میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما لَهُم بِهِ مِن عِلمٍ ۖ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لا يُغنى مِنَ الحَقِّ شَيـًٔا ﴿٢٨﴾ فَأَعرِ‌ض عَن مَن تَوَلّىٰ عَن ذِكرِ‌نا وَلَم يُرِ‌د إِلَّا الحَيو‌ٰةَ الدُّنيا ﴿٢٩﴾ ذ‌ٰلِكَ مَبلَغُهُم مِنَ العِلمِ ۚ إِنَّ رَ‌بَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِمَنِ اهتَدىٰ ﴿٣٠﴾... سورةالنجم

"حالانکہ ان کو اس (حقیقت) کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف "ظن" پر چلتے ہیں اور "ظن" یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو، اس سے (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) تم بھی منہ پھیر لو۔ ان کے علم کی یہی انتہا ہے۔ تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اُس کے رستے سے بٹھک گیا۔ اور اُس سے بھی خوب واقف ہے جو (سیدھے) رستے پر چلا"

خلفائے بنو امیہ کے آخری دور میں جب عجمی فلسفہ کو عرب میں مقبولیت حاصل ہوئی تو مسلمانوں میں بھی کلامی بحثیں شروع ہو گئیں اور یونانی فلسفہ کے زیر اثر کچھ لوگوں نے مذہبی عقائد پر فلسفیانہ انداز میں غور و فکر شروع کر دیا، وہ صرف ان باتوں کو ماننے کے لئے تیار تھے جن کو اُن کی عقل تسلیم کرتی تھی۔

ایسے ہی لوگوں میں سے ایک شخص "واصل بن عطاء" تھا جو حضرت خواجہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ کا شاگرد تھا اور حضرت خواجہ رحمة اللہ علیہ صاحب سے دورانِ حصول تعلیم کسی مسئلہ پر ان سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے حلقہ درس سے الگ ہو گیا۔ اس نے مسجد کے ایک کونے میں اپنے ہم خیال لوگوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا۔ اس پر حضرت امام رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: "قد اعتزل عنا" کہ یقینا وہ ہم سے الگ ہو گیا۔ یہی شخص "واصل بن عطاء" فتنہ اعتزال کا بانیِ اول تھا اور اس کے پیروکاروں کو معتزلہ (یعنی اہل سنت الجماعة سے الگ ہونے والے) کہا جاتا ہے۔

معتزلہ کے عقائد

1۔ عقل کی برتری ، معتزلہ صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے کے لیے صرف عقلی استدلال پر انحصار کے قائل تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مذہب کی ہر چیز کو عقل پر پرکھنا چاہیے (نہ کہ نقل پر) اور جو بات بظاہر عقل کی زد میں نہ آ رہی ہو تو اُس کی عقل کے ذریعے قابل فہم توضیح کی جائے۔ چنانچہ وہ جسمانی معراج کے سِرے سے منکر تھے۔ ان کے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات صرف تصور میں کی تھی۔

2۔ خدا کے متعلق نظریہ۔۔۔ معتزلہ کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا کا کوئی جسمانی وجود نہیں ہے۔ اس لئے اس کو مادی آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ نیز وہ خدا کی ذات کو اس کی صفات سے کوئی الگ چیز نہیں مانتے تھے (تسہیل تاریخ اسلام از پروفیسر ایچ-آر-شیخ، صفحہ 401)

3۔ معتزلہ کے اصولِ خمسہ۔۔۔ "فتنہ اعتزال" کے اصل محرک عمرو بن عبید، واصل بن عطاء، غزالی اور ان کے متبعین ہیں جس کا ظہور حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ کی موت کے فورا بعد دوسری صدی ہجری کے اوائل میں ہی ہو گیا تھا۔ قتادہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ کا بھی یہی خیال ہے کہ یہ لوگ الگ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ واصل بن عطاء نے چند اصول وضع کئے تو ان کی تائید عمرو بن عبدی (شاگرد حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ) نے کی۔ ہارون الرشید کے عہد میں ابو الہُندیل نے دو کتابیں لکھیں اور ان کے مذہب کو خوب اُچھالا۔ اُن کے مذہب کا مدار پانچ معروف اصولوں پر رکھا۔ وہ پانچ اصول یہ ہیں:

(1) عدل، (2)توحید، (3) وعید کا نفاذ، (4) منزلة بين المنزلتين (یعنی دو مرتبوں کے درمیان کا مرتبہ) اور (5) امر بالمعروف والنهي عن المنكر (یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا)۔۔۔۔ اِن پانچ اصولوں کی وضاحت بالا اختصار پیش خدمت ہے:

حقیقت میں "معتزلہ" نے ان اصولوں کے پس پردہ حق اور باطل کو خلط ملط کر کے رکھ دیا ہے اور اس کا اصل سبب، ان کا اللہ تعالیٰ کے افعال کو بندوں پر قیاس کرنا ہے۔ وہ بندہ کے ہر اچھے یا قبیح عمل کو منجانب اللہ گردانتے ہیں۔اور اسی غلط قیاس کی بنا پر ہی وہ حقیقی خالق کائنات کے بارے میں ایسے الفاظ ادا کرتے ہیں جو اس رحیم و کریم اور علیم و قدیر ذات کی جلالت و کبریائی اور شان کے منافی ہیں مثلا یہ کہ يجب عليه يفعل كذا (کہ اس پر ایسا کرنا واجب ہے) والا يجوز له ان يفعل كذا (کہ اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے) واضح رہے کہ ذات باری تعالیٰ کو ان کا یوں مخلوق پر قیاس ہر لحاظ سے باطل اور فاسد ہے۔

مثال کے طور پر اولادِ آدم علیہ السلام میں سے اگر کوئی آقا اپنے نوکر کو اپنی لونڈی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے اور اس کے باوجود وہ اس کو منع نہ کرے، تو دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہو گی یا تو وہ آقا اپنے نوکر کی اس قبیح حرکت کو اچھا خیال کرتا ہے یا وہ ان کو اس بری حرکت سے روکنے سے عاجز ہے۔ تیسری اور کوئی صورت وہاں نہیں ہو سکتی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ آقائے کُل ہونے کے باوجود ان تمام افعال کو برداشت کرتا ہے اور اس پر غیرت کھاتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں اس کو کوئی بھی صورت لائق نہیں۔ قرآن مجید میں حق تعالیٰ جل شانہ نے واضح اور دو ٹوک انداز سے اپنے اور اپنی مخلوق کے مابین فرق کو بیان فرمادیا ہے کہ:

﴿لَيسَ كَمِثلِهِ شَىءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ‌ ﴿١١﴾... سورة الشورىٰ

"اس اللہ جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا (اور) سنتا ہے۔"

اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد یوں ہوا:

﴿وَهُوَ الَّذى يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَهُوَ أَهوَنُ عَلَيهِ ۚ وَلَهُ المَثَلُ الأَعلىٰ فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ ﴿٢٧﴾...سورةالروم

"اور وہی (ذات) تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے ، پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اُسے بہت آسان ہے اور آسمانوں و زمین میں اُس کی شان بہت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے"

ان آیاتِ قرانیہ کو پڑھ اور سُن لینے کے بعد یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ معتزلہ کس بنیاد کس قدر فاسد اور باطل ہے اور خالق اور مخلوق کے افعال میں کیا نسبت ہے؟۔۔۔ ذیل میں ان کے اصولِ خمسہ کی تشریح پیش کی جاتی ہے:

اصلِ اول۔۔۔۔ عدل

سے معتزلہ کا مقصود صرف اور صرف "نفی قدر" (یعنی اللہ کی تقدیر کا انکار کرنا ) ہے اور وہ اسی عقیدہ کے بل بوتے پر ببانگِ دھل یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ نہ "شر" کو پیدا کرتا ہے اور نہ ہی اسے پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ بقول ان کے اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں کہ وہ "شر" کا خود خالق ہے اور پھر اس "شر" میں واقع ہونے والے اپنے بندں کو عذاب بھی دے تو یہ عدل کے سراسر منافی کام ہے بلکہ یہ ظلم سمجھا جائے گا اور "اللہ تعالیٰ" تو سب سے بڑھ کر "عادل" ہیں۔ لہذا وہ شر کا خالق نہیں کیونکہ ذاتِ باری تعالیٰ سے ظلم کا صدور محال ہے۔

لیکن ان کے اس فاسد اصول پر بہت بڑا فساد جنم لیتا ہے اور وہ حقیقی پروردگار اور مختار کُل ذات اپنی بادشاہی اور الوہیت میں یکتا اور کائنات کی ہر چیز پر قادر مطلق ہونے کے باوجود ایسے کام بھی کر گزرتا ہے جو وہ چاہتا نہیں ہوتا، اور بسا اوقات بعض کام کرنا چاہتا ہے اور وہ کر نہیں سکتا، دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات صفت "عجز" (لاچاری و بے بسی) سے متصف ہوتی ہے جو کہ ہر اعتبار سے باطل ، لغو اور صریح آیات قرآنیہ کے خلاف ہے۔ (شرح العقیدہ الطحاویہ:589)

غرضیکہ "معتزلہ" قدر کے مسئلہ میں خاصے گمراہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے انسان کو اپنے افعال و اعمال میں اپنے تئیں مختار کل بنا دیا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ باور کیا گویا کہ ایک تماشائی کی حیثیت سے یہ سب کچھ، خیر و شر دیکھ رہا ہے۔ ایسے عقائد کا باطل ہونا بالکل واضح ہے۔

جہاں تک انسان کے اپنے ذاتی عمل میں خود مختار ہونے کی بات ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جزا و سزا کا معاملہ اس وقت تک ہوتا ہے جب تک انسان کسی عمل کو بجا لانے میں دسترس اور طاقت رکھتا ہے اور جہاں سے کسی عمل میں اضطرار کی کیفیت شروع ہو جاتی ہے تو وہیں سے انسان "مرفوع القلم" کے حکم میں آجاتا ہے، نیز جزا و سزا کا قانون تو قادر مطلق نے رکھا ہی ایک مکلف شخص پر ہے نہ کہ "مضطر" اور مکلف شخص کے بارے میں بھی فرمانِ ایزدی ہے:

﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها...﴿٢٨٦﴾... سورة البقرة

"خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا"

ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأَن لَيسَ لِلإِنسـٰنِ إِلّا ما سَعىٰ ﴿٣٩﴾ وَأَنَّ سَعيَهُ سَوفَ يُر‌ىٰ ﴿٤٠﴾ ثُمَّ يُجزىٰهُ الجَزاءَ الأَوفىٰ ﴿٤١﴾... سورة النجم

" یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اس کو اس کا پورا پورا بدل دیا جائے"

اسی آیتِ کریمہ سے یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے کہ حقیقی عدل کرنے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا اور دوسرا یہ کہ حقیقی عدل کا قیام اور اس کا اظہار، ایمان بالاخرت کو متضمن ہے، کیونکہ اگر حقیقی جزا و سزا یا مکافاة عمل "عدل" کی صورت میں اس دنیا میں ملنے شروع ہو جائیں تو دنیا میں نوع انسانہ تو درکنار ہر جاندار چیز کا ہی بالکل خاتمہ ہو جائے۔فرمانِ باری ہے:

﴿وَلَو يُؤاخِذُ اللَّهُ النّاسَ بِما كَسَبوا ما تَرَ‌كَ عَلىٰ ظَهرِ‌ها مِن دابَّةٍ وَلـٰكِن يُؤَخِّرُ‌هُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ...﴿٤٥﴾... سورة فاطر

"اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگے، تو روئے زمین پر ایک (بھی) چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑے لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دئیے جاتا ہے"

جبریہ کا نظریہ

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ "معتزلہ" کا قدر یعنی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بارے میں عقیدہ جبریہ فرقہ کے بالکل برعکس ہے اگر "معتزلہ" نے نفیِ قدر میں غلو کیا ہے تو"جبریہ" (جس کا اصل زعیم و امام جھم بن صفوان سمرقندی ہے) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے اثبات میں غُلُو کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے" مخلوق کے جملہ اعمال و افعال کی تدبیر خود الہِٰ کائنات کرتا ہے اور اس سلسلے میں انسان کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا، بالکل ایسے ہی جیسے درختوں کا لہرانا، پتوں کا حرکت کتنا اور نبضوں کا چلنا وغیرہ" اور کہتے ہیں کہ اعمال کی نسبت انسان کی طرف مجازی ہے اور اس دعویٰ میں سب سے بڑی دلیل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے لیتے ہیں:

﴿وَما رَ‌مَيتَ إِذ رَ‌مَيتَ وَلـٰكِنَّ اللَّهَ رَ‌مىٰ...﴿١٧﴾... سورةالانفال

"اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ خدا نے پھینکی تھیں"

آیتِ ہذا سے "جبریہ" کا استدلال بالکل صحیح نہیں۔۔۔ چونکہ کسی کام کے صدور کے کئی اسباب ہوتے ہیں لہذا مجازا کسی ایک کی طرف نسبت کرنا صحیح ہو گا جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے۔ لیکن حقیقی نسبت مان لینے سے بہت بڑا فساد جنم لیتا ہے، مثلا اگر کنکری پھینکنے کی بجائے کسی اور کام کا ذکر کیا جائے اور کہا جائے:

وما صليت اذ صليت ولكن الله صلي' وما زنيت از ذنيت.... وما سرقت اذ سرقت...

"کہ جب تو نے نماز پڑھی تو تم نے نہیں پڑھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھی، اس طرح جب تو نے برائی کا ارتکاب کیا یا چوری کی تو حقیقت میں تم نے نہیں کی بلکہ ۔۔۔ (العیاذ باللہ)

تو اس عقیدے کا فساد و بطلان ظاہر اور واضح ہے۔ (شرح عقیدہ طحاویہ:ص495)

تقدیر کے بارے میں صحیح نظریہ

اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بارے میں صحیح عقیدہ جبریہ اور قدریہ کے مابین ہے کہ افعال و اعمال اللہ تعالیٰ کی تخلیق لیکن اس کے بندوں کا کسب (یعنی کمائی) ہیں۔ حتیٰ کہ شیطان ابلیسِ لعین جو کہ منبعِ شر ہے اس کو بھی اور اس کے جملہ اعمال کو افعال کو بھی خود خالقِ حقیقی نے بھی پیدا کیا ہے اور اس حقیقت پر اس کا اپنا بیان شاہد ہے:

﴿خَلَقتَنى مِن نارٍ‌ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ ﴿١٢﴾... سورةالاعراف

"کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس (آدم) کو مٹی سے پیدا کیا ہے"

کیا یہ بات سُن اور سمجھ لینے کے بعد۔۔۔ کہ ہر چیز کا خالق خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس نے ہر چیز کو ایک اندازے پر رکھا ہے۔

﴿وَخَلَقَ كُلَّ شَىءٍ فَقَدَّرَ‌هُ تَقديرً‌ا ﴿٢﴾... سورة الفرقان

نیز ارشاد ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ﴿٢٠﴾... سورةالبقرة" کہ "وہ ذاتِ الہی ہر چیز پر قادر مطلق ہے" اور "ہر چیز اس کے پاس ایک مقرر مقدار کے مطابق ہے": ﴿وَكُلُّ شَىءٍ عِندَهُ بِمِقدارٍ‌ ﴿٨﴾... سورة الرعد" اور جس بات کا فیصلہ فرما لیتا ہے اس کے لئے کُن (کا لفظ) کہتا ہے تو وہ ہو جاتا ہے: ﴿إِذا قَضىٰ أَمرً‌ا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ ﴿٣٥﴾... سورة مريم

وہ ذاتِ باری تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں کہ وہ خیر و شر کو پیدا کر سکے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر یہ بات ذکر کر دی گئی ہے: (ٱللَّهُ خَـٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍ) (سورة الرعد:18) کہ : "(کائنات کی) ہر چیز کو پیدا کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے" اور وہ اللہ جس کام کا ارادہ کرتا ہے اس کو کر گزرتا ہے: (فَعَّالٌ لِّمَا يُرِ‌يدُ) (سورة البروج:16) ۔۔۔۔ لہذا اس ذات باری تعالیٰ کے لئے اپنے بندوں کے جملہ افعال و اعمال اور خیر و شر کو پیدا کرنے میں کائنات کی کوئی چیز حاجز و مانع (یعنی رکاوٹ) نہیں بن سکتی۔ قرآن مجید میں (وَٱللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ) (سورة الصافات: 96) "تم کو اور جو تم عمل کرتے ہو (سب کو ) خدا ہی نے پیدا کیا ہے" سے واضح ہوا کہ ہر چیز (بشمول خیر و شر) کا خالق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن افعال انسانی، انسان کا کسب ہیں، اِس کی کمائی ہیں جس کو کرنے، نہ کرنے میں وہ خود مختار ہے۔

اصلِ دوم۔۔۔ توحید

لفظ "توحید" سے معتزلہ اپنے اس مخصوص عقیدے کی وضاحت کرتے تھے، جو ارسطو نے پیش کیا تھا اور بڑے ہی طمطراق سے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ توحیدِ خالص کے قائل ہیں اور باری تعالیٰ کو ہر قسم کے شرک سے پاک اور مبرا دیکھا چاہتے ہیں۔ باری تعالیٰ یکتا ہے، قدیم ہے، اس معاملے میں کوئی دوسری صفت یا چیز اس کی شریک نہیں، لہذا اگر اس کی صفات بھی اس کی ذات کی طرح ازلی و ابدی مان لی جائیں تو اس سے "تعدد قدماء" لازم آتا ہے جو حقیقت میں"شرک" ہے۔ چنانچہ یہ لوگ خدا کی صفات مثلا علم، قدرت، حیات، سمع، بصر وغیرہ کو اس معنی میں مانتے تھے کہ "وہ (اللہ تعالیٰ) فی ذاتہ قادر، حّي، سمیع و بصیر ہے۔اس کی کوئی "صفت" اس کی ذات پر الگ یا زائد نہیں" (آئینہ پرویزیت: جلد1،ص31)

اس طرح انہوں نے لفظ "توحید" کے پس پردہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کر دیا، اور اهل السنة والجماعة کو غلط سمجھتے ہوئے ان کا نام انہوں نے مشتبهة رکھ چھوڑا (اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کا اثبات کرتے ہیں جو مخلوق میں بھی پائی جاتی ہیں لہذا بقول معتزلہ کے اس نظریہ سے خالق و مخلوق میں تشبیہ لازم آتی ہے) جبکہ معتزلہ نے اللہ تعالیٰ کے "اسماء" کا اقرار کیا۔ لہذا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی صفات (علم،قدرت، سمع و بصر) محض "اعلام" ہیں جو کہ ایک ہی ذات کے متعدد اسماء ہیں، نہ کہ ایک ذات کی مختلف صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک ہی شخص کے تین نام زید، عمر، اور محمد رکھ دئیے جائیں۔ بعض معتزلہ کے نزدیک اس نظریے کی تفصیل یوں ہے کہ وہ ذات "علیم" تو ہے لیکن بغیر "علم" کے، "قدیر" تو ہے لیکن بغیر "قدرت" کے "سمیع و بصیر" تو ہے لیکن بغیر " سننے اور دیکھنے" کی صفت رکھنے کے۔ (التحفه المهديه شرح "الرسالة التدمريه" از شيخ الاسلام ابن تيميه رحمة الله عليه جلد' ص45-46)

ایک شبہ کا ازالہ

معتزلہ نے "اہل سنة والجماعة" کا نام مشتبهة رکھا کہ یہ لوگ صفات میں خالق کو مخلوق کے ساتھ ملا دیتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے اور یہ صریح شرک ہے، اور ہم اصل اہلِ توحید ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو سرے سے مانتے ہی نہیں۔

معتزلہ کا یہ اعتراض عقل و نقل دونوں اعتبار سے فاسد اور غیر صحیح ہے کیونکہ اگر ذاتِ باری تعالیٰ کو "علیم و قدیر" "سمیع و بصیر" ماننے سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے تو اگر یوں کہا جائے کہ وہ "ذات نہ سمیع ہے، نہ بصیر نہ علیم ہے، نہ قدیر، نہ محب ہے اور نہ متکلم" تو اس سے معدوم شے سے تشبیہ لازم آئے گی، تو ایسی تشبیہ، خالق حقیقی کے حق میں (یعنی کسی چیز کے اثبات کے بجائے نفی) بدترین تشبیہ ہے۔

نقل کے اعتبار سے یوں کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قرآن مجید میں اپنی صفات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جبکہ اپنی مخلوق کوبھی انہیں صفات کا متصف ٹھہرایا ہے۔ لیکن اس کے باوجود خالق اور مخلوق کے درمیان تشبیہ لازم نہیں آتی۔ ذیل میں چند آیاتِ مبارکہ ملاحظہ ہوں:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی صفت "حیات" کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اللَّهُ لا إِلـٰهَ إِلّا هُوَ الحَىُّ القَيّومُ...﴿٢٥٥﴾... سورة البقرة" جبکہ اپنی بعض مخلوقات کو بھی صفت "حیات" سے موصوف ٹھہرایا ہے: ﴿يُخرِ‌جُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِ‌جُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ...﴿١٩﴾... سورةس الروم" لیکن خالق کی صفت "حیات" اور مخلوق کی صفت "حیات" میں ایسا ہی فرق ہے جیسا کہ خود خالق اور مخلوق میں۔

اس طرح ایک اور مقام پر یوں فرمایا: (وَبَشَّرُ‌وهُ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍ) (سورة الذاریات:28) یہاں غلام سے مراد اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں، ایک دوسری جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بابت فرمایا: (فَبَشَّرْ‌نَـٰهُ بِغُلَـٰمٍ حَلِيمٍ) (سورة الصافات: 101) ان آیات میں مخلوق کے لئے "حلیم و علیم" کی صفتیں بیان ہوئی ہیں اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفات "حِلم و علم" کا ذکر ہوا ہے لیکن مخلوق کے "حلم و علم" اور خالق کائنات کے "حِلم و علم" میں فرق واضح ہے۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ کی صفات سمع و بصر اور رافہ و رحمہ کا ذکر ہوا ہے: (إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّواٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوابِٱلْعَدْلِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعًۢا بَصِيرً‌ا) (سورة النساء:58) اور (إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ) (سورة البقرہ:143) جبکہ یہی صفات قرآنِ مجید میں مخلوق کے لئے بھی وارد ہوئی ہیں اور وہ یہ ہیں: (إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًا بَصِيرً‌ا) (سورة الدھر:2) اور (لَقَدْ جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِ‌يصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ) (سورة التوبہ: 128) تو ان آیات کو پڑھ اور سمجھ لینے کے بعد یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے سمع و بصر ، رافة و رحمة اور مخلوق کی سمع و بصر اور رافة و رحمة میں قریب کی بھی موافقت نہیں۔

بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو مشیت (یعنی مرضی) کے ساتھ متصف کیا ہے اور فرمایا: (وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا) (سورة الدھر:30) اور اس سے پہلے مخلوق کی مشیت کا بھی یوں ذکر ہوا ہے: (إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَ‌ةٌ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَ‌بِّهِۦ سَبِيلًا) لیکن دونوں کا مشیت میں خالق و مخلوق ہونے کا بعد ہے۔

بعینہ قرآن مجید میں ایک دوسری صفت ارادہ کا بھی ذکر ہوا ہے۔ جس میں خالق و مخلوق دونوں کا ایک ساتھ ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ ٱلدُّنْيَا وَٱللَّهُ يُرِ‌يدُ ٱلْءَاخِرَ‌ةَ) (سورة الانفال:67) لیکن ہر صاحبِ عقل و دانش اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ خالق و مخلوق کے "ارادوں" میں کتنا فرق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی "محبت و رضا" اور اس کے بندوں کی "محبت و رضا" کا ایک ساتھ ذکر یوں ہوا ہے: (قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ) (سورة آل عمران:31) اور (فَسَوْفَ يَأْتِى ٱللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُۥٓ) (سورة المائدہ:54) اور رضا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (رَّ‌ضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُواعَنْهُ) (سورة البینہ:8) تو یہاں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خالقِ حقیقی کی "محبت و رضا" اسی کی ذات کے شان و شایان ہے۔ جبکہ مخلوق کی "محبت و رضا" جیسی کہ مخلوق کو لائق ہے۔ دونوں میں قریب کا بھی واسطہ نہیں۔ اسی طرح بے شمار صفات جن کا قرآن مجید میں خالق و مخلوق کے ساتھ ذکر ہوا ہے، اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ ان صفات کے اثبات سے خالقِ حقیقی کی مخلوق کے ساتھ قطعا تشبیہ لازم نہیں آتی اور نہ ہی یہ شرک کی قبیل سے ہے بلکہ یہ عین حق اور اصل توحید ہے بلکہ خالق کائنات کا لفظ "توحید" کے پس پردہ اس کی صفات سے معطل کر کے کسی معدوم چیز سے تشبیہ دینا ہی اصل "شرک" ہے۔ (التحفة الهدية شرح الرسالة الترمرية' جلد 1 ص55-59)

اس مسئلہ کی کامل وضاحت کے لئے قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ ہی کافی ہے:

(لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ‌) (سورہ طہ:110)

آیتِ کریمہ کے پہلے حصہ (لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ ) کہ "اس جیسی کوئی چیز نہیں" میں مشبهة مشرکین کا رد ہے جبکہ دوسرے حصہ (وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ‌) اور وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے، میں اسماء و صفات کے منکرین کا رد ہے اور اسی آیت کریمہ کے مطابق تمام ائمہ اہل السنة والجماعة کا سملک ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" لا يوصف الله تعاليٰ إلا بما وصف به نفسه أو وصف به رسوله لا يتجاوز القرآن والحديث ومذهب السلف رحمهم الله تعاليٰ إنهم يصفون الله تعاليى بما وصف به نفسه وبما وصف به رسوله من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل" (الفتويٰ المحموية الكبريٰ از شيخ الاسلام احمد بن عبدالحليمابن تيمية، ص16)

"کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انہی صفاتِ (جلیلہ) سے متصف ہے جن صفات کے ساتھ اس نے اپنی ذات کو موصوف کیا ہے اور جن صفات کے ساتھ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی موصوف ٹھہرایا ہے جو کہ قرآن و حدیث کی اصل سے متجاوز نہیں۔ اور یہی مسلک تمام سلف صالحین رحمة اللہ علیھم کا بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ان صفات سے متصف ٹھہراتے ہیں جن کے ساتھ اس نے خود اپنی ذات کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ذات کو متصف فرمایا ہے بغیر کسی تحریف و تعطیل اور کیفیت و تمثیل کے"

علاوہ ازیں بے شمار ائمہ دین کے اقوال اس عقیدہ کی صحت پر شاہد ہیں:

حضرت سفیان بن عینیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ٱلرَّ‌حْمَـٰنُ عَلَى ٱلْعَرْ‌شِ ٱسْتَوَىٰ) کہ " رحمٰن (کی ذات) عرش پر مستوی ہے"۔۔۔۔کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیتِ کریمہ میں "استویٰ" سے کیا مراد ہے، تو آپ نے جواب میں فرمایا:

"الاستواء غير مجهول، والكيف غير معقول ومن الله الرسالة ولعي الرسول البلاغ المبين وعلينا التصديق"

کہ "استواء" نامعلوم ہے اور اس کی کیفیت غیر معقول (مجہول) ہے اور یہ پیغام منجانب اللہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس پیغام کو مِن و عَن پہنچا دینا ہے اور ہم سب پر اس پیغام کی تصدیق کرنا لازم ہے۔

نیز اسی طرح کے الفاظ امام مالک بن انس رحمة اللہ علیہ سے بھی مروی ہیں کہ "استواء" کے بارے میں سوال پر آپ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:

"الاستواء معلوم والكيف مجهول والإيمان به واجب السؤال عنه بدعة"

کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا بالکل واضح اور غیر مبہم ہے لیکن اس کی کیفیت (مخلوق کے حق میں) غیر معلوم ہے جبکہ اس بات پر ایمان لانا واجب اور اس سلسلے میں استفسار بدعت ہے (الفتوي الحموية الكبري: ص23)

مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا بلکہ جن صفات کے ساتھ اللہ جل شانہ نے اپنی ذات کو موصوف ٹھہرایا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں خبر دی۔ بغیر تحریف و تعطیل اور تکییف اور تمثیل کے ان جملہ صفات کا اثبات فرمایا اور کسی قسم کی فاسد تاویل کی بجائے مِن و عَن ان پر ایمان لائے۔ امام مالک بن انس رحمة اللہ علیہ اور ان کے استاذ محترم ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کے اس مذکورہ جوابات کو اللہ تعالیٰ کی بقیہ تمام صفات پر (ان کے اثبات و اقرار کے لئے) قیاس کر لینا "اسماءو صفات" کے مسئلہ کو سمجھ لینے کے لئے کافی ہو گا۔ اِن شاءاللہ!۔۔۔ (جاری ہے)