کتاب الصلوٰۃ (مترجم) : ابن القیم 

ترجمہ : مولانا عبدالرشید حنیف

صفحات : 280

قیمت : 15 روپے

پتہ : ادارہ علوم اسلامی، جھنگ صدر

نماز کے سلسلے میں حضرت امام ابن القیم متوتی 751ھ کی خدمت میں ایک استفتاء آیا تھا کہ:

(1) عمداً تاریک نماز واجب القتل ہے یا نہ؟

(2) اگر واجب القتل ہے تو کیا ا س کا قتل ، قتل مرتد یا کافر سمجھا جائے گا یا گنہگار مسلم کا قتل متصور ہوگا۔؟

(3) اس سے سارے عمل اکارت ہوتے ہیں یا نہ؟

(4) نماز قضا ہوجائے تو کیا قضا ہوسکتی ہے یا نہیں|۔ اس کی کیا صورتیں ہیں۔

(5) تارک نماز کی جماعت کا کیا حکم ہے، ہوتی نہیں یا ہوجاتی ہے مگر مع الاثم؟

(6) جماعت کے لیے مسجد شرط ہے؟ یا گھر میں بھی ہوسکتی ہے یا نہیں|؟

(7) ٹھونگے مار کر نماز پڑھنے والے کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

(8) جس ہلکی پھلکی نماز کی حضورﷺ نے تلقین فرمائی ہے اس کی کیا شکل ہے؟ یہ سب کچھ حضورﷺ کی نماز کے آئینہ میں دکھا دیجئے اور بالکل یوں کہ جیسے میں نے اس کا مشاہدہ کرلیا ہو۔

حضرت امام ابن القیم نے ان امور کا تفصیلی جواب تحریر فرمایا ہے، اس کا انداز انتہائی بصیرت افروز، وجد آفرین اور دلنشین ہے، مگر یہ سارا جواب عربی میں تھا۔ فاضل نوجوان حضرت مولانا عبدالرشید حنیف جھنگوی کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ انہوں نے اس کتاب کا اُردو میں ترجمہ کرکے اُردو خوان قاریوں پر خصوصی کرم کیا ہے۔ ترجمہ آسان ، کافی حد تک بامحاورہ اور سلیس ہے۔اسے ذیلی سرخیوں کےساتھ آراستہ کرکے کتاب کو اور سہل بنا دیا ہے۔ جنہیں نماز اور آخرت عزیز ہے انہیں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ موضوع گو علمی نوعیت کا ہے مگر امام عالی مقام کا بیان اور اسلوب ایسا ہے کہ ''زبان اُن کی اور بات میری'' والی بات بن گئی ہے۔

ترجمہ بعض جگہ ، ترجمہ تو رہتا ہے مگر مناسب ترجمانی کے لحاظ سے کہیں کہیں اس میں تشنگی محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اُمید ہے کہ مکرر اشاعت کے مرحلہ میں اس کی بھی تلافی کردی جائے گی۔

(2)

نظام مصطفیٰؐ : مولانا عبدالرشید حنیف

صفحات : 96

قیمت : 6 روپے

پتہ : مذکور

اسلام کسی جزوی رہنمائی اور جزوی طرز حیات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامع نظام زندگی ہے جو ہمہ گیر بھی ہے اور عالمگیر بھی ، اس سلسلے میں جتنی او رجیسی کچھ کمی کا احساس ہوتا ہے وہ دراصل ''اسلامی ضابطہ حیات '' کا نہیں بلکہ وہ ''اہل اسلام'' کی نادان دوستی کے تساہل کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے اور مدتوں اس سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے خود ہم نے اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے مواقع مہیا کیے ہیں۔ اسلامی نظام حیات کو کسی تجربہ کی بنا پرنہیں چھوڑا گیا بلکہ اپنی بھونڈی اغراض کے نتیجے میں اسے چھوڑ کر اسے بدنامی کا ہم نے خود ہدف بنایا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب کو لکھ کر مولانا عبدالرشید حنیف صاحب نے مندرجہ بالا کوتاہیوں کی نشاندہی فرمائی ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ :اسلام ہرمرحلہ او رہر شکل میں ہمیں ایسی رہنمائی مہیا کرتا ہے جو فطری بھی ہے اور کامیاب بھی، جامع بھی ہے اور قدرتی بھی۔ موصوف کی یہ کوشش گو ''مشت نمونہ از خردارے'' کی ایک صورت ہے تاہم اس عظیم او ربیکراں کائنات کو جھانکنے کے لیے ایک ''روزن دیوار'' کا کام ضرور دیتی ہے اس کے مطالعہ سے قاری کو یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ: اسلامی تعلیمات کتنی پاکیزہ، وقت او رحالات سے کس قدر ہم آہنگ،عصری تقاضوں اورقدرتی تغیرات کا کتنا قدرتی حل ہے۔

یہ کتاب آئین اور قانون کی زبان میں تحریر نہیں کی گئی بلکہ اس کا انداز تبلیغی، مصلحانہ اور تقریباً جزوی ہے اس لیے اس کا مطالعہ کرتے وقت اس کو ضرور سامنے رکھیں۔

(3)

تعلب بن حاطب مع قیام تنظیمی کی شرعی حیثیت : مولانا عبدالرشید حنیف

صفحات : 48

قیمت : دو روپے پچاس پیسے

پتہ : مذکور

ثعلب بن حاطب دو ہیں، ایک ثعلب بن حاطب بن ابی بلتعہ بدری اور دوسرا ثعلب بن حاطب انصاری بعض نے دونوں کو بدری شمار کیا ہے اور آیت: منہم من عہد اللہ کامصداق ٹھہرایا ہے۔ مگر مؤلف موصوف کو اصرار ہے کہ پہلے صاحب بدری ہیں اور دوسرے بدری نہیں ہیں بلکہ منافقین مدینہ میں سے ایک منافق ہیں۔اس پر مؤلف نے جو دلائل مہیا کیے ہیں ان سے بھی موصوف کے نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔ علم و تحقیق اور تاریخ کے طلبہ کے لیے اس رسالے کا مطالعہ خاصا مفید رہے گا۔ (انشاء اللہ)