جمہوریت کے ذریعے غلبہ اسلام ؟ قابل غور پہلو اور مستقبل کے ملّی امکانات

سرزمینِ اسلام مِصر میں دو ماه سے آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔اسلامی جماعتوں کی واضح اکثریت پر مشتمل جمہوری حکومت جس میں صدارت کے منصب پر اخوان المسلمین کے ڈاکٹر محمد مرسی فائز تھے، کی جبری معزولی وگرفتاری پر قتل وغارت کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔ قاہرہ کا 'التحریرسکوائر' سیکولر اور آزادمنش مصریوں نے سنبھال رکھا ہے جبکہ 27 جون سے قاہرہ میں رابعہ عدویہ کی مرکزی مسجدوملحقہ میدان میں اسلامی کارکن ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اڑتالیس گھنٹے کے نوٹس پر کہ صدر مرسی کو اپنے مخالفین کو مطمئن کرنا چاہئے، تین جولائی 2013ء کومصری وزیر دفاع اور آرمی چیف جنرل عبد الفتاح سیسی نے زمامِ حکومت پر قبضہ جما لیا۔72 فیصد نشستیں رکھنے والی ایک سالہ جمہوری حکومت پر اس کے سوا کوئی الزام نہیں دیا جاسکا کہ مصر میں معاشی ترقی میں کمی آئی ہے اور قوم کو [سیکولر حلقوں کے مطابق]تقسیم کیا جارہا ہے۔دوسری طرف مصری حکومت کی مفاہمانہ پالیسیوں کا یہ عالم ہے کہ اخوانی اور سلفی جماعتوں کی واضح اکثریت کے باوجود 52 فیصد وزارتیں اُنہوں نے اپوزیشن میں تقسیم کیں۔ تاہم شراب نوشی، جسم فروشی،سرعام بوس وکنار اور نائٹ کلبوں پرپابندیاں لگائی گئیں اور سب سے بڑھ کراسرائیل کے ہاتھوں بے موت مارے جانے والے فلسطینی علاقے غزہ کا راستہ اُنہوں نے مصر سے کھول کر یہودی لابی کو اپنے مخالف کرلیا اور مصری معاشرہ کو درجہ بدرجہ اسلام کی سمت بڑھانا شروع کردیا۔ مستقبل میں مرسی حکومت کی پیش قدمی اسلامی طرزِ حکمرانی کی ایک نمایاں مثال پیش کرتی دکھائی دی اورمغربی حکومتوں کو افغانستان کی طرح اپنے مفاد ات پر کاری ضرب لگنے کا قوی اندیشہ لاحق ہوا تو اُنہوں نے پہلے ہی مرحلہ میں فوج کو استعمال کرلیا۔

مصری فوج کی حالیہ تمام تر کاروائی پہلے سے طے شدہ اسرائیلی خفیہ اداروں سے ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔اسرائیل کے معروف تجزیہ کار رونی وائیل کے بقول جنرل سیسی نے فوجی بغاوت کے مراحل پرموساد سمیت اسرائیل کے عسکری اور سٹرٹیجک ماہرین سے مشاورت کی ہے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اُردگان نے بھی کہا ہے کہ اُن کے پاس اس اَمر کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ مصر میں فوجی بغاوت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل فتح نے صدر مرسی کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں حماس کے مسلح رد عمل کی صورت میں اسرائیلی وزیر اعظم سے حماس کے خلاف محاذ کھولنے کی ضمانت حاصل کرلی تھی۔ 24 جون 2013ء کو فوج کی طرف سے سال بھر کا پہلا سخت پیغام صدر مرسی کے نام یہ تھا کہ فوج ملک میں جاری بے چینی پر خاموش نہیں رہے گی۔ اس وارننگ کے ٹھیک نو دن کے بعد فوج نے پہلے ہی ہلے میں منتخب صدر مرسی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، اُن پر مصری فوج کے خلاف فلسطینی تنظیم حماس سے ساز باز کا الزام لگایا گیا اور اب ایک ایک ماہ کے وقفے سے اُن کی حراست کے دورانیے کو طویل کیا جارہا ہے۔

صدر مرسی نے عدلیہ میں فوجی آمرحُسنی مبارک کے حامی جج سیکولر حضرات کی اکثریت پر قابو پانے کیلئے اپریل کے مہینے میں جج حضرات کی ریٹائرمنٹ کی عمر 70 سے کم کرکے 60برس کردی تھی، عدلیہ تو پہلے ہی مرسی کے لئے مشکل فیصلے صادر کررہی تھی، اس فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یاد رہے کہ مصری سپریم کورٹ نے گذشتہ سال صدر مرسی کی صدارت کے دوسرے ہی مہینے اس پارلیمنٹ کو معطّل قرار دے دیا تھا جس میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے 44 فیصد اور سلفی النور پارٹی کے منتخب ارکان 24 فیصد تھے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو اُنہی دنوں صدر مرسی نے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔

جنرل عبد الفتاح سیسی نے عدلیہ کے گٹھ جوڑسے منتخب جمہوریت پرجو شب خون مارا ہے، اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ آئین سے قوت پانے اور اس کو تحفظ دینے والی عدلیہ کے سربراہ جسٹس عدلی منصور کو اُس بغاوت کا عبوری صدرچنا گیا ہے جس نے سب سے پہلا قدم آئین کو معطل کرکے اُٹھایا۔3 جولائی کے غاصبانہ تسلط کے بعد مصر کے عوام مُصر ہیں کہ صدر مرسی ہی آئینی صدر ہیں،اور اُنہیں اس کے سوا کوئی اور حکمران قبول نہیں، مرسی نے بھی منصب سے عزل کو ردّ کردیا ہے، اس کے لئے مصری غاصب حکومت ہر طرح کے حیلے بہانے اختیار کررہی ہے۔ملحد آمرحسنی مبارک کا دور واپس آگیا ہے،اُس سے سزاؤں کو ختم کیا جارہا اور اُس کے مخالفین پر راستے بند کئے جارہے ہیں۔

مصری عوام ہر طرح احتجاج کر رہے ہیں۔ دو ماہ کے عرصے میں کم ازکم چار بار قابض فوج کی طرف سے تشدد اورقوت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں مصری مسلمانوں پر کھلے عام فائرنگ کرکے اُنہیں منتشر کرنے کی کوشش کی گئی، ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی کردیے گئے۔ وہ سیکورٹی فورسز جو فرزندانِ وطن کو غیروں سے بچانے کے لئے بھرتی کی جاتی ہیں، اُن کی گولیوں کا نشانہ خود وہ مظلوم یا معصوم عوام بنتے رہے، جن کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے جمہوری اوراسلامی حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مصر میں مخصوص اور محدود حلقوں کی طرف سے جاری 'تحریک تمرّد(بغاوت)' کے اگلے روز 4 جولائی کو صدر کے حامی میدان رابعہ عدویہ اور نہضہ سکوائر میں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہوئے۔ جب عالمی میڈیا تحریر سکوائر میں سیکولر افراد کا اجتماع دکھا رہا تھا، اسی وقت مصر میں درجنوں مقام پر مرسی کے حامی اُس سے کہیں بڑی تعداد میں حمایتی مظاہرے کررہے تھے۔انہی دنوں قاہرہ میں مرسی کے 32 لاکھ حامیوں نے چار مختلف مقامات پر ملین مارچ کا انعقاد کرکے احتجاج کی ایک نئی تاریخ رقم کردی لیکن یہ احتجاج میڈیا کے من پسند کیمروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور ان کو انسانوں کی بجائے کسی حقیر مخلوق کا اکٹھ سمجھا گیا۔

بغاوت کے پانچ دن بعد آٹھ جولائی کو صدارتی گارڈز کے بیرکوں کے قریب سیکورٹی فورسز نے خوف وہراس پیدا کرنے کے لئے مرسی کے حامیوں پر کھلی گولی چلا دی جس کے نتیجے میں مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق کم ازکم 51؍افراد شہید اور 435 زخمی ہوگئے۔برطانوی جریدے'دی گارڈین' کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کرنے والوں پر یہ وحشیانہ فائرنگ رمضان سے ایک روزقبل،نمازِ فجر کے دوران صبح 3:25منٹ پر کی گئی جب کہ شہید ہونے والے تمام افراد بالکل غیرمسلح تھے، اُن کو ناف سے اوپر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ان میں سے اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کی تھی، جن میں جامعہ ازہر کےپروفیسرزاور کئی ڈاکٹر وانجنیئر شامل تھے۔ 'دی گارڈین' کی رپورٹ کے مطابق فوجیوں نے کئی نمازیوں پر کھلا تشدد بھی کیا، اور گرد ونواح کی سڑکوں کو خون سے رنگ دیا۔

دوسری مرتبہ 27 جولائی کو مسجد رابعہ عدویہ میں اخوان کے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فوجی کاروائی کے نتیجے میں 70 سے زیادہ افراد کو شہید کردیا گیا۔نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمین کے دھرنے پر سکیورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 120؍ افراد جاں بحق ہوئے اور 4500؍افراد زخمی ہوگئے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ قریبی ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے پر اُن کے دروازے بند کردیے گئے۔ میدانِ رابعہ کے ارد گرد فون اور انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی تاکہ عالمی میڈیا اس کی بآسانی کوریج نہ کرسکے۔اس علاقے کی سڑکیں اور گلیاں خون آلود ہوگئیں ۔ اسی روز مصر کے دوسرے شہروں سکندریہ وغیرہ میں بھی دسیوں افراد کو فورسز نے ہلاک کردیا۔ فوج کی اس بربریت کی وجہ جنرل سیسی کا بیان اور فوج کو دی جانے والی وہ قانونی قوت ہے جس میں امن وامان قائم کرنے کےلئے وہ ہر قسم کاوحشیانہ اقدام کرنے کی مجاز ہے۔

وحشت وبربریت کا سامنا کرنے اوراس قدر قربانیوں کے باوجود اسلامی حکومت کے حامی اسی میدانِ شہادت میں ڈٹے رہے۔سو 11؍ اگست کوفوج نے ایک باردھرنے کو ختم کرنے کی دھمکی دی اور اس کے لئے پھر پوری قوت استعمال کرنے کا اعلان بھی کیا تاہم یہ منصوبہ مؤخر کردیا گیا۔ جس وقت اہل پاکستان 14؍اگست کو یوم آزادی منارہے تھے، اُسی دن بعد نمازِ عصر مصری عوام پر تیسری بار بدترین قتل وغارت مسلط کردی گئی۔14؍اگست کو سیکورٹی فورسز نے اسی مقام پر کھلی بربریت کے نتیجے میں کم ازکم 600؍افراد کو شہید کردیا جبکہ ساڑھے سات ہزار لوگ شدید زخمی ہوگئے۔اخوان المسلمین کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق شہدا کی تعداد 2ہزار سے بھی متجاوز ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی بوئن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے مرکزی احتجاجی کیمپ کے پاس واقع مسجد ایمان میں خود 202 لاشیں دیکھی ہیں جن میں اکثر ہلاک شدگان کے نام سرکاری اعداد وشمار میں شامل نہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ان میں اکثریت ان لاشوں کی ہے جو اتنی جلی ہوئی ہیں کہ اُن کی شناخت ممکن نہیں۔اسی روز دوسرے صوبوں میں بھی قتل و تشدد کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک کردیے گئے۔ زخمی یا شہید ہونے والوں کے یہ اعداد وشمار وہ ہیں جو ہسپتالوں کی انتظامیہ نے شمار کئے، جبکہ درحقیقت مظلوموں کی یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

فوجی غاصبوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اخوان المسلمین کے سربراہ ومرشد ڈاکٹر محمد بدیع کو بھی حراست میں لے لیا، اُن پر مظاہرین کو احتجاج پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا جبکہ معمر اخوانی مرشد کے بیٹے بھی عسکری فورسز کی ان پرتشدد کاروائیوں میں شہیدہوچکے ہیں۔ اس سے قبل اخوان کے سیاسی ونگ 'جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی' کے صدرمحمدسعد کتاتنی بھی پابندِ سلاسل کردیے گئے۔ اخوان کے مُرشدِ عام عموماً خطابِِعام نہیں کرتے، لیکن ان پرآشوب حالات میں'اخوان آن لائن'نامی ویب سائٹ پر ان کا باضابطہ اُسبوعی پیغام نشر ہوتا ہے۔مصری غاصب حکومت کے ان اقدامات پر اُن پیغامات کا لب ولہجہ اس بیان سے محسوس کیا جاسکتاہے ۔ اُنہوں نے وحشت وبربریت کے جواب میں غاصب حاکموں کویہ پیغام دیا کہ

''ہم بھاگے نہیں کیونکہ ہم چور اچکے اور تشدد پسند نہیں۔ مصری فوج کا کام سرحدوں پر ملک کی حفاظت کرنا ہےاور ہمارا کام ملک کو ایک منتخب قیادت دینا ہے۔آپ سرحدوں کی حفاظت پر واپس لوٹ جاؤ اور منتخب صدر کو صدارت لوٹا دو۔ہم تمہاری گولیوں اور ٹینکوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ہم اس وقت تک لاشیں اُٹھاتے رہیں گےجب تک مصر کے فرعونوں کو گھر نہیں بھیج دیتے۔''

ان الم ناک حالات میں نام نہاد مہذب دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے، مسلمانوں کے حکمرانوں اور او آئی سی کو بھی سانپ سونگھا ہوا ہے۔عرب حکمران اس لئے دم سادھے بیٹھے ہیں کہ اُنہیں یقین نہیں کہ مصر کی یہ غاصب حکومت کب تک مسلط رہتی ہے، اس لئے ایسے حالات میں اُنہیں عدل وانصاف سے بڑھ کر مصری حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات پیارے ہیں۔ وہ ایک ملک کے حکمرانوں، چاہے وہ غاصب ہی کیوں نہ ہوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ مصری فوج ہر طرح کوشش کررہی ہے کہ کسی صورت ان کی غاصبانہ حکومت اور جبر وتشدد کی روش راہ پکڑ لے۔ حال میں اسمٰعیل بلیباوی کو عبوری وزیر اعظم نامزد کیا گیا ہے، اور اس نے ماضی کی برسراقتدار اخوانی اور سلفی جماعتوں کو حکومت میں شریک ہونے کا لالچ دیا ہے لیکن 42 اور 24 فیصد اکثریت رکھنے والی ان سیاسی جماعتوں نے اس وقت تک کسی بھی عہدے کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جب تک صدر مرسی کو بحال نہیں کیا جاتا۔ اخوان کے مرشدِ عام کی گرفتاری کو اسی انکار کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے، اس انکار کے بعد وزیر اعظم نے اخوان کو تحلیل کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔حکومت نے اگلے برس کے آغاز میں قومی اور پھر صدارتی انتخابات کا اعلان کیا ہے لیکن کوئی اس اعلان پر یقین نہیں کررہا کیونکہ جبر وتشدد کے نتیجے میں ماضی کا نیوٹرل مصری بھی دینی جماعتوں کو اپنی تائید سے نوازے گا اور اخوانی وسلفی جماعتیں انتخابات کے نتیجے میں پہلے سے زیادہ اکثریت حاصل کریں گی۔ فوج کی ناعاقبت اندیش کاروائیوں نے مصری عوام کو پوری طرح لادینیت کے خلاف متحد کردیا ہے۔ان حالات میں فوجی حکومت سے کوئی نادان ہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ آزادانہ انتخابات کا خطرہ مول لے گی۔

عوام پر شدید جبر وقہر سے اختلاف کرتے ہوئے، مصر کے عبوری نائب صدر ، ایٹمی سائنس دان محمد برادعی نے حکومت کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے، لیکن اپنے ساتھیوں میں نئے رجحان کی روک تھام کے لئے اور اپنے بدانجام سے خائف مصری حکومت نے اُلٹا اپنے مستعفی نائب صدرکے خلاف قتل وغارت کے اقدامات کا الزام عائد کرکے اُن کی واپسی پرسوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ مصر میں خانہ جنگی اس مقام پر پہنچ رہی ہے کہ اگر اس کا راستہ نہ روکا گیا تو عین ممکن ہے کہ امریکہ، نیٹو کی چھتری تلے وہاں 'افواجِ امن' اتار کر، مصر کی صورتحال کو مزید مخدوش کردے، جیساکہ شام میں گمراہ حکومت کے ہاتھوں جاری اہل سنّت کے بہیمانہ قتل عام کے بعد امریکی وزیر دفاع چک ہیگل انہی دنوں اس کی دھمکی دے چکے اور بحری بیڑ ے روانہ ہوچکے ہیں۔ تب مصری قوم کا مستقبل اُن کی بجائے مغربی اقوام کے ہاتھ میں ہوگا۔

پہلے مصری فوج کو ہلہ شیری دی گئی، بغاوت کے ابتدائی ایام میں ذومعنی خاموشی اختیار کی گئی۔ باخبر لوگوں کو یاد ہوگا کہ صدرمرسی کی دی گئی مہلت کے آخری گھنٹوں میں جنرل سیسی براہ راست امریکی وزیر دفاع کے ساتھ رابطے میں رہے۔امریکہ ، اسرائیل اور مغربی حکومتوں کی آشیر باد سے حکومت پر قبضہ جمانے اور خون آشام کاروائیاں کرکے مصر میں تشدد کو رواج دے دینے کے بعد ماضی کی منافقانہ روایات کے عین مطابق، امریکہ نے جنرل سیسی کی تائید سے ہاتھ کھینچنا شروع کردیا ہے اور یہ قرار دیا کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی وہ امداد جسے دو ماہ قبل اسرائیل نے ترغیباً شروع کرایا تھا، ایسے سنگین حالات میں جب وہاں آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہو، ہم جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ صورتحال کی اس پیچیدگی کو بھانپتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے مصری غاصب حکومت کو مدد دینے کا اعلان کردیا ہے کہ ہم ایسے حالات میں مصر کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے1۔ اس سے قبل یہی امریکہ تھا جس نے 2011ء کے بجٹ میں کانگریس سےمصر میں بظاہر جمہوریت کے قیام اور درپردہ امریکی مفادات کے لئے 118 ملین ڈالر زکا بجٹ منظور کرایا۔قطر کے الجزیرہ ٹی وی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتما م چلنے والے یوایس ایڈ، بیورو آف ڈیمو کریسی، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر ، نیشنل انڈومنٹ فارڈیموکریسی(NED) وغیرہ اداروں نے فریڈم ہاؤس، انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹیٹیوٹ، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ جیسے اداروں کے ذریعے مصر میں صدر مرسی کے مخالفین میں کڑوڑوں ڈالر زکے فنڈ تقسیم کئے، ایسے ہی مصری این جی او 'ڈیموکریٹک اکیڈمی' کی سربراہ اسرٰی عبد الفتح کو بھی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا۔امریکی حکومت نے مرسی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لئے نام نہاد سیاسی، رفاہی اور سیاسی تنظیموں کو ہی استعمال نہیں کیا بلکہ مبارک حکومت سے وابستہ مفادات کے حامل سرمایہ دار، مصری پولیس کے مفرور مجرم، مصری مساجد اور علما کے خلاف ماضی میں مسلح کاروائیاں کرنے والی گروہوں اور میڈیا کے لبرل عناصر بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کے لئے سالانہ چار ارب ڈالر امداد کی مدد سے قاہرہ اور اسکندریہ میں مرکوز مصر کی 9 فیصد عیسائی اقلیت، اور اسلام بیزار مغرب زدہ طبقوں کو بھی منظّم کیا گیا۔مصر کی ہر لمحہ بدلتی صورتحال، بڑی پیچیدہ ہوتی جارہی ہے، اور پوری دنیا بالخصوص مسلم اُمّہ کی نظریں مصر کے حالات پر ہیں۔

تبصرہ وتجزیہ

غاصب حکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والا بد ترین جبر وتشدد، عسکری عمائدین اور مغربی تہذیب کے علم برداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، جو آے روز اسلام اور اہل اسلام کو روا داری اور توازن واعتدال کا درس دیتے نہیں تھکتے۔ جمہوریت کی ہردم مالا جپنے والی نام نہاد عالمی برادری نہ صرف خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہی بلکہ کہیں درپردہ اور کہیں کھلم کھلا مصر ی غاصبوں کی پیٹھ ٹھونکی گئی،بغاوت کے دوہفتوں کے بعد امریکہ نے مصر کو ایف سولہ طیارہ دینے کا اعلان کرکے فوج کو اپنی مدد کا یقین دلایا۔ میڈیا پر دیکھیں تو جمہوریت کی تلقین کرنے والے اس غیرجمہوری عمل کا ہر ممکن ایسا جواز پیش کررہے ہیں جس سے اُن کی حقیقی ترجیحات اور مقاصد چھپائے نہیں چھپ رہے۔ مصر کی اس الم ناک صورت حال میں اہل اسلام کے لئے سمجھنے اور سیکھنے کے بہت سے پہلو موجود ہیں۔

آج کی بزعم خود مہذب کہلانے والی دنیا اور جمہوریت، روا داری اور انسانی حقوق کا درس دینے والے عالمی اداروں کے یہ صرف ظاہری نعرے ہیں، ان کے درپردہ رویّے ماضی کی فرعونیت اور قہاریت سے بالکل مختلف نہیں۔ یہ وہ خوبصورت چہرہ ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے لئے اُنہوں نے سامنے سجا رکھا ہے، لیکن درحقیقت آج بھی کفر والحاد نہ صرف متحد ہے، بلکہ اسلام کے خلاف اُٹھنے والی ہر کوشش میں وہ یکجا نظر آتے ہیں۔

مصر میں ایک سال تک حسنی مبارک کی منظورِ نظر اعلیٰ عدلیہ نے ڈاکٹر محمد مرسی کی جمہوری حکومت کو کسی طرح چلنے نہیں دیا۔منتخب پارلیمنٹ کو معطّل کرنے، اخوان کے نو تشکیل شدہ دستور کو کالعدم قرار دینے کے بڑے اقدامات سے لے کر ہر معاملے میں وہ منتخب حکومت کی مخالفت کرتے رہے۔مصر کے برسہا برس سے پروان چڑھنے والے لادین میڈیا نے مرسی کی حکومت کے خلاف ہر طرح کے انتشار کو نمایاں کرنے اور دین بیزار مصریوں کو جمع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عالمی برادری بشمول ملّتِ اسلامیہ کے نامور ممالک نے مرسی کی حکومت سے وہ ہمدردانہ رویہ نہیں رکھا، جو والہانہ پن اور محبت ابھی حال میں آنے والے غاصبانہ حکمرانوں کو دی جارہی ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں نام نہاد عالمی برادری نے ایک سال کے عرصے میں مصر کا معاشی ناطقہ بند کئے رکھا اور عالمی اداروں نے تعاون کا ہرممکن راستہ مسدود کردیا۔ مرسی کے ایک سالہ مشکل دور ِحکومت میں اُنہیں سعودی عرب سے چار اور قطر سے تین ارب ڈالر کی امداد کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا،جبکہ غاصب حکومت دوماہ میں اس سے کہیں زیادہ گرانٹیں پا چکی ہے۔مرسی کو اپنی حکومت میں مغرب کے اسی رویے کا سامنا کرنا پڑا جو قبل ازیں فلسطین میں اکثریت سے منتخب ہونے والی حماس کی جمہوری حکومت سہہ چکی ہے۔ اخوان المسلمین کے اعلیٰ رہنما عامر دراغ کے مطابق

''تمام تر جمہوری تقاضے پورے کرنے کے باوجود اُن کے پاس حکومتی اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے، حسنی مبارک دور کی فوج، پولیس اور نوکر شاہی نہ صرف احکامات کی تعمیل سے انکاری تھی، بلکہ ملک میں امن وامان کی بحالی اور لوٹ مار کو روکنے کی کوششوں میں روڑے اٹکا رہی تھی۔ ان ریاستی ستونوں کے ساتھ ساتھ حسنی مبارک سے ذاتی وفاداری کی بنا پر مسلط کی گئی عدلیہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکومت کے ہاتھ باندھے ہوئے تھی۔''

عدلیہ کے جانبدارانہ فیصلے، لبرل میڈیا کی انتشار پسندانہ پالیسی، عالمی قوتوں کی سرد مہری بلکہ نفرت پرمبنی اقدامات نے مصری فوج کے لئے بآسانی وہ حالات پیدا کردیے کہ پہلی ہی وارننگ پر اُنہوں نے بساطِ حکومت لپیٹ کر اعلیٰ عدلیہ کے اشتراک سے جمہوریت پر شب خون مار لیا۔ جنرل سیسی نے چیف جسٹس عدلی منصور کو سربراہِ حکومت قرار دے کر، یہ واضح کردیا کہ یہ سب ایک گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور عدلیہ کو اہم ترین عہدہ دے کر گویا اس اقدام کے قانونی حیثیت کے جائزہ لینے کا راستہ بھی اُنہوں نے مسدود کردیا۔

غاصب حکومت نے جس عجلت میں حکومت پر قبضہ جمایا ، جب کہ باوجود بھرپور کوشش کہ وہ صدر مرسی کی حکومت پر کوئی واضح الزام عائد کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، اس سے ان کی اخلاقی کمزوی اور حالات پر عدمِ کنٹرول کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مادی ترغیبات، اور دنیوی تعیشات میں لتھڑے ہوئے لوگ، اس جواں مردی اور جذبہ و حمیت سے تبدیلی کا کبھی مستحکم تقاضا نہیں کرسکتے اور دنوں میں بکھر جاتے ہیں۔ مصر میں 'تحریک تمرد 'کی اخلاقی حیثیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 29 جون تا 2 جولائی2013ء کے دوران قاہرہ کے 'التحریر سکوائر' میں ہونے والے تین روزہ سیکولر احتجاج میں عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق 96 خواتین کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ2 بنایا گیا اور اس پر مصر میں حقوقِ نسواں کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں واویلا کررہی ہیں۔ بعد ازاں غاصب حکومت کا، آغازِ کار میں بعض دینی تنظیموں کو اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کرنے کا جھانسہ دینا، اخوان المسلمین کو ثالثی کے لئے آمادہ کرنا، شیخ الازہر کی سربراہی میں مفاہمت کمیٹی کا قیام، اور مصری عوام سے آئے روز کی جانے والی اپیلیں یہ واضح کرتی ہیں کہ غاصب اپنے انجام سے کس قدر پریشان اور اُس کے لئے ہرطرح ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ پھر میدانِ رابعہ عدویہ میں اخوان کے احتجاجی اور مکمل پرامن دھرنوں سے اُن کی اپیلیں اور آخر میں ان پر بدترین تشدد، نامور قائدین کو دھمکانا، ان کے عزیزوں کو شہید کرنا، اور اُن کو گرفتار کرلینا وغیرہ جیسے سنگین اقدامات حکومتی عناصر کی کمزوری اور ہر صورت میں حالات میں قابو پانے کی ناکام کوششوں کا مظہر ہیں۔

عالمی اداروں کی تحریص و ترغیب تو سمجھ میں آتی ہے کہ مصر جیسا اہم مسلم ملک اگر اُن کے ہاتھ سے نکل کر اسلام کا گہوارا بن جاتا ہے تو اس سے مغربی و امریکی غلبہ اور عالم اسلام میں ان کے مفادات پر کاری ضرب لگتی ہے۔آج شام پر ہونے والی ممکنہ عالمی جارحیت میں مصر کی اسلامی حکومت سے قائدانہ کردار کی توقع ہوتی ۔اُن کی ہر ممکنہ کوششوں کی وجوہات واضح ہیں لیکن ملتِ اسلامیہ کو حقیقی افسوس تو مصر کی معتبر ترین مذہبی قیادت شیخ الازہر احمد الطیب سے ہے، جنہوں نے شرعی مصالح اور گھمبیر حالات کا گہرا اِدراک کئے بغیر غاصب حکومت کے جواز کا فتویٰ جاری کردیا۔ یہ وہ پہلا شب خون تھا جو گھر کے اندر سے کیا گیا، پھر اس کے بعد سعودی حکومت کی طرف سے غاصب حکومت کو مبارکباد اور اس کی مالی امداد کا اعلان، بعد کے دنوں میں بھی بے مقصد بیان بازی جس سے مظلوم حکمرانوں کو کوئی تائید حاصل نہ ہوسکے۔ افسوس اس پر بھی ہے کہ او آئی اسی اور عرب تنظیم وغیرہ کی طرف سے آج تک کوئی معقول اقدام سامنے نہیں آیا۔ پاکستان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مصر میں جمہوری حکومت پر مارے والے اس شب خون کی مذمت کرے، جب کہ بارہ برس قبل وہ خود ایسے ہی المیہ کا شکار ہوچکی ہے اور اس ظلم کی شدت کو بآسانی سمجھ اور محسوس کرسکتی ہے۔پاکستان کی دینی جماعتوں بالخصوص جماعۃ الدعوۃ بھی خاموش ہے، جو غلبہ اسلام کے نام پر پاکستان بھر سے صدقات جمع کرتی ہے، کیونکہ اس مذمت واحتجاج سے فوج کی عظمت پر زَد پڑتی ہے۔اُمّتِ اسلامیہ کے حکمران اور ملّی ادارے اس قدر بانجھ ہیں یا ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ملت کا درد سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ کم از کم کسی مسلمہ برائی پر کھلی مزاحمت کی بجائے ، اس کی رسمی مذمت ہی ضروری سمجھی جاتی۔ اس سے بہتر تو وہ یورپی یونین ہے جس کی چیئرپرسن کیتھرن ایشٹن نے مرسی سے باضابطہ پہلی ملاقات کرکے، رسمی طور پر ہی سہی، لیکن اس کی اخلاقی حمایت کرکے مسلم قیادت کو شرمندہ کردیا۔ازہر کے سربراہ کے اسی ناروا اقدام کا یہ نتیجہ ہے کہ بغاوت کے بعد کے دنوں میں جنرل سیسی کی طرح ازہر یونیورسٹی سے 'اُرحل شیخ الازہر، ارحل شیخ الازہر' (یعنی گو، گو) کے بینر لئے اساتذہ وطلبہ کی ریلیاں نکلتی رہیں۔ایسے ہی سعودی حکومت کے گومگو والے بیانات کا کفارہ سعودی عرب کے 56 علما کے ایک مشترکہ بیان نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے، جنہوں نے صدر مرسی کی حکومت کے خاتمے کوظلم وفساد سے تعبیر کرتے ہوئے قرار دیا ...

"الانقلاب لم يكن انقلابًا تصحيحيًّا ولكنه انقلاب لإقصاء التيارات الإسلامية والوطنية، ومنع الاستقلال الحقيقي لقرار مصر وسيادتها... لا يدافعون عن الإخوان المسلمين، بل عن الحق، ونقف مع المظلوم ومع حقوق الشعب المصري المعتدى عليها... اتهم الغرب بالوقوف مع الاستبداد والعُنف إذا كان ضدّ الشعوب المسلمة، سواء كانت تواجه حرب إبادة كما في سوريا، أو انقلابًا ومصادرة للحقوق كما في مصر، لافتًا إلىٰ أن الغرب بمعاييره المزدوجة يدفع المنطقة للفوضى ويؤسس لثقافة العُنف... العالم كله ووسائل الإعلام أن يتقوا الله في مصر وأهلها، وأن ينحازوا للحق، أكد على دعم المطالبين بعودة الرئيس المنتخب الدكتور محمد مرسي"

''مصر ی انقلاب مصلحانہ ہرگز نہیں بلکہ اسلام اور مصری قومی مصالح کے خلاف ہے، جس میں مصر ی فیصلوں کی آزادی اور اس کی حاکمیت پر ضرب ِکاری لگی ہے۔...ہم اخوان المسلمین کی بجائے حق کے دفاع میں اُن کے ساتھ ہیں، مظلوم کے ساتھ اور زیادتی کی شکار مصری قوم کے ساتھ کھڑے ہیں...مغرب کا قصور یہ ہے کہ جب مسلم معاشروں کا مسئلہ ہو تو وہ ظلم وتشدد کا حامی ہوتا ہے، جیسا کہ شام کو نابود کرنے کی جنگ اور مصر میں اس کا یہ دوہرا رویہ بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ مغرب کے یہ دوہرے معیار عرب معاشرے کو افراتفری اور انتہاپسندی کے کلچر کی طرف لے جارہے ہیں... دنیا بھر اور میڈیا کو مصر اور اس کے شہریوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے، حق کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے اور یہ بیان مظاہرین کے اس مطالبے کی مکمل تائید کرتا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کو بطورِ صدر واپس لانا چاہئے۔''

مذکورہ بیان پر دستخط کرنے والے علما میں عبد العزیز بن عبد المحسن الترکی، حسن بن صالح الحمید، عبد العزیز بن محمد الفوزان اور محمد بن سلیمان البراک کے نام نمایا ں ہیں۔ سعودی علما کا یہ بیان ان ائمہ حرمین کے خطابات کے مماثل ہے جس میں وہ سرکاری پالیسی کے خلاف اپنے ایمان پرور موقف کو شاذ ونادرمنبر نبویؐ سے پیش کرتے رہتے ہیں۔ یا مذکّرة النصیحة نامی اس مشترکہ یادداشت کی مانند ہے جو 20 برس قبل سرزمین حرمین پر امریکی افواج کی آمد کے موقع پر 200 سعودی علما نے پیش کی تھی۔سعودی عوام میں مصر کے بارے میں حساسیت اس قدر زیادہ ہے کہ میڈیا کے مطابق ریاض کی ایک مسجد میں گذشتہ دنوں جنرل سیسی کی حمایت کرنے پر وہاں کے نمازی اس سے اُلجھ پڑے اور اس کوبچانے کے لئے پولیس کو آنا پڑا۔

مصر انتہاپسندی اور خانہ جنگی کے راستے پر

پاکستان اور مصرکے حالات میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، ان دونوں ملکوں کی افواج اپنے ہی عوام کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اپنے کلمہ گو بھائیوں اور اپنے ہم وطنوں کو نشانہ بنانا بڑا دل گردے کا کام ہے۔گو کہ پاکستان میں حالیہ انتخابات میں عوام نے ان جماعتوں کو واضح مینڈیٹ سے نوازا ہے جو عوام اور فوج کے مابین گولی سے فیصلہ کی بجائے مفاہمت ومعاہدوں کی نہ صرف قائل بلکہ داعی بھی ہیں اور اس طرح عوام کا ایک واضح موقف سامنے آگیا ہے۔ تاہم اس پر ابھی حکومت اور فوج کے درمیان کلی مفاہمت اور اتفاقِ رائے باقی ہے۔ پاکستان میں ماضی کی جارحانہ کاروائیوں سے ملک بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوچکا ہے اور عوام پاکستان کے جان ومال غیرمحفوظ ہیں۔ حکومت اب معاہدوں کی بات تو کرتی ہے لیکن یہ سلسلہ اتنا اُلجھ چکا ہے کہ کبھی عالمی سیاست کے مہرے اس امکان کو دھندلا کر بداعتمادی کی فضا تان دیتے ہیں تو کبھی ماضی کے تلخ واقعات، ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے میں گریز کا سبب بنتے ہیں۔ اس سب کے باوجود جب حکومتی ادارے، اس جوابی تشدد اور قتل وغارت پر قابو پانے اور عوام کو تحفظ دینے میں لگاتار ناکام رہے ہیں اور انتشار پسند جب چاہیں دہشت گردی میں کامیاب ہوجاتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مزید عوامی ہلاکت خیزی کی بجائے حکومت کے پاس مفاہمت کے علاوہ اب کوئی آپشن ہی باقی نہیں ہے۔

یہ تلخ صورتحال مصر اور اس کے حالیہ حکمرانوں کے لئے عبرت کا بہت سا سامان رکھتی ہے۔ مصر میں فوجی جوان، اپنے ہی مسلم بھائیوں پر سنگینیں کھول دیتے ہیں اور اُن کو یہ حکم جاری کرنے والے لمحہ بھر کے لئے اُس کے سنگین نتائج پر غور نہیں کرتے۔ فوجی بھی اپنی تنخواہ اور فوج کے داخلی نظم کے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے خون کی ہولی کھیلتے ہوئے اپنے دین وایمان کے کھلے تقاضوں سے صرف ِنظر کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں رکنے کا نہیں بلکہ یہ صرف نقطہ آغاز ہے، اس کے بعد اس مصری المیہ میں اتنے بہت سے عناصر داخل ہوجائیں گے کہ اصل تصویر دھندلی ہوتی جائے گی اور ڈور کے سرے اُلجھتے جائیں گے۔ ظلم وستم پر قائم نظام ہو یا کسی مستحکم نظریے کی بنیاد پر مزاحمت، ان کا اختتام کبھی ختم نہیں ہوتا...!!

آج مصر کے احتجاج کرنے والے اس قرآنی آیت کو اپنا شعار بنا رہے ہیں:

﴿وَسَيَعلَمُ الَّذينَ ظَلَموا أَىَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبونَ ﴿٢٢٧﴾... سورة  الشعراء

''عنقريب ظلم كرنے والے اپنے انجام کو جان جائیں گےکہ کہاں اُنہیں لوٹنا ہے۔''

مصر میں جبر وتشدد کے اس آغاز پر اُنہیں متوجہ رہناچاہئے کہ مخالفین کو اس حد تک نہ پہنچا دیں جہاں سے واپسی کا راستہ مسدودہو اور اس کا نتیجہ بھاری قومی اور ملی نقصان کی شکل میں ملے۔ بالخصوص اس وقت جبکہ بزورِ قوت لپیٹی جانے والی حکومت واضح قانونی اور جمہوری جواز رکھتی ہے اور اس کے ساتھ عوام کی کھلی اکثریت بھی ہے۔ ایسی صورت حال میں عوامی اور جمہوری قوت کے ساتھ ساتھ اسلام کی نظریاتی تائید بھی اُنہیں میسر ہوجائے تو پھر دنیا کا بدترین ظلم بھی اُن کا راستہ نہیں روک سکتا۔ آخر کار فوجی حکومت کو مظلوموں کو اُن کا حق دینا ہی ہوگا، اور جتنا ظلم وہ کریں گے، اس کے مکافات کے لئے اُنہیں تیار رہنا چاہئے۔

مصر کے22 میں سے 16 صوبوں [محافظات] میں صدر مرسی کے حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور حالیہ ظلم وستم نے اس حمایت کو مزید وسیع کردیا ہے۔ ان حالات میں کوئی بھی قریبی انتخاب پہلے سے زیادہ دینی جماعتوں کو اکثریت عطا کرے گا۔ مصر کے ان علاقوں میں ہی سیکولر باشندوں کی اکثریت پائی جاتی ہے جو بڑے شہروں اور اس کے گرد ونواح ہیں لیکن یاد رہے کہ وہی پورا مصر نہیں ہیں۔

2. جمہوریّت کے ذریعے غلبہ اسلام

مصر کی صورتحال میں اسلامی تحریکوں کے لئے غلبہ اسلام کی حکمتِ عملی کے حوالے سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ جمہوریّت کے ذریعے اسلام کو غالب کرنے کی داعی جماعتیں، یہ تجربہ ترکی، الجزائر، فلسطین، تیونس، لیبیا اور مصر میں زبانِ حال سے دیکھ رہی ہیں۔ جبکہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے حالات بھی اس جمہوری ماڈل پر چل رہے ہیں۔ طالبان کے افغانستان، انقلابِِ ایران اور سعودی عرب میں بھی اسلامی نظامِ حکومت کے کامیاب تجربات ہوچکے ہیں۔ جمہوریت کے ذریعے غلبہ اسلام کی کوششوں کا سوال دینی تحریکوں میں ایک طرف نظریاتی وشرعی پہلو اور دوسری طرف واقعاتی امکانات کے حوالے سے اہم ترین موضوع ہے۔

مسلم معاشروں میں بہت سی تحریکیں اس فکر کی حامل ہیں،بالخصوص سلفی نقطہ نظر یہ ہے کہ سیاسی غلبہ کے طور پر اسلام کے فی الفور نفاذ کو حاصل کرلینے کی بجائے، لوگوں کو اندر سے بدلنے اور سب سے پہلے اُنہیں اپنی ذات پر اسلام کو نافذ کرنے کے لئے تیار کرنا چاہئے۔ اگر کوئی فرد اپنے اوپر، اپنے خاندان اور کنبہ برادری پر اسلام نافذ کرنا چاہے تو اس میں آج بھی کوئی رکاوٹ نہیں۔ اس کے لئے اس امر کا تقاضا کہ کوئی باہر سے آکر جب تک اُنہیں پابند کرکے اسلامی معاشرت پر مجبور نہیں کرے گا، وہ اسلامی اجتماعیت کے تقاضوں پر عمل پیرا نہیں ہوں گے، عذرِ لنگ کے سوا کچھ نہیں۔آج مسلمان اگر خلوص دل سے چاہیں توازخود غیرسودی معیشت، سیکولر تعلیم، فحاشی پر چلنے والے ذرائع ابلاغ سے بچ سکتے اور بڑی حد تک سیکولر قانون کی بجائے شریعت سے اپنےاختلافات حل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ذہنی آمادگی اور عزمِ صمیم کی ہی کمی ہے کہ وہ اسے بھی اسلام کا تقاضا سمجھیں۔

جبکہ مسلمان معاشروں کی حقیقی صورتحال اور دین سے تعلق کو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں، سودی اور بینکی لین دین سے بچنے اور پوری زکوٰۃ دینے والوں، دینی تعلیم بالخصوص قرآن کا ترجمہ جاننے والوں، اورفلم ومیوزک ، فحاشی وعریانی سے اجتناب کرنے والوں کی تعداد سے بخوبی جانچا جاسکتا ہے۔ خواتین میں شرعی حجاب کا اہتمام کرنے والیاں اور مردوں میں داڑھی کی شرعی پابندی سے مسلم معاشروں کےشخصی رجحانات کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ ان تمام میزانوں اور شرعی تقاضوں میں امت اسلامیہ کی صورتحال شرم ناک حد تک خراب ہے۔ جب مسلمان خود سے دین پر عمل پیرا نہیں، تو کیا وہ حکومتی جبر کا انتظار بلکہ اسے دعوت دیں گے، کہ وہ انہیں تمام تر اجتماعی تقاضوں میں دین اسلام کے مطابق چلائے۔ مسلم معاشروں میں احیاے اسلام کی مؤثر جدوجہد اور دعوت و تعلیم کے موضوعات کو فرد کی تربیت سے بڑھا کر معاشرت کے اسلامی تقاضوں تک بھی وسیع کرنا ہوگا اور رضا کارانہ طور پر لوگوں کو اس اسلامی معاشرے کی طرف پیش قدمی پر آمادہ کیا جائے۔ اسلام صرف مسجد کا ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کا دین ہے۔یہ عبادات کا ہی کوئی خاص ڈھانچہ نہیں بلکہ کامل نظامِ حیات بھی ہے۔

اگر مسلمانوں کی بامقصد تیاری کے بغیر کسی حادثاتی یا وقتی وجہ سے ان پر خاص حالات میں دینی تحریکیں غلبہ حاصل بھی کرلیں تو بعض صورتوں میں یہ بے عمل مسلمان خود اس اسلام کو ترک دیتے ہیں اور بعض صورتوں میں عالمی الحادی تہذیب کے کل پرزے منظّم حکمتِ عملی کے ذریعے اسلام کی اس برکت سے اُنہیں محروم کردیتے ہیں۔ پہلی صورت کی مثال کے طور پر پاکستان کا نام لیا جاسکتا ہے جہاں اسلام کے نام پر لوگ اسلامی جماعتوں کو اَب ووٹ ہی نہیں دیتے اور اگر کوئی اسلامی قدم اُٹھایا بھی جائے تو اس کے خلاف اپنی لاعلمی اور جہالت کی بنا پر متفق بھی ہوجاتے ہیں۔ اور دوسرے کی مثال کے طور پر جہاں عالمی ادارے جمہوری بنیادوں پر کامیاب ہونے والی اسلامی حکومتوں کا چلنا دوبھر کردیتے ہیں، فلسطین، الجزائر اور مصر کا نام لیا جاسکتا ہے۔ یہاں بھی عالمی لابی کے ایجنٹ دراصل مسلمانوں میں وہ منتشر الخیال اور بے دینی کے رسیا، نام کے مسلمان ہوتے ہیں جو عشروں سے چلے والے استعمار کی مدد سے قوت کے مراکز پر بھی قابض ہوچکے ہیں۔مغرب کا طریقہ واردات ہمیشہ سے سامنے سے حملہ کرنے کی بجائے، پیچھے سے سیکولر مسلمانوں کی تائید سے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا رہا ہے۔ مسلم اُمہ کا اصل المیہ اس وقت یہی وہ نام نہاد مسلمان ہیں جو دو صدیوں کے استعماری تغلب وتسلط اور مغربی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں اسی طرزِ فکر وعمل کے اسیر ہوچکے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کا یہ عملی، فکری اور نظریاتی بحران ہردو صورتوں میں اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اسلام کو آج بھی اصل خطرہ غیروں کی بجائے اسلام کا نام لینے والے ان مسلمان بھائیوں سے ہے جو نہیں جانتے کہ اسلام یہودیت وعیسائیت کی طرح محض خاندانی یا موروثی مذہب نہیں ہے۔مصر کا حالیہ المیہ لبرل ، سیکولر اور دین دار مسلمانوں کے باہمی اختلاف کا ہی شاخسانہ ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عبادات کی پابندی کے ساتھ ساتھ اسلام کا نام لینے والے ہر فرد کی ذہنی تشکیل اور فکری شخصیت کی طرف بھی توجہ دی جائے اور بظاہر کوئی تنظیم اس کی طرف متوجہ نہیں۔ سلفی تحریکات یا روایتی مسالک مثلاً بریلوی، دیوبندی وغیرہ عبادات اور مسائل کی تحقیق وترجیح کے نام پر مسائل وعبادات تک محدود ہیں۔ دورِ استعمار میں وہ اس طور پر سیکولر ہوچکے ہیں کہ وہ مذہب کو صرف مسجد ومدرسہ تک محدود رکھتے ہیں اور مسلم معاشرہ کے مسائل اور اُن کی رہنمائی سے غافل ہیں، جب کہ واضح ہے کہ ماضی میں فقہی رجحانات نہ تو فرقہ واریت کے زہر کا شکار تھے او رنہ ہی معاشرے کے زندہ مسائل سے لاتعلق۔

دوسری طرف ماضی کی جماعتِ اسلامی، اخوان المسلمون اور حزب التحریر وغیرہ جیسی تحریکیں کافی عرصہ سے تعلیم وتربیت اوراجتماعی تقاضوں کی تشکیل کو نظرانداز کر کے حصولِ حکومت کی سیاسی جدوجہد میں اپنا آپ کھپا چکی ہیں، اُنہیں اپنے اصل کام کی یکسوئی سے فرصت ہی میسّر نہیں ہے۔نیز اصلاحِ عقائد اور اسلام پر بہترعمل پیرا ہونے کے حوالے سے وہ اچھے معیار پر کاربند نہیں رہ سکیں۔ ان حالات میں تعلیم وتربیت سے بے بہرہ سیکولر مسلمانوں کا طبقہ میڈیا کے ذریعے روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ مصر کے حالات میں بھی دیکھا جائے تو یہی طبقہ اہل کفر کے مقاصد کا آلہ کار بنتا ہے، لیکن اس آلہ کاری سے قبل، ان کے ہاں عملی و نظریاتی انحراف اور مادیت زدہ طرزِ حیات کا زہرسرایت کئے ہوتا ہے۔

مسلمانوں کے ان رجحانات کو جاننے کے بعد جمہوریت کے ذریعے غلبہ اسلام کی کوششوں کے بھی تین گروپ کئے جاسکتے ہیں: پہلا گروپ الجزائر، فلسطین اور مصر کا ہے۔ جہاں انتخابات میں غیر معمولی اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اسلامی جماعتوں کی حکومتوں کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور اُنہیں چلنے نہیں دیا گیا۔ان ممالک میں اسلامی جماعتوں کو غیرمعمولی کامیابی تو ضرور ملی لیکن جمہور ی نظام پر کاربند نظامِ حکومت میں دیگر حکومتی ومعاشرتی عناصر مثلاً عدلیہ، فوج، میڈیا اور تعلیمیہ میں موجود جمہوری لبرل اقدار نے اُن کے راستے میں مزاحمت کرتے ہوئے ، تیزی سے اسلام کی سمت اُن کی پیش قدمی ناممکن بنا دی۔ اس طبقے نے اسلام کی اوپر سے تنفیذکو قبول کرنے کی بجائے،اس مغرب کی طرف دیکھنا شروع کیا، جس طرز ِحیات کے وہ عادی ہوچکے ہیں،نتیجتاً وہ غیروں کے لئے استعمال ہوگئے۔جمہوریت کے داعی بظاہر پارلیمنٹ کی برتری کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ پارلیمنٹ صرف قائدانہ کردار ادا کرتی ہے، اس منزل کی طرف جس کو جمہوریت کے دیگر عناصرنے پہلے سے متعین کیا ہوتا ہے۔اگر یہ پارلیمنٹ دوسری سمت چل پڑے تو جمہوریت کی روح اور دیگر سیاسی جمہوری ادارے یعنی عدلیہ، فوج، میڈیا، تعلیمیہ اور ثقافتی ومعاشرتی ادارے غیروں کی مدد سے اُسی کی بساط لپیٹ دیتے ہیں۔

جمہوریت کے ذریعے غلبہ اسلام کی کوششوں کا دوسرا گروپ ترکی، تیونس اور ملائیشیا وغیرہ ہیں۔موجودہ حالات میں ترکی اور تیونس میں اسلامی جماعتوں کی حکمتِ عملی یہ ہےکہ برسر اقتدار آنے والوں نے وسیع تر مفاہمت اور نظریاتی میدان میں غیر معمولی حد تک 'روا داری' اور تحمل وبرداشت کا اظہار کیا ۔ اُنہیں ملک کے داخلی اور عالمی نام نہاد برادری کے رجحانات کا بخوبی اندازہ ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ سالہا سال حکومت کے بعد بھی کچھ نہیں کرسکے۔ترکی ابھی تک انتہائی آہستہ روی سے اسلام کی طرف پیش قدمی کررہا ہے اور تیونس کے النهضة پارٹی کے صدر راشد الغنوشی تو اس حد تک اسلامی تحریک کے نمائندہ ہیں کہ ماضی قریب میں اقوامِ متحدہ نے اُنہیں انسانی حقوق ایوارڈ دیا اور عرب دُنیا کے بہت سے سکالر اُن کے لبرل افکار پر کڑی تنقید کرچکے ہیں کہ وہ اسلام سے زیادہ مغربی افکارسے متاثر ہیں۔ ان دونوں ممالک میں اس سے زیادہ اسلام کو کچھ حاصل نہیں ہوا کہ مغرب کا پیش کردہ ریاستی ارتقا کا ماڈل اسلام پسندوں کی قیادت میں زیرعمل ہے، یعنی ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری، فی کس آمدنی میں اضافہ،نظم وضبط اور صنعت ومعیشت کی بہتری وغیرہ، یہ وہی اہداف ہیں جو ایک مغربی ریاست حاصل کرتی ہے، جبکہ اسلامی ریاست تو قرآن کی زبانی ''اگر ہم زمین میں حکومت عطا کریں تو وہ اقامتِ صلوۃ اور ایتاے زکوٰۃ کریں گے، برائی سے ممانعت اور خیر کی ترویج کریں گے۔''کے مطابق پورے معاشرے کو اللہ کا بندہ بناتی ہے اور اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اس سرزمین کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ دنیا جہاں کے خزانےکھول دیتا ہے۔

تاہم اسلامی حکومت کافائدہ یہ ہے کہ ترکی میڈیا میں اسلام پسندوں کی جمہوری کامیابی کے بعد آہستہ روی سے اسلامی اقدار سے نفرت کو کم کیا جارہا ہے، لیکن اُس کی حالت بھی یہ ہے کہ ترکی ڈراموں میں بے انتہا فحاشی پائی جاتی ہے، پاکستان میں متعارف ترکی ڈراموں نے انڈین فلموں کو بھی مات کردیاہے اور طیب اردگان کی حکومت نے یہ سب گوارا کررکھا ہے۔ ترکی معاشرہ کوقریب سے دیکھا جائے تو وہ کسی طرح اسلام کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں۔ ترکی کے'تقسیم سکوائر' کا حالیہ مخمصہ بظاہر ایک پارک کی تعمیر کا ہے،درحقیقت ایک عظیم مسجد کی مجوزہ تعمیرسے اسلامی ثقافت کی نمائندگی، اور شراب کے خلاف حالیہ ترک قانون سازی نے یہ اُلجھن کھڑی کی ہے، جبکہ شراب کے خلاف یہ قانون سازی مغربی ریاست برطانیہ میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ترکی کا بین الاقوامی کردار یہ ہے کہ طیب اُردگان کی حکومت نے 12 سالہ حکومت اور تین بار جمہوری انتخاب جیتنے کے باوجود اسرائیل کے بارے میں تو کوئی پیش قدمی نہیں دکھائی تاہم شام میں جاری مسلم خانہ جنگی میں اپنا حصّہ ضرور ڈالا ہے۔یہ کیا کارنامے ہیں جس پر جمہوریت پسند، اسلامی جماعتیں ترکی میں اسلامی حکومت کا کریڈٹ لینا چاہتی ہیں۔ملائیشیا میں بھی صنعتی و مادی ترقی توہوئی ہے لیکن وہاں اسلام کس قدر پروان چڑھا ہے، اس کا اندازہ آپ کو ملائشیا کی پاکستان میں تعلیمی نمائشوں Expo میں پائے جانے والے کلچر اور سیکولر تعلیم کے ذریعے بخوبی ہوسکتا ہے۔

تیسرا گروپ پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ کا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں جمہوریت کا تجربہ سالہا سال سے جاری ہے اور جمہوریت کے ثمرات کو جاننے سمجھنے میں ہم دیگر عرب دنیا سے کافی آگے ہیں۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ یہاں سیاست سے اسلام کا حوالہ ہی خارج ہوچکا ہے، اور کسی سیاسی تو کجا مذہبی جماعت نے بھی حالیہ الیکشن میں نفاذِ اسلام کے نعرے کو پیش نہیں کیا، کیونکہ اس سے عوام کی دلچسپی ، اور اس بنا پر کامیابی کے امکانات کافی مخدوش ہیں۔

الغرض جمہوریت کے ذریعے اس سے زیادہ پیش قدمی ممکن نہیں جتنی ترکی یا تیونس میں ہورہی ہے کہ اسلامی جماعتوں کی قیادت میں ملکی ترقی کی طرف بڑھا جارہا ہے اور اسلامی تقاضے پس پشت ہیں۔صرف اسلام سے نفرت کو بتدریج کم کرنے اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کی کوشش اس کا ثمرہ ہے اور یہ 'سنگین جرم' بھی مغربی حکومتوں کو گوارا نہیں۔یہ مقاصد تو پاکستان میں تحریکِ انصاف یا نواز لیگ کی حکومتیں بھی کسی حد تک پورے کرسکتی ہیں۔اگر جمہوریت کی بنا پر ہی اسلام کے لئے آگے بڑھنا ہو تو اس کے لئے کئی سالوں پر محیط قومی تربیت کرنا ہوگی۔اس درمیانی اور عبوری دور میں دوصدیوں کا پھیلایا ہوا گند صاف یا کسی درجے کم ہوجائے تو یہ بھی بہت کافی ہے۔ اس دوران مغربی ماڈل پر بظاہر چلتے ہوئے آہستہ آہستہ لوگوں کو اسلام سے دوبارہ منسلک کیا جائےاور اسلام کو لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں اُتارا جائے، اسلام کے خلاف نفرت کو کم کیا جائے۔ جمہوریت کے ذریعے اس سے زیادہ کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی اسلامی حکومت جمہوریت کے پردے میں اس سے زیادہ پیش قدمی یا تیز رفتاری دکھائے گی تو یہ اسلامی جماعتوں کی سیاسی بساط کو لپیٹنے کی طرف جائے گی، جیسا کہ مصر کی صورتحال میں یہ واضح ہوچکا ہےکیونکہ اس طرح وہ عالمی قوتوں کے لئے اس امر کا راستہ ہموار کریں گے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے مسلم معاشرے کی مؤثر اقلیت یعنی بے عمل اور منتشر خیال طبقات کو استعمال کرسکیں۔

دھیرے دھیرے جمہوریت کے ذریعے اسلام کی طرف پیش قدمی بھی اس وقت ممکن ہے جب اسلامی تحریکوں کی قیادت کو اپنے نظریہ اور مقصد کے بارے کوئی ابہام نہ ہو اور یہ محض ان کی سیاسی حکمتِ عملی ہو ۔ کیونکہ جمہوری نظام پر فی الواقع یقین رکھنے والے کبھی بھی اسلام کی منزل کو نہیں پاسکتے۔ اسلام اور جمہوریت اپنے نظریے اور نظام کی بنا پر دو باہم متضاد نظام ہیں۔مغرب کا طرز ِسیاست ومعاشرت اور مقصد وہدف بالکل مستقل اور جداگانہ ہے، اور اسلام کے تقاضے اس سے بالکل مختلف... مغرب انسان کو نفس کا بچاری بنا کر ، دنیا کو خواہشات کا مستقر بنانا چاہتا ہے اور بس، اس کی دنیا میں خالق کی اطاعت اور آخرت کی تیاری کا کوئی شعور نہیں جبکہ اسلام اس دنیا کو آخرت کے لئے کھیتی کا درجہ دیتا ہے، تاہم اسلام میں بھی فلاحِ معاشرہ، مطمئن وپرسکون طرزِ حیات اور دنیوی ترقی وامن وامان کا اپنا تصورموجود ہے۔ سیاسی میدان میں اس غیرمعمولی مفاہمت کا یہ تقاضا بھی ہوگا کہ جمہوریت کے غیر اسلامی ہونے کے باوجود، اس کی کھلم کھلا مخالفت سے اجتناب کرنا ہوگا کیونکہ دنیا کا سکہ رائج الوقت یہی ہے اور ابھی عام مسلمان تو کجا بڑے پڑھے لکھے مسلمان بھی اس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہیں اور علماے کرام بھی اس کی شان میں رطب اللسان رہتے ہیں۔

اندریں حالات کرنے کااصل کام یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں موجود روایتی تحریکیں اعتقادات و عبادات پر لوگوں کو مزید مستحکم کرکے، فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر آخر کار اہل اسلام کو معاشرتی تقاضوں کی طرف بھی متوجہ کریں۔ ان کا اسلام مسجد ومدرسہ یا پرائیویٹ زندگی تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے۔اگر وہ معاشرے کے اندر رہتے ہوئےایک اور معاشرہ تشکیل دے جائیں تو یہ بہت بہتر کامیابی ہے، پھر جوں جوں اس ذیلی معاشرے کے لوگ بڑھتے جائیں گے، توں توں اللہ کی نعمت سے انہیں وسیع تر خلافتِ ارضی حاصل ہوتی جائے گی۔یہی کام ترتیب کے لحاظ سے بھی پہلا ہے اور اس کا نتیجہ بھی محفوظ ہے، تاہم اس کو توسیع دی جانا چاہئے۔ دنیا بھر میں سلفی تحریک اسی کی تلقین کرتی ہے، جیسا کہ اسی شمارے میں موجود سلفی قائد علامہ ناصر الدین البانی کا مضمون اس سلسلے میں واضح رہنمائی کرتا ہے، جبکہ سیاسی اسلام کے حالات ابھی بہت کچھ صبر واحتیاط کے متقاضی ہیں۔

موجودہ حالات میں صدر مُرسی کی کوتاہی

مصر میں اسلامی اقدامات کی طرف تیز تر پیش قدمی نے آخر کار مرسی حکومت کے لئے برسراقتدار رہنا ناممکن بنا دیا۔ حالات کا درست اِدراک کرنے، مغرب زدہ طبقے کی قوت اور چلت پھرت کا صحیح اندازہ کرنے میں اُنہیں غلطی ہوئی۔ صدر مرسی جو گرفتاری سے چند گھنٹے قبل مفاہمت کی کال دے رہے تھے، اُس سے پہلے اپنی کمزور حیثیت کا ادراک نہ کرسکے۔ اس کے بجائے اگر وہ آہستہ روی کو اختیار کرتے ہوئے، اپنے اقتدار کو پانچ سال تک وسیع کرتے تو اس طرح وہ اپنی حکومت کو طول دے سکتے تھے۔30 سال سے فرعونی آمریت میں لتھڑا معاشرہ اس سے زیادہ تحمل کا متقاضی تھا جتنی اُنہوں نے دکھائی۔ اسی طرح سلفی پارٹی'النور'سے مخالفت مول لینے کی غلطی نہ کرتے، ہر صورت اس کو اپنی صفوں میں شامل رکھتے اور دوسری طرف ملحد طبقات کے لئے بھی مزید قابل قبول بنتےتو آج مصر اس قدر جلد خانہ جنگی کے حالات سے دو چار نہ ہوتا۔ قیادت کو ان درپیش حالات کا پورا اِدراک ہونا چاہئے۔

مصر میں اسلامی جماعتوں کی انتخابات میں 72 فیصد کامیابی کے بعد، مصرکی سیاسی قیادت کو یہ جاننا چاہئے تھا کہ اتنی بڑی اکثریت حقائق کی ترجمانی کی بجائے، مخصوص آمرانہ حالات کے ردّ عمل کا شاخسانہ ہے اور مصری قومی ادارے بھی اپنی قوت کے ساتھ بہر طور موجود ہیں۔ آغاز میں اخوان کی یہ حکمتِ عملی کہ وہ اپنا صدر نہ لائیں گے، اسی امر کی عکاسی کرتی ہے کہ انہیں اس کا پوری طرح احساس تھا کہ اس طرح کے حالات میں قیادت پر کتنی بھاری بھرکم ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے، جس کا اکیلے سامنا کرنے کی بجائے اُنہیں اس بوجھ میں دوسرے مخلص لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہئے تھا۔

اہل پاکستان کو یاد ہوگا کہ نواز شریف نے بھی مئی2013ء میں منعقدہ قومی انتخابات کے موقع پر اسی دور اندیشی کا اظہار کیا تھا کہ وزیر اعظم بننے سے قبل وہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحد کے حوالے سے حکومتی کار پردازان کے رجحانات کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ اگر پالیسی میں کسی اساسی تبدیلی آنے کا امکان ہوا تبھی وہ وزارتِ عظمی کی بھاری ذمہ داری قبول کریں گے۔ بعد ازاں خیبر پی کے اور بلوچستان میں اسی حکمتِ عملی کے تحت اُنہوں نے دوسری جماعتوں کو بھی حکومتی اختیارات بلکہ ذمہ داری میں شریک کیا۔

شدت پسند ی ایک زہر قاتل

روایتی فقہی رجحانات اور احیائی تحریکوں کے درمیان کچھ عرصہ سے ایک اور رجحان بھی ملتِ اسلامیہ میں نمایاں ہوتا جارہا ہے۔ اور اس میں آنے والے نوجوانوں کا زیادہ حصہ بے جا مداخلت، ردّ عمل اور ظلم وستم کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ نوجوان مسلمان دو صدیوں کی الحادی سازشوں کا سامنا کرنے کی بجائے بڑی جلدی اور شارٹ کٹ طریقے سے معاشرے پر اسلام کو انقلاب یا جہاد کے ذریعے غالب کرنا چاہتے ہیں۔انقلاب اور جہاد سے حاصل ہونے والی سیاسی حکومت کے حوالے سے ایران میں انقلاب، افغانستان میں جہاد اور سعودی عرب میں دعوت اور جہاد کی صورت نسبتاً کامیاب اسلامی حکومتوں کی مثالیں موجو دہیں۔ اور یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ یہ وہ مثالیں ہیں جن میں پورے معاشرے میں اسی اُسلوب کو اختیار کیا گیا، اور جہاں معاشرے کے محض چند طبقات اس رویے پر عمل پیرا ہوئے تو وہ آخر کار اس کا نتیجہ تشدد کی صورت نکلا۔

اس شدت پسندی کی واقعاتی صورت حال یہ ہے کہ مصر میں ساٹھ کی دہائی میں ہونے والے ظلم وستم کے نتیجے میں اخوان المسلمین سے أصحاب الهجرة والتفکیر نکلے، انور السادات کو قتل کرنے والی الجماعة الإسلاميةنکلی، حزب التحریر نے مسلم حکمرانوں کے خلاف مراکزِ كفر میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کی، سعودیہ و افغانستان اور پاکستان میں امریکی بے جا مداخلت کے نتیجے میں القاعدہ منظّم ہوئی، ماضی کے مصری اخوانی ایمن الظواہری وغیرہ اور افغانی مجاہدین نے اس میں پناہ لی، افغانیوں کو تہ تیغ کرنے کی کوششوں پہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات بپھر گئے، لال مسجد میں خون کی ہولی کھیلی گئی تو شمالی علاقہ جات کے یہ مظلوم مزید متحرک ہوگئے۔ لیبیا اور شام میں حکمرانوں نے ظلم وستم کیا تو عراق وافغان کے مجاہدین نے ان خطوں کا بھی رخ کرلیا۔ مسلم حکمرانوں کے خلاف متحد ہونے والوں کو1990ء کے امريكی نیو ورلڈ آرڈر نے نئے اہداف کے لئے متحرک کردیا۔ اب یہ فوری غلبہ، مزاحمت، جہاد اور انتقام کے ملے جلے عناصر رکھنے والا ایک وسیع تر گروہ بھی مسلم اُمّہ کے ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض حادثاتی شب خون، بعض مسلح جدوجہد، بعض کفار سے جہاد اور بعض انتقام کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ جسطرح مسلمانوں میں فکری مرعوبیت اور بے عملی کے شکار طبقے کو عالمی قوتیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں ترغیب وتحریص کے ذریعے کامیاب ہوجاتی ہیں، اسی طرح ان ناراض عناصر کو بھی اسلام مخالف قوتیں مغالطوں، خوش نما نعروں اور درپردہ مالی سپورٹ کے نام پر بری طرح استعمال کرتی ہیں اور ملت میں خون کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

جب جمہوریت کے راستے بند کرکے، بظاہر پرامن سیاسی عمل کا راستہ بند کردیا جاتا تو یہ بھی ناراض عناصر کو باور کرانے کے لئے ایک بہت بڑی ترغیب ہے، اس امر کی کہ اب پرتشدد حکمتِ عملی اختیار کئے بنا کوئی چارہ نہیں۔ جیسا کہ گذشتہ دنوں ڈاکٹر ایمن الظواہری نے جمہوریت کے ذریعے غلبہ اسلام کا راستہ اپنانے والوں کو مصر کی مثال سے سبق سیکھ کر اپنی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ پاکستان کے بعض دانش ور مصر میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دیے جانے اور ان پر ہونے والے حکومتی ظلم وستم میں اسی امر پر چیخ رہے ہیں کہ عالمی قوتوں کی اس صورتحال میں معنی خیز خاموشی آخر کار جبر وتشدد کی تلقین ہے اور یہ ناراض ومظلوم عناصر کو خاموش ہدایت ہے قتل وغارت کی۔ اس کے بعد مسلم حکومتوں یا عالمی برادی کا دہشت گردی کی مذمت کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا جب وہ اس کا راستہ اس طرح خود ہموار کررہے ہیں کہ جائز حقوق پامال کئے جا رہے اور سیاسی عمل کو بند کیا جارہا ہے۔ اب جمہوریت کے بارے میں یہ رویہ پختہ ہوتا جارہا ہے کہ جمہوریت کے پردے میں اصل مقصود مغربی مفادات کی محافظ آلہ کار حکومتیں ہیں، اگر مغربی مفادات کا تحفظ آمریت سے ہو تو اس وقت جمہوریت کی تبلیغ سرے سے بند کردی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ مفادات اور اسلام وکفر کا ہی ہے، جس پر ذو معنی اصطلات کے پردے مطلب برآری کے لئے چڑھائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جوں جوں یہ بات واضح تر ہوجائے گی، توں توں اسلامی تحریکوں کا عرصہ سے پیش کردہ یہ مقدمہ زبانِ حال سے ثابت ہوتا جائے گا۔

یاد رہے کہ ملتِ مسلمہ میں جاری قتل وغارت کا بھی سراسر نقصان مسلمانوں کو ہی ہے، جیسا کہ پاکستان کو ایک عشرے تک بظاہر مغربی مفادات کا رکھوالا اور فرنٹ لائن سٹیٹ بنایا گیا، مادی ترغیبات اور امداد کے لالچ دیے گئے، اور آخر کار اسے بھی دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر'اصل شیطانی ریاست' ڈکلیئر کر دیا گیا۔صدام حسین کو کویت وسعودی عرب کے خلاف اکسایا گیا،اور آخرکار اسی عراق کو اس کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں سمیت امریکہ نے تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا، دو عشروں میں ہونے والی یہ ساری کاروائی خود امریکی مصنّفین نے واضح الفاظ میں بیان کرکے رکھ دی۔مصر میں بھی جنرل سیسی کو اقتدار کی ترغیب دے کر، اخوان المسلمین پر تشدد پر اکسایا گیااور اخوان اگر جوابی تشددکرتے ہیں تو ا س سے جنرل سیسی( پاکستان کے جنرل پرویزمشرف کی طرح ) آخرکار اکیلا ہوکر، اپنے انجام کو پہنچے گا؛ نقصان صرف ملک وملت کاہوگا۔مصر میں یہ نقشہ بڑی تیزی سے رونما ہورہا ہے ،جنر ل سیسی چند دن قبل اس امریکی لابی پر آخرکار پھٹ پڑا جس کی آشیر باد اور رہنمائی میں اس نے یہ خونیں قدم بلکہ بغاوت کی تھی۔5؍اگست کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ مصری فوج اور اس کے قائد جنرل سیسی نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے، اس کو اخوان المسلمون پر دباؤ ہرطرح بڑھانا چاہئے۔دوسری طرف امریکہ نے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں مصر کے لئے اعلان کردہ فوجی امداد کونہ صرف روک دیا بلکہ یورپی یونین کو بھی اس کی تلقین کی۔پہلے اکسانا اور ہلہ شیری، بغاوت وقوع پذیر ہوجانے پر ، قوم کو بانٹنے اور انتشار کی حوصلہ افزائی ، آخر کار سیاسی اور عسکری میدانوں میں اپنے کارندوں کے ذریعے مسلم قوم کو تباہ کرنے اور اپنے معاشی وسیاسی مقاصد پورے کرنے کی منصوبہ بندی... یہ ہے امریکہ اور اس کی حواری ریاستوں کی سازش کا سیدھا سادا نقشہ...! شکار ہے بھولی ملتِ اسلامیہ اور اس کے لالچی عناصر...

مُسلم افواج ؛ ملّتِ اسلامیہ کے خلاف

جنرل سیسی کے ان اقدامات سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ ملتِ اسلامیہ کے ان منتشر حالات اور کفر کی عالمی برادری کی مضبوط حکمتِ عملی کے تناظر میں ہر مسلم ملک کی مضبوط فوج ہی اس ملک کے لئے المیہ بنتی جارہی ہے۔پاکستان میں تین عشروں سے زیادہ فوج ہضم کر گئی،عراق میں کرنل صدام حسین، مصر میں جنر ل حسنی مبارک اور اب جنر ل سیسی، لیبیا میں کرنل معمر قذافی وغیرہ نے ملّتِ اسلامیہ کو فوجی شب خون کے تحفے دیے اور آمریت کو پروان چڑھایا۔ بنگلہ دیش کی الم ناک صورتحال بھی فوجی مہم جوئیوں کا تحفہ ہے۔ ملت کے ان حالات میں فوج دراصل بیرونی مداخلت کی بجائے گھر کے اندر سے ، حفاظت کی بجائے قبضہ وغلبہ کا رویہ اختیار کرلیتی ہے اور ملک کے مقتدر اداروں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وقتِ موجود کے حکمران کی ہاں میں ہاں ملا کر ، اپنی ملازمتیں یا سٹیٹس کو کو بچائیں۔ پھر ایک طرف یہ فوجی حکمران عالمی طاقتوں کی تائید حاصل کرنے اور رکھنے کےلئے اُن کے مفادات کے رکھوالے بن کر، اُن کے اس وقت تک کے لئے منظورِ نظربن جاتے ہیں جب تک اُن کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے رہیں اور دوسری طرف ملک میں خوشامد اور چاپلوسی کا طوفان گرم ہوتا ہے، معاشرہ میں میرٹ اور محنت کا قتل ہوکر وہ صورتِ حال بنتی ہے جس کو آج اہل پاکستان جھیل رہے ہیں:قوم منتشر اور ادارے تباہ ، ذرائع وسائل کا ضیاع ۔ان حالات میں وہ مسلم ممالک جو مضبوط فوج کا رسک نہیں لیتے کہ گھر پر محافظ ہی قبضہ نہ کرلیں، مثلاً سعودی عرب وامارات وغیرہ ...تو وہ بیرونی حکومتوں کے مرہونِ منت بن جاتے ہیں اور ان کا تحفظ عالمی قوتوں کی خوشامدسےمشروط ہوجاتا ہے، جو اپنی من مانی کرتی ہیں۔ ملّتِ اسلامیہ کے داخلی مراکزِ قوت کے انتشار کا یہ مسئلہ دراصل انتظام واستحکام کا معاملہ ہے جس کے خلاف مضبوط منصوبہ بندی اور چیک اینڈ بیلنس کا داخلی اور بین الملی نظام بنانا ہوگا۔ جب تک کچھ مسلم ممالک پوری طرح استحکام حاصل نہیں کرلیتے، ملت اسی طرح غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہے گی۔

اسلام کے خلاف پروپیگنڈا

فوج کے اس کردار سے منسلک مسئلہ اسلام اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کا بھی ہے۔ اسلام احیائی نظریات کا ایک بڑا اور ایمان پرور محور ہے۔ مزاحمت اور احیا کی ہر تحریک اسلام سے قوت حاصل کرتی ہے حتیٰ کہ اُن کے دنیوی مفادات بھی اسلام کے نعرے تلے پروان چڑھتے ہیں۔غصب و استیلا کے اس سارے دور میں سب سے زیادہ حکومتیں جس نظریے کو رگیدتی ہیں، اور اس پر مشکلات وکڑی آزمائشیں آتی ہیں، وہ اسلامی تشخص اور دینی شعائر واحکام ہیں۔

مصر میں جمہوریت کے قیام کی جدوجہد ہو یا غاصبانہ حکومتی اقدامات، سب کا نشانہ سراسر اسلام اور دینی جماعتیں ہیں۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور مسلم اُمّہ کے ساتھ روابط کا مسئلہ ہو تو وہاں کی دینی جماعتوں کا یہ قصور سب سے بڑا ہے کہ وہ ملتِ اسلامیہ کے جسدِ واحد کےنظریے کو کیوں پروان چڑھاتی ہیں، انہی دنوں اس 'سنگین جرم' کی بنا پر جماعتِ اسلامی کو بنگلہ دیش میں غیر آئینی جماعت قرار دے کر اسلامی تحریک ہونے کی سزا دی گئی اور اس کے 90 سالہ امیر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ڈھاکہ میں گذشتہ دنوں قاہرہ کی طر ح ہی ہزاروں کارکنوں کو راتوں رات موت کی نیند سُلادیا گیا۔پاکستان میں شمالی علاقہ جات میں جاری جہادی تحریک جو اسلام کے ساتھ ساتھ افغانوں کے ساتھ نسلی ہم آہنگی کی بھی تحریک تھی، وگرنہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ مسئلہ پنجابی مسلمان کا بھی تھا، اس میں پاکستان کے حکمرانوں نے میڈیا کی ملی بھگت سے اسلام بلکہ طالبانیت کو ایک گالی بنا کےچھوڑا۔ بلوچستان میں بلوچ برادری کی طرف سے انتقام کی تحریک بھی اسلام کے پردے میں ہے۔ہر مقام پر مزاحمت کار اسلام سے تقویت حاصل کرتے ہیں اور نتیجتاً اسلام ہر جگہ حکومتی اقدامات کا نشانہ ٹھرتا ہے۔

القاعدہ کا پورا استدلال اسلام کی بنا پر قائم ہے، سعودی یا مسلم حکمرانوں کے خلاف اُٹھنے والے ہر تحریک میں اسلام ہی مرکزی حوالہ ہے۔ اس بنا پر گذشتہ دو عشروں میں مسلم اُمّہ میں سب سے زیادہ اسلام کے نظریے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔قرآن وحدیث کو اگر کچھ نہیں کہا جاسکتا تو جو شخصیت یعنی عالم دین اس کی ترجمانی کرتا ہے ، اس کو کٹھ ملائیت کے نام پر خوب رگیدا جاتا ہے۔ قرآنی آیات اور اسلامی اسباق کو نصاب سے نکال دیا جاتا اور مذہبی شعائر کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہ وہ مشترکہ ہدف ہے جس پر مغربی قوتیں بھی متفق ہیں کہ وہ اپنے ہاں بھی اسلام کی بڑھتی قوت سے خائف ہیں۔ ان حالات میں ہم مسلمانوں نے اسلام پر عمل میں تو کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی لیکن اسلام سے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے کام خوب لیا ہے، نتیجتاً اسلام پر بھی بہت لے دے ہوئی ہے اور میڈیا نے بھی اسلام کے خلاف بہت حصہ ڈالا ہے، اب میڈیا بھی صرف اسی اسلام کو پروان چڑھاتا ہے جو شارٹ کٹ اسلام یعنی ورد وظائف، استخارہ ودعا پر مبنی ہے۔

پاکستان میں عدلیہ وفوج کے خلاف مزاحمت ہو، حکومت و ریاست کے خلاف بیان بازی کی جائے تو اس کے دفاع میں مستحکم ادارے موجود ہیں جو اپنا آئینی تشخص حاصل کرکے رہتے ہیں لیکن اسلام ہی ایسا مظلوم ہے جو صرف اپنے نظریے کی قوت پر اپنا دفاع کرتا ہے ۔ اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ہمیشہ سے مسلمان اسلام کی حفاظت کے تقاضوں سے روگرانی کرتے رہے اور اسلام نے ہی ہر مشکل موقع پر مسلمانوں کی حفاظت کی ہے لیکن اس سے معاشرے میں اسلامی رجحانات پر کڑی ضربیں لگتی ہیں۔ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں بھی اسلامی جماعتوں کی کامیابی نہ ہونے اور اسلام کو بطورِ سیاسی نعرہ اختیار نہ کرنے کی وجہ یہی تھی کہ اسلامی تشخص، 10 سالہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔ مصر میں بھی مستقبل قریب میں اخوان المسلمون اور النور پارٹی کے خلاف حکومتی ظلم وستم میں نظریۂ اسلام کو ہی نشانہ بنایا جائے گا، اور اس صورتِ حال کو سمجھنا اور اس کا دفاع کرنا، اس کے لئے مناسب حکمتِ عملی تیار کرنا امّت مسلمہ ، دینی قیادت اور مخلص حکمرانوں کا اہم فریضہ ہے۔

میڈیا مغرب کا آلہ کار

دنیا بھر میں اپنے مقاصد کو پانے اور رائے عامہ کو ہم وار کرنے کے لئے ماس میڈیا اس وقت مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مسلم اُمّہ کے درجنوں ممالک گذشتہ دو عشروں سے مصائب ومشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ یمن، شام، لیبیا، تیونس،سوڈان، نائیجریا، عراق، ترکی، بنگلہ دیش، افغانستان، مصر،پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستیں یہ تمام ممالک سنگین ترین حالات میں تشکیل نو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں ان کے حالات اور تجربات سے لمحہ بہ لمحہ آگاہی ہونا چاہئے لیکن ان ممالک سے قطع نظر ہمیں تو اپنے ملک کے شمال میں وزیر ستان اور قبائلی علاقہ جات کی حقیقی صورتحال کا بھی علم نہیں کہ اُن کے اصل مسائل کیا ہیں۔ ہم اپنے پڑوس میں افغانستان میں جاری امریکی جارحیت کے حقائق سے آگاہ نہیں۔ مجاہدین کے میڈیا کو دیکھیں تو وہ ہر سُو اپنی کامیابیوں کی نوید سناتے ہیں ، دوسری سمت عالمی میڈیا ایک اور منظر کشی کرتا ہے۔ مصر میں تحریکِ بغاوت کے دوران مغرب اور اس کا پٹھو پاکستان کا مین سٹریم میڈیا بار بار ان مناظر کو فوکس کرتا رہا جو صدر مرسی کی مخالفت میں جمع تھے، لیکن عرب کے ایک دو براہِ راست ٹی وی ذرائع پر پتہ چلا کہ عین اسی وقت قاہرہ اور کئی شہروں میں اس سے کہیں درجے بڑےاجتما عات مرسی کی حمایت میں اکٹھے تھے۔

مغربی میڈیا ہمیں لہو ولعب کے بے تحاشا تفصیلات دکھاتا اور اس میں اُلجھائے رکھتا ہے اور ہمیں اپنے گھر کی خبریں اپنے مخالفین کی زبانی سننے کی اذیّت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے 'جمہوریت نواز'میڈیا کی اخلاقی حالت تو یہ ہے کہ وہ غاصب حکومت کے خلاف اخوان کے پرامن مظاہروں میں شہید ہونے والے مسلمانوں کو شہید لکھنے سے ابھی تک انکاری ہے اور ان کے لئے قتل کا لفظ استعمال کرتا ہے۔کیا اس کے لئے ہمارے میڈیا کو بڑے لمبے چوڑے ہدایت نامے یا لیکچر کی ضرورت ہے یا صرف غیرتِ ایمانی اور اخوت اسلامی کا جذبہ ہی کافی ہے۔

یہ دور انفرمیشن کا دور ہے اور ہر ملک کے اخبارات ورسائل ، دنیا کے ہر شخص کی دسترس میں ہیں، اس کے باوجود آج بھی ہم برادر مسلم ممالک کی خبروں کے لئے غیروں کے محتاج ہوں تو یہ احتیاج قابل رحم ہے۔ان حالات میں مسلمانوں کی اپنی نیوز ایجنسی ملت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ہمارے کڑوڑوں کمانے والے ابلاغی ادارے کیا اس صلاحیت سے محروم ہیں کہ ان ممالک میں براہِ راست اپنے نمائندے مقرر کرکے، ملتِ اسلامیہ کے مختلف گھروں میں ہونے والے المیوں سے ہمیں براہِ راست باخبر کریں۔یہ مسئلہ دراصل شعورو انتظام کانہیں بلکہ میڈیا کے رجحان کا ہے کہ وہ انہیں عالمی ایجنسیوں سے شائع کی جانے والی خبروں پر اچھی ریٹنگ کی رشوت اور اُن کی تھپکی ملتی ہے۔

ملتِ اسلامیہ کے آئندہ سال بڑی شورشوں اور تبدیلیوں کے سال ہیں، عرب سپرنگ کا سلسلہ ابھی نتائج پیدا کرے گا، جہادی معرکےکسی نہ کسی انجام کو پہنچیں گے، ان حالات میں اگر کوئی دینی تحریک وتنظیم ان حالات کو براہِ راست میسر کرنے کی ذمہ داری بھی پوری کرے تو یہ عظیم ملی خدمت ہوگی، اسی کے نتیجے میں ملتِ اسلامیہ ایک جسد واحد کے شرعی تصور کی طرف پیش قدمی کرسکتی ہے۔ مصر وشام کے ان خون آشام حالات میں سب سے زیادہ جس امر کا احساس ہوتا ہے وہ اُن سے ناواقفیت اور عدم آگاہی کا ہےاور ہمارےمیڈیا پر ہونے والے تبصرے ملت کے حالات سے لاعلمی ،جہالت اور عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

3. ملتِ اسلامیہ ؛ احیا کی جانب منزل بہ منزل

ملتِ اسلامیہ میں بڑھنے والا شعور،تلخ تجربات کی بھٹی سے نکل کر نتائج کے نکھار کی طرف بڑھ رہا ہے ۔اور مغرب کے آے روز بڑھتے مظالم کا منطقی نتیجہ نکل کر رہے گا ۔ ملتِ اسلامیہ دنیا جہاں کی نعمتوں اورقوتوں سے مالا مال ہے اور ان میں احیائی تحریکیں روز بروز آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان تلخ حقائق میں امریکہ کی سرپرستی میں ، مغربی استعماری قوتوں کا کھیل آہستہ آہستہ واضح ہوتا جارہاہے۔ برطانیہ سمٹ کر امریکہ کا پالتو کتا بن چکا ہے، فرانس وجرمنی میں اسلام بذاتِ خود ایک قوت بنتاجارہا ہے۔یہی چار ممالک دراصل اہل اسلام کے خلاف متحد ہیں۔

اس کے بالمقابل ایران وپاکستان کی ایٹمی وعسکری طاقت، دونوں میں امریکہ کے خلاف مزاحمانہ حکومتیں، ترکی وملائیشیا کی معاشی وصنعتی طاقت، مصر، الجزائر، تیونس، اور لیبیا میں پر فضاعرب بہار ،شام وعراق اور فلسطین وافغانستان میں جہادی معرکے اور خالص اسلام کا احیا، سعودی عرب کی نظریاتی قوت، اور خلیجی ریاستوں کی مادی صلاحیت ... ہر ملک میں اپنے اپنے طورپر پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔ ان حالات میں مصر میں اخوان المسلمین کی کامیاب حکومت، سعودی عرب اور پاکستان کے قریبی تعلقات کے ساتھ ایک مضبوط ترین اسلامی سنّی بلاک کی تشکیل میں بڑی مددگار ثابت ہوتی۔ مصر کی یہی غیر معمولی قوت، اس کے لئے سنگین آزمائش کاسبب بنی۔ مصر ہمیشہ سے عالم عرب کا قائد رہا ہے اور سعودی عرب کی مضبوط مادی ونظریاتی حکومت کے باوجود ماضی میں بھی مصر کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکا۔

ملت اسلامیہ اس وقت بدترین بحرانوں سے دوچار ہے، ہر سمت سے ملت اسلامیہ کے جسد کوزخمی کیا جارہا او راس کے زخموں سے خون رِس رہا ہے۔سیاسی منصب پر فائز کوئی حکمران ہلکی سی آواز بھی بلند نہیں کرتا، اور ان کے نمائندہ ادارے مغربی مفادات کے علم بردار بلکہ پٹھو بنے ہوئے لیکن یہ صورتحال بہت دیر تک طویل نہیں ہوگی۔ مغربی استعماری دیواروں کو چند دھکے لگنے کی ضرورت ہے اور ملتِ اسلامیہ میں ہرسو ہونے والی یہ تجدید آخر کچھ مراکز پر مجتمع ہوکر ملتِ اسلامیہ کو احیا اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کرکے رہی گی۔اللہ کے ہاں قوموں کی تاریخ سالوں کی بجائے عشروں پر محیط ہوتی ہے۔ اور مستقبل کے عشرے ملتِ اسلامیہ کے عشرے ہیں بشرطیکہ اسلامیت کا شعور، خالص اسلام کا احیااور اس کے لئے قربانی وجدوجہد کا یہ سلسلہ جاری ہے تو مغرب کے یہ استعماری بندھن ایک ایک کرکے ٹوٹتے جائیں گے، مسلمانوں کے ہر طبقے میں بے چینی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور وہ اس غلامی کے بندھن توڑنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔

جب یہ مسلم دنیا اپنے اصل حقائق پر متشکل ہوگی تو 1950ء کے بعد سے آزاد ہونے والے مسلم ملک حقیقی آزادی کی منزل حاصل کرلیں گے۔ اس کے لئے مسلمانوں کو اقوام متحدہ اور آئی ایم ایف جیسے استعماری اداروں کے متبادل اپنے اداروں، باہمی تعلقات، تجارت او رروابط وتعلقات کو مضبوط وپختہ کرنا ہوگا۔ معلومات کی تیز رفتار ترقی ، آخر کار اُمت مسلمہ کو بھی متحد کرکے رہے گی۔ اسلام کے خادموں کو اپنی حقیقی قوت کا شعور کرنا ہوگا، جو اسلامی نظریے اور ملی اُخوت میں پنہاں ہے۔ مصر میں جاری کشمکش پس قدمی کی بجائے ، پیش قدمی کی طرف جائے گی۔ اسلام کی نظریاتی قوت کا سامنا اہل مغرب نے اپنے دورِ عروج میں کبھی نہیں کیا، اُنہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو منتشر کرکے اور مفادات کا لالچ دے کر اپنے اہداف پورے کئے ہیں۔ لیکن اب یہ استعماری اہداف روز بروز مزیددرمزید تکلف وتصنع سے دوچار ہوتے جارہے ہیں۔ملت کو اپنے تعلیم وتربیت کے عمل اور باہمی رابطے زبان وتجارت کو پروان چڑھانا ہوگا۔

جس دن چار اہم اسلامی ملک اپنے مفادات کے لئے یکسو ہوگئے ، وہ دن مغرب کے زوال کا نقطہ آغاز ہوگا۔دیکھنا یہ ہے کہ ملت کو اسلام سے قریب تر اور دیگر ادیان پرغالب کرنے کے اس عمل اور دینی فریضہ میں کون مسلمان کہاں کھڑا نظرآتا ہے۔ اس کے دامن میں عمل اور حرکت کتنی ہے؟ دین کے لئے کام کرنے والے اداروں، تحریکوں ، تنظیموں اور شخصیات کو ان وسیع تر حقائق کو پیش نظر رکھ کر اپنی حکمتِ عملی اسلام کے وسیع ترین مفاد میں تشکیل دینا چاہئے۔ السعی منّا والاتمام من اللہ
حاشیہ

1. ''امریکی صدر بارک اوباما نے مصر کے لئے فوجی امداد ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ یورپی یونین کے 28 وزراے خارجہ کی ہنگامی ملاقات بھی آج متوقع ہے جس میں مصر پر تجارتی پابندیاں لگائے جانے پر غور کیا جاے گا۔ دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ شاہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے مصر کی امداد روکی تو تمام عرب اور اسلامی ممالک مصرکی بھرپور مدد کریں گے۔ ادھر مصر کے متعدد شہروں میں چھٹے دن بھی کرفیو سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔'' (روزنامہ 'نوائے وقت' لاہور:21؍اگست2013ء)

2. 'ہیومن رائٹس واچ، نیویارک' کی رپورٹ: Egypt Epidemic of Sexual Violence