میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

زیر نظر مضمون میں ہم مشہور حدیث "خلافة النبوة ثلاثون سنة..." الخ کی تحقیق و تخریج اور اس کا مفہوم پیش کر رہے ہیں تاکہ اس کا صحیح مفہوم طالبان علم دین پر واضح ہو سکے۔

امام داؤد سجستانی نے كتاب السنن (ج2ص290: كتاب السنة باب في الخلفاء) میں، امام ابو عیسی ترمذی نے كتاب السنن (ج2ص46: ابواب الفتن باب ما جاء في الخلافة) میں، امام عبدالرحمن نشائی نے كتاب السنن الكبريٰ (ج5ص47 ح8155: كتاب المناقب باب5 ابوبكر رضي الله عنه و عمر رضي الله عنه و عثمان رضي الله عنه و علي رضي الله عنه میں، اور امام ابو حاتم بن حبان بستی نے الصحیح (الاحسان 6623،6904 موارد الطمان 1534،1535) میں اور دیگر محدثین نے بہت سی سندوں کے ساتھ سعید بن جمہان سے، بواسطہ سفینہ ابو عبدالرحمٰن مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا کہ:

قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يوتي الله الملك من يشاء أو ملكه من يشاء قال سعيد قال لي سفينة أمسك عليك أبابكر سنتين و عمر عشر او عثمان اثني عشر و عليا كذا

"نبوت والی خلافت تیس سال رہے گی پھر جسے اللہ چاہے گا (اپنی) حکومت دے گا۔ سعید رحمة اللہ علیہ نے کہا: سفینہ رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: شمار کرو، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دو سال اور عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارہ سال اور علی رضی اللہ عنہ کے اتنے (یعنی چھ سال)"

قال سعيد قلت لسفينة إن هولاء يزعمون عليا لم يكن بخليفة قال: كذبت استاه بني الزرقاء يعني بن مروان

"سعید نے کہا: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ بزعم خویش کہتے ہیں کہ: علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے۔ تو انہوں نے کہا: ان بنو زرقاء (بنو مروان کے پٹھوں) نے جھوٹ کہا ہے۔ (یعنی یہ بات منہ سے نکلنے کے لائق نہیں ہے)"

یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ باقی مرویات میں تطویل و اختصار کا معمولی اختلاف ہے لیکن مفہوم سب کا ایک ہی ہے۔

اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ امام احمد نے کہا:

"حديث سفينة في الخلافة صحيح وإليه أذهب في الخلفاء" (جامع بيان العلم و فضله لابن عبدالبر ج2ص225)

"سفینہ رضی اللہ عنہ کی (خلافت کے بارے میں) حدیث صحیح ہے اور میں خلفاء کے سلسلہ میں اس حدیث کا قائل ہوں۔"

امام ابن ابی عاصم نے کہا:

"حديث ثابت من جهة النقل، سعيد بن جمهان روي عنه حمادبن سلمه والعوام بن حوشب و حشرج" (كتاب السنة لابن ابي عاصم ج٢ ص549،55ح1181،1185)

"یہ حدیث بلحاظِ نقل سعید بن جمہان سے ثابت ہے (از سفینہ رضی اللہ عنہ) اس سے حماد بن سلمہ، عوام بن حوشب اور حشرج بن نباتہ نے یہ حدیث بیان کی ہے۔"

اور حافظ ابن تیمیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا (السلسلة الصحيحة للباني ج١ ص744) اور امام حاکم نے بھی اسے صحیح کہا ہے (المستدرک ج3 ص71)

اس کے راوی سعید بن جمہان کو امام یحیٰ بن معین، امام نسائی، امام ابن حبان اور امام احمد نے ثقہ قرار دیا، امام ابو داؤد سے بھی اس کی توثیق مروی ہے، ابن عدی نے کہا: میرے خیال میں اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب وغیرہ) حافظ ذھبی نے کہا: "صدوق وسط" حافظ ابن حجر نے کہا: صدوق له افراد (تقريب التهذيب)

لیکن ان ائمہ کے مقابلے میں امام ابو حاتم الرازی نے کہا : "يكتب حديثه ولا يحتج به" یعنی اس کی حدیث لکھی جاتی ہے مگر اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔

راقم الحروف کہتا ہے کہ امام ابو حاتم کی یہ جرح متعدد وجود سے مردود ہے:

وجہ نمبر 1: یہ جمہور کی توثیق کے خلاف ہے۔

وجہ نمبر 2: نصبُ الرايه للزيلعي (ج2 ص439) میں ہے کہ

"وقول أبي حاتم: لا يحتج به غير قادح أيضا فانه لم يذكر السبب وقد تكررت هذه اللفظة منه في رجال كثيرين من أصحاب الصحيح الثقات الإثبات من غير بيان السبب كخالد الحذاء وغيره والله أعلم"

" امام ابو حاتم کا قول: لا يحتج به غیر قادح ہے کیونکہ انہوں نے اس جرح کا کوئی سبب بیان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اس کلمے کا استعمال صحیحین کے بہت سے ثقہ و ثبت راویوں کے بارے میں بھی کیا ہے۔ مثلا خالد الخداء وغیرہ، واللہ اعلم"

اور حافظ ذھبی نے سير اعلام النبلاء (ج13ص260) پر کہا:

"إذا وثق أبوحاتم رجلا فتمسك بقوله فإنه لا يوثق إلا رجلا صحيح الحديث وإذا لين رجلا أو قال فيه: لا يحتج به، فتوقف حتى ترى ما قال غيره فيه فإن و ثقه أحد فلا تُبن على تجريح أبي حاتم فإنه مُتعنت في الرجال قد قال في طائفة من رجال الصحاح: ليس بحجة، ليس بقوي أو نحو ذلك"

"جب امام ابو حاتم رحمة اللہ علیہ کسی شخص کو ثقہ قرار دیں تو اس بات کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو کیونکہ وہ صرف اس شخص کو ثقہ کہتے ہیں جو کہ صحیح الحدیث ہوتا ہے۔ اور اگر وہ کسی کی تضعیف کریں یا اس کے بارے میں لا يحتج به کہیں تو توقف کرو تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ اوروں نے کیا کہا ہے۔ اور اگر اسے کسی نے ثقہ کہا ہے تو پھر ابوحاتم کی جرح نہ مانو کیونکہ وہ اسماء الرجال میں متشدد ہیں۔ انہوں نے صحیحین کے رجال کے ایک گروہ کے بارے میں بھی ليس بحجة اور ليس بقوي وغیرہ کہا ہے۔"

لہذا امام ابو حاتم رحمة اللہ علیہ کی یہ جرح مردود ہے۔

نمبر 3: امام ابو حاتم پر بعض علماء نے متشدد ہونے کا الزام لگا رکھا ہے۔ لہذا امام احمد بن حنبل جیسے معتدل محقیقین کے مقابلے میں ان کی گواہی مردود ہے۔ وغیرہ

اسی طرح امام الساجی کا قول "لا يتابع علي حديثه" بھی مبہم وغیر مفسر ہونے کی وجہ سے مردود ہے اور یہ کوئی جرح بھی نہیں ہے۔ جب کسی شخص کی عدالت ثابت ہو جائے تو اس کی عدمِ متابعت چنداں مضر نہیں ہے۔ چونکہ سعید بن جمہان کا ثقہ ہونا قطعی دلائل سے ثابت ہو چکا ہے لہذا اس حدیث میں اس کا تفرد بھی مضر نہیں ہے۔

منکرینِ حدیث کی کارستانیاں

منکرینِ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اصل مقصد یہ ہے کہ احادیثِ صحیحہ کو مکروفریب کے ساتھ جعلی ثابت کر دیا جائے تاکہ عامة المسلمین کے اذھان میں دَواوَینِ اسلام کے میں شکوک و شبہات اور عدم اعتماد بیٹھ جائے۔ پھر یہ لوگ سادہ لوح عوام کو صراط مستقیم سے، اپنی آراء کی لاٹھی کے ساتھ دور ہانکتے رہیں۔ جس کے نتیجے میں حدیث بچے اور نہ ہی قرآن!

انہی منکرین حدیث میں سے ایک شخص "تمنا عمادی پھلواری" اپنی کتاب " انتظار مہدی و مسیح" میں اس حدیث پر طعن و تشنیع کے تیر چلاتے ہوئے (ص57 پر) لکھتا ہے:

" اس سلسلہ روایت میں حشرج بن نباتہ الکوفی کا نام آپ نے دیکھا۔ یہ تقریبا تمام ائمہ رجال کے نزدیک ضعیف الحدیث اور لا يحتج به منكر الحديث ہیں اور ان کے حدیثوں کی متابعت عموما نہیں ملتی۔

راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ حشرج بن نباتہ کے بارے میں امام احمد نے کہا: "ثقہ"، ابن معین نے کہا: "صالح، ثقه ليس به بأس"، ابو زرعہ نے کہا: "لا بأس به مستقيم الحديث" ابن عدی نے کہا: "لا بأس به"۔۔۔۔ ابوداؤد اور عباس بن عبدالعظیم سے مروی ہے کہ دونوں نے کہا: ثقہ، ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن کہا۔ ان کے مقابلے میں ابو حاتم نے کہا: صالح يكتب حديثه ولا يحتج به، الساجی نے کہا: ضعیف، ابن حبان نے کہا: كان قليل الحديث منكر الرواية لا يجوز الاحتجاج بخبره إذا انفرد، نسائی نے ایک دفعہ لیس بالقوی کہہ کر جرح کی اور دوسری دفعہ ليس به باس کہہ کر اس کی توثیق کی۔ (ملخصا من تهذيب التهذيب) حاکم اور ذھبی نے اس کی ایک حدیث کی تصحیح کی (مستدرک ج3 ص606)۔۔۔ اسے علی (غالبا ابن المدینی) نے بھی ثقہ کہا (میزان الاعتدال ج1 ص551) حافظ ابن حجر نے کہا: صدوق لهم (تقریب) خلاصہ یہ کہ یہ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے۔ لہذا تمنا عمادی اپنے اس دعویٰ میں کاذب ہیں کہ " یہ تقریبا تمام ائمہ رجال کے نزدیک ضعیف الحدیث ۔۔۔ ہیں"

تمنا عمادی کی اس کتاب میں اتنے زیادہ جھوٹ ہیں کہ ان کے جمع کرنے سے ایک کتاب مرتب ہو سکتی ہے مثلا اسی کتاب کے صفحہ 54 پر لکھتے ہیں:

"یمن میں معمر بن راشد (متوفی 154ھ) جو ازدیوں کے آزاد کردہ غلام تھے، جمعِ احادیث میں سرگرم رہے۔ یہ آبان بن عباس مشہور کذاب سے روایت کرتے تھے۔ مگر آبان کی جگہ ثابت البنانی کا نام ظاہر کرتے تھے (تہذیب التہذیب ص101 ج1) مگر محدثین ان کو پھر بھی ثقہ ہی سمجھتے اور لکھتے ہیں"

اب دیکھئے: تہذیب التہذیب کا محولہ بالا صفحہ، تو اس میں لکھا ہوا ہے کہ:

وحكى الخليلي في الإرشاد بسند صحيح إن أحمد قال ليحيي بن معين وهو يكتب عن عبدالرزاق عن معمر عن أبان نسخة: تكتب هذه وأنت تعلم أن أبان كذاب، فقال: يرحمك الله يا أبا عبدالله أكتبها وأحفظها حتى إذا جاء كذاب يروها عن معمر عن ثابت عن أنس أقول له كذبت إنما هو أبان (تهذيب ج1 ص101)

" اور خلیلی رحمة اللہ علیہ نے الارشاد میں صحیح سند کے ساتھ احمد رحمة اللہ علیہ سے نقل کیا کہ انہوں نے ابن معین سے اس وقت کہا جب وہ عبدالرزاق عن معمر عن ابان کا نسخہ لکھ رہے تھے۔ آپ یہ لکھ رہے ہیں جبکہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ ابان کذاب ہے۔ تو ابن معین نے کہا: اے ابو عبداللہ ! اللہ تجھ پر رحم کرے، میں اسے یاد کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں تاکہ اگر کوئی کذاب آئے اور اسے معمر عن ثابت عن انس سے روایت کرے تو میں اسے کہہ دوں کہ تو نے جھوٹ کہا۔ معمر کی یہ روایات تو ابان کی سند کے ساتھ ہیں نہ کہ ثابت کی سند سے۔"

اب قارئین بتائیں کہ اس میں معمر کا کیا گناہ ہے۔ اس نے جو سنا، آگے بیان کر دیا۔ اس نے ابان کی جگہ اَبان کا نام ظاہر کیا اور ثابت کی جگہ ثابت کا نام۔ لہذا محدثین انہیں ثقہ نہ سمجھیں تو کیا سمجھیں مگر تمنا عمادی جیسے لوگوں کے قلم رواة حدیث کے بارے میں طعن طرازی کرنے میں آزاد ہیں۔ وہ چاہیں تو دن کو رات اور رات کو دن ثابت کر دیں۔

یہ تو حشرج بن نباتہ رحمة اللہ علیہ کے بارے میں صحیح موقف کی تحقیق کے ضمن میں ایک دوسرے راوی کا تذکرہ تھا اس کے ساتھ ساتھ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ حشرج اپنی اس حدیث میں منفرد نہیں ہیں بلکہ درج ذیل اشخاص نے ان کی متابعت کر رکھی ہے:

عبدالوارث بن سعید (ابوداؤد)

العوام بن حوشب (ابوداؤد)

حماد بن سلمہ (مسند احمد ج5ص221،220)

لہذا حشرج رحمة اللہ علیہ پر جرح ہر لحاظ سے مردود ہے۔

اس حدیث کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وهو حديث مشهور من رواية حماد بن سلمة و عبدالوارث بن سعيد العوام بن حوشب وغيره عن سعيد بن جمهان... واعتمد عليه الإمام أحمد وغيره في تقرير خلافة الخلفاء الرشدين الأربعة وثبته أحمد و استدل به على من توقف في خلافة على من اجل افتراق الناس عليه، حتي قال أحمد : من لم يربع بعلي في الخلافة فهو أضل من حمار أهله، ونهي عن مناكحته وهو متفق عليه بين الفقهاء و علماء السنة وأهل المعرفة والتصرف وهو مذهب العامة... وإنما يخالنهم في ذلك بعض (أهل) الأهواء من أهل الكلام و نهوهم كالرافضة الطاعنين في خلافة الثلاثة أو الخوارج الطاعنين في خلافة الصهرين المافيين: عثمان و علي او بعض الناصبة النافين لخلافة علي أو بعض الجهال من المتسننة الواقفين في خلافته" (مجموعه فتاويٰ ج35ص18،19)

"اور یہ حدیث حماد بن سلمہ، عبدالوارث بن سعید اور العوام بن حوشب وغیرہ کی روایت کے ساتھ مشہور ہے۔ انہوں نے سعید بن جمہان سے یہ روایت کی ہے۔۔۔ اور اس روایت پر امام احمد وغیرہ نے چاروں خلفائے راشدین کی خلافت کے سلسلہ میں اعتماد کیا ہے اور احمد نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے اور ان لوگوں پر بطورِ حجت پیش کیا جو علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اس وجہ سے توقف کرتے ہیں کہ اس وقت لوگوں میں تفرقہ پیدا ہو گیا تھا حتیٰ کہ احمد نے یہان تک کہا: جو شخص علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ نہ مانے، وہ اپنے گھر کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہے۔ اور احمد نے ایسے شخص کے ساتھ رشتہ نکاح کرنے سے منع کیا اور یہ بات فقہاء علمائے حدیث، اہلِ معرفت اور علمائے زھد کے درمیان متفق علیہ ہے اور یہی عوام کا مذہب ہے اور اس عقیدہ میں ان کی مخالفت بعض بدعتیوں نے کی ہے: اہل کلام میں سے۔ اسی طرح روافض جو کہ خلفائے ثلاثہ میں طعن کرتے ہیں اور خوارج نے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں دامادوں عثمان و علی رضی اللہ عنھم کی خلافت میں طعن کرتے ہیں یا بعض ناصبیوں نے جو کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں طعن کرتے ہیں یا ان نام نہاد سُنی جاہلوں نے جو کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں توقف کرتے ہیں"

بعض علماء نے اس حدیث کے دو شاہد ذکر کئے ہیں:

نمبر1: عن أبي بكرة رضي الله عنه (رواه البهيقي في دلائل النبوة ج6ص342)

نمبر 2: عن جابر بن عبدالله رضي الله عنه (الواحدي في الوسيط كما في الصحيحه ص745ج1)

اعتراض: بعض متاخرین نے دعویٰ کیا ہے کہ سفینہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث صحیح مسلم کی اس حدیث کے خلاف ہے جسے سمرة رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ:

"إن هذا الأمر لا ينقضي حتي يمض فيهم اثنا عشر خليفة... كلهم من قريش" (صحيح مسلم كتاب الأمارة: باب الناس تبع لقريش والخلافة في قريش)

" یہ دین ختم نہیں ہو گا حتیٰ کہ اس میں بارہ خلیفہ نہ گزریں۔۔۔ (اور وہ) سارے کے سارے قریش میں سے ہوں گے"۔

حالانکہ یہ اعتراض مُعترض کی کم علمی پر مبنی ہے کیونکہ ان دونوں صحیح حدیثوں میں تطبیق ممکن ہے۔ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہا سے مراد خلافتِ راشدہ اور خلافت علی منہاج النبوة ہے اور حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ سے مراد مطلق خلافت ہے۔ لہذا اول میں خلافتِ راشدہ بعد از ثلاثین سنہ کی نفی ہے اور دوسری میں خلافتِ غیر راشدہ کا اثبات۔۔۔ لہذا دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے۔

اس تطبیق کی طرف حدیث حافظ ابن حجر نے فتح الباری (ج13 ص212) اور علامہ ابن تیمیہ نے مجموع فتاویٰ میں اشارہ کیا ہے، اور یہی صواب ہے: مزید تفصیل کے لئے ناصر الدین البانی کی کتاب السلسلة الصحيحة حدیث 459 کا مطالعہ فرمائیں۔انہوں نے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے۔

اعتراض: حکیم فیض عالم صدیقی نے اپنی کتاب "حقیقت شیعہ مذہب" ص24 پر لکھا ہے:

" اس موقعہ کے لئے کسی منچلے نے حدیث سفینہ رضی اللہ عنہا گھڑی جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں درج کر کے دنیائے رفض کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا ہتھیار تھما دیا۔ اس حدیث کے الفاظ ہیں: خلافت تیس برس رہے گی اور پھر ملوکیت ہو جائے گی۔۔۔"

راقم الحروف کو اس عبارت پر تین اعتراضات ہیں:

(1)یہ حدیث کسی منچلے نے نہیں گھڑی بلکہ ثقہ و صادق راوی نے جناب سفینہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے اور اس ثقہ راوی سے بہت سے ثقہ راویوں نے یہ حدیث سن کر آگے بیان کر دی ۔ لہذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔

(2) صحیح مسلم میں کہیں بھی یہ حدیث موجود نہیں ہے۔ لہذا فیض عالم صدیقی کا یہ صحیح مسلم پر بہتان ہے۔ حکیم فیض عالم صدیقی سے اس طرح دیگر سہوات کا بھی ارتکاب ہوا ہے: مثلا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو نام نہاد کہا: (دیکھئے سادات بن رقیہ ص46) اور ثقہ امام، ابن شہاب زھری رحمة اللہ علیہ میں طعن کے مرکتب ہوئے: (دیکھئے سادات ابن رقیہ ص113 تا ص118) انہین علمائے اہل سنت سے ہونے کے ناطے کم از کم مسلمانوں کی مقدس کتب پر بہتان طرازی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

نمبر3: میرا سوال ہے کہ اس حدیث سے دنیائے رفض و کذب کے ہاتھ کون سا ہتھیار آ گیا ہے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امیرالمومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ اور امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ اور امیرالمومنین عثمان رضی اللہ عنہ تینوں خلفائے راشدین علی منہاج النبوہ سے تھے۔ بتائیے وہ کون سا رافضی ہے جو اِن خلفائے ثلاثہ کو خلفاء علی منہاج النبوة سمجھتا ہے۔ بلکہ اس حدیث سے تو عقیدہ رفض کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وما علينا الا البلاغ