ابھی استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود صاحب محدث جلال پور پیروالہ رحمة اللہ علیہ کی جدائی کا غم تازہ ہی تھا کہ اچانک مورخہ 8-جنوری بروز پیر برادر مکرم الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے فون پر اطلاع دی کہ شیخ العرب والعجم زبدة المحدثین العالم الربانی اور دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی، طیب اللہ ثراہ وجعل الجنة منواہ، بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ انا لله وانا اليه راجعون
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خاموش

یہ اندوہناک خبر قلب و دماغ پر بجلی بن کر گری، قحط الرجال کے اس دور میں ایسی نابغہ روزگار اور فرید العصر ہستی کا دنیا سے چلے جانا، علم اور اہل علم کے لئے کسی بہت بڑی مصیبت سے کم نہیں اور سچ کہ "موت العالم موت العالم" مدتوں بعد ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ جن کے علم کے عیال ہوتے ہیں۔ علماء کے اٹھنے سے ہی علم اٹھ جاتا ہے۔ نبی رحمت سید الاولین والاخرین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی "ولكن يقبض العلم بقبض العلماء" محراب و منبر اور مسند تدریس پہ اداسی چھا جاتی ہے اور محافل علم ویران ہو جاتی ہیں۔

السید الراشدی صاحب رحمة اللہ علیہ اس علمی خاندان کے چشم و چراغ اور قابل فخر فرزند تھے کہ جنہوں نے سرزمین سندھ میں توحید و سنت کی شمع فروزاں کی۔ جس کی روشنی سے نہ صرف سندھ بلکہ پورے عالم نے رہنمائی حاصل کی۔ حضرت پیر والا صاحب کے والد ماجد السید احسان اللہ الراشدی رحمة اللہ علیہ اور برادر کبیر جناب سید محب اللہ شاہ رحمة اللہ علیہ صاحب بھی اپنے دور کی نادرہ روزگار شخصیات تھیں جنہوں نے پوری زندگیاں خدمت دین حنیف میں گزار دیں۔رحمهما الله رحمه واسعة

حضرت پیر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا۔ وہ ایک ہی وقت میں محدث بھی تھے، فقیہ بھی تھے۔ محقق بھی تھے اور خطیب بھی۔ مدرس بھی تھے اور مبلغ بھی، شارح بھی تھے اور مفسر بھی، مناظر بھی تھے اور علوم الحدیث کے ماہر بھی۔ بلکہ وہ عالم اسلام کی ان چیدہ چیدہ شخصیات میں سے ایک تھے کہ جنہیں اللہ رب العزت نے علم الرجال اور معرفة علل الحدیث میں ید طولیٰ عطا فرمایا تھا۔ وہ کتاب اللہ کے حافظ اور شب زندہ دار بھی تھے۔ وہ اپنے دور کے مرجع خلائق تھے۔ پوری دنیا میں ان کے تلامذہ کثیر تعداد میں موجود ہیں جو کہ ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔ ان کی یادگار، ان کا علمی مکتبہ جس میں لاکھوں علمی کتب اور سینکڑوں مخطوطات و مصورات موجود ہیں، پاکستان میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بہت سے علمی موضوعات پر قلم اٹھایا اور عربی، اردو اور سندھی میں کئی کتب تصانیف فرمائیں۔ وہ ساری عمر کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے خدمت گزار، راہی ملک بقا ہوئے۔ تقبل الله منه قبولا حسنا و تغمده برحمته وهو شاكر عليم

موت چونکہ ایک اٹل حقیقت ہے جس سے نہ انکار ہے، نہ فرار۔ اور یہ نزول و ارتحال کا سلسلہ شروع سے ہی چلا آ رہا ہے اس لئے قانون فطرت کے سامنے سبھی بے بس ہیں۔ وگرنہ یہ وہ صدمے ہیں جو بھلائے نہیں جس سکتے۔ عام آدمی کی موت سے صرف افراد خانہ اور رشتہ دار متاثر ہوتے ہیں لیکن ایک عالم دین کی موت سے ایک عالم متاثر ہوتا ہے
ماكان قيس هلكه كلك واحد
ولكنه بنان قوم نهدما

پورے عالم اسلام کی طرح کویت میں موجود تمام احباب اور بالخصوص علمی حلقوں میں اس صدمے کو شدت سے محسوس کیا گیا۔ لحبة دعوة الجالیات کی طرف سے مختلف مساجد میں نماز جمعہ کے بعد حضرت شاہ صاحب کے غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا اور اسی روز نماز مغرب کے بعد مسجد شائع، کویت میں مرکزی طور پر غائبانہ نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔ نماز جنازہ سے قبل برادر عزیزی الشیخ عبدالخالق محمد صادق صاحب اور فضیلة الشیخ صلاح الدین صاحب نے حضرت شاہ صاحب کی علمی و دینی خدمات ذکر کیں۔ اور بعد میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ غفرالله له واسكه فسبح جناته آمين!

راقم الحروف اور جملہ احباب حضرت شاہ صاحب کے پسماندگان اور احباب جماعت کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت پیر صاحب کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ہمیں، تمام پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور ان کے خلف الرشید بنائے۔ آمین!
عارف جاوید محمدی و حافظ اسحاق زاہد
وجملہ احباب جماعت اہلحدیث کویت