الوَلاء والبرَاء یعنی دوستی اور دشمنی ، محبت اور نفرت کے شرعی تقاضے کیا ہیں اور اس کی کیا حدود ہیں ؟ اسلامی عقیدہ کا یہ مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ، اس صحیح طور پر سمجھنا اور پھر اعتقاداً و عملاًَ اس کا صحیح حق ادا کر دینا ایمان کی تکمیل کرتا ہے ، جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے :
«من أحب لله وأبغض لله وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل الايمان»
دوستی ، دشمنی ، محبت اور نفرت یہ سب عبادات ہیں او رہر قسم کی عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالی ہے ۔ کسی سے دوستی یا محبت کا رشتہ قائم کرنا ہے تو اللہ کے لیے ، اور دشمنی اور نفرت کا مظاہرہ کرنا ہے تووہ بھی اللہ کے لیے ، بس یہی اس مسئلہ کی مرکزیت ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أوثق عرى الإيمان، الموالاة في الله والمعاداة في الله، والحب في الله، والبغض في الله»(رواه الطبرانى و صحيحه البانى الجامع الصغير:2535)
''ایمان کا سب سے مضبوط کنڈہ اللہ کے لیے دوستی اور اللہ کے لیے دشمنی ہے اور اللہ کے لے محبت او راللہ کے لیے نفرت کرنا ہے ۔ ''
یاد رکھئے ، عقیدہ 'الولاء والبراء ' ایمان کا سب سے مضبوط کنڈہ ہے ، بلکہ صحت ِ و قول ایمان کی بنیادی شرط ہے ، اس عقیدہ کی بعض صورتیں ایسی ہیں جن میں خلل یا اضطراب نواقضِ ایمان میں شمار ہوتا ہے ۔ ولاء اور براء اگر چہ دونوں قلبی اعمال ہیں ، لیکن ان دونوں کا مظہر بندےکے ظاہر ی اعمال و تصرفات ہیں ، کچھ ظاہر ی علامات ہیں جن سے ولاء یعنی مؤمنین سے الفت و محبت اور براء یعنی کفار و مشرکین سے نفرت و عداوت کا اظہار ہوتا ہے ، ان صورتوں او رعلامات کا تفصیلی بیان اس تحریر میں موجود ہے ۔
ولاء وبراء سے مراد
شیخ عبدالطیف بن حسن آلِ شیخ فرماتے ہیں :
فالولاء للمؤمنين يكون بمحبتهم لإيمانهم، ونصرتهم، والنصح لهم، والدعاء لهم، والسلام عليهم، وزيارة مريضهم، وتشييع ميتهم، وإعانتهم، والرحمة بهم، وغير ذلك والبراءة من الكفار تكون ببغضهم - ديناً - ومفارقتهم، وعدم الركون إليهم، أو الإعجاب بهم، والحذر من التشبه بهم، وتحقيق مخالفتهم شرعاً، وجهادهم بالمال واللسان والسنان، ونحو ذلك من مقتضيات العداوة في الله
''مؤمنین سے ولاء کی علامات یہ ہیں کہ ان سے ان کے مؤمن ہونے کی وجہ سے محبت کی جائے ، ان کی نصرت کی جائے ، ان کے ساتھ خیر خواہانہ رویہ روا رکھا جائے ، ان کے لیے دعائیں کی جائیں ، ملاقات پر انہیں سلام کہا جائے ، بیمارہوں تو عیادت کی جائے ، فوت ہونے پر جنازے میں شرکت کی جائے ، بوقت ِ ضرورت اعانت کی جائے اور مشفقت و محبت کا برتاؤ کیا جائے ۔ وغیرہ
جبکہ کفار سے براءت کی علامات یہ ہیں کہ ان کے ناپاک و نجس دین کی وجہ سے ان سے بغض رکھا جائے ، ان سے علیحدگی اختیا ر کی جائے ، کی طرف کسی قسم کا قلبی جھکاؤ اور میلان نہ ہو ، ن ہی ان کے کسی کارنامے پر خوش ہوا جائے ، ان سے کسی بھی قسم کا تشبہ اختیار کرنے سے یکسر گریز کیا جائے بلکہ شریعت نے جن چیزوں میں ان کی مخالفت اختیار کرنے کی تلقین کی ہے ، ان میں پور ی شدومد کے ساتھ ان کی مخالفت کی جائے ۔ ( حسبِ موقع) ان سے مال ، زبان اور تلوار کے ساتھ جہاد کیا جائے ، اسی طرح دیگر بہت سے ایسے اُمور ہیں جو ان کے ساتھ اظہار عداوت کے مقتضی ہیں ۔''
برادرانِ اسلام ! ولاء یا براء کے مظہر ان علامات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے کردار کا جائزہ لیجئے ، یہ بڑا ضروری اور متعین امر ہے ، کیونکہ ولاء و براء کا عقیدہ ایمان کا سب سے مضبوط کنڈہ ہے اور ہر بند ے کے لیے ایک کڑا امتحان ہے ۔ بالخصوص وہ لوگ اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کریں جو بلاد کفر کو بلادِ اسلام پر بڑے فخریہ انداز سے ترجیح دیتے ہیں او رمسلمانوں کے مقابلہ میں کفارسے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ خصائل ایمان کے مقابلہ میں خصائل کفر ( جو در حقیقت رزائل ہیں ) کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں ، یا کفار کے ایجنٹ اور آلہ کار بن کر بلادِ اسلام میں فساد برپاکرنے اور مسلمانوں کی بربادی اور ہلاکت کا منصوبہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ اپنی سائنسی مہارت و ایجادات سے کفار کو فائدہ پہنچا رہے ہیں بلکہ وسائل حرب و ضرب ایجاد کر کے اُنہیں کفار کے سپرد کر دیتے ہیں تاکہ وہ انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں مسلمانوں کی ہلاکت کے سلسلہ میں کفار کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہیں بلکہ ان پر حملہ کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔
اسی طرح بعض مسلمان بلادِ کفار کی نیشنلٹی حاصل کر کے اپنی پوری زندگی وہاں گزار دیتے ہین اور یہ پوری زندگی ان کے تمام قوانین کی پیروی کرتے ہوئے بسر کر دیتے ہیں ، حتی ٰ کہ ہم نے بعض مسلمانوں کو اپنے تجارتی مراکز میں صلیب تک فروخت کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اناللہ وانا لیہ راجعون... اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور کیجئے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا الَّذينَ اتَّخَذوا دينَكُم هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم وَالكُفّارَ أَولِياءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿٥٧﴾... سورة المائدة
''مسلمانوں ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواہ) وہ ان میں سے ہوں جو ان سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں ۔ اگر تم مؤمن ہو تو اللہ تعالی سے ڈرتے رہو۔''
اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے بعد ضروری ہے کہ اللہ تعالی کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کہ اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عداوت قائم و بحال رکھے اور یہ شرعی فریضہ ہے کہ ہر صاحب توحید سے محبت کرے اور اس کے ساتھ دوستی کا رشتہ استوار رکھے ، اسی طرح ہر شرک کرنے والے سے بغض رکھے اور اس کے ساتھ عداوت کی راہ پر قائم رہے ۔
(1)سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ﷩ اور ان کے پیروکاروں کا یہی اُسوہ حسنہ ہمارے لیے بطور خاص قرآن حکیم میں بیان کیا گیا ہے اور ہمیں ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :
﴿قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبر‌ٰهيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَء‌ٰؤُامِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَد‌ٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ ...﴿٤﴾... سورة الممتحنة
''تحقیق تمہارے لیے ابراہیم ﷩ اور ان کے رفقا میں ایک اچھا نمونہ ہے ، جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگو ں سےکہا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ تعالی کے سوا پوجا کرتے ہو ، ان سب سے بے تعلق اور ناراض ہیں ۔ ہم تمہاری اس روش کا انکار کرتے ہیں اور جب تک تم الک اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک پر ایمان نہیں لے آتے ، ہمارے او رتمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض قائم رہے گا۔''
(2)محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کی بھی یہی تعلیم ہے ۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصـٰرىٰ أَولِياءَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّـٰلِمينَ ﴿٥١﴾... سورة المائدة
''اے ایمان والو ! یہود نصاریٰ کوپنا دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں او رجو کوئی تم میں انہیں دوست بنائے گا وہ بلاشبہ اُ نہی میں سے ہوگا ۔ بے شک اللہ تعالی ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔''
(3)یہ آیتِ مبارکہ بطورِ خاص اہل کتاب سے دوستی و تعلق قائم کرنے کی حرمت و ممانعت پر دلیل ہے ۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی نے عمومی طور پر ہر قسم کے کافروں سے دوستی قائم کرنے کو حرام قرار دیا ہے مثلاً:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُم أَولِياءَ...﴿١﴾... سورة الممتحنة
''اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست مت بناؤ ۔''
(4)بلکہ اللہ تعالی نے تو ایسے لوگوں کی دوستی بھی مسلمانوں پر حرام قرار دے دی ہے ، جو خونی رشتے اور نسب کے اعتبار سے انتہائی قریب ہوں ۔ فرمایا:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا ءاباءَكُم وَإِخو‌ٰنَكُم أَولِياءَ إِنِ استَحَبُّوا الكُفرَ عَلَى الإيمـٰنِ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٢٣﴾... سورة التوبة
''اے ایمان والو! اگر تمہارے (ماں) باپ اور ( بہن ) بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں ، تو ان سے دوستی مت رکھو اور تم میں سے جو بھی ان سے دوستی رکھیں گے وہ یقیناً ظالم ہیں ۔''
(5)اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخو‌ٰنَهُم أَو عَشيرَتَهُم...﴿٢٢﴾... سورة المجادلة
'' جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ، انہیں تم ایسے لوگوں سے دوستی رکھتے والانہیں پاؤ گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہو ۔ خواہ وہ ان کے (ماں) باپ ، اولاد ، (بہن) بھائی یا خاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں ۔''
آج اس عظیم شرعی قاعدے سے بہت سے لوگ غافل اورناآشنا ہیں ۔ حتی ٰ کہ میں نے تو ایک عرب ریڈیو سے ایک ایسے شخص کو جو اپنے آپ کو عالم اور داعی سمجھتا ہے ، یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصاریٰ ہمارے بھائی ہیں جبکہ یہ بات انتہائی خطر ناک ہے ۔ برادرانِ اسلام ! جس طرح اللہ تعالیٰ نے کفار اور عقیدہ اسلامیہ کے دشمنوں کی دوستی کو حرام قرار دیا ہے ، اسی طرح ان کے مقابل مسلمانوں (مؤمنوں ) سے دوستی قائم کرنے اور محبت رکھنے کو واجب قرار دیا ہے ۔
(6)اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
﴿إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَالَّذينَ ءامَنُوا الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكو‌ٰةَ وَهُم ر‌ٰكِعونَ ﴿٥٥﴾ وَمَن يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالَّذينَ ءامَنوا فَإِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ الغـٰلِبونَ ﴿٥٦﴾... سورة المائدة
'' تمہارے دوست تو صرف اللہ تعالیٰ ، اس کا رسول اور مؤمن لوگ ہی ہیں ، جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع کرنے والے ہیں اور جو شخص اللہ تعالی اور اس کے رسول او رمؤمنوں سے دوستی کرے گا ( تو وہ اللہ تعالی کی جماعت میں شامل ہے ) اور اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب ہو کر رہنے والی ہے ۔ ''
(7)دوسرے مقام پر فرمایا :
﴿مُحَمَّدٌ رَسولُ اللَّهِ وَالَّذينَ مَعَهُ أَشِدّاءُ عَلَى الكُفّارِ رُحَماءُ بَينَهُم...﴿٢٩﴾... سورة الفتح
(محمدﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو لو گ آپ کے ساتھ ہیں ، وہ کفار پر بہت سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں ۔''
(8)نیز فرمایا: ﴿إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ ...﴿١٠﴾... سورة الحجرات
''بے شک مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔''
ثابت ہوا دین اور عقیدے کا تعلق اس قدر مضبوط اور مستحکم ہے کہ اس نے تمام اہل ایمان کو اخوت او ربھائی چارے کے انتہائی پاکیزہ رشتے سے منسلک کر دیا ہے ، خواہ ان کے حسب و نسب ، قوم و وطن ، ذات و برادری اور زمان و مکاں میں کتنی ہی دوری اور تفاوت ہو ۔
(9)اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ ﴿١٠﴾... سورة الحشر
''اور ان کے لیے بھی جو ان ( مہاجرین ) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے ، کہ جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کے واسطے ہمارے دلوں میں کینہ ( بغض) نہ پیدا ہونے دے۔
اے ہمارے ربّ ! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا اور رحم کرنیوالا ہے ۔ '' لہذا تمام مومن اوّل تا آخر زمان و مکان کی دوریوں سے باکل بے نیاز اور بالاتر آپس میں رشتہ اخوت سے منسلک ہیں ، ایک دوسرے سے محبت کرتے ، بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی اقتدا کرتے اور ایک دوسرے کیلئے داعائیں نانگتے اور استغفار کرتے رہتے ہیں ۔
کفار سے محبت کی علامات :
دوستی اور دشمنی کی ان حدود کے تذکرے کے بعد یا د رہنا چاہیے کہ اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں ۔ ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کے دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اتر رہا ہے ؟
اوّلاً : ان امور کو بیان کرتے ہیں جو کفار سے دوستی اور محبت کی دلیل ہیں ، جو درج ذیل ہیں :
(1)لباس وگفتار کی تقلید : ہم اپنے لباس و گفتار میں جس قوم کی نقل کریں گے تو گویا ان سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں ، کیونکہ لباس و گفتار وغیرہ میں کسی قوم کی تشبیہ ان سے محبت ہی کی دلیل ہوتی ہے ۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا :
'' من تشبه بقوم فهو منهم''(سنن ابوداؤد: 4031)
'' جوکسی قوم کی نقالی کرے گا ، وہ انہی میں سے شمار ہوگا ۔''
لہذا کفار کی وہ عادات ، عبادات ، اخلاق اور طور طریقے جو ان کا خاصہ بن چکے ہیں ، میں ان کی تشبیہ اختیار کرنا حرام ہے ۔ مثلاً داڑھی منڈوانا ، لمبی مونچھیں رکھنا ، بلا ضرورت ان کی زبان بولنا ، لباس میں نقل کرنا اور کھانے پینے میں کے طور طریقے اختیار کرنا وغیرہ ۔
(2)ان کے علاقوں میں اقامت اختیار کرنا : یعنی کفار کے علاقوں میں مستقل اقامت اختیار کر لینا او ر مسلمانوں کے علاقوں میں سکونت پذیر ہونے سے گریز کرنا بھی ان سے محبت کی دلیل ہے۔ حالانکہ محض اپنے دین کے تحفظ کی حاطر کفار کے علاقوں سے بچ نکلنا اور مسلمانوں کی سر زمین میں سکونت اختیار کرنا شریعت کا تقاضہ ہے ، کیونکہ سرزمین کفر میں سکونت پذیر ہونا کفار سے محبت کی دلیل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک ۃ تعالی نے ایک مسلمان کا اگر ہجرت پر قادر ہو ، کفار کے درمیان رہنا حرام قرار دیا ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الَّذينَ تَوَفّىٰهُمُ المَلـٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم قالوا فيمَ كُنتُم قالوا كُنّا مُستَضعَفينَ فِى الأَرضِ قالوا أَلَم تَكُن أَرضُ اللَّهِ و‌ٰسِعَةً فَتُهاجِروا فيها فَأُولـٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَساءَت مَصيرًا ﴿٩٧﴾ إِلَّا المُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلد‌ٰنِ لا يَستَطيعونَ حيلَةً وَلا يَهتَدونَ سَبيلًا ﴿٩٨﴾فَأُولـٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعفُوَ عَنهُم وَكانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفورًا ﴿٩٩﴾... سورة النساء
''جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھے ہیں ، کہ تم کس حال میں تھے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے ۔ فرشتے کہتے ہیں : کیا اللہ تعالی کا ملک فراخ تھا کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برُی جگہ ہے ۔ ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بے بس ہیں کہ نہ کوئی چارہ کر سکتےہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں ، قریب کہ اللہ تعالی ٰ ایسوں کو معاف کردے گا ، اور اللہ تعالیٰ معاف کرنےوالاہے اور بخشنے والا ہے ۔''
ان آیات سے معلوم ہوا کہ سرزمین کفر میں سکونت پذیرہونےوالوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے ۔ البتہ جو لوگ کمزور ہیں اور ہجرت کی طاقت نہیں رکھتے ، انہیں کچھ چھوٹ ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ بھی ناقابل گرفت ہیں جن کے سر زمین کفر میں رہنے میں کو ئی دینی مصلحت ہو ۔ مثلاّ ان علاقوں میں دعوت الیٰ اللہ اور اسلام کی نشرواشاعت کا کام کررہے ہیں بلکہ یہ تو عظیم جہاد ہے !
(3)محض تفریح کی خاطرکفار کے علاقوں کا سفر اختیار کرنا :
کفار کے علاقوں کاسفر کرنا جائز ہے اِلا یہ کہ کوئی شدید ضرورت ہو ۔ مثلاً علاج یا تجارت کی غرض سے یا ایسے مفید قسم کے مضامین کی تعلیم کی خاطر جن کا حصول اس سفر کے بغیر ممکن نہ ہو ، تو ان حالات میں کفار کے علاقوں میں بقدرِ ضرورت سفر کر کے جانا دجائز ہے اور جب ضرورت پوری ہو جائے تو فوری طور پر اپنے علاقے کی طرف لوٹنا واجب ہے ۔
لیکن اس سفر کے جائز ہونےکے لیے ای شرط یہ بھی ہے کہ سفر کرنے والے پر اپنے دین اسلام کا رنگ غالب ہو ۔ شر او رفساد کے مقامات دور اور متنفرہو ، دشمن کے مکرو فریب چوکنا اور محتاط ہو ۔ اسی طرح کفار کے علاقوں کی طرف دعوت الی اللہ اور تبلیغ اسلام کی خاطر سفر کرنا جائز بلکہ حالات میں واجب ہے ۔
(4)مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی مدد کرنا اور ان کا دفاع کرنا: یہ بھی کفار سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ فعل قبیح تو انسان کو یکسر اسلام کی دولت سے ہی محروم کردیتا ہے اور اسے مرتد بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتاہے ہم اس مرض سے اللہ تعالیٰ کے پناہ چاہتے ہیں ۔کفار کی مدد چاہنا اور ان پر اعتماد کرنا اور انہیں مسلمانوں کے خفیہ راز سے متعلق عہدوں پر فائز کرنا اور انہیں اپنا ہم رازیا مشیر بنانا ، یہ سب انکی محبت کی علامات ہیں ۔ اللہ تعالی کے اس فرمان پر غور کریں :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا بِطانَةً مِن دونِكُم لا يَألونَكُم خَبالًا وَدّوا ما عَنِتُّم قَد بَدَتِ البَغضاءُ مِن أَفو‌ٰهِهِم وَما تُخفى صُدورُهُم أَكبَرُ قَد بَيَّنّا لَكُمُ الءايـٰتِ إِن كُنتُم تَعقِلونَ ﴿١١٨﴾ هـٰأَنتُم أُولاءِ تُحِبّونَهُم وَلا يُحِبّونَكُم وَتُؤمِنونَ بِالكِتـٰبِ كُلِّهِ وَإِذا لَقوكُم قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا عَضّوا عَلَيكُمُ الأَنامِلَ مِنَ الغَيظِ قُل موتوا بِغَيظِكُم إِنَّ اللَّهَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ ﴿١١٩﴾ إِن تَمسَسكُم حَسَنَةٌ تَسُؤهُم وَإِن تُصِبكُم سَيِّئَةٌ يَفرَحوا بِها وَإِن تَصبِروا وَتَتَّقوا لا يَضُرُّكُم كَيدُهُم شَيـًٔا إِنَّ اللَّهَ بِما يَعمَلونَ مُحيطٌ ﴿١٢٠﴾... سورة آل عمران
''مؤمنو! کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازداں نہ بناؤ ، یہ لوگ تمہاری خرابی ( اور فتنہ انگیزی کرنے ) میں کسی طرح کو تاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ۔ ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو چکی ہے اور جو ( کینے ) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں ۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں ۔ دیکھو تم ایسے ( صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو ( او روہ تمہاری کتا ب کو نہیں مانتے ) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور پھر الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں ۔ ان سے کہہ دو کہ ( بدبختو!) اپنے غصہ ہی میں مر جاؤ اللہ تعالی تمہارے دلو ں کی باتوں سے خوب واقف ہے ۔ اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بُری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو گے تو ان کی تدبیریں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان کے عملوں کا احاطہ کرنے والا ہے ۔''
ان آیابِ کریمہ نے واضح کر دیا کہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے کس قدر کینہ اور بغض چھپا ہوا ہے ۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مکرو خیانت کی کیا کیا تدبیریں اور پالیسیاں مرتب کرتے رہتے ہیں ۔ ہر حیلہ اور وسیلہ بروئے کار لا کر مسلمانوں کو مبتلائے پریشانی رکھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ مکر و فریب سے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد ان کی مضرت و تذلیل کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ ابوموسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے
'' میں نے عمر فاروق ؓ کو بتایا کہ میرے پاس ایک عیسائی کا تب ہے تو امیرالمؤمنین نے فرمایا : اللہ تعالی تمہیں برباد کر ے ۔ عیسائی کاتب رکھنے کی کیا سو جھی کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا: اے ایمان والو! یہود نصارٰی کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ یہ ایک دوسرے کی دوست ہیں ) تم نےکوئی مسلمان کاتب کیوں نہ رکھا ؟ میں نےکہا : امیرالمؤمنین اس کا دین اس کے لیے ہے ، مجھے تو اپنی کتاب چاہیے ۔ فرمایا:
''جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذلیل و سوا کر دیا ہے میں اُنہیں اپنےسے قریب نہیں کرسکتا ''(بیہقی :10۔12)
صحیح مسلم میں حدیث نبوی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ غزوہ بدر کے لے نکلے تو ایک مشرک آدمی بھی ساتھ ہو لیا اور حرہ مقام پر ملاقات کرتے ہوئے اس نے آپ ﷺ سے جنگ میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ۔آپﷺ نے فرمایا :.‎'' کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو ؟'' اس نےکہا نہیں ، تو آپﷺ نے فرمایا : '' تم واپس لوٹ جاؤ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیا کرتے ۔''
ان دلائل سے پتہ چلا کہ مسلمانوں کے امور سے متعلق کفار کو کسی منصب پر فائز کرنا حرام ہے ، کیونکہ اس طرح مسلمانوں کےحالات اور خفیہ بھید بڑی آسانی سے حاصل کر لیں گے اور نتیجتاً ان کی ضرر رسانی کا سامان تیار کرنے کی سازشیں کرنے لگیں گے ۔ (صحیح مسلم : 1817)
آج کل کفار کو مسلمانوں کی سرزمینوں ، حتی کہ حجاز مقدس میں مزدور ، کاریگر ، ڈرائیوریا خدمت گار کے طور پر لایا جاتا ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ان کے علاقوں میں مخلوط زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ گھروں میں انہیں اتالیق و مربی کی حیثیت سے رکھا ہے اور وہ مسلمانوں کے خاندان کے ساتھ مخلوط زندگ گزار رہے ہیں ۔ آج کے دور میں یہ روش حرمت اور انجام کا کی تباہی کے اعتبار سے سابقہ روش سے کوئی مختلف نہیں ہے ۔
(5)کفار کے مروّجہ تاریخ کو اپنانا : یعنی جو تاریخ بلادِ کفر میں رائج ہے ، اسے اختیار کرلینا بھی ان سے محبت کی دلیل ہے ۔ پھر حا ص طور پر ایسی تاریخ جو ان کی کسی مناسبت یا عید کی ترجمانی کر رہی ہو ، مثلاً عیسوی کیلنڈر وغیرہ۔
عیسوی کیلنڈر حضرت عیسیٰ ﷩ کی ولادت کی یاد گار کے طور پر ہے ، یہ تاریخ عیسائیوں نے خود اختراع کی ہے ، حضرت عیسیٰ ﷩ کے دین سے اس تاریخ کا کوئی تعلق نہیں ہے ، لہذا اس تاریخ کا رواج و استعمال ، ان کے اشعار اور عید کو زندہ کرنےمیں ان کے ساتھ شرکت کے مترادف ہے ۔
امیرالمؤمنین عمر بن خطاب ؓ کے عہد میں صحابہ نے مسلمانوں کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کفار کی مروّجہ تمام اریخوں کو ٹھکرا کر رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کی تاریخ مقرر کر دی ۔اس سے ثابت ہوا کہ تاریخ کے تقرر اور اس قسم کے دیگر کفار کے خصائص میں ان کی مخالفت کرنا ایک شرعی فریضہ ہے ۔
(6)کفار کے ت تہواروں میں شرکت : کفار کے تہواروں میں شرکت کرنا یا ان کے تہواروں کے انعقاد میں ان کے ساتھ تعاون کرنا یا ان کے تہواروں کی مناسبت سے انہیں مبارک بادی پیغامات بھیجنا ، یہ سب ان سے دوستی اور محبت کے نشانات ہین ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے نیک بندکی صفات میں ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے :
﴿وَالَّذينَ لا يَشهَدونَ الزّورَ ...﴿٧٢﴾... سورة الفرقان
''کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔''
جس کا ایک معنی یہ بھی ہےکہ رحمٰن کے نیک بندے کفار کے تہوارون اور ان کی عیدوں میں حاضر نہیں ہوتے ۔ کیونکہ اس فرمانِ الہی میں الزور(یعنی جھوٹ) پر مبنی ایسی محفلوں میں شریک ہونا بھی شامل ہے جو بدعت پر قائم ہیں ، اس قسم کی محفلیں کذب کی بنا پر اللہ تعالی کے دین کے مخالف اور معاند ہیں اور قطعی طور پر دین کے مفاد میں نہیں ۔
(7)کفار کی مدح سرائی اور ان کی تہذیب وتمدن کی تعریف و تشہیر: یعنی کفار کی مدح سرائی اور ان کی تہذیب و تمدن کی تعریف و تو صیف اور ان کے عقائد باطلہ اور سرکشی و طغیانی سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی ظاہری اخلاق اور دنیوی تجربات سے خوش ہونا ، یہ سب ان کی محبت اور علامات ہیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَلا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزو‌ٰجًا مِنهُم زَهرَةَ الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا لِنَفتِنَهُم فيهِ وَرِزقُ رَبِّكَ خَيرٌ وَأَبقىٰ ﴿١٣١﴾... سورة طه
'' اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے ، تا کہ ان کی آزمائش کریں ، ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے پروردگار کی عطا فرمائی روزی بہت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے ۔''
لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ مسلمان اپنی قوت اور استحکام کے اسباب ہی چھوڑ کر بیٹھ جائیں بلکہ ان کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف صنعتوں کی تعلیم حاصل کریں 'اقتصادیات کو مستحکم کرنے والی جائز راہیں اپنائیں اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے ہم آہنگ عسکری اور حربی اسالیب کی تعلیم حاصل کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ...﴿٦٠﴾... سورة الانفال
''جس قدر طاقت ہو ( تیر اندازی وغیرہ سیکھ کر) کفار کے مقابلے میں تیار رہو۔''
کائنات کے یہ تمام وسائل اور ان کے منافع در حقیقت مسلمانوں ہی کے لیے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿قُل مَن حَرَّمَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَجَ لِعِبادِهِ وَالطَّيِّبـٰتِ مِنَ الرِّزقِ قُل هِىَ لِلَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا خالِصَةً يَومَ القِيـٰمَةِ...﴿٣٢﴾... سورة الاعراف
'' پوچھوکہ جو زینت و آرائش اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزین اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ، ان کو حرام کس نے کیا؟کہہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن انہی کا حصہ ہوں گی ۔ ''
اور فرمایا:
﴿وَسَخَّرَ لَكُم ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَرضِ جَميعًا مِنهُ ...﴿١٣﴾... سورة الجاثية
''اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جوکچھ زمینوں میں ہے سب کو اپنے حکم سے تمہارے ہی واسطے مسخر کیا ہے ۔''
نیز فرمایا:
﴿هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَرضِ جَميعًا ...﴿٢٩﴾... سورة البقرة
'' اور اللہ تعالی وہ ذات ہے جس نے زمین میں کچھ ہے سب کا سب تمہارے ہی واسطے پیدا کیا ہے ۔ ''
تو پھر یہ ضروری ٹھہرا کہ مسلمان ان منفعتوں اور قوتوں کے حصول میں سب سے آ گے ہوں اور کفار یہ چیزیں حاصل کرنے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ یہ تمام کارخانے ، فیکڑیاں مسلمانوں ہی کا حق اوّلین ہے ، جس کے لئے انہیں محنت کرنا ہوگی ۔
(8)کفار کےمشابہ نام رکھنا : بعض مسلمان اپنے بیٹوں اور بیٹوں کے ایسے نام رکھتے ہیں جو مسلمانوں نے نہیں رکھے ہوتے ۔ اسی طرح اپنے آباؤ و اجداد کے نام ، ایسے نام جو ان کے معاشرے میں معروف ہوتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
« خيرالاسماء عبدالله و عبدالرحمٰن »(السلسلہ الصحیحہ: 1040)
''بہترین نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔''
ناموں کی اس تبدیلی کے عام ہونے کی وجہ سے باقاعدہ پوری ایسی مسلمان نسلیں وجود میں آگئیں ، جو مغربی ناموں کے حامل ہیں ۔ نتیجتاً سابقہ نسلوں سے رشتہ مخصوص اسلامی ماموں کو اپنائے رکھا ۔
(9)کفار کے حق میں دعا کرنا :
کفار کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کرنا بھی ان سے محبت کی دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے حرام قرار دیا ہے اور فرمایا :
﴿ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِروا لِلمُشرِكينَ وَلَو كانوا أُولى قُربىٰ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُم أَصحـٰبُ الجَحيمِ ﴿١١٣﴾... سورة التوبة
'' نبی (ﷺ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ، کو لائق نہیں ، کہ جن پر ظاہر ہوگیا ہوکہ مشرکین اہل دوزخ ہیں تو ان ے لے بخشش مانگیں ۔ خود وہ ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں ۔''
اس دعا کی حرمت کی وجہ بالکل ظاہر ہے ، اور وہ یہ کہ دعا کرنا ان سے محبت کی نشانی ہے ۔ نیز ی ظاہر کرتی ہےکہ مشرکین بھی صحیح عقیدے پر قائم ہیں ۔ حالانکہ شرک اور مشرک نجس اور پلید ہین
مؤمنوں سے محبت کی علامات
بہت سے اُمور ہیں جو مسلمانوں سے محبت کی علامتیں ہیں ، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں :
(1)سرزمین کفر کو چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف منتقل ہونا :
ہجرت کا معنی کہ اپنے دین کی سلامتی اور تحفظ کی خاطر کفار کی سرزمین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں میں منتقل ہو جانا ۔ ایسی ہجرت جس میں یہ عظیم الشان مقصد کار فرما ہو ، تا قیامت باقی ہے اور واجب بھی ۔
نبی ﷺ نے ہر اس شخص سے براءت اور ناراضگی کا ازظہار فرمایا ہے جو مشرکین کے درمیان مقیم ہے۔لہذا ایک مسلمان پر کفار کی سرزمین میں رہنا حرام ہے ، اِلا یہ کہ وہ ہجرت کی طاقت نہ رکھتا ہو یا پھر اس کے سرزمین کفر میں رہنے کی کوئی دینی مصلحت ہو ۔ مثلاً دعوت الی اللہ یا تبلیغ دین وغیرہ ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذينَ تَوَفّىٰهُمُ المَلـٰئِكَةُ ظالِمى أَنفُسِهِم قالوا فيمَ كُنتُم قالوا كُنّا مُستَضعَفينَ فِى الأَرضِ قالوا أَلَم تَكُن أَرضُ اللَّهِ و‌ٰسِعَةً فَتُهاجِروا فيها فَأُولـٰئِكَ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ وَساءَت مَصيرًا ﴿٩٧﴾ إِلَّا المُستَضعَفينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالوِلد‌ٰنِ لا يَستَطيعونَ حيلَةً وَلا يَهتَدونَ سَبيلًا ﴿٩٨﴾ فَأُولـٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعفُوَ عَنهُم وَكانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفورًا ﴿٩٩﴾... سورة النساء
''جو لوگ اپنے جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں ، کہ تم کس حال میں تھے ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے ۔ فرشتےہیں کیا اللہ تعالی کا ملک فراخ نہیں تھا ،کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بُری جگہ ہے ۔ ہاں جو مرد اور ہجرت کر جاتے ؟تو ا یسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بُری جگہ ہے ۔ ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بے بس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی راستے جانتے ہیں ، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کومعاف کردے ، اور اللہ تعالیٰ معاف کرنیوالا اور بخشے والا ہے ۔''
(2)مسلمانوں کے ساتھ حسن تعاون :
مسلمانوں کی مدد اور ان کی دینی و دنیاوی ضروریات میں جان و مال اور زبان کے ساتھ معاونت بھی ان سے محبت کی ایک نشانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالمُؤمِنونَ وَالمُؤمِنـٰتُ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ...﴿٧١﴾... سورة التوبة
''اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں ..''
اور فرمایا:
﴿وَإِنِ استَنصَروكُم فِى الدّينِ فَعَلَيكُمُ النَّصرُ إِلّا عَلىٰ قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ ...﴿٧٢﴾... سورة الانفال
''اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے ، اِلایہ کہ وہ ایسی قوم کے خلاف مدد طلب کریں جس کا تمہارا کوئی معاہدہ ہے ۔''
(3)مسلمانوں کی تکلیف پر غمزدہ ہونا اور ان کی خوشی پر خوش ہونا :
یہ بھی باہم محبت اور اُلفت کی ایک زبردست نشانی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى(مسند احمد:4۔274)
''باہمی اُلفت و محبت اور دوستی و شفقت کے لحاظ سے مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بخار زدہ اور بیدار رہ کر اس تکلیف کا اظہار کرتا ہے ''
ایک دوسرے حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
''ایک مومن دوسرے مؤمنکے لیے ایک عمارت کی مانند ہے ، جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے یہ مثال سمجھائی ۔'' (صحیح بخاری:2446)
(4)جذبہ خیرخواہی : مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی ، ان کے لیے ہر قسم کی بھلائی چاہنا اور ہر قسم کی دھوکہ دہی اور مکروفریب سے گریز کرنا بھی ان کے ساتھ محبت علامت ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ(صحیح بخاری:13)
''تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے (مسلمان ) بھائی کے لیے وہ چیز پسند نہ کرنے لگے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔''
نیز فرمایا:
« الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ»(صحیح مسلم:2564)
''ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے اور نہ ذلیل کرتا ہے ۔ کسی آدمی کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔ ہر مسلمان کا خون ، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔''
ایک اور حدیث میں فرمایا :
«لَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا»(مسند احمد:2۔277)
'' ایک دوسرے کے سودے کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرو، آپس میں بغض نہ کرو باہمی دشمنی نہ کرو، اور ایک دوسرے کے سودے پر اپنا سود ا قائم کرنےکی کوشش نہ کرو ۔
اللہ تعالیٰ کے بندو!آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔''
(5)عزت و احترام کی فضا:
مسلم معاشرہ میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے احترام اور عزت و توقیر بجالانا ، نیز تذلیل و توہین اور عیب جوئی سے گریز کرنا باہمی محبت کی واضح دلیل ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا يَسخَر قَومٌ مِن قَومٍ عَسىٰ أَن يَكونوا خَيرًا مِنهُم وَلا نِساءٌ مِن نِساءٍ عَسىٰ أَن يَكُنَّ خَيرًا مِنهُنَّ وَلا تَلمِزوا أَنفُسَكُم وَلا تَنابَزوا بِالأَلقـٰبِ بِئسَ الِاسمُ الفُسوقُ بَعدَ الإيمـٰنِ وَمَن لَم يَتُب فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿١١﴾يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اجتَنِبوا كَثيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعضَ الظَّنِّ إِثمٌ وَلا تَجَسَّسوا وَلا يَغتَب بَعضُكُم بَعضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُم أَن يَأكُلَ لَحمَ أَخيهِ مَيتًا فَكَرِهتُموهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوّابٌ رَحيمٌ ﴿١٢﴾... سورة الحجرات
''مؤمنو!کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ) ۔ ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو ں اور اپنے ( مؤمن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کا بُرا نام رکھو۔ایمان لانے کے بعد بُرا نام (رکھنا ) گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں اے اہل ایمان !بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بغض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ ہی کوئی کسی کی غیبت کرے ۔ کیا تم میں سے اس بات پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔ اس سے تم ضرور نفرت کرو گے ، (تو غیبت نہ کرو ) اور اللہ تعالیٰ سے ڈررکھو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ ''
(6)ہر حال میں وفاداری :
مسلمانوں سے محبت اور دوستی کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہر حال میں ان کے ساتھ رہے خواہ تنگی ہو یا آسانی ، سختی ہو یا نرمی ، صرف آسانی اور نرمی کی حالت میں ساتھ دینا اور سختی اور تکلیف کی حالت میں ساتھ چھوڑ دینا منافقین کا شیوہ ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذينَ يَتَرَبَّصونَ بِكُم فَإِن كانَ لَكُم فَتحٌ مِنَ اللَّهِ قالوا أَلَم نَكُن مَعَكُم وَإِن كانَ لِلكـٰفِرينَ نَصيبٌ قالوا أَلَم نَستَحوِذ عَلَيكُم وَنَمنَعكُم مِنَ المُؤمِنينَ فَاللَّهُ يَحكُمُ بَينَكُم يَومَ القِيـٰمَةِ وَلَن يَجعَلَ اللَّهُ لِلكـٰفِرينَ عَلَى المُؤمِنينَ سَبيلًا ﴿١٤١﴾... سورة النساء
'' جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں ، اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھوں) سے بچایا نہیں ۔ تو اللہ تم میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کو مؤمنوں پر غلبہ ہر گز نہیں دے گا ۔''
(7)زیارتوں اور ملاقاتوں کا تسلسل :
مسلمانوں کا ایک دوسرے کی زیارت کرتے رہنا ، ملاقات کی چاہت رکھنا ، اور مل جل کر بیٹھنے کا شوق رکھنا بھی باہمی محبت کی دلیل ہے ۔ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
«وجبت محبتى للمتزاورين فيَّ"، وفي حديث آخر: "أن رجلاً زار أخا له في الله، فأرصد الله على مدرجته ملكا، فسأله: أين تريد؟، قال: أزور أخا لي في الله. قال هل لك عليه نعمة تربها عليه؟ قال: لا؛ غير أني أحببته في الله. قال: فإني رسول الله إليك بأن الله قد أحبك كما أحببته فيه"»
(صحیح الترغیب للالبانی : 3018، السلسۃ الصحیحہ:1044)
'' محض میر ی رضا کی خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لیے میری محبت واجب ہے ۔ ایک او رحدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''ایک آدمی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطراپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے نکلا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جو اس کا انتظار کر رہا تھا (جب وہ شخص وہاں پہنچا ) تو اس فرشتے نے سوال کیا ، کہاں جانا چاہتے ہو ؟ اس شخص نے کہا: اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنے بھائی کو ملنے جا رہا ہوں ۔ فرشتے نے کہا : کیا تمہارا کو ئی اس پر احسان ہے ، جس کا بدلہ وصول کرنے جا رہے ہو ؟اس نے جواب دیا نہیں ۔ میں صرف اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہو ں تو اس فرشتے نے کہا: میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے بھیجاہوانمائندہ ہوں اور یہ بتانے آیا ہوں کہ جس طرح تم نے اپنے بھائی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کی ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگا ہے ۔''
(8)باہمی حقوق کا احترام :
حقوق کا احترام بھی محبت میں اضافے کا موجب ہے ، چنانچہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی خریدپر اپنی خرید نہیں لگاتا اور نہ ہی اس کی بولی پر بولی لگاتا ہے ۔ نہ اس کی منگنی پر اپنی منگنی کا پیغام بھیجتا ہے ۔ الغرض جس مباح کام پر جو سبقت لے جائے ، دوسرا اس کے آڑے نہیں آتا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
''خبردار کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے ۔ نہ اس کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام بھجوائے ۔''(صحیح بخاری:2033)
ایک اور روایت میں ہے کہ نہ اس کی لگائی قیمت لگائے ۔(صحیح مسلم:1408)
(9)کمز ور کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ :
یہ مشفقانہ حسن سلوک بھی باہمی محبت کی علامت ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
«لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا»(سنن ترمذی:1919)
''جو ہمارے بڑوں کا احترام نہیں کرتا اور چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا وہ ہم سے نہیں ۔''
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم»(صحیح الجامع الصغیر:7035)
''تمہیں صرف تمہارے کمزور لوگوں کی بدولت رزق بھی دیا جاتا اور مدد بھی کی جاتی ہے ۔''
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاصبِر نَفسَكَ مَعَ الَّذينَ يَدعونَ رَبَّهُم بِالغَدو‌ٰةِ وَالعَشِىِّ يُريدونَ وَجهَهُ وَلا تَعدُ عَيناكَ عَنهُم تُريدُ زينَةَ الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا ... ﴿٢٨﴾... سورة الكهف
''اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں ، ان کے ساتھ صبر کرتے رہو ، اور تمہاری نگاہیں ان میں سے ( گزرکراور طرف ) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہو جاؤ۔''
(10)دعائے خیر:
ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے لیے دعا کرنا اور استغفار چاہنا بھی باہمی محبت کی دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاستَغفِر لِذَنبِكَ وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ ...﴿١٩﴾... سورة محمد
''اپنے گناہوں اور تمام مؤمن مرد اور عورتوں کے لیے مغفرت طلب کر۔''
اور اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر مؤمنین کی اسی دعا کا ذکر فرمایاہے :
﴿رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ ... ﴿١٠﴾... سورة الحشر
''اے ہمارے ربّ!ہمیں بخش دے اور ہمارے ان تمام بھائیوں کو بھی بخش دے جو بحالت ایمان ہم سے پہلے گزر چکے ہیں ۔''
نوٹ:
قرآن حکیم کی ایک آیت سے کچھ لوگوں کو ایک غلط فہمی ہو سکتی ہے ، جس کا ازالہ ضروری ہے وہ آیت یہ ہے :
﴿لا يَنهىٰكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقـٰتِلوكُم فِى الدّينِ وَلَم يُخرِجوكُم مِن دِيـٰرِكُم أَن تَبَرّوهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٨﴾... سورة الممتحنة
'' جن لوگون نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اورنہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا، ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔''
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے غلط فہمی کی بنا پر کچھ لوگ یہ کہہ سکتےہیں کہ یہاں بعض کفار سے دوستی اور محبت قائم کرنے کا حکم ملتا ہے ۔
حالانکہ یہ مفہوم غلط ہے ۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کفار میں سے جو شخص مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے باز آجائے ، نہ تو ان سے جنگ کریں اور نہ ہی انہیں ان کے گھروں سے نکالیں تو مسلمان اس کے مقابلے میں عدل واحسان کے ساتھ دنیوی معاملات میں مکافاتِ عمل اور حسن کا مظاہرہ کریں ، نہ کہ ان سے دلی محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کریں ۔
تو گویا یہاں حکم نیکی اور احسان کا ہے ، نہ کہ دوستی اور محبت کا ، اس کی ایک مثال :
﴿وَإِن جـٰهَداكَ عَلىٰ أَن تُشرِكَ بى ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ فَلا تُطِعهُما وَصاحِبهُما فِى الدُّنيا مَعروفًا وَاتَّبِع سَبيلَ مَن أَنابَ إِلَىَّ ثُمَّ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ ﴿١٥﴾... سورة لقمان
''اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کوشریک کرے کہ جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں ، تو ان کا کہنا ماننا ۔ ہاں! دنیاکے ( کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے ، اس کے رستےپر چلنا۔'' اسماءؓ کی والدہ جو کافرہ تھیں ، ان کے پاس آئیں اور ان سے ماں ہونے کے ناطے صلہ رحمی کی متقاضی ہوئیں تو اسماء رضی اللہ عنھا نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تب آپ ﷺ نے فرمایا:
''اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔''حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے :
﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخو‌ٰنَهُم...﴿٢٢﴾... سورة المجادلة
''ایسے لوگ تمہیں نہیں ملیں گے جو اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو ں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھتے ہوں ، خواہ ان کے باپ یا بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔''
اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی مکافات اور صلہ رحمی اور شے ہے اور قلبی محبت اور دوستی باکل دوسری شے ہے ۔ بلکہ اس صلہ رحمی اور حسن معاملہ میں کفار کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا پہلو رکھا گیا ہے اور یہ چیز دعوتِ دین کے اسالیب میں سے ہے ، جب کہ محبت اور دوستی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ محبت اور دوستی تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کافر اپنے کفر پر صحیح ہے اور ہم اس سے راضی ہیں کیونکہ ایسا شخص اس کافر کو اسلام کی دعوت نہیں دے پاتا ۔
یہاں یہ بات واضح طو ر پر سمجھ لینی چاہیے کہ کفار سے دوستی اور محبت کے حرام ہونے کا یہ معنٰی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دنیوی معاملات کرنا بھی حرام ہیں ، نہیں ۔ دنیاوی معاملات کئے جا سکتے ہیں ، مثلاً جائز قسم کی تجارت کرنا ، ان سے سامان اور مفید قسم کی مصنوعات منگوانا اور ان کی تجارت سے فائدہ اٹھانا وغیرہ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ایک بار راستے کی رہنمائی کے لیے ابن اریقط لیثی نامی کافر کو اُجرت پر لیا تھا ۔ اس کے علاوہ آپ ﷺ بعض یہودیوں سے قرضہ لینا بھی ثابت ہے ۔
مسلمان ہمیشہ سے کفار سے مختلف مصنوعات اور سامان منگواتے رہے ہیں ، یہ ایک چیز کا قیمت کے بدلے خریدنا ، اس میں ان کا ہم کوئی احسان نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے محبت اور دوستی اور کافروں سے بعض و عداوت کو واجب قرار دیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَهاجَروا وَجـٰهَدوا بِأَمو‌ٰلِهِم وَأَنفُسِهِم فى سَبيلِ اللَّهِ وَالَّذينَ ءاوَوا وَنَصَروا أُولـٰئِكَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ...﴿٧٢﴾... سورة الانفال
''جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر کے گئے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے اور جنہوں نے ہجر ت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔''
دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿وَالَّذينَ كَفَروا بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ إِلّا تَفعَلوهُ تَكُن فِتنَةٌ فِى الأَرضِ وَفَسادٌ كَبيرٌ ﴿٧٣﴾... سورة الانفال
''اور جو لوگ کافر ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، تو مؤمنو! اگر تم یہ کام نہ کروگے تو ملک میں فساد برپا ہو جائے گا۔''
اس آیت کریمہ کے تحت حافظ ابن کثیر لکھتے :
''اگر تم مشرکین سے دور ہو کرنہیں رہو گے او رمؤمنین سے محبت نہیں کروگے ، تو لوگوں کے درمیان فتنہ واقع ہو جائے گا اور وہ اس طرح کہ مسلمانوں کا کافروں کے ساتھ اختلاط اور میل جول لازم آئے گا جس سے لوگوں کے درمیان بہت لمبا چوڑا فساد برپا ہو جائے گا ۔''
میں کہتا ہو کہ ہمارے اس دور میں ظاہر ہو چکا ہے ۔ واللہ المستعان!
محبت یا نفرت کا حقدار ہونے کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام
دوستی یا دشمنی کے حقدار ہونے کے اعتبار سے لوگوں کی تین اقسام ہیں :
(1)وہ لوگ جو خالص محبت اور دوستی کیے جانے کے مستحق ہیں ، ایسی محبت ہو دوستی کہ جس میں عداوت یا نفرت کا کوئی عنصر شامل نہ ہو ۔
(2)وہ لوگ جو بغض ، عداوت اور نفرت کیے جانے کے مستحق ہیں ، ایسی عداوت و نفرت کہ جس میں دوستی یا محبت کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔
(3)وہ لوگ جو بعض وجوہات کے اعتبار سے محبت کیے جانے اور بعض وجوہات کے اعتبار سے نفرت و عداوت کئے جانے کے مستحق ہیں ۔
خالص محبت کیے جانے کے مستحق افراد
وہ لوگ جن سے خالص محبت کرنا واجب ہے ، ایسی محبت جس میں عداوت یا نفرت کا شائبہ تک نہ ہو ، وہ خالص مؤمنین کی جماعت ہے ، جس میں سر فہرست انبیاء کرام کی جماعت ہے ، پھر صدیقین پھر شہداء اور صالحین ہیں ۔
پھر انبیاء کرام میں سب سے مقدم وسرفہرست محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ، آپ ﷺ سے ایسی محبت کرنا واجب ہے ، جو اپنے نفس ، اولاد، ماں باپ اور تمام لوگوں کی محبت پر حاوی اور غالب اور سب سے بڑھ کر ہو ۔
پھر آپ کی ازواج مطہرات امہات المؤمنین اور دیگر اہل بیت اور صحابہ کی محبت ہے ۔ صحابہ کرام میں بطورِخاص خلفائے راشدین ، عشرہ مبشرہ مہاجرین اور انصار، بدری صحابہ ، بیعت رضوان میں شریک صحابہ اورپھر بقیہ تمام صحابہ ہیں ، جو خالص محبت کے مستحق ہیں ۔ پھر تابعین کرام پھر ائمہ اربعہ وغیرہ کی محبت قابل ذکرہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرماتا ہے :
﴿وَالَّذينَ جاءو مِن بَعدِهِم يَقولونَ رَبَّنَا اغفِر لَنا وَلِإِخو‌ٰنِنَا الَّذينَ سَبَقونا بِالإيمـٰنِ وَلا تَجعَل فى قُلوبِنا غِلًّا لِلَّذينَ ءامَنوا رَبَّنا إِنَّكَ رَءوفٌ رَحيمٌ ﴿١٠﴾... سورة الحشر
''اور ان کے لیے بھی جو مہاجرین کے بعد آئے (اور ) دُعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں ، گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کی طرف سے ہمارے دلوں میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے پروردگار ! تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔''
جس کے دل میں ایمان ہو گا ،وہ کبھی صحابہ کرام یا سلف صالحین سے بغض یا عداوت نہیں رکھے گا۔ اس مقدس جماعت سے بغض قائم کرنا کج رو، منافقین اور اسلام دشمن افراد کا شیوہ ہے ، ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔
صرف بغض وعداوت رکھے جانے کے اہل افراد
یہ کفار، مشرکین، منافقین، مرتدین اور ملحدین کی جماعت ہے ، جن کی اقسا م مختلف ہیں لیکن سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ تمام لوگ عقیدہ خالصہ یعنی توحید کے منکر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخو‌ٰنَهُم...﴿٢٢﴾... سورة المجادلة
''جو لوگ اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ، انہیں تم ایسے لوگوں سے دوستی رکھنے والے نہیں پاؤ گے ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہوں ، خواہ وہ ان کے ماں باپ ، بہن بھائی یا جاندان کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں ۔'' دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
﴿ تَرىٰ كَثيرًا مِنهُم يَتَوَلَّونَ الَّذينَ كَفَروا لَبِئسَ ما قَدَّمَت لَهُم أَنفُسُهُم أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيهِم وَفِى العَذابِ هُم خـٰلِدونَ ﴿٨٠﴾ وَلَو كانوا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِىِّ وَما أُنزِلَ إِلَيهِ مَا اتَّخَذوهُم أَولِياءَ وَلـٰكِنَّ كَثيرًا مِنهُم فـٰسِقونَ ﴿٨١﴾... سورة المائدة
'' تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کافروں سے دوستی رکھتے ہیں ) انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے بُرا ہے ( وہ یہ) کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلارہیں گے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اور پیغمبرﷺ پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی ، اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے ، لیکن ان میں سے اکثر بد کردار ہیں ۔''
وہ افراد جو محبت اور عداوت دونوں کے مستحق ہیں
اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن میں بوجہ کچھ نافرمانیاں پائی جاتی ہیں لیکن عقیدہ صحیح ہے ۔ یہ لوگ اپنے حسن عقیدہ اور دولتِ ایمان کی وجہ سے محبت کیے جانے کے قابل ہیں ، لیکن بعض نافرمانیوں کے مرتکب ہونے کی بنا پر ناراضگی کے مستحق ہیں ۔ شرط یہ کہ ان کی نافرمانی کفر یا شرک کی حد کو نہ پہنچتی ہو ۔ کیونکہ اگر ان کی نافرمانی کفر یا شرک کی حد تک پہنچ گئی تو پھر یہ لوگ بھی دعویٰ ایمانی کے باوجود مکمل نفرت اور بغض کے مستحق ہیں ۔
ایسے لوگوں کے ساتھ محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ خیر خواہی کی جائے اور جن نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ، ان کا انکار کیا جائے ۔ ان لوگوں کی نافرمانیوں پر خاموش رہنا جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم جذبہ خیر خواہی کا بھر پور برتاؤ ضروری ہے جو حکمت او رموعظہ حسنہ کے تقاضے پورے کرتا ہو ۔ اور اگر ان کی معصیت ایسی ہو جو شرعی حد کو واجب کرتی ہے تو پھر اس حد یا تعزیر کے نفاذ میں بھی تا آنکہ اپنی معصیت سے باز آکر توبہ نہ کرلیں ، خیر خواہی ہے ۔ ایسے لوگوں سے مکمل بغض ، ناراضگی اور نفرت روا نہیں ہے، جیسا کہ خوارج کا شیوہ ہے ۔ بلکہ ان کی بابت اعتدال کا دامن تھامے رہنا چاہیے ، چنانچہ حسن عقیدہ کی بنا پر دوستی اور محبت کا برتاؤ کیا جائے اور معصیتوں کے ارتکاب کی بناپر ناراضگی و نفرت کا اظہار کیا جائے ارو یہی اہل السنۃوالجماعت کا مسلک ہے ۔
شریعت اسلامیہ کی ہدایت یہ ہے کہ کسی سے محبت ہو تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور عداوت ہو تو اللہ تعالیٰ کے خاطر ، یہ عقیدہ ایمان کی مضبوط ترین کڑی ہے ، بلکہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ '' قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس نے محبت کی ۔''
«المرء مع من أحب»(صحيح بخارى:5816)
لیکن آج کل حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں ، عمومی طور پر لوگوں کی دوستیاں اور دشمنیاں دنیا کی بنیاد پر قائم ہو چکی ہیں ۔ جس سے کوئی دنیوی لالچ یا طمع یا مفاد ہو ، اس سے دوستی اور محبت کے رشتے قائم کرلیے جاتے ہیں ، خواہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔ ابن جریر نے عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ (صحيح البخاري (8/ 105)
ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :'' جس نے میرے کسی دوست سے عداوت قائم کی ، میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔'' اس جنگ کا سب سے زیادہ خطرہ مول لینے والا وہ شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عداوت رکھے ، ان کی شان میں گستاخانہ رویہ اپنائے اور ان کی تنقیص شان کی سعی لا حاصل میں مصروف رہے ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
'' میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، انہیں اپنی تنقید کا نشانہ نہ بناؤ ۔ جس نے انہیں کوئی تکلیف پہنچائی ، اس نے مجھ دُکھ دیا اور جس نے مجھے دکھی کیا اس نے اللہ تعالیٰ کی تکلیف پہنچائی ، اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اللہ تعالیٰ عنقریب صفحہ ہستی سے مٹاڈالے گا۔ ''( السنۃ ازعمروبن شیبانی :992)
افسوس کہ بغض گمراہ فرقوں کا مذہب اور عقیدہ ہی صحابہ کی عداوت پر قائم ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے اس غضب اور دردناک عذاب سے پناہ چاہتے ہیں اور عفو وعافیت کے سائل و خواستگار ہیں ۔