حدِ فکر و بیاں سے آپ کے اوصاف باہر ہیں وہ اکمل ہیں وہ افضل ہیں وہ اطہر ہیں وہ اکبر ہیں
خدائے لم یزل کی شان کے مظہر کامظہر ہیں نبی کی زندگی کا آئینہ صدیق اکبر ہیں
کبھی بدر و اُحد کی رزم گہ میں ہیں وہ صف آرا کبھی بزم حرم میں رونق محراب و منبر ہیں
زمانہ اُن کے روشن نام کو کیونکر مٹائے گا جو قندیل حرم ہیں شمع دربار پیمبّر ہیں
نبوّت کی رفاقت کا ذرا اعزاز تو دیکھو وہ بعد مرگ بھی اُفتادہ باب پیمّبر ہیں
فضیلت اس سے بڑھ کر او رکیا صدیق کی ہوگی نبی کے جانشین ہیں زینت محراب و منبر ہیں
غنی غارِ حرا میں دیکھنے والوں نے یہ دیکھا وہ گویا چاند کے پہلو میں روشن مثل اختر ہیں