Muhaddas-352-Nov-2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قانون پر عمل کیوں نہیں ہوتا اور عدالتیں کیوں مذاق بن گیئں ...؟
راولپنڈی میں دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 2 نے ممتاز حسین قادری کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے 10 ماہ کے بعد یکم اکتوبر کو آخر کار مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا ۔ ماضی میں سر زمین پاکستان پر پہلے بھی توہین رسالت کے واقعات پیش آتے رہے اور شاتم رسول کو محبانِ رسول ﷺ کیفر کردار تک پہنچاتے رہے ۔ اس وقت نافذ العمل انگریزی قانون ناموس رسالت ؑ کے تحفظ سے قاصر تھا ۔ لیکن 80 کی دہائی کی 8 سالہ مسلسل قانونی جدوجہد کے بعد ، ملک بھر کے علماے کرام ، وفاقی شرعی عدالت اور پارلمینٹ سے ناموس ِ رسالت کے تحفظ کی خاطر ایک قانون تشکیل دیا گیا ۔ اس کی انتہائی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی ،تا ہم قانون مذکورہ کے باوجود ماضی کی طرح پھر محبانِ رسول ﷺ کو خود ہی اقدام کرنا پڑا اور انگریزی اَدوار کی طرح ایک با ر پھر ملکی قانون کی آڑ لے کر توہین رسالت کی ملزمہ کی معاونت اور تائید کرنے والے گوونر پنجاب کے قاتل کو دہشن گردی عدالت نے دوبارہ سزائے موت سنائی اور دو لاکھ روپے بطورِ جرمانہ عائد کر دیا ۔
جہاں تک مذکور کے درست یا غلط ہونے کا تعلق ہے تو عدالت کے جج پرویز علی شاہ نے خود اس کا تعین فیصلہ سنانے کے موقع پر ان الفاظ میں کر دیا ’’ شرع اسلامی کےروسے ممتاز قادری کااقدام درست ہے ، تا ہم میں پاکستانی قانون کی بنا پر اسے یہ سزا سناتا ہوں ‘‘ آئندہ دنوں میں علماے کرام اور محبانِ رسول ﷺ جج پرویز علی شاہ کے اس فیصلہ پر مکالمہ و مباحثہ کرتے رہیں گے اور یہ موضوع شرعی و قانونی حلقوں کا اہم عنوان بنا رہے گا ، اس بنا پر اس فیصلہ کے شرعی و قانونی تبصرہ سے قطع نظر ہم ذیل میں پاکستان کے عدالتی نظام کا جائزہ لیتے ہوئے ممتاز قادری اور مشہور مقدمہ ریمنڈڈیوس کے فیصلوں کا باہمی تقابل قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں جس سے ملکی قانون کی توقیر ، مروًجہ عدالتی نظام اور ہمارے جج حضرت کا رویہ ہمارے سامنے اظہر من الشمس ہو جائے گا ۔
4 جنوری 2011 ء کو ممتاز قادری نے گورنر پنجاب پر توہین رسالت کے ارتکاب ِ جرم کا دعویٰ کر کے اسے قتل کر دیا جبکہ اسی ماہ کے آخر میں 27 جنوری کوریمنڈڈیوس نے لاہور کی ایک مصروف شاہر اہ پر لاہور کے دومعصوم شہریوں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ بعد ازاں ریمنڈ کے بجائے آنے والی گاڑی کے ڈرائیور نے ایک معصوم شہری عبادالرحمٰن   کو بھی کچل کر ہلاک کر دیا ۔ ان دونوں کیسوں پر پاکستان کی عدالتوں کا رویہ کیا رہا ، آئیے پاکستان کی عدالتوں کے کردار کا ایک طائرانہ جائز لیتے ہیں :
1 )     ریمنڈڈ یوس کیس کا فیصلہ 2 ماہ سے بھی کم مدت میں یعنی 16 /مارچ 2011ء کو سامنے     آگیا جبکہ ممتاز قادری کے کیس کا فیصلہ ہونے کے انتظار میں 10 ماہ کا وقت صرف ہوا ، با جود اس کے ممتاز قادری کا کیس دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا ، جن میں بطور خاص تیز رفتار ی سے کاروائی مکمل ( پیڈی ٹرائل ) کی جاتی ہے ۔
2) ریمنڈڈیوس کا تین معصوم انسانوں کی قتل کر نے کا اقدام کھلم کھلا دہشت گردی ، رعونت اور تکبًر پر مبنی تھا ۔ اس بنا پر ڈیوس کے اقدام کے بعد ہر پاکستانی ، امریکی یا غیر ملکی شہریوں سے خوف محسوس کرنے لگا ۔ عوام الناس میں عدم تحفظ اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت و غصًہ کی شدید لہر پھیل گئی جس کا اظہار و قوعہ قتل اور اس کے بعد کے ایام میں احتجاجات کی صورت میں ہوا جبکہ ممتاز قادری کا اقدامِ قتل ایسے شخص کے خلاف تھا جس پر نہ صرف توہین رسالت کی معاونت کا الزام تھا بلکہ اس نے ناموس ِ رسالت کےتحفظ کی شرعی سزا کو کالا قانون ، قرار دیا تھا ۔ اپنی ذاتی زندگی میں وہ اسلام سے منحرف شخص تھا جس کی شہادت اس کے اہل خانہ نے دی ۔ اس بنا پر سلمان تاثیر کو شرعی طور پر کسی طرح کلیتا ً معصوم شخص نہیں کہا جا سکتا ۔ اس کے اسی متنازعہ کر دار کی بنا پر علمائے کرام نومبر 2010ء میں اس کے خارج اسلام ہونے کا فتویٰ بھی دے چکے تھے ۔ اس سے شدید نفرت کا اظہار اس کے جنازے کے موقع پر بھی سامنے آیا کہ لاہور ایسے     بھرے پر ے شہر میں کوئی نامور عالم دین تو کجا ، سرکاری امام بھی اس کا جنازہ پڑھانے کو تیار نظر نہ آئے ۔ جبکہ دوسری طرف ممتاز قادر ی کی حمایت میں جلوس نکالے گئے ، اور وکلا کی ایک بڑی تعداد نے اس کی مفت و کالت کا اعلان کیا ۔ عوامی رجحان کی انتہار دیکھئے کہ پنجاب کا چیف جسٹس خواجہ محمد شریف اپیل کے مراحل میں اس کی وکالت کا خواہش مند بنا ۔ اُ س کی سزا کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا۔
گویاریمنڈڈیوس کا اقدام قتل تین معصوم   انسانوں کے خلاف تھا اور ممتاز قادری کا اقدام قتل کم ازکم الفاظ میں ایک غیر معصوم شخص کے خلاف تھا ۔ اسی بنا   پر دونوں وقوعہ جات پر عوامی رد عمل یکسر مختلف رہا ۔ پہلے واقعہ سے قومی و ملی تشخص بری طرح پامال ہوا اور دوسرے واقعہ سے دینی غیرت و حمیت کو تائید و تقویت حاصل ہوئی ۔
3) ریمنڈ کا واقعہ سرا سر دہشت گردی کا واقعہ تھا لیکن ہماری پولیس نے پہلے پہل اس کےلئے فرضی مقدمات درج کر کے اس کو بچانے کی کوشش کی ، اس کی جارحیت کو دفاع کا رنگ دینا چاہا اور جب آخر کار یہ ممکن نہ رہا تو پھر ایک صریح دہشت گردانہ واقعہ کو دہشت گردی ایکٹ سے بچا کر جرائم کی عام دفعات اس پر لاگو کیں ۔ چنانچہ ریمنڈ ڈیوس پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں کوئی مقدمہ نہ چلایا گیا جبکہ ممتاز قاد ری کا مقدمہ جو ایک ملی حمیت و غیرت کا مقدمہ تھا ، اس کو دہشت گردی کی عدالت میں چلاتے ہوئے 10 ماہ اس کے فیصلے پر صرف کئے گئے ۔ گویا جس مقدمہ کو دہشت گردی کی عدالت میں چلنا چاہیے تھا ، اس کو عام عدالت میں چلایا گیا اور جس کو عام عدالت میں چلنا چاہے تھا ، اس پر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں ۔ دلچسپ امر یہ کہ دورانِ سماعت نہ تو دہشت گردی کی کوئی دفعات پیش کی گئی اور نہ ہی اس کے قانونی تقاضے پورے کئے گئے ۔ جرم کے میں یہ جانبدار ی علاقائی انتظا میہ کی شرکت و تائید کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی اور درانِ سماعت یہ رویہ عدالتی افسر کے رجحانات کا غماز ہے ۔
4) ممتاز قادری کا واقعہ خالصاً شرعی نوعیت کا مسئلہ ہے جس میں سیدالمرسلین ﷺ کی ناموس کو نشانہ بنانے کے رد عمل میں یہ اقدام کیا گیا ، ممتا ز قادری نے پہلے بیان میں ہی اپنے مقصود و مدعا تعین کر دیا تھا جو خالصا شرعی نوعیت کا مقدمہ تھا اس نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ :
’’گورنر پنجاب قانون توہین رسالت کو ’ کالا قانون ، قرار دیا تھا ، اس لیے گستاخِ رسول کی سزا موت ہے ۔ سلمان تاثیر گستاخِ رسول تھا ، اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزاپانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کو خود کو گستاخِ رسول ثابت کر دیا ، ا س پر میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ‘‘
جبکہ ریمنڈ کا واقعہ ملکی قانون کا معاملہ تھا ، جس میں ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے شہری امن و امان کو پامال کیا اور خوف و ہراس پیدا کیا گیا ۔ طرفہ تماشہ دیکھئے کہ ملکی قانون جہاں پامال ہوا ، اس قضیہ کا فیصلہ ہماری عدالتیں شرعی و اسلامی قانون قصاص و دیت کی آٗڑ لے کر کر تی رہیں اور حہاں شرعی مسئلہ زیر بحث تھا ، اس کا فیصلہ ہمارے جج حضرات ملکی قانون کی روشنی میں کرتے ہیں ۔ یہ بھی واضح ہوا کہ ہر دو مقام پر شرعیت کا فیصلہ اسلامیانِ پاکستان کی قومی و ملی رجحانات کی تائید کرتا جبکہ دونوں مقامات پر قانونی ہتھکنڈوں سے عوامی   جذبات کو پامال کیا گیا اور قانون کی پاسداری کو مجروح کیا گیا ۔
غرض یہ کہ جو فیصلہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہےتھا ) اسے ملکی قانون کی آڑ میں اور ملکی قانون پر ہونا چاہے تھا ، اسے شرعیت اسلامیہ کی آڑ میں فیصل کیا گیا ۔
5) ریمنڈ کیس میں 49 یوم کی قید کو سزائے قید میں شمار کرکے انوکھی مثال قائم کی گئی جبکہ ممتاز قادری کی 10 ماہ پر محیط پرُمشقت قید کو سرے سے نظر انداز ہی کر دیا گیا ۔ ریمنڈ کو محض 20 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا اور مقتولین نے آیا اُسے معاف کیا یا خون بہا لیا ؟ یہ تفصیل آج تک قوم سے مخفی ہے ۔ ہمارے میڈیا پر بھی افسوس کہ وہ ہر مسئلہ کی تو بال سے کھال اُتارتا ہے لیکن آج تک اس معاملہ کا کوئی سراغ لگانے سے قاصر ہے ۔ جبکہ ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور 2 لاکھ روپے   جرمانہ   کی سزا سنا ئی گئی ۔ ریمنڈ کی سزا شمار ہونے والی قید بھی بڑی پر سہولت اور با آسائش تھی ، عدالتی افسران سے پر وعونت گفتگو اس کا وطیرہ تھی جبکہ ممتاز قادری نے دورانِ قید کئی بار تشدد و امتیاز کی شکایت کی اور اس کی تمام تر کاروائی   مطالبے کے باوجود اڈیالہ جیل کے اندر ہی ہوتی رہی ۔
6) ایسا ہی ایک مشہور حالیہ مقدمہ عافیہ صدیقی کیس کا بھی ہے جس میں امریکی جج نے افغانستان میں ہونے والے ایک و قوعہ پر امریکی قانون کا اطلاق کیا ، ملزمہ پر ثبوت ِ جرم کے تقاضے پورے کئے بغیر شدید تعصب کا مظاہر ہ کرتے ہوئے   مختلف ممکنہ جرائم کی سزائیں علیحدہ علیحدہ شمار کر کے اسے 86 سال قید کی سزادی ۔ یاد رہے کہ اس مقدمہ کے فیصلے کے وقت سقوطِ خلافت ( 1925ء) کو بھی عین 86 سال پورے ہو چکے تھے ۔ جج نےیہ قرار دیا کہ عدالتوں کا کام امریکی قوم کا وقار بلند کرنا   اور امریکی عوام و افواج کا تحفظ   یقینی بناتے ہوئے ان کے خلاف ممکنہ جارحیت کو کم سے کم کرنا ہے ۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو عدالتوں کا مقصد فوت ہو جائے گا ۔
الغرض اسی سال کے ان دو مشہور کیسوں اور امریکی عدالت کے فیصلہ کے تناظر میں ہماری انتظامیہ اور عدالتوں کے رویے کا طائرانہ جائز لیا جائے تو دو ہرے معیار اور امتیازی وریے ہر ہر مرحلے پر آشکارا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں اور قانون کا احترام   ختم ہو چکا ہے ۔ وہ قانون جو غریب و مجبور کے لئے لو ہے کا شکنجہ اور امیرو مقتدر کے لئے موم کی ناک ہو تو کوئی بھی اس پر خلوص ِ دل سے عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پھر نا معلوم کس بنا پر ماورائے عدالت قتل     اور قانون کی بالا دستی کا بلند آہنگ ڈھنڈور اپیٹا جاتا ہے ۔
7) آج ملک میں امن و امان اور بدامنی و بے چینی کی وجہ یہی عدالتی نظام ہے جس نے پورے ملک پر ہلاکت و بر بریت اور دھوکہ   و فراڈ مسلط ہو ہو جانے کے باوجود آج تک کسی مجرم کو قرارِ واقعی سزا نہیں دی ۔ اگر مالی معاملات میں عدالتیں انتظامیہ کے ہاتھوں مجبور ہیں تو کم ازکم دہشت گردی کے کسی مجرم کو تو سزا سنا کر عبرت کا نشان بنایا جا سکتا ہے لیکن ہمارا انگریزی عدالتی نظام اس قوت سے قاصر اور محروم ہے ۔ قانونی گرفت او رعدل و انصاف کے اس بوسیدہ نظام کی از سر نو تطہیر کی ضرورت ہے، وگرنہ مجرم یونہی دندناتے رہیں گے ، طاقتور  قانون سے کھیلیں اور شریف و کمزور لوگ قانون کا نشانہ بنیں گے !!
آئیے دربار نبوی ؑ کے ایک عدالتی فیصلے کا مشاہد ہ کریں اور اسلام کا مثالی عدل و انصاف ملا حظہ کریں ۔ سنن ابوداود میں سیدنا معمر ﷜ سے یہ حدیث مبارکہ مروی ہے:
زنى رجل من اليهود وامرأة فقال بعضهم لبعض اذهبوا بنا إلى هذا النبي فإنه نبي بعث بالتخفيف فإن أفتانا بفتيا دون الرجم قبلناها واحتججنا بها عند الله قلنا فتيا نبي من أنبيائك قال فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في المسجد في أصحابه فقالوا يا أبا القاسم ما ترى في رجل وامرأة زنيا فلم يكلمهم كلمة حتى أتى بيت مدراسهم فقام على الباب فقال أنشدكم بالله الذي أنزل التوراة على موسى ما تجدون في التوراة على من زنى إذا أحصن قالوا يحمم ويجبه ويجلد والتجبيه أن يحمل الزانيان على حمار وتقابل أقفيتهما ويطاف بهما قال وسكت شاب منهم فلما رآه النبي صلى الله عليه وسلم سكت ألظ به النشدة فقال اللهم إذ نشدتنا فإنا نجد في التوراة الرجم فقال النبي صلى الله عليه وسلم فما أول ما ارتخصتم أمر الله قال زنى ذو قرابة من ملك من ملوكنا فأخر عنه الرجم ثم ز نى رجل في أسرة من الناس فأراد رجمه فحال قومه دونه وقالوا لا يرجم صاحبنا حتى تجيء بصاحبك فترجمه فاصطلحوا على هذه العقوبة بينهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم فإني أحكم بما في التوراة فأمر بهما فرجما قال الزهري فبلغنا أن هذه الآية نزلت فيهم (إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا) كان النبي صلى الله عليه وسلم منهم.(سنن ابوداود: كتاب الحدود)
’’ یہودیوں کے ایک مرد عورت نے زنا کا ارتکاب کر لیا تو وہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ ہم اس نبی ﷺ کے پاس لئے چلتے ہیں جو آسانیان دے کر بھیجا گیا ہے۔ اگر یہ نبی ہمیں سنگساری کے علاوہ کوئی فیصلہ سنائے گا تو ہم اسے مان لیں گے اور اللہ کے ہاں اس کے فیصلے سے حجت پکڑیں گے کہ یہ تیرے ایک نبی کا فیصلہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ، جبکہ آپ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے اور کہنے لگے : اے ابوالقاسم ﷺ زانی مرد و عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم نے ان سے ایک لفظ بھی کلام نہ کیا حتیٰ کہ یہودیوں کی مذہبی درسگاہ میں جا پہنچے اور اس کے دروازے پر کھڑے ہو   کر آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اس اللہ جل و شانہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے توراۃ کو موسیٰ پر نازل کیا کہ شادی شدہ زانی کو توراۃ میں کیا سزا لکھی ہوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کا چہرہ سیاہ کر کے زانی مرد و عورت کو گدھے پر اس طرح بٹھایا جائے کہ دونوں کی گدیاں (کمریں ) ایک دوسرے سے ملی   ہوئی ہوں ۔ پھر انہیں پھرایا جائے اور ان کو کوڑے بھی لگائے جائیں ۔ راوی کا بیان ہے کہ اس درسگاہ کا ایک نوجوان خاموش کھڑا تھا ۔
جب نبی کریم ﷺ نے اسے خاموش کھڑے دیکھا تو اس کو زیادہ شدت کے ساتھ اللہ کا واسطہ دیا ۔ وہ بول اٹھا کہ اگر آپ مجھے اللہ کا واسطہ ہی دیتے ہیں تو پھر توراۃ میں تو سنگساری کی سزا ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ پہلے پہل کیا ہوا تھا جو تم نے اللہ کے فیصلے کو بدل ڈالا ۔
تو وہ نوجوان گوا ہوا کہ ایک بار کسی یہودی بادشاہ کے قریبی رشتہ دار نے زنا کا ارتکاب کر لیا تو بادشاہ نے اس پر سنگساری کی سزا نافذ نہ کی ۔ پھر جب عوام الناس میں سے کسی نے زنا کیا تو بادشاہ اس کو سنگسار کرنے لگا ، تب اس شخص کا قبیلہ اس سزامیں رکاوٹ بن گیا اور کہنے لگا کہ ہمارا بندہ بھی اس وقت سنگسار نہ ہو گا جب تک بادشاہ کا قریبی سنگسار نہ کیا   جائے ۔ غرض پھر سب نے اُس نئی سزا پر اتفاق کیا لیا ۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا میں تمہارا فیصلہ توراۃ کے مطابق کروں گا ، سو آپ نے مرد و زَ ن کو سنگسار کروا دیا ۔ امام زہری کہتے ہیں کہ ہمیں پتا چلا کہ قرآنِ کریم کی یہ آیتِ مبارکہ اسی واقعے پر نازل ہوئی : اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ ہم نے توراۃ کو نازل کیا جس میں ہدایت اور روشنی ہے ۔ اس توراۃ کے مطابق اللہ کے مطیع و فرما نبردار نبی فیصلے کرتے ہیں ۔‘‘ اور ہمارے نبی ﷺ بھی ان انبیا میں شامل ہیں ۔‘‘
اس حدیث مبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ سابقہ قوموں کی ہلاکت او رزوال کا سبب بھی امیرو غریب میں امتیاز کرنا اور قانون کے دوہرے معیار قائم کرنا تھا ۔ آج ہمارے ملک میں دین کے معاملات پوری سختی کے ساتھ اور دنیوی مفادات قانون سے مذاق کر کے فیصل کئے جاتے ہیں ۔ آج کے اس جمہوری دور سے بہتر تو یہودی بادشاہوں کا دور تھا کہ اس میں عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو برداشت کرنے کی بجائے غیر منصفانہ قانون کو بدلنے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔ شرم کا مقام ہے کہ آج عوامی حاکمیت کے جمہور ی نعرے نے عوام سے غیر منصفانہ قانون کی تبدیلی کو قوت بھی چھین لی ہے اور ہم اس ظالمانہ نظام کو گلے سے لگائے بیٹھے اور اس کی مالا جپتے رہتے ہیں ۔ جب معاشرے میں دوہرے معیارات کا خاتمہ نہ ہو گا ، اس وقت تک قانون کی عما داری اور اس کی توقیر کی توقع کرنا فضول ہے !! (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی )