ضلع تھرپار کر سے ایک طالب علم لکھتے ہیں:

1۔ ہمارے ایک مولوی صاحب برسی کی دعوت میں شریک ہوئے ، وہاں سے کھانے کھایا، نیز کھانا اور مٹھائی قبر پر لے گئے جہاں قرآن خوانی کی گئی پھر وہ مٹھائی اور کھانا تقسیم کیا، میں نے کہا کہ یہ سنت کے خلاف ہے، بدعت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں، اگر ہو تو پیش کرو، پھر مجھے مدرسہ سے نکال دیا۔

کیا واقعی اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے اور یہ سبھی کچھ جائز ہے؟

2۔ اور مولوی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں ایسا کوئی مقام نہیں ہے جس کا جواب مقتدی کو دینا چاہیے، صحیح کیا ہے؟

الجواب:

قبرستان ایک ایسے عبرت آموز شہر خاموشاں کانام ہے جہاں بے بسی برستی ہے اور زندگی نوحہ کناں نظر آتی ہے۔وہاں کام و دہن کے چٹخاروں کا ہوش کہاں، اگر ابھی ان چٹخاروں کی گنجائش وہاں باقی ہے تو پھر وہ قبرستان کہاں؟ یہ قبرستان ہے، حلوائی کی دکان نہیں ہے کہ وہاں مٹھائیوں کا شوق چرائے۔یہ مذبح خانہ ہے ، نہ کوئی بت خانہ کہ وہاں بکروں چھتروں کے نذرانے پیش کیے جائیں۔

حیرت ہے کہ ان دوستوں کو قبرستان میں جاکر بھی کھانے اور لطف اندوز ہونے کا ہی ابھی ہوش رہتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ اگر اس میں قدم رکھلیتے تو رو رو کر مٹی تر کردیتے تھے۔

عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ، فَبَكَى، حَتَّى بَلَّ الثَّرَى، ثُمَّ قَالَ: «يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا» ( ابن ماجہ باب الحزن والبکاء صفحہ319)

''حضرت براء فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن جنازہ میں حضورﷺ کے ہمراہ تھے تو ایک قبر کےپاس بیٹھ گئے پھر اتنا روئے کہ زمین کی مٹی بھیگ گئی۔ پھر فرمایا بھائیو! اس جیسے عالم کے لیے سامان کرلو۔''

ایک دفعہ رسو ل پاک ﷺ حضرت عائشہؓ کے گھر میں تھے، جب رات ہوئی تو حضورﷺ مجھے سوتا چھوڑ کر کھسک گئے۔ میں آپ ؐ کے پیچھے ہوئی، دیکھا تو آپ (مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان ) جنت البقیع میں جا پہنچے او رتین بار دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، پھر میں آپ سے پہلے گھر واپس پہنچ گئی۔ آپ کو اس کا پتہ چل گیا۔ آپ نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے آکر کہا کہ آپ اُن کے لیے یعنی جنت البقیع کے مُردوں کے لیے بخشش کی دعا کریں۔

فأمرني أن آتي البقیع فأستغفرلهم (نسائی صفحہ 286 باب الامر بالاستغفار للمومنین)

روایت میں آیا ہے کہ اُن کے لیے دعا و استغفار کے لیے تین بار ہاتھ اٹھائے او رکافی دیر تک اس میں مصروف رہے۔ ( فاحال:1؍286 نسائی)

حضرت عائشہؓ نے دریات کیا تو حضورﷺ! میں کیسے کیا کرو؟ فرمایا : یوں:

السلام علی أھل الدیار من المؤمنین والمسلمین و یرحم الله المستقدمین منا والمستأخرین وإنا إن شاء الله بکم لا حقون (نسائی:1؍289)

''اس دیس کے رہنے والے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ رحم کرے جو ہم میں سے پہلے چلے گئے یا پیچھے ، ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکر ملنے والے ہیں۔''

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ :

جب کبھی رات کو،رات کے پچھلے حصے میں جنت البقیع تشریف لے گئے ہیں تو یہ دعا پڑھی ہے:

السلام علیکم دار قوم مؤمنین إنا وإیاکم متواعدون غدا و مواکلون وإنا إن شاء اللہ بکم لا حقون اللھم اغفر لأھل بقیع الغرقد (نسائی باب مذکور:1؍287)

انہی سے یہ دعا بھی مروی ہے کہ آپ جب کبھی کسی قبرستان تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے:

السلام علیکم أھل الدیار من المؤمنین والمسلمین وإنا إن شاء اللہ بکم لا حقون، أنتم لنا فبرط ونحن لکم تبع أسأل الله العافية لنا و لکم (نسائی۔ایضاً)

''اے (اس ) دیس کے مسلمان باسیو! تم پرسلام ، ہم بھی تم سے آکرملنے والے ہیں، تم ہمارے پیش رو ہو، ہم تمہارے پیچھےپیچھے آنے کو ہیں، تمہارے لیے او راپنے لیے اللہ سے عافیت اور سلامتی کی درخواست کرتے ہیں۔''

حضورﷺ اپنی والدہ کی قبر پر پہنچے تو خود بھی روئے اور ساتھیوں کو بھی رُلا دیا۔

زار النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر أمه فبکی و أبکی من حوله ( رواہ مسلم :1؍214)

مسنداحمد کی ایک روایت سےمعلوم ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کا بھی یہی حال تھا۔

حضرت عثمانؓ کا جب کبھی کسی قبر پر گزر ہوتا تو دیکھ کر اتنا روتے کہ ان کی ڈاڑھی بھیگ جاتی۔ (مسنداحمد:1؍63)

الغرض اہل دل لوگ قبروں پر جاکر رو رو کرنڈھال ہوتے ہیں، وہ پیٹو نہیں ہوتے کہ وہاں جاکربھی کھانے پینے کا ہی شوق منائیں۔

اہل قبور آپ کی مٹھائیوں او رقرآن خوانی کے منتظر نہیں ہوتے، وہ تو آپ کی دعاؤں کے محتاج ہوتے ہیں، جیسے ڈوبتا بندہ پکارتا ہے کہ کوئی جاکر اس کو تھام لے: یعنی ماں باپ، بھائی بند اور دوست احباب اس کے لیے اللہ سے دُعا کریں۔

«مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ (شعب الایمان، البیہقی، مشکوٰۃ صفحہ 206۔کتاب الاسماء فی الاستغفار)

مٹھائی تو کیا، فرمایا دنیا و مافیہا سے بھی زیادہ اُن کو یہ دعائیں عزیز ہوتی ہیں|۔

فَإِذَا لَحِقَتْهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا (شعب الایمان)

حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ : بھائیوں کی طرف سے اپنے مُردوں کے لیے استغفار سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ نہیں۔

وَإِنَّ هَدِيَّةَ الْأَحْيَاءِ إِلَى الْأَمْوَاتِ الِاسْتِغْفَارُ لَهُمْ» ( شعب الایمان۔مشکوٰۃ صفحہ 206)

اولاد کی دعائیں اُن کے لیے بڑی کام کی اکیسریں ہیں۔

یارب أنّیٰ لي ھذه یقول باستغفار ولدك لك (مشکوٰۃ ، احمد)

قرآن و حدیث کے مجموعی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان میں جانے سے غرض:

1۔ درس عبرت سے

2۔ موت کی یاد سے

3۔ اہل ایمان کے لیے دعا و استغفار ہے۔

4۔ غیر مسلموں سے خطاب کہ: کیا تم نے وہ سب کچھ دیکھ لیا، جس کو تم جھٹلاتے رہے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (1239ھ) بھی یہی لکھتے ہیں:

مقصود شرع آن است کہ ازموت میت عبرت گیرند وپدیرند و درتفکر آخرت مشغول شوند واز غفلت ہشیار شوند (فتاوے)

عادت شریف آن بود کہ گذشتگان را زیارت می کہ و اس برائے دعاء ترحم و استغفار (مدارج النبوۃ شاہ عبدالحق محدث دہلوی)

اس کے ماسوا ہمارے دوستوں نے جتنے اور جیسے کچھ نمونے ایجاد فرمائے ہیں، قرآن و حدیث میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

اس سلسلے میں صحیح ضابطہ یہ ہے کہ:

جو امور حضورﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور رکاوٹ بھی کوئی نہیں تھی، لیکن آپ نے اُن کو اختیار نہیں فرمایا تو اب اگر اُن کو دین بنانے کی کوشش کرے گا تو وہ شرعاً بدعت کہلائیں گے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم)

رسول کریمﷺ کے مبارک عہد میں قبرستان موجود تھے، آپ کا ان پر گذر بھی ہوتا تھا اور کبھی کبھار خود بھی تشریف لے جاتے تھے ، بعض اہل قبور کے سلسلے میں آپ نے بے اطمینان بھی محسوس فرمائی۔ لیکن ا س کے باوجود نہ وہاں قرآن خوانی کرائی ، نہ کھانا ، پھل او رمٹھائی وغیرہ تقسیم کی۔ حالانکہ قبرستان بھی تھے او رآپ کر بھی سکتے تھے ، مگر یہ باتیں نہیں کیں جو یہ دوست کررہے ہیں تو ظاہر ہے کہ اُن کی ضرورت نہیں تھی اور نہ اس میں اہل قبر کے لیے کوئی مفید بات تھی۔ ورنہ قطعاً ان سے اغماض نہ فرماتے۔

ہاں اگر کیا تو صرف یہ کیا کہ اُن کے لیے دعا فرماوی، استغفار کیا جیسا کہ جنت البقیع میں جاکر کیا کرتے تھے یا یہ فرمایا کہ قبروں کو جاکر دیکھا کرو، اس سے دنیا کی بھوک گھٹتی ہے ، آخرت اور موت یاد آتی ہے ۔ فإنھا تذھد في الدنیا و تذکر الآخرة (ابن ماجہ)

دراصل ارواح کے سلسلے کے یہ نذرانے ، ایصال ثواب اور خیرات ، عہد جاہلیت کے باقیات میں سے کچھ ترمیم شدہ شکلیں ہیں، کیونکہ بُت پرستی ایک ایسی واضح ضلالت ہے کہ اب اس کے متداول طریقوں کواپنا نا آسان بات نہیں تھی کیونکہ کلمہ پڑھ لیاتھا مگر عہدجاہلیت کی بڑی تکیم کیا کرتے تھے او راس پر قربانیاں چڑھاتے تھے ، دوسری صدی ہجری تک اس عمارت پر قربانی کے خون کے نشانات باقی تھے۔ (ملاحظہ ہو یاقوت لفظ ''ریام'')

ذوالخلصہ ہیکل پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔ (یاقوت، لفظ ذوالخلصہ)بت خانوں کی آبادی اور معارف کے لیے لوگ اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ ان کی نذر کیاکرتے تھے ۔ ستارہ پرست قوموں کے متعلق آیا ہے کہ وہ بڑے اونچے اونچے ستون یا ہیکل بنائے جاتے تھے یا پہاڑوں پر بت خانے اور مذبح تیار ہوتے تھے۔ اپنی، بچوں کی اور مویشی کی صحت و سلامتی کی قربانیاں چڑھائی جاتی تھیں۔ ہبل نامی بت کے لیے اونٹ کی قربانی سب سے بہتر سمجھی جاتی تھی۔ لوبان اور دیگر نجورات ان کے لیے جلائے جاتے تھے، اصحاب الحجر کے کتبات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستان کا صحن ان کے نزدیک حرم کا حکم رکھتا تھا، لات نامی بت اس پربھی چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔ قربانیاں ہوتی تھیں، ان کی نذریں مانی جاتی تھیں، لوگ ان کی یاترا کو آتے تھے |(ماخوذ از ارض القرآن)

اپنے مردوں کی نجات اور بخشش کے لیے بھی ان کے ہاں رواج پایا جاتا تھا چنانچہ لکھا ہے کہ:

''عام عقیدہ یہ تھا کہ جو آدمی کفن دفن کے یہ رسوم، جن میں پوجا پاٹ ،جادو، ٹوٹکا او رمنتر وغیرہ شامل تھے، ادا کرے وہ اپنے متوفی رشتہ دار کے لیے نجات کا بندوبست کردے گا۔'' (اسلام او رمذاہب عالم صفحہ67)

یہ مختصر سے نمونے ہیں، جن سے غرض یہ ہ کہ آپ کو انداسہ ہوجاوے کہ جو کچھ آج کل کررہے ہیں عہد جاہلیت میں بھی ان کا رواج تھا، جن کی اصلاح کےلیے انبیاء کرام کو بڑی جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہکافر ہوکر ایسا کرتے تھے او رہم کلمہ پڑھ کر سب کچھ کیے جارہے ہیں۔

اب مسلمان صرف پوجا (یعنی سجدہ) نہیں کرتے کیونکہ کلمہ پڑھنے کے بعد ایسا مشکل ہوگیا ہے، باقی جو کچھ او رجیسی کچھ اوہام پرستی ان کے ہاں مروج تھی وہ سبھی کچھ ہمارے ہاں بھی رواج پاگئی ہے۔ کبھی ارواح دینے کے بہانے قبروں کو اٹھ دوڑتے تھے ،کبھی نذر و نیاز کے تصور سے ان کے ہاں حاضری دیتے ہیں او رکبھی ان کو سفارشی بنا کر اپنی بگڑی بنانے کے جتن کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (پ24۔ زمر ع4)

''کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔''

باقی رہی ارواح دینے کی باتیں، سو وہ دراصل ''ارزاں نجات اور سستی بخشش'' کے سودائیوں کے لیے ایک حیلہ تجویز کیا گیاہے تاکہ:

رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

کے بول پورے ہوں، عمر بھر حماقتوں میں مصروف رہے جب مرگئے تو ورثاء دو چپڑی روٹیوں ، حلوے مانڈے کی چار پلیٹوں او رایک دو چھتروں اور بکروں کی قربانیوں ، ملاں کے ''معروف |ختم'' کے دو بولوں اور چار قوالوں کے طبلوں کی تھاپ دے کر اس کے لیے ''بہشت'' خریدنے کے جتن کرنے لگ جاتے ہیں۔ اللہ کے بندو ! خدا کہتا ہے کہ : دوسرے کے کرنے سے کچھ نہیں ہوتا تمہارے کام صرف وہ آئے گا جو خود کرکے لاؤ گے۔

وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (پ27۔ النجم ع3)

''آدمی کو صرف وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا''

فرمایا: جوکچھ اس نے کمایا ہے وہ اس کو ضرور دکھایا جائے گا اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ اس کو دیا جائے گا۔

وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى  ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى(ایضاً)

جب یہ بات لازمی ٹھہری تو پھر ان اللوں تللوں کا کیا فائدہ جو آپ کرتے رہتے ہیں۔ ہاں قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ مرنے والے کو ان امور سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔

سب سے پہلے مرتے وقت ان کے خاتمہ کی فکر کی جائے کہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، کیونکہ اگر خاتمہ ایمان پر نہ ہو تو پھر ان کے خاتمہ کااندیشہ ہوتا ہے۔ خاص کر ان لوگوں کا جن کی زندگی عموماً نفس و طاغوت کے تابع رہتی ہے۔ اس لیے حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ عالم نزع میں ان کے سامنے کلمہ شریف کا ورد سورۃ یٰسین کی تلاوت اور ''لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم الحمد للہ رب العلٰمین'' کا ورد زیادہ کیا جائے تاکہ اُن کو اپنے ایمان کا ہوش رہے۔

حضورﷺ کا ارشاد ہے :

لقنوا موتاکم لا إله إلا اللہ (مسلم) اقرؤوا سورة یٰسین علی موتاکم (ابوداؤد ابن ماجہ) لقنوا موتاکم لا إله إلا الله الحلیم الکریم (ابن ماجہ)

دُعا: دعائیں کی جائیں او راُن کی متعدد شکلیں ہیں:

(الف)۔ وقت اور تعداد کی قید کے بغیر وقتاً فوقتاً ان کے لیے دعائیں کی جائیں جیسا کہ قرآن حکیم نے اس کو بیان کیا ہے۔

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (پ28 ۔ الحشر ع1)

''اور ان کا ابھی حق ہے، جو مہاجرین اولین کے بعد آئے، دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمارے اور ان بھائیوں کے گناہ معاف کردے جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں او رایسا کر کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں کہ اُن کی طرف سے ہمارےدلوں میں کسی طرح کا کینہ نہ آنے پائے اے ہمارے رب تو بڑا شفقت کرنے والامہربان ہے۔''

(ب) دوسرا یہ کہ جنازہ میں ان کے لیے بڑے الحاج و زاری سے دعائیں کی جائیں۔

إذاصلیتم علی المیت فأخلصوا له الدعاء (ابوداؤد و ابن ماجہ)

(ج) متبع سنت لوگ کم از کم چالیس یا سو حضرات ان کی نماز جنازہ میں ا س کے لیے دعا او رسفارش کریں۔

«مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، لَا يُشْرِكُونَ بِاللهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيهِ» (رواہ مسلم)

وفي روایة«مَا مِنْ مَيِّتٍ تُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ مِائَةً، كُلُّهُمْ يَشْفَعُونَ لَهُ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ» (مسلم)

یہ چالیس یا سو تعداد ان بزرگوں کی جو شرک و بدعت سے محفوظ ہوں اس لیے بیان کی گئی ہے کہ ایسے لوگ بہرحال ''ایسے ویسے آدمی کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے|۔ اس لیے جب یہ حضرات کسی آدمی کی سفارش کریں گے تو یقیناً ان کی وہ کمزوریاں ضرور معاف کردی جائیں گی جو بشری کمزوریوں کا نتیجہ ہوسکتی ہیں ۔بہرحال ایسے صلحا کا کسی میت پر جمع ہوجانا اس کی بڑی خوش قسمتی ہوسکتی ہے۔

دوم جب اس کو دفن کرلیا جائے تو اس کے لیے استغفار اور قبر میں ثابت قدم رہنے کی دعا کی جائے ۔

فقال استغفرو ا لأ خیکم وسلواله الثبیت فإنه الآن یُسأل (رواہ ابوداؤد والحاکم و البیہقی)

اس کی متعدد شکلیں ہیں:

جب قبر میں اتارنے لگیں تو:

بسم اللہ فی سبیل اللہ پڑھے۔

قال ابن المسیب حضرت ابن عمر في جنازة فلما وضعھا في اللحد قال بسم الله و في سبیل الله۔

جب قبر میں رکھ کر اُسے درست کرنے لگے تو :

اللَّهُمَّ أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ پڑھے ۔ جب اس پر مٹی ڈال کر فارغ ہوجائے تو قبر کے پاس کھڑے ہوکر یہ پڑھے:

اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا ۔ پڑھے۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے حضورﷺ سے سنا ہے۔ (ابن ماجہ و بیہقی)

دفن کرکے قبر پر کھڑے ہوکر یہ تلقین کرے:

یافلان بن فلان اذکر ما خرجت عليه من الدنیا شھادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده و رسوله وإنك رضیت بالله رباو بالإسلام دینا وبمحمد نبینا وبالقرآن إماما۔ (احزب الطبرانی فی الکبیر و ابن مندہ)

دفن کرکے قبر پر کھڑے ہو کر یہ کہے:

اللھم نزل بك صاحبنا وخلف الدنیا خلف ظھره اللھم ثبت عندالمسئلة منطقه ولا تبتله في قبرہ بما لا طاقة له به۔ (سعید بن منصور)

حضرت علیؓ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

بسم اللہ وعلی ملة رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اللھم عبدك نزل بك وأنت خیر منزول به خلف الدنیا خلف ظھره فاجعل ما قدم خیر امما خلف فإنك قلت: وما عندالله خیر للأبرار ۔(اخرجہ البزار)

حضرت انس ؓ سے یہ مروی ہے:

اللھم جاف الأرض عن جنبیه وافتح أبواب السماء لروحه و أبدله د اراخیرا من داره (ابن ابی شیبہ)

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:

اللھم عبدك ردإلیك فار أف به وارحم اللھم جاف الأرض عن جنبیه وافتح أبواب السماء لروحه و تقبله منك بقبول حسن اللھم إن کان محسنا فضاعف له في إحسانه .... وإن کان سیئا فتجاوزعنه (ابن ابی شیبہ)

تسبیح اور تکبیر کثرت سےکہے۔

لما دفن سعد بن معاذ سبح النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و سبح الناس معه ثم کبر و کبر الناس (الطبرانی والبیہقی)

قبر کے سرہانے سورہ بقرہ کا ابتدائی حصہ (مفلحون تک) او رپاؤں کی جانب سورہ بقرہ کا آخیر حصہ (امن الرسول سے آخیر تک) پڑھی جائے۔(طبرانی عن العلاء بن اللجلاج ماخوذ از شرح الصدور)

حضرت عمرؓ سے یہ منقول ہے:

اللھم أسلم إلیك الأھل والمال والعشیرة و ذنبه عظیم فاغفرله عن أبي مدرك الأشجعي أن عمر إذا سوی علی المیت قبره قال (مصنف عبدالرزاق)

ابن ابی شیبہ میں ہے:

اللھم أسلم إلیك المال والأھل والعشیرة والذنب العظیم فاغفرله (3؍328)

حضرت علیؓ سے یہ بھی مروی ہے:

اللھم عبدك وولد عبدك نزل بك الیوم وأنت خیر منزول به اللھم وسع له في مدخله و اغفرله ذنبه فإنا لا نعلم منه إلاخیرا وأنت أعلم به (عبدالرزاق و ابن ابی شیبہ)

حضرت علاء بن المسیب اپنے والد سے یہ نقل فرماتے ہیں:

فی سبیل اللہ وعلیٰ سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعلیٰ ملة إبراھیم حنیفا مسلما وما کان من المشرکین۔ اللھم ثبته بالقول الثابت في الآخرة اللھم اجعله في خیر مما کان فيه اللھم لا تحرمنا أجره ولا تفتنا بعده۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)

بسم اللہ وفي سبیل الله وعلی ملة رسول اللہ اللھم أجره من عذاب القبر ومن عذاب النار ومن شرالشیطٰن۔

حضرت مجاہد اس کے لیے اس دعا کی سفارش کرتے تھے۔

«بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ قَبْرِهِ، وَأَلْحِقْهُ بِنَبِيِّهِ وَأَنْتَ عَنْهُ رَاضٍ غَيْرُ غَضْبَانَ»(عبدالرزاق)

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے یہ مروی ہے:

بسم الله علیٰ ملة رسول الله وبالیقین بالبعث بعد الموت (ایضاً)

نیک اولاد اپنے والد کے لیے استغفار اور دعائیں کریں۔

أوولد صالح یدعوله (مسلم عن أبي هریرة) إن الله یرفع الدرجة للعبد الصالح في الجنة فیقول یارب أنی لي ھذا؟ فیقول لا ستغفار ولدك لك (بیہقی) بدعاء ولدک لک الادب المفرد)

ماں باپ ، دوست احباب کی نیک دعاؤں سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔

مَا الْمَيِّتُ فِي الْقَبْرِ إِلَّا كَالْغَرِيقِ الْمُتَغَوِّثِ يَنْتَظِرُ دَعْوَةً تَلْحَقُهُ مِنْ أَبٍ أَوْ أُمٍّ أَوْ أَخٍ أَوْ صَدِيقٍ فَإِذَا لَحِقَتْهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا(اخرجہ اللبیہقی فی شعب الایمان وفی سندہ ابوعیاش المصیصی محمد بن جابر قال الذھبی لا اعرفہ وقال ھذا الخبر منکر)

اگر آپ کے اہل قبور کو کسی اچھے کام کی عادت تھی ، اُسے جاری رکھیئے

والسنة والحسنة  یسنها الرجل فیعمل بھا بعد موته (دارمی)

اگر کوئی فریضہ اُن کے ذمے رہ گیا ہے مثلاً روزہ یا حج وغیرہ تو ان کی طرف سے وہ ادا کیا جائے۔

قال من مات وعلیہ صوم صام عنہ و نبیہ ( صحیحین)

جاء رجل إلی النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فقال إن أمي ماتت و علیها صوم شھر أفأ صوم عنها فقال نعم فدین الله أحق أن یقضی (ایضاً)

من حج عن أبويه ولم یحجا أجزأ عنهما (اخرجہ البیہقی فی فوائدہ)

إن امرأة من جھینة جاءت إلی النبي صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم إن أمي نذرت أن تحج فلم تحج حتیٰ ماتت أفأحج عنها قال حجي عنها أرأیت لوکان علی أمك دین کنت قاضیة، اقضوا الله فاللہ أحق بالقضاء (بخاری)

أن رجلا أتی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقال یارسول اللہ إن أمي ماتت نفسها ولم توص وأظنهالو تکلمت تصدقت أفلھا أجر إن تصدقت عنها قال نعم (بخاری)

ایک میت کے سر کسی کے دو دینار قرض تھے۔ آپ نے ان کا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا تھا۔ حضرت قتادہؓ نے جب ادا کردیئے تو آپؐ نے فرمایا: اب آپ نے اس کوٹھنڈ پہنچائی۔

الآن بردت عليه جلالة (رواہ احمد والبیہقی)

یہ سب صورتیں خدا سے التماس اور درخواست کی ہیں یا میت کی طرف سے نیابت کی۔ ایصال ثواب نیابت سے مختلف صورت ہے ، جس کا اوپر کی احادیث میں کوئی نشان نہیں ملتا۔

یہ وہ مسنون حقائق ہیں؟ اگر کوئی شخص ان کے ذریعے اہل قبور کو کچھ فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو ایک بات ہوئی ، لیکن افسوس ! دنیا اب خانہ ساز رسومات کے ذریعے اپنے مردوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے ، جو ہوسکتا ہے، وہی امور اس کے لیے باز پرسی او رجواب دہی کا سبب بن جائے۔

أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ(مائدہ ع16)

''(اے عیسیٰ ؑ ) کیا تم نے لوگوں سے یہ بات کہی تھی کہ خدا کے علاوہ مجھے او رمیری والدہ کو (بھی) دو خدا مانو!؟''

یہاں صرف بات یہ نہیں کہ: انہوں نے ان کے ارواح کے لیے مٹھائیاں تقسیم کیں، یہ بھی ہےکہ : قبرستان میں جاکر یہ سب کچھ کیا۔ رسول کریمﷺ اور صحابہ وائمہ تابعین کے مبارک دور میں اس کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ جو بات ہمارے تعامل کے خلاف ہو وہ مردود ہے کیونکہ بدعت ہے۔

من أحدث في أمرنا ھٰذا مالیس منه فھورد (بخاری و مسلم)

فقہائے کرام نے بھی اس امر کی مذمت کی ہے او راسے بدعت کہا ہے کہ قبروں میں میٹھی چیزیں لے جاکر تقسیم کی جائیں یا وہاں جاکر قرآن خوانی کی جائے۔

شیخ علی متقی حنفی لکھتے ہیں:

الأول للقراءة بالقرآن علی المیت بالتخصیص في المقبرة أوا المسجد أوالبیت بدعة مذمومة (رسالہ رد بدعات التعزیہ)

شیخ علی متقی کے شاگرد رشید حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:

دعادت نبود کہ برائے میت جمع شوند و قرآن خوانند و ختمات خوانند۔ نہ برسرگورونہ غیراں، وایں مجموع بدعت است (مدارج النبوت)

''یعنی زمانہ سلف میں یہ دستور نہ تھا کہ میت کے لیے جمع ہوکر قرآن خوانی کریں یا ختم پڑھیں، نہ قبر پر نہ دوسری جگہ ، یہ سب بدعت ہیں۔''

آگے چل کرچند سطور کے بعد لکھتے ہیں:

عادت نبود کہ اہل میت برائے کساں کہ بہ تعزیت بیایند طعام کنند (مدارج النبوت)

کہ وہاں یہ بھی دستور نہ تھا کہ جو لوگ افسوس کرنے کے لیے آئیں ان کے لیے کھانا تیار کریں۔

حضرت امام ابن قیم فرماتے ہیں:

لم یکن من ھديه أن یجتمع للعزاء لقراءة القرآن لاعندالقبر ولا عند غیره وکل ھذا بدعة حادثة بعده مکروھة (زاد المعاد)

نبی کریم ﷺ کا یہ دستور نہیں تھا کہ تعزیت اور قرآن خوانی کے لیے اکٹھ کیا جائے، قبر پر ہو یا کسی او رجگہ ، یہ سب ناپسندیدہ بدعتیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔

فتاوی سمرقندیہ میں ہےکہ کھانا سامنے رکھ کر ختم پڑھنا بدعت ہے۔

قراءة الفاتحة والإخلاص والکافرون علی الطعام بدعة (فتاوی سمرقندیہ)

ایک او رامام لکھتے ہیں:

والاجتماع علی المقبرة في الیوم الثالث و تقسیم الوردوالطیب و إشمار وغیرھاثمه و کذٰلك تجمیر العود و اللبان والإطعام في الأیام المخصوصة کالثالث والخامس والتاسع و العاشر والعشرین والأربعین والشهر السادس والسنة (رسالہ رد بدعات ملا خندی)

حنفیوں کے فتاوے بزاریہ میں ہے:

یکره اتخاذ الطعام في الیوم والثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلی قبر في المواسم و اتخاذ الدعوة بقراءة القرآن وجمع الصلحاء  والقراء للختم لقراءة سورة الأنعام والإخلاص و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراء ة القرآن لأجل الأکل یکره (فتاویٰ بزازیہ)

''یعنی مکروہ ہے کھانا تیار کرنا پہلے دن اور تیسرے دن او رہفتہ کے بعد او رکھانا لے جانا قبر پر کسی موسم میں اور تیار کرنا دعوت کا ، قرآن پڑھنے والوں کے لیے اور صلحاء اور قاریوں کا ختم کے لیے یا سورہ انعام او راخلاص کے پڑھنے کے لیے جمع ہونا (سب مکروہ ہے) الحاصل قرآن پڑھنے والوں کے سامنے کھانے کے لیے کھانا رکھنامکروہ ہے۔''

یہ حنفی امامان دین کی تصریحات ہیں۔ کم از کم حنفی بزرگوں کو تو اُن کے سامنے دم نہیں مارنا چاہیے، باقی رہے اہل حدیث؟ سو اُن کا تو مسلک ہی یہ ہے: فأتوا برهانكم إن كنتم صادقين۔

بات یہ ہے کہ: مسنون طریقے سے جو مفید امور انجام دیئے جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کسی انسان کے لیے یہ سوچنا مشکل ہوتا ہے کہ اگرہم عمل نہ کرسکے تو پیچھے سے ہمیں ''ثواب'' کی بلٹیاں پہنچتی رہیں گی، لیکن ایصال ثواب کے جو طریقے ہمارے دوستوں نے ایجاد کررکھے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان کے بعد ایک بےعمل شخص ان پرتکیہ کرسکتا ہے جس کانتیجہ طویل غفلت اور غفلت کی وجہ سے ''مستقبل کے تاریک اور اتھاہ اندھیروں'' میں گھر کر اس کی عاقبت ضائع ہونے کا اندیشہ رہتاہے۔

ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں جس طرح مفت خوروں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔بعینہ آخرت میں بھی ''مفت خوروں'' کے لیے کوئی جگہ اور عزت نہیں ہے۔ لیکن آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس کا اندازہ نہیں ہوگا۔مگر جب اس کا اندازہ ہوگیا اس وقت تیر ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ ان حلوہ خور ملاؤں سے خدا کے ہاں ضرور باز پرس ہوگی۔ جنہوں نے عوام کالانعام کو ثواب کی ان روحانی بلٹیوں کی راہ پر ڈال کر ان کی آخرت کو خراب کرنے کے سامان کررکھے ہیں۔

2۔ قرآن کی آیات کا جواب : جس مولوی صاحب نے اس کو بدعت کہا ہے، زیادتی کی ہے۔بلکہ یہ طریقہ مسنون بھی ہے او رمعقول بھی۔

یہ ہم سب کا متفقہ مسئلہ ہے کہ جب امام سورۃ فاتحہ کے ''غير المغضوب عليهم ولاالضالين'' پر پہنچے تو ''آمین'' کہی جائے کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا حکم دیا ہے۔

إذا قال الإمام''غیرالمغضوب علیهم ولاالضالین'' فقولوا ''آمین'' (بخاری۔ عن ابی ہریرہؓ)

یہ مسئلہ الگ ہے کہ مقتدی کو اس موقع پر آہستہ ''آمین'' کہنا چاہیے یااُونچی آواز سے۔ لیکن یہ مسئلہ سب کے نزدیک صحیح ہے کہ ''غير المغضوب عليهم ولاالضالين'' کے جواب میں''آمین'' کہی جائے گی۔ گویاکہ یہ مسئلہ حدیث کا بھی ہے اور فقہاء کا بھی۔

جب آپ کہتے ہیں کہ ہمیں سیدھیراہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اورنہ ان کی جو راہ راست سے بھٹک گئے تو یہ ایک ایسی صدا ہے جس کو سن کرسب کی زبان پر بے ساختہ اجاتا ہے : ''آمین'' (الہٰی ایسا ہی ہو)

یہ ایک باذوق او رفہمیدہ انسان کی فطرت ہے کہ مناسب محل موقع پر نفیا یااثباتاً اس کے دل سے ایک ''ہوک'' ضرور اٹھتی ہے جو زبان پر آہی جاتی ہے۔ بس اسی فطری داعیہ کا یہ ایک اقتضاء بھی ہے او رجواب بھی۔ اسی کو ''جواب آیت'' کہتے ہیں کیا یہ بُرا ہے؟

ترمذی شریف تفسیر ''سورۃ الرحمٰن'' میں روایت آتی ہے کہ ایک دن حضورﷺ نے اوّل سے لےکر آخر تک صحابہ کے سامنے ''سورۃ الرحمٰن'' پڑھی مگر صحابہ چپ رہے، آپ نے فرمایا تم سے تو جن ہی اچھے رہے کہ لیلۃ الجن جب بھی ''فبأي آلآء ربكما تكذبٰن'' پرپہنچتا تو وہ جواباً کہتے ''لابشيء من نعمك ربنا نکذب فلك الحمد''

عن جابر خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی أصحابه فقرأ علیهم سورة الرحمٰن من أولها إلی آخرھا فسکتوا فقال لهم قرأتها علی الجن لیلة الجن فکانوا أحسن مردوداً منکم ، کنت کلما أتیت علی قوله فبأي آلآء ربكما تكذبٰن قالوا لا بشيء من نعمك ربنا فلك الحمد (رواہ الترمذی وقال ھذا حدیثا غریب الخ)

اس کے ایک راوی زہیر پرلے دے ہوئی ہے لیکن دوسرے شواہد سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے، حافظ ابوجعفر ابن جریر نے حضرت ابن عمر سےبی اسی طرح روایت کی ہے۔ ترمذی کے شارح لکھتے ہیں کہ یہ روایت ابن منذر، حکم، بیہقی، بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے او رحاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أخرجه ابن منذر والحاکم و صححه والبيهقي والبزار (تحفۃ الاحوذی) پر لکھتے ہیں کہ اس کا شاہد ہے یعنی ابن عمر کی روایت اور سیوطی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔

ففي الحدیث صعف لکن له شاھد من حدیث ابن عمر أخرجه ابن جریر والبزار والدارقطني في الافراد وغیرھم وصحح السیوطي إسناده کما في فتح البیان (تحفۃ الاحوذی تفسیرسورۃ الرحمٰن)

ان روایات سے واضح ہوگیا کہ: اگر دوسرا بھی کوئی پڑھے تو سننے والے کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب دے۔ دراصل یہ جواب پڑھنے کی سزا نہیں ہے بلکہ ایک ''بات'' کے عرفان کا نتیجہ ہے،وہ عرفان جیسے قاری کے لیے ممکن ہے ویسے ایک سامع کے لیےبھی بجا ہے۔

غور فرمائیے! قرآن حکیم کہتا ہے : ''قل هو الله أحد'' مثلاً تو بول! کہ وہ اللہ ایک ہے۔ ایک شخص سنتا ہےمگر چپ ہے او رجواب میں ''هوالله أحد'' نہیں پڑھتا تو آپ کیاسمجھتے ہیں کہ اس نے کوئی دانشمندی کا ثبوت دیا ہے؟

قرآن مجید، تدبر اور تفکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ امتثال میں کوئی کمی نہ رہے۔ آپ غور کرتے ہیں کہ اللہ میاں فرما رہے ہیں۔

أليس الله بأحكم الحاكمين (کیا اللہ سب حاکموں کا حاکم نہیں ہے؟) اگر سننے والا اس پر یہ کہہ دے کہ : بلیٰ وأنا علی ذٰلك من الشھدین (کیوں نہیں!میں اس کی شہادت دیتا ہوں) تو کیا اس نے محل وقوع کا تقاضا پوراکیا یا کوئی جرم؟ یقین کیجئے ! یہ جرم نہیں ، نکتہ سنجی ہے،چنانچہ روایات میں آیا کہ حضورﷺ کی یہ عادت مبارک تھی کہ جب آیت رحمت آتی تو ٹھہر کر رب سے رحمت مانگتے اگر آیت عذاب ہوتی تو پناہ مانگتے۔

لایمر بآیة رحمة إلاوقف فسأل ....... بآیة عذاب إلاوقف فتعوذ (نسائی باب الدعاء فی السجود)

یہ نبوی فراست ، محمدی اسوہ او رکمال عبدیت کا نشان اور علامت ہے کہ رب کے خطاب کی نزاکت اور تقاضوں کوسمجھتے اور محل موقع سے فائدہ اٹھاتے۔ قرآن حمید کے مشہور مفسر، محشی او رعلمائے احناف کے قابل ذکر عالم دین مولانا شبیراحمدعثمانی سورہ الرحمٰن کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

علماء نے ایک حدیث صحیح کی بنا پر لکھا ہے کہ جب کوئی شخص یہ آیت : ''فبأي آلآء ربكما تكذبٰن'' سنے تو جواب دے''لابشيء من نعمك ربنا تکذب فلك الحمد'' ''ے ہمارےرب ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، سب حمد و ثنا تیرےہی لیے ہے'' (حاشیہ سورہ رحمٰن)

نوٹ: استفتاء کثرت سے آتے ہیں، جن کاجواب بہرحال دیا جاتا ہے لیکن باری کے حساب سے ، اس لیے جتنی تاخیرہوجاتی ہے وہ بالکل قدرتی بات ہے۔ بایں ہمہ مستفتی حضرات سے اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔