رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم شریعت
اللہ نے تاکیدا مکمل اطاعت رسول کا حکم فرمایا ہے
حدیث نبوی کا منکر کافر ہے
قرآن میں مذکور لفظ الحکمۃ کے معنی سنت ہیں
سنت نبوی بھی وحی پر مبنی ہے
سنت نبوی بھی قرآن کی طرح محفوظ ہے
اصول شریعت میں حدیث و سنت کی ثانوی حیثیت ناقابل قبول ہے
عدم اتباع سنت، انکار رسالت کے مترادف ہے

وحی اور اقسام وحی

لغوی اعتبار سے کسی چیز کی خفیہ طور پر اور جلدی اطلاع دینا "وحی" کہلاتا ہے۔ چونکہ اس میں اخفاء کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ اس لیے آئمہ لغت کے نزدیک کتابت،رمزواشارہ اور خفیہ کلام سب "وحی" کی تعریف میں آتا ہے۔ لیکن "وحی" کا اصطلاحی مفہوم، اس لغوی معنی کی نسبت خاص ہے۔ شرعی اصطلاح سے میں وحی سے مراد اللہ عزوجل کا اپنے منتخب انبیاء کو اخبار واحکام منجانب اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ اصطلاحی معنی میں "وحی" کا مصدر و ماخذ اللہ عزوجل اور اس کا مورد انبیاء علیھم السلام ہوتے ہیں۔ قرآن میں کسی منتخب نبی پر "وحی" بھیجنے کے تین طریقے مذکور ہیں:

(وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ‌ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَ‌آئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْ‌سِلَ رَ‌سُولًا فَيُوحِىَ بِإِذْنِهِۦ مَا يَشَآءُ ۚ)

" اور کسی بشر کی یہ مجال نہیں کہ اللہ اس سے ہمکلام ہو مگر (1) وحی (الہام) کے ذریعے یا (2) حجاب کی آڑ سے یا (3) کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ اس کے حکم سے جو اس کو منظور ہو بصورت وحی پیغام دے جائے"

قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی "وحی" کی یہ صورت مذکور ہے:

(وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّ‌وحُ ٱلْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِ‌ينَ ﴿١٩٤﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِىٍّ مُّبِينٍ ﴿١٩٥﴾)

"اور یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے، اس کو امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے۔ آپ کے قلب پر صاف عربی زبان میں تاکہ آپ من جملہ ڈرانے والوں میں سے ہوں"----اور

(وَكَذَ‌ٰلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُ‌وحًا مِّنْ أَمْرِ‌نَا)

"اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس بھی اپنا حکم وحی کیا"

لیکن یہاں (رُ‌وحًا مِّنْ أَمْرِ‌نَا) سے مراد صرف قرآن کریم نہیں ہے لیکن "وحی" کا وہ حصہ بھی ہے جو الفاظ کی بجائے معانی میں نازل ہوا اور جزو قرآن نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

(إِنَّآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ كَمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ نُوحٍ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ مِنۢ بَعْدِهِۦ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ وَإِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ وَٱلْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَـٰرُ‌ونَ وَسُلَيْمَـٰنَ ۚ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورً‌ا)

"ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جس طرح کہ ہم نے وحی بھیجی تھی نوحؑ اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف اور ہم نے حضرت ابراہیم،اسماعیل،اسحاق،یعقوب،ان کی اولاد عیسی،ایوب،یونس،ہارون،اورسلیمان (علیھم السلام) کی طرف وحی بھیجی اور ہم نے حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور عطا کی"

عام مسلمان بھی جانتا ہے کہ ان انبیاء میں سے اللہ عزوجل نے صرف ابراہیم، عیسی،داؤد اور محمد علیھم السلام کو "کتاب" عطا فرمائی تھی۔ دوسرے تمام انبیاء جن کا آیت بالا میں ذکر ہے ان کو جو "وحی" اللہ عزوجل کی جانب سے بھیجی گئی تھی، وہ ان چار صحف سماوی کی طرح متلو نہ تھی بلکہ ان کی حیثیت غیر متلو کی تھی۔

چونکہ اصطلاحا "وحی" کے معنی موحی بہ"(یعنی وہ احکام جو بذریعہ وحی نازل ہوتے ہیں)کے ہیں۔ لہذا سورۃ النساء کی اس آیت کی روشنی میں "وحی" کی دو قسمیں ہوئیں:

(1) وحی متلو----(2) وحی غیر متلو

"وحی" کی ان اقسام کے متعلق امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ہم پر یہ چیز واضح ہو چکی ہے کہ شریعت میں قرآن اصل المرجوع ہے لیکن جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کا واجب ہونا بھی ملتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف میں اللہ عزوجل کا یہ ارشاد بھی نظر آتا ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) "اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بتاتے ہیں، ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے" ---- پس اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل کی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی گئی وحی دو اقسام میں منقسم ہے:

پہلی قسم: وحی متلو جو مولف تالیفا اور معجز النظام یعنی قرآن کریم ہے۔

دوسری قسم: وہ وحی جو مروی و منقول، غیر مولف، غیر معجز النظام اور غیر متلو ہے۔ وحی کی یہ قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جو ہمارے لئے اللہ عزوجل کی مراد و منشاء کے مبین تھے، سے مروی اخبار پر مبنی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) ----اور ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس دوسری قسم کی وحی کی اطاعت بھی پہلی قسم کی وحی (یعنی قرآن کریم) کی طرح بلا تمیز واجب کی ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (وَأَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ)

اور علامہ مفتی محمد شفیع صاحب "معارف القرآن" میں "قرآن و سنت کی حقیقت" کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

" اس سے اس کلام کی حقیقت معلوم ہو گئی جو بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ وحی کی دو قسمیں ہیں: متلو (جو تلاوت کی جاتی ہو) اور غیر متلو (جو تلاوت نہیں کی جاتی) وحی متلو قرآن کا نام ہے جس کے معانی اور الفاظ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اور غیر متلو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے، جن کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں اور معانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں"

(1)وحی متلو: وحی متلو سے قرآن کریم مراد ہے جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت صادقہ کی زندہ دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس وحی میں تصرف کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

(وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّ‌وحُ ٱلْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾)

"یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہے۔ روح الامین اس کو لے کر اُترے ہیں"

اس کی حفاظت و صیانت کی ذمہ داری خود اللہ عزوجل نے لے رکھی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ)

"بے شک ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں"

اس "وحی" کی یہ عظیم خصوصیت ہے کہ اس کی تلاوت حالت نماز اور خارج از نماز دونوں صورتوں میں عبادت اور باعث اجروثواب ہے۔ اسکی روایت بالمعنی قطعا جائز نہیں۔ وحی کی یہ قسم بہراعتبار معجزہ ہے،چنانچہ ارشادہوتا ہے:

(قُل لَّئِنِ ٱجْتَمَعَتِ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا ٱلْقُرْ‌ءَانِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِۦ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرً‌ا)

"یعنی کہہ دیجئے کہ اگر (تمام) انسان اور جنات جمع ہو کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہ لا سکیں گے (اگرچہ) وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں"

(2)وحی غیر متلو: اس سے مراد "وحی" کا وہ حصہ ہے جو کتاب اللہ کا جزو نہ ہو اور نہ ہی جس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اسے آپ سنن نبوی کہہ سکتے ہیں۔ جس کی دلیل یہ آیات ہیں:

(وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ) ---اور

(مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ)

وحی متلو و غیر متلو میں فرق

قرآن مجید اور سنت نبوی، دونوں کے مبنی بروحی ہونے کے باوجود، ان دونوں کے مابین مندرجہ ذیل اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے:

(1)قرآن کے برخلاف حدیث کے معانی و مطالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتے ہیں جنہیں آپاپنے الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں۔

(2)قرآن کے برخلاف حدیث کی روایت بالمعنی اکثر صحابہ و محدثین کے نزدیک جائز رہی ہے۔

(3)قرآن کے برخلاف حدیث کے الفاظ اعجاز سے خالی ہیں۔

(4) قرآن کے برخلاف حدیث کے الفاظ کی تلاوت شامل عبادت نہیں ہے۔

(5) قرآن کے برخلاف حدیث، رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خواب و بیداری ہر دو حالتوں میں نازل ہوئی ہے۔

(6) قرآن کے برخلاف حدیث کے الفاظ جبریلؑ کی وساطت کے بغیر بھی نازل ہوئے ہیں۔

(7)اگرچہ قرآن و سنت دونوں افصح الکلام ہیں لیکن قرآن کے برخلاف حدیث کے مثل لے آنے کا چیلنج نہیں کیا گیا ہے۔

(8)اگرچہ قرآن و سنت دونوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ عزوجل نے لی ہے لیکن قرآن کے برخلاف ھدیث کے الفاظ لوح محفوظ میں لکھے ہوئے نہیں ہیں۔

وحی کا کچھ حصہ کو "الفاظ" میں اور کچھ کو "معانی" میں نازل کئے جانے کی مصلحت

اللہ عزوجل نے تمام سابقہ شریعتوں پر شریعت محمدی کو دیگر فضائل کے علاوہ ایک اہم فضیلت یہ بھی بخشی ہے کہ اپنے نازل کردہ احکام کے کچھ حصہ کو "الفاظ" کے ساتھ نازل فرمایا اور کچھ کو "معانی" کے ساتھ۔ یہ اس کی انتہائی رحمت و حکمت کا ہی تقاضا تھا کہ اس نے وحی کو اس طرح دو اقسام میں تقسیم فرمادیا۔ اس کی ایک قسم، جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ وہ ہے جس کی روایت بالمعنی ان لوگوں کے لیے جائز ہے جو اس کی اہلیت سے بہرہ ور ہوں۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے دراصل اپنے بندوں پر اپنی عنایات خصوصی سے تنگی و تکلیف کا ازالہ فرمایا ہے۔ چونکہ حدیث سے اصل الفاظ کا التزام اور اس کی تلاوت مقصود نہیں ہوتی بلکہ اصلی مراد و مطلوب تو اس کا مضمون ہوتا ہے لہذا سنت کے الفاظ کو معنی کی علامت ٹھہرانے سے امت مسلمہ کو جو سہولت میسر آ سکی ہے، وہ کسی ذی شعور پر مخفی نہیں۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وحی کی اس تقسیم میں تحفظ شریعت، سہولت امت اور اتمام حجت کا راز پوشیدہ ہے۔ اگر وحی کی ہر دو صنف میں قرآن کریم کی طرح ہی منزل الفاظ کا التزام و اہتمام ضروری ہوتا تو انسانی زندگی کے اُمور جس قدر کثیر ہیں، وہ کسی ایک کتاب میں نہیں سما پاتے بلکہ ان کے لیے تو کئی ضخیم دفاتر درکار ہوتے ۔ ایسی صورت میں بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ امت کس قدر بڑی دشواری میں مبتلا ہو سکتی تھی، عین ممکن تھا کہ وہ اس عظیم ذمہ داری سے بطریق احسن عہدہ بر آ نہ ہو سکتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت معلم شریعت

ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ عزوجل نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت سے مشرف فرما کر آپ پر قرآن کریم نازل کیا اور بحیثیت معلم، اس کی تشریح و توضیح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ منصبی قرار دیا، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(1) وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ

"اور ہم نے آپ پر ذکر کو اس لئے نازل کیا تاکہ آپ انسانوں کے لئے اسے کھول کر بیان کر دیں جو کچھ ان لوگوں کی طرف اتارا گیا ہے۔"

(2) وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ

"ہم نے آپ پر کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کے لئے اس کی تبین و توضیح فرما دیں"

(3) إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَ‌أْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩﴾

"بے شک ہمارے ذمہ اس کا جمع کرنا اور پڑھا دینا ہے پس جب ہم اس کو پڑھ دیں تو آپ اس کی اتباع کریں، پھر بے شک ہمارے ذمہ اس کا بیان بھی ہے۔"

(4) لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ

""بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں پر احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کو سنوارتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے"

(5) إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَ‌ىٰكَ ٱللَّهُ

"ہم نے آپ کی جانب کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے ساتھ فیصلہ کر سکیں جو اللہ عزوجل نے آپ کو دکھائی ہے"

(6) ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا بِٱلْكِتَـٰبِ وَبِمَآ أَرْ‌سَلْنَا بِهِۦ رُ‌سُلَنَا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

"جن لوگوں نے کتاب اللہ اور ان چیزوں کو جٹھلایا جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تو وہ (عنقریب اپنے انجام بد کو) جان لیں گے۔"

(7) وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾

""آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کچھ نہیں فرماتےبلکہ ان کا کلام تو نرا وحی ہوتا ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے"

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"بعد كتاب الله عزوجل سنن رسول صلي الله عليه وسلم فهي المبنية لمراد الله عزوجل من مجملات كتابه والدالة علي حدوده والمفسرة له....الخ

یعنی " اللہ عزوجل کی کتاب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ہیں جو کتاب اللہ کے مجملات سے اللہ عزوجل کی مراد بیان کرتی ہیں، اس کی حدود پر دلالت کرتی اور اس کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں"

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"فكانت السنة بمنزلة التفسير والشرح لمعاني أحكام الكتاب"

"سنت کتاب اللہ کے احکام کے معانی کے لیے تفسیر و تشریح کا درجہ رکھتی ہے"

"مرقاۃ" میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ آں رحمہ اللہ نے فرمایا:

"جن چیزوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے وہ سب آپ کے فہم قرآن سے ماخود ہیں جیسا کہ آں صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے: "إني لا أحل إلا ماأحل الله في كتابه ولا أحرم إلا ماحرم الله في كتابه" (یعنی میں حلال نہیں کرتا مگر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا ہے اور نہ حرام کرتا ہوں مگر وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا ہے)

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: "جميع ما تقوله الأئمة شرح للسنة وجميع السنة شرح للقرآن" ( یعنی آئمہ جو تمام چیزیں بیان کرتے ہیں وہ سنت کی شرح ہیں اور تمام سنت قرآن کی شرح ہے)"

امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک اور قول ہے:

"مانزل بأحد من الدين نازلة إلا وهي في كتاب الله تعالى"

علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

"لا خلاف في وجوب أفعاله صلي الله عليه وسلم التي هي لبيان مجمل الكتاب"

یعنی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال جو کہ مکملات قرآن کے بیان سے عبارت ہیں، کے وجوب کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے"

جناب مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:

"قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجنے کا مقصد یہ قرار دیا کہ وہ قرآن کریم کے معنی و احکام کی شرح کر کے بیان فرمائیں۔ ارشاد ہے (تُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) یعنی " ہم نے آپ کو اس لئے بھیجا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اللہ کی نازل کردہ آیات کے مطالب بیان فرمائیں" تعلیم کتاب کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض میں دوسری چیز حکمت بھی رکھی گئی ہے---- اس آیت میں اور اس کے ہم معنی دوسری آیات میں صحابہ و تابعین نے حکمت کی تفسیر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے جس سے واضح ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ جس طرح معانی قرآن کا سمجھانا بتلانا فرض ہے، اسی طرح پیغمبرانہ تربیت کے اصول و آداب جن کا نام سنت ہے، اُن کی تعلیم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض منصبی میں داخل ہے اور اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "(إنما بعثت معلما)"---- میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، الخ"

جناب حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے کتاب "احکام الاصول" میں لکھتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ کو شریعت کی تعلیم کے لیے مبعوث فرمایا تو حکمت اور اسرار شریعت کی تعلیم بھی آپ کے فرائض منصبی میں داخل کر دی تاکہ امت اجتہاد کے قابل ہو سکے۔ اپنی عقلوں کو استعمال کرنا سیکھے اور ظاہری و باطنی دلائل سے استدلال کر سکے۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کتاب اللہ کی تبیین کرتے تھے تاکہ ہم پر قرآن کے اشارات پر تفکر و تدبر کا منہاج واضح ہو۔"

جناب فراہی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر قرآن کے متعلق ایک مقام پر فرماتے ہیں:

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کے مبین و مفسر تھے، اس لئے شرائع ہوں یا عقائد، آپ کی تاویلات ایک مفسر کے لئے علم کی مضبوط ترین بنیاد ہیں۔"

آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:

"پہلی چیز جو قرآن کی تفسیر میں مرجع کا کام دے سکتی ہے، خود قرآن ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا فہم ہے۔ پس میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب وہی تفسیر ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے مروی ہے۔"

اور جناب فراہی کے خلیفہ محترم امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں:

"----قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحب وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ہے۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے اسی طرح اس کے معلم اور مبین بھی تھے اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضہ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی۔الخ"

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

---"قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات کے معنی بیان کرنے کا حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔الخ"

آں محترم ایک مقام پر منکرین سنت پر سخت تنقید کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے ہر گوشے میں اتباع کے لیے کامل نمونہ ہیں۔ دین سے متعلق جو احکام اور آداب ہمیں سیکھنے چاہیئں، وہ سب آپ نے اپنی عملی زندگی سے ہمیں بتائے اور سکھائے۔ منکریں سنت کا یہ کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایک خط پہنچا دینے والے قاصد کی ہے، بالکل لغو اور بے بنیاد ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف کتاب اللہ کے پہنچا دینے والے ہی نہیں، بلکہ معلم شریعت اور مزکی نفوس بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لئے کامل نمونہ ہے جس کی ہر شعبہ میں پیروی کر کے ہی ہم اپنے آپ کو ایمان اور اسلام کے سانچہ میں ڈھال سکتے ہیں۔"

اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب سورۃ النحل کی آیت:44 بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

" اس آیت میں یہ بات صاف الفاظ میں فرمائی گئی ہے کہ خالق کائنات نے اپنا یہ فرمان محض اس لئے پیغمبر کی وساطت سے نازل کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے اس کی تبیین کرے۔ گویا تبیین یا بیان پیغمبر کی منصبی ذمہ داری بھی ہے اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر اس کا حق بھی جو اسے خود پروردگار عالم نے دیا ہے۔ دوسرے لفطوں میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر مامور من اللہ، مبین کتاب ہے۔"(میزان جلد نمبر 1 صفحہ 83)

اللہ تعالیٰ نے تاکیدا مکمل اطاعت رسول کا حکم فرمایا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا معلم شریعت کی حیثیت کے پیش نظر ہی قرآن کریم میں تقریبا چالیس مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کا ذکر مختلف انداز سے آیا ہے جن کا مقصد یہ ہے کہ رسالت کا اصل منشاء و مقصود ہی اطاعت رسول ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(1) وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ

"اور ہم نے تمام رسولوں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکم الہی ، ان کی اطاعت کی جائے"----اور

(2) قُلْ أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَٱلرَّ‌سُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَـٰفِرِ‌ينَ

"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ تم لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر وہ لوگ پیٹھ پھیریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔"

علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اہل تاویل کا (وَأَطِيعُواٱللَّهَ وَأَطِيعُواٱلرَّ‌سُولَ) کے معنی کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ " یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کا حکم ہے۔" بعض دوسرے علماء کا قول ہے کہ " یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کی زندگی میں اطاعت رسول کا حکم ہے" لیکن اس بارے میں یہ کہنا زیادہ صواب ہے کہ "یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے رسول کی زندگی میں امرونہی کے متعلق اس کی اطاعت کا اور اس کی وفات کے بعد اس کی سنت کی اتباع کا حکم ہے"۔ چونکہ یہ حکم کسی ایک حال کے لئے خاص نہیں ہے لہذا عموم پر ہی باقی رہے گا حتی کہ کوئی لائق تسلیم چیز اس کی تخصیص کر دے۔"

(3)نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

()وَأَرْ‌سَلْنَـٰكَ لِلنَّاسِ رَ‌سُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدًا ﴿٧٩﴾مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْ‌سَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ﴿٨٠﴾

" ہم نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اس کی شہادت کے لیے اللہ کافی ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو پیٹھ پھیرے تو ہم نے آپ کو ان کا محافظ بنا کر نہیں بھیجا ہے۔"

یہی بات احادیث میں یوں مروی ہے:

(1)"من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله"

(2)"من أطاعني دخل الجنة ومن عصاني فقد عصا الله"

(3)"فإذانهيتكم عن شيء فاجتنبوه وإذا أمرتكم بشيء فأتو امنه ما استطعتم"

یہ تینوں احادیث حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کی ایک طویل حدیث میں یہی بات ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے:

"والداعي محمد صلى الله عليه وسلم فمن أطاع محمدا صلى الله عليه وسلم فقد أطاع الله ومن عصى محمدا صلى الله عليه وسلم فقد عصى الله"

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ "من أطاعني فقد أطاع الله" کی شرح میں لکھتے ہیں:

" یہ قول اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ) سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) صرف اسی بات کا حکم دیتا ہوں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے لہذا اگر میں نے کسی کو کوئی حکم دیا اور اس نے اس حکم کے مطابق عمل کیا تو گویا اس نے میرے حکم سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی۔ اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری اطاعت کا حکم دیا ہے پس جس نے میری اطاعت کی، اُس نے میری اطاعت سے حکم الہی کی اطاعت کی۔ اسی طرح کا معاملہ معصیت میں بھی ہے"

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" اللہ تعالیٰ اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ جس نے ان کی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نرا وحی ہوتا ہے جو کہ آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔"

اور علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

" اس آیت میں (بصراحت) مذکور ہے کہ اطاعت رسول بعینہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف، علو شان، ارتفاع مرتبہ اور قدرومنزلت کا اعلان بھی ہے کہ جس تک کسی کی رسائی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہوتا ہے اور صرف اسی بات سے روکتے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہوتا ہے۔ اگر آں صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان موجود نہ ہوتا تو ہم کتاب اللہ سے کسی بھی فریضہ مثلا حج، نماز، زکوۃ اور روزہ کو نہ جان پاتے کہ ان کو کس طرح ادا کرنا ہے۔"

حضرت حسن کا قول ہے:

"اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطعت کو اپنی اطاعت بنایا اور اس کے ذریعہ مسلمانوں پر حجت قائم کی"---- جیسا کہ علامہ نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر "فتح البیان فی مقاصد القرآن" میں ذکر فرمایا ہے"

(4)اور فرمایا:

(يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ ۚ ذَ‌ٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا) (النساء۔59)

" اے مومنو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور اپنے اولی الامر (یعنی مسلمانوں کے امور کے نگران) کی اطاعت کرو۔ پھر اگر کسی چیز کے متعلق باہم جھگڑ بیٹھو تو اگر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اس معاملہ کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، یہی بہتر صورت اور خوش تر نتیجہ والی ہے"

علامہ طبری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے لفظ "والرسول" کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں :

" اگر تم کتاب اللہ میں اس کے علم کی کوئی راہ نہ پاؤ تو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیات ہوں تو ان کی طرف معاملہ کو لوٹا کر اس کی معرفت حاصل کرو اور اگر وفات پا چکے ہوں تو ان کی سنت سے معرفت اور رہنمائی حاصل کرو۔"

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"(فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ)" کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ااگر تم جانتے ہو تو ( اس کی طرف اس متنازعہ مسئلہ کو لوٹاؤ) لیکن اگر تم نہیں جانتے کہ ( اس بارے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے) تو اگر تم رسول اللہ تک پہنچو تو ان سے دریافت کر لو یا پھر تم میں سے جو کوئی ان تک پہنچے (وہ دریافت کر لے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بعد یہ فرض ہے کہ تم میں کوئی متنازعہ باقی نہ رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ) ---اور جو تنازعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُٹھ کھرا ہو تو اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پھر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی طرف لوٹایا جائے۔"

علامہ طیسی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

"وأطيعواالرسول" میں فعل کا اعادہ دراصل استقلال الرسول بالطاعۃ کی طرف اشارہ ہے۔ اولی الامر کے متعلق فعل کا اعادہ نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ ان میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کی اطاعت واجب نہیں ہے"

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے میمون بن محصران (110ھ) سے روایت کی ہے کہ:

"إن الرد إلى الله هو الرد إلى كتابه' والرد إلى الرسول هو الرد إليه ماكان حيا فإذامات فالرد إلى سنته"

"یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانا، اس کی کتاب (قرآن) کی طرف لوٹانا ہے اور رسول کی طرف لوٹانا ، اگر وہ زندہ ہوں تو ان کی طرف رجوع کرنا ہے اور اگر وفات پا چکے ہوں تو ان کی سنت کی طرف لوٹانا ہے۔"

امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ (456ھ) آیت (فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌) کے متعلق فرماتے ہیں:

" اس آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہاں "رد" سے مراد قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی خبر کی طرف رجوع کرنا ہے، کیونکہ تمام امت اس بات پر متفق ہے کہ یہ خطاب ہماری طرف اور روز قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن اور انسانوں سب کی طرف ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے لوگوں اور ان کے بعد آنے والوں کی طرف تھا۔ اگر کوئی ہیجان زدہ یا شر انگیز یہ کہے کہ یہ خطاب (ہم سے نہیں) صرف ان لوگوں سے ہے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ممکن تھی تو کیا اس کا یہ شبہ و ہیجان اللہ عزوجل کے بارے میں بھی ممکن اور درست ہو سکتا ہے؟ درین حال کہ کسی شخص کے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ پس یہ ظن و گمان باطل ہوا اور ہماری یہ بات درست ہوئی کہ مذکورہ "رد" سے مراد کلام اللہ تعالیٰ یعنی قرآن اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی طرف رجوع کرنا ہے، جو کہ ہم تک جیلا بعد جیل منقول ہے۔"

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"اس آیت میں بدون اولی الامر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معاملہ کو لوٹانے میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ اس طرح در حقیقت مطاع اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ جن دو چیزوں کا ہمیں مکلف ٹھرایا گیا ہے وہ قرآن و سنت ہیں۔ پس اللہ کی اطاعت کرو جس کے بارے میں تمہارے لئے قرآن میں نص موجود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو جس کے بارے میں انہوں نے تمہارے لئے قرآن سے توضیح فرمائی ہے اور اپنی سنت سے جو تمہارے اوپر نص قائم کی ہے۔ یا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس بارے میں جس کا کہ تم کو اُس وحی کے ذریعہ حکم دیا گیا ہے جس کی تلاوت بھی عبادت ہے اور رسول کی اطاعت کرو اس بارے میں جس کا تم کو اُس وحی کے ذریعہ حکم دیا گیا ہے جو کہ قرآن نہیں ہے۔"

علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"إن الرد إلى الله هو إلى كتابه والرد إلى الرسول هو الرد إلى سنته بعد موته"

" یعنی اللہ کی طرف لوٹانے سے مراد اس کی کتاب (قرآن) کی طرف رجوع کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی سنت کی طرف رجوع کرنا ہے۔"

(5)اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَأَطِيعُوا ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَلَا تَنَـٰزَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِ‌يحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُ‌وٓ اإِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ)

"اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نہ جھگڑو ورنہ کم ہمت ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"

(6)اور فرمایا:

(وَأَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُواٱلرَّ‌سُولَ وَٱحْذَرُ‌وا فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا أَنَّمَا عَلَىٰ رَ‌سُولِنَا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ)

"اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور احتیاط کرتے رہو، اگر کہیں تم نے پیٹھ پھیر لی و جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف کھلی ہوئی تبلیغ کی ذمہ داری ہے"

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ آیت (وَأَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ وَٱحْذَرُ‌وا) کے تحت رقم طراز ہیں:

اس آیت میں اطاعت رسول کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ مقرون کرنا، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہ ہے کہ جن باتوں کا اس نے اپنی کتاب میں حکم دیا اور جن چیزوں سے منع کیا (ان کو تسلیم کیا جائے) اور اطاعت رسول یہ ہے کہ جن چیزوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا اور وہ قرآن میں مذکور نہیں ہیں، (انہیں بھی تسلیم کیا جائے) اگر وہ چیزیں قرآن میں مذکور ہوتیں تو ان کا ماننا اطاعت رسول نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت کہلاتا۔"

(7)مزید فرمایا:

(قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ)

"آپ فرما دیجئے کہ اگر اللہ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے"

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

" اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کو جو اس کی محبت کا مدعی ہے، یہ حکم دیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے۔ اللہ تعالیٰ کی اتباع کا اس وقت تک کوئی معنی نہیں جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال، افعال، احوال اور ہدی کی مکمل اتباع نہ کی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال، افعال، احوال اور ہدی ہی تو احادیث نبوی ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ جو شخص احادیث نبوی کی اتباع نہیں کرتا اور نہ ہی ان پر عمل کرنا ضروری سمجھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے اپنے دعوی میں کاذب ہے، اور جو اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ پر اس کے ایمان کا دعوی بھی جھوٹا ہے۔"

(8)اور ارشاد ہوتا ہے:

(وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا)

" جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لیے اپنے معاملہ میں کسی طرح کا اختیار استعمال کرنے کا حق باقی نہیں رہ جاتا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، وہ کھلم کھلا گمراہی میں جا پڑا"

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" یہ آیت تمام اُمور کے لئے عام ہے اور (اس میں یہ حکم مذکور ہے کہ) جب اللہ اور اس کا رسول کسی چیز کا فیصلہ کر دیں تو کسی کے لئے اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو وہاں کوئی اختیار باقری رہتا ہے، نہ رائے کا اور نہ قول کا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: (فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواتَسْلِيمًا) ایک اور حدیث میں ہے: (والذي نفسي بيده لا يومن أحدكم حتي يكون هواه تبعا لما جئت به) یعنی " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں" لہذا اس بارے میں مخالفت انتہائی شدید (نتائج کی حامل) ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا) یعنی " جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ کھلی گمراہی میں جا پڑا۔" اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لیے فرماتا ہے: (فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)

(9)اور فرمایا:

(فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوافِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)

"پھر قسم ہے آپ کے رب کی، یہ لوگ کبھی ایماندار نہ ہوں گےجب تک یہ بات نہ ہو کہ آپس میں جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کروائیں پھر آپ کے اس تصفیہ سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر اُسے تسلیم کر لیں"

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے کریم و مقدس نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بلاشبہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے تمام معاملات میں فیصلہ فرمائیں، ہر فیصلہ جو وہ فرما دیں حق ہے جس کو ظاہری و باطنی ہر طرح تسلیم کرنا اور نافذ واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا) یعنی اگر تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیں تو تم اپنے باطن میں بھی اس کی اطاعت کرو اور اپنے دلوں میں اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پاؤ بلکہ ظاہر و باطن ہر طرح اسے نافذ کرو اور اس کو بغیر ممانعت و مدافعت اور اختلاف کے پوری طرح قبول کرو"

(10)اللہ تعالیٰ اور فرماتا ہے:

(يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ ۖ وَٱتَّقُوا ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ)

" اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے خود کو نہ بڑھاؤ اور اللہ سے ڈرو۔ بےشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"--- علی بن طلحہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کی ہے کہ " لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ" سے مراد یہ ہے کہ لا تقولوا خلاف الكتاب والسنة یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کے خلاف کچھ نہ کہو۔ اور عوفی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے روایت کی ہے کہ "نهوا أن يتكلموا بين يدي كلامه" یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے آگے بڑھ کر کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے" مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا تفتاتوا على رسول الله صلي الله عليه وسلم بشيى حتي يقضي الله تعالى على لسانه"اور ضحاک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا تقضوا أمرا دون الله ورسوله من شرائع دينكم" اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لا تقدمو بين يدي الله ورسوله بقول ولا فعل" یعنی قول و فعل سے خود کو اللہ اور اس کے رسول سے کے آگے نہ بڑھاؤ"

(11)اور فرمایا:

(لَّا تَجْعَلُوا دُعَآءَ ٱلرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ)

" تم اپنے درمیان رسول کو ایسے نہ پکارو جیسے تم میں سے ایک شخص دوسرے کو پکارتا ہے۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو چھپ کر کھسکتے ہیں پس جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے کہ کوئی مصیبت اُن کو آدبوچے یا دردناک عذاب اُن کو آلے"

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ آیت (فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ) کے تحت فرماتے ہیں:

"عد مخالفة أمره خروجا عن الإيمان فالكتاب شهد السنة بالاعتبار"

آں رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

"اختص الرسول صلي الله عليه وسلم بشيء يطاع فيه"

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں:

" اس آیت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بلانا، اُمت میں سے کسی اور کے بلانے جیسا نہیں ہے بلکہ تمام مخلوق کی دعوات کے مقابلہ میں عظیم ترین خطرات کا حامل اور انتہائی جلیل القدر ہے۔ لہذا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بلایا تو اس پر اجابت لازم ہے۔ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاوہ بھی متعدد جگہ اپنی امت کو کتاب اللہ اور اپنی سنت کے ساتھ تمسک کی دعوت دی ہے۔ پس پوری امت پر فرض ہے کہ آپ کی دعوت و پکار کا جواب دیں اوت استجابت سے ہاتھ پر ہاتھ نہ دھرے بیٹھے رہیں۔ جب تک امہات الکتب (صحاح ستہ وغیرہ) میں احادیث باقی رہیں گی اور قیامت کی گھڑی آنے تک دنیا میں قرآن باقی رہے گا، اُس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسکم کی یہ دعوت باقی رہے گی۔ امت میں سے کوئی بھی فرد کسی عصر و قطر میں علماء کے درمیان ان کتن کے موجود ہونے تک اس دعوت کی اجابت سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔۔۔الخ"

(12)اور فرمایا:

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُۥ عَلَىٰٓ أَمْرٍ‌ۢ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَـْٔذِنُوهُ

" مومن تو بس وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب رسول کے پاس کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لیے جمع کیا گیا ہے تو جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، نہیں جاتے"

اس آیت کے تحت امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" پس اگر اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لوازم میں سے اس بات کو لازم قرار دیا ہے کہ اگر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر کسی مسلک و مذہب کو اختیار نہ کریں لہذا ایمان کے لوازم میں سے اس بات کا لازمی ہونا زیادہ اولیٰ ہے کہ جب تک آں صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت شامل نہ ہو لوگ کسی کے قول یا مذہب علمی کی طرف التفات نہ کریں اور ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آنے والی سنت سے بدلالت ہی معلوم ہو سکتی ہے"

(13)اور فرمایا:

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱسْتَجِيبُوالِلَّهِ وَلِلرَّ‌سُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓاأَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْ‌ءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُ‌ونَ

"اے مومنو! تم اللہ اور اس کے رسول کی بات کو بجا لایا کرو جب کہ رسول تم کو ایسی چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں حیات نو عطا کرنے والی ہو اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور یہ بھی جان لو کہ تم سب کو اسی کے پاس جمع ہونا ہے"

علامہ عبدالرحمن محدث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

" اس آیت میں مومنوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی استجابت کا حکم ہے اور یہ حکم وجوب کے لئے ہے۔ یہاں اللہ اور رسول اللہ کی استجابت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت میں جن چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور جن سے روکا گیا ہے ان سب کو قبول کیا جائے اور ان کے متقضی کے مطابق عمل کیا جائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے حاضر و غائب سب لوگون کو تمسک بالثقلین (یعنی کتاب و سنت) اور ان دونوں اصل کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کی دعوت دی ہے"

(14)اور فرمایا:

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّـٰتٍ تَجْرِ‌ى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ‌ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَ‌ٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿١٣﴾ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدْخِلْهُ نَارً‌ا خَـٰلِدًا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿١٤﴾

"اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ وہ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اُن میں رہیں گے۔ یہ بہت بڑی کامرانی ہے اور جو شخص اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، اور اللہ کی مقررہ حدود سے آگے بڑھے گا، وہ اسے آگ میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رُسوا کن عذاب ہے"

(15)اور فرمایا:

أَلَمْ تَرَ‌ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُوا بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِ‌يدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓا إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدْ أُمِرُ‌وٓا أَن يَكْفُرُ‌وا بِهِۦ وَيُرِ‌يدُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَـٰلًۢا بَعِيدًا ﴿٦٠﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّ‌سُولِ رَ‌أَيْتَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا ﴿٦١﴾

"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لے آئے ہیں جو آپ پر نازل ہوئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی، وہ چاہتے یہ ہیں کہ (اپنے مقدمات میں) طاغوت سے فیصلہ کرائیں حالانکہ انہیں اس کے انکار کا حکم دیا گیا ہے، شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں ڈال دے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ چیز کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ سے پہلو تہی کرتے ہیں"

(16)اور فرمایا:

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓا إِلَى ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿٥١﴾ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ ﴿٥٢﴾

" جن مومنوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان کا قول تو یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سُن لیا اور مان گئے۔ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا اور اس کا تقوی(دل میں) رکھتا ہے تو ایسے لوگ کامران ہیں"

(17)اور فرمایا:

وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُو اوٱتَّقُوا ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

"اور رسول تمہیں کو کچھ بھی دیں، اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں، اس سے رُک جاؤ اور اللہ سے ڈرو۔ بےشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے"

علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

"حق بات یہ ہے کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی ہر چیز کے بارے میں عام ہے خواہ وہ امرونہی سے متعلق ہو یا قول و فعل سے اور اگرچہ اس کا کوئی کاص سبب ہی ہو۔ پس خسوصی سبب کا نہیں بلکہ عموم لفظ کا اعتبار ہو گا اور شریعت کی جو چیز بھی ان سے ہم تک پہنچی ہے، وہ ہم کو آپ نے ہی دی ہے تبھی تو ہم تک پہنچ سکی ہے۔پس یہ آیت کریمہ اس بارے میں صریح نص ہے کہ ہر وہ چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو کر ہم تک آئی ہے اور آپ کے جو احکام وغیرہ ہم تک پہنچے ہیں ، سب برابر ہیں۔خواہ وہ کتاب یعنی قرآن میں مذکور ہوں یا سنت یعنی محکم اور ثابت احادیث نبویہ میں۔ ہمارے لئے ان سب پر عمل کرنا اور ان سے امتثال واجب ہے۔ اسی طرح ہم کو کتاب یا سنت میں جن ممنوع اور کھلی منکرات سے روکا گیا ہے۔ ہم پر ان چیزوں سے اجتناب کرنا اور ان سےکنارہ کش ہو جانا واجب ہے۔۔۔ اور وہ تمام دینی اُمور جو ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملے ہیں، وہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی جانے والی وحی کے مطابق ہی ہیں، جیسا کہ ارشاد باری ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾)

(18)اور فرمایا:

قُلْ أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْافَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُو ا وَمَا عَلَى ٱلرَّ‌سُولِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر تم لوگ روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ وہی ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ راست پر جا لگو گے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے"

(19)اور فرمایا:

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَ‌سُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْ‌جُوا ٱللَّهَ وَٱلْيَوْمَ ٱلْءَاخِرَ‌ وَذَكَرَ‌ ٱللَّهَ كَثِيرً‌ا

"تمہارے لیے اللہ کے رسول کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن اُمید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے"

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

هذه الآية الكريمة أصل كبير في التاسي برسول الله صلي الله عليه وسلم في أقواله وأفعاله وأحواله....الخ"

آیات مذکورہ کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جو قطعی اور کلی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں، لیکن ہم بخوف طوالت صرف انہیں چند مثالوں پر اکتفاء کرتے ہیں اور اس بحث کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مندرجہ ذیل اقتباس کے ساتھ ختم کرتے ہیں:

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ "(باب ما أمرالله من طاعة رسول الله)" کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

" اللہ جل ثناؤہ کا ارشاد ہے: (إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَـٰهَدَ عَلَيْهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرً‌ا عَظِيمًا) ۔۔۔ یعنی " جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں تو وہ (فی الواقع) اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس پر اللہ سے عہد کیا ہے تو عنقریب اللہ اس کو بڑا اجر دے گا۔" اور فرمایا: (مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ) ۔۔۔ یعنی "جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی"۔۔۔ ان آیات میں لوگوں کو یہ بتلایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی بیعت، اللہ تعالیٰ سے بیعت ہے۔ اسی طرح ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوافِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواتَسْلِيمًا) ۔۔۔ یعنی پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو تنازعہ واقع ہو، اُس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کروائین پھر آپ کے اس تصفیہ سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پورا پورا تسلیم کر لیں"۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (لَّا تَجْعَلُوادُعَآءَ ٱلرَّ‌سُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) ۔۔۔۔ یعنی " تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسا تم میں ایک شخص دوسرے کو بلا لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو آڑ میں ہو کر تم سے کھسک جاتے ہیں۔ سو جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت آن پڑے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نال ہو جائے۔" اور فرمایا (وَإِذَا دُعُوٓاإِلَى ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِ‌يقٌ مِّنْهُم مُّعْرِ‌ضُونَ ﴿٤٨﴾ وَإِن يَكُن لَّهُمُ ٱلْحَقُّ يَأْتُوٓاإِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ﴿٤٩﴾ أَفِى قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ أَمِ ٱرْ‌تَابُوٓا أَمْ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَ‌سُولُهُۥ ۚ بَلْ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿٥٠﴾ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓاإِلَى ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُواسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿٥١﴾ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ ﴿٥٢﴾) یعنی "اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کر دیں تو ان میں ایک گروہ پہلو تہی کرتا ہے اور اگر ان کا حق ہو تو سر تسلیم خم کئے ہوئے آپ کے پاس چلے آتے ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں معض ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہیں؟ یا ان کو اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم نہ کرنے لگیں؟ نہیں بلکہ یہ لوگ ہی برسرظلم ہوتے ہیں۔مسلمانوں کا قول تو یہ ہے جب کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اس کو مان لیا۔ اور ایسے لوگ ہی فلاح پائیں گے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی مخالفت سے بچے، بس ایسے لوگ بامراد ہوں گے"۔۔۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلایا جانا اللہ کے فیصلہ کی طرف بلایا جانا ہے کیونکہ ان کے درمیان حاکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اگر انہوں نے رسول اللہ کے حکم کو تسلیم کر لیا تو گویا انہوں نے بافتراضِ اللہ، اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کر لیا، اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بتایا ہے کہ رسول اللہ کا حکم بمعنی افتراضِ حکم خود اس کا حکم ہے۔۔۔

پس اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق کو اپنے رسول کی اطاعت کے التزام کا حکم دیا ہے اور ان کو یہ اطلاع دی ہے کہ یہ دراصل ، اسی کی اطاعت ہے پس۔۔۔۔۔"اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ علم بخشا ہے کہ ان پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اتباع فرض ہے، اس کے رسول کی اطاعت اسی کی اطاعت ہے اور یہ بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف اسی جل ثناؤہ کے حکم کی اتباع فرض ہے۔"

پس معلوم ہوا کہ کامل اتباع و اطاعت رسول کا نام ہی "شریعت" ہے۔

حدیث نبوی کا منکر کافر ہے

علامہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ہر وہ شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ صحیح حدیث کا انکار کرے یا کسی ایسی بات کا انکار کرے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی و منقول ہو اور اس پر اہل ایمان کا اجماع منعقد ہو چکا ہو تو وہ شخص کافر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: (وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّ‌سُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرً‌ا) ۔۔۔ اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے اُدھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔"

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:

"من رد حديث رسول الله صلي الله عليه وسلم فهو على شفا هلكة"

" جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث رد کرتا ہے وہ ہلاکت کے دہانے پر جا پڑا ہے"

اورامام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ (124ھ) سے منقول ہے کہ ہمیں اہل علم صحابہ سے یہ عقیدہ معلوم ہوا ہے کہ "الاعتصام بالسنن نجاة" ،سنتوں پر عمل کرنے میں ہی نجات ہے"

قرآن میں مذکورہ لفظ الحکمۃ کے معنی "سنت" ہیں

اللہ عزوجل نے قرآن کریم کے متعدد مقامات پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو الحکمۃ سے تعبیر کرتے ہوئے بمنزلہ قرآن بیان فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

(1) رَ‌بَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُواعَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ

"اے ہمارے رب! اس جماعت کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان لوگوں کو آپ کی آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو آسمانی کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کر دے"

(2) كَمَآ أَرْ‌سَلْنَا فِيكُمْ رَ‌سُولًا مِّنكُمْ يَتْلُواعَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُواتَعْلَمُونَ

"جس طرح تم لوگوں میں ہم نے ایک رسول کو تم ہی میں سے بھیجا جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہاری صفائی کرتا ہے اور تم کو کتاب الہی اور حکمت کی باتیں بتاتا ہے اور تم کو ایسی باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن کی تم کو خبر نہ تھی"

(3) وَٱذْكُرُ‌وا نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِۦ

"اور اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں تم پر ہیں، ان کو یاد کرو اور اس کتاب اور حکمت کو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر اس لئے نازل فرمائی ہے کہ تمہیں ان کے ذریعہ سے نصیحت فرمائے"

(4) لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوامِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ

"درحقیقت اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان فرمایا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے رسول کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان لوگوں کی صفائی کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بالیقین یہ لوگ اس سے قبل صریح غلطی میں تھے"

(5) وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ ٱللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا

"اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ باتیں بتلائیں جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔

(6) وَٱذْكُرْ‌نَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرً‌ا

"اور تم ان آیات الہیہ اور علم حکمت کو یاد رکھو جن کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے۔ بےشک اللہ تعالیٰ بڑا رازوں والا اور پورا خبردار ہے"

(7) هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوامِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ

" وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اللہ اور حکمت سکھلاتا ہے اور یہ لوگ پہلے سے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے"

جمہور ائمہ لغت و مفسرین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان تمام آیات میں "الکتاب" سے مراد کتاب اللہ یا قرآن کریم ہے اور الحکمۃ سے مراد قرآن کے علاوہ کوئی دوسری چیز ہے۔ لغوی اعتبار سے الحکمۃ کئی معانی کے لئے بولا جاتا ہے مثلا حق بات پر پہنچنا، عدل و انصاف، علم وحِلم وغیرہ (قاموس)۔۔۔۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ:

"جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی تمام اشیاء کی پوری معرفت اور مستحکم ایجاد کے ہوتے ہیں اور جب غیر اللہ کے لیے بولا جاتا ہے تو موجودات کی صحیح معرفت اور نیک اعمال کے لیے جاتے ہیں، پس لفظ "حکمت" عربی زبان میں کئی معانی کے لئے یعنی علم صحیح، نیک عمل، عدل و انصاف، قول صادق وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے۔ (قاموس و راغب)

قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی الحکمۃ کا لفظ آیا ہے اس سے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی مراد لینا درست نہیں ہے۔ البتہ جن آیات میں "الکتاب" کے ساتھ الحکمۃ کا ذکر بھی آیا ہے، مثلا مندرجہ بالا تمام آیات میں، وہاں اس سے مراد شریعت کے وہ احکام اور دین کے وہ اسرار ہیں جن پر اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ آیات مذکورہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

فذكر الله الكتاب وهو القران وذكر الحكمة فسمعت من أرضى من أهل العلم بالقرآن يقول الحكمة سنة رسول الله صلي الله عليه وسلم.... وذكر الله منه علي خلقه بتعلمهم الكتاب والحكمة فلم يجوزأن يقال الحكمة هاهنا إلا سنة رسول الله

"یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جس کتاب کا ذکر فرمایا ہے، وہ قرآن ہے اور جس حکمت کا ذکر فرمایا ہے ( اس کے بارے میں) میں نے قرآن کے ان اہم علم حضرات سے کہ جنہیں میں پسند کرتا ہوں، سنا ہے کہ حکمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو کتاب و حکمت کی تعلیم فرما کر ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ہے، لہذا کسی کے لئے یہ کہنا جائز نہیں کہ یہاں "حکمت" سے مراد سنت رسول اللہ کے علاوہ کوئی دوسری چیز ہے"

امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی شاہکار تفسیر میں بہت سے اہل علم حضرات کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"الصواب من القول عندنا في الحكمة أن العلم بأحكام الله التي لا يدرك علمها إلا ببيان الرسول صلي الله عليه وسلم والمعرفة بها ومادل عليها في نضائره وهو عندي ماخوذ من الحكم الذي بمعنى الفصل بين الباطل والحق"

" یعنی ہمارے نزدیک درست بات یہ ہے کہ حکمت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ان احکام کا علم ہے کہ جن کے علم کا ادراک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور اس کی معرفت کے بغیر ممکن نہ ہو اور جو چیز اس کے نظائر میں اس پر دلالت کرتی ہے وہ میرے نزدیک یہ ہے کہ حکمت حکم سے ماخوذ ہے جس کے معنی حق و باطل کے درمیان فصل و تمیز کے ہیں"

امام شافعی اپنی کتاب "الام" میں سورۃ الجمعہ کی آیت 2 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 34 وغیرہ کے تحت فرماتے ہیں:

"ہم بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں "الکتاب" سے مراد کتاب اللہ ہے، لیکن الحکمۃ کیا چیز ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد رسول اللہ کی سنت ہے"

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے: (وَٱذْكُرْ‌نَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ) کے بارے میں حضرت قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے: "من القرآن والسنة" اور سعید بن عرونے اس آیت کے متعلق قتادہ سے نقل کیا ہے کہ "يريد السنة يمن عليهن بذلك" اور ھذلی نے آیت (وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ) کی تفسیر میں حضرت حسن کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "الکتاب" سے مراد قرآن اور الحکمۃ سے مراد سنت ہے"

مشہور اور متداول تفسیر "الجلالین" میں بھی الحکمۃ کی تفسیر میں متعدد مقامات پر "السنۃ" اور "ما فيه من الأحكام" ہی درج ہے ۔۔۔۔۔ امام ابن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"إن الله سبحانه و تعالى أنزل على رسوله وحيين وأوجب على عباده الإيمان بهما والعمل بما فيهما و هما الكتاب والحكمة وقال: (وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ ) وقال تعالى (هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ) وقال تعالي (وَٱذْكُرْ‌نَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ مِنْ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ وَٱلْحِكْمَةِ)... والكتاب هو القرآن والحكمة هي السنة باتفاق السلف وما أخبر الرسول عن الله فهو في وجوب تصديقه والإيمان به كما أخبر به الرب تعالى على لسان رسوله.... هذا أصل متفق عليه بين أهل الإسلام لا ينكره إلا من ليس منهم وقد قال النبي صلي الله عليه وسلم: إني أوتيت الكتاب ومثله معه"

"اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول پر دو قسم کی وحی نازل کی اور دونوں پر ایمان لانا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے اس پر عمل کرنا واجب قرار دیا اور وہ دونوں قرآن اور حکمت ہیں۔ (اس کے بعد علامہ نے اس دعوی کے ثبوت میں وہی قرآن آیات درج کی ہیں جو اوپر پیش کی جا چکی ہیں جن میں کتاب و حکمت کی تنزیل و تعلیم کا ذکر اور ان کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کا حکم ہے۔ ان آیات کو درج کرنے کے بعد علامہ لکھتے ہیں: )۔۔۔ کتاب رو قرآن ہے اور حکمت سے بالاجماع سلف سنت مراد ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے حاصل کر کے جو خبر دی اور اللہ نے رسول کی زبان سے جو خبر دی، دونوں واجب التصدیق ہونے میں یکساں ہیں۔ یہ اہل اسلام کا بنیادی اور متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس کا انکار وہی کرے گا جو ان میں سے نہیں ہے۔خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی دی گئی ہے یعنی سنت"

محترم مفتی محمد شفیع صاحب سورۃ بقرہ کی آیت 129 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

" مفسرین صھابہ و تابعین جو معانی قرآن کی تشریح آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ کر کرتے ہیں، اس جگہ لفظ حکمت کے معنی بیان کرنے میں اگرچہ ان کے الفاظ مختلف ہیں لیکن خلاصہ سب کا ایک ہی ہے، یعنی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ امام تفسیر، ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اور ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہی تفسیر نقل کی ہے۔ کسی نے تفسیر قرآن اور کسی نے تفقہ فی الدین فرمایا ہے اور کسی نے علم احکام شرعیہ کہا، اور کسی نے کہا کہ ایسے احکام الہیہ کا علم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی بیان سے معلوم ہو سکتے ہیں، ظاہر ہے کہ ان سب کا حاصل وہی حدیث و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے"

آں رحمہ اللہ سورۃ الاحزاب کی آیت 34 کی تفسیر میں مزید فرماتے ہیں:

" آیات اللہ سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سنت رسول ہے جیسا کہ عام مفسرین نے حکمت کی تفسیر اس جگہ سنت سے کی ہے"

اور سورۃ الجمعہ کی آیت:2 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

"تیسرا مقصد (وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ) کتاب سے مراد قرآن کریم اور حکمت سے مراد وہ تعلیمات و ہدایات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قولا یا عملا ثابت ہیں۔اسی لئے بہت سے حضرات مفسرین نے یہاں حکمت کی تفسیر سنت سے فرمائی ہے۔"

اور جناب حبیب الرحمن اعظمی فرماتے ہیں:

"کتاب و سنت کے انہی نصوص کی بناء پر تمام ائمہ و علمائے سلف اس بات پر متفق ہیں کہ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ اور اس طرح کی دوسری آیات میں جو حکمت کا لفظ وارد ہوا ہے۔ اس سے مراد سنت ہی ہےاور سنت بھی وحی الہی کی ایک قسم ہے

پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی "الکتاب" کے ساتھ لفظ الحکمۃ مذکور ہے اس کا اطلاق نہ "الکتاب" پر ممکن ہے اور نہ "الکتاب" کا الحکمۃ پر۔ لہذا "الکتاب" سے مراد بلاشہ قرآن ہے جو کہ معجز الہی کلام ہے اور الحکمۃ سے مراد سنت نبوی ہے جو انسان میں معرفت حقائق اور فکرو عمل کی صحیح راہ کی تعیین کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔واللہ اعلم

مگر جناب امین احسن اصلاحی صاحب کے نزدیک "حکمت" قرآن ہی کا ایک جزو ہے یا اس سے علیحدہ کوئی چیز ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ کتاب الہی جس طرح آیات اللہ اور احکام پر مشتمل ہے، اسی طرح حکمت پر بھی مشتمل ہے۔ لیکن ہمارا یہ دعوی ان لوگوں کے خیال کے خلاف پڑے گا جو حکمت سے حدیث یا بعض دوسرے علوم مراد لیتے ہیں اور چونکہ یہ مذہب بعض اکابر ملت، مثلا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا بھی ہےاس وجہ سے اس کو نظرانداز کرنا مشکل ہے، لہذا دیکھنا چاہیے کہ جو لوگ حکمت سے حدیث مراد لیتے ہیں، ان کی دلیل کیا ہے؟ ان کی دلیل یہ ہے کہ حکمت کا لفظ مندرجہ صدر آیت میں کتاب کے لفظ کے ساتھ آیا ہے۔ کتاب سے یہ لوگ قرآن مجید، باعتبار مجموعی مراد لیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہوا کہ حکمت سے کوئی اور چیز مراد لیں اور قرآن کے بعد ظاہر ہے کہ حدیث کے سوا کوئی دوسری چیز اس لفظ کا مدلول نہیں بن سکتی۔ لیکن اوپر کے مباحث سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ یہ استدلال کچھ مضبوط نہیں ہے۔ آیت مذکورہ میں، جیسا کہ ہم نے تشریح کی ہے، کتاب سے مراد احکام و قوانین ہیں، اس لیے حکمت کے لئے خود قرآن میں کافی گنجائش ہے۔ اس سے حدیث یا قرآن سے خارج کسی اور شئے کو مراد لینا کچھ ضروری نہیں ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ حدیث میں بھی حکمت ہے۔ حدیث کا رُتبہ بہت بلند ہے۔ وہ امت کے لئے قرآن کے بعد دوسری چیز ہے۔ اس میں خود حکمت قرآن کا بھی ایک بڑا ذخیرہ ہے، پھر اگر حدیث میں حکمت نہ ہو گی تو کہاں ہو گی؟ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ اس آیت میں حکمت سے مراد حدیث ہے۔مختلف وجوہ اور قرائن اس کے خلاف ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں:

(1)متعدد آیات میں حکمت کے لئے یتلی،انزل اور اوحی کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کا استعمال حدیث کے لئے قرآن میں کہیں نہیں ہوا ہے۔ مثلا (پھر آن محترم سورۃ السناء کی آیت 113، سورۃ الاحزاب کی آیت 34 اور سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 39 نقل فرماتے ہیں)

(2)مختلف مواقع پر قرآن مجید کے دلائل و براہین کو حکمت بالغہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور خود قرآن کو قرآن حکیم اور کتاب حکیم وغیرہ کہا گیا ہے مثلا (حكمة بالغة) ۔۔۔ (نہایت دلنشیں حکمت) اور (القران الحكيم) ۔۔۔۔ (شاہد ہے ہر حکمت قرآن) ۔۔۔۔ (پھر آں محترم سورۃ المائدہ کی آیت 100 اور سورۃ الزخرف کی آیت 63 پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں: )

ان وجوہ کی بنا پر حکمت سے صرف حدیث کو مراد لینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے بلکہ حدیث حکمت میں شامل ہے۔ یہ غلط فہمی کتاب اور حکمت، دونوں لفظوں کے اکٹھے ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، لیکن ہم نے جو پہلو واضح کئے ہیں، ان کی روشنی میں دونوں کے حدود الگ الگ ہو جاتے ہیں، جس کے بعد یہ غلط فہمی باقی نہیں رہتی"

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کی تمام آیات، احکام الہی اور حکمت سے بھرپور ہیں لیکن جن آیات کو اوپر پیش کیا گیا ہے ان میں "الکتاب" اور الحکمۃ دونوں کو حرف عطف "واؤ" کے ساتھ جوڑا گیا ہے جس میں "اکتاب" کی طرح الحکمۃ کی بھی ایک علیحدہ اور مستقل حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔ حکمت تو ایک قدر مشترک ہے جو کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ (یا سنت) دونوں میں موجود ہے۔ پس جس طرح سنت میں معارف قرآن کی موجودگی قرآن کی جداگانہ حیثیت پر اثرانداز نہیں ہوتی، اسی طرح قرآن کے پُر حکمت اور حکیم ہونے سے الحکمۃ کی مستقل اور علیحدہ حیثیت کی بھی نفی نہیں ہوتی۔

جناب اصلاحی صاحب کو بظاہر "الکتاب" سے "قرآن مجید باعتبار مجموعی" مراد لینے پر بھی اعتراض ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر "الکتاب" سے "قرآن مجید باعتبار مجموعی" مراد نہ لیا جائے تو لا محالہ اس میں احادیث کو بھی داخل و شامل سمجھنا پڑے گا کیونکہ خود بقول اصلاحی صاحب "حدیث حکمت میں شامل ہے"۔۔۔۔ نیز " اس میں (خود) حکمت قرآن کا بھی ایک بڑا ذخیرہ ہے، پھر اگر حدیث میں حکمت نہ ہو گی تو کہاں ہو گی؟ اور "حکمت" کے متعلق آں محترم پہلے ہی فرما چکے ہیں کہ "کتاب الہی جس طرح آیات اللہ اور احکام پر مشتمل ہے، اسی طرح حکمت پر بھی مشتمل ہے"۔۔۔۔ لیکن جمہور امت میں سے کوئی بھی سنت کے داخل و شاملِ قرآن ہونے کا قائل نہیں ہے۔

جناب اصلاحی کا یہ دعوی بھی اور دوسرے بہت سے علماء کی طرح غلط ہے کہ "وہ (سنت) اُمت کے لئے قرآن کے بعد دوسری چیز ہے" لیکن یہ اس کی تفصیل کا موقع نہیں ہے، عنوان "اصول شریعت میں سنت کی ثانوی حیثیت ناقابل قبول ہے" کے تحت اس بارے میں سیر حاصل بحث موجود ہے۔

جناب اصلاحی صاحب کا یہ دعوی بھی غلط ہے کہ حدیث کے لئے قرآن میں یُتلی، انزل اور اوھی کے لئے استعمال نہیں کئے گئے ہیں۔اس دعوی کے بطلان پر ہم مولانا موصوف کو سورۃ النجم کی آیات:3،4 پڑھنے کا مشورہ دیں گے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) یعنی " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش کے مطابق کچھ نہیں فرماتے۔ آپ کا ہر ارشاد وحی ہوتا ہے، جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے"۔۔۔۔ اور کون نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو ہی حدیث کہتے ہیں۔ حدیث کے وحی ہونے کے متعلق تفصیل "سنت نبوی بھی وحی پر مبنی ہے" کے زیر عنوان آگے بیان کی جائے گی۔

یہاں پر بعض لوگ یہ مغالطہ بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن میں: (وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا لُقْمَـٰنَ ٱلْحِكْمَةَ) ۔۔۔۔ یعنی "ہم نے لقمان کو حکمت دی" تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ لقمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں دی گئی تھیں؟"۔۔۔۔ لیکن یہ اعتراض کج بحثی کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ ہم نے اوپر واضح کر دیا ہے کہ قرآن میں مذکور لفظ"الحکمۃ" کے معنی علی الاطلاق سنت نبوی کے نہیں ہیں بلکہ جہاں الکتاب کے ساتھ الحکمۃ کا تذکرہ ہے، وہاں "الحکمۃ" سے مراد اسوہ نبوی ہے۔ اسی طرح بعض لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ سورۃ الاحزاب:34 میں (وَٱذْكُرْ‌نَ مَا يُتْلَىٰ فِى بُيُوتِكُنَّ)۔۔۔الخ" سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت قرآن میں شامل ہے ورنہ احادیث کی تلاوت کون کرتا ہے؟۔۔۔ لیکن یہاں اردو میں رائج لفظ "تلاوت" کے معنی کسی چیز کو پڑھنے اور پیروی کرنے کے ہیں جبکہ اردو زبان میں اسے خاص طور پر قرآن کریم پڑھنے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن میں لفظ "تلاوت" کو غیر قرآن کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (وَٱتَّبَعُوامَا تَتْلُوا ٱلشَّيَـٰطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَـٰنَ) یعنی " انہوں نے اس چیز کی اتباع کی جو شیاطین عہد سلیمان میں پڑھا کرتے تھے" اور (قُلْ فَأْتُوابِٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ فَٱتْلُوهَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ) ۔۔۔۔ یعنی "فرما دیجئے کہ پھر تورات لاؤ اور اس کو پڑھو، اگر تم سچے ہو"

پس ثابت ہوا کہ جناب اصلاحی صاحب وغیرہ نے اپنے مذکورہ بالا "دعوی" کی تائید میں جو دلائل پیش کئے ہیں، وہ کچھ زیادہ قوی نہیں ہیں۔ اپنے منفرد موقف کی کمزوری کا خود انہیں بھی احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں: "۔۔ اس وجہ سے اس کو نظرانداز کرنا مشکل ہے۔" آگے چل کر جناب اصلاحی صاحب نے فرمایا ہے کہ "یہ غلط فہمی، کتاب اور حکمت، دونوں لفظوں کے اکٹھے ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔۔۔الخ" ۔۔۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کیونکہ اصلا غلط فہمی کتاب و حکمت کے اکٹھے ہو جانے کے باعث نہیں بلکہ جناب اصلاحی صاحب کے استاذ و مُرشد محترم حمید الدین فراہی صاحب کی "مفردات القرآن" کی درج ذیل عبارت سے واقع ہوئی ہے:

"۔۔۔ثم استعملها الله تعالى في أكمل أفرادها فسمي الوحي حكمة كما سماه نورا أو برهانا وذكرا ورحمة ومن هذه الجهه سمي القرآن حكيما أي ذا حكمة كما سمي نفسه حكيما و عليما"

"پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے اعلیٰ ترین مفہوم کے لئے استعمال کیا، یعنی وحی کے لئے۔ وحی کو جس طرح نور، برہان، ذکر، رحمت وغیرہ کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح اس کو حکمت کے لفظ سے بھی تعبیر کیا ہے اور اس پہلو سے قرآن مجید کا نام حکیم رکھا جس طرح اپنی ذات کے لئے حکیم و علیم کے الفاظ استعمال کئے"

خلاصہ یہ ہے کہ اس بارے میں جناب اصلاحی صاحب کی منفرد رائے قطعا ناقابل قبول ہے۔ صحیح مسلک وہی ہے جو حضرت قتادہ، سعید بن عروبہ، ھذلی، حسن بصری، ابن جریر، الطبری، امام شافعی، ابن عبدالبر، سیوطی اور ابن کثیر رحمۃ اللہ علیھم وغیرہ سے منقول ہے۔واللہ اعلم

سنت نبوی بھی وحی پر مبنی ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں کسی مومن کو قطعا کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی شک ہے کہ آں صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کے ہادی اعظم اور قائداعظم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے شارح و مفسر بھی تھے۔ آپ کو دین سماوی کی تکمیل، تعلیم، ترویج، تبلیغ اور اشاعت کے ساتھ پوری انسانیت کی فوزوفلاح اور خیر و نصح کے لئے بھی مبعوث فرمایا گیا تھا۔ پس جب دین اسلام اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، قرآن کریم اس دین کی ایک اہم بنیاد ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی شرح اور جزئیات دین کی تفصیلات بیان کرنے کے لئے ہی مبعوث فرمایا گیا ہے تو آپ کی بیان کردہ قرآن کی شرح اور دین کی تعلیمات کو غیر اللہ کی جانب سے سمجھنا کوئی معقول بات نہیں ہے۔ دین اسلام جو تمام بشر کے لئے فلاحِ دارین کا جامن ہے، اصلا دو بنیادی اصول پر قائم ہے: قرآن اور اس کی تشریح و بیان جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات سے عبارت ہے۔ اگر قرآن کریم کے ساتھ اس جز کو شامل نہ کیا جائے تو بلاشبہ دین نامکمل رہتا ہے، پس تکمیل دین کا تقاضا ہے کہ جن چیزوں کا صدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ہے، وہ بھی وحی الہی پر مبنی ہوں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:

(وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش کے مطابق کچھ نہیں فرماتے۔ آپ کا ارشاد نِری وحی ہوتی ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے"

اس چیز پر اور بھی بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں چنانچہ اجماع امت سے جو چیز حاصل اور ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ سنت بھی وحی ہے۔ جو چیز قرآن اور سنت میں امتیاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن معجز متلو ہے اور سنت غیر متلو ہے۔ ہم ذیل میں چند ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے سنت کا وحی منزل من اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے:

(1)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَكَذَ‌ٰلِكَ جَعَلْنَـٰكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّ‌سُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا ٱلْقِبْلَةَ ٱلَّتِى كُنتَ عَلَيْهَآ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّ‌سُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَ‌ةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَـٰنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٤٣﴾ قَدْ نَرَ‌ىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى ٱلسَّمَآءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْ‌ضَىٰهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ‌ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَ‌امِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَ‌هُۥ)

"اور جس قبلہ پر آپ رہ چکے ہیں وہ تو محض اس لیے تھا کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ کون رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع اختیار کرتا ہے اور کون پیچھے ہٹ جاتا ہے اور یہ (تحویل قبلہ منحرف لوگوں پر) بڑا ثقیل ہے مگر جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمان کو جائع کر دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ ہم بار بار آپ کے منہ کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کر دیں گے جسے کے لئے آپ کی مرضی ہے۔ پس اپنا چہرہ (حالت نماز میں) مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور تم سب لوگ جہاں کہیں بھی موجود ہو اپنے چہروں کو اسی طرف کیا کرو"

اس آیت میں لفظ "جعلنا" ہمیں اس بات کی خبر دیتا ہے کہ کعبۃ اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنائے جانے سے قبل (یعنی مدینہ منورہ کی ابتدائی زندگی میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسرے قبلہ کی طرف منہ کرنے پر مامور تھے لیکن قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد الحرام کو قبلہ بنانے سے قبل آپ کو بیت المقدس کی جانب متوجہ ہونے کا حکم فرمایا تھا۔ لہذا ثابت ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آں صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی تھی جس کے ذریعہ آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا۔

(2)قرآن کریم میں ہے: (وَإِذْ أَسَرَّ‌ ٱلنَّبِىُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَ‌ٰجِهِۦ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِۦ وَأَظْهَرَ‌هُ ٱللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّ‌فَ بَعْضَهُۥ وَأَعْرَ‌ضَ عَنۢ بَعْضٍ ۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتْ مَنْ أَنۢبَأَكَ هَـٰذَا ۖ قَالَ نَبَّأَنِىَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْخَبِيرُ‌)

"اور جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وجہ سے اپنی ایک بات چپکے سے فرمائی مگر جب آپ کی اس زوجہ نے وہ بات(دوسری بیویوں کو) بتا دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے باخبر کر دیا تو آپ نے ( اس راز ظاہر کرنے والی بیوی کو) تھوڑی سی بات جتلا دی اور تھوڑی سی بات ٹال گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگی آپ کو کس نے خبر کر دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے علیم(یعنی بڑے جاننے والے) اور خبیر (یعنی بڑی خبر رکھنے والے) نے مطلع کیا ہے"

لیکن قرآن کریم کی کسی آیت میں بھی علیم و خبیر کا اپنے نبی کو اس بات سے مطلع کرنا مذکور نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس زوجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز دوسری بیویوں کو بھی بتا دیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی تھی جس کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ سے باخبر کیا گیا تھا۔

(3)اور ارشاد ہوتا ہے:

(مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَ‌كْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ)

"جو کجھوروں کے درخت کے تنے تم نے کاٹے یا ان کو جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ہی حکم (اور رضا) کے مطابق ہے"

لیکن مدینہ منورہ میں بسنے والے یہودی قبیلہ بنو نضیر کی بدعہدی کے نتیجہ میں کی جانے والی اس تادیبی کاروائی میں جس "اذنِ الہی" کا تذکرہ ہے وہ قرآن کریم میں کہیں مذکورہ نہیں ہے چنانچہ علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "(ولا نجد في القرآن ذلك الإذن فثبت قطعياأن الرسول صلي الله عليه وسلم كان ياتيه الوحي أيضا كما قلنا سابقا)"

(4) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِىٓ أَزْوَ‌ٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْامِنْهُنَّ وَطَرً‌ا)

"پس جب زید کا اس سے جی بھر گیا تو ہم نے آپ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں بیٹیوں کے(نکاح کے) بارے میں کچھ تنگی نہ رہے، جب وہ اُن سے اپنا جی بھر چکیں"

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب (سابقہ زوجہ حضرت زید بن حارثہ) سے شادی، اللہ تعالیٰ کی اجازت سے کی تھی لیکن قرآن میں یہ اِذن کہیں مذکور نہیں ہے۔ البتہ مختلف احادیث میں بصراحت مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شادی اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی ہوئی تھی۔

(5)اور فرمایا:

(يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَو‌ٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ‌ ٱللَّهِ وَذَرُ‌وا ٱلْبَيْعَ ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ خَيْرٌ‌لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٩﴾ فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَو‌ٰةُ فَٱنتَشِرُ‌وافِى ٱلْأَرْ‌ضِ وَٱبْتَغُوا مِن فَضْلِ ٱللَّهِ وَٱذْكُرُ‌واٱللَّهَ كَثِيرً‌ا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿١٠﴾ وَإِذَا رَ‌أَواتِجَـٰرَ‌ةً أَوْ لَهْوًا ٱنفَضُّوٓاإِلَيْهَا وَتَرَ‌كُوكَ قَآئِمًا ۚ قُلْ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌ‌ مِّنَ ٱللَّهْوِ وَمِنَ ٱلتِّجَـٰرَ‌ةِ ۚ وَٱللَّهُ خَيْرُ‌ ٱلرَّ‌ٰ‌زِقِينَ ﴿١١﴾)

"اے ایمان والو! جب جمعہ کے روز نماز جمعہ کے لئے اذان کہی جایا کرے تو تم اللہ کی یاد کی طرف فورا چل پڑا کرو اور خریدوفروخت چھوڑ دیا کرو، یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تمہیں کچھ سمجھ ہو۔ پھر جب نماز پوری ہو چکے تو تم زمین پر چلو پھرو اور اللہ کی روزی تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ اور وہ لوگ جب کسی تجارت یا مشغولیت کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کی طرف دوڑنے کے لئے بِکھر جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ جو چیز اللہ کے پاس ہے وہ ایسے مشاغل اور تجارت سے بدرجہا بہتر ہے اور اللہ ہی سب سے اچھا روزی پہنچانے والا ہے"

اس آیت کی تفسیر میں جناب امین اصلاحی صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے:

"جمعہ کی نماز، اس کی اذان اور اس کے خطبے سے معلق یہاں مسلمانوں کو جو ہدایت دی گئی ہیں اور ان کی ایک غلطی پر جس طرح تنبیہ کی گئی ہے، اس کا انداز شاہد ہے کہ جمعہ کے قیام سے متعلق ساری باتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ہیں، حالانکہ قرآن میں کہیں بھی جمعہ کا کوئی ذکر نہ اس سے پہلے آیا ہے نہ اس کے بعد ہے، بلکہ روایات سے ثابت ہے کہ اس کے قیام کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور لوگوں کو آپ ہی نے اس کے احکام و آداب کی تعلیم دی۔ پھر جب لوگوں سے اس کے آداب ملحوظ رکھنے میں کوتاہی ہوئی تو اس پر قرآن نے اس طرح گرفت فرمائی گویا براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کے بتائے ہوئے احکام و آداب کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دئے ہوئے احکام بعینہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں۔ ان کا ذکر قرآن میں ہو یا نہ ہو، رسول کی طرف نسبت کی تحقیق تو ضروری ہے۔ لیکن اگر ثابت ہے تو انکار خود اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار ہے"

(6)اور ارشاد ہوتا ہے:

(وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَو‌ٰةِ ٱتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ)

"اور جب نماز کے لئے پکارتے ہو(اذان) تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو بالکل عقل نہیں رکھتے"

مذکورہ بالا آیت نمبر 5 اور آیت نمبر 6 سے پتہ چلتا ہے کہ ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے بھی اذان ایک دینی عمل کی حیثیت سے رائج تھی لیکن قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں بتائی جا سکتی جس کے ذریعہ اذان کا حکم دیا گیا ہو۔

(7)ارشاد ہوتا ہے: (وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا)

"اور ان میں کوئی مر جائے تو اس پر کبھی نماز(جنازہ) نہ پڑھئیے"

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے قبل ہی نماز جنازہ مشروع ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اموات کے جنازوں پر نماز پڑھا کرتے تھے حالانکہ قرآن میں نازل ہونے والی اس سے پہلے کوئی آیت نہیں بتائی جا سکتی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یا مسلمانوں کو نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو۔

(8)اور ارشاد ہوتا ہے: (وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ)

"اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی"

کیا بغیر احادیث کی مدد کے کوئی بتا سکتا ہے کہ وہ دو جماعتیں کون تھیں اور اللہ تعالیٰ جس وعدہ کو یہاں یاد دلا رہا ہے، وہ وعدہ قرآن کریم میں کہاں مذکور ہے؟ اگر قرآن میں نہیں ہے تو ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔

اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن بخوف طوالت ہم صرف ان چند مثالوں پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔ اب ذیل میں سنت نبوی کے وحی من عنداللہ ہونے کے بارے میں بعض احادیث آ آثار ملاحظہ فرمائیں:

(1)مقدام بن معدیکرب سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

"ألا إني اوتيت القرآن ومثله ،ألا يوشك رجل شبعان على أريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وإن ما حرم رسول الله كما حرم الله"

"آگاہ رہو مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کی مثل ایک اور چیز۔ عنقریب ایک سیر شکم آدمی مسند سے ٹیک لگائے یوں کہے گا کہ قرآن کا دامن تھامے رہو۔ جو چیز اس میں حلال ہو اس کو حلال سمجھو اور جو حرام ہو اسے حرام سمجھو لیکن خبردار رہو کہ جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ٹھہرایا ہو، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کی مانند حرام ہو"

اس حدیث میں آں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرماان کہ "مجھے کتاب جیسی ایک اور چیز دی گئی ہے" کے معنی یہ ہیں کہ مجھے کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ اس کی توضیح و تفسیر بھی بارگاہ الہی سے عطا کی گئی ہے۔ اسی کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی آیات کی تخصیص فرماتے، ان کی تشریح و توضیح فرماتے، بعض احکام کو منسوخ فرماتے اور اس کے بعض احکام پر اضافہ فرماتے تھے۔ پس آں صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تفسیر قرآن اسی طرح واجب العمل اور لازم القبول ہوئی جس طرح کہ قرآن کریم واجب العمل اور لازم القبول ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وجوب و لزوم، سنت کے وحی ہونے کے باعث ہی ہے۔ اسی حدیث میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وحی متلو کے علاوہ مجھے وحی غیر متلو بھی عطا کی گئی ہے۔ اس کی تائید آیت: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) سے ہوتی ہے۔

امام بیہقی فرماتے ہیں کہ:

"هذا الحديث يحتمل وجهين: أحدهما أنه أوتي من الوحي الباطن غير المتلو مثل ما أوتي من الظاهر المتلو والثاني أن معناه أنه أوتي الكتاب وحيا يتلى و أوتي مثله من البيان أي أذن له أن يبين ما في الكتاب فععم و يخص وأن يزد عليه فيشرع ما ليس في الكتاب له ذكر فيكون ذلك في وجوب الحكم ولزوم العمل به كالظاهر المتلو من القرآن" اور اسی طرح اس حدیث میں "(مثله معه)" کی تشریح میں علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"معناه على وجهين أنه أوتي من الوحي الباطن غير المتلو مثل ما أوتي من الظاهر المتلوّ أوتي الكتاب وحيا يُتلي و أوتي مثله من البيان أي أذن له أن يعم و يخص وأن يزيد عليه وأن یشرع ما ليس في الكتاب له ذكر فيكون ذلك في وجوب الحكم ولزوم العمل كالظاهر المتلو من القرآن يعني أوتيت القرآن وأحكاما و مواعظ وأمثالا تماثل القرآن في كونها واجبة القبول أو في المقدار، فيه رد على الخوارج والروافض تعلقوا بظاهر القرآن وتركو السنن التي قد ضمنت ببيان الكتب تفحيروا وضلوا"

"حدیث کے مثل قرآن ہونے کی تشریح دو طرح کی جا سکتی ہے: اولا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی متلو عطا ہوئی، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی غیر متلو بھی عطا کی گئی۔ ثانیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو الکتاب بطور وحی دی گئی ہے۔ اس کے مثل آپ کو بیان و شرح پر مشتمل وحی بھی عطا ہوئی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے عموم کو خاص اور خصوص کو عام قرار دیں، قرآن سے زائد احکام بیان فرمائیں اور جن امور کا قرآن میں کر نہیں ہے، ان کو قانونی طور پر اُمت پر نافذ کریں۔ یہ مماثلت وجوب حکم اور لزوم عمل کی بنا پر ہے یعنی میں قرآن دیا گیا ہوں اور احکام، مواعظ اور امثال بھی دیا گیا ہوں جن کا قبول کرنا قرآن کی طرح لازم ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مقدار کے اعتبار سے مماثلت مراد ہو۔ اس میں ان خوارج و روافض کا رد موجود ہے جنہوں نے قرآن کے ظاہری الفاظ کو لے لیا اور قرآن کی تشریحات پر مشتمل سنن کو ترک کر دیا اور گمراہی میں جا پڑے"

شارح سنن ابوداؤد، علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "()" کی شرح میں تقریبا یہی بات تحریر فرمائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

"أي الوحي الباطن غير المتلو أو تاويل الوحي الظاهر وبيانه تعميم و تخصيص وزيادة ونقص أو أحكاما ومواعظ أمثالاتماثل القرآن في وجوب العمل او في المقدار"

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"مذکورہ صدر حدیث میں اس سنت نبوی کی مخالفت سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے جس پر آں صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا ہو مگر قرآن میں اس کا تذکرہ نہ ہو۔ خوارج اور شیعہ وغیرہ کے گمراہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ظواہر قرآن سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور احادیث نبویہ کو ترک کرتے ہیں جن میں قرآن کریم کی شرح و تفسیر درج ہوتی ہے"

(2)عبیداللہ ابن ابی رافع، اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا اُلفين أحدكم متكثا على أريكته ياتيه الأمر من أمري مما أمرت به أو نهيت عنه فيقول لا أدري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه"

"میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسہری پر مسند نشین ہو اور اس کے پاس جب میرے احکام میں سے کوئی امر یا نہی پہنچے تو وہ کہہ دے کہ میں انہیں نہیں جانتا۔ ہم نے جو کتاب اللہ میں پایا ہے، ہم صرف اسی کی اتباع کرتے ہیں"

واضح رہے کہ بقول علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ ابورافع(مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اور مقدام بن معدیکرب کی مذکرورہ بالا دونوں روایتیں متعدد کتب حدیث میں درج ہیں اور ان کی اسناد پر محدثین نے اعتماد کیا ہے"

(3)شامی ثقہ تابعی حضرت حسان بن عطیہ سے بسند صحیح مروی ہے کہ:

"كان جبريل عليه السلام ينزل علي رسول الله صلي الله عليه وسلم بالسنة كما ينزل عليه بالقرآن ويعلمه كما يعلمه القرآن"

"جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سنت لے کر اسی طرح نازل ہوتے تھے جس طرح کہ آپ پر قرآن لے کر نازل ہوا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت بھی اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح کہ قرآن سکھاتے تھے" امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے یحیی بن کثیر سے تخریج کیا ہے ۔۔۔۔ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے: "كان الوحي ينزل علي رسول الله صلي الله عليه وسلم و يحضره جبريل بالسنة التي تفسير ذلك" (الموافقات للشاطبی ج4ص26) یعنی "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور جبریل علیہ السلام آپ کے پاس لے کر آتے تھے جو اس (وحی) کی تفسیر کر دیتی تھی"

بعض روایات میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں:

"كان جبريل ينزل بالقرآن والسنة و يعلمه أياها كما يعلمه القرآن"

امام مروزی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند سے حضرت عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا:

"كان جبريل إذا نزل بالقرآن على النبي صلي الله عليه وسلم يأخذه بالغشوة فيلقيه علي قلبه فيسري عنه وقد حفظه فيقروه وأما السنن فكان يعلمه جبريل ويشافهه به"

(4)مکحول سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أتاني الله القرآن ومن الحكمة مثليه"

"مجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہے اور اس کے مثل دو چند حکمت بھی (عطا کی ہے)"

(5)ابن شہاب نے عن الاعرج عن ابی ہریرہ روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں۔ اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیات موجود نہ ہوتیں تو میں بھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا (پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ) (إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ) اور (إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ)

اس حدیث سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک سنت رسول اللہ کا وحی اور منزل من اللہ ہونا ثابت ہوا۔

(6)عامر بن سیاف کا قول ہے کہ میں نے امام اوزاعی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ:

"إذا بلغك عن رسول الله صلي الله عليه وسلم حديث فإياك أن تقول بغيره فإنه كام مبلغا عن الله"

"اگر تیرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پہنچے تو تجھے چاہیے کہ اس کے خلاف یا اس کے علاوہ کچھ کہنے سے پرہیز کرے کیونکہ وہ حدیث دراصل اللہ تعالیٰ کی جانب سے مبلغ ہے"

(7)امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (256ھ) نے اپنی "صحیح" میں ایک باب یوں باندھا ہے: (ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يُسال مما لم ينزل عليه الوحي فيقول: لا أدري اولم يُجب حتي ينزل عليه الوحي) اور اس باب کے تحت دو حدیثین درج ذیل فرمائی ہیں جو موضوع زیربحث پر صریح نص کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ حدیثیں حسب ذیل ہیں:

1۔ابن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ "سئل النبي صلي الله عليه وسلم عن الروح فسكت حتي نزلت الاية" یعنی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ خاموش ہو گئے حتی کہ آپ پر آیت (وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّ‌وحِ ۖ قُلِ ٱلرُّ‌وحُ مِنْ أَمْرِ‌ رَ‌بِّى) نازل ہوئی"۔

نوٹ: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث مفصلا باب مايكره من كثيرة السؤال ومن تكلف مالا يعنيه وقوله تعاليٰ : (لَا تَسْـَٔلُواعَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ) کے تحت درج ہے۔

2۔حضرت جابر بن عبداللہ کی اپنے مرض الموت میں آں صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا مال تقسیم کرنے کے بارے میں استفسار والی حدیث جس میں واضح طور پر مذکور ہے: "فما أجابني بشيء حتى نزلت آية الميراث" یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قطعا کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ آیت میراث نازل ہوئی"

(8)اسی طرح بعض دوسری احادیث میں بھی مذکور ہے مثلا یعلی بن امیہ کی حدیث کہ جس میں آں صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کے متعلق سوال کیا تھا جبکہ وہ جبہ میں ملبوس تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا تھا حتی کہ وحی آئی پھر آپ نے اس کا جواب دیا"

(9) "قصۃ العسیف" میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ " کیا میں تم دونوں کے مابین کتاب اللہ یعنی اس کی وحی اور اس کے مثل چیز (یعنی سنت) سے فیصلہ نہ کروں؟"

(10) حضرت جریر بن معطم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ:

"يا رسول الله أي البلدان أحب إلى الله وأي بلدان أبغض إلى الله؟"

یعنی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہروں میں کون سی جگہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ اور کون سی جگہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا ادري حتي اسال جبريل" مجھے معلوم نہیں حتی کہ میں جبریل سے پوچھوں" پھر جبریل علیہ السلام وحی لے کر آئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہروں میں مساجد کا حصہ محبوب ترین ہے اور بازاروں کا حصہ مغضوب ترین ہے"

(11) امام بن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ ابن وھب سے نقل کیا ے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"كان رسول الله صلي الله عليه وسلم يسال عن الشئي فلا يجب حتي ياتيه الوحي من السماء"

یعنی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی بارہ میں کوئی سوال پوچھا جاتا تو آں صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب نہیں دیتے تھے حتی کہ آپ کے پاس آسمان سے وحی آ جاتی"

لیکن اس کے برخلاف جناب حمید الدین فراہی صاحب "مقدمہ نظام القرآن" کی فصل بعنوان "معروف و منکر" میں لکھتے ہیں:

"نبی کی روح بیدار خود بھی معروف و منکر کی شناخت کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں وحی کی رہنمائی موجود نہیں ہوتی، ان میں وہ اپنے الہام سے امت کو کوئی حکم اس وقت تک کے لئے دے دیتا ہے جب تک وحی نہ آ جائے اور یہ کام اس کے منصب کا ایک قدرتی جزو ہوتا ہے"

جناب فراہی صاحب "الاحکام الاصول" میں مزید لکھتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قرآن مجید کی جہت مکنون کی طرف بھی رہنمائی فرمائی تھی۔ اس نے اس روح سے نبی کے قلب کو زندگی بخشی اور اس نور کی ہدایت دے کر آپ کو وہ علم بخشا جو آپ کو پہلے حاصل نہ تھا اس لئے آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کو سنت کی مستقل بنیاد سمجھا جائے گا"

اور فرماتے ہیں:

"رسول اللہ کا حکم یکساں طور پر از حکمت ہوتا ہے، خواہ وہ کتاب اللہ کی بنیاد پر ہو یا اس نور و حکمت کے مطابق جس سے خدا نے آپ کا سینہ بھر دیا تھا۔"

ان اقتباسات سے جناب خالد مسعود (مدیر "تدبر" لاہور) یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں:

"ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مولانا فراہی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب قرآن حکیم کی تبیین تھا۔ اس منصب کا تقاضا یہ بھی تھا کہ آپ اپنی روح اور نور و حکمت کے باعث، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی تھی، قرآن حکیم کے احکام کے علاوہ اپنے طور پر احکام دے سکتے تھے اور ان کی حیثیت وہی ہوتی جو وحی کے احکام کی ہوتی۔ یہی احکام ہیں جن سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم عبارت ہے۔۔ الخ"

غالبا جناب فراہی صاحب اور ان کے ہم فکر حضرات کا ماخذ ملا علی قاری وغیرہ کا یہ قول ہے:

"بعض لوگ یہ کہتے ہیں نبی علیہ الصلوۃ والسلام مجتہد تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی بمنزلہ وحی ہوتا تھا تاکہ آپ غلطی نہ کر سکیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی خطا ہو جاتی تو آپ کو برخلاف دوسروں کے اس پر خبردار کر دیا جاتا تھا۔"

جبکہ جملہ محدثین بالخصوص امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا خیال یہ ہے کہ:

(12)اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ کہنے کا حکم دیا: (إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ) اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) اور (لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ)۔۔۔۔ ان تمام آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد دین میں داخل اور اللہ عزوجل کی جانب سے بھیجی گئی وحی ہے۔ اس بارے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، اور نہ اس بارے ہونے والی ہر وحی ذکرِ منزل ہے۔

اور "البیان" یعنی بیانُ القرآن کلام سے عبارت ہے۔ پس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت فرماتے تو اس کی تشریح و بیان بھی فرماتے۔ اگر قرآن کا کوئی حکم مجمل ہوتا جس کے معنی الفاظ سے پوری طرح سمجھ میں نہ آ سکتے ہوں تو موصولہ وحی کے ذریعہ اس کی توضیح فرماتے خواہ وہ وحی متلو ہو یا غیر متلو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہے: (فَإِذَا قَرَ‌أْنَـٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْ‌ءَانَهُۥ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩﴾) اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ قرآن کی بیان و توضیح اللہ عزوجل کے ذمہ ہے۔ پس اگر یہ اس کے ذمہ ہی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی جانب ہی سے ہوا۔ پس قرآن اور اس کی تفسیر ہر چیز خواہ متلو ہو یا غیر متلو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی وحی ہوتی ہے"

(13)علامہ حازمی رحمۃ اللہ علیہ (584ھ) فرماتے ہیں:

"جبریل علیہ السلام سنت بھی لے کر نازل ہوتے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھاتے تھے، چنانچہ آپ ایسی کوئی بات نہیں کہتے تھے جو تنزیل کے خلاف ہو الا یہ کہ آپ کا سابقہ کوئی قول تنزیل کے ذریعہ منسوخ ہو چکا ہو۔ پس تنزیل کا معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وہ قول ہے جو باسناد صحیح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو"

(14)حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ آیت: (وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

"فالکتاب ما یتلی والحکمة السنة وھو ما جاء به عن اللہ بغیر تلاوة"

یعنی "کتاب" وہ وحی ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے اور "حکمت" سنت ہے جو کہ بصورت وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر تلاوت کے آئی ہے"

(15)امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (911ھ) نے امام الحرمین الجوینی رحمۃ اللہ علیہ (487ھ) سے نقل کیا ہے کہ:

"اللہ تعالیٰ کا کلام دو قسموں میں نازل ہوا ہے۔ ان میں سے ایک قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام، کہ جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا جاتا تھا،سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس طرح کرو، یا اللہ تعالیٰ نے اِس اِس طرح حکم دیا ہے۔ پس جبریل علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کو سمجھا اور اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور ان سے اپنے رب کا ارشاد بیان کیا۔ لیکن اس کے لئے کوئی عبارت مخصوص نہ ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر بادشاہ یہ کہے کہ "فلاں سے کہو کہ ملک نے تیرے لیے یہ حکم دیا ہے"اجتهد في الخدمة واجمع جندك للقتال ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی بات کو اپنے الفاظ میں یوں بیان فرمائیں: ملک نے کہا ہے کہ : "لا تتهارن في خدمتي وإلا تترك الجند تتفرق وحثهم على المقاتلة" ۔۔۔۔ تو آں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ کذب پر محمول ہو گا اور نہ ہی ادائیگی رسالت کی تقصیر پر۔

اور کلام اللہ کی دوسری قسم وہ ہے : جب کہ اللہ تعالیی جبریل علیہ السلام کو حکم دیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کتاب قرات کرو تو جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے انہی کلمات کے ساتھ بلا تغییر نازل ہوں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ملک کوئی کتاب لکھ کر اپنے امین کویہ کہہ کر دے کہ اسے فلاں شخص کو پڑھ کر سنا دینا تو وہ اس میں کوئی بھی کلمہ یا حرف اپنی طرف سے نہیں بدلتا"

امام سیوطی امام الحرمین رحمۃ اللہ علیہ کے مندرجہ بالا کلام کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

(16)میں کہتا ہوں کہ ان دو قسموں میں سے قرآن کا تعلق دوسری قسم سے اور سنت کا تعلق پہلی قسم سے ہے، جیسا کہ وارد ہے کہ جبریل علیہ السلام جس طرح قرآن لے کر نازل ہوتے تھے، اسی طرح سنت کے ساتھ نازل ہوتے تھے۔ پس اس سے سنت کی بالمعنی روایت جائز ہوئی کیونکہ جبریل علیہ السلام نے اسے بالمعنی ادا فرمایا ہے لیکن قرآن کی بالمعنی قرات جائز نہیں ہے کیونکہ جبریل نے اسے بالفظ ہی ادا کیا تھا اور بالمعنی وحی کرنا جائز نہ سمجھتے تھے"

(17)امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"وقول رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة لدلالة المعجزة على صدقه والامر الله تعاليٰ إيانا باتباعه ولانه لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحي ولكن بعض الوحي يتلى فيسمى كتابا و بعضه لا يتلى وهو السنة"

"یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول حجت ہے اس لیے کہ معجزات آپ کے صدق پر دلالت کرتے ہیں اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا ہے اور اس لیے بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نرا وحی ہوتا ہے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض وحی کی تلاوت کی جاتی ہے پس اس کا نام کتاب (قرآن) ہے اور بعض وحی کی تلاوت نہیں کی جاتی اور یہی سنت ہے"

(18)امام مروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی اجازت اور وحی کے ذریعہ ہی شرائع کو مشروع اور سنن کو مسنون بنایا ہے نہ کہ اپنی مرضی اور خواہشِ نفس کے مطابق، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود اس بات کی شہادت یوں دی ہے:

(مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ﴿٢﴾ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾)

(19)شیخ جمال الدین قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب "قواعد التحدیث" میں جمہور محدثین کی اتباع میں ایک عنوان یوں قائم فرمایا ہے: "ماوري ان الحديث من الوحي"

(20)ابوالبقاء اپنی "کلیات" میں فرماتے ہیں:

"حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے نازل کردہ وحی کی حیثیت سے قرآن وحدیث ایک ہی اور باہم وابستہ ہیں جس کی دلیل یہ آیت ہے: (إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ) ۔۔۔۔ ان دونوں چیزوں میں اگر کچھ فرق ہے تو وہ اس حیثیت سے ہے کہ حدیث کے برخلاف قرآن اعجاز و تحدی کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اس کے الفاظ لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے ہیں، جن میں تصرف کا حق اصلا نہ جبریل علیہ السلام کو حاصل ہے اور نہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو، لیکن احادیث اس بات کی متحمل تھیں کہ جبریل علیہ السلام پر ان کے حرفا معانی نازل ہوں، جنہیں یا تو وہ عبارت کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کر دین یا بذریعہ الہام آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فصیح عبارت میں اس کو بیان فرما دیں"

(21)علامہ مفتی محمد شفیع "قرآن و سنت کی ھقیقت" کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں:

"آیت نمبر 133 یعنی (وَأَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ) الخ۔۔۔۔ میں کتاب کے ساتھ حکمت کو بھی داخل فرما کر اس طرح اشارہ کر دیا گیا ہے کہ حکمت جو نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور تعلیمات کا، یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی نازل کی ہوئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کے الفاظ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں، اس لیے داخلِ قرآن نہیں اور معانی اس کے اور قرآن کے دونوں اللہ ہی کی جانب سے ہیں، اس لیے دونوں پر عمل کرنا واجب ہے"

(22)آں رحمہ اللہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

"علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے موافقات میں پوری تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری کی پوری کتابُ اللہ کا بیان ہے، کیونکہ قرآن کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا ہے: (وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ) اور حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خلقِ عظیم کی تفسیر یہ فرمائی: (كان خلقه القرآن) ، اس کا حاصل یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی کوئی قول و فعل ثابت ہے وہ سب قرآن ہی کے ارشادات ہیں، بعض تو ظاہری طور پر کسی آیت کی تفسیر و توضیح ہوتے ہیں، جن کو عام اہل علم جانتے ہیں، اور بعض جگہ بظاہر، قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب ِ مبارک میں بطورِ وحی اس کا القاء کیا جاتا ہے وہ بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی کے حکم میں ہوتا ہے، کیونکہ حسب تصریح قرآنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں ہوتی، بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام عبادات، معاملات، اخلاق، عادات، سب کی سب بوحیِ خداوندی اور بحکمِ قرآن ہیں، اور جہاں کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد سے کوئی کام کیا تو بالاخر وحی الہی سے اس پر کوئی نکیر نہ کرنے سے اس کی تصحیح اور پھر تائید کر دی جاتی ہے۔ اس لیے وہ بھی بحکمِ وحی ہو جاتا ہے۔"

(23) جناب امین احسن اصلاحی بھی ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

"جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احکامی آیات کے اجمالات کی وضاحت فرمائی۔ اسی طرح حکمت کے دقیق اشارات قرآن میں ہیں، ان کی وضاحت فرمائی۔ یہی چیز ہے جس کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ألا إني اُوتيت القرآن ومثله معه" دیکھو، مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے مثل اور بھی۔اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ سنت مثل قرآن ہے، سنت اپنے ثبوت میں بھی ہم پایہ قرآن ہے۔ الخ"

خلاصہ کلام یہ کہ استدلال اور اخذ مسائل کے وقت حدیث نبوی کا حکم بھی قرآن کریم کی طرح وحی الہی کا ہی ہے کیونکہ اس کا علم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح دیا گیا ہے جس طرح کہ قرآن کا لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ جس طرح نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے ، اسی طرح حدیث بھی نماز میں پڑھی جا سکتی ہے۔

جمہور امت کی متفقہ رائے کے برخلاف ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور ان کے ہم مشرب سنت نبوی کے مبرنی بر وحی ہونے کے منکر ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

"جو احادیث قرآن، عقل اور حقیقت کے خلاف نہیں، ہم ان کے متعلق یہ حُسنِ ظن تو رکھ سکتے ہیں، وہ غالبا اقوالِ رسول ہوں گے لیکن پورے وثوق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے" ۔۔۔۔ اور

"۔۔۔۔ ہمارے لئے صاف اور سیدھا راستہ یہی ہے کہ ہم صرف قرآن حکیم پر ایمان لائیں اور قرآن سے مطابق احادیث پر حسنِ ظن رکھیں اور ظاہر ہے کہ ایک ظنی چیز کو وحی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا" ۔۔۔۔۔اور

"ہم صفحات گذشتہ میں کئی آیات سے واضح کر چکے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بذریعہ وحی صرف قرآن نازل ہوا تھا اور آپ کا کوئی اور قول وحی کا درجہ نہیں رکھتا۔ چونکہ قرآن میں صرف مہمات مسائل سے بحث کی گئی ہے اور چھوٹی موٹی تفاصیل کو انسانی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام غیر الہامی مسائل میں صحابہ سے مشورہ لیا کرتے تھے۔۔۔۔الخ"

۔۔۔۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان تمام ہفوات کا باطل اور سبیلُ المومنین سے منحرف ہونا اوپر پیش کی گئی بحث سے ازخود ظاہر ہے، لہذا ہم مزید تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

سنت نبوی بھی قرآن کی طرح محفوظ ہے

ہمارا یقین ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حفاظ کو قرآن محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی اسی طرح حفاظِ حدیث کو بھی احادیثِ نبوی کی حفاظت کی توفیق بخشی ہے، کیونکہ اگر حدیث دین ہے تو اس کی حفاظت کا ذمہ وار بھی حق تعالیٰ کو ہی ہونا چاہیے ورنہ دین ناقص رہ جائے گا۔ بعض لوگ بلاوجہ یہاں اس بے اطمینانی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ رواۃ اور حفاظ حدیث "بہرحال تھے تو انسان ہی ، انسانی علم کے لئے جوحدیں فطرتا اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہیں، ان کے آگے تو وہ بھی نہیں جا سکتے تھے (پس) انسانی کاموں میں جو نقص فطری طور پر رہ جاتا تھا اس سے تو ان (حفاظِ حدیث) کے کام بھی محفوظ نہ تھے" ۔۔۔ لیکن لیکن یہ بے اطمینانی دراصل تحفطِ دین کے بنیادی فلسفہ اور طریقہ کار سے لا علمی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح اجماعِ امت میں ہر فرد محفوظ نہیں ہوتا لیکن بحیثیتِ مجموعی مجتہدین کو عصمت کا مقام حاصل ہوتا ہے، ٹھیک یہی صورت حفاظِ قرآن کی بھی ہے۔ کسی نے ان کو غیر انسان یا اللہ کی مقرر کردہ فطری حدود سے موراء نہیں سمجھا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی ان کی انسانی کاوشوں کو بحیثیتِ مجموعی نہیں سمجھتا، پھر کیا وجہ ہے کہ احادیثِ نبوی کو روایت کرنے والے وہی صحابہ ، رواۃ اور حفاظ جنہوں نے قرآن کو بھی حفظ و نقل کیا ہے، حفظ و روایت قرآن میں تو معتبر پائے جائین لیکن روایتِ حدیث میں انہیں مشتبہ سمجھا جائے۔ اگر وہ لوگ نقل و روایت اور ضبط و حفاظت کے معاملہ میں تحریف و تساہل کے خوگر تھے تو جس طرح ان غیر محتاط رواۃ کی روایت کردہ احادیث ناقابل باقی نہیں رہنا چاہیے، لیکن ایسا کوئی بھی شخص نہیں کہتا۔

صدیوں سال قبل ان جیسے شکوک و شبہات کا علامہ شریک بن عبداللہ نخعی القاضی (م177ھ) نے کیا خوب جواب دیا تھا جب کہ بعض لوگوں نے آں رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ " ایک گروہ صفات کے متعلق احادیث پر شبہ کا اظہار بلکہ انکار کرتا ہے" یہ سن کر شریک بن عبداللہ نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ "وہ لوگ کیا کہتے ہیں؟" لوگوں نے بتایا کہ " وہ ان احادیث میں طعن کرتے ہیں" آں رحمہ اللہ نے جواب دیا:

"جن لوگوں نے ان احادیث کو نقل کیا ہے، انہیں لوگوں نے قرآن کو بھی نقل کیا ہے، اور یہ بات کہ نماز پانچ وقت کی ہے، اسی طرح حج بیت اللہ اور رمضان کے روزوں کی تفصیلات وغیرہ سبھی چیزیں انہی لوگوں سے منقول ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کو انہی احادیث کے ذریعہ پہچان سکتے ہیں، لہذا شبہ و انکار کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے"

اب ہم ذیل میں قرآن کریم، سنت نبوی اور علماء و سلف کے اقوال کی روشنی میں سنت نبوی کے محفوظ ہونے کے چند دلائل پیش کریں گے:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے:

(وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ)

"اور ہم نے آپ پر یہ ذکر اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو (اس کے احکام) کھول کر بیان کر دیں جو ان کی طرف بھیجے گئے ہیں"

اس آیت میں لفظ "ذکر" کی تعیین کے متعلق اختلافِ رائے ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک اس کی صحیح تعبیر رسول اللہ پر نازل ہونے والی ہر وحی (قرآن و سنت) ہے۔ اگر "ذکر" کے معنی صرف قرآن کریم سمجھے جائیں تو دوسری آیت: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) کی رو سے سنت تو غیر محفوظ قرار پائے گی۔ اگر سنت غیر محفوظ ہوئی تو اس میں اکاذیب، اباطیل اور افتراءات کا دخل ممکن ہوا جو شریعت کے فساد و ابطال کے لئے کافی ہے، حالانکہ دین کے غیر محفوظ ہونے کا سوئے ظن کسی کو نہیں ہے۔ پس "ذکر" سے قرآن و سنت دونوں ہی مراد لیتے رہے ہیں، چنانچہ جب حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا: "هذه الاحاديث الموضوعة" یعنی "ان موضوع احادیث کا کیا ہو گا؟"۔۔۔ تو آں رحمہ اللہ نے جواب دیا:

تعيش لها الجهابذة(إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ)

" اس کے لئے نقاد موجود ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔۔۔۔"

علامہ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ وغیرھما نے بھی "ذکر" کے معنی میں قرآن کے ساتھ سنت کو بھی داخل سمجھا ہے، جیسا کہ آگے پیش کی جانے والی بعض عبارتوں سے واضح ہو گا۔ اگر اب بھی کوئی لفظ "ذکر" کو صرف قرآن کے لئے ہی خاص سمجھنے پر اصرار کرے تو سورۃ النحل کی آیت 44 سے زیادہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منصب ہی نکھر کر آئے گا کہ آں صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسانوں کے لئے قرآن مجید کی تبیین پر مامور کیا گیا ہے۔ اب تحفظِ حدیث کے منکرین کے اعتراض کو اس آیت کے مذکورہ مفہوم کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ فرمائی گئی قرآن کریم کے مجمل احکام کی تبیین کو (نعوذباللہ) ناقص، غیر محفوظ اور غیر یقینی سمجھا جائے یا یہ اشتباہ کہ آج اس کا اصل مضمون محفوظ نہیں رہا ہے تو اس سے منطقی طور پر قرآنی نصوص سے انتفاع کا بطلان لازم آئے گا۔۔۔۔ پس اس بات پر یقین رکھنا ضروری ہے کہ جو شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل کر دی گئی، وہ یقینا آج بھی مسلمانوں کے لئے مکمل، محفوظ اور باقی ہے، کسی بھی دور میں اس میں کوئی نقص یا نسخ واقع نہیں ہوا۔۔۔۔ یہ بات بذاتِ خود اس کی حفاظت کے غیر معمولی ہونے کی بے نظیر دلیل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ غیر معمولی تحفظ اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی جانب سے ہو ہی نہیں سکتا۔

بعض لوگ فتنہ وضعِ حدیث کے رونما ہونے کے باعث ذخیرہ احادیث کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، لیکن یہ بات انتہائی ناقابل یقین ہے کہ اللہ کے دین اور دشمن دین چیزوں (مثلا کذب،افتراء، اختراعات اور موضوعات وغیرہ) کی جنگ میں اللہ کے دین کو شکست ہو جائے اور دشمنِ دین چیزیں اس پر غالب آ جائیں یا پھر احکامِ شریعت میں باطل چیزوں کی اس قدر آمیزش ہو جائے کہ عالمِ اسلام میں سے کسی مسلمان کے لئے بھی حق و باطل میں تمیز کرنا محال ہو کر رہ جائے۔ اگر کوئی شخص ایسا کہتا یا سمجھتا ہے تو اس کے قول کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ اللہ کے دین میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو چکا ہے اور احکامِ الہی میں ایسی باطل اشیاء کی آمیزش ہو گئی ہے کہ جن کو ماننے کا اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو قطعا حکم نہیں دیا تھا۔ اگر قائل کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نعوذباللہ، اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ دین کی حفاظت کرنے سے قاصر رہا یا پھر اپنے ہی دین کی تخریب سے یک گونہ رضامند ہوا۔۔۔۔ لیکن چونکہ یہ دونوں چیزیں ممکن نہیں ہیں لہذا قائل کا یہ قول کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ لہذا ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ آج بھی سرمایہ حدیث کا بیشتر حصہ جوں کا توں محفوظ ہے۔ اگر فتنہ انگیز عوامل کی ناعاقبت اندیش ریشہ دوانیوں کے باعث اس کا کچھ حصہ جائع ہوا بھی ہے تو امت کو یقینا اس کی ضرورت نہ تھی۔ ورنہ اللہ عزوجل نے جس طرح حدیثِ نبوی کے اس بڑے ذخیرہ کی حفاظت فرمائی ہے، اسی طرح اس مختصر سے حصہ کے تحفظ کی بھی کوئی نہ کوئی سبیل ضرور پیدا فرمادیتا۔ اس بارے میں حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نفیس بحث کے دوران کیا ہی عمدہ بات لکھی ہے:

"جب احادیثِ نبویہ کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ عزوجل نے لے رکھا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ کوئی حدیث جمع و تدوین اور حفاظتِ بشری سے باہر رہ گئی ہو۔ لہذا بقول امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اگر اب کوئی شخص ایسی حدیث لا کر بیان کرے جس کا وجود محدثین متقدمین و متاخرین کی جوامع و مسندات و مصنفات میں سے کسی میں بھی نہ ہو تو وہ حدیث ناقابل قبول قرار دی جائے گی، کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ وہ حدیثِ نبوی ہو اور ائمہ حدیث میں سے کسی نے اسے محفوظ نہ کیا ہو، جبکہ صاحبِ شریعت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے"

امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول ہے کہ "ما ستر الله عزوجل احدا يكذب في الحديث" یعنی "اگر کوئی شخص (گھر کی چہار دیواری کے اندر بھی) حدیث کے بارہ میں جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور ظاہر فرما دے گا"

سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اور قول ہے کہ : " ملائكة حراس السماء وأصحاب الحديث حراس الأرض " فرشتے آسمان کے نگہبان ہیں اور محدثین زمین کے" ۔۔۔۔ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: " لوهم رجل في السحر ان يكذب في الحديث لا صبح الناس يقولون فلان كذاب " ۔۔۔۔ اور یزید بن زریع رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "لكل دين فرسان و فرسان هذا الدين أصحاب الأسانيد" ۔۔۔ اور امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "يا أهل البغداد لا تظنوا أن أحدا يقدر يكذب على رسول الله صلي الله عليه وسلم وأنا حيي" یعنی " اے بغداد والو! یہ نہ سمجھ لو کہ تم میں سے کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھ سکتا ہے جب تک کہ میں زندہ ہوں" اسی طرح منقول ہے کہ "إن للأثر جهابذة كجهابذة الورق" ۔۔۔۔ یعنی "جس طرح چاندی کو پرکھنے والے ہوتے ہیں، اسی طرح حدیث کے نقاد بھی موجود ہیں"۔۔۔اس طرح کے اور بھی بہت سے اقوال پیش کئے جا سکتے ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل نے احادیث کو ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رکھنے کے لئے محدثین کرام سے کس قدر گراں خدمات لی ہیں۔

حدیث نبوی کے محفوظ ہونے پر امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت قابل قدر بحث درج فرمائی ہے، چنانچہ ایک مقام پر خبر واحد کی حجیت پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

"خبر واحد میں سبہات اصلا سن کی وجہ سے ہی ہیں لیکن جب ان احادیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست صحابہ کرام نے سنا تھا تو اس وقت نہ کوئی سند تھی اور نہ شک و شبہ، گویا تب دین محفوظ تھا تو کیا اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے وعدہ کی مرت یہیں پر ختم ہو گئی؟مستقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ فرمایا کہ کذاب، وضاعین اور مفتری بہ آسانی سے دین حق پر غالب آگئے؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو بلاشبہ دین تا قیامت محفوظ ہو گا، پس ثابت ہوا کہ یقینا کسی عادل راوی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی ہر متصل خبر واحد قطعی، موجب عمل اور موجب علم ہے"

آں رحمۃ اللہ مزید فرماتے ہیں:

"دین مکمل ہے جیسا کہ آیت (ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس دین کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ جیسا کہ (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) سے واضح ہے۔ پس اگر متاخرین فقہاء کے خیال کے مطابق مکمل دین پر ظنون و اوھام غالب ہو جائیں اور حق و باطل اس طرح خلط ملط ہو جائے کہ ان کے مابین تمیز محال ہو تو حفاظت دین کا وعدہ کس طرح پورا ہوا؟ واضح رہے کہ آیت محولہ میں لفظ "الذکر" قرآن و سنت دونوں پر حاوی ہے۔ پس اگر متاخرین کے خیال کو درست مان لیا جائے تو یہ دین سے انسلاخ ، شریعت میں تشکیک اور دین کے انہدام کے مترادف ہو گا" ۔۔۔ اور

"قرآن اور خبر صحیح میں سے بعض بعض کی طرف مضاف ہیں اور وہ دونوں اللہ عزوجل کی جانب سے منزل ہونے کے سبب دراصل ایک ہی چیز ہیں۔ وجوب اطاعت کے باب میں ان دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ جیسا کہ ہم اس باب میں اوپر بیان کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) اور (قُلْ إِنَّمَآ أُنذِرُ‌كُم بِٱلْوَحْىِ) ۔۔۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ خبر دے رہا ہے کہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام تمام کا تمام وحی ہے اوروحی بلاخلاف ذکر ہے اور ذکر نصِ قرآن کے مطابق محفوظ ہے"

آگے چل کر آں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خود اللہ عزوجل فرماتا ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ اعلان بھی کرنے کا حکم دیا ہے: (إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ) اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) اور (لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ)۔۔۔۔ پس واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کلام دین میں وحی ہے اور بلاشک و شبہ وحی اللہ عزوجل کی جانب سے بھیجی جاتی ہے۔ اس بارے میں بھی اہل لغت اور اہل شریعت کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وحی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی "ذکر" ہے اور ہر وحی یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کے حفاظت میں ہونے کے باعث منظور ہے۔

اور جن چیزوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، ان کے متعلق یہ ضمانت موجود ہے کہ ان میں سے نہ کوئی ضائع ہو سکتی ہے اور نہ ان میں کبھی کوئی ایسی تحریف ممکن ہے جس کا بطلان غیر واضح ہو۔ ایسے خدشات تو کسی عقل سے کورے شخص کے ذہن ہی میں جگہ پا سکتے ہیں۔ پس واجب ہے کہ جو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس لائے، وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت و تولیت کے باعث محفوظ اور ہر طالب کے لئے دنیا کے باقی رہنے تک اسی طرح مبلغ ہو۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (لِأُنذِرَ‌كُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ)

پس اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو لازما ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے متعلق جو کچھ بھی فرمایا، اس میں سے کسی شے کے ضیاع کا کوئی امکان نہیں ہے، اور نہ ہی اس بات کا کوئی رستہ ہے کہ کوئی باطل اور موضوع چیز اس میں داخل ہو جائے اور اس قدر خلط ملط ہو جائے کہ کوئی شخص یقینی طور پر اس کی تمیز نہ کر سکتا ہو۔ اگر اس امکان ک جائز قرار دیا جائے تو ذکر غیر محفوظ ہو جائے گا حالانکہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ)۔۔۔ کوئی بھی مسلم ایسا نہیں سوچ سکتا کیونکہ اس سے آیت کی تکذیب اور اللہ مکی طرف سے وعدہ خلافی کا اظہار ہوتا ہے (نعوذباللہ)

اگر یہاں کوئی یہ کہےکہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی مراد صرف قرآن کی حفاظت ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، تمام وحی جو قرآن نہیں ہے، اس کی ضمانت اللہ کے ذمہ نہیں ہے۔ تو ہم اس سے یہ کہیں گے کہ یہ دعوی دلیل و برہان کے بغیر محض ایک جھوٹا دعوی ہے۔ "الذکر" کی یہ تخصیص بلا دلیل ہونے کے باعث باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (قُلْ هَاتُوا۟ بُرْ‌هَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ) یعنی آپ کہہ دیجئے اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس اپنے دعوی پر کوئی دلیل نہ ہو، وہ اپنے دعوی میں صادق نہیں ہے۔ لہذا اسم "الذکر" عام ہے اور ہر اس چیز پر واقع ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نذریعہ وحی نازل فرمائی خواہ وہ قرآن ہو یا قرآن کی شرح سنت۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلذِّكْرَ‌ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لئے قرآن کی توضیح و بیان پر مامور تھے کیونکہ قرآن میں بہت سی چیزیں مجمل ہیں مثلا صلاۃ، زکوۃ اور حج وغیرہ۔۔۔ ان چیزوں کے متعلق جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے الفاظ میں ہمارے لئے لازم قرار دیا ہے، ہم کچھ نہیں جان سکتے، الا یہ کہ ان الفاظ کی اس توضیح و تفسیر کی طرف رجوع کریں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔ پس اگر ان مجملاتِ قرآن کی بیان کردہ آں صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر و بیان غیر محفوظ ہو یا اس کی سلامتی کی کوئی حمانت موجود نہ ہو تو نصوصِ قرآن سے انتقاع باطل ہوا، جس سے ہمارے اوپر فرض کی گئی شریعت کا بیشتر حصہ باطل ہو جاتا ہے"

اگرچہ امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کے اس مدلل، مفصل اور واضح کلام کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن پھر بھی قارئین کرام کی دلچسپی کے پیش نظر دوسرے مشاہیر کے اقوال بھی پیش خدمت ہیں:

حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ : (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"فعلم أن كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الدين كله وحي من عندالله فهو ذكر أنزله الله"

"پس معلوم ہوا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دینی معاملات میں ہر ارشاد نرا وحیِ الہی ہے اور جب یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے تو اس "ذکر" کے حکم میں داخل ہے (جس کی حفاظت کا وعدہ و ذمہ اللہ عزوجل نے لے رکھا ہے)

شیخ عبدالجبار عمر پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"جس طرح پروردگار قرآن کا حافظ و نگہبان ہے، اسی طرح حدیث کا بھی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) ۔۔۔۔ یعنی ہم نے قرآن کو نازل کیا اور ہم اس کے نگہبان ہیں جبکہ قرآن و حدیث دونوں کی ضرورت ہیں تو یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ خدا صرف قرآن کی حفاظت کرے اور حدیث کو بغیر حفاظت کے چھوڑ دے۔ اس نے حفاظت کے لئے ائمہ محدثین کو پیدا کیا جنہوں نے ایک ایک حدیث کے لئے دور دراز سفر طے کئے اور راویوں کی جانچ پڑتال میں بہت کوششیں فرمائیں، لفظ لفظ کی تحقیق میں دقیقی فروگذاشت نہیں کیا۔ بڑی بڑی کتابیں اِس بارے میں تالیف فرمائیں۔ صحیح کو ضعیف سے اور ناسخ کو منسوخ سے الگ کر دکھایا۔ غرض حدیث پر عمل کرنے کے لئے کوئی عذروحیلہ باقی نہ چھوڑا۔۔۔الخ"

جناب مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے ہیں:

"جب قرآن فہمی کے لیے تعلیمِ رسول ضروری ہے، اس کے بغیر قرآن پر صحیح عمل ناممکن ہے تو جس طرح قرآن قیامت تک محفوظ ہے، اس کا ایک ایک زیر و زبر محفوظ ہے ضروری ہے کہ تعلیماتِ رسول بھی مجموعی حیثیت سے قیامت تک باقی اور محفوظ رہیں ورنہ محض الفاظِ قرآن کے محفوظ رہنے سے نزول قرآن کا اصلی مقصد پورا نہ ہو گا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ تعلیماتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہی ہیں جن کو سنت یا حدیث کہا جاتا ہے، اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ کی طرف سے اگرچہ اس درجہ میں نہیں ہے جس درجہ کی حفاظتِ قرآن کے لئے موعود ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ)"ہم نے قرآن کو نازل کیا، ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں"۔۔۔ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ اس کے الفاظ اور زیر و زبر تک بالکل محفوظ چلے آتے ہیں اور قیامت تک اسی طرح محفوظ رہیں گے۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اگرچہ اس طرح محفوظ نہیں لیکن مجموعی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا محفوظ رہنا آیت مذکورہ کی رو سے لازمی ہے، اور بحمداللہ آج تک وہ محفوظ چلی آتی ہیں، جب کسی طرف سے اس میں رخنہ اندازی یا غلط روایات کی آمیزش کی گئی، ماہرین سنت نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ نکھار کر رکھ دیا اور قیامت تک یہ سلسلہ بھی اسی طرح رہے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں قیامت تک ایسی جماعت (اہل حق اور اہل علم) قائم رہے گی، جو قرآن وحدیث کو صحیح طور پر محفوظ رکھے گی اور ان میں ڈالے گئے ہر رخنہ کی اصلاح کرتی رہے گی۔"

آں رحمہ اللہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

"اگر آج کوئی شخص اس ذخیرہ حدیث کو کسی حیلے بہانے سے ناقابل اعتماد کہتا ہے تو اس کا صرف مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمِ قرآن کی خلاف ورزی کی کہ مضامین قرآن کو بیان نہیں کیا یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بیان کیا تھا مگر وہ قائم و محفوظ نہیں رہا، بہردوصورت قرآن بحیثیتِ معنی کے محفوظ نہ رہا جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہے (وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) اس کا یہ دعوی اس نصِ قرآن کے خلاف ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی حجت ماننے سے انکار کرتا ہے، وہ درحقیقت قرآن ہی کا منکر ہے۔ نعوذباللہ"

آں رحمہ اللہ "معارف القرآن" میں ایک اور مقام پر "قرآن کی طرح حدیث کی حفاظت" کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

"صحابہ کرام نے حدیث کو احتیاط کے ساتھ لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام فرمایا تھا تو حدیث کی حفاظت بھی ایک درجہ میں قرآن کی حفاظت کے قریب قریب ہو گئی، اس معاملہ میں شبہات نکالنا درحقیقت قرآن میں شبہات نکالنا ہے۔واللہ اعلم"

جناب حبیبُ الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"آپ کی تشریحات و بیانِ قرآن کا قرآن کے ساتھ ساتھ باقی رہنا ضرروی ہے"

اور محترم مولانا موددی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:

"اگر یہ لوگ حق پرست اور انصاف پسند ہوں تو انہیں نظر آئے کہ محدثین کرام نے عہد رسالت اور عہد صحابہ کے آثار و اخبار جمع کرنے اور ان کو چھانٹنے اور ان کی حفاظت کرنے میں وہ محنتیں کی ہیں جو دنیا کے کسی گروہ نے کسی دور کے حالات کے لئے نہیں کیں۔ انہوں نے احادیث کی تنقید و تنقیح کے لئے جو طریقے اختیار کئے ، وہ ایسے ہیں کہ کسی دور گذشتہ کے حالات میں تحقیق کے ان سے بہتر طریقے عقل انسانہ نے آج تک دریافت نہیں کئے۔ تحقیق کے زیادہ سے زیادہ معتبر ذرائع جو انسان کے امکان میں ہیں، وہ سب اس گروہ نے استمعلا کئے اور ایسی سختی کے ساتھ استعمال کئے کہ کسی دور تاریخ میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ درحقیقت یہی چیز اس امر کا یقین دلاتی ہے کہ اس عظیم الشان خدمت میں اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق شامل حال رہی ہے اور جس اخدا نے اپنی آخری کتاب کی حفاظت کا غیر معمولی انتظام کیا ہے، اسی نے اپنے آخری نبی کے نقوشِ قدم اور آثارہدایت کی حفاظت کے لئے بھی وہ انتظام کیا ہے جو اپنی نظیر آپ ہی ہے"

سنت نبوی کے محفوظ، مصئون اور مامون ہونے کی ایک دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشن گوئی بھی ہے:

"يحمل هذا العلم من كل خلف عدو له ينفون عنه تحريف الغالين و انتحال المبطلين و تاويل الجاهلين"

یعنی "اس علم(حدیث) کے حامل ایک دوسرے کے پیچھے ہمیشہ ایسے عادل لوگ ہوں گے، جو اسے تجاوز کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کی گھڑی ہوئی باتوں اور جاہلوں کی تاویل سے پاک کرتے رہیں گے"

سرمایہ حدیث کے محفوظ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جمہور امت نے اسے متفقہ طور پر محفوظ سمجھ کر تصدیقا و عملا قبول کیا ہے اور چونکہ پوری امت گمراہی پر کبھی جمع نہیں ہو سکتی لہذا یوں بھی ہمارا نقطہ نظر ثابت ہوا، فالحمدللہ علی ذلک۔۔۔۔ لیکن ائمہ محدثین کے اس صریح و صحیح نقطہ نظر کے برعکس ڈاکٹر غلام جیلانی برق، سنتِ نبوی کے منجانب اللہ محفوظ و مصئون ہونے کے منکر ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

"بہرحال وحی کسی طریقے سے آئے وہ وحی ہے۔ واجب التعمیل اور واجبُ الحفاظت ہے۔ قرآں کے متعلق اللہ کا یہ ارشاد موجود ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ)۔۔۔ یہ ذکر اور ہدایت ہم نے نازل کی اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔۔۔۔ قرآن کی ایسی حفاظت ہوئی کہ تمام عالم نے ہماری کتاب کی صحت پر شہادت دی لیکن حدیث! توبہ ہی بھلی، اس کا تو وہ ستیاناس ہوا کہ اس سے زیادہ محرف اور مسخ شدہ لٹریچر دنیا کے صفحہ پر موجود نہیں۔الخ"

انجمن اسوہ حسنہ پاکستان کے مؤسس مولانا حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی کے ہم مشرب جناب نظام الدین (متعمد عمومی: الرحمن پبلشنگ ٹرسٹ، کراچی) بھی مؤسس موصوف کی کتاب "مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت" جلد چہارم کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

"۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ) یعنی ہم ہی نے یہ قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ جبکہ احادیث کے لئے ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے۔۔۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے،الخ"

افسوس کہ مولانا حمید الدین فراہی صاحب بھی محدثین کی روش کے خلاف "مقدمہ نظام القرآن" میں لکھتے ہیں:

"یہ ہمارے بعض بھائیوں کا غلو ہے کہ وہ حفاظتِ قرآن کی طرح حفاظتِ حدیث کے قائل ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ بخاری اور مسلم میں کو کچھ روایت کیا گیا ہے، اس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی طرف منسوب متعدد روایتوں میں نہایت بھونڈا اختلاف نقل ہوا ہے"

اصولِ شریعت میں حدیث و سنت کی ثانوی حیثیت ناقابل قبول ہے

عموما دیکھا جاتا ہے کہ استنباطِ مسائل کے لئے شریعت میں سنت کو قرآن کے بعد دوسرا درجہ دیا جاتا ہے جس سے سنت پر قرآن کی تقدیم لازم آتی ہے۔ اس بارے میں قدیم و جدید تمام مقلدین اور بعض اہلحدیث، سب ہی حضرات متفق نظر آتے ہیں۔

امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے "الموافقات" میں سنت پر تقدیم کی متعدد وجوہ بیان کی ہیں جو یہ ہیں:

"اول: کتاب اللہ قطعی اور سنت مظنون ہے۔ اگر سنت صحیح ہو تو اس میں قطعی چیز صرف من جملہ ہوتی ہے بلحاظ تفصیل نہیں ہوتی جبکہ کتاب من جملہ و تفصیل ہر دو طرح مقطوع ہے اور جو چیز مقطوع ہو، وہ مظنون پر مقدم ہوتی ہے، لہذا سنت پر کتاب اللہ کی تقدیم لازم آئی۔

دوم: سنت میں یا تو کتاب اللہ کی تبیین و تفسیر ہوتی ہے یا اس پر زیادت، پس اگر سنت میں بیان و تفسیر ہو تو بلحاظ اعتبار، مبین کے مقابلہ میں اس کا درجہ دوسرا ہوا کیونکہ سقوطِ مبین سے سقوطِ بیان لازم آتا ہے لیکن سقوطِ بیان سے سقطِ مبین لازم نہیں ہے۔ اور یہی اس کا مرتبہ ہے پس تقدیم میں کتاب اللہ اولی ہے۔ اگر سنت میں بیان نہ ہو (بلکہ زیادت ہو) تو اس کو اس وقت تک معتبر نہیں سمجھا جائے گا جب تک کہ کتاب اللہ میں اس کی اصل نہ مل جائے اور یہ بھی کتاب اللہ کی تقدیم ہی کی دلیل ہے۔

سوم: اس بات پر اخبار و آثار مثلا حضرت معاذ کی حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس میں آں رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تھا:کیف تقضي إذا عرض لک قضاء ؟ یعنی "اگر تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہو تو کیسے فیصلہ کرو گے؟" انہوں نے جواب دیا: "اقضی بکتاب اللہ" یعنی "کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ "اگر تمہیں اس کا حل کتاب اللہ میں نہ ملے تو؟ عرض کیا: تو "اللہ کے رسول کی سنت سے فیصلہ کروں گا" پھر پوچھا کہ "اگر اللہ کے رسول کی سنت میں بھی اس کا حل نہ ملا تو؟" انہوں نے عرض: "اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔۔۔الخ" (حدیث)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی "باب الفرق بین اہل الحدیث و اصحاب الرائے" کے زیر عنوان تطبیق بین النصوص، استنباطِ مسائل اور اجتہاد و رائے کے لئے معیاری اصول و قواعد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"كان عندهم انهه اذا وجد في المسالة قران ناطق فلا يجوز التحول الي غيره واذا كان القرآن محتملا لوجوه فالسنة قاضية عليه فاذا لم يجدوا في كتاب الله أخذوا بسنة رسول الله صلي الله عليه وسلم الخ"

یعنی "محدثین کے نزدیک جب قرآن میں کوئی حکم صراحۃ موجود ہو تو کسی دوسری چیز کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں لیکن اگر قرآن میں تاویل کی گنجائش ہو اور مختلف مطالب کا احتمال ہو تو حدیث کا فیصلہ ناطق ہو گا۔اگر قرآن کسی حکم کے متعلق خاموشی ہو تو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر ہو گا"

حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سنت نبوی کو قرآن کے بعد کا درجہ دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

"بعد كتاب الله عزوجل سنن رسول الله صلي الله عليه وسلم فهي المبينة لمراد الله عزوجل من مجملات كتابه والدالة علي حدوده المفسرة له...الخ"

یعنی "اللہ عزوجل کی کتاب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن ہیں جو کتاب اللہ کے مجملات سے اللہ عزوجل کی مراد بیان کرتی ہیں، اس کی حدود پر دلالت کرتی اور اس کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں"

جناب حمید الدین فراہی صاحب کا حدیث کے بارے میں نقطہ نظریہ ہے کہ وہ قرآن کو اصل اور حدیث کو ایک فرع کی حیثیت دیتے ہیں۔ چنانچہ مقدمہ "نظام القرآن" میں تفسیر کے خبری ماخذ کے تحت لکھتے ہیں:

"اصل و اساس کی حیثیت قرآن کو حاصل ہے، اس کے سوا کسی چیز کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے۔ باقی فرع کی حیثیت سے تین ہیں۔ اول: وہ احادیث نبویہ جن کو علمائے امت نے پایا، دوم: قوموں کے وہ ثابت شدہ احوال جن پر امت نے اتفاق کیا، سوم: گذشتہ انبیاء کے صحیفوں میں جو کچھ محفوظ رہ گیا ہے۔ اگر ان تینوں میں ظن اور شبہ کو دخل نہ ہوتا تو ہم ان کو فرع کے درجہ میں نہ رکھتے بلکہ سب کی حیثیت اصل قرار پاتی"

آں موصوف مزید فرماتے ہیں:

"ایک اور قابل لحاظ حقیقت یہ ہے کہ قرآن سے جو کچھ ثابت ہے، اس میں اور فروع سے جو کچھ معلوم ہو، اس میں فرق کرنا چاہیے۔ دونوں کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قرآن میں کو کچھ ہے وہ قطعی ثابت ہے اور فروع میں وہم و ظن کی بہت کچھ گنجائش ہے"

اور کتاب "اصول التاویل" میں لکھتے ہیں:

"قرآن کو سمجھے بغیر اگر آپ حدیث کی طرف دیوانہ وار وجوع کریں جبکہ اس میں صحیح و سقیم دونوں طرح کی روایات ملی ہوئی ہیں تو دل میں کوئی ایسی رائے بیٹھ جاتی ہے جس کی قرآن میں کوئی اصل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ قرآن کی ہدایت کے مخالف بھی ہوتی ہے۔ اس کی بناء پر آپ تاویلِ قرآن میں کسی سقیم حدیث پر اعتماد کر لیتے ہیں اور اس طرح حق و باطل کے ساتھ گڈمڈ ہو جاتا ہے۔ سیدھا رستہ یہ ہے کہ آپ قرآن سے ہدایت حاصل کریں، اسی پر اپنے دین کی بنیاد رکھیں۔ اس کے بعد احادیث پر غور کریں۔ اگر بادی النظر میں ان کو قرآن سے بیگانہ پائیں تو ان کی تاویل کتاب اللہ کی روشنی میں کریں۔ اگر مطابقت پیدا ہو جائے تو اس سے آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ اگر تطبیق ممکن نہ ہو تو قرآن پر عمل کرنا اور حدیث کے معاملہ میں توقف کرنا ضروری ہے اس طرز عمل کی بنیاد یہ ہے کہ ہمیں پہلے اللہ کی اطاعت کا اور پھر رسول کی اطاعت کا حکم ہوا ہے۔ اگرچہ یہ بات صحیح ہے کہ رسول کی اطاعت ، اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے کلان کو رسول اللہ سے مروی کلام پر مقدم رکھا جائے تو اس نے حکم میں ترتیب کیوں قائم کی؟"

فراہی مکتب فکر کے ترجمان جناب خالد مسعود صاحب اپنے مضمون "حدیث و سنت کی تحقیق کا فراہی منہاج" کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں:

" اس سے معلوم ہوا کہ ارشاداتِ نبویہ کو دین و شریعت کی بنیاد ماننے اور سنت کی تشریعی حیثیت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا فراہی رحمۃ اللہ علیہ روایت ِ حدیث کو یہ حیثیت دینے کو اس لئے تیار نہیں کہ روایت میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے اور اس طرح اس میں وہم و ظن کو دخل ہو جاتا ہے۔۔۔الخ"

آنجناب آگے چل کر مزید فرماتے ہیں:

"حدیث کو اصل نہ ماننے کی وجہ، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے، مولانا کے نزدیک یہ ہے کہ احادیث میں صحیح و سقیم کی تمیز ایک مشکل کام ہے اور دین کی بنیاد کسی غلط روایت پر رکھنا بے حد خطرناک ہے۔ لہذا وہ مُصر ہیں کہ دین کے ہر معاملہ کی بنیاد قرآن کی نصوص ہی پر قائم کرنی چاہیے"

اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں:

"سنت قرآن مجید کے بعد دین کا دوسرا قطعی ماخذ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اصول ایک ناقابل انکار علمی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ الخ" (میزان ج1 ص79)

اور جناب امین احسن اصلاحی صاحب اپنی تفسیر کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:

"تفسیر کے ظنی ماخذوں میں سب سے اشرف اور سب سے زیادہ پاکیزہ چیز ذخیرہ احادیث و آثار ہے۔ اگر ان کی صحت کی طرف پورا پورا اطمینان ہوتا تو تفسیر میں ان کی وہی اہمیت ہوتی جو اہمیتسنت متواترہ کی بیان ہوئی۔ لیکن ان کی صحت پر اس طرح کا اطمینان چونکہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وجہ سے اس سے اسی حد تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جس حد تک یہ قطعی اصولوں سے موافق ہوں جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔۔ الخ"

یہی بات آں محترم نے اپنی ایک اور کتاب "مبادی تدبر قرآن" میں معمولی تغیر کے ساتھ یوں بیان فرمائی ہے:

"تفسیر کے ظنی ماخذوں میں سب سے اشرف اور سب سے زیادہ پاکیزہ احادیث و آثار صحابہ ہیں۔ اگر ان کی صحت کی طرف سے پورا پورا اطمینان ہوتا تو تفسیر میں ان کو وہی اہمیت حاصل ہو جاتی جو اہمیت سنت متواترہ کی بیان ہوئی ہے لیکن چونکہ ان کی صحت پر پورا پورا اطمینان نہیں کیا جا سکتا، اس لئے ان سے تفسیر میں اسی حد تک فائدہ اٹھایا جائے گا جہاں تک یہ ان قطعی اصولوں کی موافقت کریں جو اوپر بیان ہوئے ہیں"

گویا جناب اصلاحی صاحب کو احادیث و آثار کے سب سے زیادہ اشرف اور پاکیزہ ہونے کے اعتراف کے باوجود ان کی صحت پر پورا اطمینان نہیں ہے، لہذا اگر کوئی حدیث ان کے اپنے خود ساختہ "قطعی اصولوں" کے موافق آ جائے تو اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں ورنہ اسے ناقابلِ اطمینان سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔

جناب حبیبُ الرحمن اعظمی صاحب "معارف الحدیث" مصنفہ منظور نعمانی صاحب پر مقدمہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:

"بلاشبہ قرآن پاک دین و شریعت کی اصل و اساس ہے اور ادلہ شرع میں وہی سے سب مقدم اور سب سے محکم ہے مگر اس کا کام صرف اصول بتانا ہئ۔ تفریع و تفصیل اور توضیح و تشریح حدیث و سنت کا وظیفہ ہے"

اور علمائے اہلحدیث میں سے ڈاکٹر محمد لقمان سلفی صاحب فرماتے ہیں:

"لا شك أن السنة في المرتبة الثانية من القران من جهة الاحتجاج بها والرجوع إليها لاستنباط الأحكام الشرعية بحيث أن المجتهد لا يرجع إلى السنة للبحث عن واقعة إلا إذا لم يجدو في القران حكم ما أراد معرفة حكمه لأن القران أصل التشريع ومصدره الأول،فهذا نص على حكم التبع وإذا لم ينص علٰ حكم الواقعة رجع إلى السنة فإن وجد فيها حكم اتبع"

بے شک شرعی احکام کے استنباط کے لئے احتجاج اور رجوع کے اعتبار سے سنت قرآن سے دوسرے درجہ میں ہے کیونکہ کوئی مجتہد کسی واقعہ کے متعلق بحث و تمحیص سے سنت کی طرف اس وقت تک رجوع نہیں کرتا جب تک کہ مطلوبہ حکم کی معرفت قرآن میں نہ پائی جاتی ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن، تشریع کی اصل اور اس کا پہلا مصدر ہے لہذا اگر قرآن میں کسی حکم پر نص موجود ہو تو مجتہد اس کی اتباع کرتا ہے، لیکن اگر قرآن میں کسی معاملہ یا واقعہ کے متعلق حکم پر نص موجود نہ ہو تو وہ سنت کی طرف رجوع کرتا ہے، پس اگر اس میں وہ حکم مل جائے تو اس کی اتباع کی جاتی ہے"

آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:

"فالسنة إما أن تكون مفسة لمجملات القران وإما أن تكون مستقلة في التشريع فما ليس في القران وحذا يجعل الحديث في الرمتبة الثانية من القران، ويوكدأن الشرع الإسلامي يتكون من الأصلين معا القران والحديث،مصداقا لقوله صلي الله عليه وسلم : تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنتي"

"پس سنت قرآن کے مجملات کے مفسر ہونے کے ساتھ ان امور کے بارے میں ایک مستقل تشریعی حیثیت رکھتی ہے جو قرآن کریم میں مذکور و منصوص نہیں ہیں، لہذا یہ چیز حدیث کو قرآن سے دوسرے مرتبہ میں رکھنے کی متقاضی ہے اور اسلامی شریعت کے ایک ساتھ دو اصل ، قرآن و سنت، سے ماخوذ ہونے کو مؤکد کرتی ہے، مصداق ارشاد صلی اللہ علیہ وسلم " میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ جاتا ہوں، جب تک سختی کے ساتھ ان پر جمے رہے تو گمراہ نہ ہو گے، وہ چیزیں کتاب اللہ اور میری سنت ہیں"

محترم ڈاکٹر سلفی صاحب حفظہ اللہ اوائل کتاب میں بھی مختلف مقامات پر تقریبا یہی بات لکھ چکے ہیں مثلا:

"وإنما تكون طاعته بالتزام سنة والعمل بحديثه والاخذ بمضمونه الصحيح في مسائل الدين واعتباره الأصل الشائي من أصول التشريع بعد القرآن المجيد"

"فالصحابة رضوان الله عليهم أجمعين لم يرضوا ترك السنة كام عليها رسول الله صلي الله عليه وسلم ولم يقبلوا مع السنة رأي أحد....وكذلك التابعون الأئمة العلماء من بعدهم، فراهم قد أجمعوا على أن السنة مصدر تشريعي بعد القرآن لا يكمل الدين إلا بهما" ۔۔۔ اور

"بهذا كله ظهر لنا أن السنن النبوية مصدر ثان من مصادر التشريع باتفاق علماء الأمة"

اسی طرح القرآن سو سائٹی لندن کے صدر جناب مولانا صہیب حسن بن شیخ عبدالغفار حسن رحمانی حفظہما اللہ فرماتے ہیں:

"Hadith is the second source of Islam after the Quran.."

اس بارے میں اور بہت سے لائقِ احترام علمائے اہلحدیث و احناف کے اقتباسات پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن ہم بخوفِ طوالت انہی چند اقتباسات پر اکتفاء کرتے ہیں۔ مولانا حمید الدین فراہی صاحب اور ان کے مخصوص مکتبِ فکر کے ترجمان کا نقطہ نظر ہم نے یہاں بطور خاص نقل کیا ہے۔ محترم ڈاکٹر سلفی اور جناب صہیب حسن صاحبان کا تذکرہ ضمنا صرف یہ واضح کرنے کے لئے آگیا ہے کہ چند علمائے اہلحدیث بھی اس بارے میں ان افکار سے متاثر ہیں۔۔۔ بہرحال سنت پر قرآن کی تقدیم کے جو اسباب مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوئے، ان کا خلاصہ یہ ہے:

(1)سنت قطعی نہیں بلکہ مظنون ہے، اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے یا ظن اور وہم کو بھی اس میں دخل ہے۔

(2)سنت قرآن کی بیان و تفسیر ہونے کی بناء پر بلحاظِ قرآن سے فروتر ہوئی۔۔۔ لیکن یہ دعوی درست نہیں ہے کیونکہ محقیقین علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بیان و مبین مساوی المرتبت ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات مبین چیز مجمل پر مقدم ہوتی ہے۔

(3)سنت میں ایسی زیادت کا غیر معتبر ہونا جس کی اصل قرآن میں نہ ملتی ہو۔۔۔ یہ بھی ایک بے اصل بات ہے۔

(4)حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال ۔۔۔۔ یہ حدیث اصلا منکر ہے۔

(5)احادیث میں صحیح و سقیم کی تقسیم ایک دشوار کام ہے۔۔۔ یہ عذرِ لنگ وجہ تقدیم سے زیادہ علم حدیث سے بے بضاعتی اور عدمِ ممارست کا مظہر ہے۔

(6)اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے بارے میں یوں ترتیب قائم فرمائی کہ ہمیں پہلے اللہ کی اطاعت کا پھر رسول کی اطاعت کا حکم ہوا۔۔۔ یہ بات بھی جہل مرکب سے کم نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں صراحۃ بیان کیا گیا ہے کہ (مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اصلا اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ جہاں تک قرآن میں اس حکم کی ترتیب سے استدلال کرنے کا تعلق ہے تو وہ قواعدِ لسانیات کی روشنی میں درست نہیں ہے کیونکہ جن آیات سے اس پر استدلال کیا گیا ہے ان میں اطاعتِ الہی کے حکم کے ساتھ اطاعتِ رسول کا حکم یا قرآن میں مذکور ہے نہ کہ باعتبار ترتیب: (أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَٱلرَّ‌سُولَ) اور (وَأَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُواٱلرَّ‌سُولَ) میں "واؤ" امر اطاعت کے اعادہ کے ساتھ واؤ عطف یا مطلق اشتراک کا فائدہ دیتا ہے۔ اس "واؤ" کو "التشريك في الطاعة " بھی کہہ سکتے ہیں۔

(7)حدیث: "تركت فيكم امرين الخ" سے استدلال بھی درست نہیں جیسا کہ ان شاءاللہ آگے واضح کیا جائے گا۔

(8)صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد تمام ائمہ و علمائے امت کا بالاتفاق سنت کو شریعت میں قرآن کے بعد مصدرِ ثانی سمجھنے کا دعوی بھی غلط ہے کیونکہ ان صلحاء کے نزدیک تو قرآن و سنت دونوں چیزیں ہی بلاتقدیم و تاخیر، بلا تعیین مدارج اور بلا تفریق یکساں طور پر مصدرِ شریعت تھیں۔

جب سنت پر قرآن کی تقدیم کی مذکورہ بالا تمام وجوہ ناقابلِ استدلال ٹھہریں تو کتاب و سنت کے مابین کسی طرح کی تفریق یا درجہ بندی کا نظریہ بھی اصلا بے بنیاد اور لغو قرار پایا اور یہی ہمارا مقصود ہے، فالحمدللہ علی ذلک۔ ذیل میں ہم اپنے موقف کی تائید میں چند شواہد پیش کریں گے:

(1)اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: (وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ ﴿٣﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَىٰ ﴿٤﴾) ۔۔۔ یعنی "وہ (رسول) اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے بلکہ آپ کا ارشاد نری وحی ہوتا ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے"

(2) (مَّن يُطِعِ ٱلرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ) ۔۔۔ یعنی "جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی"

(3) (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟) ۔۔۔ یعنی "اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیں، اُسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں، اُس سے رُک جاؤ"

(4) إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُ‌ونَ بِٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يُفَرِّ‌قُوابَيْنَ ٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ‌ بِبَعْضٍ وَيُرِ‌يدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِ‌ينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿١٥١﴾ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا بِٱللَّهِ وَرُ‌سُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّ‌قُوابَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَ‌هُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿١٥٢﴾

"جو لوگ کفر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم کچھ پر تو ایمان لاتے ہیں اور کچھ کے منکر ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ بین بین ایک راہ اخذ کریں ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سب رسولوں پر بھی اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، ان کو اللہ ضرور اجر دے گا اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا اور بڑا رحمت والا ہے"

اس آیت میں جس تفریق کو قطعی کفر کہا گیا ہے، وہ تفریق فی الاطاعت ہی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ عزوجل ذات و صفات کے اعتبار سے کبھی ایک نہیں ہو سکتے، ایک خالق کائنات ہے تو دوسرا اس کی مخلوق، ایک آمر ہے تو دوسرا مامور، ایک حاکم ہے تو دوسرا بندہ، ایک بے نیاز ہے تو دوسرا نیاز مند، ایک ذات بذاتِ خود علیم وخبیر ہے تو دوسرا علم کا محتاج، ایک مختارِ کل ہے تو دوسرا محتاجِ محض۔۔۔۔ غرض اس طرح کی اللہ عزوجل اور رسول اللہ کے مابین تفریق باعثِ کفر نہیں بلکہ اس قبیل کی تو وحدت باعثِ کفر ہے۔

(5)منافقین کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاإِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّ‌سُولِ رَ‌أَيْتَ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا) ۔۔۔ "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی طرف تو آپ منافقین کی یہ حالت دیکھیں کہ وہ آپ سے پہلو تہی کرتے ہیں"

اس آیت میں منافقین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام اور رسول کی طرف دی جانے والی دعوت میں مغایرت برتتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے پہلو تہی کرتے ہیں، بالفاظ دیگر احکام الہی اور احکام نبوی دونوں کے مابین کوئی مغایرت نہیں ہے۔

(6) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ألا إني اُوتيت القرآن ومثله معه" "یعنی آگاہ رہو مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کی مثل ایک اور چیز"

(7)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: إن ماحرم رسول الله كما حرم الله ۔۔۔ یعنی " جس چیز کو رسول اللہ نے حرام ٹھہرایا ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کی مانند حرام ہے"

(8)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله و سنتي ولن يتفرقا حتى يردا علي الحوض"

"میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہو گے گمراہ نہ ہو گے، کتاب اللہ اور میری سنت، اور یہ دونوں چیزیں علیحدہ نہ ہوں گی تا آں کہ حوض پر وارد ہوں"

(9)حسان بن عطیہ سے بسند صحیح مروی ہے: "كان جبريل عليه السلام ينزل علي رسول الله بالسنة كما ينزل عليه بالقران ويعلمه كما يعلمه القران"

"جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سنت لے کر اسی طرح نازل ہوتے تھے جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن لے کر نازل ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت بھی اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح کہ قرآن سکھاتے تھے"

(10) تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم عہد رسالت میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی قرآن کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مابین کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کرتے تھے۔ اس عہد بابرکت میں ایسی ایک مثال بھی نہیں ملتی جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیا ہو یا کسی چیز کا حکم دیا یا کسی کام سے منع فرمایا ہو تو صحابہ میں سے کسی نے بھی رسول اللہ سے قرآن سے اس کی دلیل طلب کی ہو۔ وہ لوگ تو اتباع و تسلیم کا اعلیٰ ترین پیکر و نمونہ تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد تمام تابعین اور محققین علمائے سلف و خلف کا بھی یہی موقف رہا ہے، اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہم بخوفِ طوالت یہاں صرف مندرجہ ذیل چند مثالیں ہی پیش کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں:

(1)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "تعلموا الفرائض والسنة كما تتعلمون القران"

"فرائض (احکام وراثت) اور سنتِ رسول اس طرح سیکھو جس طرح قرآن مجید کو سیکھتے ہو"

(2)ابن شہاب نے عن الاعرج عن ابی ہریرہ روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: "لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں۔ اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیتیں موجود نہ ہوتیں تو میں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا(پھر آں رضی اللہ عنہ نے ان دو آیات کی تلاوت فرمائی ) (إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ) ۔۔۔ اور

(إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَآ أَنزَلْنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلْهُدَىٰ)

علامہ ابوعمر فرماتے ہیں: اس حدیث میں یہ فقہی نقطہ موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا حکم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے حکم کا ہی ہے۔۔الخ"

(3)بنی اُسید کی ایک عورت جس کی کنیت اُم یعقوب تھی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور دریافت کیا کہ "آپ ان عورتوں پر لعنت کرتے ہیں جو بال اکھڑتی اور سنگھار کے لیے گوندتی ہیں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں؟" آں رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : "ہاں، میں ایسی عورتوں پر لعنت کیوں نہ بھیجو جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی اور جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہے؟" اس عورت نے عرض کیا کہ " میں نے کتاب اللہ از ابتداء تا انتہاء پڑھی ہے لیکن مجھے اس میں آپ کی یہ بات کہیں نظر نہ آئی" حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ: ان كنت قراتيه لقد وجدتيه (اگر تم نے قرآن پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پایا ہو گا) ، (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا)۔۔۔ (کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ: "جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیں اُسے لے لو اور جس چیز سے روکیں اُس سے رُک جاؤ")۔۔ عورت نے جواب دیا: "ہاں یہ آیت تو پڑھی ہے" ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر فرماتے ہوئے سنا ہے: "لعن الله المتنامصات" اللہ تعالیٰ نے بال اکھڑنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے"

(4)حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "انه سمع ابن عمرو ابن عباس انهما شهدا علي رسول الله صلي الله عليه وسلم انه نهي عن الدباء والحنتم المزفت والنقير ثم تلا رسول الله صلي الله عليه وسلم هذا الاية: (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا)

"انہوں نے ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنھما کو اس بات کی شہادت دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، مزفت اور نقمر سے منع فرمایا ہے، پھر آپ نے یہ تلاوت فرمائی، جو کچھ رسول دیں، وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں، اس سے باز رہو"

(5)حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قال ابن عباس ألم يقل الله عزوجل (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا) قلت بلى قال ألم يقل الله (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ) قلت بلى قال فإني أشهد ان النبي صلي الله عليه وسلم نهي عن النقير والمقير والدباء والحنتم"

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا کہ جس کام کا حکم رسول دیں، اسے لازم پکڑو اور جس کام سے منع کر دیں اس سے باز رہو؟ میں نے کہا ہاں۔ فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ فرمادیں تو پھر ان کو اس معاملہ میں اختیار باقی رہے۔ میں نے کہا: ہاں، تو فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نزیر، مقیر، دباء اور حنتم سے منع فرمایا ہے"

(6)مروی ہے کہ مشہور تابعی حضرت عبدالرحمن بن یزید رحمۃ اللہ علیہ نخعی کو (83ھ) نے موسم حج میں ایک شخص کو حالتِ احرام میں سلے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو اس کے پاس جا کر سلا ہوا لباس اتارنے اور لباسِ احرام کے لئے سنت نبوی کو اپنانے کا مشورہ دیا۔ اس شخص نے حضرت عبدالرحمن سے کہا: آپ میرے اس لباس کے بارے میں جو اختلاف کر رہے ہیں، اس کی تائید میں کتاب اللہ کی کوئی آیت پیش کریں (کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے) یہ سن کر عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو یہ آیت پڑھ کر سنائی:

(وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا)

(7)ہیثم بن عمران بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسماعیل بن عبیداللہ کو کہتے ہوئے سنا ہے: ينبغي لنا ان نحفظ حديث رسول الله صلي الله عليه وسلم كما نحفظ القران لان الله تعالي يقول: (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ)

یعنی"ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو بھی قرآن کی طرح ہی حفظ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور تمہیں جو کچھ رسول دے، اسے لے لو"

اب اس ضمن میں کچھ علماء و محققین کی آراء بھی ملاحظہ فرمائیں:

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"وذالك إنها مقرونة مع كتاب الله،وإن الله افترض طاعة رسوله و حتم على الناس اتباع أمره فلا يجوزأن يقال يقول فرض الكتاب الله ثم سنة رسوله"

"سنت کتاب اللہ کے ساتھ مقرون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول کو فرض قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی اتباع کو انسانوں پر حتمی قرار دیا ہے، پس کسی کے لئے یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے صرف کتاب اللہ کو فرض کیا۔ پھر اس کے بعد اپنے رسول کی سنت کو"

امام خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "الکفایۃ فی علم الروایۃ" میں وجوبِ عمل اور لزومِ تکلیف کے باب میں کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو متساوی الحکم قرار دیتے ہوئے ایک عنوان یوں قائم فرمایا ہے: "باب ما جاء في التسوية بين حكم كتاب الله تعالى وحكم سنة رسول الله صلي الله عليه وسلم في وجوب العمل ولزوم التكليف"

مُلا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ (1014ھ) فرماتے ہیں:

"سعادة الدارين منطوعة بمتابعة كتاب الله و متابعة موقوفة علي معرفة سنة رسوله عليه الصلوة والسلام و متابعته فيهما متلا زمان شرعا لا ينفك احدهما عن الآخر"

یعنی "دنیا اور عقبیٰ کی کامیابی کا راز کتاب اللہ کی تابعداری میں مضمر ہے اور کتاب اللہ کی تابعداری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی معرفت پر موقوف ہے،پس کتاب اللہ اور سنتِ رسول از روئے شریعت باہمِ دگر لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے"

شاہ ولی اللہ صاحب محدثین اور فقہاء کے اصولِ استنباطِ مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک مقام پر فرماتے ہیں:

"باید دانست کہ سلف در استنباط مسائل و فتاوی بردو وجہ بودند: یکے آنکہ قرآن وحدیث و آثار صحابہ رضی اللہ عنھم جمع می کردند و ازاں جا استنباط می نمودندوایں طریقہ اصل راہ محدثین ۔۔۔ الخ"

یعنی"جاننا چاہیے کہ استنباطِ مسائل کے لئے سلف میں دوطریقے رائج تھے: ان میں سے ایک یہ تھا کہ قرآن، حدیث اور آثار صحابہ کو جمع کیا گیا اور ان کی روشنی میں استنباط کیا گیا اور یہ طریقہ اصلا محدثین کی راہ ہے"

محی السنہ علامہ نواب صدیق حسن خاں بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "فوائد الفوائد" میں دیلمی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مرفوع حدیث "القرآن صعب مستصعب على من كره وهو الحكم فمن استمسك بحديثي وفهمه وحفظه جاءمع القرآن " کے متعلق فرماتے ہیں:

"اس حدیث میں یہ بات مذکور ہے کہ حدیث اور قرآن کے مابین کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ دونوں ایک ہی جیسی چیز ہیں۔ جس نے قرآن یا میری حدیث سے تساہل برتا، وہ دنیا و آخرت دونوں کے خسارہ میں ہے۔ میں اپنی امت کو حکم دیتا ہوں کہ میرے قول کو پکڑیں۔ میرے حکم کی اطاعت کریں اور میری سنت کی اتباع کریں۔ جو قرآن سے راضی ہو وہ حدیث سے بھی راضی ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ) (آیت) پس جس نے میری اقتداء کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت کو ترک کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے"

محدثِ عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظۃ اللہ قیاس کی مشروعیت پر استدلال کے لئے پیش کی جانے والی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"حدیث معاذ میں حکم و فیصلہ کے تین مرحلے بیان کئے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ رائے میں حکم کی تلاش سنت کے بعد ہو گی اور سنت میں قرآن کے بعد۔۔۔ رائے کے متعلق تو یہ قاعدہ صحیح ہے چنانچہ علماء کا قول ہے کہ "إذا ورد الأثر بطل النظر " یعنی جب حدیث مل جائے تو غوروفکر بیکار ہے لیکن سنت کے سلسلہ میں یہ قاعدہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سنت قرآن کے سلسلہ میں حاکم اور اس کی مبین ہے۔ اس لئے قرآن میں حکم کے وجود کا گمان ہوتے ہوئے بھی اسے سنت میں تلاش کرنا ضروری ہے۔ قرآن کے ساتھ سنت کا تعلق ہرگز ویسا نہیں ہے جیسا کہ سنت کے ساتھ رائے کا ہے، بلکہ کتاب و سنت دونوں کا ایک ہی ماخذ ماننا ضروری ہے۔ دونوں کے مابین کوئی تفریق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی جانب یوں اشارہ فرمایا: "الا اني اوتيت القران ومثله معه" یعنی "سنو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز" اور اس چیز سے سنت ہی مراد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے: "لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض" یعنی "یہ دونوں چیزیں الگ نہ ہوں گی تا آں کہ حوض پروارد ہوں" اس لئے قرآن و سنت کے مابین درجہ کی تعیین صحیح نہیں کیونکہ اس سے دونوں میں تفریق لازم آتی ہے جو کہ باطل ہے"

پس ثابت ہوا کہ قرآن و سنت کے مابین کسی قسم کی تفریق ، تقدیم و تاخیر یا مدارج کی تعیین قرآن و حدیث کے تقاضہ اور سلف و صالحین کے آثار، نیز علماء و محققین کے فیصلوں کے منافی ہے۔ اصلا دونوں چیزیں یکساں طور پر مصدر شریعت ہیں۔واللہ اعلم

عدمِ اتباع سنت، انکار ِ رسالت کے مترادف ہے

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (وَمَآ أَرْ‌سَلْنَا مِن رَّ‌سُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ ٱللَّهِ) ۔۔۔۔ یعنی "ہم نے رسول کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے تاکہ بحکم الہی ان کی اطاعت کی جائے" (وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا) ۔۔۔۔ "جو کچھ رسول تمہیں دیں، اُسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اُس سے رک جاؤ" (فَلْيَحْذَرِ‌ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِ‌هِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) ۔۔۔ یعنی "پس ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کوئی مصیبت ان کو آ دبوچے یا کوئی دردناک عذاب ان کو آلے" اور (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا) ۔۔۔ یعنی "جب اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کے لئے اپنے معاملہ میں کسی طرح کے اختیار استعمال کرنے کا حق باقی نہیں رہ جاتا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ کھلم کھلا گمراہی میں جا پڑا" وغیرہ۔۔۔۔ ان آیات سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم آ جائے تو ہمارے لئے کوئی اختیار باقی نہیں رہ جاتا۔ جو شخص ایسی حالت میں التزام و ترک کے لئے اپنی ذاتی رائے کو اختیار کرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بجائے کسی دوسرے کے قول کی طرف رجوع کرے تو ان نصوص کی روشنی میں یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہو گا۔ ایسے شخص کا ایمان غیر معتبر ہے، چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے صرف ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کی اتباع کو ہی "کمال ابتدائے ایمان" قرار دیا ہے۔ پس اگر اللہ کا کوئی بندہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تو لایا لیکن اس کے رسول پر ایمان نہ لایا تو اس پر ہرگز "کمال ابتدائے ایمان" کا اطلاق نہ ہو گا جب تک کہ وہ اللہ کے ساتھ اس کے رسول پر بھی ایمان نہ لائے، (وهكذا من رسول الله في كل من امتحنه للإيمان) "

آگے چل کر امام رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں پر اپنی وحی اور اپنے رسول کی سنن کی اتباع کو فرض قرار دیا ہے، چنانچہ اپنی کتاب عزیز میں فرماتا ہے: (رَ‌بَّنَا وَٱبْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ) ۔۔۔ یعنی "اے ہمارے رب ! اس جماعت کے اندر انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان لوگوں کو آپ کی آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو آسمانی کتاب اور حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور ان کو پاک کر دے، بے شک تو عزیز اور بڑی حکمت والا ہے" (اس آیت کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے چند دوسری آیات بھی پیش کی ہیں، پھر فرماتے ہیں: ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطاعت کو فرض اور تمام انسانوں پر ان کے حکم کی اتباع کو حتمی قرار دیا ہے۔۔۔۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو کتاب و حکمت کی تعلیم فرما کر دراصل ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ہے، لہذا کسی کے لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ یہاں "حکمت" سے مراد "سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم" کے علاوہ کوئی دوسری چیز ہے"

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"من بلغه عني حديث فكذب به فقد كذب ثلاثة،الله و رسوله والذي حدث به"

"جس شخص کے پاس میری کوئی حدیث پہنچی اور اس نے اس کو جھٹلایا تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور اِس حدیث کے راوی تینوں کی تکذیب کی"

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"اس کی سند میں راوی میسور بن محفوظ ہے جس کا تذکرہ امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے لیکن اس کے متعلق نہ کوئی جرح نقل کی ہے اور نہ ہی تعدیل"

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے:

"من رد حديث رسول الله صلي الله عليه وسلم فهو علي شفا هلكة"

"جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو رد کرتا ہے وہ ہلاکت کے دہانے پر جا پہنچا"

امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ (294ھ) نے بیان کیا ہے کہ امام اسحق بن ابراہیم المعروف بابن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ (238ھ) فرمایا کرتے تھے:

"من بلغه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر يقربصحته ثم رده بغير تقية فهو كافر" ۔۔۔ "جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پہنچے اور وہ اس کی صحت کا اقرار بھی کرے پھر تقیہ کے اس کو رد تو وہ کافر ہے"

امام ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ آیت: (وَمَا ٱخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَىْءٍ فَحُكْمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ) کے تحت لکھتے ہیں:

"پس ہم نے پایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی طرف لوٹنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے لہذا کسی مسلمان کے لئے جو توحید کا اقرار کرتا ہو اس بات کی قطعا کوئی گنجائش نہیں کہ تنازعہ کے وقت قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے علاوہ کسی اور طرف رجوع کرے اور نہ اس بات کی گنجائش ہے کہ جو کچھ وہ ان میں پائے، اس کی خلاف ورزی کرے کیوں کہ اگر اس نے اپنے اوپر حجت قائم ہونے کے بعد ایسا کیا تو وہ فاسق ہے اور جس شخص نے ان دونوں چیزوں کے حکم سے خروج کو حلال جانتے ہوئے یا ان دونوں کے علاوہ کسی اور کی اطاعت کو واجب جانتے ہوئے ایسا کیا تو ہمارے نزدیک بلاشبہ وہ کافر ہے"

امام محمد بن نصر مروزی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ امام اسحق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جس شخص تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پہنچے اور وہ اس کی صحت کا اقراری ہو پھر اسے بغیر تقیہ کے رد کرے تو وہ کافر ہے۔

اس بارے میں ہم امام اسحق کے اس قول سے احتجاج نہیں کرتے، اس کو تو ہم محض اس لئے نقل کیا ہے تاکہ کوئی جاہل یہ گمان نہ کر بیٹھے کہ ہم اس قول کے بارے میں منفرد رائے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے خلاف فعل کو جو شخص حلال سمجھے اس کی تکفیر پر ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں جس میں اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے: (فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواتَسْلِيمًا)

آں رحمہ اللہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

"اور جس شخص کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خبر آئے اور وہ اقرار کرے کہ وہ خبر صحیح ہے یا اس کے مثل حجت قائم ہے یا اس جیسی خبر کسی دوسرے مقام پر ثابت ہے تو پھر اس مقام پر اس کے مثل سے حجت پکڑنے کو قیاس فلاں اور فلاں کے قول کی بناء پر ترک کر دے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کام کیا، پس مصیبت میں جاگرنے اور دردناک عذاب کا مستحق ہے"

شرح عقیدہ طحاویہ میں ہے:

"اس لئے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تصدیق کی اجئے، کسی باطل خیال کو معقول سمجھ کر حدیث کے مقابلہ میں پیش نہ کیا جائے، اسے شک وشبہ کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، لوگوں کی رائے کو اس پر مقدم نہ کیا جائے، تنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم مانا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کی جائے جس طرح عبادت،انابت، اور خضوع و توکل کو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کیا جاتا ہے"

اور جناب مرتضی حسن دیوبندی فرماتے ہیں:

"علماء دیوبند باوجود اس عقیدہ کے، ان کا ایمان یہ ہے جو جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کا انکار کرے (یا) حق نہ سمجھے (یا) حق ہونے میں تردد یا شک کرے وہ ایسا ہی کافر ہے جیسا مرزا غلام احمد قادیانی یا مسیلمہ کذاب اور ابوجہل اور امیہ بن خلف۔ انسان کا کوئی عمل اعلیٰ و ادنیٰ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہ ہو قبول ہی نہیں ہو سکتا۔ انتھی"

اور جناب جاوید احمد غامدی صاحب فرماتے ہیں:

"۔۔ قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و ہدایات قیامت تک کے لئے اسی طرح واجب الاطاعت ہیں جس طرح خود قرآن واجب الاطاعت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھےکہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے بعد آپ کا کام ختم ہو گیا۔ رسول کی حیثیت ، آپ کا ہر قول و فعل بجائے خود قانونی سند و حجیت رکھتا ہے۔ آپ کو یہ مرتبہ کسی امام و فقیہ نے نہیں دیا ہے، خود قرآن نے آپ کا یہی مقام بیان کیا ہے۔ کوئی شخص جب تک صاف صاف قرآن کا نکار نہ کر دے اس کے لئے سنت کی اس قانونی حیثیت کو چیلنج کرنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن نے غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر امرونہی کی بہرحال بے چون و چرا تعمیل کرنی چاہیے" (میزان ج1 ص79-80)

پس ثابت ہوا کہ جمہور کے نزدیک عدم اتباع سنت، انکار رسالت کے مترادف ہے۔واللہ أعلم
حوالہ و حواشی

سورة الشوری:51

الشعراء:192تا195

الشوری:52

النساء:163

النجم:3،4

النحل: 44

التغابن:12

الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم،ص 87

معارف القرآن ج2ص543

الشعراء: 192،193

الحجر: 9

الاسراء: 88

النجم: 3

النساء: 8

النحل:44

النحل:64

القیامہ:17تا19

آل عمران: 164

النساء: 105

المومن: 70

النجم: 3،4

خطبة الاستیعاب علی ھواہش الاصابة ج1ص2

الموافقات الشاطبی ج4ص10

کما فی قواعد التحدیث للقاسمی 59

کما فی فتح الباری لابن حجر عسقلانی ج2ص254

معارف القرآن ج1ص277-278

رسالہ "تدبر" لاہور عدد نمبر 37 ص32 مجریہ نومبر 1991ء

نفس مصدر عدد نمبر 37 ص37 مجریہ ماہ نومبر 1991ء

نفس مصدر

مقدمہ تفسیر تدبر القرآن ،ص4

مبادی تدبر قرآن ص216

مبادی تدبر حدیث ص25

سورة النساء:64

آل عمران:32

تفسیر الطبری ج4 ص147 او کذا فی مقدمہ تحفة الاحوذی للمبارکفوری ص22

النساء:79،80

صحیح بخاری مع فتح الباری ج13 ص111

نفس مصدر ج13 ص249

نفس مصدر ج13 ص251

نفس مصدر ج13 ص249

فتح الباری لابن حجر ج13ص112

تفسیر ابن کثیر ج1ص528، مقدمہ تحفة الاحوذی ص22

مقدمہ تحفة الاحوذی ص22

النساء:59

تفسیر الطبری ج4 ص150، مقدمہ تحفة الاحوذی ص22

الاحزاب:36

الرسالة لامام شافعی ص80

فتح الباری ج13 ص111--112

جامع بیان العلم ج2 ص190

الاحکام فی الاصول الاحکام ص87

فتح الباری لابن حجر ج13 ص111، مقدمہ تحفة الاحوذی ص22

الموافقات للشاطبی ج4 ص10

الانفال:46

المائدہ:92

الموافقات للشاطبی ج4 ص10

آل عمران: 31

مقدمہ تحفة الاحوذی ص21-22

الاحزاب:36

مقدمہ تحفة الاحوذی ص23-24

النساء:65

تفسیر ابن کثیر ج1 ص120، مقدمہ تحفة الاحوذی ص24

الحجرات:1

مقدمہ تحفة الاحوذی ص23

النور:63

الموافقات ج4 ص10

نفس مصدر ج4 ص10

مقدمہ تحفة الاحوذی ص23

النور:62

اعلام الموقعین ج1ص58

الانفال: 24

مقدمہ تحفة الاحوذی ص23

النساء:13،14

النساء:60،61

النور:51،52

الحشر:7

مقدمہ تحفة الاحوذی ص21 ملخصا

النور:54

الاحزاب:21

کما فی مقدمة تحفة الاحوذی ص24

الفتح:10

النساء:80

النساء:65

النور:63

النور:48تا52

الرسالة ص52-85 ملخصا

النساء:115

المحلی لابن حزم مترجم غلام احمد حریری ج1ص33

المناقب لابن الجوزی ص182

ترجمان السنة ج1 ص138

البقرة:129

البقرة:151

البقرة:231

آل عمران:164

النساء:113

الاحزاب:34

الجمعة:2

الرسالة ص78

تفسیر ابن جریر الطبری، سورہ آل عمران:164

کتاب الام ج7 ص270-271

جامع بیان العلم لابن عبدالبر ج1 ص17

تفسیر جلالین بھامش المصحف الشریف ص90،554،471

کتاب الروح لابن قیم ص92

معارف القرآن ص273

نفس مصدر ج7ص141

نفس مصدر ج8 ص435

مقدمہ معارف الحدیث ج1ص23

القمر:5

یسین:2

مبادی تدبر قرآن ص110-113 ملخصا

سورہ لقمان:12

البقرة:102

آل عمران:93

مبادی تدبر قرآن ص115

النجم:3،4

البقرہ:143-144

التحریم:3

الحشر:5

تفسیر ابن کثیر ج4 ص233-234

الاحزاب:37

تفسیر ابن کثیر ج3 ص491 ملخصا

الجمعہ:9تا11

تدبر قرآن ج7 ص388

المائدہ: 58

التوبة:84

الانفال:7

سنن ابو داؤد مع عون المعبود ج4 ص328، جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی ج3 ص374، سنن ابن ماجہ ج1ص6، سنن الدارقطنی ج4 ص287، سنن الکبری للبیہقی ج9 ص332، الشریعہ للاجری ص51، مسند احمد ج4 ص130، 132، الدارمی المقدمہ باب السنة قاضیة علی کتاب اللہ ج1 ص144، جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبدالبر ج2 ص190، تفسیر القرطبی ج1 ص37،38، الکفایة فی علم الروایة للخطیب بغدادی ص8،لسان المیزان لابن حجر ج1ص3، حجة البالغة لشاہ ولی اللہ الدھلوی ج1 ص420

کما فی عون المعبود للعظیم آبادی ج4 ص328

معالم السنن للخطابی ج7 ص8

عون المعبود للعظیم آبادی ج4 ص328

تفسیر القرطبی ج1 ص37-38

سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج4 ص329،جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی ج3 ص374، سنن ابن ماجہ ج1 ص6، مسند احمد، الدلائل النبوة للبیہقی، الکفایة فی علم الروایة للخطیب ص10

معالم سنن للخطابی ج7 ص8

اخرجہ ابی داؤد فی مراسیلہ والبیہقی والدارمی ج1 ص45 والخطیب فی الکفایة ص12 وذکرہ الحافظ ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری ج13 ص291 و محمد جمال الدین قاسمی فی قواعد التحدیث ص59

کما فی تحفة الاحوذی ج3 ص374 والمرقاة للقاری

الصواعق المرسلہ ج2 ص340

السنة للمروزی ص30

اخرجہ ابی داؤد فی مراسیلہ وذکرہ القاسمی فی قواعد التحدیث ص59

صحیح البخاری مع فتح الباری ج1 ص213 وصحیح المسلم کتاب الفضائل ج4

تذکرة الحفاظ ج1 ص180

صحیح البخاری مع الفتح ج13 ص290

نفس مصدر ج13 ص265

نفس مصدر ج13 ص291

نفس مصدر ج13 ص291

مجمع الزوائد منبع الفوائد ج2 ص6 بحوالہ مسند البزار

الاحکام فی اصول الاحکام ص176

رسالہ "تدبر" لاہور عدد نمبر 37 ص32 مجریہ ماہ نومبر 1991ء

نفس مصدر

نفس مصدر

نفس مصدر ص32-33

قواعد التحدیث ص59 بحوالہ مرقاة

الاحکام فی اصول الاحکام ص109

الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ ص26

فتح الباری ج13 ص291

الاتقان فی علوم القرآن ج1 ص59

نفس مصدر

المستعفی من علم الاصول ج1 ص129

السنة للمروزی ص10

قواعد التحدیث ص58

النجم:4

کلیات ابی البقاء ص288 مطبعة الامیرقاہرہ 1281ھ

معارف القرآن ج2 ص542-543

نفس مصدر ج5 ص336

مبادی تدبر حدیث ص35

دو اسلام ص184

نفس مصدر ص185

نفس مصدر ص336-337۔۔۔۔ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی یہ کتاب، جس کے اقتباسات دئے گئے، ان کے وور ضلالت کی تحریر کردہ ہیں جس میں انہوں نے پرویزی خیالات کی حمایت میں حدیث کی حجیت کا انکار کیا تھا۔ لیکن بعد میں اللہ نے ان کو ہدایت سے نواز دیا تھا اور انہوں نے اپنا توبہ نامہ بھی شائع کیا تھا اور حجیت حدیث پر ایک کتاب بھی تالیف فرمائی، جو مطبوعہ موجود ہے۔ غفراللہ لہ (ص۔ی)

کما فی تفہیمات للموددی ص318

الشریعہ للآجری حدیث نمبر 306

النحل :44

الحجر:9

الباعث الحثیث ص87،تدریب الراوی ج1 ص282،الاللی المصنوعة ج2ص72،مقدمہ سلسلة الاحادیث الضعیفہ ج1ص6

مقدمہ ابن الصلاح ص133

الموضوعات لابن جوزی ج1 ص48،الضعفاء والمجروحین ج1 ص32

تنزیہ الشریعہ لابن عراق ج1 ص16،الالی المصنوعة للسیوطی ج2 ص474

الموضوعات الجوزی ج1 ص49

تنزیہ الشریعہ لابن عراق ج1 ص16۔الالی المصنوعة ج2 ص474

المدخل الی دلائل النبوة ج1 ص43

الاحکام فی اصول لاحکام لابن حزم ج1 ص124

نفس مصدر ج1 ص123

الانبیاء:45

الاحکام لابن حزم ج1 ص88

النجم:3،4

الانعام:19

الاحکام لابن حزم ج1 ص109-110

الصواعق المرسلہ ج2 ص371

الحجر:9

عظمت حدیث ص43

معارف القرآن ج1 ص281

نفس مصدر ج5 ص337

نفس مصدر ج7 ص141-142ملخصا

مقدمہ معارف الحدیث از حبیب الرحمن اعظمی ج1 ص17

تفہیمات ج1 ص354-355 اسلامک پبلیکیشنز مئی 1988ء

اصحاب الحدیث للخطیب بغدادی ص11،28،29

امام بیہقی نے "المدخل" میں اس حدیث کی تخریج مرسلا کی ہے لیکن صحابہ کی ایک جماعت مثلا حضرت ابوہریرہ،عبداللہ بن مسعود،،ابی امامہ باھلی اور اسامہ بن زید وغیرہ رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث موصولا بھی مروی ہے۔ ابن عدی نے مقدمہ "الکامل" ص190،231-233 اور "الکامل" ج1 ص152-153، ج2ص511 ج3ص904، ابونصر المجزی نے "الابانہ عن اصول الدیانة" میں، ابونعیم اصبہانی، ابن عساکر، حاکم، دیلمی، عقیلی اور بزار رحمہم اللہ نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ علامہ خطیب بغدادی نے"شرف اصحاب الحدیث" اور "الجامع" ج1 ص128 میں اس حدیث کی روایت حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن العذری وغیرہ سے کی ہے۔ امام ابن حاتم نے "الجرح و التعدیل" ج1/2 ص17 میں، ابن قتیبہ نے "عیون الاخبار" ج2 ص119 میں، ابن حبان نے "الثقات" ج4 ص10 میں، ابن عبدالبر نے "التمہید" ج1 ص58-60 میں، حافظ عراقی نے "فتح المغیث" ص142-144 میں، خطیب تبریزی نے "مشکوة" ج1 ص54 مع تنقیح الرواة میں، علامہ متقی الھندی نے "کنز العمال" ج 10ص176 میں، علامہ ھیثمی نے "کشف الاستار" ج1 ص86 میں اور عبدالرحمن مبارکپوری نے "مقدمہ تحفة الاحوذی" ص7 میں اس کو وارد کیا ہے۔ لیکن دارقطنی کا قول ہے: "ان لا يصح مرفوعا يعني مسندا" مفتاح دارالسعادة لابن قیم ج1 ص163-164 حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں"أسانيده كلها مضطربة غير مستيمة" (اسد الغابة لابن الاثیر ج1 ص53) حافظ زین الدین عراقی فرماتے ہیں: "وكلها ضعيفة لا يثبت منها شئي وليس فيها شئي يقوي المرسل المذكور" (التقیید والایضاح ص116،فتح المغیث للعراقی ص143-144، تدریب الراوی ج1 ص303) امام بن کثیر کا قول ہے: "في صحته نضر قوي والاغلب عدم صحته ولو صح لكان ما ذهب اليه قويا" (الباعث الحثیث ص94) لیکن امام احمد نے اس کی تصحیح فرمائی ہے" (شرف اصحاب الحدیث ص29، فتح المغیث للعراقیص143، التقیید والایضاح للعراقی ص116، تدریب الراوی ج1 ص303، الجامع للخطیب ج1 ص129 وغیرہ) امام ابن القطان نے امما احمد کے کلام کا تعقب کیا ہے۔ (الاصابة ج1 ص118 کنز العمال ج10ص176) جس کا تذکرہ آگے ہو گا۔

امام ابن مندہ نے اس حدیث کی روایت بطریق الحسن ابن عرفة حدثنا اسماعيل بن عياش عن معاذ بن رفاعة قال حدثني ابراهيم بن عبدالرحمن العذري وكان من الصحابة عن النبي صلي الله عليه وسلم قال (فذكره) کی ہے، اور فرماتے ہیں: "ولم يتابع ابن عرفة علي قوله وكان من الصحابة" یعنی ابن عرفہ کے قول کہ "وكان من الصحابة" کی متابعت نہیں پائی جاتی۔ قاضی وکیع کی کتاب "الغررفی الاخبار" میں حسن بن عرفہ کی جو روایت مروی ہے اس میں "وكان من الصحابة" کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ ابن مندہ نے اسے بطریق معاذ عن ابراہیم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی روایت کیا ہے۔

امام ابونعیم نے اپنی کتاب میں اس کو وارد کرنے کے بعد لکھا ہے: "وهذا رواه الوليد عن معاذ و رواه محمد بن سليمان بن ابي كريمة عن معاذ عن ابي عثمان عن اسامة ولا يثبت" یعنی اس طرح ولید نے معاذ سے اس کی روایت کی ہے اور محمد بن سلیمان بن ابی کریمہ نے معاذ سے، انہوں نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ سے بھی اس کی روایت کی ہے لیکن یہ ثابت نہیں ہے۔"

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: "خطیب بغدادی نے اس طریق کو "شرف اصحاب الحدیث" میں موصولا روایت کیا ہے۔ امام ابن عدی نے اس حدیث کو بہت سے طرق کے ساتھ وارد کیا ہے۔ لیکن وہ سب طرق ضعیف ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر یہ بھی فرمایا ہے: "رواه الثقات عن الوليد عن معاذ عن ابراهيم' قال حدثنا من أصحابنا أن رسول الله صلي الله عليه وسلم فذكره" (الاصابة فی تمیز الصحابہ ج1 ص124)

حضرت ابوہریرہ اور ابن عمر سے مروی امام بزار کی روایت کے متعلق علامہ ھیثمی فرماتے ہیں: "اس کی سند میں عمرو بن کالد القرشی ہے جس کی یحیٰ بن معین اور احمد بن حنبل نے تکذیب فرمائی ہے اور وضع احادیث کی طرف نسبت کی ہے" (مجمع الزوائد ج1 ص140)

محمد بن ابراہیم الوزیر الصنعانی فرماتے ہیں: "یہ حدیث حضرت ابوہریرہ، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو بن العاص، عبداللہ بن عمر بن الخطاب، ابی امامہ الباھلی اور جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہم سے مرفوعا مسندا مروی ہے" امام عقیلی نے حضرت ابوہریرہ اور ابن عمرو بن العاص سے مسندا اس کی روایت کی ہے اور فرماتے ہیں: "الاسناد اولی" لیکن حافظ زین الدین عراقی نے اس کی اسناد کی تضعیف فرمائی ہے۔ ابن قطان فرماتے ہیں: "الارسال اولی" امام عدی کا قول ہے: " اس کی روایت ہمارے اصحاب میں سے ثقات نے ولید بن مسلم عن ابراہیم بن عبدالرحمن کے طریق سے بھی کی ہے۔" امام ذہبی فرماتے ہیں: معان یعنی ابن رفاعہ عن ابراہیم بن عبدالرحمن العذری التابعی سے متعدد لوگوں نے اس کی روایت کی ہے" علامہ صنعانی کا قول ہے: حدیث کی صحت قوی ہے جیسا کہ اس کی طرف اہل الحدیث کے امام احمد بن احنبل اور امام ابن حبان گئے ہیں" (الروض الباسم ج1 ص21-23، تنقیح الانطار ج2 ص129-132)

واضح رہے کہ امام عقیلی نے عبدالرحمن عمرو بن العاص اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ حضرت ابی امامہ الباھلی کے طریق سے بھی اس حدیث کی تخریج فرمائی ہے۔ (الضعفاء الکبیر ج1 ص9،10) لیکن آں رحمہ الہ سے منقول "الاسناد اولی" کے الفاظ مجھے نہیں مل سکے اور امام ذہبی کے قول میں "ومعان لیس بعمدة" کے الفاظ بھی موجود ہیں جو امام رحمہ اللہ کے نزدیک اس حدیث کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ (میزان الاعدال ج1 ص43)

علامہ قسطلانی حجرت اسامہ بن زید کی حدیثذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "اس حدیث کو صحابہ میں سے حضرت علی، ابن عمر، ابن عمرو، ابن مسعود، ابن عباس، جابر بن سمرة، معاذ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ ابن عدی نے اس کو بکثرت طرق وارد کیا ہے جو کہ سب ضعیف ہیں جیسا کہ امام دارقطنی ، ابونعیم اور ابن عبدالبر نے صراحت کی ہے لیکن تعدد طرق سے اس کا تقویت پاکر حسن ہونا ممکن ہے جیسا کہ علامہ ابن کیکلای علائی نے بالجزم بیان کیا ہے" (کما فی مقدمہ تحفة الاحوذی ص7)

علامہ جمال الدین قاسمی حجرت اسامہ بن زید کی مرفوع حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اس حدیث کی ایک سے زیادہ صحابہ نے روایت کی ہے۔ امام ابن عدی ، امام دارقطنی اور امام ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ اس حدیث کا متعدد طرق سے مروی ہونا تحسین کا متقاضی ہے جیسا کہ علائی نے بالجزم بیان کیا ہے" (قواعد التحدیث ص49-50)

حافظ ابن قیم نے "مفتاح دار السعادة" ج1 ص163-164 میں اس روایت کے متعدد طرق کو بلا نقد جمع کر کیا ہے۔ علائی حضرت اسامہ کی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: "انه حسن غريب" (بغية الملتمس ص3-4، توضیح الافکار ج2 ص129، تعلیق علی المشکاة للالبانی ج1 ص83) علامہ خطیب بغدادی اور حافظ عراقی وغیرھما ناقل ہیں: "کسی شخص نے امام احمد بن حنبل سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کلام موضوع ہے تو آپ نے فرمایا: "لا هو صحيح سمعته من غير واحد" یعنی "نہیں، یہ حدیث صحیح ہے میں نے اس کو متعدد حفاظ سے سنا ہے" (شرف اصحاب الحدیث للخطیب ص29، تنقیح الرواة للسید ابی الوزیر ج1 ص54، فتح المغیث للعراقی ص143، التقیید والایضاح لعراقی ص116، تدریب الراوی للسیوطی ج1 ص303، الجامع للخطیب ج1 ص129، مفتاح دارالسعادة ج1 ص164 وغیرہ)

لیکن امام بن القطان فرماتے ہیں: "وخفي علي احمد من امره ما علمه غيره"التقیید والایضاح ص116، تدریب الراوی للسیوطی ج1 ص303) شیخ عبدالوھاب عبدالطیف امام زرکشی سے ناقل ہیں: "وفيما صار إليه ابن القطان من تضعيفة نضر فإنه يتقوى بتعدد طرقه الخ" (حاشیہ برتدریب الراوی ج1 ص303) اس حدیث کے متعلق امام نووی فرماتے ہیں: "هذا اخبار منه صلي الله عليه وسلم بصيانة هذا العلم وحفضه وعدالة ناقليه وإن الله يوفق له في كل عصر خلفا من العدول،يحملونه وينفون عنه التحريف فلا يضيع وهذا تصريح بعدالة حامليه في كل عصر وهكذا وقع الله الحمد وهو من اعلام النبوة ولا يضركون بعض الفساق يعرف شيئا من علم الحديث انما هو اخبار بان العدل يحملونه لا ان غيرهم لا يعرف شئيا منه" (تہذیب للنووی ج1/1 ص17 وکما فی مقدمة تحفة الاحوذی ص7-8 وقواعد التحدیث ص49-50)

ڈاکٹر محمود الطحان کا قول ہے: اس حدیث کو ابن عدی نے الکامل وغیرہ میں روایت کیا ہے۔ عراقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے جملہ طرق ضعیف ہیں لیکن بعض علماء نے کثرت طرق کے باعث اسے حسن کہا ہے۔ ابن عبدالبر کا یہ قول علماء کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ بالفرض اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ عادل لوگوں کو ایک دوسرے کے پیچھے اس کے علم کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہیے۔ اس تاویل کی دلیل یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی پائے جائیں گے جو اس علم کے حامل ہوں گے لیکن وہ عادل ہوں گے" (تیسیر مصطلح الحدیث ص143)

محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے "تعلیق علی المشکاة" میں اس حدیث پر فی الجملہ کوئی حکم لگانے سے توقف کیا ہے۔ (مشکاة المصابیح ج1 ص82-83) لیکن "سلسلة الاحادیث الصحیحہ" (ج1 ص485) میں اس کو ذکر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے بلکہ مفید اور اہم قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمعطی امین قلعجی نے "الضعفاء الکبیر" للعقیلی کے ضمیمہ میں اس حدیث کو "الاحادیث الصحیحة" کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔ (ضمیمہ الضعفاء الکبیر ج4 ص525) غڑض تحقیق یہ کہ راقم کے نزدیک زیر مطالعہ حدیث کی تحسین لغیرہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصوب

دو اسلام ص118-119

پیش لفظ مذہبی داستانیں ج4 ص15

رسالہ تدبر لاہور عدد نمبر 37ص34 مجریہ ماہ نومبر 199ء

الموافقات للشاطبی ج4 ص5-6

قواعد التحدیث ص338 حجة اللہ البالغہ ص118

خطبة الاستعیاب علی ھواہش الاصابة ج1 ص2

رسالہ تدبر لاہور عدد 37ص33 مجریہ ماہ نومبر 1991ء

نفس مصدر ص34

نفس مصدر ص37

نفس مصدر ص34

نفس مصدر ص37

مقدمہ تفسیر تدبر قرآن

مبادی تدبر قرآن ص218

مقدمہ برمعارف حدیث ج1 ص15 طبع دارالاشاعت کراچی

السنہ مجیتہاد مکانتہا فی الاسلام ص93

نفس مصدر ص96

نفس مصدر ص19

حالانکہ خود ڈاکٹر لقمان سلفی صاحب حفظہ اللہ ہی ذرا پہلے لکھ چکے ہیں کہ صحابہ کرام قرآن و سنت کے احکام کے مابین کسی طرح کا فرق نہیں کیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں آں محترم کے الفاظ یہ ہیں: كان الصحابة يلتفون حول الرسول صلي الله عليه وسلم،يشاهدون بعيونهم ويسمعون باذنهم وتعي قلوبهم ويتمسكون بسنة ولا يفرقون بين ما جاء في القرآن وما جاء في السنة وحافظوا علي الكتاب العزيز والسنة الشريفة وبوا ان يكونوا ذلك الرجل الذي ينطبق عليه قوله صلي الله عليه وسلم: يوشك الرجل منكثا علي اريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول: بيننا وبينكم كتاب الله عزوجل فما وجدنا فيه من حلال استحللناه وما وجدنا فيه من حرام حرمناه الا وان ما حرم رسول الله مثل ما حرم الله الخ (السنة حجتیھا و مکانتھا فی الاسلام ص22)

نفس مصدر ص423

نفس مصدر ص25

Criticim of Hadith Among Muslims with Reference to Sunan Ibn Majah, P10, London, 1986.

السنة ومكانتها في التشريع لعباس متولی حمادہ ص53

النجم:3،4

النساء:80

الحشر:7

النساء:50تا52

النساء:61

سنن ابی داؤد مع عون المعبود ج4 ص328، جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی ج3 ص374، سنن ابن ماجہ ج1 ص6، سنن الکبری للہیقی ج9 ص332، سنن الدارقطنی ج4 ص287، الشریعہ للاجری ص156، الکفایہ للخطیب ص8، الدارمی المقدمہ ج1 ص144، مسند احمد ج4 ص130-132، تفسیر القرطبی ج1 ص37-38، جامع بیان العلم وفضلہ ج2 ص190

نفس مصادر

الموطا للامام مالک کتاب القدر نمبر 560، المستدرک للحاکم ج1 ص93 (بسند حسن)، سنن الکبری للبہیقی ج10 ص114، جامع بیان العلم و فضلہ ج2 ص24

مراسیل ابی داؤد، الدارمی ج1 ص145، الکفایة للخطیب ص12، فتح الباری ج13 ص291

جامع بیان العلم و فضلہ ج2 ص123، المغنی لابن قدامہ ج6 ص165، سنن سعید بن منصور ج1/3 ص1

البقرہ۔174

البقرہ-159، صحیح البخاری مع فتح الباری ج1ص213،صحیح مسلم کتاب الفضائل ج4

جامع بیان العلم لابن عبدالبر ج4 ص105

صحیح البخاری مع فتح الباری ج8 ص630، صحیح مسلم کتاب اللباس والزینہ ج3 ص336، سنن النسائی مع التعلیقات السلفیہ ج2 ص274، جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی ج4 ص16، سنن ابن ماجہ کتاب النکاح ج1 ص640، الکافیہ للخطیب ص12، جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبدالبر ج2

سنن النسائی مع التعلیقات السلفیہ ج2 ص326

نفس مصدر

جامع بیان العلم و فضلہ ج2 ص189

الکفایة الخطیب ص12

الرسالة للامام شافعی ص78

الکفایة للخطیب ص8

مرقاة شرح مشکوة ج1 ص212

مصفی ج1 ص4

کما فی فضائل الحدیث مولفہ عبدالسلام بستوی ص25 طبع دہلی

حجیت حدیث للشیخ الالبانی ص17 مترجم عبدالوھاب حجازی (نتصرف یسیر) وکذا فی سلسلة الاحادیث الضعیفہ والموضوعة الالبانی ج2 ص286

النساء ۔640

الحشر۔7

النور۔63

الاحزاب۔36

الرسالة للامام الشافعی ص73-75 ملخصا

البقرہ۔129

نفس مصدر ص76-78 ملخصا

رواہ الطبرانی فی الاوسط

مجمع الزوائد منبع الفوائد للہیثمی ج1 ص148

کتاب الممناقب لابن الجوزی ص182

الاحکام فی اصول الاحکام لابن حزم ص89

الشوری:10

نفس مصدر ص89

نفس مصدر :ص91

شرح عقیدہ طحاویہ ص217 طبع چہارم

تحقیق الکفر والایمان لمرتضی حسن ص15 مطبع قاسمی دیوبند