زبان صرف اظہار خیالات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ ہر زبان کے پیچھے ایک تہذیب و ثقافت بھی ہوتی ہے عربی زبان تو قرآن و حدیث کی زبان ہے، اسی لئے وہ خالق کائنات کی معرفت اور دین فطرت کی ترجمانی کا ایک مخصوص مزاج بھی رکھتی ہے اس لئے یہ مسلمانوں کی بین الاقوامی زبان ہے۔ چونکہ اسلامی شریعت کے نہ صرف تمام بنیادی ماخذ عربی زبان میں ہیں بلکہ یہی زبان مسلمانوں کے روشن ماضی اور علمی ورثہ کی امین بھی ہے، اس لئے اس سے لا تعلقی ہمیں اپنے شاندار ماضی سے کاٹ دیتی ہے گویا اس زبان سے ہمارا علمی ، ثقافتی، تاریخی اور دینی رشتہ ہے۔ پھر ہمارے لئے یہ خوش بختی ہے کہ عربی دنیا کی دوسری تمام زبانوں پر تعبیری اعتباری سے بھی فوقیت رکھتی ہے۔

حسن اتفاق سے عالم اسلام اس وقت جغرافیائی طور پر نہ صرف مربوط ہے بلکہ بیش قیمت قدرتی مادی وسائل سے مالامال بھی ہے۔ دنیاوی ترقی کے لئے عالم اسلام کے وسائل کی یکجائی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کو عالم اسلام میں متعدد وجوہ کی بناپر جو بلند مقام حاصل ہے اسے قائم رکھنے اور دشمنوں کی سازشوں سے بچانے کے لئے عالم اسلام سے وابستہ رکھنا شدید ضروری ہے جس کا ایک تقاضا عرب ممالک سے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کا فروغ ہے جو عربی زبان میں افہام و تفہیم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ گویا عربی زبان نہ صرف ہماری دینی ضرورت ہے بلکہ ہماری سیاسی ضرورتوں کی کفیل بھی ہے۔ عربی زبان میں افہام و تفہیم کی آسانی کی صورت، اسلامی ممالک کے متنوع شعبوں کے ماہرین صلاحتیوں کا بہتر طور پر تبادلہ کر سکتے ہیں جس سے یہ زبان ان کی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کے دفاع کی ضامن بھی ہو گی۔

برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی مذہبی گروہ بندی اور تعصب کی ایک بڑی وجہ عربی زبان سے ناواقفی بھی ہے۔ عربی زبان سے واقفیت ہمیں منابع شریعت قرآن و حدیث سے براہ راست استفادے کا اہل بنا دے گی جو مسلمانوں کے درمیان باہمی تقریب کا باعث ہو گا۔ اس طرح نفرتیں کم ہو کر ملی استحکام حاصل ہو گا۔

مذکورہ بالا مقاصد کے پیش نظر مدینۃ الرسول کی عظیم یونیورسٹی "جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ" نے دنیا کے مختلف ممالک میں عربی زبان کو فروغ دینے کی سکیم بنائی ہے جس میں علماء کے لئے ریفریشر کورس بھی شامل ہیں۔ ان کورسوں کا زیاہ تر اہتمام تعطیلات گرما میں ہوتا ہے جن میں مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ تعلیمی اور تربیتی خدمات انجام دیتے ہیں۔ لیکن لاہور میں اس دفعہ خصوصی اہتمام یہ تھا کہ علماء کے ریفریشر کورس کے علاوہ قانون دانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی عربی زبان اور اسلامی شریعت کی تعلیم میں بڑی گرمجوشی سے حصہ لیا، ان کے لئے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز (المعهد العالي للشريعة والقضاء) نے مخصوص کورس تشکیل دے کر ایک مستقل پروگرام وضع کیا تھا جس کی تفصیلات شیخ الجامعہ مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی نے امسال اپنے امریکہ کے دورہ سے قبل حج کے موسم میں مدینہ یونیورسٹی کے ذمہ داروں سے بات چیت کر کے طے کی تھیں۔ چنانچہ موصوف جب اپنے حالیہ دورہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ سے وپس آئے تو مدینہ یونیورسٹی کا تعلیمی پروگرام تیار تھا، جامعہ کی عمارتوں کی تنگ دامانی اور علماء اور قانون دانوں کے دو مستقل پروگراموں کے پیش نظر خصوصی انتظامات کئے گئے۔

ریفریشر کورس برائے علماء

اس کورس میں جملہ مکاتب فکر کے علماء کو بلا امتیاز شرکت کا موقعہ دیا گیا جن میں اہم دینی مدارس کی آخری کلاس کے طلبہ بھی شامل تھے۔ مورخہ یکم جولائی 1995ء سے کورس کے انچارج ڈاکٹر محمد سدیس کی آمد سے داخلہ کے انٹرویو شروع کر دئے گئے۔ علماء کی بہت بڑی تعداد داخلہ کی خواہشمند تھی لیکن مسلسل تین دن انٹرویو کے بعد 165 طلبہ کو داخلہ دیا گیا۔ تعلیم کے اوقات روزانہ صبح 8 تا 1 بجے دوپہر تھے جس میں تین مختلف کلاسیس بنائی گئیں۔ اس دوران جامعہ ہذا کے اپنے طلبہ کی تعلیم بھی باقاعدہ جارہ رہی۔ مہمان طلبہ کے بہتر انتظامات کے لئے جامعہ کی بعض کلاسوں کو جامعہ کے دو ذیلی اداروں میں ایک ماہ کے لئے بھیج دیا گیا۔ جامعہ ہذا کے طلبہ میں سے 25 طلبہ اس دورہ میں شریک ہوئے۔

تین ہفتہ کے دورانیہ پر محیط یہ کورس اساتذہ اور طلبہ کی ان تھک محنت سے نخیر و خوبی جاری رہا۔ انتظامی امور کی اس قدر پابندی کروائی گئی کہ ایک یوم غیر حاضر ہونے والے کو کورس سے خارج کرویا جانا تھا۔ دیگر نظم و نسق بھی مثالی رہا۔ طلبہ کو درسی کتب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی طرف سے فراہم کی گئیں اور دیگر امور مثلا قیام و طعام کے تمام اخراجات جامعہ ہذا نے برداشت کئے۔ مورخہ 27 جولائی کو تحریری امتحان پر یہ کورس اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء کورس کی افادیت پر کافی مطمئن دکھائی دیتے تھے۔ صرف تین ہفتہ کے عرصے میں بھرپور نصاب کو تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا۔ پڑھائے جانےوالے علوم درج ذیل تھے:

تفسیر قرآن، حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، اصول حدیث، تقابل ادیان، علم نحو و صرف، ادب و انشاء، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم، التربیۃ و طرق التدریس

کورس برائے قانون دان حضرات

وکلاء اور جج حضرات، عدلیہ کے دوستون ہیں۔ وطن عزیز میں اسلامی شریعت کے نفاذ کو موثر بنانے کے لئے ضرروی ہے کہ ایسے قانون دان تیار کئے جائیں جو ملک کی دینی علمی ضرورت کو پورا کریں۔ اس غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر مجلس تحقیق اسلامی عرصہ 15 سال سے قانون دان حضرات کی دینی تربیت کے لئے کوشاں ہے۔

اس بار بھی اس کورس کے انعقاد پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ اس سے قانون دان حضرات کو بھی شریعت اور زبان عربی سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ لہذا لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج حضرات اور بار کے خصوصی تعاون اور شوق سے مجلس کو اعزاز حاصل ہوا کہ اس ریفریشر کورس میں عدلیہ کے اہم اور نمایاں افراد کی اتنی بڑی تعداد نے شرکت کی جس کی مثال اس سے قبل پرائیوٹ طور پر ہونے والے کورسوں میں ملنا مشکل ہے۔ وکلاء کے ساتھ ساتھ لاہور کے بعض نامور دانشور حضرات نے بھی اس کورس کو رونق بخشی۔

5 جولائی کو ہونے والے انٹرویو کے لئے ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ جن میں خواتین جج اور وکلاء بھی شامل تھیں چنانچہ اسلامی تہذیب کے امتیازی پہلو کے پیش نظر خواتین کے لئے با پردہ نشست کا انتظام کیا گیا۔ اس کلاس میں ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے دس جج صاحبان کے علاوہ سیشن اور سول جج حضرات کی کثیر تعداد تھی۔ کل شرکاء کورس 108 حضرات تھے جن میں جج اور وکلاء کے علاوہ 26 خواتین شامل تھیں، اسلامک ویلفئیر ٹرسٹ کے زیر انتظام مختلف مقامات پر قائم سنٹرز کی معلمات بھی شریک ہوئیں۔ شوق کا یہ عالم تھا کہ ایک بڑی تعداد شیخوپورہ، پتوکی اور قصور سے روزانہ تشریف لاتی رہی۔

ہفتہ اور جمعہ کے سوا بعد نماز عصر تین گھنٹے روزانہ مجلس تحقیق اسلامی کی لائبریری (بمقام 99- جے ماڈل ٹاؤن) میں لیکچر ہوتے ہیں۔ جن میں عربی زبان پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی، مختلف موضوعات پر محاضرات میں بھی اصل مقصد، عربی زبان کی تفہیم و تدریب کو پیش نظر رکھا گیا۔ مولانا مدنی صاحب نے بھی "Islamic Legal Maxims" پر مفید لیکچر دئیے۔

مدینہ منورہ یونیورسٹی کے تعاون سے جاری ہونے والا یہ کورس 27 جولائی 1995ء کو اختتام پذیر ہوا۔

تقریب تقسیم اسناد

موسم کی حدت اور شرکاء کی کثرت کے پیش نظر تقریب تقسیم اسناد کا اہتمام Olives Restaurantڈیفنس سوسائٹی لاہور کینٹ میں کیا گیا۔ جس کا اختتام ظہرانہ پذیر ہوا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے محتسب اعلیٰ جسٹس عبدالشکور سلام تھے۔ تقریب میں سعودی مذہبی اتاشی اور عرب ممالک کے سفارتی نمائندے شریک ہوئے۔

حافظ حمزہ مدنی کے تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں مولانا عبدالرحمن مدنی صاحب نے ادارہ کا مختصر تعارف اور پاکستان و سعودی عرب کے اسلامی اخوت پر مبنی تعلقات پر تبصرہ کیا اور مہمان حضرات کو خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا۔ اس کے بعد مدینہ منورہ سے تشریف لانے والے معزز مہمان ڈاکٹر عبدالرحمان محی الدین (خطیب مسجد قبلتین) نے اس کورس کے کامیاب انعقاد پر ادارہ کا شکریہ ادا کیا اور سعودی حکومت کی طرف سے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ ادارہ کے حسن انتظام اور کارگردگی کو سراہا اور اسے پاکستان کے لئے ایک نعمت قرار دیا، بعد ازاں مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ایک اور مہمان ڈاکٹر مہدی عمار نے جامعہ لاہور الاسلامیہ میں اس کورس کے کامیاب انعقاد پر عربی میں ایک طویل قصیدہ حاضرین کے گوش گزار کیا۔

ادارہ کی طرف سے جسٹس رفیق تارڑ صاحب (چئیرمین) نے ان کی نیک خواہشات پر تشکر آمیز کلمات کہے اور فرمایا کہ شرکاء کے لئے یہ امر سب سے زیادہ برکت کا باعث ہے کہ اس کورس کے نتیجے میں جاری ہونے والے سر ٹیفکیٹ سے ان کا تعلق مدینۃ الرسول سے قائم ہو گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں متعین سعودی مذہبی اتاشی کو دعوت خطاب دی گئی۔ بعد ازاں محتسب اعلیٰ جسٹس اے-ایس سلام نے ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سدید کی معیت میں شرکاء کو اسناد تقسیم کیں۔ آخر میں ڈاکٹر عبدالرحمان محی الدین نے مسلمانوں کے باہمی تعلقات میں فروغ ، عربی زبان کی نشرو اشاعت، امت مسلمہ کے لئے دین و دنیا کی سرفرازی اور کامیابی کے لئے دعائیں کیں۔

ورلڈ شریعت میں کونسل قصور کی تنظیم و تشکیل

مورخہ 5 ستمبر 1995ء کو اہلحدیث وکلاء قصور کے زیر اہتمام ضلع کچہری قصور میں ایک اجلاس ہوا۔ جس میں ورلڈ شریعت کونسل اور جمعیت وکلاء اہلحدیث قصور کی تنظیم و تشکیل کی گئی۔ شرکاء مندرجہ ذیل تھے:

1۔ محترم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب (نائب صدر ورلڈ شریعت کونسل)۔۔۔۔2۔محترم جناب خواجہ حفیظ اللہ صاحب، ایڈووکیٹ۔۔۔۔3۔ محترم میاں جمشید حسین کھوکھر، ایڈووکیٹ (صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قصور)۔۔۔4۔ سردار محمد احمد، ایڈووکیٹ (نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن قصور)۔۔۔5۔ میاں محمود احمد، ایڈووکیٹ ۔۔۔۔6۔مفتی کفایت اللہ، ایڈووکیٹ۔۔۔۔7۔چوہدری محمد نعیم، ایڈووکیٹ۔۔۔۔8۔ چوہدری محمد یعقوب، ایڈووکیٹ۔۔۔9۔ چوہدری محی الدین، ایڈووکیٹ۔۔۔10۔ عطاء اللہ بھٹی، ایڈووکیٹ۔۔۔۔11۔حاجی صدیق اکبر انصاری، ایڈووکیٹ۔۔۔۔12۔محمد رفیق چوہدری، ایڈووکیٹ۔۔۔۔13۔چوہدری عبدالمجید، ایڈووکیٹ۔۔۔14۔ چوہدری مدثر نواز، ایڈووکیٹ۔۔۔۔15۔ چوہدری عبدالرشید خان، ایڈووکیٹ۔۔۔۔16۔ محمد شفیق اکرم اعوان، ایڈووکیٹ۔۔۔۔17۔ حاجی محمد حنیف کمبوہ، ایڈووکیٹ۔۔۔۔18۔ محمد ظفر اقبال، ایڈووکیٹ۔۔۔۔19۔ ایم سرور خان سنگل، ایڈووکیٹ۔۔۔۔20۔ ملک غلام قادر، ایڈووکیٹ۔۔۔۔21۔ چوہدری اصغر علی گجر، ایڈووکیٹ۔۔۔۔22۔چوہدری مسعود احمد ظفر، ایڈووکیٹ۔۔۔۔23۔ رانا محمد سرور، ایڈووکیٹ۔۔۔۔24۔چوہدری محمد شریف زاہد، ایڈووکیٹ۔۔۔۔25۔ چوہدری محمد شفیق، ایڈووکیٹ۔۔۔۔26۔سردار محمد انور تھیم، ایڈووکیٹ۔۔۔۔27۔مولانا عبدالعظیم انصاری (امیر جمعیت اہلحدیث قصور)۔۔۔۔28۔ پروفیسر عبدالغفور راشد (ناظم اعلیٰ جمیعت اہلحدیث قصور)۔۔۔۔29۔ قاری محمد حنیف طیب (ناظم مرکزی جمیعت اہلحدیث، قصور)۔۔۔۔30۔ پروفیسر عبدالحکیم سیف (مہتمم جامعہ محمدیہ قدوسیہ کوٹ رادھاکشن قصور)۔۔۔۔31۔ پروفیسر زاہد احمد (گورنمنٹ ڈگری کالج، قصور)۔۔۔۔32۔ پروفیسر طاہر حسین (گورنمنٹ ڈگری کالج قصور)۔۔۔۔33۔چوہدری نعمت علی کوکب۔۔۔34۔ ڈاکٹر عبدالعلیم (نائب ناظم جمیعت اہلحدیث،وصور)۔۔۔35۔ مولانا محمد ابراہیم خادم قصوری۔۔۔۔36۔ مولانا محمد ابراہیم کاظم (نائب امیر جمیعت اہلحدیث ضلع قصور)۔۔۔۔37۔ مولونا محمد اکرم سالک (ناظم نشرواشاعت اہلحدیث، قصور)۔۔۔۔38۔ قاری محمد صدیق الحسن۔۔۔۔39۔ حافظ احسان الرحمٰن (صدر اہلحدیث یوتھ فورس سٹی قصور)۔۔۔۔40۔ خلیل الرحمٰن ثاقب (جنرل سیکرٹری، اہلحدیث یوتھ فورس ضلع قصور)۔۔۔۔41۔ شیخ محمد فاروق۔۔۔۔42۔ حافظ محمد طاہر۔۔۔۔43۔ پروفیسر محمد سعید عابد۔۔۔۔44۔ فیاض احمد۔۔۔۔45۔ محمد شریف۔۔۔۔46۔اعجاز احمد۔۔۔۔۔47۔ ظفر شیر انصاری۔۔۔۔48۔ حفیظ الرحمٰن یزدانی۔۔۔۔49۔ اختر حسین۔۔۔۔50۔ محمد اسماعیل۔۔۔۔51 ملک نذیر احمد۔۔۔۔۔52۔ قاری محمد منیرقاسم۔۔۔۔53۔ مولانا معراج الدین معراج۔۔۔۔54۔ افتخار احمد۔۔۔۔55۔ محمد نذیر۔۔۔۔56۔ عبدالعزیز۔۔۔۔57۔ عمر فاروق خان۔۔۔۔58۔ حافظ محمد طارق۔۔۔۔59۔ سیف اللہ خالد۔۔۔۔۔60۔ مولانا بشیر احمد۔۔۔۔61۔ مولانا سید نور اللہ شاہ۔۔۔۔62۔ فضل دین ۔۔۔۔63۔ ڈاکٹر محمد یعقوب۔۔۔۔64۔ اصغر علی ارشد۔۔۔۔65۔ عامر محمود۔۔۔۔66۔ پروفیسر محمد اسلم چوہدری صاحب

کاروائی اجلاس جمیعت وکلاء اہلحدیث قصور

مورخہ 5 ستمبر 1995ء کو بوقت 3 بجے سہ پہر بار روم ضلع کچہری قصور میں وکلاء اہلحدیث قصور کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وکلاء کے علاوہ ضلع قصور کے سرکردہ علماء، پروفیسر اور ڈاکٹر صاحبان نے خاص طور پر شرکت کی۔ نوعیت کے اعتبار سے اگرچہ قصور میں یہ پہلا اجلاس تھا بہرحال اس کے باوجود حاضری بہت تسلی بخش تھی۔ تمام حضرات نے بڑے جوش، جذبہ اور خلوص کے ساتھ شرکت کی۔ لاہور سے جناب مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب (ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ستڈیز۔ شریعت و قضا) مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے جن کے ہمراہ جناب خواجہ حفیظ اللہ، ایڈووکیٹ بھی تھے۔

اجلاس کی باقاعدہ کاروائی تلاوت قرآن پاک سے ہوئی۔ جناب قاری محمد اکرم سالک صاحب کی تلاوت کے بعد مولانا معراج الدین صاحب نے نعت پڑھی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض میاں محمود احمد (ایڈووکیٹ) نے انجام دئیے۔

چوہدری محمد نعیم (ایڈووکیٹ) نے حاضرین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ حاضرین کا جذبہ، خلوص اور تعاون اسی طرح رہا تو ان شاءاللہ نفاذ شریعت کی کامیابی میں ہم اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ مزید کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو معاشرتی ، معاشی، سیاسی اور اخلاقی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں ان کو ختم کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

مفتی کفایت اللہ، ایڈووکیٹ قصور نے اپنی تقریر میں نفاذ شریعت کے روشن دور میں عدل و انصاف کی مثالیں دیں اور موجودہ حالات کا جائزہ پیش کیا۔ کہا کہ اگر ایمان کی مضبوطی ہو تو پھر صحیح عدل ہو سکتا ہےے۔ مزید کہا کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور دیگر خلفاء کے اصولوں اور فیصلوں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم اپنے معاشرے کو اسلام کے مطابق ڈھال سکیں۔

جناب خواجہ حفیظ اللہ صاحب، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (جنرل سیکرٹری ورلڈ شریعت کونسل) نے کہا کہ قصور میں ورلڈ شریعت کونسل اور جمیعت وکلاء اہلحدیث دونوں کو منظم اور فعال کیا جائے۔ مزید کہا کہ مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین بھیج رہی ہے جو کہ وہاں انڈین آرمی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، اور متعدد مجاہدین، کافروں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمیعت اہلحدیث کے شعبہ جہاد کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ انہوں نے وکلاء قصور کو دعوت دی کہ آپ ہمارے ساتھ کشمیر چلیں تاکہ ہم آپ کو مجاہدین کے کارنامے اور خدمات دکھا سکیں۔

آخر میں انہوں نے چوہدری محمد نعیم (ایڈووکیٹ) کو ورلڈ شریعت کونسل کا مرکزی رابطہ سیکرٹری اور مفتی کفایت اللہ (ایڈووکیٹ) کو جمیعت وکلاء سلفیہ، قصور کا کنوینر مقرر کیا۔ تاکہ قصور میں دونوں تنظیموں کو منظم کیا جا سکے۔

جناب مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب، نائب صدر ورلڈ شریعت کونسل کی تقریر پر مغز اور علمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز، شریعہ اور جوڈیشری لاہور علمی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہاں ہائی کورٹ لاہور کے جج صاحبان، سیشن جج صاحبان اور سول جج صاحبان کی ایک بڑی تعداد تربیت حاصل کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ وکلاء کو بھی ان کا ادارہ مختلف کورس کرواچکا ہے۔ اس ادارہ میں بڑے بڑے سکالر علماء لیکچر دیتے رہے ہیں جو کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلامی قوانین سے آگاہ کرتے ہیں یہ کورسز وقتا فوقتا ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا اس طریقے پر وہ نفاذ شریعت کے لیے عملی جدوجہد کر رہے ہیں۔مزید کہا کہ قصور کے علماء اور وکلاء کا جذبہ خلوص قابل قدر ہے، اور اگر یہ دونوں طبقے مشترکہ طور پر سنجیدگی سے کوشش کریں تو اسلامی نظام کے نفاذ میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ مزید کہا کہ ورلڈ شریعت کونسل کے تحت مختلف قسم کے مذاکرے، سیمینار منعقد کروائے جائیں گے۔ تاکہ علمی اعتبار سے فائدہ حاصل ہو سکے۔

آخر میں مولانا عبدالعظیم انصاری، امیر سٹی قصور مرکزی جمیعت اہلحدیث نے دعا کروائی اور اجلاس اختتام پذیر ہوا۔