مندرجہ ذیل امو رکا جواب عنایت فرمائیں: [ایک سائل ۔ گوجرانوالہ]

1۔ ''مساوات محمدی'' کے معنی میں ''سوشلزم'' کی اصطلاح قبول کرلینے میں کیا حرج ہے؟

2۔ کیا اسلام میں ''امیر و غریب'' کا کوئی جائز تصّور پایا جاتا ہے۔ اگر جواب ''ہاں'' میں ہے تو دُنیا میں یہ پنپنے کے قابل کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟

الجواب:

مساوات محمدی اور سوشلزم: سوشلزم صرف علمی اصطلاح ہوتی تو شاید سوال کرنے کے لیےکوئی گنجائش نکل آتی۔لیکن کیا کیاجائے کہ یہ ایک''ازم ، نظریہ او رایک ذہن '' کا نام ہے، جس میں یہ ضروری ہے کہ اس موضوع پر غور کرتے وقت ، خدا اور رسول کا احساس دل اور دماغ سے نکال دیا جائے۔ صرف پیٹ کی بات ، پیٹ سے پوچھی جائے، پیٹ بھی صرف مزدور کے پیٹ کی بات کی جائے، پیٹ بھی ایسا جس میں طبقاتی انتقام کی گیس بھری ہو۔ اس سوشلزم کے بھوت نے نوع انسانی کو فرقہ وارانہ او رطبقاتی پس منظر کے حوالے کرکے انسانی برادری کی وحدت اور ائتلاف کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ابن آدم کوایک ایسی شتر کینہ جنس بنا ڈالا جس نے معاشی لحاظ سے اپنے سے مختلف بھائی کو برداشت کرنےکے قابل نہیں رہنے دیا، جو آدم مسجود ملائکہ تھا اُسے ایک جانور بنا کر آدمیت کے شرف سے اسے محروم کردیاہے۔ایسی بدنام ، انسان دشمن اور حیوان دوست اصطلاح کو ''مساوات محمدی'' کےمعنی میں لینا دراصل ''محمدیت نافہمی'' کی ایک بدترین مثال ہے۔سوشلزم کومحمد عربی فداہ ابی وامی ﷺ کے پاک معاشی دستور العمل کے معنی میں استعمال کرنا صرف اس مسلم کے لیے ممکن ہے، جو ''مرعوب او ربے غیرت'' ہے اور خبیث اور طیب میں امتیاز کرنے کی حس سے بالکلیہ محروم ہے۔ دراصل سب سے پہلے مزدکی چوہا ''سوشلزم کی سنڈھ کی جڑ دریافت کرلایا تھا تاکہ ایسا حدود فراموش معاشرہ پیدا ہوجائے جہاں حدود اورنظم کے نام کی کوئی شے باقی نہ رہے، کماوی ہو یابیوی، وہ سب کی ہو، کمائی کسی کی بھی پرائی نہ رہے اور دنیا سے ماں بیٹی او ربہن کے نام کی کوئی چیز نظر نہ آئے، سب بیوی دار ہوں اور سب کی بیوی ہوں۔ اس کےبعد سہگل اور مارکس نے اس کو زندہ کیا۔ مگر مار کھاگئے۔ آخر ایک ریلا ایسا آیا کہ اس قماش کا ایک گروہ ایک وقت ایک جگہ اقتدار پر براجمان ہوگیا۔ مگر اس نے سوچا کہ عوام اب پھر ہاتھ دھوکر ہمارے پیچھے نہ پڑ جائیں۔ا س لیے اُن میں سے نادار طبقہ کو اپنے خوشحالی بھائیوں کی راہ دکھا دی تاکہ وہ اُن سے اُلجھ کر حکمران گروہ سے غافل ہوجائیں۔ یہ اب مساوات کے نام پر ایک دوسرے کا ہی گلا کاٹیں۔ چنانچہ اب یہ تجربہ کچھ ایسا کامیاب رہا ہے کہ اب مساوات کی ترازو کا رُخ حکمرانوں کی عدم مساوات کی طرف نہیں پھرتا بلکہ وہ باہم ناپتے، تولتے اور اُلجھتے رہتے ہیں۔ حکمران جو عدم مساوات کے اصل موجد ہیں ۔ وہ درمیان سے یوں نکل گئے ہیں جیسے آٹے سے بال۔ جس دن عوام کو یہ بات سمجھ میں آگئی، مساوات کا اصل بنیادی مسئلہ اس دن ہی حل ہوگا۔پہلے نہیں او ربالکل نہیں۔ جیسا کہ آگے چل کر ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے گویا کہ سوشلزم کی مساوات کو اقتدار کے حصول کے لیے انہوں نے زینہ بنا رکھا ہے جب اس پر فاوز ہوجاتے ہیں تو یہ اسی کے نام پر اپنی کرسی کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوشلزم کی تحریک حکمران ٹولہ چلاتا ہے یا وہ جو اس نعرے کے ذریعے اقتدار کے لیے کوشاں ہے۔بہرحال اپنے اس پس منظر کی وجہ سے یہ اتنی قبیح تلمیح بن گئی ہے کہ اب اس کا نام ہی ایک گالی بن گیا ہے۔ حق تعالیٰ نے ان متجددین سے کیا خوب فرمایا ہے:

أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ (پ8۔ الاعراف ع9)

''کیا تم مجھ سے (ان تراشیدہ) ناموں (کےبارے) میں جھگڑتے ہو جن کے تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نام گھڑ رکھے ہیں اوراللہ تعالیٰ نے اُن کی کوئی سند اور دلیل نہیں اتاری۔''

نام تعارفی شے ہے او رکچھ ایسے نام بھی ہوتے ہیں جو تعارفی کےساتھ ایک پس منظر کے لیے تلمیح کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ اس لیےایسے ناموں او راصطلاحات سےاجتناب کرنا دینی فریضہ ہوتاہے جو حقائق دینیہ کی روح سے متصادم ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ ان سے التباس کا امکان قوی ہوجاتا ہے اور اس سلسلے میں ان سے جتنی اور جیسی کچھ ''اجنبیت''مطلوب ہوتی ہے۔ اس کا رنگ بھی پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اس لیے حضورﷺ نے اپنے دو رمیں اس سے منع فرمایا تھاکہ کوئی شخص آپؐ کانام او رکنیت ایک ساتھ اختیار کرے۔

أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھی أن یجمع أحدبین اسمه و کنیته وسمی محمدا أباالقاسم رواه الترمذي وقال ھٰذا حدیث حسن صحیح۔

کیونکہ اس صورت میں التباس ممکن ہوتا ہے۔ اس لیےسوشلزم بول کر مساوات محمدی مراد لینا یا مساوات محمدی بول کر سوشلزم مراد لینا شرعاً ممنوع ہے۔ خاص کر وہ نام جو روح اسلام کے منافی تلمیح کے حامل ہیں، حضورﷺ ان کو بالکل برداشت نہیں کیاکرتے تھے۔

أن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غیراسم عاصیة وقال أنت جمیلة رواہ الترمذي وقال ھذا حدیث حسن غریب۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت اُم سلمٰہ کے ایک بھتیجا ہوا، انہوں نے اس کا نام ''ولید'' رکھا۔ آپ نے فرمایا، اپنے فرعون کے نام پر اس کا نام رکھا ہے تاکہ اسی امت میں ایک شخص ایسا بھی ہو جسے ولید کہاجائے۔ فرعون اپنی قوم میں جس طرح سب سے بد تھا اس سے کہیں بڑھ کر یہ ولید ہے جو اس امت میں سب سے بدتر ہے۔

عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال والد لأخي أم سلمة زوج النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام فسموہ الولید فقال النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیتموه باسم فراعنتكم لیکونن في ھٰذا الأمة رجل یقال له الولید ھر شر ھذہ الأمةمن فرعون لقومه رواہ أحمد وفيه انقطاع لأن سعید بن المسیب لم یدرك عمرؓ۔

امیروغریب کافرق : رزق میں جو فرق ہے ایک حد تک وہ قدرتی ہے، ازلی ہے او رابدی ہے۔

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ(پ14۔النحل ع10)

''اللہ تعالیٰ نے ہی تم میں سے بعض کو بعض پر روزی میں فوقیت (برتری) دی ہے۔''

مخلوق ساری اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، وہ جیسے چاہے کرسکتا ہے ، بھلا وہ اپنی الوہیت اور اختیارات میں دوسرے کسی کو کاہے کے لیےشریک بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے فرمایا: تمہارے نوکر چاکر، خدام اور غلام ہوتے ہیں۔ اب ایسا تو کوئی نہیں کرتا کہ جن کو زیادہ روزی دی گئی ہے وہ اُس کو اپنے نوکروں ، چاکروں اور غلاموں میں برابر بانٹ دیں کہ اس میں وہ اُن کے برابر شریک ہوں۔

فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ (پ14۔ النحل ع10)

''تو جن کو زیادہ (روزی) دی گئی ہے (وہ) اپنی روزی لوٹا کر اپنے زیردستوں (غلاموں نوکروں) کونہیں دے دیا کرتے کہ روزی میں ان (سب) کا حصہ برابر ہو۔''

سورہ رُوم میں اس سے بھی اور وضاحت سے بیان فرمایا ہے:

ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ (پ21۔الروم ع4)

''وہ تمہارے (سمجھنے کے) لیے تم ہی میں کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ جن (غلام) کے تم مالک ہو ان میں سے اس (روزی) میں جو ہم نے تم کو دے رکھی ہے ۔ کوئی (بھی) تمہارے شریک ہیں کہ تم (اور وہ) اسی (روزی) میں برابر کا حق رکھتے(اور) تم ان کی (ایسی ہی)پروا کرتے ہو جیسی کہ تم اپنی پروا کرتے ہو۔''

ظاہر ہے کہ نہ تم اپنے جیسی ان کو خوراک دیتے ہو نہ اپنی جیسی اُن کی دیکھ بھال کرتے ہو۔ مفرین لکھتے ہیںکہ: دنیا کا انتظام اختلاف حالت پر مبنی ہے۔ اگر سب آدمی سب باتوں میں یکساں ہوں تو کیوں کوئی حاکم ہو او رکوئی محکوم او رکیوں کوئی محتاج ہو او رکوئی محتاج الیہ کیوں کوئی کثیر الاولاد ہو اور کوئی بے اولاد۔کیوں کوئی مالک مکان ہو اور کوئی کرایہ دار ، لیکن جس طرح یہ اختلاف حالت خدا کے کرنے سے ہے اسی طرح اس اختلاف کا دنیا میں قائم رکھنا خدا کے انتظام سے ہے۔

یہ تو ہے روزی میں تفاوت کا ایک پہلو، دوسرا پہلو غربا کی غربت کا ہے کہ اس کا کیا علاج ہے؟ زبانی کلامی دنیا خواہ کچھ کہے لیکن عملاً ان معترضوں کے ہاں بھی وہی کچھ ہورہا ہے ، جس بات کو انہو|ں نے اپنی جولانیوں کےلیے بطور پٹرول کے ہدف بنا رکھا ہے۔ کیونکہ جووسائل زیست کوسیجن، اندرا اور چائنا کے حکام اور وزراء کو حاصل ہیں وہ یقیناً دوسرے عوام کو یکساں حاصل نہیں ہیں، تو معلوم ہوا اصل جھگڑا اس میں نہیں کہ تفاوت کیوں ہے؟ کیونکہ یہ تفاوت خود اُن کے ہاں بھی موجود ہے بلکہ سوشلسٹ سیاسی شاطروں نے محض اپنا اُلّو سیدھا کرنے کے لیے اسے ناحق مسئلہ بنا لیا ہے لیکن اس کے باوجو دصحیح رُخ پربھی اختیار نہیں کیا گیا، کیونکہ اب بات یوں بن گئی ہے کہ : دوسرے کے پاس زیادہ کیوں ہے؟ حالانکہ سوچنا یہ چاہیے تھا کہ: جو بدنصیب بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں ان کواپنے پیروں پرکیسے کھڑا کیا جائے۔ ہمارے نزدیک یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس سے اسلامیہ جمہوریہ دلچسپی رکھتی ہے اور رکھ سکتی ہے ۔ اس کے سامنے یہ بات نہیں ہوتی کہ: دوسرے کےپاس زیادہ کیوں ہے، کیونکہ یہ کوئی گناہ او راخلاقی جرم نہیں ہے اور کبھی کسی زمانہ میں یہ جرم نہیں رہا۔ ہاں جن دیانت دار رہنماؤں نے کبھی اس مسئلہ کی طرف توجہ دی ہے۔ انہوں نے مفلوک الحال طبقہ کو تھامنے کی تدبیر تو سوچی ہے۔ لیکن خوش حال طبقہ کو ختم کرنےکی حماقت نہیں کی۔ اگر دنیا صرف اس پہلو پر نظر رکھ کر نادار طبقہ کو تھامنے کی کوشش کرتی تو یقین کیجئے کہ آج سے صدیوں پہلے یہ رونا ختم ہوچکا ہوتا۔ مگر جو آیا ہے اُس نے غریبوں کی غربت اور مصائب کا کاروبار تو کیاہے ان کا مداوا نہین کیا۔ کیونکہ ہر جگہ مزدور کی حالت اب بھی وہی ہے جو ان ہمدردوں کے نے سے پہلے تھی۔ مگر مزدور او رغریب بھولا ہے اُن کی چالوں کو نہیں سمجھ سکا۔ ورنہ کبھی گھر میں بیٹھ کر یہ تو سوچتا کہ جو صاحب میرے استحصال کا رونا رو رہے ہیں یا میری بپتا پر آنسو بہا رہے ہیں آخر وہ بھی ہماری قسمت کے والی بنے ہی رہے ہیں۔ آخر اپنے دور میں انہو|ں نے وہ کسر کیوں نہ پوری کی جس کا واسطہ دے کر انہوں نے ہمارا تعاون حاصل کیا تھا؟ یہ ایک دفعہ نہیں ہر بار یہی تماشا رچایا گیا ہے۔اگر یہ لوگ اپنے نعروں میں سچے ہیں تو اُن کو سوچنا چاہیے کہ ابھی تک وہ ''زبوں حال'' کیوں ہیں۔ اس کے تو یہی معنے بنیں گے کہ انہوں نے بھی حسب سابق مزدور کا کاروبار ہی کیا ہے ورنہ ان ''نعرہ بازوں'' کی مسیحائی سے ہمارا کچھ بن ہی گیا ہوتا۔

بہرحال ہمارے نزدیک اس کا صحیح حل یہ ہے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ: دوسروں کے پاس زیادہ کیوں ہے۔ بلکہ یہ سوچا جائے کہ ان غرباء کو کیونکر تھاما جائے۔ بس اسلامی حکومت اسی بات کی ذمہ داری لیتی ہے کہ : کوئی شخص اپنی پوری مساعی جمیلہ کے باوجود اگر خود کفیل نہیں ہوسکا تو اس کی کمی پورا کی جائے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دور حکومت میں یہ سب کچھ ہوا اور پوری اسلامی ریاست میں ہوا۔ ملاحظہ ہو کتاب الخراج لابی یوسف اگر کوئی شخص معذور ہوگیا ہو او راس کا کوئی پرسان حال نہ ہوتو سرکاری خزانہ سے اس کے لیے وہ ایک خادم بھی مہیا کردیا کرتے تھے۔ (الفاروق:2؍205)

الغرض امیر و غریب کا فرق جس قدر قدرتی ہے ، وہ تو بالکل لاینحل ہے او رجس حد تک ایک غریب کی دستگیری کی بات ہے اسلامی حکومت اس کی جواب دہ ہے۔ لیکن یہ تصور کہ: دوسرے کے پاس ایک غریب سے زیادہ کیوں ہے ایک احمق سوشلسٹ کی بات تو ہوسکتی ہے ۔ عقل و ہوش کی بات نہیں ہوسکتی اور نہ اُسے عملی جامہ پہنانا کسی کے بس میں ہے۔ اگر سوشلسٹ ممالک بھی اس کی کوئی مثال پیش کرسکیں تو ہم اُس کا مطالعہ ضرور کریں گے لیکن'' حقیقی مساوات'' کہ کسی کے پاس دوسرے سے زائد نہ ہو، قطعاً ناقابل عمل احمقانہ تصور ہے۔ کسی بھی ملک اور قوم میں ایسی یکسانیت ناممکن ہے، کھانا پینا، پہننا او ررہنا سہنا سب مختلف ہیں۔نہ سب ایک جیسا اور ایک جتنا کھاتے ہیں او رنہ ایک جیسا او رنہ ایک جتنا پہنتے ہیں۔ نہ سب کے پاس ایک جیسا مکان ہے او رنہ ایک جیسے سفر اور سفری سہولتیں ہیں۔ نہ سب کے پاس یکساں علاج ہے اور نہ ایک جیسی او رایک جتنی دوا۔ جب خو د مدعیوں کے پاس یہ سبھی کچھ موجود نہ تھا تو دوسرے کسی مسلمان ملک پر یہ زور کیوں دیتے ہیں کہ: وہ سب کو ایک جیساکردالیں؟ ہاں اسلامی حکومت اس امر کی ذمہ دار ضرور ہے کہ ملک کا کوئی باشندہ، مسلم ہو یا وہ غیر مسلم؟ بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے اور اس حد تک اس کی کفالت کا وہ ذمہ لیتی بھی ہے لیکن شرعی معذوری کی شرط پر۔ یوں نہیں کہ کچھ مفت خورے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں او ر حکومت اُن کو گھر بیٹھے ''من و سلویٰ'' بھیجا کرے۔ کیونکہ اسلامی حکومت خدا نہیں ہوتی۔ وہ کمی کی صورت میں اعانت کی ذمہ دار ہوتی ہے یا یہ کہ کوئی واقعی شرعی معذور ہو ۔ اس کی پوری کفالت کی ذمہ داری لینا اس کے بنیادی فرائض کا حصہ ہوتا ہے۔

اصل میں مساوات کی ترازو خوش حال او رمفلوک الحال عوام کے درمیان میں رکھ کر شاطر او ربے خدا حکمران لوگ، درمیان سے کھسک گئے ہیں۔ وہ مساوات جس سے ہمیشہ بحث جاری رہی ہے وہ عوام اور حکمران کے طرز حیات اور شہری حقوق کے سلسلے کی رہی ہے کہ وہ اپنے عوام کے ایک فرد کی حیثیت سے ان کے ہمسفر رہتے ہیں یا کوئی آسمانی مخلوق بن کر اپنے عوام سے کوسوں دور چلے گئے ہیں، عوام توبھوکوں مریں او رحکمران شراب و کباب میں دھت رہیں، عوام کے بدن پر نام کے چیتھڑے بھی نظر نہ آئیں اور ارباب اقتدار صبح و شام نئی قیمتی پوشاک زیب تن کرتے رہیں۔ رعایا کوتو سرچھپانے کے لیے جھونپڑے نہ ملیں اور حکمران ٹولہ فلک بوس محلات اور شاہی ایوان ہائے بریں میں عیش کریں، غریب شہری ذرا سی لغزش پر گردن زدنی او ربادشاہ لوگ خلق خدا کی گردنیں اڑا کر بھی ، بادشاہ۔ جب سیاسی سطح پر ''مساوات'' کی آواز بلند ہوئی تو وہ اسی نوع سے متعلق تھی۔ لیکن یار لوگوں نے اپنی شاطرانہ چالوں کے ذریعے عوام کی مت مار کر، اُن کو باہم تولنے پرلگا دیا تاکہ عوام باہم اُلجھ کر ان راج دلاروں کو تولنے سے غافل ہوجائیں اور یہ شرارت اتنی کامیاب رہی کہ اب حکمران بالکل محفوظ ہیں، مگر عوام جو بالکل عوام ہی ہیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنےکے قابل نہیں رہے او ربدنیت سیاستدان اور حکمران ٹولہ یہ چاہتا تھا۔ گویا کہ جو اصلی چور تھے ، چور چور کا شور مچا کر خود شریف اور پُرامن شہری بن رہے او رجو عوام صحیح معنیٰ میں شریف او رپُرامن شہری تھے وہ ایک دوسرے کو ہی چور تصور کرکے باہم اُلجھ پڑے۔ ہم یہ نہی|ں کہتے کہ: سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے کچھ کم دھاندلیاں کی ہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اُن کی تخلیق کا سہرا بھی انہیں بے خدا حکمرانوں کے سر پر ہے۔ کیونکہ یہاں تک اونچی اُڑان کےلیے بال و پر بھی خود انہوں نے ہی اُن کو عطا کئے ہیں۔

اسلامی حکومت میں سرمایہ دار اور جاگیر دار پیدا ہی نہیں ہوتے اگر ہوجائیں تو وہ قارون کی ذرّیت نہیں بنتے او رنہ سانپ بن کر اس پر لوٹتے ہیں بلکہ وہ سلیمانی کرتے ہیں۔ ان کی دولت ، عوام کے دکھوں کی دوا بنتی ہے او روہ ایک جگہ جمع ہوکر ڈھیر نہیں بننے پاتی۔ بشرطیکہ اسلامی ریاست کے حکمران خود باخدا اور خدا ترس ہوں۔ ورنہ وہ سرمایہ دار اور جاگیر دار کی تخلیق کا باعث بھی بنتے ہیں او راُن کے اخلاق بھی بگاڑتے ہیں۔ اس لیے ''مساوات'' کا جوموجودہ تصور ہے۔ اب اس کی تجدید ہونی چاہیے، یعنی عوام کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے تولنے میں وقت ضائع نہ کریں۔ بلکہ خود اس حکمران ٹولے کو تولنے کے لیے وقت نکالیں جو اپنی ذات کے سلسلے میں ''شرعی مساوات'' کی ترازو قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اگر قوم نے اپنی یہ ترازو جیت لی تو یقین کیجئے! عوام کو ایک دوسرے کے تولنے اور مساوات کے نعرے لگا کر باہم اُلجھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ انشاء اللہ اپ یہ نسخہ بھی آزما دیکھیں! جواصلی چور ، حقیقی شاطر، مساوت محمدی کے اصلی اور ازلی دشمن اور سرمایہ داری اور جاگیرداری کےقوی خلاق ہیں۔ وہ سیدھے ہوگئے اور عوام کی شرعی مساواتی ترازو میں راست آگئے تو یقین کیجئے! اپنے شہریوں کو ایسا سرمایہ دار اور جاگیردار نظر نہیں آئے گا جس کے زہر سے عوام مرسکتے ہیں۔ ورنہ مساوات کے غیر دانشمندانہ تصور کے ہاتھوں آپ سدا عدم مساوات کے شکار رہیں گے۔ ماصی آپ کے سامنے ہے حال کا مشاہدہ کرلیا ہے۔ آئندہ کے تجربات مزید آپ کی آنکھیں کھول دیں گے۔ ملک میں خوشحال عوام، اقتصادی نظام کو زندہ رکھنے کے لیے مفید ہوسکتے ہیں اگر آپ نے ہوش کیا۔

۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔

مولانا عبدالغفار حسن، مدینہ منورہ

مساوات ِ مرد و زن او رانتخابات

آج کل عورتوں کی آزادی کے نام پر مغربی تہذیب و ثقافت سے مرعوب ہوکر قسم قسم کی بے حجابی او ربے حیائی کے مناظر مسلم ممالک میں نظر آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل صورتوں میں وضاحت مطلوب ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

1۔ عورتوں کا بے پردہ گھروں سےباہر نکلنا۔

2۔ درس گاہوں میں، مجالس ، اجتماعات میں مرد وزن کا اختلاط (میل ملاپ)

3۔ نامحرم مردوں سے مصافحہ، ملاقات اور اُن کے ساتھ بغیر کسی محرم کے سفر و حضر میں رفاقت۔

4۔ مسلمان عورت کاانتخاب میں مردوں کی بھی نمائندہ بن کر حصہ لینا او ربغیر کسی محرم کے نامحرم مردوں کے گھروں اور دفتروں میں ووٹ

کے لیے چکر لگانا۔

5۔ مذہبی، سماجی اور سیاسی مجالس یا مساجد کے اجتماعات میں خوشبو لگا کر بن سنور کر شریک ہونا۔

جواب:...... قسط : 1

قرآن و حدیث کی روشنی میں مذکورہ بالا مردو زن کے اختلاط کی سب صورتیں ناجائز ہیں:

مسلمان عورت کا انتخاب میں حصہ لینا، اُمیدوار بن کر کھڑا ہونا فتنہ سے خالی نہیں ہے۔ اس صورت میں نامحرم مردوں سے اختلاط اور میل جول ناگزیر ہے۔ حالانکہ مسلمان خواتین کو پردہ کا حکم دیا گیا ہے۔

ازواج مطہرات کے بارے میں سورۃ احزاب (22) پارہ میں ہے:

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (الایۃ :53)

''جب اُن سے کوئی چیز طلب کرنے ہوتو اوٹ میں ہوکر مانگو ، یہ (طریقہ کار) تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے پاکیزہ ہے۔''

جب صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کو دلوں کی پاکیزگی کی بنا پر یہ حکم دیا گیا ہے تو قیامت تک مسلمان مرد اور خواتین اس قلبی طہارت او رپاکیزگی کے ان سے کہیں زیادہ محتاج ہیں۔

سورۃ احزاب کی دوسری آیت میں فرمایا:

لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا (آیت:33)

''(ازواج نبوی سے خطاب ہے) تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو، تو بات کرتے ہوئے لچک نہ پیدا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہوس فجور کا مریض (بدنیت) طمع (لالچ) کا شکار ہوجائے ، بات کرو تو اچھی بات کرو۔''

مطلب یہ ہے کہ ازواج النبیﷺ عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں، ان کا مقام ، قیادت ورہنمائی کا ہے۔ اُن کا ہر عمل آئندہ اُمت مسلمہ کی خواتین کے لیے نمونہ ہے۔ لہٰذا اُن کا کردار ، ان کی سیرت بے داغ ہونی چاہیے۔

اسی بناء پر ایک آیت میں فرمایا:

''اے نبی کی بیویو! اگر تم میں سے کوئی کھلی ہوئی بے حیائی کی مرتکب ہوئی تو اُسے دوگنا عذاب ہوگا او ریہ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم میں سے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی تابعداری کی او رنیک کام کیے اس کو دوہرا اجر ملے گا اور اس کے لیے ہم نے اچھی روزی تیار کی ہوئی ہے۔'' (سورہ احزاب:30،31)

سورۃ احزاب کے اخیر میں فرمایا:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ (آیت:59)

''اےنبی اپنی بیویوں، بیٹیوں او رمومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں ڈال لیں، لٹکالیں (گھونگھٹ نکال لیں) اس طرح ان کی پہچان ہوسکتی ہے اور انہیں کوئی ایذا نہیں پہنچائی جاسکتی ''پہچان ہوسکتی ہے'' کے معنی ہیں کہ وہ آزاد ہیں، باندیاں نہیں ہیں۔''

اس آیت کا شان نزول (پس منظر) یہ ہے کہ مسلمان آزادعورتیں گھروں سے جب کسی کام کے لیے نکلتیں تو بدنیت لوگ اُن پر آوازیں کستے ، جب اُن ک واس پر ٹوکا جاتا تو وہ جواب دیتے کہ ہم نے ان کو لونڈیاں سمجھا تھا۔

اس بنا پر حکم دیا گیا کہ آزاد خواتین گھروں سے باہر نکلیں تو چہروں پر ،پورے جسم پر چادر ڈال لیا کریں، جلباب بڑی چادر کو کہتے ہیں، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو (مختار الصحاح صفحہ 107 و تفسیر فتح القدیر جلد 4 صفحہ294)

سورہ احزاب میں بائیسویں پارے کے شروع میں فرمایا:وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى (الایۃ:33) ''یعنی اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور سابقہ جاہلی دور کی طرح بن ٹھن کر اور نمایاں ہوکر باہر مت نکلو۔''

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا اصل مقام گھر ہے، جہاں وہ شرم و حیا کے زیور سے آراستہ ہوکر اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہتی ہے ۔ یہی انداز زندگی اس کی سیرت اور کردار کو بناتا ہے۔ او رمہذب اور باادب اولاد اس کی گود میں پروان چڑھتی ہے۔

اسی طرح اجنبی او رنامحرم عورت مرد کے اختلاط او رمیل جول کو روکنے کے لئے گھر میں آمدورفت کے قواعد و ضوابط بھی قرآن حکیم میں بتائے گئے ہیں، فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (سورہ نور:27) ''اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے بغیر او راُن کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو ۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔''

قرآن مجید میں مذکورہ بالا آیات کے علاوہ دوسری بہت سی آیات ہیں جن سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کانامحرم مردوں کے ساتھ کھلا ملنا جائز نہیں ہے۔

ذیل میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں، جن سے صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ اسلام کااصل مزاج کیا، وہ مخلوط سوسائٹی چاہتا ہے یا جداگانہ معاشرہ کا حامی ہے۔ اسلام میں نہ صرف عام مجالس میں بلکہ عبادت جیسے مقدس عمل کو ادا کرتے ہوئے بھی مردوں اور عورتوں کے اختلاط کو ناپسند کیا گیا ہے۔

1۔ عن أنسؓ قال ''صلیت أنا ویتیم في بیتنا خلف النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وأم سلیم خلفنا'' (الصحیح للبخاری مع فتح الباری جلد2 صفحہ 212،الصحیح للمسلم کتاب الصلاۃ)

''حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اپنے گھر میں میَں نے او رایک یتیم نے آنحضورﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی او راُم سلیمؓ (حضرت انسؓ کی والدہ) ن ےہماری پچھلی صف میں نماز باقتداء رسول اللہ ﷺ ادا کی۔''