ قرار دے کر ان کی سر کوبی کرنے پر تلے بیٹھے ہیں خود پاکستان میں امریکہ کے حکم پر گذشتہ سال پشاور میں مقیم عرب تنظیموں سے جو ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے حالانکہ وہ اللہ کی رضا کے لیے دس پندرہ برس سے اپنا گھر بار وطن چھوڑ کر یہاں افغان مہاجرین کی خدمت کے لیے مقیم تھے،انھوں نے اپنے جان و مال لگا کر ان مہاجرین کے لیے خوراک ،لباس ،علاج ،تعلیم کا بندوبست کیا اور ان کو بہترین ریلیف مہیا کیا تھا ،مگر ہماری حکومت نے ان کو تھا نوں میں بھوکا پیا سا بند کر کے ان پر تشدد کیا ان کے اہل و عیال کو ستا یا اور مزید ظلم و ستم کے لیے انہیں ان کی حکومتوں کے حوالے کر دیا ،امریکہ کی رضا ہر مسلم حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیا دی پتھر ٹھہری ۔خلیج کی جنگ کے بعد کو یت میں نعرہ بلند ہوا"اللہ اوپر نیچے بش"اب تمام خلیجی ممالک میں امریکہ کا ہی ڈیرا ہے وہ ان سے جنگ کا بھا ری خراج بھی وصول کرتا ہے،اور ان کا تیل بھی کوڑیوں کے مول خریدتا ہے اس وقت امریکہ میں خلیجی ممالک کے تیل کی بدولت پٹرول کی وہ ریل پیل ہے کہ وہاں پٹرول سستا مگر دودھ منرل واٹر ،کوکا کولا وغیرہ مہنگے ہیں اور امریکہ کا مفاداسی میں ہے کہ یہ سیال سونا صرف میرے ہی کا م آئے اور خود اس کے مالک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں ۔

خود پاکستان امریکہ کی تابعداری میں اس حد تک آگے جا پہنچا ہے کہ اس کی خاطر اپنی خارجہ پالیسی کے بنیا دی اصول تبدیل کر دئیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کب سے ہو رہی تھیں ،کشمیر کے مسئلہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہےدہشت گردی کے امریکی الزام سے بچنے کے لیے اپنا ایٹمی پروگرام منجمد کردیا گیا ہے بوسنیا اور اور فلسطین تو دور کی بات ہے ہم خود کشمیر کے لیے جو ہماری موت و حیات کا مسئلہ ہے جو پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے ۔

امت مسلمہ کی طاقت کا سر چشمہ تبلیغ دین اسلام تھا یعنی اسلام کو ایک دین ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا اس کی اخوت عدل مساوات کی تعلیم دینا اور خود اس کا علمی نمونہ پیش کرنا مگر افسوس ہم اس کے تمام زریں و سنہری اصول بھول گئے اسلامی عدل و مساوات کا کیا روس دیتے  کہ خود اسلامی معاشرے جاگیرداروں ،وڈیروں اور زمینداروں کے ظلم و ستم کے نیچے دبے کراہ رہے ہیں ۔دوسری طرف عیسا ئی مشزیز بڑی تیزی کے ساتھ منظم منصوبہ بندی سے افریقہ بنگلہ دیش ،انڈونیشیا،پاکستان غرض ہر مسلم ملک میں عیسائیت پھیلا رہے ہیں مشن ہسپتال اور دیگر رفاہی ادارے قائم کر کے وہ ان مظلوم اور نادار مسلمانوں کو عیسا ئیت کی ترغیب دیتے ہیں تو کہیں انگلش میڈیم سکولوں کے ذریعے جدید اور معیاری تعلیم کے نام پر ان کے تمام ذہین طبقہ کو اسلام سے بیزار اور سیکولر بنا رہے ہیں اور ہم ہیں کہ اپنی عیاشی میں مست ہم بالکل سنجیدہ نہیں ہمارے حکمران صلیبی بگل اور سائرن بجنے پر شتر مرغ کی طرح اپنا منہ ریت میں نہیں دباتے بلی کے آنے پر کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بھی بند نہیں کرتے،بلکہ ہم ان کو خوش آمد ید کہتے ہیں صلیب کو چومتے ہیں ٹائی کو گلے لگاتے ہیں اسلامی شعائر کا مذاق اڑا کر اپنے مسائل سے دانستہ آنکھیں بند کر کے خوش ہو تے ہیں کہ اس طرح ہم دہشت گردی کے طعنہ سے محفوظ ہو گئے اور امریکہ کے دفادار بن گئے۔

صالح قیادت کا فقدان :۔

قائد کی حیثیت ڈرائیور کی سی ہو تی ہے وہ گاڑی کو جس طرف موڑ دے تمام سواریاں اسی طرف جا نے کو مجبور ہیں بعینہ قوم کے لیڈر اپنے لیے جو راستہ چن لیں پوری قوم اسی پر چلنے کے لیے مجبور ہو تی ہے ہماری   بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے عوام تو مکہ اور مدینہ کو جا نے والا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں کو لندن پیرس ،اور واشنگٹن کی راہ عزیز ہے 47ءمیں برصغیر کے مسلمانوں کو محمد علی جناح جیسا قائد میسر آگیا تو تاریخ کا ایک عظیم معجزہ پاکستان کی شکل میں وجود میں آیا۔جو اللہ کا خاص فضل و کرم تھا یقین کیجئے امت مسلمہ اس وقت بھی ایک قائد کی تلا ش میں ہے ایک ایسا مخلص و مؤمن قائد جو ایک طرف خود مسلمانوں کو خالص دین کی طرف واپس لا ئے ،تمام مسلمانوں کو متحد کرے ،دوسری طرف مغربی استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے غیرت مندانہ معاملہ کرے،جو قرآن و سنت کے مطابق مسلمانوں کو مصائب سے نکا لنے کے لیے انہیں جہاد کی راہ ڈالےایسا قائد جو علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق ہو۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا

لیا جا ئے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ترک جہاد :۔

ہماری زبوں حالی کی ایک اہم اوربڑی وجہ جہاد ترک کردینا بھی ہے حضرت ابو بکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فر ما ن ہے "جس قوم نے جہاد کو چھوڑا ،وہ ضرور ذلیل و خوار ہوئی۔

جب سرور عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا تھا کہ تا قیامت میری امت میں جہاد جاری رہے گا ،نہ اس کو ظالم بادشاہ کا ظلم روک سکے گا ، نہ کسی عادل بادشاہ کا عدل ،انصاف پسند بادشاہ عدل کے قیام کے لیے جہاد کرتا ہے،جبکہ ظالموں کے ظلم کو روکنے کے لیے ان کے خلاف جہاد برپا کرنا پڑتا ہے۔ محمد بن قاسم کے ہندوستان میں آنے پر موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کے سپین میں جا نے پرجو عدل و انصاف اور امن وامان قائم ہوا تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے ،مگر جب مسلمان جہاد کا راستہ چھوڑ دیں تو کس طرح ذلیل خوار ہو تے ہیں ،آج کے عالمی حالات اس کا نقشہ اچھی طرح پیش کررہے ہیں جہاد کا راستہ عزت کا کا راستہ ہے فوز و فلا ح کا راستہ ہے ،دنیا میں سر بلندی اور آخرت میں اجرو ثواب کا ضامن ہے۔

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

مگر وائے افسوس کہ آج مٹھی بھر مجا ہدین کو غیر تو غیر خود مسلمان حکومتیں دہشت گرد بنیا د پرست انتہا پسند کہہ کر ان کو خطرہ قرار دے کر ان کو کچلنے میں مصروف ہیں ،دوسری طرف ہم عزت کا راستہ اختیار کرنے کے بجا ئےعیش کو شی  طاؤس ورباب،ٹی، وی، وی، سی آر،ڈراموں ،فحش لٹریچر کے اسیر ہیں ہر مسلم گھرا نہ فلموں ،گانوں ، فلم ایکٹرسوں، کھیلوں ،اور کھلا ڑیوں کا شیدائی اور عاشق ،لہو و لعب میں مشغول ہے، امت مسلمہ کی دین بیزاری اور مغربی تہذیب سے وفاداری کا کیا ذکر کہ اپنے سے"عورتوں سے عدم مساوات "کے نام نہاد طعہ کو مٹاتے ہو ئے پوری دنیا میں ایک مضحکہ خیز مثال پیش کی ،واقعاتی صروتحال یہ ہے کہ اس وقت دینی تعلیمات کے یکسر خلا ف تین اسلامی ممالک کی سر براہان صنف نازک سے تعلق رکھتی ہیں اسی پر طرہ یہ کہ ان میں بھی دو ملک ایسے ہیں جن کا اسلامی تشخص دنیا کی نظر میں بہت جاندار ہے اور ان ممالک کے معرض وجود آنے کی وجہ جواز  فقط اسلام کا عملی زندگی میں نفاذ ہے عورت کی سر برا ہی کا یہ اعزاز کسی مغربی ملک کو اس وقت حاصل نہیں بلکہ صرف ملت اسلامیہ کے حصہ میں آیا۔

پس چہ باید کرو؟:۔

آج جبکہ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کا ٹا جا رہا ہے محض اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں کشمیر میں پورے گا ؤں کو نذر آتش کردیا جا تا ہے محض اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں ہمارا کردار کیا ہو نا چا ہیے؟

1۔چونکہ دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کو مسلمان ہو نے کی سزا دی جا رہی ہے دشمن کہیں بھی یہ نہیں دیکھتا کہ میرے ظلم کا شکار ہو نے والا لبرل مسلمان یا سیکولر ،وہابی ہے یا بریلوی ،شعیہ ہے یا سنی،وہ تو ہمیں مسلمان کی حیثیت سے جانتا ہے لہٰذا ہمیں ہر معذرت کو بالا ئے طاق رکھتے ہو ئے کتاب و سنت کی تعلیم کے مطا بق صرف اور صرف مسلمان بننا چا ہیے ہماری تمام تر طاقت متحد ہو کر پو رے پو رے مسلمان بننے میں ہے۔

ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران :آیت103)

ترجمہ:تم سب مل کر اللہ کی رسی (یعنی اس کے دین ) کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔

اس آیت میں دوباتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ۔کہ اللہ کے دین پر مضبوطی اور سختی سے کار بند رہو،دوم یہ کہ مل کر دین پر چلنا اتفاق اور اتحاد سے رہنا تفرقہ ،انتشار اور فروغی اختلا فات سے بچ کر رہنا دینی حکم ہے، اس آیت میں یہ مفہوم بھی پہناں ہے کہ مسلمانوں کا اپنا ایک الگ بلا ک ہو نا چا ہیے وہ اپنے مسائل خود مل کر حل کریں ،اور کسی غیر کے دست نگر نہ بنیں ۔

اللہ تعا لیٰ کا قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

1۔۔۔اللہ پر ہی اہل ایمان کو توکل کرنا  چا ہیے ۔(سورۃ آل عمران:آیت160)

2۔۔۔ان سے نہ ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔(سورۃمائدہ:آیت نمبر3)

3۔۔۔کیا تم ان سے ڈرتے ہو،اصل حق دار تو اللہ ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو۔(سورۃ توبہ آیت نمبر23)

4۔۔۔یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو۔(البقرہ120)

مندرجہ بالا قرآن پا ک کے تمام ارشادات مسلمانوں کے لیے راہنما اصول ہیں کہ ہم اگر دنیا میں سر بلند ہو کر رہنا چا ہتے ہیں تو صرف اللہ سے ڈریں اسی کی اطاعت کریں ،اسی پر بھروسہ کریں ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت کا اتباع کریں ،رہ گئے غیر مسلم تو وہ ہم سے کبھی بھی راضی نہیں ہو سکتے جب تک ہم غیر مسلم نہ بن جا ئیں ہمارا مسلمان ہونا ہی ہمرا جرم ہے ۔لہٰذا یہ خیر و شر کی کشمکش جاری رہے گی،اس کشمکش میں مسلمان کا کردار یہی ہونا چا ہیے کہ اللہ کے سوانہ کسی کو بڑا مانے نہ کسی کے آگے جھکے نہ بکے بلکہ صرف اللہ کی نصرت پر یقین رکھے ،قرآن و سن کی طرف رجوع کرے اور اپنے مشکلات وسائل کو خود مل کر حل کریں ہرجگہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کو پہنچیں اس لیے انہیں لازماً علم جہاد تھا منا ہو گا شوق شہادت اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا جہاد کواوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا ۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے،

5۔۔۔اے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ان سے کہہ دو اگر تمھا رے باپ ،بیٹے ،بیویاں ،خاندان ،و ہ مال جو تم نے کما یا وہ تجا رت جس کی کساد بازاری کا تم کو اندیشہ ہے وہ مکا نات جو تمھیں پسند ہیں ، اگر تمہیں اللہ ،اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں ،تو انتظار کرو حتیٰ کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فر ما دے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ۔(سورۃ اتوبہ: آیت نمبر 24)

ایک اور مقام پر اللہ کا ارشاد ہے۔

"تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں ،عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو اس بستی سے نکال جہاں کے لو گ ہم پر ظلم ڈھارہے ہیں اور اپنی خاص عنایت سے ہمارےلیے حامی اور مدد گار بنا"(سورۃ النساء )

آنحضور  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کیا گیا کون ساعمل سب سے زیادہ افضل ہے فر ما یا اللہ اور رسول پر ایمان دریافت کیا گیا ،پھر کون سا؟ آپ نے فرما یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا (بخاری و مسلم )

آپ نے فر ما یا : جو شخص اس حالت میں دنیا سے گیا کہ نہ تو خود کبھی جہاد کیا نہ کبھی جہاد کی نیت کی ،تو اس کی موت منافقت کی موت ہے۔(صحیح مسلم)

اگر ہمیں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس حدیث کی صحت پر ایمان ہے کہ تمام امت مسلمہ جسم واحد کی طرح ہے کہ اگر جسم کے ایک حصہ میں شکا یت پیدا ہو تو پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے "تو پھر ہم کیوں کشمیری مظلوم مسلمانوں کی چیخوں ،آہوں سسکیوں سے بے پرواہ ہیں کیا ہمیں یقین ہے کہ جو کچھ کشمیری خواتین کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کل ہماری خواتین کے ساتھ نہیں ہو سکتا ،جو آگ کشمیر میں لگی ہے ہندوستان میں لگی ہے ہم یقیناً اس سے محفوظ رہیں گے؟ اس آگ سے محفوظ رہنے کی صرف ایک ہی تدبیر ہے کہ ان کے جہاد میں عملاً شامل ہو کر ان کو مضبوط بنا ئیں تا کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں بازی جیت جائیں ان کی سفارتی سطح پر اسلحہ سے مال سے جان سے ہر طرح ہر ممکن مدد کریں اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب پاکستانی سیسہ پلا ئی ہو ئی دیوار بن جا ئیں اپنے اختلا فات کو بھلا کر دین کو بنیاد بنا کر متحد ہوں اور کشمیر کے لیے مظبوط سہارا ثابت ہوں ،آخر ہم اس قوم کی اولاد ہیں جس میں محمد  بن قاسم ایک مسلمان خاتون کی فر یا د پر ہندستان پہنچا ،اور ملتان تک کا علاقہ فتح کر لیا جس میں خلیفہ المعتصم ایک مسلمان خاتون کی فر یاد پر بغداد سے عموریہ پہنچا ،اور اہل عموریہ کو اپنا باج گزار بنا کر چھوڑ ا انھوں نے عزت کا راستہ جہاد کا راستہ اختیار کیا تھا اور ہم انتشار کا شکار دین سے دور آپس میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مشغول فلموں ،گانوں ، اور کھیلوں کے لا لی پاپ سے اپنے آپ کو بہلا رہے ہیں۔ ہمیں مخلص صالح قیادت کی ضرورت ہےوہ بھی جہاد کی بھٹی سے ہی نمودار ہو گی حال میں افغانستان نے جہاد کی بدولت عظیم کا میابی حاصل کر لی تھی مگر پھر مسلمانوں نے ساتھ دیا تو امریکہ نے اس جہاد کا ثمر بر باد کر دیا لہٰذا اس وقت بھی دین کی طرف رجوع اتحاد اورجہاد کی ضرورت ہے دور جدیدکا صلاحالدین ایوبی ان صلیبی جنگوں میں اہل صلیب کو شکست سے دوچار  کرنے والا اسی جہاد کی کٹھالی میں سے نمودار ہو گا ان شاء اللہ العزیز۔۔۔!

اگر ہم چاہتے ہیں کہ کرہ ارض کا نقشہ بدل جا ئے ظلم کا خاتمہ کر دیا جا ئے یہود و ہنود اور اہل صلیب کی مکاریوں کا پردہ چاک کر دیا جا ئے تو پھرامت مسلمہ کے ایک ایک فرد کو یہ عزم کرنا ہو گا کہ وہ مجا ہد بنے گا پھر یہ مجاہد اقوام متحدہ کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھنے کے بجا ئے راہ جہاد میں آگے بڑھتے جا ئیں گے۔جب امت اس راہ پر چل کھڑی ہو گی ،تو اللہ صالح قائد عطا فر ما ئے گا جو طالوت بن کر جالوت کا سر پھوڑ کر رکھ دے گا اور ارشاد باری تعا لیٰ  کے مطابق یہ منظر سامنے آئے گا ۔

"کئی بار ایسا ہوا کہ تھوڑی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب آگئی۔"

آئیے ہم سب مل کر اپنے لیے عزت کا راستہ چنیں صلاح الدین ایوبی کا راستہ سلطان ٹیپو کا راستہ شاہ اسماعیل شہید کا راستہ اور مل کر امت مسلمہ کے مصائب و آلام کو اللہ کی نصرت سے دور کر دیں ۔وگرنہ۔۔۔"تیری داستان نہ ہو گی داستانوں میں "کا خدا نخواستہ انجام بدہمارا منتظر ہے اللہ ہمیں ہر وقت صحیح فیصلہ کرنے کی تو فیق بخشے ۔آمین۔

اس وقت مسلمان خواتین کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے اندر جہاد اور شوق شہادت پیدا کریں ،اپنے مجا ہد بھا ئیوں ،بیٹوں اور شوہروں کے لیے خوب دعا کریں کیونکہ دعا بہترین عبادت ہے، مسلمانوں کی طاقت اور حوصلہ کے لیے بہت بڑا سہارا ہے ہم سب کو عالم اسلام کی سر بلندی کے لیے مظلوم مسلمانوں کے لیے مجا ہدین کے لیے خوب خوب دعا ئیں اللہ تعا لیٰ سے کرنی چاہئیں، یہ میدا ن جنگ میں لڑنے والے مجا ہدین کی بہترین اخلا قی مددہے۔

پیاری ماں مجھ کو تیری دعا چا ہیے

جب شہادت ملے اور کیا چاہیے ۔س

حکومت پر یہ فرض عائد ہو تا ہے کہ وہ تمام طلبہ کے لیے فوجی تربیت لازمی قرار دے تا کہ بوقت ضرورت ہر طالب علم اسلام کا قلعہ ثابت ہو۔

آج کل جنگیں میدان جنگ سے زیادہ تقافتی محاذ پر لڑی جا تی ہیں لہٰذاہم مسلمانوں کو ایک طرف عیاشی کو ترک کرنا ہو گا اور خالص اسلام کی سادہ سچی تعلیمات کو خلو ص سے اپنانا ہو گا اور تعضبات کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے صرف خدا ئے واحد کےآگے جھکنا ہو گا ،دوسری طرف نفس پرستی اقتدار پرستی اور حب جاہ مال کے بت توڑ کر اتفاق اور اتحاد کو مضبوط بنا ناہو گا ،اپنی خبر رساں ایجنسی ہوں آپس میں رابطے مسلم حکومتوں اور عوام کے برا ہ راست ہوں تا کہ ایک دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کریں اور اس اخوت کا نقشہ سامنے آئے۔

اخوت اس کو کہتے ہیں کہ چبھےکانٹا جو کابل میں

تو دلی کا ہر پیرو جواں بے تا ب ہو جا ئے

[1] ۔ملا حظہ ہو ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹ جس میں ستر ممالک کے نمائندے آزاد کشمیر گئے تھے، مہاجر کیمپوں کا معائنہ کرنے کے لیے اس میں خود انڈیا کا ایک صحافی "راجن"ان مظلوموں کی المنا ک داستانیں سن کر چیخیں مار مار کر رو دیا۔

[2]۔نکسن کا دعویٰ ہے کہ عالم اسلام اس وقت بہت سے عوارض کی پوٹ بنا ہوا ہے جاپان اپنے سابقہ ساہراجی کردار کی بدولت دنیا کو ناپسند ہے ۔جرمنی اپنے جنگنویا نہ کردار کی وجہ سے ناہل ہے۔روس اب راکھ کا ڈھیر ہے۔چین اپنے غیر جمہوری طرز عمل کی وجہ سے عالمی قیادت کے لیےنااہل ہے۔اس لیے اب صرف امریکہ کو ہی عالمی قیادت زیب دیتی ہے ۔