میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

نور اور ظلمت کے اختلاط کو عربی لغت میں "الدلس" کہتے ہیں (نخبة الفكر ص71 وغيره) اور اس سے دلس کا لفظ نکلا ہے جس کا مطلب ہے:

كتم عيب السلعة عن المشتري

"اس نے اپنے مال کا عیب گاہک سے چھپایا" (المعجم الوسيط ج١ص2293،و عام کتب لغت)

اس سے "تدلیس" کا لفظ مشتق ہے جس کا معنی ہے "اپنے سامان کے عیب کو خریدار سے چھپانا" دیکھئے القاموس المحيط ص703،المختار من صحاح اللغة للجوهري ص163 اور لسان العرب ج٦ ص86 وغيره۔ تدلیس کی دو قسمیں ہیں: تدلیس في المتن أور تدلیس في الإسناد

تدلیس فی المتن کو "توریہ" بھی کہا جاتا ہے۔ حالت اضطرار میں عزت اور جان وغیرہ بچانے کے لئے "توریہ" جائز ہے۔ مثلا امام سلیمان بن مہران الاعمش رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

رأيت عبدالرحمن بن أبي ليلي وقد أوقفه الحجاج وقال له: ألعن الكذابين علي بن أبي طالب وعبدالله بن الزبير والمختار بن أبي عبيد قال: فقال عبدالرحمن: لعن الله الكذابين ثم ابتدا فقال: علي بن أبي طالب و عبدالله بن الزبير المختار بن أبي عبيد، قال الأعمش: فعلمت أنه حين ابتدا فرفعهم لم يعنهم۔

"میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ آپ کو حجاج بن یوسف نے کھڑا کر کے کہا: جھوٹوں پر لعنت کرو، علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن الزبیر اور مختار بن ابی عبید پر۔ تو عبدالرحمٰن نے کہا: جھوٹوں پر اللہ لعنت کرے (اور) علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن الزبیر اور مختار بن ابی عبید۔

اعمش رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ انہوں (عبدالرحمٰن) نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کے ناموں سے ابتداء کی تو انہیں (منصوب کے بجائے) مرفوع بیان کیا تو میں جان گیا کہ ان (عبدالرحمٰن) کی مراد یہ اشخاص نہیں تھے۔"(طبقات ابن سعد ج6 ص112-113 واسناده صحيح)

"تدليس في الإسناد" کا مفہوم اہل حدیث کی اصطلاح میں درج ذیل ہے:

"اگر راوی اپنے اس استاد سے (جس سے اس کا سماع ، ملاقات اور معاصرت ثابت ہے) وہ روایت (عن، قال وغیرہ کے الفاظ کے ساتھ) کرے جو اس نے کسی دوسرے شخص سے سنی ہے اور سامعین کو یہ احتمال ہو کہ اس نے یہ حدیث اپنے استاد سے سنی ہو گی تو اسے تدلیس کہا جاتا ہے۔ دیکھئے علوم الحديث لابن الصلاح رحمة الله عليه ص95،اختصار لابن كثير رحمة الله عليه ص50-51 وغيره)

تدلیس فی الاسناد کی سات اقسام زیادہ مشہور ہیں:

(1)تدلیس الاسناد

اس میں راوی اپنے استاد کو حذف کرتا ہے۔ مثلا امام العباس بن محمد الدوری رحمة اللہ علیہ نے کہا:

نا أبو عاصم عن سفيان عن عاصم عن أبي رزين عن ابن عباس في المرتده ترتد قال: تستحيا.... وقال أبو عاصم: نري ان سفيان الثوري إنما دلسه عن أبي حنيفة فكتبتهما جمعيا۔

"ہمیں ابو عاصم نے عن سفیان عن عاصم عن ابی رزین عن ابن عباس ایک حدیث مرتدہ کے بارے میں بیان کی کہ وہ زندہ رکھی جائے گی۔ ابو عاصم نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے اس حدیث میں ابوحنیفہ سے تدلیس کی ہے۔ لہذا میں نے دونوں سندیں لکھ دی ہیں" (سنن دارقطني ج٣ ص201 واسناده صحيح الي الدوري)

مصنف عبدالرزاق (ج10 ص177ح18731) سنن دارقطنی (ج3 ص201) وغیرھما میں "ثوری عن عاصم عن ابی رزین عن ابن عباس" کی سند کے ساتھ یہ روایت مطولا موجود ہے۔

ابو عاصم رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں:

بلغني أن سفيان سمعه من أبي حنيفة أو بلغه عن أبي حنيفة۔

"مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ اسے سفیان نے ابوحنیفہ سے سنا ہے یا انہیں یہ ابوحنیفہ سے پہنچی ہے" (كتاب المعرفة والتاريخ الامام يعقوب بن سفيان الفارسي ج٣ ص14)

امام ابو عاصم رحمة اللہ علیہ کے قول کی تصدیق امام سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کے دوسرے شاگرد عبدالرحمٰن بن مہدی رحمة اللہ علیہ کے قول سے بھی معلوم ہوتی ہے:

سألت سفيان عن حديث عاصم في المرتده فقال أما من ثقه فلا۔

"میں نے سفیان سے عاصم کی مرتدہ کے بارے میں حدیث کا سوال کیا (کہ کس سے سنی ہے) تو انہوں نے کہا۔ یہ روایت ثقہ سے نہیں ہے"

اس سند کے ایک راوی امام ابن ابی خیثمہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وكان أبوحنيفة يروي حديث المرتده عن عاصم الأحول۔

"مرتدہ والی حدیث کو (امام) ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ، عاصم (الاحوال) سے بیان کرتے تھے" (الانتقاء لابن عبدالبر ص148،149 واسناده صحيح)

یہ روایت مختلف طرق کے ساتھ درج ذیل کتابوں میں بھی مروی ہے:

المعرفة والتاريخ (ج٣ص14) الضعفاء للعقيلي (ج٤ ص284) الكامل لابن عدي (ج٧ ص2472) السنن الكبريٰ للبيهقي (ج8 ص203) تاريخ بغداد للخطيب (ج13 ص446) معرفة الطل والرجال لعبدالله بن احمد بن حنبل عن ابيه (ج2ص143)

اہل الحدیث اور فن حدیث کے امام یحییٰ بن معین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

كان الثوري يعيب على أبي حنيفة حديثا كان يرويه ولم يروه غير أبي حنيفة عن عاصم عن أبي رزين۔

"(امام) ثوری رحمة اللہ علیہ ، (امام) ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ پر ان کی بیان کردہ ایک حدیث (عن عاصم عن ابی رزین) کی وجہ سے نکتہ چینی کرتے تھے جو (امام) ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے سوا کسی شخص نے بھی بیان نہیں کی۔" (سنن دارقطنی ج3 ص200، واسناده صحيح)

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کی عاصم سے یہ روایت سنن دارقطنی (ص201)، کامل لابن عدی (ج7 ص2472، سنن للبیہقی، (ج8 ص203) وغیرہ میں موجود ہے اور اسی کی طرف امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے بھی کتاب الام (ج6 ص167) میں اشارہ کیا ہے۔

کامل لابن عدی رحمة اللہ علیہ میں یحییٰ بن معین رحمة اللہ علیہ کا یہی قول درج ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ:

فلما خرج إلى يمن دلسه عن عاصم (ص2472،ج7)

"جب (سفیان رحمة اللہ علیہ) یمن کی طرف گئے تو آپ نے اسے عاصم رحمة اللہ علیہ سے بطور تدلیس بیان کیا"

ایک روایت میں " سفيان عن رجل عن عاصم بن بهدلة" الخ ہے اور ایک میں "سفيان قال ثنا النعمان عن عاصم" الخ ہے۔

مختصر یہ کہ اس روایت میں سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کا تدلیس کرنا بالکل صحیح ثابت ہے اسے اور اس جیسی تمام مثالوں کو تدلیس الاسناد (اسناد کی تدلیس) کہا جاتا ہے۔

(2)تدلیس القطع

اس میں صیغہ کو حذف کر دیا جاتا ہے مثلا راوی کہتا ہے: "الزھری......الخ" (دیکھئے الكفاية للخطيب ص359 تعريف اهل التقديس ص25 وغيره)

(3) تدلیس العطف

اس میں راوی دو یا زیادہ اسناد سے روایت بیان کرتا ہے جبکہ صرف ایک سے سنا ہوتا ہے: مثلا امام ہثیم بن بشیر رحمة اللہ علیہ نے کہا: حدثنا حصين و مغيره....الخ

جب آپ بیان کرنے سے فارغ ہوئے تو کہا : هل دلست لكم اليوم؟ کیا میں نے آج آپ (کے روایت) کے لئے کوئی تدلیس کی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو ہثیم رحمة اللہ علیہ نے کہا: میں نے جو کچھ ذکر کیا ہے، اس میں مغیرہ رحمة اللہ علیہ سے ایک حرف بھی نہیں سنا ہے....الخ (دیکھئے معرفة علوم الحديث للحاكم ص105)

اس روایت کی سند تو معلوم نہ ہو سکی۔ تاہم حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے اسے بطور استدلال ذکر کیا ہے۔ (النكت علي ابن الصلاح ج٢ ص617)

(4) تدلیس السکوت

اس میں راوی حدثنا وغیرہ الفاظ کہہ کر سکوت کرتا ہے اور دل میں اپنے شیخ کا نام لیتا ہے پھر آگے روایت بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ فعل عمر بن عبید الطنافسی سے مروی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ اسے تدلیس القطع کہتے ہیں۔ (النکت ص617 ج2)

(5) تدلیس التسوية

اس میں راوی اپنے شیخ سے اوپر کے کسی ضعیف وغیرہ راوی کو گراتا ہے۔ مثلا

ایک روایت ہے جسے یحییٰ بن سعید الانصاری نے "عن واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ عن نافع بن جبير عن مسعود بن الحكم عن علي" روایت کیا ہے (صحیح مسلم ج1 ص310 کتاب الجنائز) اسے سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ نے "عن يحيي بن سعيد عن نافع بن جبير عن علي" روایت کیا ہے۔ (العلل الواردة في الاحاديث النبوية للدارقطني ج٤ ص128 س466)

اس میں دو ثقہ راویوں کو گریا گیا ہے۔ ولید بن مسلم (ثقه من رجال السنة) وغیرہ یہ تدلیس کرتے تھے۔ دیکھئے تہذیب التہذیب (ج11 ص135 ت 254) وغیرہ۔

(6) تدلیس الشیوخ

اس میں راوی اپنے شیخ کا وہ نام، لقب یا کنیت وغیرہ ذکر کرتا ہے جس سے عام لوگ ناواقف ہوتے ہیں۔ مثلا بقیة بن الولید رحمة اللہ علیہ نے کہا: "حدثني ابووهب الاسدي"الخ (الكفاية للخطيب ص364،علل الحديث لابن ابي حاتم ج2ص154ح1987)

ابو وھب الاسدی سے مراعبید اللہ بن عمرو ہے۔

(7)تدلیس القوم

اس میں راوی ایسا واقعہ بطور سماع وغیرہ بیان کرتا ہے جس واقعہ میں اس کی شمولیت قطعا نا ممکن ہے۔ مثلا حسن بصری رحمة اللہ علیہ نے کہا: "خطبنا ابن عباس بالبصرة" ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا۔ (تہذیب التہذیب ج2 ص233ت488)

یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہماری قوم یا شہر کے لوگوں کو بصرہ میں خطبہ دیا تھا۔

تدلیس اور فن تدلیس کا ذکر تمام "کتب اصول حدیث" میں ہے۔ بہت سے علماء نے اس فن میں متعدد کتابیں، رسالے اور منظوم قصائد بھی تصنیف کئے ہیں۔ مثلا

(1)حسین بن علی الکرابیسی رحمة اللہ علیہ کی کتاب "اسماء المدلسین"

(2)امام نسائی رحمة اللہ علیہ

(3)امام دارقطنی (بحوالہ النکت علی ابن الصلاح ص650 ج2، وغیرہ)

(4) حافظ الذھبی رحمة اللہ علیہ کا ارجوزة

(5) ابو محمود المقدسی رحمة اللہ علیہ کا قصیدہ

(6) حافظ العلائی رحمة اللہ علیہ کی کتاب جامع التحصیل فی احکام المراسیل (ص97 تا ص124)

(7) حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ کی طبقات المدلسین

(8) حافظ سیوطی رحمة اللہ علیہ کی اسماء المدلسین

(9) البسط رحمة اللہ علیہ بن العجمی کی التبيين لاسماء المدلسين

(10) معاصر شیخ حماد بن محمد الانصاری کی (اتحاف ذوي الرسوخ بمن رمي بالتدليس من الشيوخ)

مگر افسوس کہ محدثین (كثر الله أمثالهم) کی یہ تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ کراچی میں ایک "محدث" ظاہر ہوا ہے جس کا نام "مسعود احمد بی ایس سی" ہے۔ یہ شخص 1395ھ میں اپنی بنائی ہوئی "جماعت المسلمین" کا امیر ہے۔ اس کا عقیدہ ہے کہ "محدثین تو گزر گئے، اب تو وہ لوگ رہ گئے ہیں جو ان کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں" (الجماعة القديمة بجواب الفرقة الجديدة ص29)

اس پر تعاقب کرتے ہوئے ابوجابر عبداللہ دامانوی صاحب لکھتے ہیں:

"گویا موصوف (یعنی مسعود صاحب) کہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ اسی طرح محدثین کا سلسلہ بھی کسی خاص محدث پر ختم ہو چکا ہے اور اب قیامت تک کوئی محدث پیدا نہیں ہو گا اور اب جو بھی آئے گا، وہ صرف ناقل ہی ہو گا۔ جس طرح کچھ لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا، تو کسی نے بارہ اماموں کے بعد ائمہ کا سلسلہ ختم کر دیا۔ موصوف کا خیال ہو گا کہ اسی طرح محدثین کی آمد کا سلسلہ بھی اب ختم ہو چکا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے کسی دلیل کا ذکر نہیں کیا۔" اقوال الرجال" تو ویسے ہی موصوف کی نگاہ میں قابل التفات نہیں ہیں۔ البتہ اپنے ہی قول کو انہوں نے اس سلسلہ میں حجت مانا ہے۔ حالانکہ جو لوگ بھی فن حدیث کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے ہیں، ان کا شمار محدثین ہی کے زمرے میں ہوتا ہے" (الجماعة الجديده بجواب الجماعة القديمة ص55)

اس شخص (مسود احمد) نے نماز، زکوة، حج ، روزہ ، تفسیر، تاریخ وغیرہ میں عام مسلمانوں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد اصول حدیث میں بھی ایک رسالہ شائع کیا ہے تاکہ فرقہ مسعودیہ (جماعت المسلمین رجسٹرڈ) کا لٹریچر ہر لحاظ سے مسلمانوں سے الگ رہے۔ اس رسالہ کے ص13 پر "تدلیس" کی بحث چھیڑتے ہوئے ہر مدلس راوی کو اپنی "جماعت المسلمین" سے خارج کر دیا ہے۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ کتب رجال اور طبقات المدلسین میں جتنے مدلس راویوں کا ذکر ہے، وہ مسعود صاحب کی 1395 ھ میں بنائی ہوئی "جماعت المسلمین رجسٹرڈ" سے صدیوں پہلے اس فانی دنیا کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ لہذا وہ اب مسعود صاحب کے رجسٹروں میں خروج یا دخول کے محتاج نہیں ہیں۔

مسعود صاحب لکھتے ہیں:

"مدلس راوی نے خواہ وہ امام یا محدث ہی کیوں نہ کہلاتا ہو، اپنے استاد کا نام چھپا کر اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ الامان والحفیظ... اس نام نہاد امام یا محدث کو دھوکے باز کذاب کہا جائے گا۔ علماء اب تک اس راوی کی وجہ سے جس کا نام چھپایا گیا، مدلس کی روایت کو ضعیف سمجھتے رہے۔ لیکن اس دھوکے باز کذاب کو امام یا محدث ہی کہتے رہے۔ انہوں نے کبھی یہ سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں یا ان سے کیا کہلوایا جا رہا ہے؟ افسوس تقلید نے انہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا" (اصول حدیث ص13،14)

یعنی مدلس راویوں کی مضعن روایات کو صرف ضعیف سمجھنے والے اور مصرح بالسماع روایات کو صحیح سمجھنےوالے تمام امام مقلد تھے۔ مثلا یحییٰ بن معین رحمة اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اور ابوحاتم رازی رحمة اللہ علیہ وغیرہم

مسعود صاحب مزید لکھتے ہیں:

"تلاش حق میں اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ تقلید شرک ہے" (التحقیق فی جواب التقلید ص4،5 مطبوعہ (1406ھ)

اور اسی کتاب میں مقلد پر (فاران ص11کے) الفاظ فٹ کرتے ہیں کہ:

"وہ یقینا دائرہ اسلام سے خارج ہے" (التحقیق ص23) نیز دیکھئے ص11وغیرہ۔

لہذا اس مسعودی اصول پر ثابت ہوا کہ یہ تمام محدثین مشرک تھے (معاذاللہ)

مسعود صاحب مدلسین کو مشرک قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"علماء پر تعجب ہے کہ ایسے دھوکے باز، مشرک کو امام مانتے ہیں... ایسا ہونا تو نہیں چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہوا ہے" (اصول حدیث ص14)

امیر "جماعت المسلمین رجسٹرڈ " صاحب مزید فرماتے ہیں:

"مندرجہ بالا مباحث سے ثابت ہوا کہ فن تدلیس بے حقیقت فن ہے... لہذا تدلیس کا فن کچھ نہیں، بالکل بے حقیقت ہے" (ص15،16)

اسی رسالے کے ص16،17 پر امام حسن بصری رحمة اللہ علیہ، امام الولید رحمة اللہ علیہ بن مسلم، امام سلیمان رحمة اللہ علیہ الاعمش، امام سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ، امام سفیان رحمة اللہ علیہ بن عیینہ، امام قتادہ رحمة اللہ علیہ، امام محمد رحمة اللہ علیہ بن اسحٰق بن یسار اور امام عبدالملک رحمة اللہ علیہ بن جریج وغیرہم کو ذکر کر کے مسعود صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:

"ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی امام مدلس نہیں" (ص17)

اور فرماتے ہیں:

"کسی مدلس کے متعلق یہ کہنا کہ اگر وہ "حدثنا" کہہ کر حدیث روایت کرے تو اس کی بیان کردہ حدیث صحیح ہو گی۔ یہ اصول صحیح نہیں، اس لئے کہ مدلس راوی کذاب ہوتا ہے۔ لہذا وہ "عن" سے روایت کرے یا "حدثنا" سے روایت کرے، وہ کذاب ہی رہے گا۔ اس کی بیان کردہ حدیث ضعیف بلکہ موضوع ہو گی یعنی مدلس راوی کا "عنعنہ" صحیح ہے اور نہ "تحدیث" (اصول حدیث ص18)

مسعود احمد بی ایس سی صاحب پر مفصل رد تو آگے آ رہا ہے۔ تاہم سب سے پہلے ان کے اس قول کہ "ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی امام مدلس نہیں" پر مختصر رد پیش خدمت ہے:

بعض مدلسین کا تذکرہ

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمة اللہ علیہ ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"روي همام عن قتاده عن ابي نضرة عن ابي سعيد رضي الله عنه.... ولم يذكر قتاده سماعا من ابي نضرة في هذا"

"ھمام نے قتادہ عن ابی نضرة عن ابی سعید رضی اللہ عنہ ایک روایت بیان کی... اور قتادہ نے ابو نضرہ سے اس روایت میں اپنے سماع کا تذکرہ نہیں کیا۔" (جزء القراءة ص30ح70 باب هل يقرا باكثر من تاتحة الكتاب خلف الامام)

امیر المومنین رحمة اللہ علیہ اپنی الجامع الصحیح میں قتادہ کی مصرح بالسماع یا "شعبة عن قتادہ"... والی روایت کو لاتے ہیں (دیکھئے صحیح بخاری ج1 ص11 وغیرہ)

ان کی اس عادت کی طرف حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے کئی مقامات پر اشارہ کیا ہے: مثلا فتح الباری (ج1 ص104، 105ح44 باب زیادہ الایمان و نقصبانه)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمة اللہ علیہ کے نزدیک قتادہ کی "تصریح سماع" کی کیوں ضرورت ہے؟

(1)امام قتادہ بن دعامہ بصری رحمة اللہ علیہ

آپ"صحاح ستہ" کے مرکزی راوی اور ثقہ امام تھے۔

حافظ ابن حبان رحمة اللہ علیہ انہیں اپنی کتاب الثقات (ج5ص322) میں ذکر کر کے لکھتے ہیں" وكان مدلسا" (اور آپ مدلس تھے)

امام نسائی رحمة اللہ علیہ نے آپ کو مدلس قرار دیا۔ (سیر اعلام النبلاء ج7 ص74)

امام حاکم رحمة اللہ علیہ نے کہا: قتادة علي علو قدره يدلس (المستدرك ج١ ص233)

امام ذھبی رحمة اللہ علیہ نے کہا: حافظ ثقة ثبت لكنه مدلس (ميزان الاعتدال ج٢ ص385)

امام دارقطنی رحمة اللہ علیہ نے بھی قتادہ کو مدلس قرار دیا۔ (الالزامات والتتبع للدارقطنی ص263)

ان کے علاوہ درج ذیل ائمہ نے امام قتادہ رحمة اللہ علیہ کو مدلس قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ (طبقات المدلسین)، علامہ الحلبی رحمة اللہ علیہ (التببین)، ابو محمود المقدسی رحمة اللہ علیہ، حافظ العلائی رحمة اللہ علیہ، حافظ الخزرجی رحمة اللہ علیہ، امام ابن الصلاح رحمة اللہ علیہ، تقی الدین رحمة اللہ علیہ، ابن مفلس رحمة اللہ علیہ، ماردینی رحمة اللہ علیہ، العینی رحمة اللہ علیہ، نووی رحمة اللہ علیہ، ابن عبدالبر رحمة اللہ علیہ، وغیرہم (دیکھئے توضیح الکلام ج2 ص283 تا ص296 مصنف: ارشاد الحق اثری)

اس سلسلہ میں حافظ ابن حزم رحمة اللہ علیہ نے جمہور کے خلاف جو کچھ لکھا ہے (الاحکام ج2 ص141،142، توجیہ النظر للجزائری ص251) وہ مردود ہے۔ حافظ ابن حزم رحمة اللہ علیہ کا اپنا مسلک یہ ہے کہ ثقہ مدلس کی "عن" والی روایت کو رد اور تصریح سماع والی روایت کو قبول کرتے ہیں جیسا کہ آگے ابو الزبیر کے تذکرہ میں آ رہا ہے۔ (ص22)

یحییٰؒ بن کثیر العنبری کہتے ہیں:

نا شعبة عن قتاده عن سعيد بن جبير عن ابن عمرأن النبي صلي الله عليه وسلم نهي عن نبيذ الجر قال شعبة فقلت لقتاده: ممن سمعته؟ قال: حدثنيه أيوب السختياني، قال شعبة: فأتيت أيوب فسالته فقال: حدثنيه أبو بشر، قال شعبة: فأتيت أبابشر فسألته فقال أنا سمعت سعيد بن جبير عن ابن عمر عن النبي صلي الله عليه وسلم أنه نهى عن نبيذ الجر۔

"ہمیں شعبہ نے قتادہ سے عن سعید بن جبیر عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز ٹھلیا کی نبیذ سے منع کیا۔

شعبہ نے کہا میں نے قتادہ سے کہا: آپ نے اسے کس سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا مجھے ایوب سختیانی رحمة اللہ علیہ نے بتایا ہے، شعبہ نے کہا: پس میں ایوب کے پاس آیا، اور پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے ابوبشر نے بتایا ہے، شعبہ نے کہا: میں ابوبشر کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا، میں نے سعید بن جبیر سے سنا ہے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ نے سبز ٹھلیا کی نبیذ سے منع کیا۔ (تقدمة الجرح والتعديل ص63 واسناده صحيح)

اس حکایت سے صاف معلوم ہوا کہ امام قتادہ رحمة اللہ علیہ مدلس تھے۔

امام شعبہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

كنت أتفقد فم قتاده فإذا قال سمعت وحدثنا فحفظته فإذا قال: حدث فلان تركته۔

"میں قتادہ رحمة اللہ علیہ کے منہ کو تکتا رہتا، جب آپ کہتے کہ میں نے سنا ہے۔ یا فلاں نے ہمیں حدیث بیان کی تو میں اسے یاد کر لیتا اور جب کہتے فلاں نے حدیث بیان کی (وغیرہ) تو میں اسے چھوڑ دیتا تھا" (تقدمة الجرح والتعديل ص169 واسناده صحيح)

یہ قول درج ذیل کتابوں میں بھی باسند موجود ہے:

تقدمه ص169،170، صحيح ابي عوانة ج2ص38، كتاب العلل و معرفة الرجال لاحمد ج2 ص228 ت 1646، المحدث الفاصل بين الراوي والواعي ص522،523،التمهيد لابن عبدالبر ج١ ص35،الكفاية للخطيب ص363، تاريخ عثمان بن سعيد الرادمي عن ابي معين ص192 ت 703، امام بيهقي معرفة السنن والآثار (ج١ ص17 قلمي)

وروينا عن شعبة أنه قال : كفيتكم تدليس ثلاثة:

الأعمش وأبي إسحاق و قتاده۔

"اور شعبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں آپ کے لئے تین اشخاص کی تدلیس کے لئے کافی ہوں: اعمش، ابو اسحاق، قتادہ" (طبقات المدلسین لابن حجر ص151)

نیز دیکھئے معرفة علوم الحدیث ص104 للحاکم رحمة اللہ علیہ۔

اس جیسی بے شمار مثالوں کی بنیادی پر اہل الحدیث نے امام قتادہ رحمة اللہ علیہ کو مدلس قرار دیا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: "ورجاله رجال الصحيح إلا أن قتاده مدلس" اس کے راوی صحیحین کے راوی ہیں سوائے قتادہ کے، وہ مدلس ہیں۔ (فتح الباری ج13 ص109)

علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ گواہی دیتے ہیں کہ "قتادة مشهور بالتدليس"(اسماء المدلسین ص102)

امام ابن عبدالبر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وروي معاذ بن معاذ عن شعبة قال: ما رأيت أحدا إلا وهو يدلس إلا عمر و بن مرة وابن عون۔

"معاذ بن معاذ نے شعبہ سے روایت کیا کہ میں نے جو بھی دیکھا ہے، وہ تدلیس کرتا تھا سوائے عمرو بن مرہ اور ابن عون کے۔" (التمہید ج1 ص34)

امام شعبہ رحمة اللہ علیہ کے استادوں میں حمید الطویل رحمة اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ، سلیمان الاعمش رحمة اللہ علیہ، محمدؒ بن اسحاق، ابن یسار رحمة اللہ علیہ اور ابو اسحاق سیعی رحمة اللہ علیہ وغیرہم بھی ہیں (تہذیب التہذیب ج1 ص29 تا ص300)

(2)حمید الطویل رحمة اللہ علیہ

آپ صحاح ستہ کے مشہور راوی ہیں۔ امام شعبہ فرماتے ہیں:

لم يسمع حميد من أنس إلا أربعة وعشرين حديثا والباقي سمعها (من ثابت) أو ثبته فيها ثابت۔

"حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے صرف چوبیس احادیث سنی ہیں اور باقی ثابت سے سنی ہیں یا ثابت نے انہیں یاد کرائی ہیں" (تاریخ یحییٰ بن معین روایة المروزی ج2 ص135 ت 4582 واسنادہ صحیح، تہذیب الکمال مطبوع ج7 ص360)

اس قسم کے مزید حوالوں کے لئے تہذیب التہذیب (ج3 ص35) دیکھیں۔

امام بخاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وكان حميد الطويل يدلس" (التمهيد ج١ ص36)

ابن عدی رحمة اللہ علیہ نے "الکامل" میں ان کے مدلس ہونے کی صراحت کی ہے۔ (ج2 ص684)

ابن سعید رحمة اللہ علیہ نے کہا:

ثقه كثير الحديث إلا أنه ربما دلادلس عن أنس بن مالك۔

آپ ثقہ کثیر الحدیث تھے مگر بے شک آپ کبھی کبھار انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تدلیس کرتے تھے" (الطبقات الکبری ج7 ص252)

امام حمااد بن سلمہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

معطم مارواه حميد عن انس هو عن ثابت۔

"حمید نے انس رضی اللہ عنہ سے جو روایت کیا ہے اس کا زیادہ حصہ ثابت سے ماخوذ ہے" (کتاب الضعفاء للعقیلی ج1 ص267)

حافظ ابن حبان رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے:

وكان بدلس، سمع من أنس بن مالك ثمانية عشر حديثا وسمع الساقي من ثابت فدلس عنه۔

آپ تدلیس کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ سے اٹھارہ احادیث سنیں اور باقی تمام روایت ثابت رحمة اللہ علیہ سے سنیں، پس آپ نے انہیں ثابت رحمة اللہ علیہ سے تدلیس کرتے ہوئے بیان کیا" (الثقات ج4 ص148)

حافظ زھبی رحمة اللہ علیہ نے کہا: "ثقه جليل يدلس" (میزان الاعتدال ج1 ص610)

اور لکھتے ہیں:

صاحب أنس مشهور كثير التدليس عنه حتي قيل: إن معطم حديثه عنه بواسطة ثابت و قتادة۔

"حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد مشہور ہیں۔ آپ ان سے بہت زیادہ تدلیس کرتے تھے حتیٰ کہ یہ کہا گیا ہے کہ آپ کی اکثر روایات ان سے ثابت اور قتادہ کے واسطہ سے ہیں" (تعریف اہل التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس ص86 المعروف بطبقات المدلسین)

(3) سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ

آپ صحاح ستہ کے مرکزی راوی اور بہت ہی ثقہ امام ہیں۔

آپ کا مدلس ہونا بہت زیادہ مشہور ہے۔ حتیٰ کہ آپ کے شاگرد بھی اس عادت سے واقف تھے۔ مثلا ابو عاصم رحمة اللہ علیہ، دیکھئے یہی مضمون ص:10

یحییٰ بن سعید القطان رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جهد الثوري ان يدلس علي رجلا ضعيفا فما امكنه۔

"(سفیان) ثقری رحمة اللہ علیہ نے پوری کوشش کی کہ کسی ضعیف راوی سے تدلیس کر کے میرے حافظہ میں بٹھا دے مگر وہ ایسا نہ کر سکے" (تہذیب التہذیب ج11 ص192)

امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قال يحيي بن سعيد: ما كتبت عن سفيان شئيا إلا ما قال حدثني أو حدثنا إلا حديثين...

"یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سفیان رحمة اللہ علیہ سے صرف وہی کچھ لکھا ہے جس میں وہ "حدثنی" اور "حدثنا" کہتے ہیں سوائے دو حدیثوں کے (اور ان دو کو یحییٰ رحمة اللہ علیہ نے بیان کر دیا)" (كتاب العلل و معرفة الرجال ج1 ص207 ت 113 وغیرہ)

امام علی بن عبداللہ المدینی رحمة اللہ علیہ گواہی دیتے ہیں کہ:

والناس يحتاجون في حديث سفيان الي يحيي القطان لحال الأخيار يعني على أن سفيان كان يدلس وإن يحيي القطان كان يوفقه على ما سمع مما لم يسمع۔

"لوگ سفیان کی حدیث میں یحییٰ القطان کے محتاج ہیں کیونکہ وہ مصرح بالسماع روایات بیان کرتے تھے۔ علی بن المدینی کا خیال ہے کہ سفیان تدلیس کرتے تھے اور یحییٰ القطان ان کی معنعن اور "مصرع بالسماع" روایت کی چھان بین کرتے تھے" (الكفاية للخطيب ص362 واسناده صحيح)

امام حاکم رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

وقد كان الثوري يحدث عن إبراهيم بن هراسة فيقول: حدثنا أبو إسحاق شيباني

"(امام) ثوری رحمة اللہ علیہ، ابراہیم بن ہراسہ سے روایت کرتے تو کہتے ہمیں ابو اسحاق شیبانی رحمة اللہ علیہ نے حدیث بیان کی" (معرفة علوم الحدیث ص107)

ابو اسحاق سلیمان بن ابی سلیمان شیبانی ثقہ تھے (تقریب) اور ابو اسحاق ابراھیم بن ھراسہ شیبانی "متروک کذاب" تھا (قال العجلي: لسان الميزان ج١ ص124)

شیخ السلام عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ:

حدثت سفيان الثوري بحديث ثم جئته بعد ذلك فإذا هو يدلسه عني فلما رأني أستحيي (وقال) نروي عنك۔

" میں نے ایک دفعہ سفیان کو ایک حدیث سنائی، پھر اس کے بعد جب میں آیا تو وہ اسے مجھ سے تدلیس کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو شرمندہ ہو گئے اور کہا : ہم یہ روایت آپ سے بیان کرتے ہیں"۔ (الکامل لابن عدی ج1 ص114، تہذیب التہذیب ج4 ص102 بتصرف یسیر)

اس جیسی متعدد مثالوں کی وجہ سے متعدد ائمہ حدیث نے امام سفیان بن سعید ثوری رحمة اللہ علیہ کو مدلس قرار دیا ہے۔ مثلا

(1)عبداللہ بن المبارک رحمة اللہ علیہ

(2) یحیٰ بن سعید القطان

(3) امام البخاری رحمة اللہ علیہ (العلل الکبیر للترمذی ج2 ص966، التمھید لابن عبدالبر ج1 ص34)

(4) امام النسائی رحمة اللہ علیہ (طبقات المدلسین لابن حجر)

(5) یحیٰ بن معین (الکفایة ص361) نیز دیکھئے "شرح علل الترمذی" لابن رجب ج1 ص358

(6) ابو محمود المقدسی رحمة اللہ علیہ (قصیدہ فی المدلسین ص47 الشعر الثانی)

(7) البسط رحمة الله عليه بن العجمي الحلبي' (التببين لاسماء المدلسين ص9)

(8) ابن الترکمانی الحنفی رحمة اللہ علیہ (الجوھر النقی ج8 ص262)

(9) امام الحافظ الزھبی رحمة اللہ علیہ (میزان الاعتدال وغیرہ)

(10) صلاح الدین العلائی رحمة اللہ علیہ (جامع التحصیل ص90)

(11) الحافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ (تقریب و طبقات المدلسین)

(12) الحافظ ابن رجب رحمة اللہ علیہ (شرح علل الترمذی ج1 ص358)

(12) امام سیوطی رحمة اللہ علیہ

(14) ابو عاصم النیل الضحاک رحمة اللہ علیہ بن مخلد

(15) امام النووی رحمة اللہ علیہ (شرح صحیح مسلم ج1 ص33)

(16) حافظ ابن حبان رحمة اللہ علیہ (کتاب المجروحین ج1 ص92 اور "الاحسان" بترتیب صحیح ابن حبان ج1 ص85)

(17) یعقوب بن سفیان الفارسی رحمة اللہ علیہ (کتاب المعرفة والتاریخ ج2 ص633، 637)

(18) ابو حاتم الرازی رحمة اللہ علیہ (علل الحدیث ج2 ص254 ح 2255)

(19) امام الحاکم رحمة اللہ علیہ (معرفة علوم الحدیث ص107)

(20) امام علی بن المدینی رحمة اللہ علیہ (الکفایة ص362)

(21) ہشیمؒ بن بشیر الواسطی (دیکھئے یہی مضمون اور التمھید ج1 ص35 وغیرہم)

حافظ ذھبی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

وکان یدلس فی روایتہ وربما دلس عن الضعفاء۔

"آپ اپنی روایت میں تدلیس کرتے تھے اور بسا اوقات ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کر جاتے تھے" (سیر اعلام النبلاء ج7 ص242) نیز دیکھئے "میزان الاعتدال" ج2 ص169 () ج7 ص274 وغیرہ۔

حافظ العلانی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

من يدلس عن أقوام مجهولين لا يدري من هم كسفيان الثوري....الخ

"مثلا وہ لوگ جو ایسے مجہوم لوگوں کی تدلیس کریں جن کا اتا پتہ معلوم نہ ہو، جیسے سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ (کی تدلیس)...الخ" (جامع التحصیل فی احکام المراسیل ص99)

حافظ ابن حبان البستی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وأما المدلسون الذين هم ثقات وعدول فإنا لا نحتج بأخبارهم الا ما بينوا السماع فيما رو وا مثل الثوري والاعمش وابي اسحاق واضرابهم من الائمة المتقنين....الخ"

"وہ مدلس راوی جو ثقہ عادل ہیں، ہم ان کی صرف ان مرویات سے ہی حجت پکڑتے ہیں جن میں وہ سماع کی تصریح کریں مثلا سفیان ثوری، اعمش، ابو اسحاق وغیرہم جو کہ زبردست ثقہ امام تھے... الخ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج1 ص90)

بلکہ مزید فرماتے ہیں:

الثقات المدلسون الذين كانوا يدلسون في الاخبار مثل قتاده و يحيي بن ابي كثير والاعمش وابواسحاق وابن جريج وابن اسحاق والثوري وهثيم... فربما دلسوا عن الشيخ بعد سماعهم عنه عن اقوام ضعفاء لا يجوز الاحتجاج باخبارهم فما لم يقل المدلس وان كان ثقة: حدثني او سمعت فلا يجوز الاحتجاج بخبره۔

"وہ ثقہ مدلس راوی جو اپنی احادیث میں تدلیس کرتے تھے مثلا قتادہ ، یحییٰ بن ابی کثیر، اعمش، ابو اسحاق، ابن جریج، ابن اسحاق، ثوری اور ہثیم حمھم اللہ بعض اوقات آپ اپنے اس شیخ سے جس سے سنا تھا، وہ روایت بطور تدلیس بیان کر دیتے جنہیں انہوں نے ضعیف ناقابل حجت لوگوں سے سنا تھا۔"

"تو جب تک مدلس اگرچہ ثقہ ہی ہو یہ نہ کہے: حدثنی یا میں نے سنا (وغیرہ) تو اس کی خبر سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے" (المجروحین ج1 ص92)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کا مدلس ہونا ثابت شدہ حقیقت ہے۔ نیز دیکھئے الکامل لابن عدی (ج1ص224 ترجمہ ابراھیم بن ابی یحییٰ الاسلمی) التمھید (ج1 ص18) وغیرھما

(4) امام سلیمان الاعمش رحمة اللہ علیہ

آپ صحاح ستہ کے مرکزی راوی اور بالاتفاق ثقہ محدث ہیں۔

امام الاعمش رحمة اللہ علیہ عن ابي صالح عن ابن هريرة کی سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں۔"الامام ضامن والموذن موتمن"...الخ

(امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے۔)

یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں اسی سند کے ساتھ موجود ہے:

سنن ترمذی (ح207) "الام" للشافعی (ج1 ص159) "شرح السنة" للبغوی (ج2 ص279) مسند احمد (ج2 ص284،472،461،424) مصنف عبدالرزاق (ح1838) مسند طیالسی (ح 2404) اخبار اصبھان لابی نعیم (ج2ص232) صحیح ابن خزیمہ (ج3 ص15) مسند الحمیدی (نسخة ظاہریة بتحقیقی ص292، ح1005) مشکل الآثار للطحاوی (ج3 ص52، 56) الصغیر للطبرانی (ج1 ص107، ج2 ص13)، تاریخ الخطیب (ج3 ص242، ج4 ص387، ج1 ص306) حلیة الاولیاء (ج8 ص118) السنن الکبریٰ للبیہقی رحمة اللہ علیہ (ج1 ص430) "العلل المتناھینة" لابن الجوزی (ج1 ص436)

کسی ایک صحیح روایت میں بھی امام اعمش رحمة اللہ علیہ کی ابو صالح سے "تصریح سماع" نہیں ہے۔ سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: لم يسمع الاعمش هذا الحديث من ابي صالح۔

"اعمش نے یہ حدیث ابو صالح سے نہیں سنی" (تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص236 ت 2430)

امام ابن الجوزی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

هذا حديث لا يصح، قال احمد بن حنبل رحمة الله عليه: ليس لهذا الحديث اصل،ليس يقول فيه احد عن الاعمش انه قال: نا ابوصاله، والاعمش يحدث عن ضعاف...

"یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ احمدؒ بن حنبل نے کہا: اس حدیث کی اصل نہیں ہے، اس میں کوئی (ثقہ غیر مدلس) اعمش سے یہ نہیں کہتا کہ "حدثنا ابو صالح" اور اعمش ضعیف راویوں سے حدیث بیان کرتے تھے۔ (العلل المتناھیة ص437 ج1)

یہاں بطور تنبیہ عرض ہے کہ "مشکل الآثار" للطحاوی (ج3 ص52) کی ایک روایت میں ہے:

هثيم عن الأعمش قال ثنا أبو صالح...الخ

لیکن یہ روایت دو وجہوں سے ضعیف ہے: اولا تو ہثیم مدلس ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

ثانیا: ابو امیہ (الطرسوسی) اگرچہ جمہور کے نزدیک ثقہ ہے مگر امام حاکم رحمة اللہ علیہ نے کہا: صدوق کثیر الوهم، حافظ ابن حبان رحمة اللہ علیہ نے بھی ان پر حافظے کی وجہ سے جرح کی ہے (الثقات ج9 ص137) اس نے جو روایات مصر میں بیان کی تھیں ان میں بھی کلام ہے۔ (دیکھئے الثقات لابن حبان) اور امام طحاوی رحمة اللہ علیہ مصری ہیں، لہذا یہ سند ان دو علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے۔

یہی روایت سنن ابی داؤد (ح:517)، مسند احمد (ج2 ص232) سنن بیہقی (ج1ص430) اور تاریخ البخاری (ج1 ص78) میں "عن محمد بن فضیل عن الاعمش عن رجل عن ابی صالح" کی سند کے ساتھ موجود ہے۔ ابو داؤد (ج518) وغیرہ کی ایک روایت میں ہے کہ:

(عن ابن نمير عن أعمش قال: نبئت عن أبي صالح و أري إلا قد سمعته منه)... اعمش سے روایت ہے کہ: مجھے ابو صالح سے یہ خبر پہنچی ہے اور میرا یہ خیال ہے کہ میں نے اسے ان سے خود سنا ہے۔

طحاوی (ج2 ص53) وغیرہ کی ایک روایت میں ہے:

عن شجاع الوليد عن الاعمش قال: حدثت عن ابي هريرة رضي الله عنه

امام ترمذی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

رواه أسباط بن محمد عن الأعمش قال: حدثت عن أبي صالح...الخ

اسباط رحمة اللہ علیہ نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ مجھے یہ خبر ابو صالح سے پہنچی ہے۔ (ح 207)

اس پر تفصیلی بحث راقم الحروف نے "مسند الحمیدی" کی تخریج میں لکھی ہے ، تاہم اس بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ امام اعمش نے ابو صالح سے یہ حدیث قطعا نہیں سنی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ حدیث "الامام ضامن...الخ دوسری سندوں کی وجہ سے حسن ہے۔

امام یحییٰ بن سعید القطان رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

كتبت عن الأعمش أحاديث عن مجاهد كلها ملزقة لم يسمعها۔

"میں نے اعمش سے "عن مجاھد" احادیث لکھیں، یہ تمام روایات مجاھد رحمة اللہ علیہ سے منسوب ہیں۔ اعمش نے انہیں نہیں سنا" (تقدمة الجرح والتعدیل ص241 واسنادہ صحیح)

امام یحییٰ القطان رحمة اللہ علیہ کے بیان کی تصدیق امام ابو حاتم رازی رحمة اللہ علیہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔

"إن الأعمش قليل السماع من مجاهد وعامة ما يروي عن مجاهد مدلس"

"اعمش کا مجاھد سے سماع بہت تھوڑا ہے اور آپ کی مجاھد سے عام روایات تدلیس شدہ ہیں" (علل الحدیث ج2 ص210ح:2119)

ایک روایت"الثوري عن الاعمش عن ابراهيم التيمي عن ابيه عن ابي ذر...الخ پیش کرنے کے بعد امام ابو حاتم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

هذا حديث باطل يرون إن الأعمش أخذه من حكيم بن جبير عن إبراهيم عن أبيه عن أبي ذر (رضي الله عنه)... یہ حدیث باطل ہے۔ ان (محدثین) کا خیال ہے کہ اسے اعمش نے حکیم بن جبیر "عن ابيه عن ابي ذر" سے لیا ہے۔ (علل الحدیث ج2 ص406 ح2724)

اس قسم کی ایک مثال "معرفة علوم الحدیث" للحاکم (ص105) میں بھی ہے مگر وہ سند اسماعیل بن محمد الشعرانی کی وجہ سے ضعیف ہے۔

امام اعمش رحمة اللہ علیہ ، حسن بن عمارہ سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ یعنی اسے سند سے گرا دیتے تھے۔ (جامع التحصیل ص102)

اس سلسلہ میں ابو معاویہ "الضریر" کا ایک بیان بھی حافظ العلائی نے قلم بند کیا ہے (ص101) خطیب رحمة اللہ علیہ نے صحیح سند کے ساتھ (محمد بن عبداللہ بن عمار الموصلی) سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو معاویہ نے امام اعمش کو "ہشام عن سعید العلاف عن مجاھد" ایک روایت سنائی۔ جس کو سننے کے بعد اعمش نے "عن مجاھد" روایت کر دیا اور بعد میں اعتراف کیا کہ میں نے اسے ابو معایہ سے سنا ہے۔ (الکفایة ص359)

محدث ابن عبدالبر الاندلسی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وقالوا لا يقبل تدليس الاعمش لانه اذا وقف احال علي غير ملئي يعنون علي غير ثقه، اذا سالته عمن هذا؟

"اور انہوں (محدثین) نے کہا: اعمش کی تدلیس غیر مقبول ہے کیونکہ انہیں جب (معنعن روایت میں) پوچھا جاتا تو غیر ثقہ کا حوالہ دیتے تھے۔ آپ پوچھتے یہ روایت کس سے ہے؟ تو کہتے: موسیٰ بن طریف سے، عبایہ بن ربعی سے اور حسن بن ذکوان سے"۔( التمھید ج1 ص30 شرح علل الترمذی لابن رجب ج1 ص319 جامع التحصیل ص101،81،80)

ان جیسے بے شمار دلائل کی وجہ سے درج ذیل ائمہ نے امام اعمش کو مدلس قرار دیا ہے:

1۔ شعبہ بن الحجاج (دیکھئے یہی مضمون ص:18)

2۔ سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ (ص:23)

3۔ یحییٰ بن القطان رحمة اللہ علیہ (ص:25)

4۔ ابو حاتم رازی رحمة اللہ علیہ (علل الحدیث ج1 ص14 وغیرہ)

5۔ ابن خزیمہ رحمة اللہ علیہ (کتاب التوحید و اثبات صفات الرب ص38)

6۔ الذھبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: وهو يدلس وربما دلس عن ضعيف ولا يدري بهّ۔ (میزان الاعتدال ج2 ص224) وغیرہ

7۔ العلائی رحمة اللہ علیہ (جامع التحصیل ص102،101 وغیرہ)

8۔ ابن حجر رحمة اللہ علیہ (التلخيص الحبير ج3 ص19 وغيره)

9۔ الکرابیسی رحمة اللہ علیہ

10۔ النسائی رحمة اللہ علیہ

11۔ الدارقطنی رحمة اللہ علیہ (طبقات المدلسین وغیرہ)

12۔ السیوطی رحمة اللہ علیہ (اسماء المدلسین)

13۔ ابن عبدالبر رحمة اللہ علیہ (التمھید ج10ص228 وغیرہ)

14۔ یعقوب رحمة اللہ علیہ بن سفیان الفارسی (المعرفة والتاریخ ج2 ص633)

15۔ ابن حبان رحمة اللہ علیہ (کتاب الجروحین، ج1 ص92 وغیرہ) نیز دیکھئے ص13)

16۔ برھان الدین رحمة اللہ علیہ بن العجمی (التببین لاسماء المدلسین ص10)

17۔ ابو محمود المقدسی رحمة اللہ علیہ (قصیدہ فی المدلسین ص33)

18۔ محدث ابن الصلاح رحمة اللہ علیہ (علوم الحدیث ص99)

19۔ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ (اختصار علوم الحدیث ص45)

20۔ العراقی رحمة اللہ علیہ (الفیہ ج1 ص179، وغیرہم۔

تاریخ یعقوب بن سفیان الفارسی رحمة اللہ علیہ میں روایت ہے کہ

عن الاعمش عن شفيق قال: كنا مع حذيفة جلوسا...الخ (ج2 ص771)

اس روایت میں صاحب سرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کو منافق قرار دیا ہے۔ یہ کوئی غصے کی بات نہیں ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا منافقین کو پہنچاننا عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے اور اس پہچان کی بنیاد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ لہذا اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو مرفوع حکما ہوتی مگر اعمش کے "عنعنہ" کی وجہ سے یہ روایت مردود ہے۔

اسی طرح مستدرک الحاکم (ج4 ص13) میں

"الاعمش عن ابي وائل عن مشروق عن عائشه رضي الله عنها...الخ

اس روایت میں ام المومنین رضی اللہ عنہا مشہور صحابی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی تکذیب فرماتی ہیں جو ناقابل تسلیم ہے لہذا امام حاکم رحمة اللہ علیہ اور ذہبی رحمة اللہ علیہ کا اسے صحیح قرار دینا غلط ہے جبکہ اعمش کے شماع کی تصریح بھی نہیں ہے۔ خود حافظ ذہبی رحمة اللہ علیہ ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں"ساده ثقات لكن الاعمش مدلس...الخ" اس کے راوی ثقہ ہیں مگر اعمش مدلس ہیں...الخ (سیر اعلام النبلاء ج11ص362)

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:

لانه يلزم من كون رجاله ثقات ان يكون صحيحا لان الاعمش مدلس ولم يذكر سماعه من عطاء..."

"کیونکہ کسی سند کے راویوں کا ثقہ ہونا صحیح ہونے کو لازم نہیں ہے۔ چونکہ اعمش مدلس ہے اور اس نے عطاء سے اپنا سماع (اس حدیث میں) ذکر نہیں کیا ہے" (التلخیص الحبیر ج3 ص19، السلسلة الصحیحة للشیخ الالبانی ج1 ص165) نیز دیکھئے التمھید (ج1 ص33،32)

(5) محمد بن اسحاق بن یسار رحمة اللہ علیہ

آپ سنن وغیرہ کے راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں (عمدة القاری ج7 ص270، وغیرہ) تفصیل کے لئے مولانا ارشاد الحق اثری کی کتاب "توضیح الکلام" (ج1ص224 تا ص298 کا مطالعہ کریں۔

محمدؒ بن اسحاق نے "عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن عبدالرحمن بن ابي يعلي عن علي...الخ ایک حدیث بیان کی۔ امام علی بن عبداللہ المدینی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فكنت اري ان هذا من صحيح حديث ابن اسحاق فاذا هو قد دلسه

"میں اسے محمدؒ بن اسحاق کی صحیح حدیث سے سمجھتا تھا پس اس میں (بھی) اس نے تدلیس کی ہے۔"... (معرفة علوم الحدیث للحاکم ص107، نیز دیکھئے علل ابن ابی حاتم ج2 ص423،340وغیرہ)

اس جیسی اور دوسری مثالوں کی بنیاد پر متعدد ائمہ حدیث نے محمدؒ بن اسحاق کو مدلس قرار دیا ہے۔ مثلا:

1۔ احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ (سوالات جمع ابی عوانہ – ص38، "الضعفاء" للعقیلی ج4 ص28، تہذیب ج9 ص38 وغیرہ)

2۔ الدارقطنی رحمة اللہ علیہ

3۔ الذھبی رحمة اللہ علیہ

4۔ ابو محمد المقدسی رحمة اللہ علیہ

5۔ ابن حجر رحمة اللہ علیہ

6۔ الھیثمی رحمة اللہ علیہ

7۔ السیوطی رحمة اللہ علیہ

8۔ ابن العجمی رحمة اللہ علیہ

9۔ ابن خزیمہ رحمة اللہ علیہ (ج1،ص71)

10۔ ابن حبان رحمة اللہ علیہ وغیرہم۔

کسی نے بھی میرے علم کے مطابق محمد بن اسحاق رحمة اللہ علیہ کی تدلیس کا انکار نہیں کیا۔ گویا اس کی تدلیس بالاجماع ثابت شدہ ہے۔

(6) ابواسحاق السبیعی رحمة اللہ علیہ

آپ صحاق ستہ کے مرکزی راوی اور بالاتفاق ثقہ ہیں۔

مغیرہ (بن مقسم النصبی رحمة اللہ علیہ) کہتے ہیں۔

اهلك اهل الكوفة ابو اسحاق اعمشكم هذا۔

"کوفہ والوں کو ابو اسحاق اور تمہارے اعمش نے ہلاک کر دیا ہے۔ (احوال الرجال للجوزجانی ص81)

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں: "یعنی للتدلیس" یعنی تدلیس کی وجہ سے (تہذیب التہذیب ج8 ص59) نیز دیکھئے میزان الاعتدال ج2 ص224۔

آپ کی تدلیس کا ذکر ص:18 پر بھی گزر چکا ہے۔

ابو اسحاق رحمة اللہ علیہ نے ایک دفعہ "عن ابي عبدالرحمن السلمي عن علي"...الخ ایک حدیث بیان کی۔ تو کہا گیا کہ کیا آپ نے یہ حدیث ابو عبدالرحمٰن سے سنی ہے؟ تو ابو اسحاق رحمة اللہ علیہ نے کہا:

ماادري سمعته (منه) ام لا ولكن حدثنيه عطاء بن سائب عن ابي عبدالرحمن۔

"مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں نے ان سے سنی ہے یا نہیں۔ لیکن مجھے عطاء بن سائب نے یہ حدیث ابو عبدالرحمٰن سے سنائی ہے۔" (تقدمة الجرح والتعدیل ص167 واسنادہ صحیح) نیز دیکھئے تہذیب ج8، ص59 بحوالہ العلل لابن المدینی رحمة اللہ علیہ۔

اس قسم کی متعدد مثالوں کی وجہ سے ائمہ حدیث نے ابو اسحاق کو مدلس قرار دیا ہے۔ مثلا

1۔ شعبہ رحمة اللہ علیہ (دیکھئے ص:18)

2۔ ابن حبان رحمة اللہ علیہ

3۔ حسین الکرابیسی رحمة اللہ علیہ

4۔ ابو جعفر الطبری رحمة اللہ علیہ (تہذیب ج8، ص59)

5۔ الحاکم رحمة اللہ علیہ (معرفة علوم الحدیث ص105)

6۔ الذھبی رحمة اللہ علیہ

7۔ العسقلانی رحمة اللہ علیہ

8۔ ابن خزیمہ رحمة اللہ علیہ (ج2، ص152)

9۔ العلائی رحمة اللہ علیہ

10۔ السیوطی رحمة اللہ علیہ وغیرہم

مزید تحقیق کے لئے "توضیح الکلام" الاثری ج2، ص415 تا 419

(7) ہثیم بن بشیر الواسطی رحمة اللہ علیہ

آپ صحاح ستہ کے راوی اور ثقہ محدث ہیں۔ امام عبداللہ بن المبارک رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قلت لكثيم مالك تدلس وقد سمعت؟ قال: كان كبيران يدلسان وذكر الاعمش والثوري...الخ

"میں نے ہثیم رحمة اللہ علیہ سے کہا: آپ کیوں تدلیس کرتے ہیں جبکہ آپ نے (بہت کچھ) سنا بھی ہے؟ تو انہوں نے کہا دو بڑے (بھی) تدلیس کرتے تھے یعنی اعمش اور سفیان" ("العلل الکبیر" للترمذی ج2، ص966 واسنادہ صحیح، "التمھید" ج1، ص35)

امام ابن عدی رحمة اللہ علیہ نے ابن المبارک رحمة اللہ علیہ سے نقل کیا کہ:

"قلت لهثيم لم تدلس وانت كثير الحديث؟ فقال: ان كبيريك قد دلساء: الاعمش و سفيان"

"میں نے ہثیم سے کہا آپ کیوں تدلیس کرتے ہیں حالانکہ آپ کے پاس احادیث زیادہ ہیں؟ تو کہا: تیرے دونوں بڑے یعنی اعمش اور سفیان بھی تدلیس کرتے تھے۔" (الکامل ج7، ص2596 واسنادہ صحیح)

ہثیم کی تدلیس کی ایک مثال ص:12 پر بھی گزر چکی ہے۔

آپ جابر الجعفی (کذاب) وغیرہ سے بھی تدلیس کرتے تھے (تاریخ بغداد ج14 ص87،86)

امام فضل بن موسی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

قيل لهثيم ما يحملك علي هذا؟ يعني التدليس،قال : انه اشهي شي۔

"میں نے ہثیم سے پوچھا کہ کون سی چیز نے آپ کو تدلیس پر آمادہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ بہت مزیدار چیز ہے" (الکفایة للخطیب ص361 واسنادہ صحیح)

اس قسم کی متعدد مثالوں کی بنیادی پر اہل الحدیث کے بڑے بڑے اماموں نے ہثیم کو مدلس قرار دیا۔ مثلا

1۔ یحییٰ ؒ بن معین (التمھید ج1،ص31)

2۔ ابن عدی رحمة اللہ علیہ (الکامل ج7، ص2595) وغیرہ۔

3۔ عمرو بن عاصم رحمة اللہ علیہ (الکامل ایضا)

4۔ یحییٰؒ بن حسان (ایضا ص2596)

5۔ ابن سعد رحمة اللہ علیہ (الطبقات الکبریٰ ج7، ص325،313)

6۔ الخلیلی رحمة اللہ علیہ (تہذیب ج11، ص55)

7۔ ابن حبان رحمة اللہ علیہ ("الثقات" ج7، ص587)

8۔ احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ (تہذیب ج11،ص56)

9۔ النسائی رحمة اللہ علیہ (طبقات المدلسین ص115، وسنن نسائی ج8، ص321، ح5686)

10۔ الذھبی رحمة اللہ علیہ

11۔ الجوزجانی رحمة اللہ علیہ (حاشیہ طبقات المدلسین، ص116)

12۔ ابن المبارک رحمة اللہ علیہ (ایضا)

13۔ ابو الحسن بن القطان رحمة اللہ علیہ (ایضا)

14۔ ابو محمود رحمة اللہ علیہ

15۔ ابن حجر رحمة اللہ علیہ

16۔ العلائی رحمة اللہ علیہ

17۔ الحاکم رحمة اللہ علیہ

18۔ ابن العجمی رحمة اللہ علیہ

19۔ السیوطی رحمة اللہ علیہ

20۔ الاسمعیلی رحمة اللہ علیہ (بحوالہ فتح الباری ج2، ص446) وغیرہم۔

محدثین میں ہثیم رحمة اللہ علیہ کی تدلیس کا انکار کرنے والا ایک بھی نہیں ہے۔ فیما اعلم۔

(8) ابوالزبیر مکی رحمة اللہ علیہ

آپ صحیح مسلم اور سنن وغیرہ کے ثقہ راوی ہیں۔

سعید بن ابی مریم رحمة اللہ علیہ، لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ:

"قدمت مكة فجئت اباالزبير فدفع الي كتابين وانقلبت بها ثم قلت في نفسي لو عاودته فسالته اسمع هذا كله من جابر؟ فرجعت فسالته فقال: منه ما سمعت منه و منه ما حدثت منه، فقلت: اعلم لي علي ما سمعت، فاعلم لي علي هذا الذي عندي"

"میں مکہ آیا تو ابو الزبیر کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھے دو کتابیں دیں جنہیں لے کر میں چلا۔ پھر میں نے اپنے دل میں کہا: اگر میں واپس جا کر ان سے پوچھ لوں کہ کیا آپ نے یہ ساری احادیث جابر سے سنی ہیں (تو کیا ہی اچھا ہو؟)

میں واپس گیا اور پوچھا تو انہوں نے کہا: ان میں سے بعض میں نے سنی ہیں اور بعض مجھ تک پہنچی ہیں بذریعہ تحدیث، میں نے کہا: آپ نے جو سنی ہیں وہ مجھے بتا دیں۔ تو انہوں نے اپنی مسموع روایات بتا دیں اور یہ میرے پاس وہی ہیں" (الضعفاء للعقیلی ج4، ص133، تہذیب الکمال للمز "مصور" ج3 ص1268، سیر اعلام النبلاء ج5، ص382، تہذہب التہذیب، ج9ص392)

امام ذھبی رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے یہ حکایت بصیغہ جزم ذکر کی ہے۔ نیز دیکھئے النکت علی ابن الصلاح ج2 ص631 اور اس کا ایک شاہد "کتاب المعرفة والتاریخ" یعقوب الفارسی کی ج1 ص166 ج2 ص443،142 میں بھی ہے۔

امام حاکم رحمة اللہ علیہ کے علاوہ تمام محدثین نے ابوالزبیر کو مدلس قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے "طبقات المدلسین" میں امام حاکم رحمة اللہ علیہ کے وہم کی تردید کر دی ہے۔ لیث بن سعد رحمة اللہ علیہ کی ابو الزبیر سے روایت مصرح بالسماع سمجھی جاتی ہے۔ اب ان محدثین میں سے بعض کے نام درج کئے جاتے ہیں جو ابوالزبیر کو مدلس قرار دیتے ہیں:

1۔ امام نسائی رحمة اللہ علیہ

2۔ ابن حزم اندلسی رحمة اللہ علیہ (محلی ج7 ص364،419، الاحکام ج6، ص135)

3۔ الذھبی رحمة اللہ علیہ

4۔ ابو محمود المقدسی رحمة اللہ علیہ

5۔ ابن العجمی الحلبی رحمة اللہ علیہ

ابن حجر رحمة اللہ علیہ

7۔ السیوطی رحمة اللہ علیہ

8۔ العلائی رحمة اللہ علیہ

9۔ الخزرجی رحمة اللہ علیہ (الخلاصہ ص360)

10۔ ابن ناصر الدین رحمة اللہ علیہ (شذرات الذہب ج1، ص175)

11۔ ابن الترکمانی رحمة اللہ علیہ (الجوہر النقی ج7، ص237)

12۔ ابن القطان رحمة اللہ علیہ (نصب الرایة ج2، ص277، اشارالیہ) وغیرہم۔

مزید تحقیق کے لئے دیکھئے توضیح الکلام ج2، ص558 تا588۔

ان ائمہ مسلمین رحمة اللہ علیہ کے علاوہ بھی بہت سے ثقہ راویوں کا مدلس ہونا ثابت ہے۔ تفصیل کے لئے"کتب مدلسین" اور "کتب اصول الحدیث" کی طرف مراجعت فرمائیں۔

تدلیس اور اس کا حکم

تدلیس کے بارے میں علماء کے متعدد مسلک ہیں:

1۔ تدلیس انتہائی بری چیز ہے۔

امام شعبہ رحمة اللہ علیہ نے کہا: "التدليس اخوالكذب" تدلیس جھوٹ کا بھائی ہے۔ (الکفایة ص355، واسنادہ صحیح)

اسی طرح ایک جماعت مثلا ابو اسامہ رحمة اللہ علیہ، جریر بن حازم رحمة اللہ علیہ، ابن المبارک رحمة اللہ علیہ، حماد بن زید رحمة اللہ علیہ وغیرہم سے تدلیس کی سخت مذمت مروی ہے۔ (الکفایة ص356، جامع التحصیل ص98 وغیرہما)

اس لئے بعض علماء کا یہ مسلک تھا کہ "مدلس" مجروح ہوتا ہے، لہذا اس کی ہر روایت مردود ہے چاہے "مصرح بالسماع" ہی کیوں نہ ہو (جامع التحصیل ص98 وغیرہ)

لیکن جمہور علمائ نے یہ مسلک رد کر دیا ہے ( دیکھئے النکت علی ابن الصلاح، ج2 ص633 لابن حجر رحمة اللہ علیہ) امام ابن الصلاح رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"وهذا من افراط شعبة محمول علي المبالغة في الزجر منه والتنفير"

"شعبہ کا یہ افراط نفرت اور ممانعت میں مبالغہ پر محمول ہے" (مقدمة ابن الصلاح مع شرح العراقی ص98)

خود امام شعبہ رحمة اللہ علیہ مدلسین کی " مصرح بالسماع" روایات کو مانتے تھے۔ دیکھئے یہی مضمون ص:17 وغیرہ۔ چونکہ متعدد ثقہ علماء مثلا قتادہ رحمة اللہ علیہ، ابو اسحاق رحمة اللہ علیہ، الاعمش رحمة اللہ علیہ، الثوری رحمة اللہ علیہ، ابوالزبیر رحمة اللہ علیہ وغیرہم سے بالتواتر تدلیس ثابت ہے (کمامر)

لہذا ان کو مجروح قرار دے کر ان کی احادیث کو رد کرنے سے صحیحین اور صحیح حدیث کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے پھر زنادقہ، باطنیہ، ملاحدہ وغیرہم کے لئے تمام رستے کھلے ہیں کہ قرآن مجید کی جو چاہیں تاویل و تحریف کریں۔ پھر دین بازیچہ شیاطین بن جائے گا۔ (معاذاللہ) لہذا یہ مسلک سرے سے ہی مردود ہے۔

2۔ تدلیس اچھی چیز ہے اور جائز ہے۔۔۔ یہ ہثیم رحمة اللہ علیہ کا مسلک ہے۔ دیکھئے ص:30

یہ مسلک بھی مردود ہے۔

3۔ تدلیس کرنے والا "غش" کا مرتکب ہے اور پوری امت کو دھوکہ دیتا ہے۔

لہذا وہ حدیث "من غشنا فليس منا" (صحیح مسلم) کی رو سے جماعت المسلمین سے خارج ہو جاتا ہے۔ (اصول حدیث، ص13) یہ مذہب مسعود احمد بی ایس سی کا ہے۔ جو قطعا مردود ہے۔

دھوکہ دینا اگرچہ سخت گناہ ہے مگر دھوکہ دینے والے کو کافر قرار دینا اور "جماعت المسلمین" سے خارج کر دینا انتہائی غلط ہے۔

مسلمانوں کو گناہ کی وجہ سے کافر قرار دینا خارجیوں کا شعار ہے۔ دیکھئے: شرح عقیدہ طحاویہ بتحقیق احمد شاکر ص268، الغنیة للشیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ ص85 ج1، الفصل فی الملل والاھواء والنحل لابن حزم ج3 ص229 وغیرہ۔

اہل السنہ کا مسلک یہ ہے کہ ہر مرتکب کبیرہ مثلا شرابی، زانی، غاش، طور وغیرہ کافر نہیں ہوتا بلکہ فاسق اور گناہ گار ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی دلائل کے لئے اہل السنة کی "کتب عقائد" کی طرف مراجعت فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شرابی پر لعنت بھیجنے سے منع فرمایا اور کہا:

فوالله ما علمت (الا) انه يحب الله ورسوله۔

"پس اللہ کی قسم مجھے اس کے علاوہ کچھ معلوم نہیں کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے۔" (صحیح بخاری ج8 ص197، كتاب الحدود باب يكره من لعن شارب الخمر...الخ) نیز دیکھئے شرح صحیح مسلم للنووی ج1 ص26۔

4۔ جو شخص صرف ثقہ سے تدلیس کرے، اس کا "عنعنہ" بھی مقبول ہے۔

اس سلسلہ میں صرف ایک مثال امام سفیانؒ بن عینیة کی ہے۔

حافظ ابن حبان رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

"وهذا ليس في الدنيا الا سفيان بن عيينة رحمة الله عليه وحده فانه كان يدلس ولا يدلس الا علي ثقة متقن..."

اس کی مثال صرف سفیان بن عینیة رحمة اللہ علیہ ہی اکیلے ہیں۔ کیونکہ آپ تدلیس کرتے تھے مگر ثقہ متقن کے علاوہ کسی دوسرے سے تدلیس نہیں کرتے تھے" (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ج1 ص90 وغیرہ)

امام ابن حبان رحمة اللہ علیہ کے شاگرد امام دارقطنی رحمة اللہ علیہ درج ذیل ثقات سے بھی تدلیس کرتے تھے۔

علی بن الدینی رحمة اللہ علیہ ابو عاصم رحمة اللہ علیہ ابن جریج رحمة اللہ علیہ وغیرہ۔

ایک دفعہ سفیان رحمة اللہ علیہ نے زھری رحمة اللہ علیہ سے حدیث بیان کی۔ بعد میں پوچھنے والوں کو بتایا کہ

لم اسمعه من الزهري ولا ممن سمعه من الزهري۔

"میں نے یہ زھری رحمة اللہ علیہ سے نہیں سنی، نہ اس سے سنی ہے جس نے زھری رحمة اللہ علیہ سے سنا ہے"

"حدثني عبدالرزاق عن معمر عن الزهري" مجھے عبدالرزاق نے عن معمر عن الزھری حدیث سنائی۔ (علوم الحدیث للحاکم ص105، الکفایة ص359 مقدمة ابن الصلاح ص96،95، اختصار علوم الحدیث ص51، تدریب الراوی ج1، ص224، فتح المغیث ج1، ص182 وغیرہ)

ایک دفعہ آپ نے عمرو بن دینار رحمة اللہ علیہ (ثقہ) سے ایک حدیث بیان کی، پوچھنے پر بتایا کہ:

حدثني علي بن المديني عن الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عمر و بن دينار"

مجھے علی بن المدینی رحمة اللہ علیہ نے "عن الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عمرو بن دينار" کی سند سے یہ حدیث سنائی۔ (فتح المغیث ج1، ص185وغیرہ)

حدیث اور "اصول حدیث" کے عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ یہ سند ابن جریج کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ ابن جریج کا ضعفاء سے تدلیس کرنا بہت زیادہ مشہور ہے۔ (دیکھئے طبقات المدلسین ص95 وغیرہ)

اس سے معلوم ہوا کہ ابن عیینہ رحمة اللہ علیہ جن ثقہ شیوخ سے تدلیس کرتے ہیں، ان میں بعض بذات خود مدلس ہوتے ہیں۔ لہذا ان کا "عنعنہ" مشکوک ہو گیا۔ سفیان رحمة اللہ علیہ کے اساتذہ میں امام زھری رحمة اللہ علیہ، ابن عجلان رحمة اللہ علیہ، الاعمش رحمة اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ، وغیرہم ہیں اور یہ سب مدلس یا "متھم بالتدلیس" ہیں۔

لہذا ایک محقق، سفیان بن عیینہ رحمة اللہ علیہ کے "عنعنہ" کو کس طرح آنکھیں بند کر کے قبول کر سکتا ہے۔

سفیان رحمة اللہ علیہ نے محمد بن اسحاق رحمة اللہ علیہ کے بارے میں امام زھری رحمة اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ:

اما انه لا يزال في الناس علم ما بقي هذا۔

"لوگوں میں اس وقت تک علم باقی رہے گا جب تک یہ (محمد بن اسحاق) زندہ ہے۔" (تاریخ یحییٰ بن معین ص504، ج2، ت 979 من زوائد عباس الدوری، الکامل لابن عدی ج6،ص2119) اس روایت میں سماع کی تصریح نہیں ہے۔

سفیان رحمة اللہ علیہ نے یہ قول ابوبکر الھذلی سے سنا تھا۔

الجرح والتعدیل ج7 ص191 واسنادہ صحیح عنہ، تاریخ یعقوب الفارسی ج2 ص28، وسقط منہ: "قال الزھری"۔۔۔ کتاب القرات خلف الامام للبیہقی ص58 وفی نسخہ ص45 سیر اعلام النبلاء ج7 ص36۔

لہذا ثابت ہوا کہ سفیان رحمة اللہ علیہ نے الھذلی سے تدلیس کی ہے۔ یہ شخص (ابوبکر سلمی الھذلی) متروک الحدیث ہے ( تقریب ص397 وغیرہ)

لہذا امام ابن حبان رحمة اللہ علیہ کا قول ہے کہ سفیان رحمة اللہ علیہ صرف ثقہ سے تدلیس کرتے ہیں، محل نظر ہے۔قارئین کی دلچسپی کے لئے سفیان کی ایک "عن" والی روایت پیش خدمت ہے جو کہ انتہائی "منکر" ہے۔

مشکل الآثار للطحاوی ج4، ص20، السنن الکبریٰ للبیہقی ج4، ص316، سیر اعلام النبلاء ک15ص81، سنن سعید بن منصور بحوالہ المحلی ج5 ص195، "معجم" الاسماعیلی بحوالہ "الانصاف" ص37 میں "سفيان بن عيينة عن جامع بن ابي راشد عن ابي وائل قال قال حذيفة" کی سند کے ساتھ ایک حدیث ہے کہ:

ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قال: لا اعتكاف الا في المساجد الثلاثة...الخ"

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مسجدوں کے سوا اعتکاف جائز نہیں ہے...الخ"

امام ذہبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں" صحیح غریب عال"

الانصاف فی احکام الاعتکاف کے مصنف علی حسن عبدالحمید الحلبی الاثری لکھتے ہیں:

واسناده علي شرط البخاري۔

اس کی سند بخاری کی شرط پر ہے۔ (الانصاف ص31)

تو عرض ہے کہ جب سفیان رحمة اللہ علیہ مدلس ہے تو اس کی "معنعن" روایت کس طرح صحیح ہو سکتی ہے اور وہ بھی امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمة اللہ علیہ کی شرط پر؟

اس بات سے کون سی دلیل مانع ہے کہ ابن عیینہ رحمة اللہ علیہ نے ابوبکر الھذلی جیسے متروک یا ابن جریج رحمة اللہ علیہ جیسے ثقہ مدلس سے یہ روایے سن کر جامع رحمة اللہ علیہ بن ابی راشد سے "بدون تصریح سماع" منسوب کر دی ہو؟

لہذا حلبی اثری صاحب کا اس حدیث کے دفاع میں اوراق سیاہ کرنا چنداں مفید نہیں ہے۔ وہ سفیان کا اس روایت میں سماع ثابت کہہ دیں پھر سر تسلیم خم ہے لیکن جب حدیث ہی صحیح نہیں تو پھر "غریب" اور عالی ہونا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے؟

5۔ جو شخص کسی ضعیف، مجہول وغیرہ سے تدلیس کرے (مثلا سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ، سلیمان رحمة اللہ علیہ اور اعمش رحمة اللہ علیہ وغیرہ) تو اس کی "معنعن" روایت مردود ہے۔

ابوبکر الصیفی رحمة اللہ علیہ"دلائل" میں کہتے ہیں:

كل من ظهر تدليسه عن غير الثقات لم يقبل خبره حتي يقول حدثني او سمعت۔

ہر وہ شخص جس کی غیر ثقہ سے تدلیس ظاہر ہو تو اس کی صرف وہی خبر قبول کی جائے گی جس میں وہ حدثنی یا سمعت کے الفاظ کہے۔ (شرح الفية العراقي بالتبصره والتذكرة ج١ ص184' 183 وغيره) یہی مسلک امام بزار رحمة اللہ علیہ وغیرہ کا بھی ہے۔

سفیان بن عیینہ رحمة اللہ علیہ کے استثناء کے بعد تمام مدلسین اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں اور سفیان رحمة اللہ علیہ کے بارے میں بھی مفصل تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی اسی طبقہ سے ہیں۔ لہذا ان کا "عنعنہ" بھی مردود ہے۔

6۔ جس کی تدلیس زیادہ ہو گی اس کی معنعن روایت ضعیف ہو گی ورنہ نہیں، یہ مسلک امام ابن المدینی رحمة اللہ علیہ وغیرہ کا ہے (دیکھئے الکفایة ص362 وغیرہ)

عرض یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا مدلس ہونا ثابت ہو جائے تو وہ کون سی دلیل ہے جس کی رو سے اس کی معنعن روایت (جس کا شاہد یا متابع نہیں ہے) صحیح تسلیم کر لی جائے؟

7۔ جو شخص ساری زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہی تدلیس کرے اور یہ ثابت ہو جائے تو اس کی "معنعن" روایت (جس کا شاہد یا متابع نہیں ہے) ضعیف ہو گی۔

امام محمد بن ادریس الشافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ومن عرفناه دلس مرة فقد ابان لنا عورته في روايته وليست تلك العورة بكذب فنرد بها حديثه ولا النصيحة في الصدق فنقبل منه ما قبلنا من اهل النصيحة في الصدق. فقلنا: لا نقبل من مدلس حديثا حتي يقول فيه حدثني او سمعت۔

جس شخص کے بارے میں ہمیں علم ہو جائے کہ اس نے صرف ایک دفعہ ہی تدلیس کی ہے تو اس کا باطن (اس کی روایت) ہم پر ظاہر ہو گیاہے... اور یہ اظہار جھوٹ نہیں ہے کہ ہم اس کی حدیث رد کر دیں اور نہ خیر خواہی ہے کہ ہم اس کی ہر روایت قبول کر لیں جس طرح سچے خیر خواہ ہوں (غیر مدلسوں) کی روایت ہم مانتے ہیں۔ پس ہم نے کہا: ہم مدلس کی کوئی حدیث اس وقت تک قبول نہیں کریں گے جب تک وہ حدثنی یا سمعت (کے الفاظ) نہ کہے۔ (الرسالة ص53، ط امیریة 1321ھ... تحقیق احمد شاکر، ص389،380 اور عام اصول الحدیث کی کتابیں وغیرہ)

میری تحقیق کے مطابق یہ مسلک سب سے زیادہ راجح ہے۔

صحیحین اور مدلسین

صحیحین میں متعدد مدلسین کی روایات، اصول و شواہد میں موجود ہیں۔

امام ابو محمد عبدالکریم الحلبی اپنی کتاب "القدح المعلی" میں فرماتے ہیں:

قال اكثر العلماء ان المعنعنات التي في الصحيحين منزلة بمنزلة السماع۔

اکثر علماء کہتے ہیں کہ صحیحین کی "معنعن روایات" سماع کے قائم مقام ہے۔ (التبصرہ والتذکرہ للعراقی ج1،ص186)

امام نووی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں:

وما كان في الصحيحين وشبههما عن المدلسين بعن محمولة علي ثبوت السماع من جهة اخري۔

جو کچھ صحیحین (ومثلھا) میں مدلسین سے "معنعن" مذکور ہے، وہ دوسری اسانید میں "مصرح بالسماع" موجود ہے۔ (تقریب النووی مع تدریب الراوی ج2، ص230)

یعنی "صحیحین" کے مدلس راویوں کی "عن" والی روایات میں سماع کی تصریح یا متابعت، صحیحین یا دوسری "کتب حدیث" میں ثابت ہے۔ نیز دیکھئے النكت علي ابن الصلاح للحافظ ابن حجر العسقلاني رحمهما الله ج2' ص636 وغيره۔

طبقات المدلسین

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ وغیرہ نے "مدلسین" کے جو طبقات قائم کئے ہیں، وہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔ مثلا سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کو حافظ رحمة اللہ علیہ نے "طبقہ ثانیہ" میں درج کیا ہے اور حاکم رحمة اللہ علیہ صاحب "المستدرک" نے "طبقہ ثالثہ" میں (معرفة علوم الحدیث ص106،105 و جامع التحصیل ص99)

حسن بصری رحمة اللہ علیہ کو حافظ رحمة اللہ علیہ "طبقہ ثانیہ" میں لاتے ہیں جبکہ امام العلائی "طبقہ ثالثہ" میں (جامع التحصیل، ص113) اسی طرح سلیمان ؒ الاعمش کو حافظ رحمة اللہ علیہ "طبقہ ثانیہ" میں لاتے ہیں (طبقات المدلسین، ص67) اور پھر اس کی "عن" والی روایت کے صحیح ہونے کا انکار بھی کیا ہے۔ (التلخیص الحبیر ج3، ص19) دیکھئے ص27

بلکہ حق وہی ہے جو ص:37 پر امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے گزر چکا ہے۔

ہمارے نزدیک جن راویوں پر تدلیس کا الزام ہے، ان کے دو طبقے ہیں:

1۔ طبقہ اولیٰ

جن پر تدلیس کا الزام باطل ہے۔ تحقیقی سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ مدلس نہیں تھے مثلا ابو قلابہ رحمة اللہ علیہ وغیرہ (دیکھئے "النکت" للعسقلانی ج2، ص637)

لہذا ان کی عن والی روایت (معاصرت و لقاء کی صورت میں) مقبول ہے۔

2۔ طبقہ ثانیہ

وہ راوی جن پر تدلیس کا الزام ثابت ہے مثلا قتادہ رحمة اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ، اعمش رحمة اللہ علیہ، ابو الزبیر رحمة اللہ علیہ، ابن جریج رحمة اللہ علیہ، ابن عیینہ رحمة اللہ علیہ وغیرہم۔

ان کی ہر "معنعن روایت" (جس میں کہیں بھی سماع کی تصریح نہ ملے) عدم متابعت اور عدم شواہد کی صورت میں مردود ہے۔ هذا ما عندي والله اعلم بالصواب۔

خاتمہ بحث

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اس بات پر ائمہ اہل الحدیث رحمة اللہ علیہم کا اجماع ہے کہ "فن تدلیس" ایک حقیقت والا فن ہے اور ثقہ راویوں نے بھی تدلیس کی ہے، جس کی وجہ سے ان کی عدالت ساقط نہیں ہوئی بلکہ وہ زبردست صادق اور ثقہ امام تھے، تاہم ان کی "غیر مصرح بالسماع" روایات (یعنی جن میں شماع کی تصریح نہیں) ساقط الاعتبار ہیں۔

تدلیس اور فن تدلیس کو "بے حقیقت فن" قرار دینا صرف مسعود احمد بی ایس سی کا مذہب ہے (اصول حدیث ص15) یہ شخص فرقہ خارجیہ کی طرح "گناہ کبیرہ" کے مرتکب کو جماعة المسلمین سے خارج سمجھتا ہے (اصول حدیث ص13) یعنی ایسا شخص اس کے نزدیک کافر ہے جو کسی گناہ عظیم مثلا تدلیس کا ارتکاب کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوارج اور ان کے گمراہ کن عقائد سے بچائے۔ آمین