پورا نام : شاہ محمد اسماعیل

والد کا نام : شاہ عبدالغنی

مقام پیدائش : دھلی

تاریخ پیدائش : 12۔ ربیع الاوّل 1193ھ مطابق 26۔اپریل 1779ء

آپ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے پوتے تھے گویا اس خاندان سے تعلق تھا جو علم و فضل کا سرچشمہ تھا۔

چنانچہ تعلیم کی ابتداء گھر سے ہی ہوئی۔ آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا ۔ دس برس کی عمر میں باپ کا سایہ سر سےاُٹھ گیا تو فاضل اور بزرگ چچا شاہ عبدالقادر دہلوی نے آغوش محبت میں لے لیا۔ انہی سے دینی علوم حاصل کیے۔ 15۔16 سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ ابتداء سے انتہائی ذہین ،زودفہم اور سلیم الطبع تھے۔ ان کی ذہانت کی دھوم تھی ۔ آپ کو تاریخ او رجغرافیہ کےعلوم سے خصوصی دلچسپی تھی۔

شاہ صاحب کو فنون جنگ سےبھی بہت لگاؤ تھا۔ گھوڑے کی سواری کی بہت مشق پیدا کی تھی بنوٹ، پٹے بازی ، تیراکی جواس وقت بھی علماء کے درجے سے کم تر کام سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے محنت اور ذوق و شوق سے سیکھے۔ گوالی چلانے کی اتنی استعداد پیدا کی کہ چھوٹے چھوٹے پرندوں تک کوگولی سے گرا لیاکرتے تھے جھلسی دھوپ اور کڑکتے جاڑوں کی برداشت کی قوت پیہم مشق سے فراہم کی۔

عمر او رعلم کی پختگی کے ساتھ ہی تقاریر کاسلسلہ شروع کردیا۔ جن کا مقصد مسلمان معاشرے کوجو شرک و بدعات اور رسوم و رواج جاہلانہ کا مرقع بنا ہوا تھا۔ اصلاح کی دعوت دینا تھا۔ اس کا نتیجہ ظاہر ہے وہ سب لوگ جو اعتدال کی راہ سے ہٹ کر اپنے اپنے اڈوں پراپنے مخصوص طرز فکر اور معتقدات کا جال بچھا کر جاہل مسلمانوں کو لوٹ کھسوٹ رہےتھے۔ پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑ گئے۔طرح طرح کے شوشے چھوڑے جاتے اور سوالات اٹھائے جاتے لیکن شاہ صاحب توحید کی طرف بےلاگ دعوت دیتے رہے او رجاہلانہ سوالات کےبھی نہایت حکمت سے جواب دے کر دلوں کے کاٹنے نکالتے رہے اس لیے کہ فہم دین او رعلم دین میں ان کی ٹکر کا کوئی آدمی نہ تھا اور انسان جب حق کی طرف بلا رہا ہوتو کود حق اتنی بڑی قوت اور رُعب دالا ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں وسوسے ٹھہر نہیں سکتے۔ جس طرح لوہے کی تلوار کا مقابلہ سیسے کی سلاخ سے ممکن نہیں۔ اسی طرح بے غرضی کا مقابلہ خود غرضی سے اور اخلاص کا مقابلہ ریا کاری سے کرنا ممکن نہیں ہے جس جسم میں اخلاق کا جوہر ہو اسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی۔

ایک غیر شعوری کیفیت کے تحت شاہ صاحب اپنے آپ کو ایک ایسی تحریک کے لیے تیار کررہےتھے جو دماغی اور جسمانی صلاحیتیں دونوں ان سے طلب کرنے والی تھی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ علماء کے خاندان میں پیدا ہوکر انہیں سپاہ گری کا شوق کیوں تھا اور آرام کے مقابلے میں مشقت کیوں عزیز تھی۔ لیکن ان کاوجدان ان سے جس چیز کامطالبہ کرتا رہا وہ اس کی تیاری میں مصروف رہے۔وہ ایک عظیم دینی تحریک کے ساتھ مل کر اس کادل و دماغ بننے والے تھے۔

اسی دوران میں انہوں نے پنجاب کا سفر کیا۔ پنجاب سے سکھوں کے مظالم کی داستانیں چھن چھن کر آرہی تھیں۔ وہاں مسلمان اکثریت پر سکھوں کی ایک سفاک جمعیت حاوی ہوگئی تھی جس نے لوٹ مار او رظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا تھا۔ شاہ صاحب بچشم خود ان حالات کا جائزہ لینا چاہتے تھے جن حالات میں مظلوم مسلمان مردوں او رعورتوں اور بچوں کی امداد کے لیے جہاد کی تلوار اٹھانا ضروری ہوجاتاہے۔ چنانچہ مرزا حیرت دہلوی کی روایت کے مطابق انہوں نے پورے پنجاب کا دورہ کیا اور مسلمانوں کی بے بسی اور سکھوں کےمظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اسی وقت سے ان کے دل میں جہاد کا جذبہ بھڑکنے لگا تھا اور انہوں نے محسوس کیا تھاکہ آغاز کار کے لیے امداد کے سب سے پہلے مستحق یہ پنجاب کے مظلوم مسلمان ہی تھے جس طرح غیر حق میں سب سے پہلے تلوار کے مستحق یہ ظالم سکھ ہی تھے۔

واپسی پر انہوں نے او رمولانا عبدالحئ صاحب نے سید احمد شہید کی بیعت کرلی۔ اس لیے کہ انہوں نے دیکھ لیا کہ جس مجاہدانہ اضطراب میں وہ مبتلا تھے۔ اس پر اضطراب سفر کےلیے اس منزل کا رہنما یہی شخص تھا۔ یہ پہلے دو ساتھی تھے جو سید احمد شہید کو میسر آئے اور یہ اس خاندان کے چشم و چراغ تھے جو مسلمانوں کے اندر علم دین کی پہاڑی کے چراغ تھے۔ ان کی رفاقت نے اس پیری اور مریدی کے رسمی سلسلے کو ایک تحریک احیائے دین کی شکل میں بدل دیا اور وہ کھل کر سامنے آنے لگے جومدتوں سے دلوں کی بستیوں کے مکین تھے۔

اس کے بعد تبلیغی دوروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا جن میں شاہ صاحب ہی اکثر دین کا خالص مفہوم دعوت حق کے تقاضے اور توحید خالص کونکھار کر عوام کے سامنے پیش کرتے رہے۔عموماً ہر جگہ شاہ صاحب نے عوام میں اورموانا عبدالحئ صاحب نے خواص میں دعوت حق کو پھیلایا اور جو باتیں حجروں کے اندر چھپ کرکہتے ہوئے بھی لوگوں کازہر اب ہوتا تھا اب وہ بازاروں میں کہی جانے لگیں اور گلیوں میں پکاری جانے لگیں او رہر صاحب گوش نے محسوس کیاکہ کرنے کا کام وہی تھا جس کی طرف اللہ کے یہ بندے دعوت دے رہے تھے۔

بعض علماء سوء نے حج کی عدم فرضیت بوجہ خطرات جان کا فتویٰ دیا تو شاہ صاحب نے اپنے علم کی قوت سے اسے ردّ کیا اورعمل کی قوت سے سید صاحب کے ساتھ فریضہ حج اداکرکے اس کی ناقابل تنسیخ فرضیت کو ثابت و قائم کردیا۔

حج سے واپسی کے بعد وہ مسلسل دعوت جہاد کے لیے وقف ہوگئے اور بالآخر 17 جنوری 1826ء کو انہوں نے گھر بار اہل و عیال سب کچھ چھوڑ کر جہاد کے لیے ہجرت کی راہ اختیار کی۔ تپتے صحراؤں اور سنگلاخ چٹانوں پر سے گزرتے ہوئے وہ سب سے پہلے قافلے کے ساتھ سرحد پہنچے اور 20 دسمبر 1826ء کو جہاد کا آغاز کیا۔

انہوں نے سرحد کے مسلمانوں اور سرداروں کو سید صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرکے جہادمیں شرکت پر آمادہ کیا او رمسلسل یہ خدمت انجام دیتے رہے۔ انہوں نے بار بار جہاد کی صف اوّل میں شرکت کی اور قبائے علم میدان جہاد کی گولیوں سے چھلنی ہوتی رہی۔ ان کی جوانگلی جہاد میں اللہ کی راہ میں زخمی ہوئی وہ اسے ہمیشہ انگشت شہادت کہتے رہے۔ انہوں نے اپنے امیر کی رفاقت میں مسلسل انیس جنگوں میں شرکت کی۔ پیہم اللہ کی راہ میں جان و مال کوقربان کیا۔مصائب برداشت کیے او رہنسی خوشی اپنی وہ مضطرب روح اپنے مالک کے حضور نذر کردی جسے وہ اس دن کے لیے ، لئے پھرتے رہے جو دن 6 مئی 1831ء کوبالاکوٹ کے میدان میں پیش آیا۔

ان کی پیشانی میں گولی لگی تھی ان کی داڑھی خون سے تربہ تر تھی او روہ یہ کہتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے چلے گئے کہ میں تو وہیں جاتا ہوں جہاں امیرالمؤمنین ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کی قبر مبارک کو رحمت سے بھر دے او ران کی پالال کردہ راہ حق پرقافلوں کو رواں دواں رکھے۔