یقین رحمت پروردگار رکھنا امید خیر دل بے قرار میں رکھنا
عدو ہے سخت بہ ظاہر ضعیف تم ہو مگر کرم خدا کا بھی اپنی شمار میں رکھنا
لہو سے اپنے سنوارے ہیں تم نے کوہ و دمن لہو کا رنگ ہر اک جوئبار میں رکھنا
عدو کے قافلے پہیم گزرتے رہتے ہیں مزاحمت کو ہر ایک رہگزار میں رکھنا
چمن تمہارے اُجاڑے ہیں دشمن جان نے جگر کے خون کی نمی لالہ زار میں رکھنا
تمہارے خون کے چھینٹوں نے کی ہے گلکاری جگر کا خون بھی شامل، بہار میں رکھنا
چمن کھلا ہے تمہارا، تمہاری خوشبو سے مقام اپنا اسی مرغزار میں رکھنا
عدو کے جبر سے ہجرت، وطن سے خوب نہیں نشان قدموں کے اپنے دیار میں رکھنا
دعائیں کرتا ہے اسرار دل سے ہر لمحہ سکون تم بھی دل سوگوار میں رکھنا