مغربی دنیا میں ’’ قیامت کا وقوع‘‘ آئندہ سال 2012ء کا ایک مرغوب موضوع ہے۔ انٹرنیٹ پر ہزاروں ویب سائٹیں اور سینکڑوں کتب اس پر لکھی جاچکی ہیں۔ حتی کہ دسمبر2012ء میں قیامت کی منظر کشی پر بننے والی ایک فلم نے 770 ملین ڈالر کا ریکارڈ بزنس کیا ہے۔ بہت سی ویب سائٹوں پر ’ کاؤنٹ ڈاؤن میٹر‘ لگے ہوئے ہیں جو قیامت کی آمد میں باقی لمحات کی گنتی پیش کر رہے ہیں۔ قدیم مایا تہذیب اور امریکی خلائی ادارے ’ ناسا‘ کے سائنسدانوں نے بھی اگلے سال کو دنیا کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ مغربی تعلیم یافتہ مسلمان اس طرح کے تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے متاثر ہو کر بسا اوقات پریشان ہوجاتے ہیں۔ ذیل میں ہم تفصیل کے ساتھ قرآن وسنت میں درج مستند علاماتِ قیامت پیش کر رہےہیں۔ جس سے ایک مسلمان کا اعتقاد پوری طرح نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔ اس شمارے میں قیامت کی 10 چھوٹی نشانیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،جبکہ دوسری قسط میں قیامت کی بڑی نشانیوں پر مستند شرعی معلومات پیش کی جائیں گی۔ جس کی روسے یا جوج ماجوج کے خروج، دجال کی آمد، حضرت عیسیٰ کےنزول اور دنیا بھر پر اسلام کےغلبے سے پہلے قیامت کا وقوع ناممکن ہے۔ اللہ تعالی ہمارے ایمان واعتقاد کو کو مضبوط فرمائے ۔ مدیر
قیامت کی چھوٹی نشانیاں
یہاں ہم قیامت کی چھوٹی نشانیوں کا تذکرہ کریں گے ، اس کے بعد آئندہ مضموم میں قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں زیر بحث لائی جائیں گی ۔ انشاءاللہ
(1)              رسول اللہ ﷺ کی بعثت
(2)              شق قمر
(3)              حجاز کی وہ آگ جس سے بصرٰی میں اونٹوں کی گرد نین روشن ہوگئیں ۔
(4)              فتنے
(5)              جھوٹے مدعیان نبوت دجالوں کا خروج
(6)              لونڈی کا اپنے مالک کو جنم دینا ، ننگے پاؤں ، بے لباس اور بکریوں کے چرواہوں کا عمارتوں میں فخر کرنا
(7)              علم کا اٹھ جاتا اور جہالت کا ظاہر ہونا
(8)              درندوں اور جمادات کا انسانوں سے کلام کرنا
(9)              قطع رحمی برے ہمسائے اور فساد کا ظاہر ہونا
(10)          زلزلوں کی کثرت ، چہروں کے مسخ ہونے ، پتھروں کی بارش اور زمین میں دھنسنے کا عام ہونا جس کے ساتھ اللہ تعالی نے اس امت کے بعض لوگوں کو سزادی ۔
1۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت
آپ ﷺ کی بعثت قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور قرب ِ قیامت پر دلیل ہے ۔ آپ ﷺ نے خاتم النّبیین ہونے کی حثیت سے یہ خبر دی ہے ۔ اس پر نبی ﷺ سے وارد کئی صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
«بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» (صحیح بخاری : 6505 )
’’ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں ۔‘‘
2۔ سہل بن سعد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى (ایضا: 5104 )
’’ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں ۔ آپ ﷺ نے اپنی تشہد اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا ۔‘‘
3۔ انس بن کی حدیث ہے ، کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
«بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ»[ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى،] وَضَمَّ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى 1
’’ میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جیسے ان دو انگلیوں میں سے ایک کی دوسری پر برتری ہے ۔ آپ نے سبابہ اور وسطی انگلی کو ملایا ۔‘‘
یہ احادیث اور اس کے معنی کی دوسری احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ   کی بعثت کی پہلی نشانی ہے کہ آپ خاتم النّیین اور آخر المرسلین ہیں ۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ ﷺ سے قریب قیامت کا قائم ہونا اس طرح ہے جیسے تشہد کی انگلی سے درمیانی انگلی قریب ہے جیسا کہ یہ تشبیہ گذشتہ احادیث میں وارد ہوئی ہے ۔
امام قرطبی قیامت کی علامات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’ پہلی علامت خود نبی ﷺ ہیں ، کیونکہ آپ نبی آخر الزمان ہیں آپ کے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔‘‘
1        حافظ ابن رجب کا قول ہے : انہوں نے نبی ﷺ کے اس فرمان «بُعِثْتُ وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» (صحیح مسلم : 2951 )کی تفسیر یوں کی کہ آپ ﷺ نے سبابہ اور وسطی انگلیوں کو ملایا ۔ یعنی قیامت کا قربِ زمانہ ایسا ہے جیسے سبابہ کی وسطی سے قربت ہے کہ آپ کی بعثت کے بعد آپ کے اور قیامت کے درمیان کسی دوسرے نبی کے آئے بغیر قیامت قائم ہوگی ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آپ ﷺ کا فرمان ہے :
وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ (صحیح بخاری : 3532 )
’’میں حاشر ہوں ، لوگ قیامت کے دن میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے ۔‘‘ معلوم ہوا کہ حاشر وہ ہے جس جس کے قدم پر لوگ قیامت کے دن جمع کیے جائیں گے یعنی لوگوں کا اُٹھنا اور ان کا جمع ہونا آپ کی بعثت کے بعد ہوگا ۔    تو آپ رسالت اور اپنے عاقب ہونے کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ لوگ اپنے حشر کے لے اکٹھے کیے جائیں گے ۔ عاقب وہ جو تمام انبیا کے بعد آیا اور اسکے بعد کوئی نبی نہیں گویا آپ کی بعثت علاماتِ قیامت میں سے ہے
صحیح مسلم : 2951
2۔ شق قمر
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿اقتَرَبَتِ السّاعَةُ وَانشَقَّ القَمَرُ ﴿١﴾... سورة القمر
’’ قیا مت قریب آگئی اور چاند ہٹ گیا ، یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا جادو ہے ۔‘‘
حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
بلا شبہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوا تھا جیسا کہ یہ صحیح اسانید کے ساتھ احادیثِ متواترہ میں وارد ہوا ہے۔
        اس امر پر علما کا اتفاق ہے کہ انشقاق کا وقوع نبی ﷺ کے زمانے میں ہو اور یہ آپ   کے نمایاں معجزات میں سے ایک ہے ۔ (سورۃ القمر:1)
متعدد صحیح احادیث میں وارد ہےکہ چاند نبی ﷺ کے زمانے میں شق ہوا ، مثلا ً
(1)              عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے ، کہتے ہیں :
بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ، فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ، وَفِلْقَةٌ دُونَهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اشْهَدُوا» (صحیح مسلم :2800)
’’ ایک دفعہ منیٰ میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا اس کے سامنے تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کہا : گواہ ہو جاؤ ۔ ‘‘
(2)              حضرت انس ﷜ کی حدیث : «أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوارَسُولَ اللهِ صَلَّى    اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً «فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ» (صحیح مسلم: 2802)
’’ اہل مکہ نے اللہ کے رسول ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ان کو ئی نشانی دکھلائیں تو آپ نے مان کو چاند کا پھٹنا دکھایا ۔‘‘
آیت کے ظاہر سیاق کے ساتھ متعدد صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ زجاج فرماتے ہیں :
’’ بعض مخالف ملت بدعتوں نے اس ( شق قمر) کا انکار کیا ہے یہ اس وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں کو اندھا کر دیا حالانکہ اس میں عقل کے لیے انکار ممکن نہیں ، کیونکہ قمر اللہ کی مخلوق ہے ، وہ اس میں جو چاہیے کرے جیسا کہ آخر میں وہ اسے لپیٹ دے گا اور فنا کر دے گا ۔‘‘
حافظ ابن حجر  فرماتے ہیں :
’’ جمہور فلسفیوں نے شق قمر کا انکار کیا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ
آفاقی نشانیوں میں پھٹنا اور مل جانا درست نہیں ، یہی رائے ان کی معراج کی رات آسمان کے دروازوں کے کھلنے کے بارے میں بھی ہے اور اس کے علاوہ بھی قیامت کے دن سورج کو لپیٹنے کے متعلق بھی ان سے انکار منقول ہے ۔‘‘
ان کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ کافر ہیں تو اوّلا دین اسلام کے ثبوت پر مناظر کریں پھر وہ ان ماہرین کے ساتھ شریک ہو جائیں جو اس کے منکر ہیں اور جب مسلمان بغیر تناقض کے اس کے بعض کو ثابت کر دے کہ قرآن میں قیامت کے دن پھٹنے اور مل جانے کے ثبوت پر انکار کا کوئی راستہ نہ ہو تو یہ نبی کے معجزے کے واقع ہونے کو ثابت کرتا ہے ۔
3.حجاز کی وہ آگ جس سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہو گئیں نبی ﷺ سے مروی ہے احادیث وضاحت کرتی ہیں کہ سر زمین حجاز سے اس آگ کا نکلنا جس سے بصری شہر میں اونٹوں کی گردنیں ورشن ہوئیں ، علامتِ قیامت میں سے ہے ۔
حضرت ابوہریرہ ﷜ سے مروی ہے کہ بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الإِبِلِ بِبُصْرَى» (صحیح بخاری :7128)
’’ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی سر زمین سے آگ نکلے گی جس سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ۔‘‘
امام نووی  فرماتے ہیں :
’’ مدینہ منورہ میں ہمارے زمانے ( 654ھ ) میں حرۃ(میدان ) کے پیچھے شہر کی مشرقی جانب آگ نکلی اور وہ آگ بہت بڑی تھی ۔ تمام شام اور شہر والوں کے نزدیک اس کا علم تواتر سے ہے اور مجھے اس شخص نے آگ کے بارے میں بتایا ہے جو اہل مدینہ میں سے ہے وہاں موجود تھا ۔‘ ‘
حافظ ابن کثیر  فرماتے ہیں :
’’ شیخ شہاب الدین ابوشامہ ( جو اپنے زمانےمیں شیخ المحدثین اور استاذالمؤرخین تھے ) نے ذکر کیا ہے کہ ( 654ھ   میں ) جمعہ کے دن جمادی الآخر کی پانچ تاریخ کو مدینہ منورہ کی بعض وادیوں میں ایسی آگ پھیلی ہوئی جس کی لمبائی چار فرسخ اور چوڑائی چار میل تھی ۔ وہ چٹانوں پر بہہ رہی تھی یہاں تک کہ اس کی چٹانیں شیشے کی طرح ہو گئیں پھر وہ سیاہ کوئلے کی طرح ہو گئیں ۔ اس کی روشنی میں لوگ رات کے وقت تيماء شہر ( جو مدینہ منورہ کے شمال میں 460 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے ) تک جاتے تھے اور یہ آگ ایک ماہ رہی ۔ اہل مدینہ نے اسے یاد رکھا ہے اور اس کے بارہ میں اشعار بھی کہے ہیں ۔ یہ آگ اس آگ کے علاوہ ہے جو آخری زمانے میں نکلے گی ، لوگوں کو جمع کرے گی ، ان کے ساتھ رات گزارے گی ، جہاں وہ رات گزاریں گے اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ، جہاں وہ قیلولہ کریں گے ۔ اس مضمون کے دوسرے حصے میں قیامت کی بڑی نشانیوں میں اس کا ذکر ہو گا۔‘‘
حافظ ابن حجر  فرماتے ہیں :
’’ وہ بات جو میرے لیے واضح ہوئی وہی ہے جسے قرطبی وغیرہ نے سمجھا ہے ، لیکن وہ آگ جو لوگوں کو جمع کرے گی تو وہ دوسری آگ ہے ۔‘‘ (فتح الباری : 13 79)
برزنجی اس آگ کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
’’ یہ آگ اس آگ کے علاوہ ہے جو آخری زمانے میں نکلے گی ۔ لوگوں کو ان کے محشر میں اکٹھا کرے گی ، ان کے ساتھ رات گزارے گی اور قیلولہ کرے گی ۔ ‘‘
( الإشاعة لأشراط الساعة :94 )
4۔ فتنے
الفِتن فاء کے کسرہ اور تاء کے فتحہ کے ساتھ فتنة کی جمع ہے ۔
ابن فارس کہتے ہیں :
’’ فا، تا، ن یہ حروفِ اصلی ہیں ۔ ہفت اقسام صحیح ہیں جو آزمائش و امتحان پر دلالت کرتے ہیں ۔‘‘
ازہر ی  فرماتے ہیں :
’’ کلام عر ب میں فتنے کا بنیادی معنی آزمائش و امتحان ہے اس کی اصل اس قول سے ماخوذ ہے : فتنت الفضة والذهب یعنی میں نے سونے اور چاندی کو آگ میں پھینکا تا کہ ردی کی عمدہ سے تمیز ہو جائے ۔ اسی سے اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے :﴿يَومَ هُم عَلَى النّارِ يُفتَنونَ ﴿١٣﴾... سورة الذاريات
’’ہاں یہ وہ دن ہے یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے ۔‘‘
یعنی وہ آگ میں جلائے جائیں گے ۔ اور کبھی لفظِ فتنہ قرآن کریم میں آزمائش و امتحان کے معنیٰ میں بھی آیا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿الم ﴿١﴾ أَحَسِبَ النّاسُ أَن يُترَكوا أَن يَقولوا ءامَنّا وَهُم لا يُفتَنونَ ﴿٢﴾ وَلَقَد فَتَنَّا الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَلَيَعلَمَنَّ اللَّهُ الَّذينَ صَدَقوا وَلَيَعلَمَنَّ الكـٰذِبينَ ﴿٣﴾... سورة العنكبوت
’’ الم!کیا لوگوں نے گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس عوے پر ہم ایمان لے آئے ہیں ، ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا ، یقینا اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں ۔‘‘
وَهُم لا يُفتَنونَ کا معنی یہ ہے کہ وہ آزمائے نہ جائیں اور فتنہ کا معنیٰ یعنی وہ امتیں جو ان سے پہلے تھیں ، ہم نے ان کی آزمائش کی کہ جن کی طرف ہم نے اپنے دشمنوں کے سامنے کہا اور ہم نے ان کو ان لوگو ں پر قدرت دی جو ان کو ایذا دیتے تھے ۔ جس طرح موسیٰ ﷩ جب ہم نے کو بنی اسرائیل کی طر ف بھیجا تو ہم نے ان کی فرعون اور ان کے سرداروں کے ساتھ آزمائش کی اور جس طرح عیسی﷩ کو ہم نے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا تو ہم نے اس کے پیروکاروں کا اس کے نافرمانوں کے ساتھ امتحان لیا ۔ اسی طرح ہم نے ( اے محمد ﷺ ) تیرے متبعین کی تیرے مخالف دشمنوں کے ساتھ آزمائش كى جرجانی نےفتنہ کی تعریف اس طر کی ہے :
’’ فتنہ وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ انسان کے لیے خیر وشر واضح ہو جائے ۔کہا جاتا ہے "فتنت الذهب بالنا" جب كہ تو سونے کو آگ میں جلا دے تاکہ تو معلوم کرے کہ یہ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ ہے ، اسی سے فتان ہے جو اس پتھر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سونےاور چاندی کو جانچا جاتا ہے ، لیکن وہ فتنے کہ جن کے بارے نبی کریمﷺ نے اپنی اجادیث میں خبر دی ہے کہ آپ کی امت عنقریب اس میں بہت زیادہ مبتلا ہوگی اور وہ فتنے ان پر بارش کے قطروں کی طرح بھیجے   جائیں گے تویہ امتحان و آزمائش کے قبیل سے ہے تا کہ خیر و شر اور اس سے تعلق کے حوالے سے انسان کی حالت واضح ہو جائے اور اس میں اہل لغت کے نزدیک بعض دوسرے معانی بھی مذکور ہیں : 1 قتل 2 .اختلاف 3.عذاب 4. تغیر احوال و زمانہ ‘‘
حافظ ابن حجر  فرماتے ہیں :
’’فتنے کا اصل معنی امتحان و آزمائش ہے ، شرع میں یہ ناپسندیدہ چیز کے کشف کے امتحان میں مستعمل ہے ۔ کہا جاتا ہے : فتنت الذھب جب تو سونےکوآگ کے ساتھ جانچ کرے تاکہ تواس کی عمدگی دیکھے ۔‘‘
(1)              مطلوب سے غفلت کے معنی میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿إِنَّما أَمو‌ٰلُكُم وَأَولـٰدُكُم فِتنَةٌ...﴿١٥﴾... سورة التغابن
’’تمہارے مال اور اولاد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں ۔‘‘
(2)دین سے پلٹنے پر مجبور کرنے کے معنی میں مستعمل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿إِنَّ الَّذينَ فَتَنُوا المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنـٰتِ ...﴿١٠﴾... سورة البروج
’’بے شک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا ۔‘‘
اور یہ فتنہ ، گمر اہی ، گناہ ، کفر اور عذاب کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ان تمام معانی کا اعتبار سیاق و قرائن سے ہوگا ۔ بہت زیادہ صحیح نصوص دلالت   کرتی ہیں کہ علامت ِ ساعہ میں سے کثرت ہرج بھی ہے اور وہ قتل ، فساد ، فتنوں کا ظہور ، ان کا پھیلنا ، شہروں میں ان فتنوں کا نازل ہونا ، ، ان کی مصیبت اور ہولناکی کا بڑھنا ہے ، یہاں تک کہ ان فتن کے شدتِ وقوع سے مسلمان آدمی شام کو کافر ہوگا اور صبح کو مؤمن ہوگا۔ صبح کو مؤمن ہو گا تو شام کو کافر ہوگا اور ایک فتنہ دوسرے کے پیچھے آئے گا تو مؤمن کہے گایہ مجھے ہلاک کر دے گا ، پھر وہ گزر جائے گا اور دوسرا ظاہر ہو گا تو وہ کہے گا یہی ہے مجھے ہلاک کرنے والا ، جب تک کہ اللہ چاہے گا ۔ پس زمانہ گزر جائے گا اور اس کے بعد شر ہوگا جیسے زمانہ اپنے اہل کے ساتھ طویل   ہوگا اور ان سے بعید ہوگا تو فتنے مصائب کے لحاظ سے زیادہ سخت اور عظیم ہوں گے ۔ جیسا کہ شریعت کی نصوص اس پر شاہد ہیں اور اس پر کئی حواثات و واقعات بھی دلالت کرتے ہیں :
(1 )حضرت زبیر بن عدی سے مروی ہے ، کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک کے پاس آئے تو ہم نے حجاج سے ملنے والی تکالیف کی آپ سے شکایت کی تو آپ نے کہا : میں نے تمہارے نبی سے سنا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
«اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لاَ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ»(صحيح بخارى :7068)
’’میں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے ، صبر کرو تم پر جوزمانہ گزرے گا، اس کے بعد اس سے بدتر زمانہ ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے ربّ سے جا ملو ۔‘‘
(2)حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بلا شبہ اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا»(صحيح مسلم :118)
’’ تم نیک اعمال میں جلدی کرو ، ان فتنوں سے پہلے جو اندھیر ی رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ۔ ( اس وقت) آدمی صبح کو مؤمن ہوگا او رشام کو کافر یا شام کو مؤ من ہوگا اور صبح کو کافر ، وہ اپنے دین کو دنیا کے فائدے کے بدلے فروخت کر دے گا ۔‘‘
(3)حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو ہم نے ایک جگہ قیام کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ اونٹ لے کر چراگاہ میں گئے تھے کہ ا چانک اللہ کے رسول ﷺ نے منادی کی نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ۔ پس ہم نبی کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :
« إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ، وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا، وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ هَذِهِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ،»(صحيح مسلم : 1844)
مجھ سے پہلے بھی بنی گزرا ، اس پر واجب تھا کہ اپنی امت کو خیر کی طر ف راہنمائی کرے اور ان کو برائی سے روکے ۔ اس امت کی عافیت اس کی ابتدا میں رکھی گئی ہے او راس کے آخر میں لوگ آزمائش اور ناپسندیدہ امور کا سامنا کریں گے ۔ کوئی فتنہ آئے گا تو اس کا بعض حصہ بعض حصے کو خوشنما بنا   دے گا ، پھر فتنہ آئے گا تو مؤمن کہے گا : یہ مجھے ہلاک کر دے گا ، جب وہ گزر جائے گا تو مؤمن کہے گا کہ یہ میری ہلاکت کا باعث ہے ۔ جو آدمی چاہتا ہے کہ وہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو تو پھر اس کی موت ا س حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں سے ایسا سلوک کرے جس کی توقع وہ اپنے لیے کرتا ہے ۔‘‘
نبی ﷺ نےمسلمانوں کی ایسے امر کی طرف توجہ فرمائی جو لوگوں کو ان فتنوں ، برائیوں اور گناہوں سے محفوظ رکھے ، لہذا آپ نے ان کو حکم دیا کہ ان فتنوں سے اللہ کی پناہ پکڑو، اعمالِ صالحہ مین جلدی ، اللہ اور آخرت کے دن پر ایمانِ کامل اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے کے ساتھ ان فتنہ سے دور ی اختیار کرو۔
(4)اس معنی میں نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے :
«تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنَ الْفِتَنِ، مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ»(صحيح مسلم:2867)
’’ تم ظاہر ی اور باطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ‘‘
(5)حضرت حذیفہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ،
كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ، فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَفِيهِ دَخَنٌ»، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ»، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: «نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا، وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ»، فَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: «فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ»(صحيح بخارى:3606)
’’لوگ نبی ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا ، اس ڈر سے کہ میں اس میں گرفتار نہ ہو جاؤں ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! بلا شبہ ہم جاہلیت کے شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اسلام کی خیر لائے ۔ کیا اس خیر کے بعد بھی کوئی شر ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہاں ، میں نے کہا : پھر کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں لیکن اس میں کچھ خرابی ہے ۔ میں نے کہا : کیا خرابی ہے ؟ فرمایا : لوگ ہوگے جو میری ہدایت کے علاوہ دوسری ہدایت حاصل کریں گے ۔ تو ان میں سے کچھ چیزیں پہچانے گا اور کچھ کا انکار کرے گا ۔ میں نے کہا : اس خیر کے بعد کوئی شر ہے ؟ فرمایا: ہاں جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے ۔ جو ان کی دعوت کو قبول کرے گا وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے ۔ میں نےکہا : اے اللہ کے رسول! ان کی کچھ صفات بیان فرمائیے ؟ فرمایا: وہ ہمارے جیسے ہوں گے اور ہماری زبانوں کے ساتھ کلام کریں گے ۔ میں نے کہا : اگریہ وقت مجھ پر آجائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو ۔ میں کہا ، اگر ان کی جماعت اور امام نہ ہو تو ؟ فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ رہو اور کسی درخت کی جڑ کو مضبوطی سے پکڑ لے یہاں تک کہ تجھے موت آجائے اور تو اسی حال میں ہو ۔ ‘‘
اس کے علاوہ بھی بہت زیادہ احادیث ہیں کہ جن کو اس جگہ لانا باعثِ طوالت ہو گا ۔ یہ تمام احادیث اس امر عظیم پر دال ہیں جس سے نبی ﷺ نے متنبہ فرمایا اور اس کے انجام سے اپنی اُمت کو ڈرایا ۔ ان کی اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی جو لوگوں کو ان برائیوں اور گناہوں سے باز رکھے کہ وہ ان (فتن) سے پناہ طلب کریں اور ان سے دور ی اختیار کریں ، اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان کے ساتھ ۔ آپ کے اوامر و نواہی کی اتباع کے ساتھ ) ااہل سنت و الجماعت کے گروہ کو لازم پکڑنے کے ساتھ ، اگر وہ کمزور ہوں اور تعداد میں کم ۔
جھوٹے مد عیانِ نبوت دجالوں کا خروج
قیامت کی علامات اور نشانیوں میں سے جھوٹے دجالوں کا نکلنا ہے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے اور اپنے سر کردہ قائد کے ساتھ فتنے کو ہوا دیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے خبر دی ہے کہ ان کی تعداد تیس (30) کے قریب ہے ، فرمایا :
لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، قَرِيبًا مِنْ ثَلاَثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ»(صحيح بخارى 3413)
’’ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال نکلیں گے ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔ ‘‘
اس نشانی کا وقوع ثابت ہوا اور یہ قیامت کی علامات میں سے ہے ۔ قدیم اور جدید زمانے میں بہت سے مدعیانِ نبوت نکلے او ریہ بعید نہیں کہ جھوٹے ، کانے دجال کے ظاہر ہونے تک ابھی او ر دجال ظاہر ہوں ۔ ہم دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے ہیں !  
(2)نبی مکرم ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا ، فرمایا :
«والله لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخرهم الأعور الكذاب»(مسند احمد : 5/16)
’’ بلا شبہ اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے نکلیں گے ان میں سے آخری جھوٹا ، کانا ( دجال ) ہوگا ۔‘‘
(3)حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا
«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى يَعْبُدُوا الأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»(جامع ترمذى 2229 )
’’ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میرے اُمت کے کچھ قبائل مشرکین سے مل جائیں گے او روہ بتوں کو پو جا کریں گے اور بلا شبہ میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے ۔ ان میں سے ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے او رمیں خاتم النّبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ‘‘
ماضی میں ان لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد ظاہر ہوئی ۔ نبی ﷺ کی آخر حیات میں اسود عنسی نے یمن میں دعواے نبوت کیا ۔ اس لحاظ سے یہ اسلام میں اللہ کے رسول ﷺ کے عہد میں پہلا ارتدادہے ۔ اسود عنسی کے جنگجو ساتھی بھی متحرک ہوئے او روہ یمن کے تمام حصوں پر قابض ہوگئے ۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو اس واقعے کا علم ہوا تو ۂ٭آپ نے وہاں مسلمانوں کی طرف پیغام بھیجا جس میں آپ انہیں دشمنوں کے سامنے کھڑا ہونے او ران سے لڑائی کرنے پر ابھار رہے تھے تو مسلمانوں نے اس پر لبیک کہا اور اسی جگہ اسود کی بیوی کے تعاون سے اسے قتل کیا کہ جس سے اسود نے اس کے خاوند کے قتل کے بعد زبردستی شادی کرلی تھی ، حالانکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے والی تھی اسود کے قتل ہونے سے اسلام اور اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہوا اور انہوں نے نبی ﷺ کو اس بارے خط لکھا ۔ اس رات آسمان سے بھی آپ کو خبر آ گئی تو آپ نے اپنے صحابہ ﷢ کو خبر دی ۔ اس جھوٹے نبی ے ظہور سے لے کر اس کے قتل تک تین ماہ کا عرصہ ہے اور ایک قول کے مطابق یہ وقفہ چار ماہ کا تھا ۔
او ران جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے طلحہ بن خویلد اسدی ہے جو 9 ہجری کو بنو اسد کے وفد میں نبی ﷺ کی حیات میں نبوت کا دعویٰ کر دیا تو ضرار بن ازور ا س کی طرف متوجہ ہوئے جو کہ بنواسد پر عامل تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو مرتد کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیا ، لہذا طلیحہ کی قوت کمزور ہو گئی اس کا مؤخذہ کرنے کے علاوہ کو ئی چارہ نہ بچا ، اس پر تلوار چلائی گئی ، لیکن تلوار نے اس پر کوئی اثر نہ کیا تو لوگو ں کے درمیان یہ اس حثییت سے مشہور ہوا کہ تلوار اس پر اثر نہیں کرتی ، لہذا اس کی جمعیت زیادہ ہو گئی ۔ نبی مکرمﷺ کی وفات ہوئی اور یہ لوگ ابھی اس روش پر قائم تھے ۔ جب حضرت ابوبکر نے امر خلافت کا قلمدان سنبھالا تو خالد بن ولید کی قیادت میں اس کی طرف لشکر بھیجا ۔ دونوں لشکر وں کا ٹکراؤ ہوا ۔ طلیحہ کا لشکر ہزیمت سے دوچار ہو ا تو وہ اپنی بیوی کے ساتھ ملک شام کی طرف بھاگ گیا‘ پھر اس کے بعد وہ اسلام لے آیا اور اس کا اسلام بہتر ہوگیا ۔ وہ مسلمانوں کے لشکر سے جا ملا اور بڑی جانفشانی کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا ۔
ان جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے مسیلمہ کذاب بھی ہے جو بنو حنیفہ کی جماعت کے ساتھ ہجری کے نویں سال وفد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ وفد کے یمامہ جانے کے بعد یہ اللہ کا دشمن مرتد شریک ہوں اور اس کا دعویٰ تھا تاریکی میں اس کے پاس وحی آتی ہے اسکی طرف سیدنا ابوبکر نے خالد بن ولید ، عکرمہ بن ابی جہل اور شرحبیل بن حسنہ کی سرپرستی میں لشکر بھیجا تو مسیلمہ نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا سامنا کیا ، اس کے پاس چالیس ہزار جنگجو تھے ۔ ان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہوا جس میں مسیلمہ اور اسکے لشکر کو شکست ہوئی ۔ مسیلمہ و حشی بن حرب کے ہاتھوں قتل ہوا ۔ حق کو غلبہ حاصل ہوا اور عَلَمَ توحید اور غیر قوم سے بہت سے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے ۔ ارد گرد کے قبائل اس سے مل گئے حتی کہ یہ بنو تمیم تک پہنچ گئی اور ان سے معاہدہ کیا ۔ اس نے پیش قدمی کو جاری رکھا یہاں تک کہ وہ یمامہ گئی اور وہاں مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے ملی ۔ مسیلمہ سے شادی رچائی اور جب مسیلمہ کا قتل ہوا تو اپنے شہر واپس چلی گئی اور اپنی قوم بنی تغلب پذیرہو گئی ۔ اس کے بعد   وہ اسلام لے آئی اور اس کا اسلام بہتر ہوا پھر وہ بصرہ منتقل ہوئی اور وہیں اس کی وفات ہوئی ۔ تابعین اور مابعد کے زمانہ میں مختار بن ابی عبید ثقفی کا ظہور ہوا جو اوّلاً شیعیت کے تعارف سے نمایاں ہوا تو شیعوں کی ایک بہت بڑی جماعت اس سے مل گئی تھی ۔ یہ محمد بن حنفیہ کی امامت کا قائل تھا اور لوگوں کو اس کی طرف دیتا تھا او ردعویٰ کرتا تھا کہ جبریل اس پر نازل ہوتا ہے۔ یہ کوفہ اور اس کے گردونواح پر غالب آگیا ۔ اس نے کوفہ میں ہراس شخص کو قتل کردیا کہ جس نے میدانِ کربلا میں سیدنا حسین بن علی ؓ سے جنگ کی تھی ۔ اس کے اور مصعب بن زبیر ؓ کے درمیان متعدد معرکے بپا ہوئے ۔ آخر کار ایک معرکے میں اسے شکست ہوئی اور مصعب کو غلبہ حاصل ہوا ، لہذا مختار قتل ہو گیا اور مسلمانوں کو اس خبر سے خوشی ہوئی ۔
ان جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے ایک حارث بن سعید کذاب ہے کہ جس نے دمشق میں زہد اور عبادت گزاری کے حوالے سے شہرت پائی اور پھر یہ دعویٰ کر دیا کہ وہ نبی ہے اور جب اسے علم ہوا کہ یہ خبر خلیفہ عبد الملک بن مروان تک پہنچ گئی ہے تو وہ چھپ گیا اور لوگ اس کے بارہ میں نا بلد ہوگئے ۔ اہل بصرہ میں سے ایک شخص نے اس کے ٹھکانے کو معلوم کر لیا اور حارث کی نبوت کا ظاہر ی اقرار کر لیا تاکہ اس پر قابو پا سکے حارث نے حکم دیا کہ جب بھی یہ آدمی داخل ہونے کا ارادہ کرے روکا نہ جائے ، ازاں بعد یہ آدمی عبدالملک سے ملا اور اسے امر واقعہ کی خبر دے دی ۔ عبدالملک نے اس کے ساتھ عجم سے ایک لشکر بھیجا جو اسے قید کر کے عبدالملک کے پاس لایا تو عبدالملک نے اہل علم و فقہ لوگوں کو حکم دیا کہ اسے وعظ کریں اور تعلیم دیں کہ اس کا یہ عمل شیطانی ہے ۔ حارث نے ان کی بات قبول کر نے سے انکار کر دیا چنانچہ عبدالملک نے اس کے بعد اسے سولی پر چڑھا دیا ۔
6۔ چرواہوں کی بڑی عمارتیں بنانے میں مقابلہ بازی
لونڈی کا اپنی مالک کو جنم دینا ارو برہنہ پا ، برہنہ بدن اور بکریوں کے چرواہے ( گڈرئیے ) بلند قامت امارتوں پر فخر کریں گے ۔ یہ ہیں قیامت کی وہ نشانیاں جن کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے اور ان میں سے بعض ظاہر بھی ہو چکی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(1)لونڈی کا اپنی مالکہ یا مالک کو جنم دینا
(2) لوگوں کا بلند قامت عمارتوں پر فخر کرنا
(3) جھونپڑیوں میں زندگیاں گزارنے والے اونٹوں اور بکریوں کے چرواہوں کا اپنے گھروں کی تزیین و آرائش میں لگ جانا ۔
مذکورہ علامات کی نشاندہی حدیثِ جبریل سے ہوتی ہے ، جب جبریل نے حضور کی مجلس مبارک میں حاضر ہو کر اسلام ، ایمان ، احسان اور قیامت کے متعلق دریافت فرمایا تھا ۔ چنانچہ جبریل نے آپ سے قیامت کے ظہور کے متعلق سوال کیا ٰٖآپ نے فرمایا:
اس مسئلہ میں مسئول سائل سے زیا دہ جانتا ہے تو پھر جبریل امین ﷩ فرمانے لگے کہ اس کی نشانیوں سے ہی آگاہ کر دیجئے تو آپ نے فرمایا :
’’ لونڈی مالکہ کو جنم دے گی ، مزید یہ کہ تو دیکھے گا وہ لوگ جن کے پاس قدموں میں پہننے کے لیے جوتے نہیں ، تن ڈھانپنے کے لیے پوشاک نہیں ، آتش شکم سرد کرنے کے لیے نوالہ بھی میسر نہیں ، وہ بلند و بالا اور رفیع قامت عمارتوں پر فخر کرنے لگیں گے۔ ‘‘(صحیح مسلم: 8)
اس حدیث میں علاماتِ قیامت کے حوالے سے یہ جو بات ذکر کی گئی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات اور قدریں تبدیل ہو جائیں گی ۔ تمام امور کی باگ دوڑ اہل لوگوں کے ہاتھ آجائے گی یا ہر کام اپنے غیر محل سے سر انجام پائے گا یعنی بیٹا آقا ہو گا جب کہ مائیں لونڈیاں ہوگی ا ور یہ ہو گا بھی اس وقت جب اسلام کی وسعت اطراف عالم میں ہوگی ۔ لونڈیوں کی کثرت ہوگی ۔ اور لوگ انہیں محل و سراؤں میں رکھیں گے جس کی وجہ سے ان کے ہاں اولادیں ہوگی ۔ چنانچہ اس معنی میں آدمی اپنی ماں کا مالک ہوگا ، کیونکہ ماں تو اس کے باپ کی لونڈی تھی اور باپ کی ملکیت تو اس کی اولاد ( بیٹا ، بیٹی ) کی طرف لوٹتی ہے اور وہ باپ کے حسب و نسب میں شریک ہوتا ہے ۔
اسی طرح برہنہ پاؤں ، برہنہ بدن گڈریوں سے مراد وہ جاہل اور ظالم لوگ ہیں جن کے مالدار ہونے کی وجہ سے اقتدار بد ل جائیں گی اور وہ لوگوں کے لیڈر بن بیٹھیں گے ۔ بلند بالا عمارتیں بنانے میں وہ فخر محسوس کریں گے بلکہ اسے وجہ فخر و غرور ٹھہرا کے اس میں مسابقت کرنے کو کوکشش کریں گے ۔ علامہ محمود تو یجری فرماتے ہیں :
’’ عمارتوں میں فخر و غرور سے مراد ہے کہ کئی منزلہ اور سر بفلک گھر تعمیر کریں گے ۔ جو بڑے خوبصورت ، مزین و آراستہ اور مضبوط بنیادوں والے ہوں گے ۔ مزید یہ کہ بڑے وسیع اور کثیر المجلس ہوں گے ۔ یہ سب کچھ ہمارے زمانے میں ہو رہا ہے جب سے برہنہ پا اور برہنہ لوگوں کے پاس مال و دولت کی فراوانی اور دنیا کی فراوانی آئی ہے ۔‘‘
مذکورہ دو علاماتِ قیامت کے معنی و مفہوم کے تعین میں علما کے ہاں اختلاف ہے : امام نووی  فرماتے ہیں :
’’ حدیث کے یہ الفاظ یعنی ، لونڈی کا اپنے مالک یا مالکہ کو جنم دینا ، تین طرح آئے ہیں :
(1)            «أن تلد الأمة ربتها»لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی ۔
(2)            «أن تلد الأمة ربها»لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی یعنی مذکر کا ذکر ہے ۔
(3)            «أن تلد الأمة بعلها»لونڈی اپنے شوہر کو جنم دے گی ۔
اور     ربها و ربتها کا معنی ہے : سيدها و مالكها اور سيدتها و مالكتهایعنی اس کا آقا و مالک یا اس کی مالکہ ۔ اکثر علما کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہے کہ لونڈیوں اور ان کی اولادوں کی کثرت ہو جائے گی ، لہذا اگر وہ لونڈی اپنے مالک کی وجہ سے بیٹا جنم دے گی تو وہ تو گویا وہ اس کا بھی مالک ہی ہو گا ، کیونکہ انسان کا مال اس کی اولاد کا ہی ہوتا ہے ۔ اس حالت میں وہ بیٹے اپنے مال میں مالکوں جیسا ہی صرف کریں گے خواہ باپ کی طرف سے اجازت ہو یا حالیہ و عرفی قرینہ کی وجہ سے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ لونڈیاں بادشاہوں کو جنم دیں گی ۔ چنانچہ ماں بمنزلہ رعایا کے ہوگی اور بیٹا بشمول ماں کے اپنی رعیت یا عوام کا لیڈر ہوگا ۔ اور یہ رائے بھی اپنائی گئی ہے کہ لوگوں کی اخلاقی حالت اتنی بگڑ جائے گی کہ مائیں کثرت سے فروخت ہوں گ ی۔ تاجر یا خریدنے والوں کے ہاتھوں اس کثرت فروختنی کی وجہ سے بیٹا لا علمی میں اپنی ماں خرید بیٹھے گا ۔ ان مفاہیم کے علاوہ بھی چند مفاہیم نکالے گئے ہیں ۔ ہماری رائے میں یہ تمام مفاہیم کمزور اور فاسد ہیں ، اس لئے ہمیں ان سے تعرض نہیں کرنا چاہیے ۔‘‘ (شرح صحیح مسلم : 1/158)
علامہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
’’ اگرچہ اس حدیث کے مفہوم میں سلف و خلف کے ہاں اختلاف ہے لیکن ابن التین فر ماتے ہیں کہ اس میں سات طرح کے اقوال کا اختلاف ہے ، لیکن وہ سب آپس میں ملتے جلتے ہیں ۔ میں ان کے مشتر کہ مفاہیم چھوڑ کر ان کا حلاصہ بیان کروں تو وہ چار طرح کے اقوال ہوں گے جو درج ذیل ہیں :
(1)              خطابی فرماتے ہیں :
’’ اسلام کی وسعت سے مراد اہل اسلام کا سر زمین شرک پر غلبہ ہے ، ان کی اولادوں کو قید کرنا ہے ۔ اس وقت جب کوئی شخص لونڈی کا مالک بن کر اس سے بچہ پیدا کریے گا اتو وہ بچہ اس لونڈی کا مالک ہو گا ، کیونکہ کہ وہ اس کے مالک کا بیٹا ہے ۔ امام نووی فرماتے ہیں :
’’ اکثر علمانے اگرچہ یہی رائے اپنائی ہے ، لیکن مجھے اس رائے کو تسلیم کرنے میں تامل ہے ، کیونکہ جب بات آپ نے فرمائی تھی یا اسلام کا آغاز تھا تو اس وقت لونڈیاں مسلمانوں کے لیے بچے جنم دے رہیں تھیں جبکہ حدیث کا سیا ق کلام ایسی بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو ابھی ہوئی نہیں بلکہ قربِ قیامت واقع ہونی ہے ۔‘‘
(2) دوسرا قول یہ ہے کہ مالکائیں ایسی ماؤں کو فروخت کریں گی جو اولاد والی ہوں   گی ۔ یہ کام اتنی کثرت سے ہو گا کہ بادشاہوں کی عادت بن جائے گی کہ اولاد والی لونڈیاں خریدیں ۔ ایسے ہی لا شعوری میں بیٹا اپنی ماں کو خریدے گا۔ واضح رہے کہ قیامت کے نزدیک یہ دو وجہ سے ہو گا ۔
1۔ یا تو جہالت کی بنیا د پر ہوگا کہ لوگوں کو یہ پتا ہی نہیں ہوگا کہ بچوں والی مائیں فروخت کرنا حرام ہے ۔
2۔ دوسرا یہ کہ ( لوگ) احکام ِ شرعیہ کی اہانت کرنے کی خاطر یوں کر یں گے ۔
(3)تیسری رائے یہ ہے کہ یہاں قیامت سے پہلے حالات کی خرابی کی طرف اشارہ ہے ۔ نووی فرماتے ہیں کہ اسے اولاد کو ماؤں کے ساتھ سلوک کا مفہوم متعین کرتے ہوئے اس پر محمول نہ کیا جائے کہ جائز بیٹا ہی اپنی ماں کو خریدے گا بلکہ ان کے علاوہ صورتوں میں بھی اسے متصور کیا جائے گا ۔ وہ اس طرح کہ لونڈی " وطءشبهة" ’رفیق نکاح‘ یا ’زنا‘ کی رجہ سے ایک ایسے آزاد کو جنم دیتی ہے ، ایسا آ زاد جو کہ اس کے حقیقی مالک سے نہیں ہے ۔ پھر لونڈی کو دونوں صورتوں میں جائز بیع کرتے ہوئے فروخت کر دیا جاتا ہے ۔ ایسے ہی اس کی فرد ختنی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے حتی کہ اس کا بیٹا یا بیٹی اسے خرید لے گی ۔
(4) چوتھا قول : اولاد والدین کی بڑی نافرمان ہو جائے گی ۔ بیٹا اپنی ماں کی توہین کرتے ہوئے ایسے پیش آئے گا جیسے مالک اپنی لونڈی سے پیش آتا ہے ۔ اسے گالیا ں دے گا ، مارے گا اور خدمت لے گا ۔ اسے مجازی طور پر مالک کہا گیا ہے یا پھر یہ مراد ہوگی کہ مربی کا ربّ بن جائے گا تو اس وقت اسے حقیقت پر محمول کیا جائے گا ۔ اپنے عموم کے اعتبار سے یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ حدیث اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ حالات خراب ہو جائیں گے ۔ معاملات الٹ پلٹ ہو جائیں گے او رمربّی ( جس کی تربیت کی جاتی ہے ) ، خود وہ مربّی ( تربیت کرنے والا) ہو جائے گا۔
باقی رہی یہ بات کہ لوگ عمارتوں پر فخر کر یں گے تو وہ ہمارے زمانے میں ظاہر ہی ہے ۔ لوگ کثرت مال کے سبب تزیین و آرائش کے ساتھ گھروں کو وسیع کرنے میں مسابقت کر رہے ہیں ۔ حتی کہ فقیر و ضرورت مند لوگوں نے بھی کئی منزلہ گھر بنالئے ہیں اور اس میں مسابقت بھی کر رہے ہیں ۔
یہ تمام باتیں جن کے صادق و مصدق نبی ﷺ نے خبر دی تھی ، پوری ہو چکی ہیں جیسا کہ عمر بن خطا ب﷜ کی حدیث سے واضح ہے ا ور عبداللہ بن عباس﷜ کی روایت میں بھی آتاہے کہ جبریل نے آپ سے کہا کہ مجھے قیامت کے متعلق بتائیے ، وہ کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا :
’’ سبحان اللہ پانچ باتوں کو اللہ کے علاوہ کو ئی نہیں جانتا ، ہاں اگر تو چاہتا ہے تو میں قیامت کی علامتیں تیرے سامنے بیان کرتا ہوں ۔ جبریل ﷩ نےکہا : ہاں یارسول اللہ ﷺ میرے لیے بیان کر دیجیے ، تو آپ نے فرمایا : جب تو دیکھے کہ لونڈی نے اپنی مالکہ یا مالک کو جنم دیا ہے اور تو دیکھے کہ بکریوں کے چرواہے عمارتیں بنانے میں فخر محسوس کر رہے ہیں او رتو دیکھے کہ بھوکے ، برہنہ پا اور برہنہ بدن لوگ عوام ے لیڈ ر بن گئے ہیں تو سمجھ لینا کہ یہی قیامت کی علامتوں اور نشانیوں میں سے ہے ۔ جبریل نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ بکریوں کے چرواہے ، برہنہ پاوبدن سے کون لوگ مراد ہیں تو آپﷺ نے فرمایا : اس سے مراد ’عرب‘ ہیں ۔‘‘(مسند احمد : 4/322 ،..حافظ احمد شاکر کہتے ہیں : اس کی سند صحیح ہے ۔)
امام قرطبی فرماتے ہیں :
’’ اس سے مقصود حالات کی تبدیلی ہے یعنی بدووں ے ہاتھ زمام حکومت آجائے گی تو وہ ملکوں پر   قہرو جبر کے ساتھ قبضہ کریں گے جس کی وجہ سے ان کے ہاں مال کی فراوانی ہو جائے گی اور مضبوط عمارتیں بنائیں گے پھر ان پر فخر کرنے میں اپنی ہمتیں صرف کریں گے ۔ یقیناً اپنے زمانہ اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے ۔‘‘ (فتح الباری : 1231)
ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں :
’’ حدیث میں علامتِ قیامت کے حوالے سے جو باتیں ذکر کی گئی ہیں ان کا مطلب ہے کہ معاملات نا اہل لوگوں کو سپر د کر دیئے جائیں گے جیسے کہ آپ نے اس شخص کے لیے فرمایا تھا جس نے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :
’’ جب کام نا اہل لوگوں کے سپر د کر دیئے جائیں تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔‘‘(صحیح بخاری : 59)
چنانچہ جب برہنہ پاو بدن اور گڈریے لوگوں کے لیڈر بن جائیں ۔ واضح رہے کہ یہی لوگ    جاہل و ظالم ہیں ۔ اور مالدار عمارتوں میں فخر کریں تو یہی چیزیں دین و دنیا کے نظام کو خراب کرنے والی ہے۔(جامع العلوم و الحکم:36)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
’’ عمارتوں میں فخر سے مراد ہے کہ ہر کوئی جب عمارت بنانے کا ارادہ کرے گا تو وہ چاہے گا کہ میری عمارت دوسرے سے زیادہ بلند ہو یا پھر یہ کہ عمارتوں کے نقش و نگار اور تزیین و آرائش میں فخر کریں یا اس سے بھی زیادہ عام معنیٰ مراد ہو ۔‘‘
7۔ علم کا اُٹھ جانا اور جہالت کا عام ہو جانا
قیامت کی جن نشانیوں کے بارے میں آپ نے بتلایا ہے ، ان میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائے گا اور جہالت عام ہو جائے گی ۔ چنانچہ ابو موسیٰ اور عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
’’ بلا شبہ قیامت سے پہلے چند دن ایسے بھی آئیں گے جن میں علم اُٹھ جائے گا، جہالت اُتر پڑے گی او راس میں قتل فساد کثرت سے ہوگا ۔‘‘ (صحیح بخاری : 7066 )
سیدنا انس ﷜ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ بے شک علم کا اُٹھا لیا جانا ، جہالت کا عام ہو جانا ، شراب پیا جانا اور زنا عام ہو جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ‘‘ (صحیح بخاری: 6808)
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں ، آپ نے فرمایا :
’’ وہ وقت قریب آ رہا ہے جب عمل کم ہو جائے گا ، فتنے ظاہر ہون گے اور قتل و فساد بہت زیادہ ہو گا ۔ ‘‘ (صحیح بخاری 7061 )
ابن العربی فرماتے ہیں :
’’ مشائخ کا کہنا ہے کہ علم اُٹھ جانے سے مراد ہے ، علم کا وجود دلوں سے مٹ جائے ، علم ہم سے پہلوں کے پاس تھا ، پھر ہمارے سپر د کیا گیا ۔ اب ہمارے اندر علما کی موت سے علم اُٹھ جائے گا۔‘‘
بعض علما کا کہنا ہے کہ علم کے اُٹھ جانے سے مراد ہے بے عملی ، چنانچہ لوگ قرآن حفظ تو کریں گے لیکن اس پر عمل نہیں کریں گے ۔ میرے نزدیک تین طریقوں       سے علم ختم ہوگا :
(1)ایک آدمی گناہ کا ارتکاب کرے گا، چنانچہ اس کے گناہوں کی وجہ سے اس سے علم ختم ہو جائے گا ۔
(2)ایک آدمی قرآن کی قراءت کرے گا اور اس پر عمل نہیں کرے گا ۔
(3)ایک عالم فوت ہوگا اس حال میں کہ اس کے علم سے کسی نے بھی کو ئی نفع نہیں اٹھایا ہوگا ۔        
امام قرطبی اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم قلیل ہو جائے گا  اور جہالت کثیر ہو جائے گی ۔ چنانچہ قلتِ علم اورکثرت جہل تمام ممالک میں عام ہے ۔فرماتے ہیں میرے نزدیک علم کا اٹھ جانا اوراس کی قلت سے مراد ہےکہ علم مطابق علم چھوڑدینا ۔‘‘(التذکرۃ : ص 748 ،749 )
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
’’ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نقص علم سے مراد ہے کہ پوری دنیا کو نسیان لاحق کر دیا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نقص علم سے مراد علما کی موت ۔ چنانچہ جب کوئی عالم فوت ہوگا تواس کا جانشین نہیں پیداہوگا ۔ اس طرح جن جگہوں سے علما اٹھ جائیں گے وہاں سے علم بھی اٹھ جائے گا ۔ ‘‘(فتح الباری : 13، 17 )
رفع علم اور کثرتِ کے بارے میں جتنی احادیث بھی آئی ہیں ان سے مراد ہے کہ علمافوت ہو جائیں صرف جاہل لوگ رہ جائیں گے ۔ لوگ انہیں لیڈر بنائیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ عبداللہ بن عمروبن العاص ﷜ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ     ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
’’ بے شک اللہ تعالی علم کو راہ راست نہیں اٹھالے گا بلکہ وہ علما کو قبض کرنے کے ساتھ علم کرے گا ۔ روئے زمین پر کوئی بھی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جہلاکو اپنالیڈر بنائیں گے ۔ ان سے سوال کریں گے وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور انہیں بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ ( صحیح بخاری:100)
ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ حجۃالوداع کے موقع پر اونٹ پر فضل بن عباس ؓ کے پیچھے سوار تھے ، کھڑے ہو گئے اور فرمایا :
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَسـَٔلوا عَن أَشياءَ إِن تُبدَ لَكُم تَسُؤكُم وَإِن تَسـَٔلوا عَنها حينَ يُنَزَّلُ القُرءانُ تُبدَ لَكُم عَفَا اللَّهُ عَنها وَاللَّهُ غَفورٌ حَليمٌ ﴿١٠١﴾... سورة المائدة
امامہ ابوباہلی فرماتے ہیں :
’’ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم آپ سے زیادہ سوال کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور بچنے کر کوشش کرتے تھے ۔ فرماتے ہیں ایک دفعہ ہمارے پاس ایک اعرابی آیا ہم نے اسے ایک چادر رشوت میں دی ، اس نے پگڑی باندھ لی ، میں نے اس کے دائیں جانب لٹکائے ہوئے پگڑی کے کپڑے کا حاشیہ بھی دیکھا ۔ پھر ہم نے اسے کہا آپ سے سوال کر ۔ چنانچہ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ مصاحف ہمارے پاس ہیں ، ان سے ہم خود بھی سیکھتے ہیں اپنے بچوں ، عورتوں اور خادموں کو سکھلاتے ہیں ؟ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھاتے ہوئے فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے ۔ یہ یہود نصاریٰ ہیں ، کیا ان کے پاس مصاحف نہیں ہیں ، اس کے باوجود ان کے انبیاء جو لیکر آئے تھے اس میں ایک حرف سے بھی ان کا تعلق نہیں ، خبردار علم چلے جانے سے مراد علما کا چلا جانا ہے ۔ ‘‘(مسند احمد : 5۔266 ، سنن دارمی ( 1۔68 ) مختصر
امام نووی فرماتے ہیں کہ
’’ عبد اللہ بن عمر کی گزشتہ حدیث کے حوالے سے مراد یہ نہیں کہ حفاظ کے سینے سے مٹ جائے گا بلکہ اس سے مراد ہے کہ علما چل بسیں گے ۔ لوگ جہلا کو لیڈر
بنا لیں گے وہ جہالت کے ساتھ فیصلے کریں گے چنانچہ وہ خود بھی گمراہ ہوں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ ‘‘(شرح صحیح مسلم ازامام النووی : 16۔224)
آج سے پہلے نے یہ بات کہی تھی ، وہ ہمارے وقت پر کیسے صادق آرہی ہے ۔ ابن بطال فرماتے ہیں :
’’ اس حدیث پر مشتمل قیامت کی جتنی علامات بیان کی گئیں ہیں ، وہ سب خاص طور پر ہم نے اپنے زمانے میں دیکھ لی ہیں ۔ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ علم کم ہوگیا ہے اور جہالت عام ہو گئی ہے ۔ لوگوں کے دلوں میں بخیلی بڑھ گئی ہے ، فتنے عام ہو گئے ہیں اور قتل و غارت کثرت سے ہونے لگی ہے ۔‘‘(سیر اعلان النبلاء : 18۔47 ، شذرات الذہب: 3۔283)
اسی وجہ سے سلف طلب علم پر اُبھارتے تھے ۔ عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں :
’’ علم قبض ہونے سے پہلے لازمی حاصل کرو اور اس کا قبض ہونا علما کا چلے جانا ہے ، تم پر عمل کرنا لازم ہے ۔ بلا شبہ تمہارا کوئی ایک نہیں جانتا کہ کب وہ اس کا محتاج ہو جائے لہذا تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ۔ ، ہاں کنہ و کرید سے بچ جاؤ ۔‘‘ (سنن الدارمی : 1۔ 68)
سیدنا ابودراداء ؓ فرماتے ہیں :
’’ مجھے افسوس ہے کہ علما جارہے ہیں اور تمہارے جہلا ’ علم‘ سیکھتے ہی نہیں ۔ لوگو! علم اٹھ جانے سے پہلے سیکھ لو ، کیونکہ علم علما کے چلے جانے سے اٹھ جاتا ہے ۔‘‘ (سنن الدارمی : 1/ 69)
اس بات کا کلی مصداق ہمارے زمانے میں ظاہر ہوگیا ہے ۔ چنانچہ علم صرف تھوڑے سے لوگوں کے پاس باقی رہ گیا ہے ۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل
نوٹ: علم کے اٹھائے جانے سے مراد ینی اور شرعی علم کا اٹھ جانا ہے ، جیسا کہ آج ہمارے زمانے میں ہو ا ہے ۔ جہاں تک دنیوی یا سائنسی علوم کی بات ہے تو اس میں روز بروز ترقی ہو رہی ہے اور دنیوی مفادات سے متعلقہ علوم میں بہت سا اضافہ ہو چکا ہے ۔
جانور اور جمادات کا انسان کے ساتھ کلام کرنا
قیامت کی جن نشانیوں کے بارے آپ نے اطلاع دی ہے ، ان میں سے یہ بھی ہے کہ جانور انسانوں سے کلام کریں گے ۔ آدمی کی ران بتائے گی کہ اس کی بیوی سے کی عدم موجودگی میں کس نے بات کی ہے ۔
جوتوں اور کوڑے ( چابک ) کا بات کرنا : ابوہریرہ ﷜ فرماتے ہیں کہ آپ صبج کی نماز پڑھ کر لوگوں سے متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا :
’’ بنی اسرائیل میں ایک آدمی بازار   میں گائے ہانک رہا تھا جب وہ اس پر سوار ہوگیا اور اسے مارا تو گائے کہنے لگی ، ہم ان کاموں کے لیے پیدا نہیں کیے گئیں ہم صرف کھیتی کے لیے پیداکی گئیں ہیں س۔ لوگوں نے یہ جال دیکھ کر کہا سبحان اللہ گائے بھی باتیں کرتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں ، ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ حالاں کہ ابوبکر و عمر وہاں نہ تھے ۔ پھر فرمایا : بنی اسرائیل میں آدمی اپنی بکریوں کے میں تھا ، اچانک ایک بھیڑیے نے ان پر چھلانگ لگائی اور ایک بکر ی اُچک کر لے گیا ۔ یہ آدمی اس بھیڑیے کے پیچھے گیا حتیٰ کہ بھیڑیے کے منہ سے بکری چھین لی ۔ تو بھیڑیا کہنے لگا : اے شخص آج تو نے اسے مجھ سے چھڑالیا ہے ۔ ( قیامت کے قریب ) درندوں کے دن اس کی کون حفاظت کر ے گا ۔ جب میرے علاوہ اس کا کوئی محافظ نہیں ۔ لوگ یہ سن کر تعجب سے کہنے لگے ۔ سبحان اللہ ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا میں ، ابوبکر اور عمر اس پر ایمان لاتے ہیں حالاں کہ ابوبکر و عمر﷢ وہاں موجود نہ تھے ۔‘‘ (صحیح بخاری : 3471 )
ابوسعید فرماتے ہیں :
’’ بھیڑیے نے بکر ی پر چھلانگ لگا کر اسے اُچک لیا تو چرواہا اسے بچا لے گا ۔ پھر بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا ۔(حدیث میں بیٹھنے کے الفاظ ( اقعٰی) آئے ہیں جس کا معنی ہے پچھلی ٹانگیں زمین پر پھیلا کر سیرین پر بیٹھنا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کرنا ۔ چنانچہ عربی میں کہتےہیں ، اقعٰی الکلب ونحوہ کتے وغیرہ کا پچھلی ٹانگوں کو زمین پر پھیلا کر سرین پر بیٹھنا اور اگلی ٹانگوں کو کھڑا کرنا )
اور کہنے لگا کیا تو اللہ سے ڈرتا نہیں ؟ اللہ نے جو مجھے رزق دیا ہے تو مجھ سے چھینتا ہے ۔ آدمی کہنے لگا : تعجب ہے بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ کر انسانوں کی طرح کلام کرتا ہے ۔ تو پھر بھیڑیا کہنے لگا : کیا اس سے بھی زیادہ تعجب والی بات کی میں تجھے خبر نہ دوں ؟ اور وہ یہ کہ محمدؐ یثربی اس بارے میں لوگوں کو پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں ۔ وہ اس طرح کہ ایک دن ایک چرواہا اپنی بکریوں ہانکتا ہوا مدینہ داخل ہوا ۔ وہ انہیں مدینہ کے کسی گوشے میں لے گیا ۔ اسی دوران آپ نے حکم دیا کہ نماز کی منادی ہوئی ۔ پھرآپ نکلے اور چرواہے سےکہا کہ انہیں بتاؤتو اس نے بتا دیا ۔ پھر آپ نے فرمایا : اس نے سچ بولا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ قیامت اس وقت قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہیں کریں گے او رجب تک آدمی کے جوتے کا تسمہ ، چابک کا کنارہ بات نہیں کرے   اور آدمی کی ران سے خبر اسے خبر دے گی کہ اسکی بیوی نے اس کے بعد باتیں کی ہیں ۔‘‘(مسند احمد : 3/ 83، 84)
قرطبی فرماتے ہیں :
’’اس حدیث میں نیچریوں ، زناوقہ اور ملحدین کے انکار کی ترید ہے ، کیونکہ نظم کلام ، ہیبت ورعب (مذکورہ گروہوں کے نزدیک حدیث میں مذکور الفاظ کے مجازی معنی مراد ہیں ، یعنی جانور و جمادات حقیقت میں کلام نہیں کریں گے بلکہ مراد ہیبت و رعب ہے ، جب کہ اس حدیث میں اس کی واضح تردید ہے ۔)
پر دلالت نہیں   کر رہا ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا ملہ کا اظہار فرمایا ہے : ’’ و ہ جمادات و حیوانات کے بارے میں جو اس خالق رحمان نے مقدر فرمایا ہے ، اس میں سے جب چاہے پیدا فرما سکتا ہے اور جس چیز کو چاہے پیدا فرما سکتا ہے ، کیونکہ خلف وسلف میں سے جو عقائد کے ماہرین ہیں ان کی وہی رائے ہے جو کئی اَ حادیث     میں آئی ہے یعنی حجروشجرجیسے عمومی طور پراس ے فرمانبردار ہیں ایسے ہی نطق کلام میں بھی اس کی مشیت کے تابع ہیں ۔ چنانچہ ابن دحیہ کلبی (ابوخطاب عمر بن حسن علی جمیل کلبی دانی ، علامہ محدث کبار علما اور مشہور فضلاء میں شمار ہوتا ہے ۔ حدیث ، نحو، لغت تاریخ عرب اور عربی اشعار کے ماہر تھے ۔ متوفی 633 ھ) نے بھی روایت کیا ہے ۔ صحیحن میں باتفاق علما گائے اور بھیڑیے والی حدیث سے ثابت ہے کہ وہ دونوں قرب قیامت بات کریں گے ۔‘‘(سیراعلاء النبلاء: 22/ 389/394، شذرات الذہب : 5 /160، مزید دیکھیے التذکرۃ فی اوحوال الموتٰی)
یہ تمام اَ حادیث جو کہ علامتِ قیامت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں اگرچہ خوارقِ عادت کی قبیل سے ہیں لیکن ان پر ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے ، کیونکہ بطریق صحیح ثابت ہیں ۔
قطع رحمی ، بری ہمسائیگی اور فسادات کا عام ہو جانا
آپ کو جن علامتِ کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے ، ان میں قطع رحمی ، بری ہمسائیگی اور فواحش و فسادات کا عام ہونا بھی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص کی روایت اس بارے میں رہنمائی کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا :
’’ قیامت اس وقت ہی آئے گی جب فواحش ومنکرات اور قطع رحمی و بری ہمسائیگی عام ہو جائے گی ۔ ‘‘ (مسند احمد : 10 ۔26تا31 )
جس بات کی آپ نے اطلاع دی تھی وہ پوری ہوچکی چنانچہ ہم اپنی آنکھوں سے آج لوگوں کے درمیان فسادات ، قطع رحمی اور ہمسائیگی کا برا سلوک دیکھ رہے ہیں ۔ محبت کی جگہ بعض و نفرت لے لی ہے آج پڑوسی پڑوسی کو پہچانتا ہی نہیں ، عزیز زاقارب ایک دوسرے کی موت و حیات سے بے خبر ہیں ۔ ان کی باہمی رویوں پر ہم حسبناالله ونعم الوكيل ہی کہہ سکتےہیں ۔ جب کہ قرآن وسنت میں قطع رحمی پر بڑی تنبیہ کی گئی اور اسے جنت سے محرومی و دوری کا سبب قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن کریم میں ہے :
’’ اب کیا تم لوگوں سے اسکے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے ۔ ‘‘(سورہ محمد : 23،22 )
اور آپ ﷺ کا فرمان ہے : قطع رحمی کرنےوالا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ ‘‘(صحیح بخاری: 7217 )
انس بن مالک کی حدیث میں تو آپ ﷺ نے صلہ رحمی پر ابھارا ہے اور اسے طولِ عمر ، کثرتِ رزق اور اللہ کی رضا کا سبب کہا ہے ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا :
’’ جو رزق میں وسعت چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے ۔‘‘(صحیح بخاری : 5983)  
کتاب وسنت کے کئی دلائل تنگ دستوں سے احسان ، اکرام اور انہیں تکلیف نہ دینے پر دلالت کرتے ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے :
’’ او رتم سب اللہ کی بندگی کرو ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے ، پہلوکے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو۔‘‘(سورۃالنساء: 36 )
آپ ﷺ نے فر مایا :
’’ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہیں دیتا ۔‘‘(صحیح بخاری : 2018)
اور مزید فرمایا کہ ’’ پڑوسیوں کے بارے میں جبریل ﷩ نے مجھے اتنی بار وصیت کی کہ میں سمجھنے لگا شاید وہ وراثت میں شریک ہوگا ۔‘‘ (ایضا : 2014)
شریح روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :
’’ اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں ہو سکتا ، اللہ کی قسم وہ مؤمن نہین ہو سکتا ، اللہ کی قسم وہ مؤمن نہین ہو سکتا ۔ پوچھا گیا : کون یا رسول اللہ ﷺ ! جس کا پڑوسی اس کی اذیتوں سے محفوظ نہیں ہے ‘‘ (صحیح بخاری : 2016 )
10۔زلزلوں کی کثر ت ، خسف ، قذف اور مسخ کا ظاہر ہونا
قیامت کی نشانیوں اور علامت جو اَحادیث میں وارد ہوئی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ زلزلے کثرت سے آئیں گے ۔ خسف ( مراد زمین کا دھنسنا جیسا کہ قرآن میں ہے :﴿ فَخَسَفنا بِهِ وَبِدارِهِ الأَرضَ...﴿٨١﴾... سورة القصص، لسان العرب : 9۔67) ، قذف (تیر ، کنکر کلام اور ہر چیز کے پھینکنے کو قذف کہتے ہیں ۔ لسان العرب : 9۔277 )
مسخ (شکل و صورت کے پہلے سے زیادہ بدتر صورت میں تبدیل ہو جانے کو مسخ کہتے ہیں ۔ مسخ کے بارے میں اختلاف ہے ۔ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ابن العربی نے کہا ہے کہ یہاں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے جیسا کہ گذشتہ اُمتوں میں ہو چکا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اخلاقیات کی طرف اشارہ ہو۔   ابن حجر کا کہنا ہے کہ پہلا معنٰی سیاقِ کلام کے زیادہ مناسب ہے ۔ )کا ظہور ہوگا ۔
حافظ ابن حجر رقم طراز ہیں :
’’ شمالی ، مشرقی اور کئی مغربی ممالک میں بہت زلزلے آچکے ہیں لیکن اَ حادیث میں جو وارد ہوا ہے اس سے تویہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے مراد زلزلوں کی کثرت میں ہمیشگی اور پوری زمین کو شامل ہونا ہے۔ ‘‘ (فتح الباری: 13۔87)
مذکورہ علامات کے بارے میں درج ذیک اَحادیث وارد ہیں :
(1)حضرت ابوہریرہ ﷜ فرماتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم قبض کرلیا جائے اور زلزلوں کی کثرت ہو جائے ۔‘‘(جامع ترمذی: 1947)
(2)حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:
’’ اس امت کے آخر میں خسف ، قذف اور مسخ ہوگا ۔ فرماتی ہین : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے اور ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے ؟ فرمایا ہاں ! جب خباثت عام ہو جائیگی ۔‘‘
(3)عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ اس امت میں خسف، مسخ اور قذف ہے ۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کب ہو گا ۔ فرمایا : جب آلاتِ موسیقی اور مغنّیات کی کثرت کی کثرت ہو جاے گی ۔ مزید کہ شراب پینا عام ہو جائے گا ۔‘ (جامع ترمذی : 1947)
(4)ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب ن فے کو دولت امانت کو غنیمت ، زکاۃ کو قرض سمجھ لیا جائے گا ، جب دین کے علاوہ تعلیم حاصل کی جا گی ، جب آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری اور ماں کی نافرمانی کرے گا ، ، اپنے دوست سے قربت ، باپ سے دوری اختیار کرے گا ، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں گی ، جب قبیلہ کا سردار ان میں سے زیادہ فاسق شخص ہوگا ، ان میں سے ذلیل ترین قوم کا قائد ہوگا ، موسیقی ظاہر ہو جائیں گے ، جب شراب پی جائے گی ، جب اس امت کے بعد والے پہلوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس  وقت سرخ آندھی ، زلزلہ ، خسف ، مسخ اور قذف کا انتظار کرو۔‘‘(جامع ترمذی : 2211)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ بے شک خسف اور قذف زنا دقہ اہل قدر (’’ تقدیر کا انکار کرنے والے کہ انسان خود اپنے اقوال و افعال میں خود مختار ہے ۔‘‘) میں ہوگا ۔‘‘
چنانچہ نافع سے مروی ہے فرماتےہیں :
’’ اسی دوران ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا ، اس نے کہا : فلاں آپ پر سلام بھیجتا ہے ۔ وہ آدمی اہل شام سے تھا ۔ عبداللہ بن عمر ؓ نےکہا : مجھے پتہ چلا ہے اس نے ایک بدعت ایجاد کی ہے ، اگر اس طرح تُو اسے ملے تو میری طرف سے اسے سلام نہ بھیجنا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :
’’ بلاشبہ عنقریب اس امت میں مسخ ، قذف ہو گا اور وہ زنادقہ اور قدریہ میں ہو گا۔‘‘( مسند احمد : 9۔83)
یہ تمام سابقہ احادیث جن میں خسف ، مسخ اور قذف کا ذکر کیا گیا ہے اور نافرمانوں میں سازندوں والے شرابیوں کے لئے سخت و عید آئی ہے کہ اللہ تعالی ان کا ان سزاؤں کے ساتھ تعاقب کریں گے یا ان میں سے بعض کا تعاقب کریں گے۔ جیسے جیسے علامت قیامت کے ظاہر ہونے کا وقت قریب آتا جائے گا ان کے گناہ اور نافرمانیاں زیادہ ہوتی جائیں گی کیونکہ قیامت اللہ کی بدتر مخلوق پر قائم ہونی ہے ۔ واللہ اعلم