سوال12: مغضوب عليهم کی تفسیر یہود اور ضالين کی تفسیر نصاریٰ سے کیوں کی جاتی ہے۔ یہ دونوں وصف تو باہمی لازم و ملزوم ہیں، جو مغضوب ہیں، وہ ضال بھی ہے۔ اور جو ضال ہے وہ مغضوب ہے۔

جواب: نصاریٰ کو ضال، یہود کو مغضوب کہنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے وصف سے خالی ہے۔ بلکہ دونوں میں سے ہر ایک ضال بھی ہے اور مغضوب بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر فریق کے ساتھ وہ وصف خصوصیات کا ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا وہ حقدار ہے اور جس کے ساتھ وہ مشہور ہے۔ اس تفسیر سے ذیل کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ یہود کے حق میں کہا گیا ہے:

﴿بِئسَمَا اشتَرَ‌وا بِهِ أَنفُسَهُم أَن يَكفُر‌وا بِما أَنزَلَ اللَّهُ بَغيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضلِهِ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ فَباءو بِغَضَبٍ عَلىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ مُهينٌ ﴿٩٠﴾...سورةالبقرة

"برا ہے وہ جس کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے کہ وہ کفر کرتے ہیں اس کا جو اللہ تعالیٰ نے اُتارا ہے سرکشی کی راہ سے (محض اس بنا پر) کہ اللہ اتارتا ہے اپنا فضل جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے پس وہ پے در پے غضب کے ساتھ پلٹتے اور منکروں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔"

اس آیت کی تفسیر میں چند اقوال ہیں:

1۔ ان کے دو گناہ تھے: کفر اور بغاوت

اس لئے دوہرے عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی کے ہم معنی یہ آیت ہے:

﴿الَّذينَ كَفَر‌وا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ زِدنـٰهُم عَذابًا فَوقَ العَذابِ ... ﴿٨٨﴾... سور النحل

"جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا، ان پر ہم عذاب پر عذاب بڑھا دیتے ہیں"

پہلا عذاب کفر کی بنا پر اور دوسرا عذاب ، راہِ حق سے روکنے کی وجہ سے۔

2۔ پہلا غضب تورات کے بدلنے اور انبیاء کرام کے قتل کی بنا پر اور دوسرا غضب حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے۔

3۔ یہ دو غضب ان کے کفر کی وجہ ہیں:

پہلا حضرت عیسی علیہ السلام کا انکار اور دوسرا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار۔

4۔ اصل بات یہ ہے کہ یہاں دو غضب مراد نہیں ہیں۔ جیسا کہ تثنيه میں ہوتا ہے بلکہ ان کے بار بار کفر، قتلِ انبیاء، فساد اور اللہ کے رسولوں سے مسلسل عداوتوں کی وجہ سے ان پر پے در پے غضبِ الہی برستا رہتا ہے۔ ان کا ہر عمل الگ الگ ایک مستقل غضب کو چاہتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

﴿فَار‌جِعِ البَصَرَ‌ هَل تَر‌ىٰ مِن فُطورٍ‌ ﴿٣﴾ ثُمَّ ار‌جِعِ البَصَرَ‌...﴿٤﴾... سورة الملك

"پس لوٹاؤ نگاہ کو کیا تم دیکھتے ہو اس میں کوئی شگاف؟ پھر لوٹاؤ نگاہ کو باربار"

یہاں كرتين کے معنی بار بار کے ہیں نہ کہ صرف دو بار کے۔ پس یہی معنی (فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ) کے ہیں۔ اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ انہوں نے تورات کے حدود و احکام کو معطل کر کے رکھ دیا۔ اس کی تحریف کر ڈالی۔ انبیاء کرام کو جھٹلایا۔ قتل کیا، میسح علیہ السلام کا انکار کیا۔ ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ان کی ماں پر بدترین تہمت اور بہتان باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا، ان سے جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ خود گمراہ ہوئے اور لوگوں کو سختی کے ساتھ راہِ حق سے روکا۔ ان کا ہر جرم ایک مستقل و غضب الہی کا تقاضا کرتاہے۔ گویا یہ اُمت سر تا پا غضب ہی غضب ہے۔ کیا ایسی صورت میں یہ لوگ بہ نسبت نصاریٰ کے مغضوب عليهم کہلانے کے زیادہ لائق نہ ہوں گے؟

دوسری جگہ فرمایا:

﴿قُل هَل أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ‌ مِن ذ‌ٰلِكَ مَثوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيهِ وَجَعَلَ مِنهُمُ القِرَ‌دَةَ وَالخَنازيرَ‌ وَعَبَدَ الطّـٰغوتَ ۚ...﴿٦٠﴾... سورة المائدة

"کہہ دو کہ میں تم کو بتلاؤں، اس سے بھی زیادہ برا بدلے میں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور غضبناک ہوا اور بنا دئیے ان میں سے بندر اور سؤر اور پوجا انہوں نے طاغوت کو"

یہاں غضب کو لعنت اور مسخ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ غضب کی انتہائی سخت صورت ہے۔ نیز فرمایا:

﴿لُعِنَ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ عَلىٰ لِسانِ داوۥدَ وَعيسَى ابنِ مَر‌يَمَ...﴿٧٨﴾...أَن سَخِطَ اللَّهُ عَلَيهِم...﴿٨٠﴾... سورة المائدة

"جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسی (علیھم السلام) کی زبانی لعنت کی گئی۔۔۔۔کہ اللہ ان پر ناراض ہوا"

باقی رہی ضالین کی تفسیر، نصاریٰ کے ساتھ۔تو اس کی تائید اس آیت میں ملتی ہے کہ:

﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ لا تَغلوا فى دينِكُم غَيرَ‌ الحَقِّ وَلا تَتَّبِعوا أَهواءَ قَومٍ قَد ضَلّوا مِن قَبلُ وَأَضَلّوا كَثيرً‌ا وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورة المائدة

" اے اہل کتاب دین کے معاملہ میں غلو نہ کرو سوائے حق کے۔ اور ایسی قوم کی خواہشات کی پیروی مت کرو جو پہلے گمراہ ہو چکی ہو اور بہت سوں کو گمراہ کر چکی اور خود بھی سیدھی راہ سے بہک گئی"

یہاں اہلِ کتاب ست مراد نصاریٰ ہیں۔ اس سے پہلے کی آیت میں ذکر ہے کہ:

﴿لَقَد كَفَرَ‌ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ المَسيحُ ابنُ مَر‌يَمَ ۖ وَقالَ المَسيحُ يـٰبَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ اعبُدُوا اللَّهَ رَ‌بّى وَرَ‌بَّكُم...﴿٧٢﴾...وَضَلّوا عَن سَواءِ السَّبيلِ ﴿٧٧﴾... سورة المائدة

"بلاشبہ انہوں نے کفر کیا جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی ابن مریم علیہ السلام ہے حالانکہ مسیح نے کہہ دیا ہے اے بنی اسرائیل ! میرے اور اپنے رب اللہ کی عبادت کرو"

یہ نصاریٰ کا حال بیان کیا گیا ہے کہ پہلے خود گمراہ ہو گئے پھر دوسروں کو گمراہی میں ڈالا۔ پھر جب نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو مزید ضلالت میں مبتلا ہو گئے۔ در حقیقت یہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زمانہ نصاریٰ کے اسلاف مراد ہیں، جن کے یہ پیرو ہیں۔ اس آیت میں ان کی تین صفتیں بیان ہوئی ہیں:

1۔خود گمراہ ہو گئے۔2۔بہتیروں کو گمراہ کیا۔3۔سیدھی راہ سے ہٹ گئے۔

عہدِ نبوی کے نصاری ٰکو ان کے اسلاف کی روش سے روکا گیا ہے نہ کہ ان کی روش سے کسی دوسری قوم کو۔ اس لئے یہاں عہد نبوی کے عیسائی مراد لینا درست نہیں۔ اس مقام پر غور کرو یہ آیت کس طرح نصاریٰ کی پے در پے اور حد سے بڑھی ہوئی دین سے ناواقفیت ظاہر کر رہی ہے۔ اس آیت میں ضلال کو بار بار لایا گیا ہے جیسا کہ یہود کے تذکرہ میں غضب کو دہرایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصاریٰ بہ نسبت یہود کے ضلال و گمراہی میں زیادہ نمایاں درجہ رکھتے ہیں۔ ضلال کی تین قسمیں ہیں:

1۔ ضلال في الغاية : منزل مقصود متعین کرنے میں بٹھک جانا۔

2۔ضلال في الوسيلة : منزل مقصود کی صحیح معرفت تو حاصل ہو جائے لیکن اس تک پہنچنے کی راہ مقرر کرنے میں غلطی ہو جائے۔

3۔ اس ضلال کی طرف دوسروں کو بھی دعوت دی جائے۔ نصاری کے اسلاف میں یہ تینوں ضلالتیں جمع ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے الہٰ کے متعلق یہ تصور کر لیا کہ وہ کھاتا پیتا ہے، روتا ہے اور وہ قتل کیا گیا، سولی پر چڑھایا گیا۔ یہ اصل مقصود کے پانے میں گمراہی ہے۔ اسی طرح ان سے منزلِ مقصود تک پہنچنے والی راہ کے متعین کرنے میں بھی غلطی ہوئی ہے۔ اور پھر اس غلطی کی طرف دوسروں کو بھی انہوں نے دعوت دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نصاریٰ بہ نسبت یہود کے ضلال میں زیادہ ڈوبے ہوئے ہیں۔

یہود کا انکار عدمِ علم کی بنا پر نہ تھا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب اچھی طرح پہنچانتے تھے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے بچوں سے واقف تھے۔ صرف حسد، تکبر، حرام خوری کی چاٹ اور عزت و سرداری کی چاہت نے ان کو قبولِ حق سے اور اتباعِ نبوی سے باز رکھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہی مذکورہ بالا امور کی بنا پر ان کو سخت ڈانٹ بتائی ہے۔ اور نصاریٰ کو جہل و ضلال اور عدمِ معرفت کی وجہ سے تنبیہ کی گئی ہے۔

کفر و بغاوت کبھی تو عدم معرفت اور لاعلمی سے ہوتی ہے اور کبھی حق سے بے پرواہی اور عدمِ توجہی کی بنا پر۔ یہود کا کفر دوسری قسم کا ہے۔ اور نصاریٰ کا کفر پہلی صورت سے تعلق رکھتا ہے۔ جب نصاریٰ نے حق کے ظاہر و واضح ہو جانے کے بعد بھی اپنے کفر پر اصرار کیا تو وہ بھی امتِ مغضوبہ یہود کے مشابہ ہو گئے۔ اور مغضوب و ضال دونوں کے مصداق بن گئے۔

پھر جب کہ ہدایت و سعادت، فلاح و نجات کا تمام تر دارومدار حق کو پہچاننے، اُسے اختیار کرنے، اور اس کے مطابق عمل کرنے پر ہے۔خواہ اس صورت میں دنیوی فائدوں اور تمناؤں کا خون کتنا ہی کیوں نہ ہو، اور یہ کہ جہالت بندے کو حق کی معرفت اور تکبر، حق کی طلب سے روک دیتا ہے۔ ان حالات میں بندے کے لئے ضرروی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں خدا سے صراطِ مستقیم کی طلب جاری رکھے۔ اور اس پر چلنے والے کے لئے ہمیشہ ہدایت، توفیق، اور مدد مانگتا رہے، تاکہ اس طرح وہ مغضوب عليهم کی راہ سے الگ ہو جائے۔ جنہوں نے باوجود علم کے قصدا سیدھی راہ سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اور نصاریٰ کے طریقے سے بھی جنہوں نے جہالت و ضلالت کی راہ سے حق کو قبول نہیں کیا۔

علمائے سلف کا قول ہے کہ ہمارے علماء میں سے جو بگڑے، وہ یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اور عابدوں، زاہدوں کی جماعت میں سے جو گمراہ ہوئے، وہ نصاریٰ کے مانند ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارے وہ علماء جنہوں نے یہودی اخلاق کو اپنایا، آیاتِ قرآنی کو غلط معنی پہنائے اور محض اس بنا پر کہ ان کی اغراضِ فاسدہ کو ٹھیس لگتی ہے، انہوں نے حق کو چھپایا۔ علماءِ حق کے فضل و کمال پر حسد کیا۔ کتاب و سنت اور عدل و انصاف کی طرف بلانے والے اہل علم کے درپے آزاد ہو گئے۔ ان کو قتل کی دھمکیاں دیں۔ حرام و حلال کے درمیان تمیز اٹھا دی۔ اور محرمات و ممنوعات کو طرح طرح کی حیلہ سازیوں سے جائز کر ڈالا۔ کیا ایسے لوگ یہود کے مشابہ نہ ہوں گے؟ اسی طرح ہمارے عابدوں، زاہدوں کا وہ گروہ بھی ہے جس نے عبادت الہی کو اپنی خواہش کے سانچے میں ڈھال لیا۔ کتاب و سنت کی پابندیوں سے آزاد ہو گئے، مشائخ کو خدا کا درجہ دے دیا اور حلول و الحاد ہمہ اوست تک قائل ہو گئے۔۔۔۔ کیا یہ گروہ نصاریٰ کا پیرو نہ کہلائے گا؟

ایک مسلمان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان دونوں گروہوں کی مشابہت و اتباع سے دور رکھے۔ جس شخص نے ان دونوں قسم کی مشابہتوں اور صفتوں کو پہچان لیا اور مخلوقات کے حالات سے آگاہ ہو گیا، وہ اس سورة الفاتحہ کی دعا کی اہمیت و ضرورت سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ یہی وہ دعا ہے جس سے بڑھ کر کوئی دعا مفید اور نفع بخش نہیں ہو سکتی۔ اس ظاہری زندگی اور سانس کی آمدورفت سے کہیں زیادہ انسان ا س دعا کا محتاج ہے۔ سانس کی بندش اور ظاہری زندگی کے ختم ہونے سے تو صرف موت ہی طاری ہوتی ہے۔ لیکن اس دعا سے محرومی تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بد بختی اور مصیبت میں مبتلا کر دیتی ہے بس اب بندے کے لئے سوائے اس کے لئے اور کوئی چارہ کار نہیں کہ صراطِ مستقیم جو اللہ کے انعام یافتہ بندوں کی راہ ہے، اس کو اپنے رب سے طلب کرے اور یہی سوال اس کی زبان پر ہمیشہ جاری رہے۔

سوال13: اہلِ غضب کے لئے اسم مفعول کا صیغہ اور اصحابِ ضلال کے لئے اس فاعل کا وزن اختیارکیا گیا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے؟

جواب: ظاہر بات ہے کہ اہلِ غضب وہ ہیں جن پر خدا کا غضب نازل ہوا۔ ان کو مغضوب کہنا ہی صحیح ہے۔ باقی رہے اہل ضلال تو یہ خود گمراہ ہوئے، اور گمراہی کو انہوں نے پسند کیا، یہاں ضال لانا مناسب تھا اور یہ وجہ بھی ہے کہ مضلين (گمراہ ہو گئے) کہنے کی صورت میں ان کے لئے ایک قسم کا عذر کا پہلو نکل آتا کہ خود گمراہ نہیں ہوئے بلکہ گمراہ کئے گئے ہیں۔ مگر یہ بھی واضح رہے کہ اس توجیہ کی بنا پر منکرین تقدیر (قدریہ) کے واسطے استدلال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ یہ لوگ گمراہ ہو گئے۔ لیکن اضلال کی اصل نسبت خدا ہی کی طرف ہے۔ (کیونکہ اسبابِ ضلال کا خالق وہی ہے)۔۔۔ مترجم

اس آیت میں گروہِ جبرية کا بھی رد ہے۔ جو بندے کی طرف کسی فعل کی نسبت کو حقیقتا جائز قرار نہیں دیتے۔ اهدنا الصراط سے قدریہ کی تردید ہو گئی۔ چنانچہ اس پوری آیت میں قدریہ اور جبریہ دونوں کے عقائدِ فاسدہ کا ابطال موجود ہے۔ اور ساتھ ہی مذہبِ اہل حق اہلِ سنت کی تائید و نصرت کا بھی واضح بیان ہے۔ اصل میں اہل حق ہی کا مسلک صحیح ہے جو کہ بلحاظِ توحید و خلق، تقدیر و قدرت کے قائل ہیں۔ اور عمل و کسب کے اعتبار سے بندوں کے افعال کی نسبت ان کی طرف کرتے ہیں۔

اس آیت سے تقدیر، شریعت، قیامت اور نبوت سب ثابت ہو گئے ۔ نبوت کا ثبوت اس طرح ہوا کہ نعمت اور غضب، عذاب و ثواب کا دوسرا نام ہے اور نعمت والے انبیاء کرام اور ان کے پیروکار ہی ہیں۔ پیرؤوں کو جو کچھ بھی ہدایت ملی ہے وہ انبیاء کرام کے واسطے ہی سے ملی ہے۔ کیونکہ انسان کی نجات کے لئے خدا کی ہدایت ضروری ہے۔ اور یہ ہدایت انبیاء کرام رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکی۔ اس دلیل سے وضاحت و اختصار کے ساتھ نبوت ثابت ہو گئی۔ اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ اس ہدایت کا پھل وہ کامل نعمت ہے جو دارُالنعیم جنت میں حاصل ہو گا اور اس کی مخالفت کا بھی ایک ثمرہ ہے اور وہ دائمی بد بختی کی صورت میں غضبِ الہی کا نزول ہے۔ غور کیجئے کہ یہ سورت باوجود اختصار کے، دین کے کتنے بڑے اور اہم مطالب پر مشتمل ہے۔

سوال14: مغضوب عليهم کو ضالین پر مقدم کرنے میں کیا مصلحت ہے؟

جواب: یہ تقدیم چند وجوہ کی بنا پر ہے:

مغضوب عليهم (یہود) بلحاظِ زمانہ مقدم ہیں۔

2۔ یہود مدینہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ نصاریٰ کی بستیاں دور تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں یہود سے زیادہ خطاب کیا گیا ہے۔ سورہ بقرہ، آل عمران، مائدہ اِن سورتوں میں غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔

3۔ یہود کا کفر بہ نِسبت نصاریٰ کے زیادہ سخت ہے۔ اس لئے غضب ، لعنت اور عقوبت خاص طور سے اُن پر مسلط ہے۔ ان کا کفر سرکشی اور بغاوت کی راہ سے آیا ہے۔ ان کی روش سے بچانے کے لئے لازمی تھا کہ ان کا ذکر پہلے کیا جاتا اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ناواقف مجرم اور جان بوجھ کر سرکشی کرنے والے دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔

4۔ اس سے پہلے منعم عليهم کا ذکر ہو چکا ہے۔ غضب انعام کی ضد ہے، لہذا متصلا ذکر، علمِ بلاغت کے لحاظ سے صفت، مقابلہ اور ازدواج کا حسن پیدا کر رہا ہے۔ جو ضالین کو پہلے لانے سے حاصل نہ ہو گا۔ ازدواج کے معنی ہیں کہ شے اور اس کی صج یا مقابل دونوں ساتھ ساتھ ذکر کئے جائیں۔ سورہ سبع المثانی (الفاتحہ) اس باب میں امتیازی حسن و جمال رکھتی ہے۔

سوال15: ولا الضالين : اس جگہ لا کے اضافہ سے کیا فائدہ ہے؟

جواب: لا کے لانے میں چند فوائد ہیں:

1۔ اس کے ذریعہ سے غیر میں جو نفی کے معنی پائے جاتے ہیں، اس کی تاکید ہو جاتی ہے۔ اگر غیر میں نفی کے معنی نہ ہوتے تو پھر لا کے ساتھ حرف عطف واؤ کا لانا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

2۔ لا کے اضافہ سے یہ فائدہ ہوا کہ انعام یافتہ گروہ کی راہ، یہودونصاریٰ دونوں میں سے ہر ایک کی راہ سے الگ ہے۔ یہاں فردا فردا مغایرت ثابت ہو گئی۔ لا کے نہ لانے کی صورت میں یہ وہم پیدا ہو سکتا تھا کہ دونوں گروہوں سے مجموعی طور پر غیرت مقصود ہے نہ کہ ہر ایک سے علیحدہ

3۔ اس وہم کو دور کرنا مقصود ہے کہ ضالین، مغضوب عليهم کی صفت ہے۔ ایسا ہوا کرتا ہے کہ ایک ذات کی چند صفتوں کے درمیان حرفِ عطف لے آیا کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہووں، سورہ مومنون کی ابتدائی چند آیات)

جب لا یہاں داخل ہو گیا تو معنی یہ ہوئے کہ یہ دونوں وصف دو گروہوں سے الگ الگ تعلق رکھتے ہیں۔ اس مقام پر لا، غیر پر چند وجوہ کی وجہ سے فوقیت رکھتا ہے۔

1۔ حرف کم ہیں۔

2۔ تکرارنہیں ہے۔

3۔ غیر کے دوبار لانے سے زبان پر ثقل ہو جاتا۔ درمیان میں صرف ایک کلمہ مغضوب ہی کا فصل ہوتا۔ عبارت کے اس بھونڈے پن سے کسے انکار ہو سکتا ہے؟

لا کے ساتھ عطف کرنے میں ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ صراط مستقیم والوں سے غضب اسی طرح دور ہے جس طرح ان سے ضلال (منتفی) ہے۔اگرچہ غیر نے بھی اس نفی کو بتلایا ہے۔ مگر نفی کے معنی میں زیادہ زور دار ہے۔

سوال16: ہدایت کے کیا معنی ہیں؟ اس کی کتنی اقسام ہیں اور یہاں کون سی قسم مراد ہے؟

جواب: ہدایت کی چار اقسام یا مراتب ہیں:

1۔ عام ہدایت جو تمام کائنات کو شامل ہے۔ اس کا ذکر اس آیت میں موجود ہے کہ:

﴿الَّذى أَعطىٰ كُلَّ شَىءٍ خَلقَهُ ثُمَّ هَدىٰ ﴿٥٠﴾... سورة طه

"خدا وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش بخشی، پھر اس کی راہنمائی کی"

یعنی ہر شے کو ایسی صورت اور ساخت عطا کی کہ ایک دوسرے سے امتیاز ہو گیا۔ ہر عضو کو مناسب شکل سے آراستہ کیا، ہر موجود کو خاص بناوٹ سے سرفراز فرمایا۔ پھر جن کاموں کے لئے ان کو پیدا کیا تھا، ان کی طرف ہدایت و رہنمائی کی۔ یہ حیوانی ہدایت ہے جس کے ذریعہ سے ہر جاندار اپنے نفع کو حاصل کرتا ہے۔ اور نقصان سے بچتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ تمام حیوانات، نباتات، جمادات اور اعضاء انسانی ، نعمت ہدایت سے مالا مال ہیں۔ خواہ بظاہر صورت و نوع کے لحاظ سے کتنا ہی فرق کیوں نہ ہو۔ قدموں کو چلنے، ہاتھ کو پکڑنے، زبان کو بولنے، کان کو سُننے اور آنکھ کو دیکھنے کی ہدایت عطا فرمائی ہے۔ حیوانات میں سے ہر جوڑا اس فطرتی ہدایت کی بنا پر صنفی تعلق، بقائے نسل، اور تربیتِ اولاد کی طرف مائل ہوتا ہے۔

بچہ خود بخود اسی ہدایت کی بدولت ماں کی چھاتی سے غذا حاصل کرتا ہے۔ یہ ہدایت کی وہ شکلیں اور قسمیں ہیں۔ جن کا شمار سوائے خدا کے اور کون کر سکتا ہے۔

شہد کی مکھی کو دیکھیں، کس طرح پہاڑوں، درختوں اور مکانوں میں اپنا گھر بناتی ہے اور خدا کی ہدایت کے مطابق اپنا پروگرام پورا کرتی ہے۔ اپنی راہ اور روش سےہٹنا جانتی ہی نہیں۔ پھر غور سے دیکھیں اپنی سردار (ملکہ) کی پورے نظام کی پیروی کرتے ہوئے کس خوبی و کمال سے اپنا مضبوط خوشنما چھتہ تعمیر کر لیتی ہے۔

ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہدایت کے مناظر کو جو انسان بھی غوروفکر کی نگاہ سے دیکھے گا وہ یقینا اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ خدا کے سوائے کوئی الہٰ نہیں۔ وہ کھلے اور چھپے کا علم رکھتا ہے، عزت و حکمت کا اصل مالک وہی ہے۔ اس ہدایت کی معرفت سے بغیر کسی الجھاؤ، پیچیدگی اور طول بیانی کے نبوت بھی ثابت ہو جاتی ہے۔ جب آپ نے یہ مان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو بیکار نہیں چھوڑا بلکہ ان کو ایسی ہدایت سے نوازا ہے جس سے خود انسانی عقل اور سمجھ ، عاجز و درماندہ ہے۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان جیسی اشرفُ المخلوقات ہستی بیکار و مہمل چھوڑ دی جاتی۔ ربُ العالمین کی طرف سے کوئی ہدایت نامہ اس کے پاس نہ آتا۔ اس کو اعلیٰ مقصد اور انتہائی کمالات کی راہ نہ بتلائی جاتی۔ اور ثواب و عذاب کے اسباب وتفصیلات سے آگاہ نہ کیا جاتا۔ ایسا ہونا ربِ اکبر کی حکمت و عزت کے یکسر منافی ہے۔ اس لئے اس نے اپنے کلامِ پاک میں اس عیب سے براءت ظاہر کی ہے اور اس قسم کے لوگوں کی سخت مذمت فرمائی ہے۔

﴿أَفَحَسِبتُم أَنَّما خَلَقنـٰكُم عَبَثًا وَأَنَّكُم إِلَينا لا تُر‌جَعونَ ﴿١١٥﴾ فَتَعـٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ...﴿١١٦﴾... سورة المومنون

"کیا پھر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہ آؤ گے، وہ سچا بادشاہ اس بات سے بلند ہے"

اس قسم کے گمان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو پاک بتلایا ہے۔ یہ خیال ہی ایسا ہے جس کے بطلان اور فساد سے کسی سلیم الفطرت، صحیح العقل انسان کو انکار ہی نہیں ہو سکتا۔ یہاں سے عقلی طور پر قیامت کا بھی ثبوت مل گیا۔ جس نے ہمارے اس استدلال کو سمجھ لیا، اس کے لئے ذیک کی دو آیتوں مین تناسب، ربط اور تعلق معلوم کرنا مشکل نہیں:

﴿وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا طـٰئِرٍ‌ يَطيرُ‌ بِجَناحَيهِ إِلّا أُمَمٌ أَمثالُكُم ۚ ما فَرَّ‌طنا فِى الكِتـٰبِ مِن شَىءٍ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَ‌بِّهِم يُحشَر‌ونَ ﴿٣٨﴾... سورة الانعام

"اور نہیں ہے کوئی جانور زمین میں اور نہ ہی کوئی پرندہ جو اُڑتا ہو اپنے بازؤوں کے ساتھ مگر وہ اُمتیں ہیں تماری مانند ۔ ہم نے الکتاب میں سب کچھ درج کر دیا ہےپھر تم اپنے رب کی بارگاہ میں جمع کئے جاؤ گے"

﴿وَقالوا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَ‌بِّهِ ۚ قُل إِنَّ اللَّهَ قادِرٌ‌ عَلىٰ أَن يُنَزِّلَ ءايَةً وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌هُم لا يَعلَمونَ ﴿٣٧﴾... سورة الانعام

"اور کافروں نے کہا کہ اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری۔ کہہ دو بیشک اللہ نشانی کے اتارنے پر قادر ہے لیکن بہت ان میں سے علم نہیں رکھتے"

اس مقام پر منکرینِ نبوتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے جواب میں حیوانات کا ذکر خاص حکمت رکھتا ہے۔ اس انداز بیان سے اثباتِ نبوت کی طرف لطیف اشارہ ہو گیا۔ جس خالق نے زمین پر چلنے والے، فضا میں اُڑنے والے جانوروں کو اپنی ہدایت سے محروم نہیں کیا بلکہ ان کو اُمم گروہِ در گروہ جماعتی رنگ میں بنایا اور اُن کو مقاصد و مصالح بتلائے، وہ تم کو تمہارےمقاصد و مصالح اور راہِ نجات سے کیسے نا آشنا رکھ سکتا ہے۔ یہ ہدایت کی پہلی قسم ہے۔

2۔ خیر و شر، نجات و ہلاک اور ثواب و عذاب کی راہوں کو بندوں پر واضح کر دینا اور ان کو یہ بتلا دینا کہ اس راہ میں تمہاری اِبدی فلاح پوشیدہ ہے اور اس کے علاوہ دوسری راہوں میں سوائے اَبدی بدبختی اورتباہی کے کچھ نہیں۔ یہ ہدایت حاصل ہو تو کامل ہدایت بھی حاصل ہو جائے: مثلا فرمایا:

﴿وَأَمّا ثَمودُ فَهَدَينـٰهُم فَاستَحَبُّوا العَمىٰ عَلَى الهُدىٰ...﴿١٧﴾... سورةفصلت

"ہم نے ثمود کو راستہ بتلا دیا۔ لیکن انہوں نے اندھے پن (گمراہی) کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند کر لیا"

اور یہی معنی اس آیت کے ہیں:

﴿وَإِنَّكَ لَتَهدى إِلىٰ صِر‌ٰ‌طٍ مُستَقيمٍ ﴿٥٢﴾... سورة الشورىٰ

"بے شک آپ لوگوں کو سیدھی راہ بتلاتے ہیں"

3۔ ہدایت توفیق و الہام، یعنی مقصود پہنچا دینا۔ اس ہدایت کے بعد پھر راہِ حق سے انسان بھٹک نہیں سکتا ۔ مثلا

﴿يُضِلُّ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ...٩٣﴾... سورةالنحل

"گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت کرتا ہے جسے چاہتا ہے"

اور اسی معنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: ومن يهد الله فلا مضل له

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿مَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلا هادِىَ لَهُ﴾

﴿إِنَّكَ لا تَهدى مَن أَحبَبتَ ...﴿٥٦﴾... سورة القصص

"آپ جسے چاہیں، ہدایت نہیں کر سکتے"

یہاں ہدایت بمعنی سوم کی نفی کی گئی ہے اور دوسری آیت میں ہدایت بمعنی دوم آپ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ فرمایا:

﴿وَإِنَّكَ لَتَهدى إِلىٰ صِر‌ٰ‌طٍ مُستَقيمٍ ﴿٥٢﴾... سورة الشورىٰ

4۔ یہ ہدایت کی چوتھی قسم، تیسری قسم کی اصل غرض و غایت ہے۔ یعنی قیامت کے روز جنت اور جہنم کی طرف ہدایت، جب کہ مومن و کافر، ثواب و عذاب کی طرف ہنکائے جائیں گے۔ ذیل کی آیت میں ہدایت اِسی معنی میں مستعمل ہے۔

﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ يَهديهِم رَ‌بُّهُم بِإيمـٰنِهِم...﴿٩﴾... سورة يونس

"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے، اُن کا رب ان کو ہدایت کرے گا اُن کے ایمان کی وجہ سے"

اہل جنت، جنت میں داخل ہو کر کہیں گے:

﴿الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى هَدىٰنا لِهـٰذا...﴿٤٣﴾... سورة الاعراف

"تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے اس (نعمت) کی طرف ہمیں ہدایت فرمائی"

اہل جہنم کے بارے میں خدا نے فرمایا:

﴿احشُرُ‌وا الَّذينَ ظَلَموا وَأَزو‌ٰجَهُم ....﴿٢٢﴾.... فَاهدوهُم إِلىٰ صِر‌ٰ‌طِ الجَحيمِ ﴿٢٣﴾... سور ةالصافات

"ظالموں اور ان کے اہل کو جمع کرو۔ پھران کو دوزخ کی راہ بتلا دو"

سورة الفاتحہ میں ہدایت کے چار مراتب میں سے دوسرا اور تیسرا مراد ہے۔

سوال17: ایک مسلمان کے لئے سیدھی راہ کی طلب فضل ہے، وہ تو پہلے صراطِ مستقیم پر ہے۔ اسی طرح توفیق و الہام کا سوال بھی بے معنی سا ہے۔

جواب: بعض علماء نے جواب میں کہا ہے کہ یہاں ہدایت سے ثابت قدمی اور ہمیشگی مراد ہے۔ لیکن یہ کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بندہ ہدایت پا ہی نہیں سکتا تا وقتیکہ مندرجہ ذیل چھ امور حاصل نہ ہو جائیں۔

یہ اُمور وہ ہیں جن سے کوئی بندہ بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا:

1۔ ان تمام باتوں کا علم جن سے خدا ناراض یا خوش ہوتا ہے۔ تاکہ مرضیاتِ الہی کی طلب اور ممنوعات سے پرہیز ہو سکے۔

2۔ ان تمام کاموں کے کرنے کا پورا عزم رکھے جن سے خدا خوش ہوتا ہے اور ان تمام باتوں سے بچنے کا پختہ ارادہ کر لے۔ جن سے خدا نے روکا ہے۔

3۔ اس عزم و ارادہ کو عملا جارہ رکھے، اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ ان تینوں امور میں جس قدر کوتاہی ہو گی۔ اس قدر ہدایتِ کاملہ میں کمی واقع ہو گی۔

(یہ تینوں اصول ہیں، ان کے بعد تین امور بطورِ تابع اور تکملہ کے ذکر کئے جاتے ہیں)

4۔ جن باتوں کا علم سرسری طور پر حاصل ہوا ہے، بندہ ان کی تفصیلی معرفت کا محتاج ہے۔

5۔ کچھ اُمور ایسے ہوتے ہیں جن کے بعض پہلو روشن ہوتے ہیں اور بعض پہلو تاریک۔ بندہ اس بات کا سخت محتاج ہے کہ اس کے سامنے تمام پہلو بے نقاب ہو جائیں۔

6۔ جن مسائل و اعمال کے تمام گوشے تفصیل و وضاحت سے معلوم ہو چکے ہیں، ان پر ثابت قدم اور پابند رہنے کا بندہ مھتاج ہے۔

یہ چھ اُمور وہ ہیں جن کا تعلق آئندہ زمانہ سے ہے۔ ایک ساتواں امر بھی ہے جس کا تعلق گذشتہ زمانہ سے ہے۔ یعنی پہلی غلطیوں اور گناہوں سے توبہ

اس تفصیل کے جان لینے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ بالفعل ہدایت موجود ہے۔ اس کے مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔ اور اس اعتراض کا یہ جواب کیسے کافی ہو سکتا ہے کہ یہاں ہدایت سے مراد ثابت قدمی اور مداومت ہے۔ ہاں اگر یہ مذکورہ بالا چھ اُمور حاصل ہوں تب ہدایت کے سوال کو ثابت قدمی اور دوام کا سوال قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ حال ہے کہ جتنی باتیں جانتا ہے ان سے کہیں زیادہ ایسی باتیں ہیں جن سے وہ واقف نہیں ہے اور جن اعمال کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ ان سے کہیں زیادہ ایسے اعمال ہیں جن کا وہ نہ ارادہ کرسکتا ہے اور نہ ان کے انجام دینے کا راستہ پا سکتا ہے۔ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ بندے میں قوت فاعلہ پیدا کر دے۔ معلوم ہوا کہ اس آیت میں سوال ہمیشہ کے لئے اصل ہدایت ہی کا ہے نہ کہ محض ثابت قدمی کا۔

حقیقت یہ ہے کہ بندہ ان تمام کاموں میں جن کو وہ انجام دیتا ہے یا چھوڑتا ہے، ہدایت کا محتاج ہے۔ اور برابر اسے مزید علم کی ضرورت رہتی ہے اور رہے گی۔ اسی لئے بندہ کے واسطے طلبِ ہدایت سے بڑھ کر کوئی چیز نفع بخش نہیں ہو سکتی۔

سوال18: اهدنا میں ضمیر جمع لائی گئی ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟

جواب: بعض لوگوں نے یہ جواب دیا ہے کہ یہاں انسان کے ہرہر عضو کے لحاظ سے صیغہ جمع لایا گیا ہے۔ گویا ہر عضو ہدایت و فلاح کا طالب ہے لیکن یہ جواب درست نہیں ہے۔ انسان پورے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ الگ الگ ہر عضو اور جز کا۔ جب بندہ اللهم اغفرلي وارحمني کہتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی پوری ذات کے لئے مغفرت و رحمت کا طالب ہے۔ اس وقت اسے اس بات کا خیال ہی نہیں ہوتا کہ میں نے اپنے ہر عضو کے لئے علیحدہ طور پر مغفرت و رحمت طلب کی ہے۔

اصل جواب یہ ہے کہ اهدنا میں جمع کا صیغہ ﴿إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ﴿٥ سے مطابقت کے لئے لایا گیا ہے۔ دونوں جگہ جمع کا استعمال خاص حُسن و عظمت کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنی بندگی، غلامی اور محتاجی کا اقرار کر رہا ہے اور اپنے مالک سے مدد و ہدایت کا طالب ہے۔ گویا یوں کہہ رہا ہے: " ہم سب تیرے غلام ہیں اور تیری بندگی کا اعتراف کرتے ہیں"۔۔۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی غلام اپنے پُر ہیبت با عظمت بادشاہ کے دربار میں عرض کرتا ہے کہ ہم تیرے غلام ہیں، تیرے مملوک ہیں، تیرے تابعدار ہیں۔ تیرے حکم سے کبھی ہم سرتابی نہ کریں گے۔ بادشاہ کے نزدیک یہ انداز درخواست جو اثر اور وقعت رکھتا ہے، وہ واحد صیغہ لانے کی صورت میں حاصل نہ ہو گا: انا عبدك

"میں تیرا غلام ہوں"۔۔۔۔ اور نحن عبدك "ہم تیرے غلام ہیں"

میں بڑا فرق ہے اور اگر غلام یوں کہہ دے کہ " میں تنہا تیرا غلام ہوں" تو بادشاہ کے عتاب سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔"نحن عبيدك" فقرہ بتلا رہا ہے کہ تیرے بندے اور تیرے غلام بہت سے ہیں اور ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ اور ہم سب کے سب تیری غلامی ، اور نصرت و ہدایت کی طلب میں یکساں شریک ہیں۔

یہاں جمع کا صیغہ ربِ اکبر کی عظمت اس کے بندوں کی کثرت اور طالبینِ ہدایت کی فراوانی کو ظاہر کر رہا ہے۔ مفرد صیغہ لانے کی صورت میں یہ فوائد حاصل نہ ہوتے قرآن مجید کی اکثر دعائیں اسی انداز پر آئی ہیں فرمایا:

﴿رَ‌بَّنا ءاتِنا فِى الدُّنيا حَسَنَةً...﴿٢٠١﴾... سورة البقرة

" اے اللہ ہم کو دنیا میں اور آخرت میں نیکی دے"

سورہ بقرہ کا آخری رکوع اور آل عمران کی ابتدائی اور آخری آیتوں میں دعا کا یہی طرز اختیار کیا گیا ہے۔

سوال19: صراطِ مستقیم کیا ہے؟

جواب: صراط مستقیم کی تعریف میں مختلف اقوال و عبارات ملتی ہیں لیکن ہم نہایت مختصر جامع بات کہہ دینا چاہتے ہیں:

صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کے ذریعہ سے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اور اس کو اس انداز سے بنایا ہے کہ اس پر چلنے والا ضروری مالک و خالق کی رضا حاصل کر لے گا۔ خدا تک پہنچنے کا ارو کوئی راستہ ہو ہی نہیں سکتا، سوائے اس کے تمام راہیں بند ہیں۔ یہ راستہ نام ہے: توحيد في عبادة الله اور تفريد في اطاعة الرسول صلي الله عليه وسلم کا۔ یعنی رب کی عبادت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا جائے۔ عبادت و اطاعت خالصا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے انجام دی جائیں۔ بعض عارفین کا قول بھی اس کے ہم معنی ہے کہ "سعادت (خوش نصیبی) اور فلاح (نجات) دونوں خدا سے سچی محبت اور اس سے اچھا تعلق و معاملہ برتنے میں سمٹی ہوئی ہیں"

گویا یہ قول کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله کی تفسیر ہے۔ آپ الصراط کی جو بھی تفسیر کریں گے وہ مذکورہ بالا دو بنیادوں سے باہر نہیں ہو سکتی۔ کلمہ طیبہ کے اقرار کے معنی یہی ہیں کہ پورا دل رب کی محبت میں ڈوب جائے اور ساری کوششیں اس کی خوشنودی کی طلب میں صرف ہو جائیں۔ دل کا کوئی گوشہ ایسا باقی نہ رہ جائے جو اس کی محبت سے آباد نہ ہو، کوئی ارادہ ایسا نہ ہو جو اس کی رضا سے وابستہ نہ ہو۔ پہلی سورت لا اله الا الله کی شہادت کے دل میں جمنے سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری صورت محمد رسول الله کو پوری طرح قبول کرنے سے۔ اسی کا نام الہدی اور دین الحق ہے۔ حق کی معرفت انبیاء کرام کے لائے ہوئے پیغام کا علم اور پھر اس کے مطابق عمل اور پابندی، اسی کو الصراط کہتے ہیں۔ آپ کچھ بھی تفسیر کر لیں لیکن اصل مرکز وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ الصراط کی مندرجہ ذیل تفسیریں اس تفسیر کے ہم معنی ہیں جو اوپر ذکر ہو چکی ہے:

1۔ الصراط نام ہے مشکوة نبوت سے حاصل شدہ ظاہری اور باطنی علوم اور اعمال کا۔

2۔ علمی اور عملی طور پر ظاہر و باطن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع

3۔ توحید کا اقرار اور پھر اس پر ثابت قدم رہنا۔

4۔ پانچ وقت کی نمازیں۔

5۔ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما کی محبت۔

6۔ اسلام کے پانچ ارکان، جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔

یہ تمام اقوال صراط مستقیم کی چند صورتوں، شکلوں اور قسموں کو بیان کرتے ہیں۔ اصل جامع حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔