اصلی کمی : دنیا میں کمی مخلص کارکنوں اور اچھی تحریکوں کی نہیں ہے۔چپہ چپہ پرآپ کو ملیں گی اور ہر سر اس کا سودائی نظر آئے گا۔ ہاں کمی اگر ہے تو ''کار خیر'' شروع کرکے اس کو نباہ دینے کی ہے۔لوگ عموماً بڑی گرمجوشی ،ولولہ آتشیں اور بے قابو جذبہ نیک کے ساتھ طوفان بن کر ابھرتے ہیں مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ، وہ ابھر کر جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔

ذرا سوچئے : سوچنا یہ ہے کہ جب جذبہ نیک ہوتا ہے تو پھرالٹی زقند لگانے اور رجعت قہقری اختیار کرنے کے کیامعنی؟ اور آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کہ یہ راہی نہ صرف اپنا سفر روک لیتا ہے، بلکہ بسا اوقات اپنی سمت بھی بدل لیتا ہے ؟ آپ نے بارہا دیکھاہوگا کہ بہت سے افراد جو کبھی کارخیر میں پیش پیش تھے اب اسی کی راہ میں روڑا بھی بن رہے ہیں۔

کالی بھیڑیں: اصل بات یہ ہے کہ یہاں پر ان کالی بھیڑوں کا تو ذکر ہی فضول ہے ، جو سو ء اتفاق سے ان اچھی تحریکوں میں آگھسے تھے، نیکی ویکی کا خاص تصورتو لےکر نہیں آئے تھے، ہاں جذبہ نیک کے''واہمہ'' میں ضرور مبتلا تھے یا بقول حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  ''فطرتاً چور تھے ، پاسباں کے بھیس میں آگئے تھے۔'' اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ کسی نے حضرت مرشد تھانوی سے پوچھا کہ ، ''جناب ! بعض عالم او رطالب علم ہوکر چوری کرتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہے ، جبکہ وہ نیک اور عالم سمجھے جاتے ہیں؟ انہوں نے اس کا جواب دیا کہ ''یوں نہ کہو کہ عالم چور ہوگیا ہے بلکہ یوں کہو کہ ، چور تھا، عالم بن کر آیا ہے۔ (اوکما قال)

قابل رحم : یہاں پر رونا ان بد نصیب لوگوں کا ہے، جو واقعۃً نیک تھے او راسی پاک جذبہ کے ساتھ داخل ہوئے تھے، مگر یہ راہی تھوڑی سی مسافت طے کرنے کے بعد، مایوسی کی نذر ہوگئے۔ ہاتھ پاؤں توڑ.... گوشہ تنہائی میں جاکر روپوش ہوگئے یا رد عمل کے طور پر ادھر ادھر کی تحریکوں میں جاکر اپنے آپ کو بہلاتے رہے۔ تمام محاسن اور خوبیوں کے باوجود آخر یہ لوگ ان حادثوں کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں؟ اصل میں ان کے متعدد اسباب ہیں، کچھ یہ ہیں:

احساس ناکامی: اس ٹیم کو سب سے پہلا اور مایوسی کا جو جھٹکا لگتا ہے وہ ناکامی کے احساس کا ہے مدتوں کی محنت کے بعد جب وہ یہ کہتے ہیں کہ جہاں سے چلے تھے، برسوں کے بعد بھی ابھی وہاں کھڑے ہیں، تو ان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور بدحواس ہوکربھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

آپ کا کام ڈیوٹی ہے، اس کے نتائج نہیں: کار خیر میں حصہ لینے والے عموماً اس خوش فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ ، جب ہم کام شروع کریں گے تو ضرور ہی میدا ن مار لیں گے، لیکن جب وہ اس میں ناکام رہتے ہیں تو حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ پس اگر سوچ کا یہ انداز بدل جائے تو وہ ہزار ناکامیوں کےباوجود بھی ہمیشہ تازہ دم دکھائی دیں۔

بندہ مومن کے ذمہ صرف ڈیوٹی ہے، اس کے نتائج نہیں ہیں۔ اسے تو بس کام کرنا ہے، پوری نیک نیتی او رپورے حزم و احتیاط کے ساتھ کرنا ہے، اس کے بعد اس کا نتیجہ کیانکلتا ہے؟ اس کی باز پرس آپ سے نہیں ہوگی، کیونکہ نتائج کا ظہور، اس کے بس میں ہے آپ کےپاس کی بات نہیں ہے۔

قرآن کریم نےحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا ہے:

﴿فَقـتِل فى سَبيلِ اللَّهِ لا تُكَلَّفُ إِلّا نَفسَكَ وَحَرِّ‌ضِ المُؤمِنينَ...٨٤﴾... سورة النساء

''آپ راہ خدا میں جہاد جاری رکھیں، آپ صرف اپنی جان کے ذمہ دار ہیں، (ہاں) مسلمانوں کو گرمائے رکھیں۔''

باقی رہے نتائج؟ سو فرمایا:

﴿إِنَّكَ لا تَهدى مَن أَحبَبتَ وَلـكِنَّ اللَّهَ يَهدى مَن يَشاءُ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ ﴿٥٦﴾... سورة القصص

''آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، ہاں اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے (کیونکہ یہ) وہی بہتر جانتا ہے کہ کون راہ پر آنے والا ہے۔''

دراصل نتائج ، استحقاق کا حاصل ہیں، او ریہ پیمانہ اس کے ہاتھ میں ہے کہ، کون کس شے کے قابل ہے اور کس کی محنت کس ثمرہ کے لائق ؟ کیونکہ یہ دارالعمل ہے، اعمال کابدلہ اگر صرف دارود ہش او رفضل و کرم پر ہو تو وہ بات او رہے ، اگر ٹھیک ٹھیک بدلہ کی بات ہے تو یہ ہم نہیں جانتے کہ ہم نے جتنی او رجیسی کچھ محنت کی ہے، اس میں اپنے نتائج پر کمندیں ڈالنے کی کتنی صلاحیت ہے؟ بہرحال ہم نے ایسا صالح عنصر بہ کثیر دیکھا ہے جو اس حقیقت کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے اچھے پروگراموں سے الگ ہوکر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوگیا۔

طریق کار کا اختلاف: ''کار خیر'' میں شریک ان افراد اور گروپ کے لیے یہ مرحلہ بھی سخت ابتلاء کا مرحلہ ہوتا ہے، جو طریق کار میں اختلاف کی بنا پر اختلافی نوٹ کے اظہار پر اکتفا کرنے کے بجائے پوری تخریبی مساعی کے ساتھ دوسرے ابنائے سفر اور رفقاء قافلہ سے علیحدگی کو''دینی جہاد'' تصور کرلیتا ہے۔حالانکہ جماعتی اور ملی وحدت کی آبرو اور مستقبل کا احساس سب سے اہم دینی فریضہ ہے۔ اس لیے اسلام میں محض چندا اختلافی عوامل کی بنا پر پوری جماعتی اور ملّی تنظیم کے بخیئے ادھیڑ کر ملت اسلامیہ کی وحدت کو نقصان پہنچانا سب سے بڑی کافری تصور کیا گیا ہے۔ (مشکوٰۃ)

قرآن کریم میں حکم ہے کہ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بہرحال باخدا لوگوں کے ساتھ رہیں، چنانچہ فرمایا:

﴿وَاصبِر‌ نَفسَكَ مَعَ الَّذينَ...٢٨﴾... سورةالكهف

''یعنی اے پیغمبرؐ! جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے او راسی کی رضا مندی چاہتے ہیں ، ان کے ساتھ رہنے پر اپنے آپ کو مجبور کرو۔''

مقصد یہ ہے کہ : باخدا لوگ جوبہرحال اقامت دین کے لیے اٹھے ہیں، ان سے الگ ہوکر اقامت دین کے مستقبل کو نقصان نہ پہنچایا جائے، فروگذاشتیں سب سے ممکن ہیں لیکن جماعتی شیرازہ بندی میں رخنہ سب سے بڑی فروگذاشت ہے۔ گھر میں بھی آخر اختلافات ہوجاتے ہیں لیکن گھر کو کوئی چھوڑتا ہے نہیں ہے۔ بہرحال یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اقامت دین کی ان داعی جماعتوں کے زوال کا باعث یہی برخود غلط ''جذبہ نیک'' رہا ہے، یعنی کارخیر کا شکار جذبہ خیر کی چھری سے ہوتا آرہا ہے۔ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ریہرسل اور نیکوں کی یہ نیک بھول کب تک جاری رہے گی؟

راہ حق کے مصائب: راہ حق میں جو مصائب پیش آتے ہیں وہ حد درجہ حوصلہ شکن اور صبرآزما ہوتے ہیں، اس لیے یہ منزل جب آتی ہے تو عموماً دنیا حق کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، حالانکہ اگر وہ ثابت قدم رہتے تو دنیا بالآخر ان کے قدم چومتی، قرآن کریم کا ارشاد ہے:

﴿فَاصبِر‌ إِنَّ العـقِبَةَ لِلمُتَّقينَ ﴿٤٩﴾... سورة هود

''صبر سے کام لیجئے! بالآخر پرہیزگاروں کا انجام بھلا ہوتا ہے۔''

صبر کے معنی میں ، ''ہمت نہ ہاریں، حالات اور وقت کے مناسب جو ہو، وہ تدابیر اختیار کریں او راپنا سفر جاری رکھیں، شرط یہ ہے کہ یہ سفر، سفر الی اللہ ہو:

﴿اعبُدهُ وَاصطَبِر‌ لِعِبـدَتِهِ...٦٥﴾... سورة مريم

''اسی کا غلام ہو کر رہ او راس کی بندگی پر ثابت قدم رہ۔''

رہی یہ فکر کہیں مصائب کے ان چکروں میں وہ فنا نہ ہوجائے، تو فرمایا:

﴿وَاصبِر‌ لِحُكمِ رَ‌بِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعيُنِنا...٤٨﴾... سورة الطور

''آپ اپنے رب کے حکم کے لیے چشم براہ رہیں، آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔''

یعنی آپ کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آپ پورے اعتماد او رحوصلہ کے ساتھ بے فکر ہوکر کام جاری رکھیں۔

راہ کی مشکلات دراصل بندہ مسلم کو کندن بناتی ہیں، کچلتی او رمسلتی نہیں ہیں۔
سازیہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے

حضرت خباب بن الارت (ف37 ھ)قدیم الاسلام صحابی ہیں، راہ حق میں شدائد و مصائب کی اتنی اذیتیں برداشت کیں کہ الامان والحفیظ! وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے درخواست کی کہ ''کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں مانگیں گے''؟ آپؐ نے فرمایا: ''تم ابھی سے گھبرا گئے ہو، حالانکہ تم سے پہلے یہ کیفیت تھی کہ:

گڑھا کھود کرانسان کو اس میں گاڑ دیتے، پھر آرہ لاکر اسے چیر ڈالتے اور لوہے کی کنگھی سے اس کے بدن کا ماس نوچ لیتے تھے۔ وما یصدہ ذٰلک عن دینہ....... لیکن اسے یہ اذیتیں دین حق سے منحرف نہ کرسکتی تھیں، بخدا! یہ تحریک کامیاب ہوگی، صنعاء سے حضر موت تک دنیا سفر کرے گی مگر اللہ کے سوا اس کو اور کوئی خوف نہیں ہوگا مگر (افسوس) تم جلدی کرتے ہو۔'' (بخاری۔ کتاب المناقب)

حضرت خبیبؓ کا واقعہ مشہور ہے ، قریش نے انہیں ایک درخت سے لٹکا دیا پھر تیروں اور انی بھالوں سے انہیں چھید چھید کر شہید کیا۔ حضرت سعیدبن عامرؓ نے یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اسلام لانے کے بعد جب ان کو یہ واقعہ یاد آجاتا تو بیہوش ہوجاتے۔(ابن ہشام)

جب کرب و اذیت کی گھڑی سر پر آئی تو حضرت خبیبؓ کی مبارک زبان سےنکلا بھی تو یہ نکلا ؎
وما أبالي حین أقتل مسلما ...... علی أي شق کان للہ مصرعي
و ذلك في ذات الإ له وإن لیثما .... یبارك علی أوصال شلو ممناع

''جب میں مسلمان ہوکر قتل کیا جارہا ہوں تو اب مجھ اس کی پرواہ نہیں کہ میں کس پہلو قتل ہوکر گرتا ہوں، یہ سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ وہ چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر اپنی برکتیں نازل فرمائے گا۔ '' بخاری کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی یہ الفاظ منہ سے نکلے ہی تھے کہ عقبہ بن حارث نے تلوار اٹھا کر ان کا سرقلم کردیا۔ (بخاری ۔کتاب المغازی)

حضرت زیدؓ بن دثنہ کو پھانسی دینےلگے تو حضرت ابوسفیان جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے بولے، ''کیوں تمہارا جی چاہتا ہوں کہ آج تمہاری جگہ محمدؐ ہوتے او رتم اپنے بال بچوں میں ہوتے؟ تو وہ بے چین ہوکر بولے:

''بخدا میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میری جان کے بدلے حضورؐ کے پاؤں میں کانٹا بھی چبھے، ابوسفیان بولے، محمدؐ کے عاشق بھی نرالے عاشق ہیں۔ اس کےبعد نسطاس نے جو صفوان کا غلام تھا، آپؓ کو قتل کردیا۔ (ابن سعد)

حضرت حرام بن ملحانؓ عامر بن طفیل کے پاس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سفیر ہوکر پہنچے تو پہلے تو اس نےمنافقانہ خوب آؤ بھگت کی ، پھر اشارہ کیا تو پیچھے سے ان کو نیزہ مار کر شہید کردیا، جب آپ کے نیزہ لگا تو یہ صدا بلند ہوئی:

«اللہ أکبر! فزت و رب الکعبة!» (بخاری کتاب المغازی)

''اللہ سب سے برا ہے ! رب کعبہ کی قسم میں جیت گیا!''

دراصل کارخیر او راقامت دین کے کارکنوں میں نصب العین اور مقصد کے سلسلہ میں اس سرشاری کی کمی ہے ۔ورنہ تحریک سے علیحدگی اور گلے شکوؤں کا ہوش کہاں؟ بہرحال آپ کو ڈیوٹی دینی ہے۔ منزل مل گئی تو الحمد للہ، ورنہ سفر جاری رکھیں۔ اگر راہ میں مشکلات کا سامنا ہوجائے تو ان کو چوم کر آنکھون پر رکھ لیں ''جان رسد بہ جاناں یا جاں زتن برآید'' والی بات بن جائے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ دنیا او رآخرت ساری سرفرازیاں آپ کے قدم چومیں گی۔ انشاء اللّٰه تعالیٰ