میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ابھی حال ہی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خواتین کی عالمی کانفرنس ہوئی تاکہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ایک ایسا معاہدہ طے پایا جائے جو بعد میں دنیا بھر کے ملکوں کے لئے بین الاقوامی قانون کی شکل اختیار کر لے، بیجنگ کانفرنس اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی اس طرح کی چوتھی کانفرنس ہے، اس سے پہلے تین کانفرنسیں اِسی موضوع پر ہو چکی ہیں۔ پہلی کانفرنس (75ء) میکسیکو سٹی میں ہوئی جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جس میں 133 ممالک شامل تھے" عورت کے خلاف تمام امتیازی شکلوں کے خاتمے" کے معاہدے پر دستخط کئے، دوسری کانفرنس (80ء) کوپن ہیگن، تیسری کانفرنس (85ء) نیروبی میں اور اب چوتھی کانفرنس اوائلِ ستمبر 95ء میں بیجنگ میں ہوئی، جس میں یہ کوشش کی گئی کہ ان قراردادوں کو منظور کر لیا جائے جو گذشتہ برس آبادی کانفرنس قاہرہ میں منظور نہیں ہو سکی تھیں اور جن کے باعث مغرب کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آ گیا تھا۔

مغرب، اقوام متحدہ کی قیادت میں یہ کوشش کر رہا ہے کہ مغربی معاشرے کو جس اخلاقی بے راہ روی نے تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا ہے اُسے مشرق میں بھی پھیلا دیا جائے جو اب تک اس سے نسبتا محفوظ چلا آ رہا ہے، اور اپنے خبیث مقاصد کے حصول کے لئے جو پروپیگنڈہ مہم اس نے چلا رکھی ہے، کبھی "غربت" کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہے اور کبھی عورت کی آزادی، اس کے حقوق اور مرد و عورت کے درمیان یکسانیت کا مسئلہ کھڑا کر دیتا ہے، اور سِتم یہ ہے کہ اپنی طرف سے ایٹمی اور مالی امداد کو اس نے اپنے اخلاق سوز منصوبوں کے نفاذ کے ساتھ مشروط کر رکھا ہے۔ سو جب تک کوئی ملک اپنی قومی اور مذہبی روایات سے دستبردار ہو کر مغربی طور اطوار نافذ کرنے کے لئے عملا اقدامات نہیں کرتا تب تک مالی امداد کا حصول ناممکن رہتا ہے، مشرق کو مغرب اور خود مغرب کو امریکہ کا غلام بنانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ دنیا بھر کو "نیوز ورلڈ آرڈر" کے تابع کر دیا جائے، خود مغرب کو امریکہ کے ماتحت کر دینے کی ایک کوشش کے طور پر اقوامِ متحدہ نے آئرلینڈ کو جب اس نے ملک میں اسقاطِ حمل اور ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت دی تو 300 ملین ڈالر بطور انعام دئیے۔

ہم سب سے پہلے یہودی اور عیسائی "دانشوروں" کے ترتیب شدہ اس تفصیلی ایجنڈے اور لائحہ عمل پر نظر ڈالتے ہیں جسے اقوام متحدہ نے بیجنگ کانفرنس میں پیش کیا، یہ لائحہ عمل 170 صفحات پر مشتمل ہے، اس میں کانفرنس کا محور گفتگو "مساوات،حقوق اور ترقی" ظاہر کیا گیا ہے، ہم عورت کے متعلق ان تینوں موضوعات پر اسلامی نقطہ نظر بعد میں بیان کریں گے، آئیے پہلے اس ایجنڈے کا سرسری مطالعہ کر لیں جس کی ہر دفعہ اور اس کا ہر پیراگراف صرف شریعتِ اسلامیہ ہی سے نہیں خود عورت کی عفت و عصمت سے ٹکراتا اور غیر فطری کاموں کے ذریعے تمام اخلاقی حدود کو پامال کرنے کی دعوت دیتا ہے، اس لائحہ عمل کے مقاصد درج ذیل نکات میں پیش کئے جا سکتے ہیں:

1۔ مغربی نظریات اور مغرب کے تمام اخلاق سوز مناظر کو اسلامی ممالک کی طرف منتقل کرنا۔

2۔ زناکاری اور ہم جنس پرستی کو باقاعدہ قانونی شکل دینا۔

3۔ خاندان کی بنیادوں کو سرے سے تباہ کرنا۔

4۔ مردو عورت کے درمیان تمام فاصلے ختم کرنا۔

5۔ ہر انسان کو خواہ مرد ہو یا عورت ، اپنی جنس تبدیل کرانے کا اختیار دینا۔

6۔ اولاد کی پرورش سے عورت کو آزاد کرنا کیونکہ یہی ذمہ داری سیاسی میدان میں اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

7۔ نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنی جنسی زندگی کے متعلق مکمل اختیار دینا اور ان پر ہر قسم کے جبر کو روکنے کے لئے قوانین بنانا۔

8۔ جسمانی لذت کے متعلق ہر مرد و عورت کی حریت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا۔

9۔ اسکولوں میں نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی تعلیمات سے روشناس کرانا۔

10۔ مخلوط تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنا۔

11۔ جلدی شادی کرنے کو ہدفِ تنقید بنانا کیونکہ شادی مرد و عورت دونوں کی تعلیمی زندگی میں خلل انداز ہوتی ہے۔

12۔ برتھ کنٹرول، خاندانی منصوبہ بندی اور اسقاطِ حمل کو فروغ دینا۔

13۔ وراثت کے تمام احکام کا خاتمہ کرناکیونکہ اس میں عورت پر ظلم کیا جاتا ہے۔

14۔ گھر سے باہر نکلنے، ملازمت کرنے اور اکیلے سفر کرنے کے جو امور مرد انجام دیتے ہیں، اسی طرح عورت بھی دے تاکہ دونوں کا امتیازی دائرہ کار ختم ہو جائے۔

یہ بیجنگ کانفرنس کے اہداف ہیں اور تعجب ہے کہ اس پورے ایجنڈے میں جو عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے کہیں بھی (خاوند) اور (بیوی) کا لفظ نہیں آیا، اس کی جگہ یہاں "رفیق" یا "شریک"۔۔"نوجوان ماؤں" اور "نابالغ ماؤں" کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اس کانفرنس کے متعلق یہودی ذرائع ابلاغ سے جن لوگوں کو دھوکہ لگا ہے، انہیں دو براعظم امریکا اور آسٹریلیا، جہاں عورت کو قانونی طور پر مکمل جنسی آزادی دی گئی ہے، کی حالتِ زار پر غور کرنا چاہیے کہ وہاں اس آزادی کے ملنے کے بعد خاندانی بنیادوں میں دراڑیں کیوں پڑی ہیں؟ طلاق کی شرح کیوں بڑھی ہے؟ ناجائز جنسی تعلقات میں اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اور "نابالغ ماؤں" کی باقاعدہ ایسوسی ایشنز کیوں تشکیل پائی ہیں؟

یورپ کو اس وقت جس معاشرتی تباہی کا سامنا ہے، اس کے متعلق یہ بتاتے ہوئے کہ اس کا واحد سبب اللہ کے قوانین اور اسلام کے پاکیزہ احکام سے روگردانی کرنا اور ان کا مذاق اڑانا ہے ہم آپ کو یورپ کے چند خوفناک حقائق یاد دلاتے ہیں جنہیں یورپ مشرقی ممالک میں بھی واقع کرنا چاہتا ہے:

(1)زناکاری کا پھیلاؤ

یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں ادیانِ سماویہ نے زنا کو حرام اور زانیوں کو کڑی سزائیں دینے کا حکم دیا ہے لیکن شہوت پرستوں اور شیطان کے پیروکاروں کے خود ساختہ قوانین، زنا کی اجازت دیتے ہیں اور اسے شخصی آزادی سے تعبیر کر کے جرم ہی نہیں گردانتے، نتیجتا معاشرتی زندگی جہنم بن کر رہ گئی ہے اور انسانی معاشروں میں انسان، بھیڑ بکریوں بلکہ خنزیروں کے ریوڑ بن گئے ہیں کہ جن میں اخلاق اور غیرت کا نام تک نہیں ہو گا۔

(2) اپنی اولاد پر جنسی ظلم

جنسی بے راہ روی اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ خود اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ دار خواتین کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، اس لئے ان غلیظ معاشروں میں "گھر" اور "امن سلامتی" کے الفاظ منہ چڑاتے ہیں۔

(3) قتل اولاد

زناکاری کو جائز قرار دینے کا ایک بھیانک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اسقاطِ حمل کے ذریعے اولاد کا بے دریغ قتل کیا جاتا ہے، کسی عورت کو اپنی لذت پرستی کا نشانہ بنا کر مرد تو نئی دوست لڑکیاں تلاش کر لیتا ہے لیکن وہ بے چاری عورت اسقاطِ حمل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے یا بچہ جنم دے کر انتہائی بے دردی کے ساتھ اسے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیتی ہے، اس سلسلے میں اعدادو شمار انسانیت کو شرمندہ کر رہے ہیں۔

(4) دھات بنک اور اولادِ زنا

بے اولاد ماں باپ کی جھولیاں بھرنے کے لئے "دھات بنک" بنائے گئے ہیں، نتیجتا ایسے بچوں کی پیدائش ہوتی ہے جن کے باپ نا معلوم ہوتے ہیں اور ان کے لئے خاندان کا تصور کرنا محال ہوتا ہے، ایک وقت ایسا آئے گا جب حرام کی اولاد کا سلسلہ نسل در نسل چلے گا، یہ نسلیں جذباتِ محبت سے بالکل عاری ہوں گی اور قتل و غارت گری کے ذریعے معاشرے خود بخود تباہ ہو جائیں گے،

جنرل ھیملئن (جنہوں نے "2020ء میں امریکا کا المناک زوال" کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے) کا کہنا ہے:

"امریکیوں نے اخلاقی قدروں کو پامال کر دیا ہے اور اس وقت امریکی معاشرے کو ایسی معاشرتی بیماریوں کا سامنا ہے جو 1945ء سے پہلے معروف نہیں تھیں، اب نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں میں جنسی رجحانات پھیل چکے ہیں۔ حمل، اسقاط حمل اور جنسی امراض کی وجہ سے باپ اپنی اولاد سے بے نیاز ہو گیا ہے، چوری ایک پیشہ بن گئی ہے، منشیات و مخدرات کی وبا پھیل چکی ہے اور جرائم کے اعداد و شمار آسمان کو چھو رہے ہیں"

(5) عورت کی توہین

خود ساختہ ظالم قوانین نے جھوٹی مساوات کا واویلا کر کے عورت کو پہلے کسبِ معاش کے لئے گھر سے نکالا، پھر مرد کو اس پر جھپٹنے کی اجازت دی اور بالآخر عورت وہ " سستا مال" بن کر رہ گئی جسے ہر کمینہ پہلے چاٹتا اور پھر وسطِ راہ پھینک کر چل دیتا ہے، ایک وقت تھا جب گرانقدر موتیوں کی مانند عورت کی حفاظت اس کے گھر میں کی جاتی تھی اور باقاعدہ مہر کی ادائیگی اور گواہوں کی موجودگی میں اعلانِ نکاح کر کے انتہائی عزت و احترام کے ساتھ اس کا ہاتھ اس کے سر پرست سے طلب کیا جاتا تھا لیکن "تحفظِ نسواں" کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان یہی عورت ایک توہین آمیز سستا سودا بن کر رہ گئی ہے۔

(6) ایڈز

بیجنگ کانفرنس میں کینیڈا کی طرف سے پیش کئے جانے والے لائحہ عمل میں صحت کی انٹرنیشنل تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اب تک 19.5 ملین افراد ایڈز کا شکار بن چکے ہیں اور پانچ سال بعد یہ تعداد 40 ملین افراد تک پہنچے گی، اور صحت کے متعلق اقوامِ متحدہ کی ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے:

"ایڈز میں مبتلا ہونے کے امکانات مرد کی بہ نسبت عورت کے لئے دو گنا زیادہ ہیں، پہلے پہلی جب یہ مرض آئی تھی تو عورتوں کی بہت بڑی تعداد، اس میں مبتلا نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس وقت ہم جنس پرستی صرف مردوں میں ہی تھی لیکن اب 8 ملین سے زیادہ عورتیں اس مرض میں مبتلا ہیں اور اس میں نو خیز لڑکیوں کے مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور خطرہ ہے کہ یہ تعداد 2000ء تک 12 ملین سے بڑھ جائے گی اور نوجوان لڑکیوں میں اس کی شرح زیادہ ہو گی"

بیجنگ کانفرنس خود مغرب کی نظر میں

غیرت مند مسلمان تو اس کانفرنس کے ناپاک مقاصد کے مخالف ہیں ہی، خود یورپ کی کئی تنظیمیں اور متعدد شخصیات بھی اس کی مذمت کر چکی ہیں۔ امریکہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی اور اسی طرح کیتھولک گرجا کی جانب سے اس پر شدید الفاظ میں تنقید کی گئی ہے اور امریکن کانگریس میں اکثریتی پارٹی کے قائد اور آئندہ صدارتی انتخابات میں صدارت کے امیدوار مسٹر رابرٹ ھول نے اس کانفرنس کو "گمراہ کن" قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ "اس کانفرنس میں امریکی شرکت نے امریکہ میں ٹیکس ادا کرنے والوں کے حالات پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے" اور ایک مشہور سیاسی رائٹر فیلر کا کہنا ہے کہ "اس کانفرنس کا مقصد امریکی طرز بودوباش کو دوسری قوموں پر مسلط کرنا ہے"

کانفرنس کی تضاد بیانی

کانفرنس میں جو لائحہ عمل پیش کیا گیا اس میں کئی طرح سے تضاد پایا جاتا ہے، چنانچہ ایک طرف عورتوں کے حقوق کا مسئلہ کھڑا کیا گیا ہے اور دوسری طرف محرم و غیر محرم کی تمیز کئے بغیر تمام عورتوں پر جنسی ظلم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک طرف جلدی شادی کرنے پر تنقید کی گئی ہے اور دوسری طرف نوخیز لڑکوں لڑکیوں کو وہ جب چاہیں، لذت پرستی کی اجازت دی گئی ہے، ایک طرف عورت پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا گیا ہے اور دوسری طرف اسقاطِ حمل کی قانونی اجازت دے کر عورت کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور حیرت تو اس بات پہ ہے کہ اس کانفرنس میں بوسنیا، کشمیر، چیچنیا اور فلپائن وغیرہ میں خواتین پر ہونے والے روح فرسا مظالم کا ذکر تک نہیں کیا گیا!!!

اور ترقی کے تمام میدانوں میں عورت کی شرکت پر زور دیا گیا ہے حالانکہ خود صنعتی ممالک کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کسبِ معاش کے لئے عورت کے گھر سے نکلنے کی وجہ سے ترقی کی رفتار میں کمی آئی ہے، مردوں کی بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور اشیائے زیب و زینت کی کھپت میں بے تحاشا مال خرچ ہوا ہے، کیونکہ ایسی چیزیں گھر سے باہر کام کرنے والی ہر خاتون کا لازمی جزوِ حیات ہیں۔

ادھر سیاسی میدان میں بھی عورت کو گھسیٹنے کی باتیں کی گئی ہیں حالانکہ خود انجمن اقوام متحدہ اپنے ذیلی اداروں میں عورت کو سیاسی حق دینے پر تیار نہیں اور ھیلری کلنٹن اپنے ایک مضمون میں جو روزنامہ "الوطن" کویت (95-8-27) میں شائع ہوا، کہتی ہیں:

"آج جبکہ ہم امریکی عورت کو ووٹ کا حق ملنے پر پچھترویں سالگرہ منا رہے ہیں، امریکن خواتین اب بھی ووٹنگ سنٹرز میں جانے سے گھبراتی ہیں، اور ووٹ ڈالنے والی خواتین کی جو تعداد تیس سال قبل تھی، موجودہ تعداد اس سے کہیں کم ہے"

اس سے معلوم ہوتا ہے جس معاشرے کو امریکہ آئڈیل معاشرہ تصور کرتا ہے، وہاں بھی عورت کی سیاسی میدان میں شرکت اس طرح نہیں جس طرح اقوام متحدہ اس کا مطالبہ کرتی ہے۔

مسلم ممالک اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اس کانفرنس کے مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مسلم ممالک اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے لادین مادر پدر آزاد نکات کی شدید مذمت کریں اور اس سے پہلے کہ مالی امداد کی لالچ اور پسماندگی اور رجعت پسندی کے طعنے دے کر "تیسری دنیا" کے ممالک پر ان قراردادوں کو مسلط کر دیا جائے جو دراصل دنیا بھر کے معاشروں کو "نئے عالمی نظام" کے بدنما بھیس میں ڈھالنے اور ناپاک یورپی معاشروں اور پاکیزہ اسلامی معاشروں کے درمیان تمام امتیازات کو ختم کرنے کے لئے منظور کی گئیں، ان کو ماننے سے انکار کر دیں اور اپنی قوموں کو یہ باور کرائیں کہ عورت کے متعلق اسلام کے فطری قوانین ہی عورت کو عزت، پاکدامنی اور عفت و عصمت کی مکمل ضمانت دیتے اور خاندانی بنیادوں کی حفاظت کرتے ہیں، جس اللہ نے زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان پوری کائنات کو عجیب و غریب ڈھنگ سے پیدا کیا، اسی کا بنایا ہوا نظامِ زندگی ہی انسان کی فلاح کا ضامن ہے، جہاں اور جب کبھی اس نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، زبوں حالی اور تباہی و بربادی اس کا مقدر بن گئی۔

لیکن افسوس ہے کہ یورپ کے نام نہاد "مساوات ، حقوق اور ترقی" جیسے کھوکھلے نعروں سے متاثر ہو کر بعض مسلم خواتین بھی اپنے متعلق اسلامی قوانین کو اپنی تذلیل و توہین تصور کرنے لگ گئی ہیں اور ایسی ہی خواتین نے بیجنگ کانفرنس میں شرکت کر کے بجائے ملی و دینی غیرت کا مظاہرہ کرنے کے مغربی اور مغرب زدہ عورتوں کی ہاں میں ہاں ملائی اور دنیا بھر کی خواتین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسلام بھی ایک لبرل اور ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد مذہب ہے، تاہم وہ دیندار مسلم خواتین اور دینی جماعتیں لائقِ تحسین ہیں جنہوں نے بے حیائی کے مرکز میں پہنچ کر بھی عورت کے متعلق ان اسلامی قوانین کا بھرپور دفاع کیا اور ان کے متعلق صحیح اسلامی تصور پیش کیا جنہیں یورپ بگڑی شکل میں پیش کر کے ہدفِ تنقید بناتا ہے۔ (حافظ محمد اسحاق زاہد)