میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی اور قیادت کے لئے انبیاء کرام علیھم السلام جیسی مقدس اور پاکیزہ ہستیوں کو مبعوث فرمایا اور اس کی ابتداء ابوالبشر جناب آدم علیہ السلام سے فرمائی اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر فرمایا:

﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً...﴿٣٠﴾... سور ة البقرة

"اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے فرمایا: بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں"

اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلافتِ الہی یعنی زمین پر اپنی نیابت بخشی،گویا انسان ، خود قانون ساز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو انسانوں پر نافذ کرنا، اس کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کے صالح بندے ہی رکھتے ہیں:

﴿وَلَقَد كَتَبنا فِى الزَّبورِ‌ مِن بَعدِ الذِّكرِ‌ أَنَّ الأَر‌ضَ يَرِ‌ثُها عِبادِىَ الصّـٰلِحونَ ﴿١٠٥﴾... سور ةالانبياء

"اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لِکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بنادے ہوں گے"

چونکہ انبیاء کرام علیھم السلام اللہ تعالیٰ کے منتخب شدہ بندے ہوتے ہیں لہذا اس عہدہ کے لئے اُن سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کی ابتداء جناب آدم علیہ السلام سے فرمائی اور انبیاء کرام علیھم السلام کی اطاعت کو انسانوں پر لازم قرار دیا:

﴿وَما أَر‌سَلنا مِن رَ‌سولٍ إِلّا لِيُطاعَ بِإِذنِ اللَّهِ...﴿٦٤﴾... سور ة النساء

"اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے جو رسول بھی بھیجا، اسی لئے بھیجا کہ اللہ کے اِذن کی بنا پر اُس کی اطاعت کی جائے"

جناب داؤد علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿يـٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنـٰكَ خَليفَةً فِى الأَر‌ضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ... ﴿٢٦﴾... سورةص

"اے داؤد(علیہ السلام)! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا لہذا آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کریں کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی"

دنیا میں غلبہ اقتدار اورر قیادت کی ذمہ داری بھی صرف اہلِ ایمان ہی کا حق ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

﴿وَلا تَهِنوا وَلا تَحزَنوا وَأَنتُمُ الأَعلَونَ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿١٣٩﴾... سورة آل عمران

"دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَر‌ضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ار‌تَضىٰ لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا ۚ يَعبُدونَنى لا يُشرِ‌كونَ بى شَيـًٔا ۚ وَمَن كَفَرَ‌ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٥٥﴾... سورة النور

"اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔1 اُن کے لئے، اُن کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں"

1.انسان کی زمین میں خلافت باہمی انسانوں کے درمیان ہی ہے جیسا کہ اس آیت میں تصریح ہے۔ سورۃ بقرہ کی ﴿إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً﴾آیت میں انسان کے زمین میں خلیفہ پیدا کرنے کے یہی معنی ہیں۔ بعض حضرات نے "اپنا خلیفہ" کا غلط ترجمہ کیا ہے حالانکہ اس آیت میں نہ آدم کا ذکر ہے اور نہ ہی خلیفہ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ کیونکہ انسان کا اقتدار و اختیار بھی اللہ کی مخلوق ہوتا ہے نہ کہ خالق کی صفت۔ اللہ کی کوئی صفت جزوی طور پر بھی کسی انسان میں مان لی جائے یا انسان کی کسی صفت کو اللہ کی صفت سے تشبیہ دے دی جائے تو شرک لازم آتا ہے (لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ‌) محدث

اہل ایمان کو جب خلافت مل جائے تو ان کی اولین ذمہ داری یہ ہوں گی:

﴿الَّذينَ إِن مَكَّنّـٰهُم فِى الأَر‌ضِ أَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ وَأَمَر‌وا بِالمَعر‌وفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّهِ عـٰقِبَةُ الأُمورِ‌ ﴿٤١﴾... سورة الحج

"یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے"

صالح قیادت کے ذریعے ریاست کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہو جائیں، اس لئے کہ امتِ مسلمہ کو اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے عالمگیر اصول کی علمبردار امت بنایا ہے:

﴿وَكَذ‌ٰلِكَ جَعَلنـٰكُم أُمَّةً وَسَطًا لِتَكونوا شُهَداءَ عَلَى النّاسِ وَيَكونَ الرَّ‌سولُ عَلَيكُم شَهيدًا...﴿١٤٣﴾... سورة البقرة

"اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو"

انبیاء کرام علیھم السلام کی بعثت کا مقصد بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے:

﴿لَقَد أَر‌سَلنا رُ‌سُلَنا بِالبَيِّنـٰتِ وَأَنزَلنا مَعَهُمُ الكِتـٰبَ وَالميزانَ لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسطِ...﴿٢٥﴾... سورة الحديد

"ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایت کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں"

خلافت ایک امانت ہے اور یہ اسی شخص کو دی جائے جو اس کا حقدار ہو:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها وَإِذا حَكَمتُم بَينَ النّاسِ أَن تَحكُموا بِالعَدلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمّا يَعِظُكُم بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعًا بَصيرً‌ا ﴿٥٨﴾... سورة النساء

"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سُنتا اور دیکھتا ہے"

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"قرآن حکیم نے لفظ "امانات" بصیغہ جمع استعمال فرمایا۔ جس میں اشارہ ہے کہ امانت صرف یہی نہیں کہ کسی کا کوئی مال کسی کے پاس رکھا ہو جس کو عام طور پر امانت کہا اور سمجھا جاتا ہے بلکہ امانت کی کچھ اور قسمیں بھی ہیں۔۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں، وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں، جس کے امین وہ حُکام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ میں عزل و نصب کے اختیارات ہیں، ان کے لئے جائز نہیں کہ کوئی عیدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کر دیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ ہر کام اور ہر عہدہ کے لئے اپنے دائرہ حکومت میں اس کے مستحق کو تلاش کریں"

مولانا ابوالاعلیٰ موددی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں:

"یعنی تم ان برایوں سے بچے رہنا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہو گئے ہیں۔ بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انحطاط کے زمانہ میں امانتیں، یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سرداری کے مرتبے (Positions of Trust)ایسے لوگوں کو دینے شروع کر دئیے جو ناہل، کم ظرف، بداخلاق، بددیانت اور بدکار تھے نتیجہ یہ ہوا کہ برے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم ایسا نہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جو ان کے اہل ہوں، یعنی جن میں بارِ امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو"

احادیث میں بھی حکومت اور ان کے مناصب کو امانت قرار دیا گیا ہے:

جناب ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی جگہ کا حاکم مقرر نہیں فرماتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مونڈھے کو تھپک کر فرمایا:

يا أباذر إنك ضعيف وإنها أمانة وإنها يوم القيمة خزي وندامة إلامن أخذها بحقها وأدى الذي عليه فيها وفي رواية قال له يا أباذر إني أراك ضعيفا وإني أحب لك ما أحب لنفسي لا تامرن علي اثنين ولا تولين مال يتيم

"اے ابوذر! تو کمزور ہے اور یہ (امارت) ایک امانت ہے اور بے شک قیامت کے دن یہ ذلت و رسوائی کا سبب بنے گی۔ البتہ جس شخص نے حق کے ساتھ اس کو لیا اور اس کے سلسلہ میں جو حق اس پر واجب ہے، اسے ادا کیا" (تو اس کے لئے ذلت و رسوائی نہیں ہو گی) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "اے ابوذر میں تجھے کمزور پاتا ہوں (تو امارت کے بوجھ کو نہ اٹھا سکے گا) اور میں تیرے لئے بھی اسی چیز کو پسند کرتا ہوں کہ جسے اپنے لئے پسند کرتا ہوں تو دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کی ولایت اپنے ذمہ لینا"

جناب ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إنكم ستحرصون علي الأمارة وستكون ندامة يوم القيمة فنعم المرضعة وبسئت الفاطمة

"بے شک تم لوگ امارت کی حرص کرو گے اور قیامت کے دن تمہیں اس کی وجہ سے ندامت اور شرمندگی ہو گی۔ پس یہ امارت ایک انا کی طرح ہے کہ دودھ پلاتے وقت تو مزہ اور دودھ چھٹتے وقت تکلیف"

اس حدیث میں ایک عمدہ مثال کے ذریعے امارت کی برائی کو بیان کیا گیا ہے یعنی جب حکومت ملتی ہے تو بڑا لطف آتا ہے لیکن جب یہ چِھن جاتی ہے تو اس کا شدید رنج ہوتا ہے اور قیامت کے دن، اس پر جو ندامت و شرمندگی ہو گی تو اس وقت کے عذاب کی شدت کا اندازہ ہی مشکل ہے۔ جناب عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

يا عبدالرحمن لا تسأل الأمارة فإنك إن اُوتيتها عن مسئلة وكلت إليها وإن اُوتيتها عن غير مسئلة اُعنت عليها

"اے عبدالرحمن! امارت کا سوال نہ کر اس لئے کہ اگر مانگنے سے تجھے حکومت ملے گی تو تُو حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا (یعنی اللہ اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا) اور اگر بِن مانگے تجھے حکومت مل جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مدد کی جائے گی"

جناب ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے چچا کے دو بیٹے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکومت دی ہے اس میں سے ہمیں بھی کسی جگہ کا حاکم مقرر کر دیجئے؟ اور دوسرے نے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیا۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إنا لا نولي علي هذا العمل أحدا سأله ولا أحد احرص عليه وفي رواية قال لا نستعمل علي عملنا من اراده

"بےشک ہم کسی کو اس حکومت کا حاکم مقرر نہیں کرتے کہ جو اس کا سوال کرے اور نہ اس کو کہ جو اس کی حرص کرے" اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "ہم اس شخص کو اس کام کا حاکم مقرر نہیں کرتے کہ جو اس کا ارادہ رکھتا ہو"

جناب ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تجدون من خير الناس أشدهم كراهية لهذا الأمر حتي يقع فيه

"تم ان لوگوں کو بہترین پاؤ گے جو امارت و حکومت کو بہت زیادہ برا سمجھتے ہوں حتی کہ وہ اس میں واقع ہو جائیں۔"

ان احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلافت و امارت ایک امانت ہے اور یہ امانت اسی شخص کے سپرد کی جائے کہ جو حکومت طلب نہ کرے اور نہ ہی اس کے دل میں حکومت حاصل کرنے کی لالچ و حرص موجود ہوں۔ امیر یا خلیفہ کے انتخاب کے لئے مسلمانوں کے اہل حل و عقد میں سے جو مجلس شوریٰ منتخب ہو وہ اپنے ہی سب سے زیادہ متقی، عالم اور باصلاحیت شخص کا انتخاب کرے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے جناب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لئے وصیت لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا لیکن پھر یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ارادہ سے باز آگئے کہ:

يأبي الله ويدفع المؤمنون أو يدفع الله ويأبي المؤمنون

"اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ کی خلافت کے علاوہ دوسرے کی خلافت کا انکار کرے گا اور مومنین بھی دوسرے کی خلافت کو تسلیم نہ کریں گے۔ یا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دفع کر دے گا اور مسلمان بھی دوسرے کی خلافت کا انکار کر دیں گے"

اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عشرہ مبشرہ میں سے چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو منتخب کر کے ان میں ایک کو خلافت کے لئے منتخب کرنے کی ذمہ داری کو اہل حل و عقد پر چھوڑ دیا تھا کیونکہ مسلمانوں کے ایسے اہم اُمور مسلمانوں کی شوریٰ کے ذریعے طے ہوتے ہیں:

﴿وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾... سورةالشورىٰ

"اور (اہل ایمان کی یہ خوبی ہے کہ) وہ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپ کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق اُنہیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں"

اور آل عمران: 159، میں مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ﴿وَشاوِر‌هُم فِى الأَمرِ‌﴾

مغربی جمہوریت میں یہ بات ضروری ہے کہ امیدوار اپنے آپ کو حکومت کے عہدے کے لئے پیش کرے اس کے لئے مہم چلائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے ہم نوا بنانے کی کوشش کرے اور اب تو لیلائے اقتدار تک پہنچنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں اور پھر اقتدار میں وہ لوگ جا پہنچتے ہیں جو اس عہدے کے لئے بالکل ہی نا اہل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دھوکےباز، وعدہ خلاف، فراڈی اور فاسق و فاجر ہوتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں اسلام کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسے نا اہل کو حکومت کی کوئی ذمہ داری سونپنا اسلام کی روح کے منافی ہے:

حضرت ابویرہرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے پوچھا قیامت کب آئے گی۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فإذا ضيعت المانة فانتظر الساعة قال: كيف إضاعتها؟ قال إذا اُوسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة

"جب امانت کو ضائع کر دیا جائے تو تو قیامت کا انتظار کر۔ اس نے پوچھا: امانت کو کس طرح جائع کیا جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حکومت نا اہل کے حوالے کر دی جائے تو تُو قیامت کا انتظار کر"

اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان اور باغی حکومت کے کسی بھی عہدہ کے لئے نا اہل ہے۔ اسی طرح عورت بھی مردوں پر حکمران نہیں بن سکتی کیونکہ وہ بھی حکومت کے کسی بھی منصب کے لئے نا اہل قرار دے دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿الرِّ‌جالُ قَوّ‌ٰمونَ عَلَى النِّساءِ بِما فَضَّلَ اللَّهُ بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ وَبِما أَنفَقوا مِن أَمو‌ٰلِهِم...﴿٣٤﴾... سورةالنساء

"مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس بناء پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں"

قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ اور یہی کام حاکم کا بھی ہوتا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مرد کے عورتوں پر قوام ہونے کی دو وجوہات ذکر فرمائیں ہیں۔پہلی یہ کہ فطری طور پر مرد کو عورت پر فضیلت و برتری دی گئی ہے اور دوسری یہ کہ مرد عورتوں پر اپنا مال بھی خرچ کرتے ہیں۔ لہذا ہر لحاظ سے وہ قوام ہیں۔ غرض نبوت، خلافت، امامت وغیرہ جیسے امور کا ذمہ دار مرد ہی کو قرار دیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ مرد صنفِ قوی بھی ہے جبکہ عورت صنفِ نازک1 ہے اور بارِ خلافت اٹھانے کی اہلیت اس میں موجود نہیں ہے:

1 مرد کے دائرہ کار میں عورت کی ذمہ داری کے اعتبار سے واقعی بہت کمزور ہے جبکہ اپنے دائرہ کار ولادت و حجانت اور مرد کی زیر نگرانی ، گھر کی دیکھ بھال جیسے اُمور میں بہت کامیاب ثابت ہوتی ہے۔ (محدث)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب یہ خبر پہنچی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حاکم بنا لیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لن يفلح قوم ولوا أمرهم امراة

"وہ قوم کبھی فلاح نہ پائے گی جس نے اپنے ملک کا حاکم عورت کو بنا لیا ہو"

قرآن کریم کی آیات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صالح قیادت میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہوں گی:

1۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں گے۔

2۔ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول مانیں گے اور ہر معاملہ میں اُن کی ہی اطاعت کریں گے۔

3۔ یہ انتہا درجے کے متقی خدا ترس اور نیک لوگ ہوں گے یہ خلافت کے امیدوار نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کے دل میں خلافت و امارت کی طمع و حرص ہو گی۔

4۔ یہ نماز اور زکاۃ کے نظام کو قائم کرنے والے اور نیکی کا حکم دینے والے اور برائیوں کا قلع قمع کرنے والے ہوں گے۔

5۔ یہ دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کرنے والے ہوں گے۔

6۔ یہ انتہا درجہ کے ذمہ دار لوگ ہوں گے کیونکہ ان کو احساس ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مسئول ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته

"تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہو گا" (صحیح بخاری)

7۔ یہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کرتے رہیں گے۔

اسلامی مملکت میں حکومت کا حق

قرآن مجید کا طرزِ استدلال یہ ہے چونکہ اس کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والا وہ اللہ ہے جو کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ لہذا امر کا حق (Right of Rule) بھی اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (Dominion) میں اس کی مخلوق پر اس کے سوا کسی دوسرے کا حکم نافذ ہونا صریحا غلط ہے جیسا کہ سورۃ الاعراف (آیت:54) میں ہے:

﴿أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ‌﴾

"دیکھو مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے اور حکم بھی اس کا ہے"

اور سورہ کہف (آیت:26) میں ہے:

﴿وَلا يُشرِ‌كُ فى حُكمِهِ أَحَدًا﴾

"اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بناتا"

اور سورۃ آل عمران (آیت:154) میں:

(يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلْأَمْرِ‌ مِن شَىْءٍ ۗ قُلْ إِنَّ ٱلْأَمْرَ‌ كُلَّهُۥ لِلَّهِ)

"لوگ پوچھتے ہیں کیا حاکمیت میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ حاکمیت تو بس اللہ ہی کی ہے"

انسان کو صرف اس قانون کی پیروی کرنی ہے جو مالکُ الملک نے بنایا ہے اس کے قانون کو پس پشت پھینک کر جو شخص یا ریاست خود قانون بناتی ہے یا اللہ سے ہٹ کر کسی اور کے بنائے ہوئے قانون1 کو تسلیم کرتی ہے اور اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ قرآن مجید اسے طاغوت اور باغی قرار دیتا ہے اور اس کے فیصلے پر عمل کرنے والا بھی بگاوت کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے:

1 قانون کا لفظ نظام کے معنوں میں ہے، ورنہ اللہ کے قانون کے لئے محتاط لفظ "حکم و احکام" کے ہیں۔ (محدث)

(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ)

اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے یہی لوگ ہیں جو کفر صریح کا ارتکاب کر رہے ہیں" (المائدہ: 44)

سورۃ النساء (آیت:60) میں ہے:

(أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِ‌يدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُ‌وٓا أَن يَكْفُرُ‌وا بِهِۦ)

"کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں، اس وحی و تنزیل پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبیوں پر نازل کی گئی اور پھر چاہتے ہیں کہ اللہ کے باغی اور سرکش انسانوں کو اپنا حاکم ٹھہرائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوتی قانون کو تسلیم نہ کریں"

اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگ دوسرے انسانوں کو اربابا من دون الله کے بجائے ایک اللہ کو اپنا رب مانیں اور اسی کی حاکمیت اور قانون کو تسلیم کریں۔

صالح قیادت کے قیام کا طریقہ کار

دنیا میں صالح قیادت کے قائم ہونے کا طریقہ کار وہی ہے جو ہمیں انبیاء کرام علیھم السلام نے بتایا۔ انسانوں نے جب بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش کر کے اپنے نفس کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی اختیار کر کے من مانی کرنے لگے اور اللہ کے ورے بے شمار معبودانِ باطلہ کو پوجنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت وراہنمائی کے لئے انبیاء کرام علیھم السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا۔ انبیاء کرام علیھم السلام نے ان کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دی اور دوسرے تمام معبودانِ باطلہ سے اجتناب کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہی اپنی پیروی و اطاعت کا بھی حکم دیا:

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّـهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ فَسِيرُ‌وا فِي الْأَرْ‌ضِ فَانظُرُ‌وا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ ﴿٣٦﴾...سورة النخل
"ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا ہے اور اس کے ذریعے سے سب کو خبردار کر دیا کہ" اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو" اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جٹھلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے"

﴿وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴿٢٥...سورة الابنياء
"ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو"

اللہ کے آخری نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی دعوت کا آغاز مکہ مکرمہ سے فرمایا اور تیرہ سال تک لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف دعوت دیتے رہے اور اس دعوت کے نتیجے میں ہر طرح کے مصائب و مشکلات کو برداشت کیا۔ اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ انہیں اس کی خاطر اپنا محبوب وطن کہ مکرمہ بھی چھوڑنا پڑا اور ہجرت کے مراحل طے فرمائے اور جب مدینہ تشریف لائے تو دس سالہ مدنی دور میں دن رات جہاد ایسے فریضہ کو ادا فرماتے رہے۔ کیونکہ دعوت و تبلیغ کے بعد جہاد لازم ہو جاتا ہے:

﴿لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُ‌هُ وَرُ‌سُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢٥﴾...سورة الحديد
"ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیاں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور ہم نے فولاد بھی اتارا جس میں جنگ کی شدید (طاقت) ہے اور لوگوں کے لئے دوسرے منافع بھی ہیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے"

مدنی دور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کل اکیاسی جنگیں لڑیں جن میں سے ستائیس جنگوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس شامل رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سال کی دن رات کی محنت سے تین سو تیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تیار ہوئے تھے لیکن جب جہاد و قتال کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر لوگوں نے (فِي دِينِ ٱلله أَفْوَاجًا) کا سماں بھی دیکھا کہ لوگ فوج در فوج ، دین میں داخل ہو رہے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أمرت أن اُقاتل الناس حتي يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلوة ويوتو الزكوة فإذا فعلو ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام وحسابهم علي الله

"مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں، جب تک کہ وہ اس کا اقرار نہ کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرنے لگیں پھر جب وہ ایسا کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو بچا لیں گے اور صرف اسلام کا حق ان پر رہے گا اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے"

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

بعثت بين يدي الساعة حتي يعبد الله وحده لا شريك له وجعل رزقي تحت ضل رمحي وجعل الذلة والصفار علي من خالف امري ومن تشبه بقوم فهو منهم

"میں قیامت سے پہلے (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہوں، تاکہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی جائے اور میرا رزق نیزے کی اَنیّ میں رکھا گیا اور جو میرے حکم کی مخالفت کرے گا، اس پر ذلت و رسوائی مقرر کی گئی ہے اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا"

جہاد قیامت تک اہلِ ایمان پر فرض قرار دیا گیا ہے:

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْ‌هٌ لَّكُمْ...٢١٦﴾...سورة البقرة
"تم پر قتال فرض قرار دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے"

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّـهِ...١٩٣﴾...البقرة
"اور تم ان سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ کے لئے ہو جائے"

﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَلَا يُحَرِّ‌مُونَ مَا حَرَّ‌مَ اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُ‌ونَ ﴿٢٩﴾...سورة التوبة
اور قتال کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے، اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے (ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں"

"یعنی لڑائی کی غایت یہ نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور دینِ حق کے پیرو نہ بن جائیں بلکہ اس کی غایت یہ ہے کہ ان کی بالا دستی ختم ہو جائے۔ وہ زمین میں حاکم اور صاحبِ امر بن کر نہ رہیں بلکہ زمین کے نظام زندگی کی باگیں اور فرمانروائی و امامت کے اختیارات متبعینِ دینِ حق کے ہاتھوں میں ہوں اور وہ ان کے ماتحت تابع اور مطیع بن کر رہیں"

جہاد ایک ایسا فریضہ ہے کہ جس سے دین ہمیشہ زندہ رہتا ہے، لہذا دین کے احیاء اور اقامت کے لئے جہاد کا فریضہ ادا کرنا ضروری ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّ‌سُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ...٢٤﴾...سورة الانفال
"اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اُس چیز (یعنی جہاد) کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے"

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جب جہاد کا سلسلہ شروع کیا تو وہ پوری دنیا میں پھیل گئےاور جہاد و قتال اور ایمان کی برکت سے دین پوری دنیا میں پھیل گیا:

﴿هُوَ الَّذِي أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَ‌هُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿٢٨﴾...سورة الفتح
"وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنےرسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے"

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إن الله ذوي لي الأرض فرأيت مشارقها و مغاربها وإن أمتي سيبلغ ملكها ما زوي لي منها

"اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے سمیٹ لیا پس میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور عنقریب میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی کہ جہاں تک زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی تھی"

حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين

"یقینا یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا کہ جہاں تک دن اور رات پہنچے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی بھی بڑےاور چھوٹے گھر کو نہیں چھوڑے گا مگر اس دین کو وہاں داخل کرے گا"

ترک جہاد ذلت و رسوائی کا سبب ہے

اللہ کا یہ دین مشرق و مغرب یعنی پوری دنیا میں جہاد ہی کی برکت سے پھیلا تھا اور جب سے مسلمانوں نے جہاد کو ترک کر دیا تو ذلت و رسوائی بھی ان کا مقدر بن گئی اور دنیا سے ان کا وہ رعب و دبدبہ ختم ہو گیا تو جو جہاد کی بدولت ان کو حاصل ہوا تھا:

﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّ‌بَاطِ الْخَيْلِ تُرْ‌هِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِ‌ينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّـهُ يَعْلَمُهُمْ...٦٠﴾...سورة الانفال
"اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداء کو خوف زدہ کر دو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے"

اگر آج مسلمان اجتماعی طور پر جہاد کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیں اور جہاد کے لئے تیار ہو جائیں تو دشمن پر خوف و دبدبہ چھا جائے گا جیسا کہ افغانستان میں جب مسلمانوں نے جہاد شروع کیا تو ایک سپر طاقت کا دنیا سے وجود ہی مٹ گیا اور جب کشمیر، بوسنیا وغیرہ میں بھی جہاد کی تحریکیں اٹھنا شروع ہو گئی تو امریکہ، اسرائیل اور بھارت پر لرزہ طاری ہو چکا ہے لہذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ دوبارہ جہاد کی راہ کو اختیار کریں تاکہ ان سے یہ ذلت و رسوائی دور ہو جائے:

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"قریب ہے کہ دوسری (غیر مسلم) قومیں تم سے لڑنے اور تمہیں مٹانے کے لئے اس طرح ایک دوسرے کو بلائیں کہ جیسے کھانا کھانے والے دوسرے (بھوکے) لوگوں کو دسترخوان پر بلاتے ہیں" یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کسی نے پوچھا: " وہ لوگ پم پر اس لئے غلبہ حاصل کر لیں گے کہ اس وقت ہم تعداد میں ہو گے لیکن ایسے جیسے کہ دریا یا نالوں کے کنارے پانی کے جھاگ ہوتے ہیں ( یعنی تم نہایت کمزور اور ضعیف ہو گے) تمہارا رعب اور ہیبت دشمنوں کے دل سے نکل جائے گی اور تمہارے دلوں میں وھن کی بیماری پیدا ہو جائے گی" کسی نے عرض کیا " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم "وھن" (ضعف و سستی) کیا چیز ہے ؟"

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حب الدنيا وكراهية الموت۔۔۔۔۔"دنیا کی محبت اور موت سے سے نفرت"

یعنی اس دور میں مسلمان مادیت کی دوڑ میں اتنے آگے ہوں گے کہ دنیا کی محبت ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جائے گی جس کے نتیجہ میں وہ موت سے ڈرنے لگیں گے اور اس طرح جہاد فی سبیل اللہ کو وہ ترک کر دیں گے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا:

إذا تبايعتم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلالا ينزعه حتي ترجعوا إلي دينكم

"جب تم بیع عینہ (سود کی ایک قسم) کو اختیار کرو گے اور گائے بیل کی دُمیں تھام لو گے اور کھیتی سے خوش رہو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دے گا اور تم سے ذلت دور نہ کرے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ"

اس حدیث میں جہاد کو دین قرار دیا گیا ہے پس ثابت ہوا کہ جہاد سے دین کی بقا ہے اور جب جہاد ختم ہو گیا تو دین ختم ہو جائے گا۔

حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

لن يبرح هذا الدين قائما يقاتل عليه عصابة من المسلمين

" یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور (اس کی بقا کے لئے) مسلمانوں کی ایک جماعت (کہیں نہ کہیں) ہمیشہ جہاد کرتی رہے گی یہاں تک قیامت قائم ہو"

ایک دوسری حدیث میں بھی اسی طرح کا مضمون بیان ہوا ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں " اس امت کے آخری لوگ حضرت عیسی علیہ السلام سے مل کر مسیح دجال کے خلاف جنگ کریں گے"

خلاصہ کلام

ثابت ہوا کہ صالحین کی ایک جماعت کو دین کے قیام کے لئے قربانیاں دینی ہوں گی اور صحیح ایمان و عقیدہ کو اختیار کر کے اور طاغوت کا انکار کر کے قوم کو ایک اللہ کی توحید کی طرف دعوت دینا ہو گی اور شرک کا سختی سے رد کرنا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا تصور بھی اجاگر کرنا ہو گا اور ہر دعوت حق کے نتیجہ میں ہجرت اور پھر جہاد ایسی راہوں سے بھی گزرنا پڑے گا:

﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُ‌وا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ يَرْ‌جُونَ رَ‌حْمَتَ اللَّـهِ ۚ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿٢١٨﴾...سورة البقرة
"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا، وہ رحمتِ الہی کے جائز امیدوار ہیں، اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے"

غرض ان خار دار اور کٹھن راہوں سے گزر کر ہی صالح قیادت کاخواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
حوالہ و حواشی

نیابت صرف اسی ذات کی ہو سکتی ہے جسے موت یا ایسی ہی کسی کمزوری کی بنا پر کار سازی سے دور رکھا جا سکے جبکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر و تدبیر کائنات کی کسی شے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتی۔ کیونکہ وہ انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسے کبھی نیند یا اونگھ بھی نہیں آتی۔ جن حضرات نے انسان کے لئے نیابتِ الہی کا فلسفہ گھڑا ہے وہ نائبِ الہی ہونے کی حیثیت سے ہی انسانی فرد یا اجتماع کو اللہ کی طرف سے قانون سازی کا اختیار دیتے ہیں جو تقلید کی بنیاد ہے۔ باقی رہا انسان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خود پیروی اور دوسروں سے عملداری کی کوششیں جس کے لئے اقامتِ دین یا نفاذ ِ شریعت کی اصطلاح استعمال کیا جاتی ہے۔ تو اس کے لئے اللہ کی نیابت کی قطعا ضرورت نہیں، یہ کام بندہ الہی ہونے سے بھی بخوبی ممکن ہے۔ دراصل یہ مغالطہ امام مہدی وغیرہ کے بارے میں بعض ضعیف احادیث میں وارد "خلیفۃُ اللہ" کے لفظ سے داخل ہوا ہے حالانکہ وہاں اضافت تشریفی ہے جس طرح ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) بیتُ اللہ (اللہ کاگھر) روح اللہ (اللہ کی روح، عیسی علیہ السلام) میں اضافت شرف دینے کے لیے کی گئی ہے اور یہ شرف بھی اسی بنا پر ہے کہ امام مہدی شریعت کی عملداری قائم کریں گے۔ مذکورہ بالا چیزوں میں اضافت حقیقی مان لی جائے تو شرک لازم آئے گا۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:من اعتقد ان الانسان خليفة الله فقد كفر (فتاویٰ کبریٰ:ج2) جو شخص انسان کو اللہ تعالیٰ کا خلیفہ عقیدہ رکھے وہ کافر و مشرک ہے۔ واضح رہے کہ قرآن کریم یا کسی صحیح حدیث میں خلیفہ کی اضافت بھی اللہ کی طرف سے نہیں ملتی (محدث)

الانبیاء:105

النساء:64

ص:26

آل عمران:139

النور:55

الحج:41

البقرہ:143

الحدید:25

النساء:58

معارف القرآن جلد دوم ص446،طبع ادارۃ المعارف کراچی41

تفہیم القرآن جلد اول ص362

صحیح مسلم كتاب الأمارة باب كراهة الأمارة بغير ضرورة'مشكاة المصابيح كتاب الأمارة والقضاء

صحیح بخاري کتاب الأحکام باب مايكره من الحرص علي الأمارة

صحیح بخاري کتاب الأحکام باب من سأل أمارة وكل إليها-صحيح مسلم كتاب الأمارة باب النهي عن طلب الأمارة والحرص عليها-مشكاة المصابيح باب الأمارة والقضاء

صحیح بخاری و صحیح مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح1089/2طبع بیروت

صحیح بخاری و صحیح مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح1090/2-الرقم 3684 طبع بیروت

صحیح بخاري کتاب المرضی-مشکاة المصابیح باب وفاة النبي صلی اللہ علیه وسلم صحیح مسلم فضائل صحابة

صحیح بخاری کتاب الجنائز باب ماجاء في قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم

الشوری:38

صحیح بخاری کتاب العلم باب من سئل علما وهو مشتغل في حديثه

النساء:34

تفہیم القرآن جلد اول صفحہ 349

صحیح بخاری-مشکاة المصابیح کتاب الأمارة والقضاء

(ماخوذ) اسلامی ریاست کے چند ناگریز تقاضے ص4تاص6 مصنف مولانا سید ابوبکر غزنوی رحمۃ اللہ علیہ طبع شعبہ علوم اسلامیہ انجئینرنگ یونورسٹی لاہور

النحل:36

الانبیاء:25

الحدید:25

صحیح بخاری و صحیح مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح کتاب الایمان

رواہ أحمد في مسندہ (2/50-92) (طبع بیروت) و رواہ البخاري معلقا في الجهاد باب ما قيل في الرماح-وقال ابن حجر عسقلاني: وفي الإسناد عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان مختلف في توثيقه-وله شاهد مرسل بإسناد حسن أخرجه ابن أبي شيبه من طريق الأوزاعي عن سعيد بن جبلة عن النبي صلي الله عليه وسلم بتمامه (فتح الباری6/98 طبع دار نشر الکتب الإسلامیة لاهور) وقال الألباني: وإسنادہ حسن (مشکاۃ المصابیح2/1246 طبع بیروت)

البقرۃ:216

الانفال:39

التوبہ:29

(ماخوذ) تفہیم القرآن جلد دوم ص188

34 الانفال:24

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اعلموا أن الجنة تحت ظلال السوف (اور جان رکھو کہ جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے) صحیح بخاري کتاب الجھاد والسیر باب الجنة تهت بارقة السيوف

35 الفتح:28

صحیح مسلم کتاب الفتن، مختصر صحیح مسلم المذری ص531 (طبع المکتب الاسلامی بیروت و (دمشق) و رواہ أبوداود والترمذي وصححہ وابن ماجه وأحمد في مسندہ (5/278،284-4/123) مشکاة المصابیح کتاب الفضائل والشمائل باب فضائل سید المرسلین (3/1602) الرقم: 5750-سلسلة الأحادیث الصحیحة (1/7) طبع بیروت

مسند احمد (4/103) مستدرک لامام حاکم (4/430) سنن الکبریٰ لامام البہیقی (9/181) مجمع الزوائد (6/14)، 8/262) وقال الهیثمي: رواہ أحمد والطبراني ورجال الصحیح

الانفال: 60

رواہ أبوداود و البیهقي في دلائل النبوة (مشکاۃ المصابیح 3/1475 وقال الألباني: وھو حدیث صحیح-وقال الأستاذ زبیر علی زئي حفظه اللہ وإسنادہ حسن لشاھدہ الذي عند أحمد (5/278) وغیرہ راجع الصحیحة الألبانی رقم 985 وحاشیۃ شرح السنۃ (15/16) بحوالہ: الجدیدہ ص166 مصنفہ ابوجابر عبداللہ دامانوی

سنن أبي داود کتاب البیوع باب في النبي عن العینة،السنن الکبریٰ للبیهقي (5/316) مسند احمد (2/28،42،84) صححہ الالبانی (الصحیحہ1/15)

صحیح مسلم بحوالہ مشکاۃ المصابیح کتاب الجھاد

سنن ابی داؤد مشکاۃ الصابیح

البقرۃ:218