ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اکتوبر
1994
ثریا بتول علوی
بیسویں صدی کا آخری عشرہ مسلمانوں پر مصائب و آلا م اور ابتلا ء کا عشرہ ہے اس صدی کے نصف اول میں بہت سے مسلم ممالک نے آزادی حا صل کی۔ اور مغرب کے لیے یہ ایک عظیم لمحہ فکر یہ بن گیا ۔کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کا اتحاد ایک تیسری عظیم قوت کو جنم دے سکتا ہے افغانستان پر روسی یلغار پر جس طرح مسلمانوں نے متحدہ ہو کر اس عظیم تر فتنہ کا مقابلہ کیا اور روس جیسی نام نہاد سپرپاورکو جس بے بسی و بے چارگی کے عالم میں افغانستا ن سے بھا گنا پڑا ،پھر اس کے نتیجے میں دنیا کے جغرافیہ میں بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں پسے ہو ئے اور ظلم وستم کے مارے ہوئے مسلمانوں نے کروٹ لی اور علم جہاد بلند کردیا۔ تو پورا مغرب ایک دم چوکنا ہوگیا۔کہ سوسالہ کیمونسٹ دباؤ کے باوجود ان ممالک کے مسلمانوں نے نہ صرف اپنے تشخص کو قائم رکھا بلکہ آزادی ملتے ہی فوراًاپنی ملی و اسلامی اقدار کے احیاء میں سر گرم ہو گئے ،چا ہے وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں ہوں یا یورپ میں بوسنیااور البانیہ کے مسلم اکثریتی علاقے روس کی پسپائی کے فوراً بعد امریکہ نے اپنا نیو ورلڈآرڈر پیش کر دیا جو دراصل ( أنا ولا أحد غيري )کا مصداق تھا اس کے اس آرڈرکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو اسلامی قوتیں اُبھر رہی ہیں ان کا سختی سے قلع قمع کر دیا جا ئے۔
  • اکتوبر
1994
صدیق حسن خان
﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّـهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿١١٨﴾...البقرة
"اور جولوگ کچھ نہیں جانتے(مشرکین) وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔اس طرح ان سے پہلے لوگ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ان لوگوں کے  دل آپس میں ملتے جلتے ہیں،جولوگ صاحب یقین ہیں ان کے لئے ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں۔"
تشریح:۔
یہاں پہلے لوگوں سے مراد یہودی ہیں،وہ لوگ بھی اپنے نبی  علیہ السلام  سے یہی کہتے تھے جو مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  فرمایا:رافع بن حرملہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ اللہ کے رسول ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ سے کہیں کہ وہ ہم سے باتیں کرے،ہم اس کی گفتگو کو سُنیں اس پر آیت نازل ہوئی۔
  • اکتوبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
ولادت اور نام و نسب:۔
امام ترمذی 210ھ کے حدود میں پیدا ہوئے بعض نے 209ھ ذکر کیا ہے۔کیونکہ وفات بالاتفاق 279ھ ہے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے میزان الاعتدال میں 279ھ وفات ذکر کی ہے اور لکھا ہے:
"وكان من ابناء سبعين"
یہی الفاظ علی القاری نے شرح الشمائل میں ذکر کیے ہیں،پس ان جملہ اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ امام موصوف 209ھ میں پیدا ہوئے لہذا ان کی ولادت 210ھ ہی ہے۔(1)
امام ترمذی کا نام محمد،باپ کا نام عیسیٰ اور کنیت ابو عیسیٰ ہےاور  پورا نسب یہ ہے:
محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن الضحاک اور نسبت اسلمی الترمذی ہے بعض نے البوغی کی نسبت بھی ذکر کی ہے کیونکہ آپ قریہ بوغ میں مدفون ہیں جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ کی مسافت  پر واقع ہے۔(2)لیکن ترمذی کی نسبت زیادہ مشہور ہے اور اسی نسبت سے معروف ہیں۔(3)
  • اکتوبر
1994
حمیداللہ عبدالقادر
پیدائش 1248ھ/1832ء ۔وفات 1307ھ/1889ء
سید ابو طیب صدیق حسن خان  رحمۃ اللہ علیہ  اکتوبر 1832ء کو بمقام بریلی پیدا ہو ئے ،آپ اردو ،عربی اور فارسی کے نامور ادیب ، عالم دین اور شاعر ،دوسو بائیس کتابوں کے مصنف اور علم و فضل کے اعتبار سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں ۔
حسینی سادات کے چشم و چراغ سلسلہ نسب تتیس (33)واسطوں سے جناب سید البشر حضرت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچتا ہے (1)
ان کے والد گرا می نواب سید اولاد حسن نے دیگر اساتذہ کے علاوہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  سے اکتساب علم کیا تھا ،نواب سید اولاد علی آپ کے دادا تھے جو حیدر آباد (دکن ) میں جاگیرداری کے علاوہ انور جنگ بہادر کے خطاب سے سر فراز تھے(2 )
  • اکتوبر
1994
عبداللہ زائد
خالق ارض وسماء نے کائنات رنگ وبو میں مختلف خاصتیوں کے حامل انسان پیدا کیے ہیں اور ان میں مختلف درجات وطبقات کا سلسلہ قائم کردیا۔ان میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام  علیہ السلام   کو عطا کیا اور ان میں امام الانبیاء علیہ السلام   اورافضل الانبیاء علیہ السلام   کےمقام پر ہمارے آقا ومولیٰ خاتم النبیین حضرت محمد ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوفائد کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد تقویٰ وتورع کے لحاظ سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کامرتبہ اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ان کے بعد محدثین عظام اور علماء کرام کا مرتبہ ہے۔جنھوں نے اپنے آپ کو دین حق کی ترویج واشاعت کے لئے وقف کردیا اور وہ"إن العلماء ورثة الأنبیاء علیه السلام  " کےمعیار پر  پورے اترے۔
  • اکتوبر
1994
غازی عزیر
(تقریباًدو ہفتہ قبل ایک ہینڈ بل نظر سے گذرا تھا جس میں "تیمم کرنے کا طریقہ " درج تھا۔ یہ طریقہ چونکہ قرآن و سنت کے صریح اور واضح احکا م کے خلا ف تھا لہٰذا "الدین النصیحة  " کی اتباع میں تقسیم کنندہ کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا گیا ۔۔لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ سیدھی سادی بات کو سمجھنے کے بجا ئے قرآن و سنت کے مقابلہ میں برصغیر کے چند معروف علماء کے اقوال کو بطور سند پیش کیا گیا فإنا اللہ وإنا إلیه راجعون ۔۔۔اس سلسلہ کی آخری کو شش اور اتمام حجت کے طور پر یہ مختصرمضمون قلمبند کر رہا ہوں ۔شاید کہ بعض بھا ئیوں کو عبرت اور قبول حق کی تو فیق ہو جا ئے ۔۔۔مرتب)تقسیم شدہ ہینڈ بل کی عبارت حسب ذیل ہے۔
  • اکتوبر
1994
عبد الرحمن مدنی
(((مورخہ 11ستمبر 1994ء کے لیے"محدث" کے مدیر اعلیٰ کو جہاد کے پس منظر میں فرقہ وارانہ تشدد  پرغور وخوض کے مقصد سے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،جو عملاً مشاورت کے بجائے جلسہ عام کی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔تاہم موصوف نے جذباتی فضا میں جذبہ جہاد کوفرقہ وارانہ منافرت سے بچانے کے لئے جہاد کی تنظیم اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت متحد کرنے پر زور دیا۔اگرچہ ادارہ "محدث" سمیت متعلقہ تمام ادارے نہ صرف جہادی فکر کی تخم ریزی اور سیرابی کے لئے کوشاں ہیں بلکہ غزو فکری کے ساتھ ساتھ جہاں جانی اور مالی طورپر عملاً جہاد افغانستان،بوسنیا،اور کشمیر میں شریک رہتے ہیں،وہاں اس تجویز کے شدت سے موئید ہیں کہ جہاد کانعرہ لگانے والی ٹولیاں متحد ہوکر کام کریں ،نیز نوجوانوں کو بزرگوں کی سرپرستی میں کام کرناچاہیے تاکہ جوش ہوش پر غالب نہ آنے پائے،بعض جوشیلے لوگوں کی دینی قوتوں کی شیرازہ بندی یا اعتدال کے ایسے مشورے بھلے معلوم نہیں ہوتے۔وہ وضاحت کا موقع دیے بغیر تردیدی خطابات کا"جہاد" شروع کردیتے ہیں،بلکہ زبان بندی سے بھی نہیں چوکتے۔سطور ذیل میں ہم مذکورہ خطاب کا ایک خلاصہ اور سوال وجواب کی شکل میں مخالفانہ تقاریر پر وضاحتیں شائع کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں افراط وتفریط سے بچائے اور شریعت کے میزان عدل پر عمل کی توفیق دے۔آمین!۔۔۔(ادارہ)،)))
  • اکتوبر
1994
عبدالرشید عراقی
ماضی میں علمائے اہل حدیث نے برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی نشر واشاعت ،کتاب وسنت کی نصرت وحمایت اور شرک وبدعت کی تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کے خلاف جو علمی کارنامے سرانجام دئیے،وہ ہماری تاریخ اہل حدیث کاایک روشن باب ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے ہندوستان میں عیسائی قادیانی آریہ اور منکرین حدیث ایسے گروہ تھے جنہوں نے اسلام کے خلا ف ایک محاذ قائم کیا ہوا تھا ۔علمائے اہلحدیث نے ان کے خلا ف ہر محاذ پر مقابلہ کیا ان سے منا ظرے بھی کئے اور ان کے خلا ف کتابیں بھی لکھیں ۔دوسری طرف علمائے اہلحدیث نے علمی و دینی اور تحقیقی خدمات بھی سر انجا م دیں ۔قرآن مجید کے تراجم بھی کئے اور تفاسیر بھی لکھیں ۔حدیث کی عربی اور اردومیں شرحیں لکھیں فقہ عقائد ،تاریخ اور سیرت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم   پر متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔اس کے علاوہ علمائے اہلحدیث نے اپنے مدارس قائم کر کے کتاب و سنت کی نشرواشاعت میں ایک مثالی کا ر نامہ سر انجام دیا اور پورے برصغیر میں پھیل کرکتاب و سنت کی اشاعت اور شرک و بدعت کی تردید کی۔
  • اکتوبر
1994
عبدالقوی لقمان
فرمان باری تعالیٰ ہے:۔
﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ﴿١٩﴾...آل عمران
"  بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے، اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا)ہے "
  • اکتوبر
1994
محمود الرحمن فیصل
(((سیکولرزم انسانی زندگی کو چھ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
1۔افکارونظریات۔2۔پوجا پاٹ۔3۔رسوم ورواج۔4۔معاشرت۔5۔معیشت۔6۔سیاست
پہلے تین حصوں میں وہ مذہبی آزادی کا قائل ہے۔جبکہ بقیہ تین حصوں:معاشرت ،معیشت،اور سیاست میں وہ انسانیت کے نام پر سختی سے الہامی ہدایات کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔اس وقت عالمی سطح پر اسلام اورسیکولر ازم کی فکری کشمکش چل رہی ہے،چونکہ زیادہ تر  رسوم ورواج کا  تعلق خاندان سے ہے۔ جو معاشرت کی بنیادہے۔ لہذا یہ مرحلہ سیکولرازم اور اسلام کے درمیان پل بن گیا ہے۔جس نے یہ پل پار کرلیا وہ جنگ جیت گیا۔خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ درحقیقت زیادہ تر فقہی نہیں ہے بلکہ عائلی تصورات کے نام پر اسلامی عقائد پر حملہ ہے۔
  • اکتوبر
1994
ثنااللہ مدنی
تاریخ سازشخصیت
حضرت حافظ مقبول احمد تقسیم ہند سے قریباً نو سال قبل متحدہ ہندوستان میں کھیم کرضلع لاہور سے شمال مغرب میں واقع گاؤں"کلس" میں زمیندار راجپوت گھرانہ میں تولد ہوئے۔آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے:مقبول احمد بن میاں رحیم بخش بن اسماعیل خاں بن بہاول خاں بن بلند خاں بن وسن خاں۔۔۔یہ نسب نامہ کلس کی اولاد سے حکیم خان تک منتہی ہے۔اور کلس کا اصل جنڈیالہ کلساں ضلع شیخو پورہ سے تھا،حافظ صاحب نے بیوہ کےعلاوہ دو بچے چھوڑے ہیں،جو شارجہ میں مقیم ہیں۔بڑا عبدالمنان مدنی اس کی عمر قریباً چوبیس سال ہے چھوٹا عبدالحنان مکی  ہے۔اس کی عمر اندازاً بائیس سال ہوگی عبدالحنان چونکہ مدینہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  میں پید اہوا۔اس لئے اسے مدنی کہاجاتا ہے۔اورعبدالحنان مکہ مکرمہ میں پیدا ہوا چنانچہ اسی مناسب سے اسےمکی کہاجاتا ہے۔دینی ضروری معلومات کے ساتھ ثانوی تعلیم انہوں نے شارجہ سے حاصل کی۔والد کی بیماری کی وجہ سے شارجہ میں سرکاری ملازمت کرنے لگے ہیں۔