(تذکرہ مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمۃ اللہ علیہ)

تمام تر تعریفیں اس اللہ جل شانہ کےلیے ہیں جو تمام جہانوں کا مربی ہے، جو سب سے زیادہ مہربان او ر نہایت رحم والا ہے، جو جزا کے دن کا مالک ہے او ر تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق پورا پورا بدلہ دے گا۔

اللہ کی قدرت کہ آج مجھے کس ہستی پر قلم اٹھانا اور کس بات کا تذکرہ کرنا مقصود ہے! قلم ہے کہ قرطاس پر جنبش کی سکت نہیں رکھتا، عقل ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہےاور یہ تصور کرنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے کہ وہ "نابغہ عصر" جو چند دنوں پیشتر مرجع خلائق تھا، اب اس کا صرف تذکریہ ہی زبان زد عام و خاص ہو کر رہ گیا ہے۔ جس کی کسی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے راقم الحروف اپنی تحریروں میں بڑے ناز وفخر او رشد ت جذبات سے مغلوب ہو کر اس کے نام کے ساتھ رعاه الله تعالي' اطال الله تعالي عمره اور متعنا الله تعالي بطول حياته لکھا کرتا تھا، اب انتہائی بے بسی او ر لا چاری میں ، سخت صدمے او حزن وملال سے دو چار ہو کر اسی کے نام کے ساتھ رحمه الله تعالي' نور الله تعالي مرقده اور قدس الله تعالي ضريحه کےالفاظ لکھنے پر مجبور ہے۔ یہ ہے حضرت انسان اور اس کی زندگی کی حقیقت ، اور دنیا جس میں وہ رہتا ہے اس کی بے ثباتی کی ایک جھلک بالآخر اس سلسلے میں تمام تر خدشات و ساوس کو جھٹکے بغیر کوئی چارہ نہ رہا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا ، کہ ایک کافر جو اللہ تعالیٰ کی آیات بینات، انبیاء ورسل علیھم السلام اور دیگر شعائر اسلام کو تو جھٹلاتا ہے لیکن آج تک موت کی حقیقت کا انکار نہ کر سکا، اور ایک دھریہ جس نے اللہ جل مجدہ کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، لیکن جب اس حقیقت (موت ) کے وقوع پذیر ہونے کا وقت آیا تو اس کی عقل و شعور اور فکر ونظر کے سارے خود ساختہ تانے بانے ٹوٹ کر ہوا ہوگئے اور وہ بھی اپنے آپ و موت کے شکنجہ سے نہ بچا، اور یہی حقیقت ہے جس کی سچائی پر یہ ارشاد باری شاہد ہے

﴿قُلْ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلْمَوْتِ ٱلَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿١١﴾

"(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے") (سورۃ السجدۃ :11)

اس راہی عدم ہونے والے"مسافر" کی شخصیت اس عنوان کی آئینہ دار تھی جو میں نے سر ورق رقم کیا ہے ، اور یہ بات بھی عین حقیقت ہے کہ جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے ایک اکیلا شخص متعدد اشخاص نہیں ہو سکتا، او ر نہ ہی شرعی، اخلاقی اور تمدنی اعتبار سے کسی معاشرے میں ایک شخص کا اطلاق ایک سے زیادہ اشخاص پر ہوتا ہے ، خواہ وہ قدرومنزلت اور مرتبے کے اعتبار سے رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اگر وہ فرشتوں یا جنوں کی جنس سے ہے تب بھی ایک ایک ہی رہے گا، اس پر دو یا زیادہ کے احکام اور حقوق لاگو نہیں ہوں گے تو پھر میرے اس تجویز کردہ عنوان"وہ تنہا ایک پوری جماعت تھا" کا اصل مطلب اور مفہوم کیا ہے؟

مذکورہ بالا "عنوان"میں ایک انتہائی خوبصورت اور پر مغز مفہوم کا ر فرما ہے جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اس فرمان سے ہوتی ہے۔

﴿إِنَّ إِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ﴿ 120﴾سورة النحل

"بے شک ابراہیم علیہ السلام (لوگوں کے )امام(اور )خدا کے فرمانبردار تھے، جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے"

دراصل انسان تنہا ہونے کے باوجود اس عارضی دنیا میں جس کی حیثیت ایک ناپائیدار سرائے کی سی ہے ، اپنی جہد مسلسل اور عمل پہم سے ایسے ایسے کار ہائے نمایاں سر انجام دیتا ہے کہ بسا اوقات ایک پوری جماعت بھی ایسےکارنامے سرانجام دینے سے قاصر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دارلعمل (دنیا) میں ایک عامل (مزدور) کی حیثیت سے بھیجا ہے اور اسے مسلسل محنت و مشقت پر انگیخت دلائی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍْ﴿4﴾...سورة النحل

"کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے"

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَدْحًا فَمُلَـٰقِيهِ ﴿ 6﴾...سورة النحل

"اے انسان !تو اپنے پروردگار کی طرف(پہنچنے میں )خوب کوشش کرتا ہے سو اس سے جا ملے گا"

آیات مبارکہ میں جس محنت و مشقت کا تذکرہ ہوا ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آواری اور حق تعالیٰ جل شانہ کی عبادت و ریاضت سے عبارت ہے۔

اس طرح مومن کی شان ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص اسے کوئی "محمود عمل"کرتا ہوا دیکھ کر اسے استحسان کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس کی تعریف بھی کرنے لگ جائے تو یہ بھی اس کے لیے ایک خوشخبری کے مترادف ہے اور اس کے حق میں خیر کی علامت ہے ، جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا:

"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ارايت الرجل يعمل العمل من الخير ويحمده الناس عليه وفي رواية ويحبه الناس عليه قال تلك عاجل بشري المومن.

"آپ ایسے شخص کے حق میں کیا فرماتے ہیں کہ وہ نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اس کام پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں، اور ایک روایت ہے اور لوگ اس نیکی کے سبب سے اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ مومن کی خوشخبری اسے جلدی ملنے والی ہے ۔ (یعنی دنیا میں خوش خبری دے دی گئی ہے اور آخرت کا اجر باقی ہے" (صحیح مسلم)

مومن کی یہی شان ، مقام اور مرتبہ ہے جو بار گاہ ایزدی میں اسے مقرب بناتا ہے ، جب اس حوالے سے میں مولانا مرحوم کے ایمان و ایقان کا ملاحظہ کرتا ہوں، تو ہر دم ایک نئی شاہ اور نئی آن میں ان کی سیرت و کردار اور گفتار و اعمال کو دمکتے اور چمکتے ہوئے پاتا ہوں۔ جیسا کہ علامہ اقبال کے اس شعر سے عیاں ہوتا ہے:

ہرلحظہ مومن کی نئی شان، نئی آن

گفتار میں، کردار میں اللہ کی برہان

حدیث میں اللہ تعالیٰ کے ہاں جن پسندیدہ ناموں کا ذکر ہوا ہے، ان میں ایک نام"عبدالرحمن" بھی ہے۔آپ کا صرف نام ہی "عبدالرحمن" نہیں تھا بلکہ آپ پوے پورے اسم بامسمی تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے زندگی میں اپنی ضرورت سے زیادہ کسی چیز کی تمنا کی اور نہ ہی کسی چیز کا ضیاع کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مرحوم کے عادات وخصائل اور طور اطوار فطری زندگی کے انتہائی قریب تھے۔ بے جا خرچ کرنے سے اجتناب میں نمایاں اور ہمہ وقت دیکھے جا سکتے تھے، اسی طرح آپ کی گفتگو انتہائی با بامقصداور مدلل ہوتی ہے۔ دین میں شکوک و شبہات والے امور سے ہمیشہ بجتے رہے ، بلکہ بڑےکھلے اور فراخدالانہ انداز سے الجھنوں او رپیچیدگیوں میں پڑنے کی بجائے سیدھے سادھے اور واضح شرعی احکام کو بجا لانے پر زور دیتے ۔ انہی خصائل کی جانب محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو توجہ دلائی ہے۔ حدیث میں ہے:

نهي رسول الله صلي الله عليه وسلم عن قيل وقال وكشرة السؤال واضاعة المال.

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل وقال ، سوالات کی کثرت اور مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے" (صحیح بخاری ، کتاب الرقاق)

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی امت کی رہنمائی کے لیے موجود ہے:

دع ما يريبك الي مالا يريبك (صحيح بخاري' كتاب البيوع)

"شکوک وشبہات میں ڈالنے والی چیزوں کو چھوڑ کر واضح اور یقینی باتوں کو اختیار کر"

نیز اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے ہر مل کی غرض وغایت اللہ جل شانہ کی رضا مندی اور خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے جب مولانا مرحوم کی زندگی کے اعمال و افعال پر نظر پڑتی ہے تو وہ اپنے پسماندگان کے لیے مشتعل راہ نظر آتے ہیں۔ کوئی اکیلا آدمی تو کجا ایک پوری جماعت مل کر بھی اتنا کام نہیں کر سکتی جتنا کام ایک مختصر عرصہ میں انہوں نے سر انجام دیا۔ زندگی میں جس کا م کا ایک بار ارادہ کر لیا، اس پرعمل کر کے چھوڑا، گویا آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی چلتی پھرتی عملی تصویر تھے(فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ) (سورۃ آل عمران :159)

یوں تو انہوں نے حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ... "الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة (صحيح مسلم' كتاب الصلوة المسافرين وقصرها) کہ قرآن مجید میں مہارت رکھنے والا نیکو کار لکھنے والے (فرشتوں کے) ساتھ ہے۔۔۔۔ کے مصداق اپنی زندگی میں تقریباََ پچاس کے قریب قرآن مجید اپنے ہاتھوں سے لکھے اور معاوضہ میں ملنے والی پاکیزہ اور حلال کمائی سے اپنی اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے فریضہ کو باحسن و خوبی نبھایا، لیکن ایک عظیم سعادت جو انہیں حاصل ہوئی وہ یہ کہ انہوں نے عز م کر لیا کہ ایک مکمل قرآن مجید حرمین شریفین میں بیٹھ کر لکھوں گا۔ چانچہ ذرائع آمدورفت میں رکاوٹوں اور مالی مشکلات کے باوجود قرآن مجید کی مکی سورتیں بیت اللہ شریف کے سامنے اور مدنی سورتیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رحمتہ اللعالمین کی ہمسائیگی میں بیٹھ کر لکھیں اور اس طرح اپنی ان تھک کوششوں اور غیر متزلزل ارادے کی بنائ پر نا مساعد حالات میں اس سعادت سے بہرہ ور ہوئے:

(ذَ‌ٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ) (سورة الجمعة: 4)

"یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے"

مولانا مرحوم کےہاتھوں کا لکھا ہوا یہی نسخہ آج کل "مجمع ملک فہد بن عبدالعزیز ، مدینہ منورہ" میں طباعت کے زیور سے آراستہ وپیراستہ ہو کر منظر عام پر آچکا ہے اور اب توقع ہے کہ اسی مطبوعہ متن کے تحت ان کا اپنا کیا ہوا ترجمہ اور تفسیر بھی شائع کی جائے گی۔ اس کام کی تکمیل کے لیے تادم حیات انہوں نے سرتوڑ کوشش کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی تکمیل کےشرف سے بھی ہمکنار فرما دیا تھا۔

مولانا مرحوم کی عمر جوں جوں بڑھتی جا رہی تھی، ان کے کاموں میں تیزی ، ان کی صحت میں نکھار اور ان کے معمولات میں ڈسپلن اور نظم و ضبط بڑھتا چلا جاتا تھا، آپ کی وفات سے چند سال قبل ان کی آنکھوں میں سفید موتیا اترنا شروع ہوا ۔یہاں تک کہ نوبت ایک ہلکا سا آنکھوں کا آپریشن کروانےتک پہنچ گئی، آپریشن کیا ہونا تھا، وہ تو ایک بہانہ تھا، قدرت نے اپنے درویش بندے کی آنکھوں میں پہلے سے کہیں زیادہ روشنی اتار دی، گویا کہ وہ ایک طرح کی ندائے غیبی تھی اور آپ نے جو پہلے سے مستقل عینک لگا رکھی تھی، وہ بھی اتار دی، اب آپ کا تحریر کردہ مسودہ اتنا باریک ہوتا کہ خود راقم الحروف کو بھی پڑھنے میں دشواری پیش آگی ، یوں معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے اپنے دین کا کوئی خاص کام لینا چاہتے ہیں اور واقعی انہوں نے ایک محدود مدت میں وہ کام کر دکھایا کہ بہت لوگ مل کر بھی اتنی تیزی سے اتنا پائیدار کام نہیں کر سکتے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ سید المحدثین امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ کی بچپن میں بینائی جاتی رہی۔ آپ کی والدہ محترمہ جو کہ انتہائی پار سا، متقی اور پرہیز گار تھیں، نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگی کہ اے میرے پروردگار ! اس بچے کی بینائی کو لوٹا دے۔ دعا میں اس قدر رقت اور تاثیر تھی کہ بارہ گاہ ایزدی میں قبول ہوئی اور امام موصوف رحمۃ اللہ کو آنکھوں کی وہ روشنی نصیب ہوئی کہ انہوں نے اپنی کتاب "التاریخ الکبیر" حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں بیٹھ کر چاند کی روشنی میں تالیف فرمائی۔

اس بات میں ہرگز ہرگز مبالغہ آمیزی نہیں اور نہ یہ راقم الحروف کا مرحوم کے ساتھ جذباتی وابستگی اور تعلق کا مظہر ہے بلکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ راقم اس وقت مولانا مرحوم کی کتاب "شریعت و طریقت " کا عربی میں ترجمہ کر رہا تھا(جو کہ عنقریب بفضل اللہ تعالیٰ سعودی عرب میں طبع ہو کر شائع ہونے والی ہے) اور اسی سلسلے میں مولانا مرحوم سے گاہے بگاہے ملاقات کا بھی شرف حاصل ہوتا رہتا، میرے دیکھتے دیکھتے دو تین ماہ میں انہوں نے اپنی کتاب "الشمس والقمر بحسبان" مکمل کر لی اور میں اس وقت انگشت بدندان ہو گیا جب وہ کتاب چھپ کر مارکیٹ میں بھی آگئی اور پھر انہوں نے ایک ملاقات میں محبت و شفقت بھری نگاہوں سے میرے طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے مذکورہ کتاب کا ایک نسخہ اپنے ہاتھ سے میرا اور اپنا نام لکھ کر بطور ہدیہ میرے حوالے کر دیا۔ (اللهم الجعل قبره روضة من رياض الجنة) یہ کتاب اپنے موضوع اور فن کے اعتبار سے ایک انفرادی حیثیت کی حامل ہے اور یہ کتاب پڑھنے سے قاری پر عیاں ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس قدر خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ سچ ہے۔

این سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

مولانامرحوم کی دینی سرگرمیوں او ر مصروفیات میں سے ایک بڑا کام "مدرسہ تدریس القرآن والحدیث للبنات" کی تعمیر وترقی اور اس کی دیکھ بھال تھا۔ کسی ادارے یا مدرسے کا منتظم ہی یہ جانتا ہےکہ اس ذمہ داری کو نبھانا کتنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ لیکن آفرین ہے اس دبلے پتلے اور سڈول جسم رکھنے والے عبقری پر جس نے انتہائی علمی مصروفیات اور گھریلو مسائل کے ہوتے ہوئے بھی دین کی اس شمع کو فروزاں رکھنے میں قابل قدر خدمات انجام دیں۔ آپ ادارے کے انتظامی معاملات میں اس قدر ہوشیار ، چاک وچوبند اور کھرے تھے کہ دیکھنے والا حیران وششد ر رہ جاتا اور پھر اس پر مستزادیہ کہ اتنے بڑے ادارے کو ایک تنہا شخص کی طرف سے ہر قسم کا مالی و علمی تحفظ برابر ملتے رہنا اور آئے دن اس کے علمی وتعمیر معیار میں اضافہ ہوتے چلے جانا، جبکہ انہیں کسی قسم کا خاص جماعتی سہار ا بھی نہ تھا اور نہ ہی کسی رفاہی ادارے کی جانب سے کوئی خاص فنڈ وغیرہ ملتا تھا۔ یہ باتیں عام انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ یہ درسگاہ وسن پورہ لاہور کے پورے علاقہ میں ایک منفرد خصائص کی حامل علمی دانشگاہ ہے جو سالھا سال سے پورے علاقے میں کتاب و ست اور دینی تعلیمات کی ضیاء پالشیوں میں مصروف ہے، اس کی تاسیس اور تعمیر و ترقی کا اصل سہرا مولانا مرحوم کے سر ہے۔ (جزاہ اللہ تعالیٰ عنا خیر الجزائ)

آج بھی اس درسگاہ کا نظارہ کرنے والے پر واضح ہوتا ہے کہ یہاں سارے کا سارا سلسلہ صرف نیک نیتی اور اخلاص کی طاقت اور قوت پر چل رہا ہے۔ ورنہ آج کے دور کی مہنگائی اور مادہ پرستی کی اس دوڑ میں لاہور جیسے شہر میں اس نوعیت کے ادارے چلانا جبکہ وہاں آمدنی کے کوئی مستقل ذرائع بھی نہ ہوں، ایک امر محال ہے ، بس ایسے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرماان ہی بار بار سامنے آتا ہے:

(إِن تَنصُرُ‌وا۟ ٱللَّهَ يَنصُرْ‌كُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ) (سورۃ محمد :7)

"اگر تم اللہ (کے دین ) کی مدد کرو گے تووہ(اللہ) تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا"

اس ادارے میں سینکڑوں طالبات زیر تعلیم ہیں اور ہر سال بیسیوں لڑکیاں شاندار نتائج سے سند فراغت حاصل کرتی اور ملک کا مختلف علاقوں میں اللہ تعالیٰ کےدین کی نشرواشاعت اور توحید و سنت کی ترویج کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ مذکورہ ادارے کی سہ منزلہ عمارت اور اس کی توسیع بھی ایک عجیب قصہ ہے۔ حیرت ہوتی ہے مولانا مرحوم کی ہمت اور تگ و دو پر کہ انہوں نے ضعف پیری میں کسی طرح محنت اور جانفشانی سے مدرسہ سے ملحقہ ایک رہائش کو خریدا ، وسن پورہ ایسی گنجان آبادی میں اس طرح کی ایک رہائش کو مدرسہ کی عمارت میں ضم کر دینا کوئی معمولی کام نہیں، اور یہ سب کچھ انتہائی سرعت اور تھوڑی سی مدت میں ہو گیا۔ ابھی ہم سن ہی رہے تھے کہ مدرسہ کی توسیع کا پروگرام ہے اور میں شاید دو اڑھائی ماہ کے وقفہ سے وہاں گیا تو یہ دیکھ کر حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطے کھانے لگا کہ بالکل پہلی جیسی ایک بلند و بالا سہ منزلہ عمارت مدرسہ کی عمارت سے متصل کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔

اولاد جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت عظمی ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دیگر تمام نعمتوں کے بارے میں سوال ہو گا، وہاں اولا د کے باے میں بھی پوچھا جائے گا،لیکن کیا ہی خوش نصیبی اور سعادت مندی ہےجو کہ اس سلسلے میں مولانا مرحوم کے حصہ میں آئی، آپ کی اولاد و احفاد کی تعلیم وتربیت کے بارے میں انفرادی تذکرہ کے لیے تو بیسیوں صفحات درکار ہیں کہ کس طرح اس اللہ تعالیٰ ے درویش نے اپنی شریک حیات کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اس نعمت کی قدر کی اور اسے علم وعمل کے زیور سے مرصع کیا۔ آپ کی ساری اولاد ماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، انتہائی متشرع اور دین کی علمبرداری کے لیے شب ورز کشاں رہتی ہے۔ چونکہ مولانا مرحوم کی ساری اولا د اندرون و بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہے ، لہذا وہ اپنے سادہ مزاج ، محنتی اور قناعت پسند ہونے کے باوصف سارے دینی امور "خالصتاََ لوجہ اللہ الکریم" انجام دیتے ہیں۔ بلکہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی پاکیزہ رقم کا وافر حصہ نیکی کو فروغ دینے اور رفاہی کاموں پر صرف کرتےہیں ۔ اس خوش نصیب گھرانے کی خوش بختی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت مولانا مرحوم کی ذریت میں تیس سے اوپر حفاظ قرآن ہیں ، جو سب کے سب رمضان المبارک کے مہینے میں کلام الہیٰ سے فضا کو بقعہ نور بنا دیتے ہیں، حضرت معاذ جھنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من قرا القرآن وعمل بما فيه البس والداه تاجا يوم القيامة ضوئه احسن من ضوء الشمس...الحديث (رواه احمد و ابو داؤد)

"جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوا تو اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک دمک سورج کو بھی ماند کر دےگی" (مسند احمد اور سنن ابی داؤد)

﴿فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَ‌بُّ الْعَرْ‌شِ الْكَرِ‌يمِ ﴿١١٦﴾...سورة المؤمنون
باوجود یکہ مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے نوازا تھااور اگر وہ چاہتے تو دنیوی مال ومتاع کا کافی حصہ جمع کر لیتے اور اس طرح علمی و سیاستی حلقوں میں بھی کافی شہرت بنا لیتے ، لیکن انہوں نے نمود و نمائش کی تمنا ہی نہیں کی، اور نہ ہی کبھی جماعتی سطح پر کسی عہدے وغیرہ کے حصول کی کوشش کی، یہی وجہ تھی کہ وہ جماعتی گروہ بندی اور افتراق و انتشار کے نقصانات اور تلخیوں سے پوری طرح محفوظ ومامون تھے اور ہر دیندار شخص اور مصلح انسان خواہ وہ مسلک اہلحدیث کا شیدائی ہو یا کسی دوسری دینی جمعت سے وابستگی رکھنے والا ہو، ان کی دل سے قدرو عزت کرتا، اسی طرح ان کی نظر میں بھی ہر نیک اور متشرع آدمی قابل احترام تھا۔ مزید برآن ضرورت سے زیادہ کسی بھی چیز کو سامان تعیش خیال کرتے ، اور ساری عمر اپنے بچوں کو بھی یہی سبق پڑھایا، حتی کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں جبکہ ان کی عمر ستر سال سے متجاوز تھی، وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتے اور کوئی بھی کام کرنا ہوتا تو بغیر کسی تاخیر اور سوچ بچار کے سائیکل پکڑتے اور گاڑیاں بھگانے والوں سے کہیں پہلے وہ کام کر کے واپس بھی آجاتے، لاہور شہر میں کوئی بھی ذاتی کام ہوتا تو اکثر اپنی سائیکل ہی استعمال کرتے ، آپ بلاشک و شبہ اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مصداق تھے:

ان الله يحب العبد التقي الغني الخفي.

" بے شک اللہ تعالیٰ پرہیز گار، آسودہ حال اور چھپ کر رہنے والے بندے کو پسند کرتا ہے" (صحیح مسلم)

اصحاب علم وفضل اور اہل قلم حضرات آپ کو قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ہر باشعور اور دانشور کے دل میں آپ کے لیے عزت و احترام کے جذبات موجزن تھے اور ایسا کیوں نہ ہوتا ، آپ نے کبھی بھول کر بھی اپنے یا بیگانے کو ہاتھ یا زبان سے ایذا نہیں دی۔ آپ کا قلم اور زبان ہمیشہ غلط بات کی تردید کی حد میں رہے۔ آپ کی تصانیف و تالیفات اور مضامین کا کافی حصہ عصر حاضر میں جنم لینے والے باطل افکار و نظریات کے رد میں ہے۔ لیکن مولانا مرحوم ک یہ سارا مواد اس بات پر شاہد ہےکہ انہوں نے ہمیشہ اپنی تنقید کا ہدف انہی باطل اور فاسد خیالات و متعقدات کو ہی بنایا، اس سے آگے بڑھتے ہوئے کبھی ذاتیات کو اپنا نشانہ یا موضوع بحث نہیں بنایا، کیا ہی خوش نصیب ہیں وہ لوگو جن کی زندگی عیوب ونقائص سے اس قدر مبرا اور اوصاف حمیدہ و اخلاق عالیہ سے اس قدر مزین ہوتی ہے! اور کسی قدرمبارک اور پاکیزہ زندگی ہےایسے لوگوں کی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ (اس مستعار) زندگی کو صرف اسی کی ہی اطاعت و فرمانبرداری میں کھپا دیتے ہیں اوردنیا میں انہیں جو کچھ حاصل ہوا، اسی پر قناعت کرتے ہوئے اسی حقیقی منعم کا شکر بجا لاتے ہیں" سچ ہے جو کہ الصادق والمصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قد افلح من اسلم ورزق كفافا وقنعه الله بما اتاه (رواه مسلم)

"بے شک نجات پا گیا وہ شخص جو مطیع ہوا او ر اسے بقدر ضرورت رزق دیا گیا ہو اور جتنا اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہو اس پر قناعت کرنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہو"

مولانا مرحوم کی زندگی کے وہ سنہری اصول جو کسی بھی انسان کی زندگی کو قیمتی تر اور با مقصد بنانے کے لیے روشنتی کا مینار ثابت ہو سکتے ہیں: وقت کی پابندی، نظم وضبط، کسب حلال، اخلاص، صلہ رحمی، تقویٰ و پرہیز گاری، قناعت، صبر وشکر ، عز، وہمت، محنت ومشتقت اور احساس ذمہ داری ہیں اور یقیناََ انہیں اصولوں پر دنیا و آخرت میں انسان کی کامیابی و کامرانی کا انحصار ہے اور ان خصوصیات کا عامل شخص اپنی زندگی میں بڑے سے بڑا انقلاب بپا کر سکتا ہے جو کہ ایک بڑی جماعت بھی مل کر بپا نہیں کر سکتی۔

مولانا مرحوم نے ایک مختصر عرصے میں زندگی کے مختلف گوشوں میں اتنا کام کر دکھایا کہ ایک آدمی اس کا تصور نہیں کر سکتا ، تصنیف و تالیف کا زیادہ تر کام انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں کیا اور اس محدود مدت میں جتنی کتابیں اور لٹریچر ان کے نام پر شائع ہوا، ایک آدمی بمشکل ہی اسے اٹھا سکتا ہے، اور پھر اس طرفہ پر طرہ یہ کہ ان کے منتخب کردہ کتاب یا مضمون کا موضوع عام موضوعات سے ہٹ کر خاصا پیچیدہ اور علمی ہوتا ۔ مثال کے طور پر آپ ،کی تالیف کردہ کتابیں "القمس والقمر بحسان" "مترادفات القرآن" ، "آئینہ پرویزیت" ، "روح، عذاب قبر اور سماع موتی" وغیرہ اپنے موضوع اور سلوب کے اعتبار سے منفرد اور افادیت کی حامل کتابیں ہیں۔ کسی ایک ہی شخص سے اس قدر متنوع موضاعات اور اسالیب پر مبنی کتابوں کی اشاعت ایک حیران کن امر ہے۔ لیکن یہ اللہ کا وہ فضل خاصل ہے جس سے وہ اپنے مقرب بندوں کو سرفراز فرماتا ہے۔

ان جیسی ہسیتوں کا اللہ تعالیٰ کی زمین پر جنم لینا کوئی بہت زیادہ حیرت انگیز بات بھی نہیں ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہیں اپنے دین کے احیاء کے لیے چن لیں اور پھر جسے وہ منتخب فرما لیتے ہیں ان کے لیے یہ بشارت بھی دے دی:

﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا وَقَالَ إِنَّنِى مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ﴿33﴾...حم سجدة

" اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہو سکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں" (ْ :)

انہی صفات اور محامد و محاسن کی حامل ہستیوں کے بارے میں کہنے والا یوں رطب اللسان ہے:

ھم الرجال المصابیع الدین ھم

کانھم من نجوم حیۃ صنعوا

اخلاقھم نورھم من ای ناحیة

اقبلیت تنظر فی اخلاقھم سطموا

مختصر یہ کہ مولانا مرحوم نے پاکیزہ اور قابل رشک زندگی گزاری اور اپنے بعد والوں کے لیے قدوہ ثابت ہوئے جبکہ آپ کی وفات بھی قابل رشک ہے کہ ان کے سفر آخرت کا آغاز اس حالت میں ہوا جب بندہ اپنے معبود حقیقی کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ نماز جو کہ ارکان دین میں سب سے افضل اور اہم رکن اور بندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث قدسی میں ارشاد ہوا ہے:

ما تقرب الي عبدي بمثل ازاء ما افترضت عليه' ولا يزال عبدي يترقب الي بالنوافل حتي احبه (صحيح بخاري)

" کہ میرا بندہ جن چیزوں سے میرا تقرب حاصل کرتا ہے ، ان میں سب سے محبوب چیز وہ فرض ہے جو وہ ادا کرتا ہے، وہ ہمیشہ بندگی کے ذریعے میرے قرب کی جستجو کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں"

جب نفلی عبادت کا مقام اور مرتبہ اتنا زیادہ ہے تو پھر فرض نماز کی ادائیگی کے وقت بندہ کا بحالت سجدہ اپنے حقیقی مسجود ومعبود سے ملاقات کرنا کسی قدر باعث سعادت و مستوجب رضائے الہیٰ ہے، جبکہ اس ذات باری تعالیٰ نے خود فرمایا(وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِ‌ب)

"اور سجدہ کر اور قرب خدا حاصل کر" اور پھر "مسجد" جو کہ اللہ تعالیٰ کا گھر اور روئے زمین میں تمام جگہوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بابرکت اور محبوب جگہ ہےل، جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

احب البلاد الی اللہ مساجدھا وابغض البلاد الی اللہ اسواقھا.

" اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب جگہیں مساجد ہیں او سب سے ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں " (صحیح مسلم، کتاب المساجد وامواضع الصلاۃ )

نیز حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اراد گرامی ہے:

يبعث كل عبد علي ما مات عليه.

" کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت پر اس نے دار آخرت کی طرف کوچ کیا ہو گا" (صحیح مسلم)

تو اس سے بڑھ کر ایک انسان کے لیے خوش بختی کیا ہو سکتی ہے کہ وہ حساب و کتاب کےدن اپنے رب کے حضور اس کی کبریائی اور جلالت کا اعتراف کرتے ہوئے اور اس کی الوہیت و حدانیت کا بالفعل اظہار کرتے ہوئے سجدہ کی حالت میں حاضری دے، اور پھر فرض نماز میں صف اول میں اور دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضلیت اور درجہ بھی بہت زیادہ ہے۔ جس کی بابت حامل وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: خير صفوف الرجل اولها و شرها آخرها...الحديث (صحيح مسلم' كتاب الصلاة)

غرضیکہ ان تمام سعادتوں سے پروردگار عالم نے اپنے اس بندے کو نوازا جو کہ ایک مومن کے لیے آخرت میں فلاح و فوز کا موجب ہو سکتی ہیں ، وہ فی الواقع اپنی ذات میں پوری ایک جماعت تھے۔ سیاسی کشمکش اور جماعتی توڑ پھوڑ سے کوسوں دور رہنے والی یہ شخصیت داد تحسین کی مستحق ہے کہ باجود یکہ اپنے دائرہ کار سے باہر کی دنیا سے انہیں مطلق دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن ملکی سیاست ، حکومتی پالیسیوں اور جماعتی سرگرمیون پر ایک ہی وقت میں گہری نظر رکھتے تھے۔ گوہا اس پہلو سے بھی ان کی ذات دا غادر نہیں ہوئی کہ انہوں نے ایک خاص اور محدود سرکل میں گوشہ نشین ہو کر خانقاہی انداز پر اپنی زندگی گزار دی ہو، بلکہ وہ ہر طبقہ کے لوگوں کے ساتھ انہی کے انداز اور طور طریقوں کے مطابق برتاؤ رکھنے والی ہر دلعزیز ہستی تھے۔ جس کا مشاہدہ ان کے سفر آخرت کے دن ہوا جب خلق خدا کا یاک جم غفیر اپنی پرنم آنکھوں سے اس "نابقہ عصر" کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہا تھا اور زمانہ زبان حال سے یوں گویا تھا:

یہ کیا دست اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے

کہ چمن سے پھول توڑنا اور ویرانے میں رکھ دینا

جبکہ خود راقم اس مسافر کے اپنے پیچھے چھوڑ جانے والے شنگان علم کو داغ مفارقت دینےپر انتہائی غمزدہ بھی تھا اور حسرت بھری نگاہوں سے یہ سارا منظر بھی ملاحظہ کر رہا تھا۔ اور زبان پر یہ الفاظ تھے:

ذھب الرجال المقتدی بقعالھم

والمنکرون لکل امر منکر

و بقیت فی خلف یزکی بعضھم بعضا

لیدفع معور عن معور