ضوفشاں مشعل توحید ہے ماشاء اللہ انجمن ہمسر خورشید ہے ماشاء اللہ
شافع ؐ روز قیامت کا دمکتا چہرہ میرے اشعار کی تمہید ہے ماشاء اللہ
دل ہیں شاداب کہ الحاد کا فسوں ٹوٹا دن تو کیا شب بھی شب عید ہے ماشاء اللہ
ہر طرف نام محمدؐ کی ہیں شمعیں روشن ہرطرف جلوہ گہہ دید ہے ماشاء اللہ
سربسجدہ ہے کوئی محو تلاوت ہے کوئی کیا حسین صور تجوید ہے ماشاء اللہ
صدیوں پہلے جو شہؐ خلد نے بخشا تھا ہمیں پھر اُسی عزم کی تحدید ہے ماشاء اللہ
پاک کے نزدیک منازل کے نشاں اے راسخ ذہن آسودہ اُمید ہے ماشاء اللہ