علماے اہل حدیث کا سرفہرست کردار

ہر سال 7؍ستمبر کا دن جب آتا ہے تو 1974ء کے اس روز کے قومی اسمبلی کے فیصلے جس کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا کی مناسبت سے اخبارات و جرائد میں بعض حضرات اس کی تفصیلات قلم بند کرتے ہیں لیکن تعصّب کی بنا پر محض ایک مکتبِ فکر کی خدمات کو تحریر میں لاتے ہیں، جبکہ 7؍ستمبر کی تحریکِ ختم نبوت اور اس سے قبل 1953ء کی تحریک ختم نبوت ہی نہیں بلکہ جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا،اسی روزِ اوّل سے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے علماے اہل حدیث میدانِ عمل میں آ گئے تھے۔ چنانچہ

a آغا شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کی آخری تصنیف'تحریکِ ختم نبوت' میں لکھا ہے :

''مولانا محمدحسین بٹالوی وہ پہلے اہل حدیث عالم دین تھے جو قادیانیت کے خلاف میدان میں کودے اور مرزا کو مناظرہ کا چیلنج دیا جو وعدے مواعید کرتا اور تاریخوں پر تاریخیں دیتا رہا لیکن مدِ مقابل آنے سے گریز کرتا رہا۔ بالآخر مولانا محمد حسین اپنے اُستاذِ گرامی قدر میاں نذیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرزا کے کفر پر اُن سے فتویٰ لیا، پھر تمام مکاتبِ فکر کے ممتاز علما کے پاس جا کر دو صد سے زائد علماے عظام کے اس پر دستخط ثبت کرائے۔''1

b سیرت النبی ﷺ پر شہرہ آفاق تصنیف 'رحمۃ للعالمین' کے مصنّف قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید وتکفیر پر 1892ء میں 'غایت المرام' اور 'تائید الاسلام' لکھیں، اس وقت قاضی صاحب کی عمر 25 سال تھی اور وہ سبھی علما سے کم عمرتھے، مرزا غلام احمد اُن کی کتابوں کا جواب نہ دے سکا۔

c مولانا حافظ محمد ابرا ہیم میر سیالکوٹی نے مرزا کے دعویٰ مسیح موعود کے ابطال پر 1904ء میں مرزا کی زندگی میں 'شہادت القرآن' لکھی جس میں حضرت عیسیٰ کے رفعِ آسمانی کے دلائل دیے گئے لیکن مرزا اِس کا بھی جواب نہ دے سکا جب کہ وہ اس کتاب کی اشاعت کے چار سال بعد تک زندہ رہا۔

d حضرت مولانا ثناء اللّٰہ امرتسری نے مرزا غلام احمد کے کہنے پر جنوری 1903ء میں قادیان جا کر اُسے للکارا لیکن اسے سامنے آنے کی اور گفتگو کرنے کی جرأت نہ ہو سکی جس پر تمام مکاتبِ فکر کی طرف سے مولانا امرتسری کو فاتح قادیان قرار دیا گیا۔مولانا امرتسری نے جہاں ہر محاذ پر اسلام کا دفاع کیا اور ہر اُسلوب اور ہر رنگ میں مخالفین کو شکست دی، وہاں اُنہوں نے قادیانیت کا بھی ایک تسلسل کے ساتھ مقابلہ کیا۔ بالآخر مرزا غلام احمد نے 5؍ اپریل 1907ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا ' مولانا ثناء اللّٰہ کے ساتھ آخری فیصلہ'جس میں اس نے دیگر باتوں کے علاوہ گھبراتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے، دنیا نے دیکھا کہ اس اشتہار کے گیارہ ماہ بعد 26؍مئی 1908ء کو احمدیہ بلڈنگ برانڈرتھ روڈ لاہور میں مرزا ہیضے کی بیماری میں مبتلا ہو کر بیت الخلا میں مرا، چاہیے تو یہ تھا کہ اگر مرزا سچا تھا تو اسلامی احکامات کے مطابق اسی بیت الخلا میں اسے دفن کیا جاتا لیکن مرزائیوں نے اپنے 'نبی' کو قادیان میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔

e مولانا محمدحنیف ندوی پہلے اہل حدیث عالم دین ہیں جنہوں نے ہفت روزہ 'الاعتصام' لاہور کے 1949ء اور 1950ء کے شماروں میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ انگریز کے آلہ کار مرزائی طبقہ آئے دن ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے ذریعے حکومتیں تبدیل کرتا اور اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی نوزائیدہ مملکت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں لگا ہوا تھا ۔اس سلسلہ میں وزیر خارجہ ظفر اللّٰہ خان کے گمراہ کن بیانات موجود ہیں۔ انہی دنوں چنیوٹ کے قر یب مرزائی بستی ربوہ کی آباد کاری کیلئے سینکڑوں ایکڑ اراضی مختص کی گئی۔ یہی وہ پس منظر تھا کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہوئی جس میں اہل حدیث علماے کرام پیش پیش تھے۔

f مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل مولانا سید محمد داود غزنوی تھے، مولانا محمد اسماعیل سلفی ، مولانا عبد الرحمٰن آزاد، مولانا محمد عطاء اللّٰہ حنیف، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا حافظ محمد عبد اللّٰہ روپڑی، مولانا محمد رفیق پسروری، مولانا محمد صدیق فیصل آبادی، روپڑی برادران حافظ محمد اسماعیل و حافظ عبد القادر، مولانا عبد اللّٰہ گورداسپوری ، مولانا حافظ محمد احمد پٹوی جڑانوالہ، مولانا محمد عبد اللّٰہ ثانی، مولانا علی محمد صمصام﷭ یہ سب علماے عالی قدر اس تحریک کی اگلی صفوں میں تھے۔ کراچی میں علامہ محمد یوسف کلکتوی، قاری عبد الخالق رحمانی﷭ نے سندھ بھر میں تحریکی جذبہ سے کام کیا اور ان حضرات میں قریبًا سبھی نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

g ان سطور کا راقم بھی فیصل آباد میں نو عمری کے باوجود مولانا احمد دین گکھڑوی اور اپنے والد مرحوم کے ہمراہ کئی روز ڈسٹرکٹ جیل میں رہا۔ مولانا عبد المجید سوہدری نے اپنے ہفت روزہ ' اہل حدیث' میں تحریراً اور چیلنجوں میں تقریرًا خوب کام کیا۔

اس تحریک 1953ء کے بارے میں بعض کالم نگار مولانا مودودی اور مولانا عبد الستار نیازی کو سزائے موت دیے جانے کا تذکرہ بڑے زور وشور سے کرتے ہیں جس کی حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی نے ایک چند صفحات پر مشتمل پمفلٹ 'قادیانی مسئلہ' کے نام سے شائع کیا جس میں اِدھر ادھر سے لے کر مرزا کی کتابوں کی حوالے دیے گئے تھے لیکن مولانا مودودی اپنے پاس مرزا غلام احمد کی کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے عدالت میں اُنہیں ثابت نہ کر سکے جس کی پاداش میں اُنہیں سزاے موت سنائی گئی جسے بعد میں چند ماہ کی قید میں بدل دیا گیا۔ مولانا عبد الستار نیازی مسجد وزیر خان لاہور میں تقریر کر کے چھپتے ہوئے نکلے اور داڑھی منڈوا کر ایک دیگ میں بیٹھ کر کہیں مضافات میں نکل جانے کے لیے بیل گاڑی پر سوار ہو گئے لیکن راستے میں پکڑ لیے گئے، ان کی دونوں تصویریں داڑھی کے ساتھ اور بغیر داڑھی کے ساتھ 'پاکستان ٹائمز' کے صفحہ اوّل پر شائع ہوئیں جس سے تحریک کو شدید دھچکا لگا ،اسی بنا پر اُنہیں بھی سزائے موت ہوئی جسےقید میں بدل دیا گیا۔ لیکن اَب مولانا نیازی کو بطور مجاہد ختم نبوت اور بٖڑے بڑے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ،جب کہ وہ اپنے موقف کو دلائل سے بروقت ثابت نہ کرسکے۔

h یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جب جسٹس منیر پر مشتمل عدالت قائم کی گئی اور مجلس عمل نے جناب حسین شہید سہروردی کو وکیل مقرر کیا تو وہ جسٹس منیر کے سوالوں کی تاب نہ لا سکے اور وکالت سے انکار کر دیا۔ عدالت کا موقف تھا کہ قادیانی بھی مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہے لیکن سہروردی کے وکالت چھوڑ جانے پر یہ کیس مولانا غزنوی نے خوب لڑا اور کیس کی پیروی کرتے ہوئے کئی روز تک عدالت جاتے رہے اور دلائل سے ثابت کیا کہ قادیانی طبقہ گمراہ اور کفریہ عقائد رکھتا ہے جس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آج بھی بازار سے 'منیر انکوائری رپورٹ' کی صورت میں کتابی شکل میں بازار سے یہ روداد مہیا ہو سکتی ہے۔

i 1974ء کی تحریک ختم نبوت کا آغاز فیصل آباد سے ہوا تھا جب کہ 29 مئی 1974ء کو چناب نگر (ربوہ) کا سانحہ پیش آیا۔ شریف میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ جناح ایکسپریس پر تفریحی ٹور پر جا رہے تھے۔ ربوہ اسٹیشن پر گاڑی آنے پر طلبہ نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تو مرزائیوں نے پتھراؤ اور شدید خشت باری سے ان طلبہ کو زخمی اور لہولہان کر دیا، فیصل آباد اطلاع ہونے پر جب گاڑی ریلوے اسٹیشن فیصل آباد پہنچی تو علماے شہر مفتی زین العابدین، مولانا تاج محمود، مولانا عبد الرحیم اشرف، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا عبد اللّٰہ اصرار، مولانا محمد شریف اشرف اور ان سطور کا راقم اسٹیشن پر موجود تھے، ہم نے ان طلبہ کی ڈاکٹروں سے مرہم پٹی کروائی اور ملتان روانہ کر دیا۔ یہ تمام علما چوک گھنٹہ گھر آ ئے اور بھر پور پریس کانفرنس کی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس دل گداز سانحہ کا ذکر کیا گیا اور اگلے روز ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ دوسرے روز شہر بھر میں بلکہ دور دراز کے محلوں اور مضافاتی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ تیسرے روز راولپنڈی میں مولانا غلام اللّٰہ خان نے فیصل آباد کے علما کے مشورہ سے ملک بھر کے چیدہ چیدہ تمام مکاتبِ فکر کے علما کا اجلاس منعقد کیا۔ راولپنڈی جاتے ہوئے راستہ میں مفتی زین العابدین، مولانا تاج محمود، مولانا عبد الرحیم اشرف اور مولانا محمد اسحاق چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا ،مگر مولانا محمد صدیق، مولانا محمد شریف اشرف اور راقم الحروف راولپنڈی پہنچ گئے۔ مولانا غلام اللّٰہ خاں کی مسجد راجہ بازار میں کراچی سے پشاور تک کے ممتاز علما کے اس نمائندہ اجلاس میں سانحہ ربوہ کی پرزور مَذمت کی گئی اور قادیانیوں کے خلاف زور دار تحریک چلانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے صدر مولانا محمد یوسف بنوری کو اور جنرل سیکرٹری مولانا محمود احمد رضوی کو اور سیکرٹری مالیات میاں فضل حق کو بنایا گیا ۔ اس کے اگلے روز ملک بھر میں ہڑتال اور جلسے جلوسوں کا لائحۂ عمل تشکیل پایا۔ ہر ضلع میں مجلس عمل قائم کرنے کی تجویز طے پائی۔ فیصل آباد میں میاں طفیل احمد ضیا (جماعت اسلامی) صدر اور ان سطور کا راقم جنرل سیکرٹری بنائے گئے۔ مولانا صفدر رضوی، مولانا محمد اشرف ہمدانی اور مولانا اللّٰہ وسایا نائب صدر مقرر ہوئے۔ فیصل آباد میں روزانہ عشا کی نماز کے بعد کسی بڑی مسجد میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوتا جس کی صدارت اکثر صاحبزادہ فضل رسول کرتے۔ علما میں سے مقررین کی زیادہ تعداد اہل حدیث علما پر مشتمل ہوتی جن میں مولانا محمد شریف اشرف، مولانا محمد رفیق مدن پور ی، مولانا محمد طیب معاذ اور ان سطور کا راقم شرکت کرتے۔ ہمارے شہر کے اکابر علما مرکزی مجلس عمل میں شرکت کرتے، جلسوں کے ساتھ ساتھ روزانہ کچہری بازار کی جامع مسجد سے عصر کی نماز کے بعد جلوس نکلتا جو گھنٹہ گھر کا چکر لگا کر کچہری بازار سے گول بازار کے چوک میں آ کر اختتام پذیر ہوتا۔ علما اس جلوس کی قیادت کرتے اور تقریریں بھی کرتے۔ فیصل آباد میں ملک کے دوسرے شہروں کی نسبت تحریک زور دار طریقے سے چلائی گئی۔ لاہور میں روزانہ مسجد شہدا مال روڈ سے علامہ احسان الٰہی ظہیر اور حافظ عبد القادر روپڑی کی قیادت میں جلوس نکلتا۔

جون، جولائی اور اگست کے گرم موسم میں یہ گرم تحریک جاری رہی جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے فیصل آباد اور دوسرے شہروں میں تحریک چلانیوالے اور سرگرم علما زیادہ اہلحدیث ہی تھے۔

j وزیر اعظم مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اس زبردست عوامی تحریک سے متاثر ہو کر قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو قومی اسمبلی میں آ کر اپنا موقف وعقیدہ پیش کرنے اور سوالات وجرح کا جواب دینے کے لیے بلایا۔ اگست کے وسط میں قریباً گیارہ روز تک مرزا ناصر احمد پر اسمبلی کے ممبران جرح کرتے رہے ،ان ممبران میں مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں جو جامع مسجد اہل حدیث راولپنڈی میں مولانا محمد اسماعیل ذبیح اور مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری کے پاس آ کر تیاری کرتے کیونکہ مرزا غلام احمد کی کتب انہی علماے اہل حدیث کے پاس تھیں۔ ایک دن مفتی محمود نے مرزا ناصر سے کہا کہ مرزا غلام احمد کے سامنے ان کی مدح وستائش میں اکمل نامی شاعر نے ایک قصیدہ پڑھا جس میں یہ اشعار تھے:

محمد پھر اتر آئے ہیں قادیان میں جو پہلے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

محمدجس نے دیکھنے ہوں اکمل وہ غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

مفتی محمود نے کہا کہ یہ قصیدہ اخبار 'الفضل' کے صفحہ اوّل پر شائع ہوا تھا اور مرزا غلام احمد نے اسے سراہا تھا، مرزا ناصر احمد نے جواب دیا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ 'الفضل' کا اجرا پاکستان بننے کے بعد ہوا تھا۔ اس پر مفتی محمود لاجواب اور پریشان ہوئے۔ جب اُنہوں نے اسمبلی سیشن سے واپس آ کر مولانا حافظ محمدابراہیم کمیر پوری سے اس کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ مرزا ناصر صحیح کہتا ہے کہ 'الفضل' کا اجرا تقسیم ملک کے بعد ہی ہوا تھا لیکن تقسیم ملک سے قبل قادیان سے ہفت روزہ 'البدر' شائع ہوتا تھا جس کے صفحہ اوّل پر یہ قصیدہ اشاعت پذیر ہوا تھا۔ حافظ صاحب نے وہ پرانا اور بوسیدہ رسالہ نکالا اور مفتی صاحب کے حوالے کیا، اگلے روز جب مفتی محمود صاحب نے یہ رسالہ ممبران اسمبلی اور مرزا ناصر احمد کو دکھایا اور یہ رباعی بھی اس میں سے پڑھ کر سنائی تو مرزا ناصر احمد کے طوطے اُڑ گئے ، وہ شدید مضطرب اور شرم سار ہوا، مسٹر بھٹو سمیت دیگرممبران اسمبلی نے مرزا ناصر کو بے نقط سنائیں اور کہا کہ ایک نام نہاد مذہبی گروہ کے سربراہ کو یہ سفید جھوٹ زیب نہیں دیتا تھا۔ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مرزا غلام احمد اپنے دعاوی میں جھوٹا ہے اور اس کی جماعت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اسی طرح کے مزید حوالہ جات سے مرزا ناصر کے جھوٹ کا پول پوری طرح سامنے آیا، نتیجتاً قومی اسمبلی نے 7؍ستمبر 1974ء کو ایک تاریخی اور متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

الغرض مرزا غلام احمد کے کفریہ دعووں سے لے کر تقسیم ملک سے قبل اور بعد کی ختم نبوت کی تحریکوں کے روحِ رواں، اُن کا آغاز کرنے والے اور ان کے اختتام تک بلکہ قادیانیت کو منطقی انجام تک پہنچانے تک علماے اہل حدیث کا کردار اور تگ وتاز سرفہرست رہی جس کا مختصر تذکرہ سطور بالا میں کیا گیا ہے وگرنہ بقول شاعر

ورق تمام ہوا او رمدح باقی ہے سفینہ چاہیے اس بحرِ پیکراں کے لیے

لیکن کیا کیا جائے تعصّب سے آلودہ عناصر کا ،جو ملمّع سازی کے ذریعے اصل حقائق سے اِغماض برتتے ہیں.... بقول شاعر

نیرنگی سیاستِ دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے!
حوالہ جات

1. 'تحریک ختم نبوت' از شورش کاشمیری:ص ۴۰،مطبوعاتِ چٹان، لاہور