سوال:مسماة۔۔۔۔۔ صاحبہ کا نکاح بطریق شرعی محمدی میاں۔۔۔۔۔ صاحب سے مورخہ 81-10-24کو انجام پذیر ہوا۔ حق مہر مبلغ پچاس ہزار روپے مجمل مقرر ہوا مگر نکاح کے بعد اس کی ادائیگی نہ ہوئی۔ ان دونوں میں سے ایک بچی موجود ہے۔

میاں بیوی میں معمولی اختلاف جو کہ بنیادی طور پر مزاج کی عدمِ یگانگت تھی، عدالتی تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا۔۔۔ صاحبہ نے جون 1984ء میں تین دعوے جات (1)دعویٰ برائے طلاق (2) دعویٰ برائے وصولی حق مہر (3) دعویٰ برائے وصولی خرچہ خود و نابالغ دختر برخلاف میاں۔۔۔ صاحب عدالت میں داخل کئے۔ میاں۔۔۔ صاحب نے بھی جوابا ایک دعویٰ برائے اعادہ حقوق زن آشوئی بخلاف۔۔۔ صاحبہ دائر کیا۔

مقدمات میں کچھ پیش رفت کے بعد فریقین نے آپس میں خلع کی بنیاد پر علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور اس سلسلے میں ایک یادداشت دونوں نے تحریر کی۔

۔۔۔۔صاحبہ اپنے حق مہر مبلغ پچاس ہزار روپے سے دست بردار ہو گئی اور بچی کو بھی اسی کی تولیت میں دے دیا گیا جس کے اخراجات کی کفالت کے لئے ابتدائی طور پر مبلغ-/400 روپے ماہانہ۔۔۔ صاحب نے۔۔۔ صاحبہ کو ادا کرنے تھے۔ بچی کے سکول میں داخلہ کے بعد اس میں ایزادی فریقین کے مشورہ سے طے پانی تھی۔

ان دونوں امور (حق مہر سے دست برداری+تولیتِ دختر) کے عوض۔۔۔ صاحب نے۔۔۔ صاحبہ کو خلع طلاق دینی تھی۔ علاقہ ازیں فریقین نے آپس میں جہیزی اشیاء کا تبادلہ بھی کر لیا۔

مذکورہ راضی نامہ کے بعد میاں۔۔۔ صاحب نے وکلائے فریقین و۔۔۔صاحبہ کی موجودگی میں عدالت کے روبرو۔۔۔ صاحبہ کو تین دفعہ طلاق دی جس کے بعد سے فریقین علیحدہ رہ رہے ہیں جبکہ دونوں میں سے کسی نے عقد ثانی نہیں کیا۔ بچی کی تولیت ۔۔۔ صاحبہ کے پاس ہے۔

اس خلع (طلاق) سے قبل فریقین میں کوئی ایسا واقعہ طلاق کا وقوع پذیر نہیں ہوا۔

میاں۔۔۔صاحب کے مطابق فریقین میں علیحدگی کا فیصلہ خلع کی بنیاد پر ہوا تھا مگر شاید وکلائے فریقین نے علیحدگی کے لئے طلاق کا دیا جانا بھی ضروری سمجھا اور اس لئے ان کے مشورہ پر انہوں نے تین دفعہ طلاق کا اعلان کیا۔

استفتاء

(1)کیا خلع کی بنیاد پر علیحدگی کے لئے طلاق کا دیا جانا ضروری ہے؟

(2)صحیح اسلامی قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے مندرجہ بالا حالات میں طلاق کا کیا اثر ہے؟

(3)کیا شریعتِ مطہرہ کے مطابق میاں۔۔۔صاحب۔۔۔صاحبہ سے درمیانی عقد (جسے عرف عام میں حلالہ کہتے ہیں) کے بغیر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
احقر العباد
ملک محمد نواز ایڈووکیٹ

جواب

مذکورہ بالا تفصیلاتِ واقعہ کی روشنی میں تین نکات کے بارے میں شرعی رائے پوچھی گئی ہے۔ جس میں پہلا سوال یہ ہے کہ (کیا خلع کی بنیاد پر علحدگی کے لئے طلاق کا دیا جانا ضروری ہے؟) اور تیسرا سوال یہ ہے "کیا شریعتِ مطہرہ کے مطابق میاں۔۔۔صاحب۔۔۔صاحبہ سے درمیانی عقد (جسے عرف عام میں حلالہ کہتے ہیں) کے بغیر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟" جن کا جواب یہ ہے کہ خلع کے بارے میں فقہاء اس امر پر متفق ہیں کہ صرف خلع سے ہی میاں بیوی کی جدائی ہو جاتی ہے لہذا خلع کے بعد کسی نئی طلاق کی ضرورت نہیں۔ مذکورہ واقعہ میں میاں بیوی کے درمیان خلع کی صورت میں جدائی پر راضی نامہ کے باوجود خاوند نے بیوی کو تین دفعہ طلاق بھی دے دی حالانکہ اس طلاق کی کوئی ضرورت تھی اور نہ شرعی اور قانونی الگ تاثیر۔ لہذا یہ طلاق لغو طلاق ہے، کیونکہ مقصد حاصل ہو جانے کے بعد کسی چیز کو مستقل طور پر وارد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے لا طلاق قبل نكاح۔۔۔الحدیث۔۔۔ ابن ماجہ ج1 ص660 یعنی نکاح کی غیر موجودگی میں طلاق نہیں ہوتی، یہ حدیث جو اسی طرح کی دیگر احادیث اور اقوال صحابہ کے مجموعہ سے معتبر ہو کر طلاق کی ضرورت کی بنیاد پر روشنی ڈالتی ہے، کا مضمون بھی اسی موقف کی تائید کرتا ہے کہ جب خلع ہی سے جدائی ہو گئی تو دوبارہ نکاح سے پہلے طلاق کی کوئی حیثیت نہ ہو گی۔

البتہ لفظ طلاق کو اگر خلع کی ہی تاکید قرار دیا جائے پھر بھی خلع کے احکام پر مزید کوئی اضافہ نہ ہو گا، خلع زیادہ سے زیادہ ایک طلاق بائن ہے۔ کیونکہ تاکید موکد (اصل) پر کوئی اضافہ نہیں ہوا کرتی، علاوہ ازیں تین طلاق کا مقصد بھی طلاق بائن ہی ہوتا ہے جو خلع کی صورت میں حاصل ہو چکا ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں تین طلاق وہ صورت نہیں جو عام حالات میں پیش آتی ہے۔ باوجودیکہ قرآن و سنت اور معروف فقہاء کی یہ معیاری تحقیق ہے کہ ایک ہی مرتبہ کی تین طلاق ایک طلاق ہی شمار ہوں گی۔ قرآن کریم میں ہے: (ٱلطَّلَـٰقُ مَرَّ‌تَانِ) (بقرہ، آیت 229) طلاق (رجعی) کے دو موقعے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنھم کا طرز عمل صحیح مسلم جلد 2 ص1099 میں حبر الامة حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"كان الطلاق علي عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم وأبي بكر و سنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة، ولو أمضيناه عليهم؟ فأمضاه عليهم"

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت اور دو سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اکٹھی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام رعایت (متعدد مواقع) کو یکجا کرنے کے بالمقابل ان لوگوں کے غلط طرز عمل (کی سزا کے طور) پر اسے طلاق بائن قرار دے دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ فقہائے امت کا تین طلایں اکٹھی دینے کی حرمت پر اجماع ہے۔ اگرچہ اس غلط کام کے موثر ہونے کے بارے میں علماء اختلاف کرتے ہیں کہ ایک طلاق کے حق سے تجاوز کی صورت میں طلاق واقع ہو گی یا نہیں۔ اگر واقع ہو گی تو کتنی؟ شیعہ ایسی صورت میں کسی بھی طلاق کے قائل نہیں جبکہ اہل سنت میں ایک طلاق واقع ہونے یا تین طلاق واقع ہونے پر اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ اور حافظ ابن قیم رحمة اللہ علیہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شریعت کی تکمیل کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شریعت پر پختگی کے معروف طرز عمل اور ان کے شدید متابعتِ سنت کے جذبہ کے پیش نظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس سختی کو صرف انتظامی اور انسدادی کاروائی قرار دیا ہے۔ یعنی یہ امر انتظام و انصرام اور ملکی سیاست کی قبیل سے ہے، اسے شریعت پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اضافہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی خلفاء راشدین رضی اللہ عنھم ایسی جرات کر سکتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ زیر بحث مقدمہ میں خلع اگر طلاق بھی شمار ہو تو صرف ایک ہی موقع طلاق استعمال ہوا ہے۔باقی رہا درمیانی نکاح (حلالہ) اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہی بدکاری (زنا) قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں حلالہ کرنے والوں کو سنگسار کر دوں گا۔ (حلالہ کا مسئلہ اس وقت یہاں زیر بحث نہیں۔)

اندریں حالات قرآن و سن اور تعبیر فقہاء کی روشنی میں مذکورہ بالا دونوں سوالات کا جواب یہی ہے کہ میاں۔۔۔ اور ۔۔۔ کے نکاح جدید کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور جس چیز کی شرع نے اجازت دی ہو اور اس کے بارے میں کسی حاکم کی نئی اجازت کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

جہاں تک دوسرے نکتہ (صحیح اسلامی قانون سے ناواقفیت کی وجہ سے مندرجہ بالا حالات پر طلاق کا کیا اثر ہے؟) کا تعلق ہے اس کا جواب درج ذیل ہے:

اصول فقہ و اجتہاد میں نا واقفیت اور خطا کی بنا پر قاعدہ یہ ہے کہ ناواقفیت یا خطا ثابت ہو جائے تو پھر عام حالات میں کسی اقدام کی تاثیر معتبر نہیں ہوا کرتی۔ اگرچہ اجتہادی اصولوں کی بحث میں اہل علم نے دارالالسلام اور دارالحرب وغیرہ کی تقسیم یا حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بعض امتیازات کی بحثیں درج کی ہیں لیکن ان بحثوں کا بنیادی تعلق اقدام کرنے والے کے علم یا اقدام کی سنجیدگی سے ہے۔ مذکورہ صورت حال اس سلسلئ میں بالکل واضح ہے کہ خلع کی صورت میں جدائی ہو جانے کے بعد طلاق کا اقدام نا واقفیت ہے اور خطا بھی۔ دونوں صورتوں میں ایسا اقدام موثر نہیں ہوتا لہذا اس سلسلے میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی واضح ہے:

إن الله تجاوز عن أمتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه

اللہ تعالیٰ نے میری امت میں (علمی ناواقفیت یا) بے ارادہ غلطی یا بھول چوک اور زبردستی کے معاملات معتبر نہیں گردانے۔

لہذا عدالت کے روبرو خلع کے بعد خاوند کی طرف سے طلاق کا اقدام اسی قبیل سے ہے جس کی کوئی نئی تاثیر نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا مقدمہ میں خلع کی صورت میں جدائی اختیار کرنے والے میاں بیوی کے درمیان نئے نکاح کے ذریعہ رشتہ ازدواج میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ معروف طریقہ کے مطابق نکاح کے شرعی آداب پورے کر کے دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو سکتے ہیں۔

هذا ما عندي والله أعلم وعلمه أتم

حوالہ جات

1. ابن ماجہ ج1 ص659